Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 74
No Download Link
Rate this Novel
Episode 74
بھائی آپ مجھے یہاں کیوں لے کر آئیں ہیں کیارا گھر میں اکیلی ہے شاہ کو پتہ ہے ہم یہاں ہیں پچھلے چار ماہ سے ہم یہاں پر ہیں اور اپ نے ایک دن بھی یہ بات مجھے نہیں بتایا کہ ہم یہاں کیوں ہیں “
کیا ابو زندہ ہیں” اسنے عمر کا ہاتھ پکڑا جو خاموشی سے اسکے روز کے سوال سن رہا تھا ۔
ہمم میں تمھیں چھوڑ دوں گا شاہنواز سر کے گھر پر ” وہ کہہ کر اٹھ گیا
آپکی اور شاہ کی لڑائی ہوئی ہے ایسا ہو ہی نہیں سکتا وہ تو آپ سے بہت محبت کرتے ہیں اپکو کوئی بات بری لگی ہے اپ کو ہوا کیا ہے آپ نے ساز کے پاس نہیں جانا کیا ” وہ اج جیسے غصے میں آ گئ تھی ایک ماہ اسے ریکور ہونے میں لگا تھا اور اسکے بعد سے اب تک وہ عمر کا سر کھا رہی تھی روز اتنے سوال کر رہی تھی کہ وہ بلاخر تنگ ا کر غصے سے گھور کر بولا اور ایزہ کو پھر بھی چین نہیں ایا ۔
بھائی ہوا کیا ہے ” وہ عمر کے پاس بیٹھ گئ
کچھ نہیں ہوا سر نہ کھاؤ میرا کہا ہے نہ چھوڑ او گا بلکہ اٹھو چھوڑ آتا ہوں” وہ بھڑکا ایزہ کھڑی ہو گئ
ہاں مجھے چھوڑ آئیں میری بیٹی ہے وہ اور میں کیسی ماں ہوں کہ میں اسکے پاس نہیں جا پا رہی” اسکی آنکھیں بھیگ گئیں تھیں ۔
عمر نے ایک لمبا سانس کھینچا اور کمرے میں چلا گیا وہ روز یہ ہی کرتا تھا ۔۔ اور روز ایزہ کبھی اسکے غصہ کرنے پر خاموش ہو جاتی تو کبھی اسکے اس فلیٹ سے نکل جانے پر ۔۔۔
وہ اج شدید غصے میں ا چکی تھی ۔۔ وہ اٹھی اور باہر نکل گئ
عمر کو دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز ائ اور وہ بھڑکا ہوا نکلا مگر وہ غائب تھی ۔
اف کیا مصیبت ہے ” وہ ایزہ کے پیچھے لپکا جبکہ ایزہ روڈ پر چل رہی تھی
تمھیں تمھارے گھر کا راستہ پتہ ہے” وہ اسکا بازو پکڑ کر روکنے لگا
مجھے سمجھ یہ نہیں ا رہی اگر بالفرض آپکی اور شاہ کی لڑائ ہو ہی گئ ہے تو شاہ بھی مجھے بھول گئے وہ تو ایسے نہیں ہیں اور اپ اپ تو مجھے پاگل لگ رہے ہیں ساز کا بھی کوئی خیال نہیں ہے اس بے چاری کو پتہ بھی ہے اپ کہاں ہیں مجھے ہر صورت واپس جانا ہے مجھے میری بیٹی کی یاد ا رہی ہے ” وہ روڈ پر ہی اس سے لڑنے لگی
تم گھر چلو بعد میں دیکھیں گے ” روز کا لارا اسے لگانے لگا ۔
بھائی میں بلکل نہیں جاؤں گی اب واپس ۔۔۔ بہت ہو گیا ہے میری سمجھ میں کچھ بھی نہیں ا رہا ” وہ بھڑکی اور پھر سے ہاتھ چھوڑ کر جانے لگی اور عمر زبردستی غصہ کر کے اسے پھر سے فلیٹ میں بند کر گیا اور وہاں سے چلا گیا ۔
ایزہ کو شدید رونا آیا یہ سب کیا تھا وہ ایسے کیوں کر رہا تھا اگر کچھ ہوا تھا تو وہ بتا تو سکتا تھا کچھ تو بتاتا وہ سمجھتی اسکی بات کو وہ کچھ کہتا تو سہی چار ماہ سے وہ اسکے ساتھ یوں ہی تھا نہ بات کرتا تھا نہ کچھ بتاتا تھا
