Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 30
No Download Link
Rate this Novel
Episode 30
شاہ نواز نے سٹیرنگ پر سے سر اٹھایا اسکے ہاتھ اب تک کانپ رہے تھے وہ معلوم نہیں کتنی دیر سے یہاں موجود تھا جنگلوں کے بیچ لمبے لمبے درختوں کو جھلوتا دیکھ رہا تھا رات گھیری ہو رہی تھی دن کی روشنیوں کو اندھیرے نے چھپا لیا تھا لیکن شاہنواز اسی طرح سامنے خالی روڈ کو دیکھتا جہاں سے کچھ دیر بعد ایک گاڑی تیزی سے گزر جاتی اور اس وقت تو کافی دیر سے رات کی گہرائی کی وجہ سے کوئی گاڑی بھی نہیں گزری تھی اسکے سامنے ڈیش بورڈ پر موبائل تھا اور موبائل میں حسین عورت مسکرا کر اسے ہی دیکھ رہی تھی
اس طرح اپکے ہی وجود سے سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا میں ” وہ نگاہ نہیں اٹھا رہا تھا
آپ نے صرف عمر خیام کا نام کیوں لیا مجھے بتایا تو ہوتا کوئی اور بھی آپکے وجود سے جڑا ہے میں پلکیں بھی بچھا دیتا ” وہ پھر سے بولا
کچھ دیر خاموش رہا اور پھر اپنے چہرے پر ہاتھ رکھ لیا ۔
مرد روتے نہیں اچانک اسکے کانوں میں کسی کی بازگشت سنائی دی تھی اسکی آنکھیں جو ہلکی پھلکی گیلی ہوئی تھیں فورا خشک ہو گئ اسنے اس تصویر کی جانب دیکھا
دل تھا کہ ابھی پھٹ جاتا ۔
تم مجھ سے وعدہ کرو میرے عمر کا خیال ساری زندگی رکھو گے “
میں آپکی کسی بات کو رد نہیں کروں گا میں کبھی شادی نہیں کروا گا کہ میرا دھیان کسی اور کیطرف متوجہ ہو ” مبہم سی مسکراہٹ نے انکے ہونٹوں کو چھوا جسے اسنے توجہ سے دیکھا ۔
وہ اس سے بڑی تھی لیکن محبت کا پیمانہ ایسا تھا کہ وہ انکی بیماری کی رپورٹس دیکھ کر مرنے کو تھا
نہیں میں نے ایسا نہیں کہا بس تم عمر کا خیال رکھنا وہ ضدی ہے چاہتا ہے اسکے ماں باپ ایک ہو جائیں اور حقیقت سے نگاہ چرا لے وہ ۔۔۔۔
لیکن ایسا کہاں ممکن ہے بس تم اسکا خیال رکھنا ” وہ بار بار ایک ہی بات کیے جا رہی تھیں
شاہنواز نے تصویر سے نگاہ پھیر لی
دل کر رہا ہے زندگی میں پہلی بار آپ سے خفا ہو جاؤں ” وہ سامنے روڈ کی سمت دیکھنے لگا ۔
اسطرح گھما کر زندگی مجھے پھر آپ کے قدموں میں ہی لے ائی ہے لیکن میں اپکے ساتھ زیادتی کا تو نہیں سوچ سکتا ۔
پھر آپ کے وجود کے ساتھ زیادتی انجانے میں کرتا ہی چلا گیا ” مجھے پتہ ہے آپ زندہ ہوتی تو مسکرا دیتی ۔
لیکن میں واقعی خفا ہوں کس موڑ پر لا پٹخا ہے آپ نے مجھے محبت کی بہت سخت سزائیں دیں یہ آپ نے مجھے” وہ اس تصویر کی جانب اب نہیں دیکھ رہا تھا
اب میں اس بچے کا کیا کروں “
وہ سٹیرنگ پر مکہ مار گیا جیسے خود سے ہی الجھ پڑا ہو بری طرح میں نے بس اتنا سوچا تھا کہ کبھی اپنی اولاد نہیں ہونے دوں گا عمر میرا ہے آپ نے اسے میرا کہا تو وہ میرا ہے اس سے میری محبت آپکی طرح ہے ۔