اور کبھی کبھی گھر لوٹ بھی آتا تو بھی ایزہ کو کچھ نہیں بتاتا تھا
ایزہ بہت زیادہ روئی اسے شاہ نواز پر غصہ ایا چار ماہ میں ایک دن بھی اسے اسکی یاد نہیں آئی تھی
اسنے دیکھا عمر کا موبائل سامنے ہی پڑا تھا اسنے اٹھا کر شاہنواز کو کال ملا دی لیکن دوسری طرف سے بیل جانے کے باوجود کال نہیں پک کی گئ وہ غم سے حیرت زدہ ہی رہ گئ ۔
عمر اسے بند کر کے جا چکا تھا وہ تھک گئ تھی اسے کیارا کی یاد ا رہی تھی اور عمر پر بہت شدید غصہ تھا اسکو ۔۔
دوسری طرف کیارا کو شاہنواز نے پھولوں کیطرح رکھا ہوا تھا وہ ہر چیز چھوڑ چھاڑ کر بیٹی کے ساتھ لگ گیا تھا کچھ ماہ کی کیارا بہت خوش رہتی تھی اسکے ساتھ جبکہ شاہنواز کی انکھوں میں ایک غم تھا جو ہر وقت رہتا تھا دادی جان اسکے لیے دن رات روتی تھی کہ اسکی قسمت میں خوشیاں بہت مختصر سی تھیں کیوں تھا ایسا اور ایک طرف ساز تھی جو اپنے جرم کو جانتی ہی نہیں تھی ۔
اسے آج بھی اپنے جرم کا نہیں پتہ تھا عمر پلٹ کر ایا کیوں نہیں وہ جانتی ہی نہیں تھی ۔۔ بدر کو اتنا غصہ تھا کہ وہ عمر کی شکل تو کیا اسے ساز کے اردگرد برداشت بھی نہیں کرنا چاہتا تھا
سب جیسے خاموش سے ہو گئے تھے تائی جان بولتی تک نہیں تھی کسی سے۔اور ارہم پورا پورا دن گھر نہیں لوٹتا تھا سارا کاروبار چچا جان چلا رہے تھے اور کاروبار اچھا چل رہا تھا جبکہ چچی نے تائی جان کی اجازت کے ساتھ صنم کے رشتے کی بات کی تھی اور تائی جان آ بھی گئیں تھی جبکہ صوفیا ارہم کی ہی منتظر تھی ۔
تائی جان کی عدت ختم ہوئی تو انھوں نے خود سے صنم کی شادی کا کہہ دیا تھا وقت گزرتا جا رہا تھا
اور ہر گزرتے لمہے نے ساز کے دل کو مزید مار دیا تھا جبکہ دوسری طرف بدر کے اندر نفرت عمر کے لیے بڑھتی جا رہی تھی ۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صنم کی شادی قریب ا رہی تھی اور سوہا کی طبعیت کافی خراب تھی مہندی کے فنکشن سے پہلے ہی اسکی طبعیت بگڑی اور سوہا نے دو خوبصورت بیٹیوں کو جنم دیا تھا ۔
بدر اس دن نجما کے گلے لگتا پہلی بار خوشی سے رو پڑا تھا نجما بھی کافی خوش تھی اور سوہا بھی ۔۔ اسکی خواہش پوری جو ہو گئ تھی اور وہ اپنے ماضی پر کافی پچھتا رہی تھی کہ کاش وہ بھی ایک اچھا انسان ہوتی اور بلاوجہ کسی سے نفرت نہ کرتی ۔۔
لیکن اسنے وقت کے ساتھ ساتھ سب کے دل میں جگہ بنا لی تھی اور سب ماضی کے اسکے رویوں کو بھول کر اسکے ساتھ اب اچھے سے رہتے تھے خاص کر بدر ۔۔۔
وہ کافی نرم ہو گیا تھا اسکے ساتھ اور ان آخری دنوں میں تو اسنے سوہا کا حد سے زیادہ خیال رکھا تھا ۔۔ جس پر سوہا کی انکھیں بار بار بھیگتی کہ وہ اتنی خوش قسمت تھی کہ اسکی دعاؤں نے بدر کو اسکا کر ہی دیا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔
سوہا گھر آ گئ اور مہندی کا فنکشن سوہا کی وجہ سے آگے کر دیا گیا تایا جان کے چلے جانے کے بعد سے لے کر اب تک گھر میں کو بدمزگی نہیں ہوئی تھی ہر شخص دوسرے کے ساتھ مطمئین تھا خوش تھا ۔بس ارہم تھا جو کہ گھر پر بہت کم ہوتا تھا اور اچھا ہی تھا کہ وہ گھر پر ہوتا ہی نہیں تھا ۔
اور وہ گھر ایا تو غصے سے جیسے آگ بگولہ ہو رہا تھا اسنے ساز کی کلائی پکڑ ساز کو چھٹا مہینہ تھا ایکدم وہ سنبھلی
باہر نکل ” وہ دھاڑا بدر گھر پر نہیں تھا جبکہ نجما اور سوہا کمرے میں تھیں وہ اوپر تھی عمر کے کمرے میں ارہم نے اسے گھسیٹ کر باہر نکالا
ارہم ” تائی جان نے غصے سے اسے روکا ۔
بس امی اسکے شوہر نے میرے باپ کو جان سے مار دیا اس منحوس کے شوہر نے مارا ہے میں بھی بدلہ لوں گا اسکو اور اسکے بچے کو میں بھی مار دوں گا ” وہ غرایا اور تائی جان کی آنکھیں جہاں حیرت سے پھیلیں وہاں سب کی ہی حیرانگی سے پھیل گئیں
کہا تھا میں نے ابو عمر کے پاس ہیں کہا تھا میں نے یہ سب کو لیکن کسی نے اس وقت میری بات نہیں مانی اس نے میرے باپ کو مارا ہے میں اس کی بیوی کو مار دوں گا ” اور کہتے ساتھ اس نے ساز کی گردن کو دبوچ لیا اس نے شدت سے ساز کی گردن اس شدت کے ساتھ دبائی کہ وہ سانس بھی نہ لے سکے ادھا منہ کھولے حونک انکھوں سے انسو متواتر گر رہے تھے جبکہ انکھیں حیرانگی سے پھٹی ہوئی تھی اس نے اپنے پیٹ کے اردگرد بازو لپیٹے اور جیسے اپنے بچے کی حفاظت کرنا چاہی تھی جب اسکے باپ کو ہی پرواہ نہ تھی تو کس طرح اپنا آپ بچا پاتی اسنے انکھیں بند کر لی اگر اس کی قسمت میں یہی لکھا تھا کہ اس نے یوں ہی مرنا تھا تو وہ آج یوں مر جاتی کیونکہ اس سے یہ اذیت سہی نہیں جا رہی تھی اور اچانک پیچھے سے بدر نے ارحم کی شرٹ دبوچ کر کھینچی اور کھینچ کر تھپڑ اس کے منہ پر مارا
تمہاری جرت کیسے ہوئی ساز کو ہاتھ لگانے کی وہ بھڑکا جبکہ ارحم تو ہتھے سے ہی اکھڑ گیا عمر نے میرے باپ کو مارا ہے میں اس کی زندگی میں کوئی خوشی نہیں چھوڑوں گا اور تمہارا مسئلہ نہیں ہے یہ تم راستے سے ہٹ جاؤ میں بدلہ لوں گا اپنے باپ کی موت کا اور اس کی محبت کو میں ماروں گا ” ارہم اس کی انکھوں میں انکھیں گاڑے بولا
تمہارا دماغ خراب ہو چکا ہے عمر ایسا کچھ نہیں کر سکتا اپنے کام سے کام رکھو اور ائندہ ساز کے اردگرد مجھے نظر نہ انا وہ دو لفظوں میں بات مکمل کر کے ساز کا ہاتھ پکڑ گیا جبکہ ساز نے اس سے اپنا ہاتھ چھڑوا لیا انسووں کا گولا حلق میں اتارا اور بدر کی جانب دیکھا تو سچ کہہ رہا ہے بھائی تایا جان کو مارنے والا عمر ہی ہے اس بات کی گواہ نہیں ہوں لیکن یقین ہے اور اب مجھے یقین ہو چکا ہے کہ وہ چھپ کر دنیا سے کیوں