میں نے اپکا وجود سمجھ کر اس سے محبت کی ہے اپنے بچوں کیطرح سمجھا اسے ۔۔۔۔
لیکن آپ نے بہت بڑا ظلم کیا ہے کہ میرے گھر میں آپ تھیں اور مجھے دیکھائی نہیں دی ” اسنے موبائل کو غصے سے سیٹ پر پھینکا اور گاڑی سٹارٹ کر لی ۔
اس وقت اسکی کیفیت ایسی تھی کہ گھر جانے کی ہمت نہیں تھی وہ سمجھ ہی نہیں پا رہا تھا اب ایزہ پر نگاہ کس نظر سے اٹھائے اسکی خوبصورتی سے مائل ہونے کے باوجود اس سے محبت نہ کرنے کی قسم کھائے شاہنواز شاہ انا کے ایک خول میں قید شخص بن کر اسکے سامنے رہا تھا
اور اسے چاہئے ہی نہیں تھا کوئی شخص اس سے وہ محبت کرے ۔۔ وہ اپنے حصے کی محبت کر چکا تھا اولاد کے روپ میں عمر خیام کو اپنا مان چکا تھا اسکے توسط سے عمر سے محبت کرتا تھا پھر وہ ضدی سا لڑکا جب اس سے ضد منگواتا تھا اسکے سینے میں خود ساختہ محبت امڈتی تھی وہ اس سے لڑتا تھا اپنی باتیں شئیر کرتا تھا شاہنواز بس اسکی زندگی میں ایک میجیکل انسان کی طرح تھا جس کے بس میں ہر آسائش تھی اور چٹکیوں میں وہ اسے پوری کر دیتا تھا وہ جانتا تھا عمر نشہ کرتا ہے اور اسی وجہ سے وہ معملات کی گہرائیوں میں آج تک نہیں اترا اسنے پرواہ نہیں کی کہ شاہنواز کون ہے کیوں ہے کہاں سے اسکی زندگی میں ا گیا
وہ یہ بھی جانتا تھا اسے اس ڈائری کی تلاش ہے جو اسے اسکے باپ سے چاہیے مگر وہ ڈائری اسکے باپ کے پاس بھی نہیں تھی
وہ ڈائری کا بوجھ بھی شاہنواز کے سینے پر ہی تھا لیکن فلحال اسے گھر میں موجود اس لڑکی کا خیال تکلیف میں میسر کر رہا تھا جسے پیچھے 7 8 ماہ سے اسنے ایک روبوٹ کی طرح ٹریٹ کیا کیونکہ اپنے حصے کی محبت میں شراکت برداشت ہی نہیں تھی لیکن قسمت نے بھی اسکے ظلم پر اسے بڑی زور سے پٹخا تھا
جیسے گھما کر اسکے منہ پر ہی تھپڑ مارا تھا اور تھپڑ کی گونج شاہنواز سے برداشت نہیں ہو رہی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کھانا نہیں کھاتے ” اسکے سامنے ٹرے رکھتے ہوئے وہ بولی عمر نے سر اٹھایا موبائل میں نہ جانے کیا دیکھ رہا تھا
کوئی جواب نہیں دیا جبکہ وہ اپنا دوپٹہ درست کرتی کچھ فاصلے پر بیٹھ گئ
پلیز جلدی کھا لیں ابھی گرم ہے سردی کے باعث جلد ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور ویسے بھی بہت مشکلوں سے بچا کر آپ کے لیے لائی ہوں ورنہ سب لوگ کھا لیتے اور اپکے لیے کچھ نہ بچتا آپ دیکھیں اس میں چکن بھی ہے میں نے اپکے لیے پوری دو بوٹیاں نکال لیں تھیں پھر مجھے لگا آپ تو زیادہ کھاتے ہوں گے میں نے پھر ایک اور بھی ڈال دی ۔۔۔۔