بیٹھا ہے اور وہ رک گئی بھائی کو دیکھنے لگی بدر حیرانگی سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا جبکہ ارہم غصے سے مٹھیاں بھیچیں ان دونوں کی صورت دیکھ رہا تھا اس نے غصے میں ا کر ٹیبل پر لات ماری اور یہاں تک کہ لاؤنج میں پڑی چند چیزوں کو بھی پھینک ڈالا میں عمر کو نہیں چھوڑوں گا میں اس پر پولیس کیس کرواؤں گا اور تم لوگ دیکھ لینا عمر خیام سلاخوں کے پیچھے ہر صورت جائے گا بھلے اس کے لیے مجھے کچھ بھی کرنا پڑے یہ گھر یہ جائیدادیں یہ سب کچھ بیچنا پڑے میں عمر کو سلاخوں کے پیچھے لے کر جاؤں گا یہاں تک کہ اسے پھانسی دلواؤں گا اس کی جرات کیسے ہوئی وہ باپ اسی کا نہیں تھا وہ باپ میرا بھی تھا وہ غصہ کرتے ہوئے وہاں سے باہر نکل گیا جبکہ ساز منہ پر ہاتھ رکھیں بمشکل صوفے پر بیٹھی ہے اور رونے لگ گئی نجمہ تائی جان ثروت چچی صنم صوفیا اور یہاں تک کہ سوہا جو بمشکل اٹھ کر ائی تھی سب ساکت کھڑے سن رہے تھے کسی کو یقین نہیں ا رہا تھا کہ عمر یہ حرکت کر سکتا ہے جب کہ ساز کے دل میں مہر لگ گئی تھی کہ عمر چھپ کر کیوں بیٹھا ہے وہ اٹھی اور مشکل سے سیڑھیاں چڑھ گئ کمرے میں بند ہو گئ عمر سے شکواہ کا اج اختتام ہو گیا تھا اس کا دل عمر کے لیے دھڑکنا چھوڑ نہیں سکتا تھا لیکن عمر بہت ظالم تھا بہت ظالم بالکل اپنے باپ کی طرح وہ ظلم کرتے ہوئے کچھ نہیں دیکھتا تھا اور عمر بھی ظلم کرتے ہوئے کچھ نہیں دیکھتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صنم کے سسرالیوں سے بات کر کے وہ شادی کو اگے لے گئے تھے کیونکہ گھر کا ماحول ایسا نہیں تھا ارہم غضب میں پھر رہا تھا جب کہ ساز نے کمرے سے نکلنا ہی چھوڑ دیا تھا بدر پریشانی سے کمرے میں داخل ہوا اور صوفے پر بیٹھ گیا وہ پیشانی پر دو انگلیاں رگڑ رہا تھا سوہا نے اپنے دونوں بچوں کو بستر پر لیٹایا اور ان پر بلینکٹ ڈال کر اس کے پہلو میں ا کر بیٹھ گئی وہ خود بہت تھک گئی تھی دو چھوٹے چھوٹے بچے اور ان کی حفاظت کرنا بہت مشکل کام تھا ہاں یہ خواہش کر لینا کہ اس کے ہاں ٹوئنز ہوں یا آسان تھا لیکن ان دونوں کی ہی خدمت کرنا بہت مشکل کام تھا سارا سارا دن وہ دونوں اس کو تھکائے رکھتی تھی اس نے ان دونوں کا نام عینہ اور مینہ رکھا تھا جبکہ وہ دونوں معلوم نہیں کس پر چلی گئی تھی اتنا تنگ کرتی تھی اتنا تو سوہا کو یقین تھا کہ اس نے اپنی ماں کو کبھی تنگ نہیں کیا ہوگا جبکہ تائی جان اس کے چڑ جانے پر یہ کہتی کہ بالکل تم ایسی ہی تھی سوہا دوسری طرف جب بدر اپنی دونوں بیٹیوں کو والہانہ محبت کرتا تو سوہا اس کو دیکھ کر رشک کرتی کہ یہ دونوں بچیاں کتنی خوش قسمت تھی کہ اس کی زندگی بھی بدل دی تھی اور بدر ان دونوں سے کتنی محبت کرتا تھا ہاں اس کے وجود سے جنم لی ہوئی اولاد کو بدر محبت کرتا تھا اور اس کی دیوانگی کے لیے تو اتنا ہی کافی تھا اس نے بدر کے شانے پر ہاتھ رکھا بدر نے مر کر اسے دیکھا پریشان نہ ہو سب صحیح ہو جائے گا جلدی سوہا نے کہا جب کہ بدر نے نفی میں سر ہلایا
نہیں مجھے یہ لگتا تھا کہ مال کی تنگی دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے لیکن مال کی تنگی کے ساتھ ساتھ رشتوں کی تکلیف بہت بڑی اذیت ہے مجھے سمجھ نہیں ارہا میں ساز کے لیے کیا کروں میں بہت پریشان ہوں وہ دن بدن بہت پیچھے جا رہی ہے دوائی وقت پر نہیں لیتی کھانا پینا بھی اس نے چھوڑ دیا ہے بتاؤ ذرا اور انہی پریشانیوں کی وجہ صنم کی شادی اگے جائی جا رہی ہے اس نے گہرا سانس لیا پتہ تو کرو عمر کہاں ہے اس کا نام میرے سامنے لینے کی ضرورت نہیں ہے وہ جہاں جس جہنم میں ہے وہیں پڑا رہے بہتر ہے اس کے لیے اپنی مشکلات سے منہ چرا لینے والے انسان کو بہادر نہیں کہتے اور عمر وہ لفظ ادھورا چھوڑ گیا اس نے منہ موڑ لیا جبکہ سوہا نے اس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑا نرم نظروں سے اس کی جانب دیکھا تم تھک گئے ہو نا وہ بولی بدر نے ایک طویل سانس کھینچی اور اس کے شانے پر واقعی تھک کر سر رکھ لیا سوہا ہلکے سے مسکرائی اور اس کے بالوں میں انگلی چلانے لگی ہاں تھک گیا ہوں بتاؤ کیسے اتارو گی میری تھکان اس نے اسے نرم نظروں سے دیکھا جب کہ سوہا ایک دم سیدھی ہوئی اور اس کے شانے پر تھپڑ مارا
دور ہٹو ذرا دونوں بچیاں ہیں نا تمھاری انہوں نے میرا جینا حرام کر کے رکھا ہوا ہے اور تمہیں سپنے سوجھ رہے ہیں وہ اس کے پاس سے اٹھ گئی میں نوٹ کر رہا ہوں تم میں وقت کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ موٹی ہوتی جا رہی ہو وہ بولا جبکہ سوہا نے شانے اچکا دیے کیا کروں اب اپ مجھ سے محبت کرنے لگے ہو نا تو اس محبت کا ناز اور فخر میرے اندر اور میرے لہجے میں اور میرے انداز میں بولتا ہے بس ذرا گھمنڈی سی ہو گئی ہوں کیونکہ ایک چاہنے والے کی چاہت جو مل رہی ہے وہ بولی اس کے چہرے کی مسکراہٹ اس کے چہرے پر بدر کی محبت کی خوشی بہت خوبصورت لگ رہی تھی بدر ہلکے سے مسکرایا اور کھڑا ہو کر اس کے قریب ایا
اچھا تو تم اب میری تھکان اتارنے کے لیے کچھ نہیں کر سکتی” وہ اسکے دوپٹے کے پلو کو ہاتھ پر لپیٹنے لگا
جی بلکل اور بدر پلیز وہ اٹھ جائیں گی دونوں ” بدر نے اسکا دوپٹہ بیڈ پر پھینکا تو عینہ اور مینہ کے منہ پر جا کر گیرہ سوہا تو تڑپ کر بولی
شیر کی بیٹیاں ہیں تم فکر نہ کرو ” اسنے اسے نزدیک کیا
پتہ ہے شیر کی بیٹیاں ہیں یہ شیر رات بھر خود تو سوتا ہے اور میرا کوئی قصور سا ہو گیا ” وہ منہ بنا گئ
اچھا اب زیادہ چھیڑنے کی ضرورت نہیں ہے میں” ابھی وہ بات مکمل کرتا ہی کہ اسکا فون بجنے لگا