بدر بھائی کے لیے بھی نکالا ہے بس دعا ہے کسی کی نظر نہ جائے آپ جلدی کھا لیں نے ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں ” وہ بولتے بولتے منہ بنا گئ کہ کیا کچھ غلط بول رہی تھی جو وہ ایسے دیکھ رہا تھا
عمر نے کھانے کیطرف دیکھا اس میں تین بوٹیاں واقعی تھی
اسنے اپنے قہقہے کا گلہ گھورنا چاہا تھا مگر اس سے یہ ہو نہیں سکا یوں لگا صدیوں بعد دل سے قہقہہ لگا اٹھا ہو اور ساز جیسے بے حد شرمندہ رہ گئ
سر جھک گیا اسکا قہقہہ طنز لگا اور شرمندگی کے احساس نے اسکے گال سرخ کر دیے
یے بے ریلکس میں تمھارا مذاق نہیں بنا رہا بس دیکھ رہا ہوں اتنی محبت مجھ سے کبھی کسی نے نہیں کی نہ ۔۔۔ وائے ناٹ میں تمھاری سپیشل تین بوٹیاں کھاؤ گا ” اسکی بھیگتی آنکھیں دیکھ وہ فورا بولا اور ساز مسکرا دی لیکن محبت کا لفظ سن کر دل کو کچھ کچھ ہوا تھا ۔
اسنے موبائل سائیڈ پر رکھا اور کھانا کھانے لگا کھا آ واقعی گرم تھا
اٹس گڈ کبھی کبھی ماں ایسے کھانا بنا لیتی تھی” وہ جیسے بے دھیانی میں بولا اور پھر رک گیا
اسنے وہ نوالہ چھوڑ دیا ساز نے بے چینی سے دیکھا
تمھارا ذائقہ انکے جیسا ہے” وہ کھانے کی ٹرے دور کر گیا
ساز کا دل شدت سے دکھا اس بات پر نہیں کہ اسنے کھانا چھوڑ دیا نہ اس بات پر کہ وہ نفرت کی حد کرتا ہے شاید ان سے بلکہ اس بات پر کہ آخر کیوں اسکا ذائقہ ان سے جا ملا
اسنے عمر کی جانب دیکھا
تم یہ بدر کے لئے رکھ دو ” اسنے سنجیدگی سے کہا
سوری مجھے نہیں پتہ تھی یہ بات “ساز کو پھر رونا آنے لگا
اللّٰہ میں کیا کروں تمھارے آنسو کا روندو ہو تم ” وہ عاجز سا آیا
اچھا لگا وہ جس طرح سر پکڑ کر بولا تھا
ساز اسے آنکھیں جھپک جھپک کر دیکھنے لگی ۔
میڈیم یہ کھانا رکھ کر آؤ میں کچھ آرڈر کرتا ہوں دونوں کھائیں گے “
وہ موبائل اٹھا گیا ساز نے سر ہلایا ٹرے اٹھائی
پھر کیا کبھی میرے ہاتھ کا کھانا نہیں کھائیں گے” اسے فکر ہوئی تھی کہ ایسا کیوں ہوا
عمر نے ہلکی سی مسکراہٹ سے سر جھٹکا
یقینا تمھارے ہاتھ کا ذائقہ بدل جائے گا اب ” وہ بولا
اور ساز کا دل باغ باغ ہو گیا میں کوشش کرو گی میں اپکے لیے کچھ نیا بنائیں بنا کر لاؤ “
ارے نہیں بھئی جاؤ اور جلدی سے آؤ ” وہ بولا اور ساز جلدی سے باہر نکل گئ
اسکے چہرے سے خوشی پھوٹتی تھی اسکی توجہ پر لیکن ایک سچ تھا کہ وہ کافی لاپرواہ تھا
معلوم نہیں ساز کے لیے وہ سب محسوس کرتا تھا جو ساز اسکو لے کرتی تھی وہ بے دھیانی میں تائی جان سے ٹکرا گئ
یا اللّٰہ کیا تکلیف ہے تجھے نظر نہیں آتا آندھی ہے یہ اپنے شرابی کے ساتھ نشہ کرنے لگ گئ ہے ” وہ چلا اٹھیں
ساز کو بہت برا لگا ان لوگوں نے اسکا نام ہی یہ رکھ دیا تھا وہ پاس سے پھر بھی گزرنے لگی ۔