بدر نے گھیرہ سانس کھینچا اور موبائل اٹھا لیا جبکہ سوہا نے بھاگنے کی کوشش کی مگر بدر نے اسکی کلائی اپنے ہاتھ میں پکڑے رکھی
جی مسٹر بابر میں کچھ دیر تک ساری لیسٹ سینڈ کرتا ہوں اور مال رات میں ہی پہنچا دینا ” بدر نے بات جلدی مکمل کرنا چاہی مگر بابر نے اسے پکا دیا اور سوہا نے موقع دیکھ کر اسکے ہاتھ پر زور سے کاٹا بدر کی “سی” نکلی اور ہاتھ جھٹکنے لگا
تم ٹھیک ہو بدر ” وہ پوچھنے لگے
جی بلکل کچھ کاٹ گیا تھا ” اسنے سوہا کو کھا جانے والی نگاہوں سے دیکھ اور سوہا کمرے سے باہر نکل گئ بدر نے جلدی سے فون بند کیا اور وہ باہر نکلتا کہ عینہ رونے لگی اور مینہ اسکے ساتھ بلکل مفت تھی رونے میں دونوں کا باجا شروع ہوا بدر ایکدم انکی جانب بڑھ گیا ۔
اوئے کیا ہوا یہ رو کیوں رہی ہیں سوہا ” اسنے آواز لگائی
کیا ہوا آپکی شیرنیوں کو رونا آگیا اور شیر کا رومانس پانی میں بہہ گیا
تم ۔۔ تم تمھیں تو دیکھ لوں گا میں یار پہلے انھیں چپ کراو بھوک لگی ہو گی انھیں ” وہ بولا جبکہ سوہا نے تھکان سے اسے دیکھ میں امی کے پاس جا رہی ہوں چپ کرائیں تھوڑی دیر ان دونوں کو ” وہ بولی اور باہر چلی گئ جبکہ بدر چلا اٹھا اور سوہا کھلکھلا اٹھی
میں تمھاری ہڈیاں توڑتا ہوں روکو ذرا تم “
اپنی بیٹیوں کی فکر میں وہ بس اب انکے ساتھ ساتھ رونے لگ جاتا ۔
اگر سوہا اندر دوبارہ نہ اتی اور ان دونوں کے ساتھ ساتھ اسکی گود میں بدر نے بھی سر رکھ لیا تھا
سکون میسر آیا تھا سوہا نے اسکے بالوں میں ہلکی ہلکی سی انگلیاں چلانا شروع کر دیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صنم کی مہندی تھی تھکاوٹ سے بڑا حال تھا وامیٹس نے جان لے لی تھی لیکن وہ جان بوجھ کر خود کو مزید سے مزید اذیت دینے کو ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتی تھی ۔
وہ اپنے پرانے لباسوں میں سے لباس پہن کر سادہ چہرے سے نیچے ا گئ اور ماں کے ساتھ اسکے پہلو میں بیٹھ کر اسنے سارا فنکشن اٹینڈ کیا
فنکشن بھی کیا تھا بس رسم ہی ہوئی تھی مگر صنم خوش تھی اور ساز بھی مسکرا رہی تھی ۔
فنکشن اختتام پر پہنچا تو ساز سب سے پہلے اپنے کمرے میں چلی گئ اسنے گھیرہ سانس بھرا خود پر سے لباس اتارا اور آج عمر کی لٹکی شرٹ میں سے ایک شرٹ پہن کر وہ بیڈ پر لیٹ گئ جبکہ اسے جلد ہی نیند نے جا لیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیندوں میں ایک جانی پہچانی خوشبو کا احساس ہوا اس نے انکھیں کھولی لیکن کمرے میں مکمل اندھیرا تھا اسے محسوس ہوا کہ اس کی شرٹ کے بٹن کوئی کھول رہا ہے ایک دم اس نے نیندوں میں ہی وہ جو بھی تھا اس کے ہاتھ تھام لیے ک ۔۔۔۔کون “
جیسے ذہن ایک دم ہوش میں آ رہا تھا