زیادہ ہوا میں اڑنے کی ضرورت نہیں ہے تیرے ایسے پر کاٹواؤ گی یاد رکھے گی ابھی تو تیرے اس شرابی نے تھپڑ کھایا ہے نہ تیرا منہ خود رنگ دوں گی ۔
اور یہ تیرا بھائی منہ کے بل گیرے گا ۔
ساز کا بازو موڑتی وہ بولیں اپنے اندر کی بھڑاس نکال رہیں تھیں جبکہ ساز نے انھیں حیرانگی سے دیکھا اتنی نفرت اتنی حسد تھی انکے سینے میں سب کے لیے پھر نماز کس منہ سے پڑھتی تھی
تائی جان آپ سب سے حسد کرتی ہیں اللّٰہ حسد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا اور عمر جیسے بھی ہیں میرے ہیں شرابی ہیں یہ نشئ
ہدایت اللّٰہ سب کو دے سکتا ہے “
اسے خود نہیں پتہ تھا وہ کیا بولے جا رہی ہے غصے سے اپنا بازو چھڑا کر وہ انھیں دنگ چھوڑتی کچن میں سامان رکھ کر انکے پاس سے گزری تو دل خوف سے دھک دھک دھک کر رہا تھا دھڑکنیں سخت پڑ گئیں چوڑی چوڑی نظروں سے پیچھے دیکھا وہ اب بھی وہیں منہ کھولے کھڑی تھیں اور وہ تیر کی تیزی سے کمرے میں بھاگ گئ دروازے کو تالا لگایا اور دل پر ہاتھ رکھتی جیسے ابھی رو پڑتی
کیا ہوا ” وہ حیرانگی سے اسکے پھولتی سانس دیکھتا بولا
وہ ۔۔۔ وہ میرے منہ سے کیا کچھ نکل گیا میں میں نے تائی جان کو کیا کہہ دیا ۔۔۔ یا اللّٰہ اب وہ مجھے نہیں چھوڑیں گی عمر یہ سب آپکی وجہ سے ہوا ہے میں ان سے کیا کیا بول ائی ہوں وہ تو جان سے مار دیں گی آف ساز کیسے پٹا پٹ زبان چل پڑی تمھاری ۔۔۔۔۔
یہ یہ آپ کی وجہ سے ہوا ہے آپ نے ہی کیا ہے اب میں تو مرو گی آپ کی وجہ سے ” اسنے اسکے دونوں بازو جکڑ کر جھنجھوڑ دیے
ہوا کیا ہے کیا ریس کے گھوڑے کی رفتار سے بولے جا رہی ہو ” وہ ہنسی روکتا بولا ۔
میں نے تائی جان کو سنا دی “
واو براوو ہاتھ مارو ” اسنے اسکا مردہ ہاتھ خود ہی اپنے ہاتھ پر مارا ۔
عمر وہ مجھے جان سے مار دیں گی “
پھر خود زندہ بچ جائیں گی اتنے ٹکڑے کرو گا یاد رکھیں گی”
سر جھٹک کر وہ بولا ساز اپنے آپ شرما گئ عمر ہنسی ضبط کر گیا
ویسے تم نے سنائی کیا ہے ” وہ دلچسپی سے اسے دیکھنے لگا
ساز اسے ایک ہی سانس میں سب سنا گئ “
اچھا ۔۔۔۔۔۔۔ “
ساز کو لگا وہ کھڑے کھڑے بے حوش ہو جائے گی اسے بھی سارا سچ بتا گی تھی تھوڑا سا جھوٹ بھی تو بولا جا سکتا تھا وہ سر جھکا گئ ۔۔۔۔
تمھیں کس نے کہا ہے عمر تمھارا ہے”
وہ سینے پر ہاتھ باندھے اسے دیکھنے لگا جس کی آنکھیں ابھی بہت سارے آنسو برسا دیتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوری ” وہ ہچکی سی بھرتی بولی اور اچانک لائیٹ بند ہو گئ
لیکن وہ دونوں یوں ہی کھڑے رہے کچھ توقف سے ہلکے ہلکے دونوں کا عکس آنکھوں میں شناخت پکڑ گیا
عمر خیام نے ایک قدم اسکی سمت اٹھایا اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام لیا اور اسکی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیا عمر کی ہتھیلی اسکے آنسوؤں سے بھیگ گئ وہ جھکا ۔۔۔
دل کی دھڑکن کا شور ساز کے وجود کو سر سے پاوں تک کپکپا سا گیا وہ جھکا اور اسکے ہونٹوں کی نرمی کو مدھم سا چھوا دل و دماغ میں جیسے لہر سی دوڑی اور دونوں کو جیسے ایک جزبات میں جوڑ گئ اور پھر صرف چھونے کی نیت کھانے تک کے سفر میں کیسے پہنچ گئ وہ انجان تھا ۔
اسے اپنی سمت کھینچ لیا ۔
ساز جیسے بے جان ڈال کیطرح اسکے بازو کے حصار میں قید ہو گئ ۔۔۔۔
عمر کی بڑھتی شدت اسکی دھڑکنوں کو اور شور پر مجبور کر گئ وہ اسکے ہونٹوں کی تمام نرمی کو ایک سانس میں پہلی بار یہ ختم کر دینے کا ارادہ رکھتا تھا ۔
اردگرد کا اندھیرہ اور بے ساختگی کا یہ لمس طوفان سا برپا کر رہا تھا
اور یخ لخت وہ دور ہوا ۔۔۔
اس گھیرے اندھیرے کیطرح اس بات کو اپنے دماغ سے مٹا دینا اسنے اسکے کان کی لو کو خود میں بھرتا لیا حدت سی ساز کے وجود میں پھیلی ۔۔۔۔
عمر کسی کا نہیں ہے ۔۔۔۔۔”
اسکے الفاظ ہوش کی دنیا میں اسے کھینچ لائے
ہلکی سی کس اسکے کان پر کر کے وہ دور ہوا اور ساز بیڈ پر گیری اور عمر اسکے پاس سے گزر گیا
لائیٹ ا گئ ۔۔۔۔
کیا بس انھیں چند لمہوں کے لیے گئ تھی
یہ کیا ہوا تھا ؟
وہ کسی سحر کو یاد کرتی ۔۔۔۔
ہر بار ایسے الفاظوں کو چھوڑ جانا اسکے اندر ضروری تو نہیں تھی وہ تو محبت کے اس حسین باغ میں کھیلنے لگی تھی جس سے کبھی آشنائی نہیں تھی اسنے اعتبار ہاتھوں میں تھمایا تھا اسنے توجہ دی تھی اسنے بھرم رکھا تھا اسنے اسکی خواہشیں پوری کی تھی
پھر بھی کیا محبت کا کسی کے وجود میں اٹھنا جرم تھا نہیں محبت کسی کے اندر اٹھ نہیں سکتی تھی کوئی کیسے کسی کو توجہ بن محبت اور اپنائیت کے پا سکتا ہے وہ بلکل بے جان سی بیٹھی تھی اسنے نگاہ اٹھا کر دیکھا ہونٹوں کی سرخی پہلے مگر شدید لمس کی گواہ تھی ۔۔۔۔
کان کی لو پر اسکا پر حدت لمس اب بھی جاگا ہوا تھا اب بھی اسکا بازو اسکی نازک کمر پر سختی کی گرفت ڈالے ہوئے تھا
اب بھی اسکے جسم پر سختی سی تھی عمر خیام کی لیکن دماغ میں اسکے الفاظ ہتھوڑے سے برسا رہے تھے
اسنے سر اٹھا کر دیکھا وہ کھانا جو آرڈر کیا تھا لے ایا تھا
ریکلس ہنی اٹس کومن ” وہ اسکا گال تھپتھپا گیا
بلکل پہلے کیطرح لگ رہا تھا
ہاں اندھیرے میں گزارے چند لمہوں میں عجب جنوں تھا لیکن روشنیوں میں وہ پھر ویسا ہی تھا
فرینڈلی لاپرواہ ۔۔۔۔۔
جبکہ وہ لمہے ساز میں جو جذبات ابھار گئے تھے وہ اسکے لیے کومن کبھی نہیں ہو سکتے تھے ۔
تو پھر کیسا ہوتا ہے محبوب کا لمس؟
روح فرسا ۔۔۔۔ جان لیوا
تو پھر کیا لوگ موت مانگتے رہتے ہیں اور مرتے رہتے ہیں ؟