تم ڈیزرو نہیں کرتی مجھے لیکن کیا کروں کہ تمہارے علاؤہ اب کسی کو کچھ نہیں کہوں گا کان میں عمر کی اواز پڑی تو ساز کی انکھیں بالکل ہی پھٹ گئیں وہ انکھیں پھاڑے چھت کی جانب گھورنے لگی جبکہ عمر کی گرم سانسوں کی گردش ہولے ہولے گردن پر محسوس ہوتی گردن سے نیچے تک کا سفر طے کر رہی تھی اس کی سانسیں پھولنے لگیں ایسا لگا عرصے بعد اس کی اواز سنی ہو اسکا لمس محسوس کیا ہو اس اواز میں اب بھی غصہ شدت اور کہیں کہیں نفرت کا عنصر تھا اس نے جلدی سے اپنی شرٹ کو پکڑا اور اپنے اوپر دوبارہ کھینچ لی
عم۔۔عمر ” وہ بولی جبکہ اسے خود پر سے بوجھ ہٹتا محسوس ہوا
تم پریگنینٹ ہو ” بلکل لاپرواہی سے اسکی شرٹ پیٹ سے ہٹاتے اسنے ہاتھ رکھا تھا اسکے پیٹ پر ۔۔۔ اندھیرہ شدید تھا ساز کی سمجھ سے سب کچھ باہر تھا
تم کتنی بڑی جھوٹی ہو مجھ سے یہ بات بھی چھپائی ہر راز چھپایا جبکہ میں نے تمھیں کہا تھا کہ مجھ سے کبھی کچھ نہ چھپانا اسنے اچانک ہی لیمپ پر ہاتھ مارا اور روشنی کمرے میں پھیل گئ جبکہ عمر اسکے اوپر تھا گھور رہا تھا اسے ۔۔ ساز بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی وہ ایا تھا اور کتنا انا پرست تھا کہ پرواہ اسکو اپنی ہی تھی
ساز اسکی جانب دیکھتی رہی اور اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگی
عمر نے بے دردی سے انسو صاف کیے تمھارے ان انسووں کی مجھے پرواہ نہیں ہے تمھارے جھوٹ کا انجام بہت اچھے سے بتاو گا تمھیں
اٹھو ” زبردستی اسے کھینچ کر اٹھایا
ساز کے لبوں سے سسکی نکلی پھر ہچکیاں بند گئیں اور منہ پر ہاتھ رکھے وہ بری طرح پھوٹ پھوٹ کر رو دی عمر کو اسکے رونے سے کتنا فرق پڑتا تھا اور اب وہ سکون سے لیٹا اسے دیکھ رہا تھا ۔
ایکسکیوزمی زیادہ وقت نہیں ہے میرے پاس ۔۔
مجھے چند گھڑیاں تمھارے ساتھ گزارنی ہیں ” اور ایکدم دروازہ بجنے لگا ساز نے دروازے کی جانب دیکھا اور پھر عمر کو دیکھا جو پاوں جھلاتے اسے ہی دیکھ رہا تھا ساز اٹھ کر دروازہ کھولنا چاہتی تھی لیکن عمر نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسکی گردن پر زبردست نشان بنایا تھا اسکی نازک گردن کو اسنے زور سے ہونٹوں میں بھینچ ڈالا
اور اٹھ کر وہ وہاں سے چلا گیا
اسنے کھڑکی خانے آرام سے پھلانگ تھی ساز اٹھ کر کھڑکی کے پاس بمشکل آئی تھی وہ چلا گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہنواز آج بہت دنوں بعد آفس ایا تھا اور بمشکل کیارا کو چھوڑا تھا اسنے ۔۔۔
وہ بیٹھا ہی تھا کہ دروازہ بجا اور عمر خیام اسی جنون کے ساتھ اسکے سامنے ا کر بیٹھ گیا
شاہنواز نے اسے دیکھا ٹہرا ہوا سمندر لگا تھا عمر کو وہ جس کی انکھوں میں کوئی تاثر نہیں تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