ہاں یہ ہی سمجھو
محبت میں لوگ صدقہ واری جاتے ہیں
اور صدقہ واری جانے کا مطلب آج ساز سمجھ گئ تھی
یو نیڈ سم واٹر ” اسکے ہونٹوں کی سوجن سے نگاہ چرا کر وہ سنجیدگی سے بولا ۔
ج۔۔جی ” وہ آہستگی سے بولی
اور گلاس تھام لیا
اسنے پانی پیا اندر کی آگ کچھ ٹھنڈی سی ہوئی اور پھر عمر نے اسے اپنا کھایا ہوا برگر تھما دیا
کھاؤ اسے کیا مدہوش بیٹھی ہو ” وہ ڈپٹ گیا
اور ساز کھانے لگی وہ اس سے ہلکی پھلکی باتیں کر رہا تھا
ساز ہوں ہاں میں جواب دیتی رہی
اور پھر کچھ ہی دیر میں وہ سامنے صوفے پر جا کر لیٹ گئ خود کو کمبل میں قید کیا اور چند لمہوں میں عمر نے دیکھا وہ سو گئ تھی ۔
وہ بالکنی میں ہاتھ میں گلاس لیے نکل آیا خود پر شدید غصہ چڑھا
وہ معصوم تھی وہ اسکو استعمال نہیں کرنا چاہتا تھا
کبھی نہیں اتنا بھی کمزور نہیں تھا لیکن وہ جس طرح کھڑی تھی وہ بہک گیا چند لمہوں کے لیے ہی سہی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ رات دیر تک کام کرتا رہا تھا مارکیٹ کے کچھ لوگوں سے بات کی تھی جنھوں نے یقین دلایا تھا ادھار پر وہ اسے مال دے دیں گے وہ فکر مند تھا کہیں بیچ میں وہ لوگ انکار نہ کر دیں
وہ گھر لوٹا اور سیدھا کچن میں گیا
اپنی بہن پر پیار بھی آیا جہاں وہ کھانا اسکے لیے چھپا کر رکھی تھی آج کافی مقدار میں تھا
اسنے اوون میں کھانا گرم کیا اور ٹرے لے کر کمرے میں ا گیا
وہ سوئی نہیں تھی سکون سے بیٹھی اپنے ناخن فائل کر رہی تھی اسکے کمرے میں ایل سی ڈی یہ ٹی وی کچھ نہیں تھا
یہ سہولیات صرف عمر کے کمرے میں تھیں تبھی وہ بیٹھی ناخن فائل کر رہی تھی
دوسری طرف بدر کو آتے دیکھ اسکی آنکھیں ایک لمہے کے لیے چمکیں اور پھر وہ نگاہ بدل گئ
وہ کھانے کی ٹرے بیڈ پر رکھ کر بیٹھ گیا اور خاموشی سے کھانا کھانے لگا
” باہر سے کچھ منگا لیتے مجھے بھوک لگی ہے میں نے بھی نہیں کھایا “
تمھارے باپ کے پاس بڑا پیسہ ہے اس سے کہو وہ تمھیں منگا کر دے نہ میں ایسے چونچلے پالو گا اور نہ ہی میرا پاس اتنا پیسہ ہے ” وہ سنجیدگی سے بولا
ابھی عمر نے بھی منایا ہے اور جب اتنا بڑا ولیمہ دے سکتے ہو تو چند روپے کھانے پر خرچ نہیں کر سکتے”
نہیں ” وہ سختی سے بولا
سوہا خاموش ہو گئ اسکی آنکھیں بھیگ گئیں جنھیں اسنے صاف کیا ۔۔ وہ اسکے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی
لیلن بھوک بھی بہت لگی تھی اور ضد میں وہ بیٹھی رہی یہاں تک کہ اسنے سکون سے سارا کھانا کھایا اور فریش ہونے چلا گیا
وہ غصے سے اسکو دیکھتی رہی ۔
لیکن بدر کی صحت پر کوئی اثر نہیں ہوا
اور وہ فریش ہو کر واشروم سے نکلا سوہا کو بلکل اگنور کیے اسنے تھوڑا سا کام کیا وہ تب تک اسے دیکھتی رہی اور وہ ایسے رہا جیسے کوئی دوسرا کمرے میں ہو ہی نہ ۔۔۔
اور پھر وہ لائٹس آف کر کے بیڈ پر ا گیا
سوہا کے اندر اتنا غصہ تھا کہ وہ کچھ کر دیتی وہ غصے سے اس بیڈ پر سے اترنے لگی کہ بدر کے ہاتھ کی سخت گرفت میں اسکی کلام ا گئ ۔
چھوڑو میرا ہاتھ جب پرواہ نہیں ہے تو یہ ڈرامے کرنے کی ضرورت نہیں ہے” وہ بگڑ کر بولی
یہ بات تمھارے لیے ہے کہ کم از کم اب ڈرامے کرنا بند کر دو شادی ہو چکی ہے تمھاری میں ساز کو منع کر دوں گا اب وہ میرے لیے کھانا نہیں رکھے گی یہ کام تمھارا ہے اور دوسروں سے جیلس ہونا چھوڑ دو جو تمھیں چاہیے تھا ویسے بھی تمھیں مل تو گیا ہے پھر کس بات کی تمھارے اندر اب بھڑاس ہے”
اسنے اسکا ہاتھ کھینچ کر اپنی سمت کیا اور سنجیدگی سے بولا
نہیں مجھے ایسا انسان نہیں چاہیے تھا جو مجھ سے محبت نہ کرے ضرورت پوری کرے ” بدر بے ساختہ ہنس دیا
پتہ ہے کیا تمھارے اندر تمھارے باپ کے پیسے کا گھمنڈ ہے اور میں تمھارے اندر سے اس گھمنڈ کو مٹی کر دوں گا ائ پرومس ” بدر نے اسکی کمر پر گرفت کو سخت کر لیا
بدر چھوڑو مجھے نہیں بنانا مجھے تمھارے ساتھ یہ تعلق “
وہ مچلی جبکہ اسنے اسکے منہ پر سختی سے ہتھیلی جمائے اور ایکدم اسے جھٹکے سے بیڈ پر پٹخ کر وہ خود اسپر اپنا اختیار جما گیا ۔۔۔۔
لیکن میں کوئ ناجائز کام نہیں کر رہا یہ مکمل جائز اور میرا حق ہے بھلے اس میں ۔۔۔ تمھاری یہ فضول کی مرضی شامل ہو یہ نہ ہو ۔۔۔۔”
وہ بولا سوہا اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگی
مجھ سے کبھی محبت نہیں کرو گے نہ تم “
ہاں کبھی نہیں اور توقع بھی بے کار ہے تو بہتر ہو گا اس چکر میں پڑنے کے بجے خود کو انسان کی بچی بناؤ اور ہاں بابا کا ایک فلیٹ تھا جو میرے نام تھا ۔۔۔
اس فلیٹ کے بارے میں اس گھر میں کبھی ذکر نہیں ہوا مجھے اس فلیٹ کے کاغذات چاہیے مجھے بیچنا ہے
اور تم اپنے باپ سے لے کر دو گی وہ کاغذات ” وہ بولا جبکہ غصے کی شدت سے سوہا پاگل سی ہو گئ
وہ اسے صرف ایک کارڈ سمجھ رہا تھا جس کا استعمال کر کے وہ تایا جان سے اپنی چیزیں دوبارہ حاصل کر سکے یہ کیسی شادی تھی سوہا نے زور سے اسکے منہ پر تھپڑ دے مارا ۔
بدر کے لئے یہ شاکڈ تھا
وہ اس سے یہ ایکسپورٹ نہیں کرتا تھا کہ وہ اس قسم کی کوئی حرکت کرنے کی جرت کر سکتی ہے ۔۔۔۔
تم گھٹیا اور بے حس انسان ہو مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئ تم سے شادی کر کے تم سے محبت کر کے میں تمھیں کچھ نہیں لے کر دوں گی سمجھے تم ” وہ چیخی اور بدر نے اسکی گردن دبوچ لی اس شدت سے کہ اسکی آنکھیں باہر نکل آئیں
تمھاری جرت کیسے ہوئی مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی ” اسنے گردن سے ہی کھینچ کر اسے سیدھا کیا
چھوڑو مجھے جانور ہو تم “
جانور بنا ہی کب ہوں میں ” اسنے اسکے ایک لگایا تھا جبکہ بدر نے اسے تین کھینچ کھینچ کر مارے قور اسکے بعد بھی سکون نہیں آیا تو اسنے اسے بستر پر دھکیلا سوہا کے سر کے نیچے سے تکیہ کھینچ کر دور یھینکا اور اسکی قمیض کا گریبان پکڑ کر کھینچ دیا
سوہا مچلی خود کو چھرانے کی کوشش کرنے لگی
چھوڑو مجھے بدر ۔۔۔۔
تم نے مجھ پر ہاتھ کیسے اٹھایا ” وہ اسکا منہ پکڑتا دھاڑا
کیسے اٹھایا ہاں بتاؤ مجھے تمھاری اتنی جرت اپنے باپ کی طرح مجھے اپنا ملازم سمجھتی ہو ۔۔۔ ہو کیا تم اور تمھاری اوقات کیا ہے اپنی شکل دیکھی ہے آئینے میں کبھی نہایت بدصورت لڑکی تمھارے وجود سے چمڑی کھینچ دوں گا ائندہ یہ جرت کی تھی ” اور وہ واقعی اسے بری طرح اپنی خوفناک قربت کا نشان بنا رہا تھا
سوہا میں جتنی ہمت تھی اس سے خود کو چھڑانے کی سہی کرتی رہی لیکن بدر پاگل ہو چکا تھا اور اسکا پاگل پن سوہا کو خود پر محسوس ہو رہا تھا
م۔۔۔مجھے معاف کر دو پلیز مجھے بہت تکلیف ہو رہی ہو دور جاؤ مجھ سے ” وہ بلاخر اسکے آگے ہاتھ جوڑ گئ
وہ اس سے اپنی انا پر لگنے والی ضرب کے نشان کا حساب لے رہا تھا لمہے طویل ہوتے گئے سوہا کو فجر کی اذانیں کی آواز سنائی دے رہی تھی وہ بے دم سی بھیگتی نظروں سے اس اندھیرے میں اپنی شناخت کرنا چاہ رہی تھی ۔
بدر۔۔۔۔۔ پلیز ۔۔۔۔چھوڑ ” لفظ ٹوٹ گئے وہ گھیری گھیری سانسیں بھرنے لگی
آپ ” آپ کے علاؤہ آئندہ منہ سے کچھ نکلا تو اس سے کئ گناہ زیادہ بڑا حشر کر دوں گا ائندہ اپنے ہاتھوں کو قابو میں رکھنا ” اسپر کمبل پھینکتا وہ اٹھ گیا جبکہ اسکی پھٹی ہوئی شرٹ بیڈ کے پاس ہی پڑی تھی جس پر قدم دھرتا وہ واشروم میں گھس گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے روز ناشتے پر سب جمع تھے
سوہا جاگ رہی تھی وہ صوفے پر بیٹھی تھی اسے دوپٹے کو اچھے سے خود پر لپیٹا ہوا تھا
اسکے اندر اتنی آگ جلی ہوئی تھی کہ وہ کسی کو بھی جلا دیتی
اسے محسوس ہو رہا تھا اسکے ساتھ یہ سب کچھ ایزہ کی وجہ سے ہو رہا ہے اگر وہ ہی مر جائے تو بدر اسکے ساتھ ایسا نہیں کرے گا ۔۔۔
ساز اسکے پہلو سے گزری تو اسکے اندر سے اٹھتی مہک سوہا کو مزید جلا گئ وہ اسکے پیچھے پیچھے کچن میں ا گئ
جبکہ ساز ہواؤں میں محسوس کر رہی تھی خود کو ۔۔۔۔
معلوم نہیں کیوں بس لگتا تھا محبت ہو گئ ہے ایک شرابی سے محبت ہو ہی گئ ہے ۔۔۔
اسنے سب سے پہلے عمر کے لیے ناشتہ بنانا چاہا
سوہا اسے کھڑی گھورتی رہی
بہت خوش ہو نہ تم ” اسکی آواز پر وہ پلٹی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
