Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 73
No Download Link
Rate this Novel
Episode 73
سر ” اسکا پی ائے پریشان حال تھا وہ دوڑ کر اسکے کمرے میں گھسا تھا اسکی سانسیں پھول رہیں تھیں چہرے پر پسینہ بھی تھا ۔۔
شاہنواز کسی فائل پر جھکا ہوا تھا ۔
کیا ہوا عمر کہاں ہے اب تک آیا نہیں” وہ نفی میں سر ہلاتا بولا تھا ۔۔۔ جبکہ اسکا پی ائے اگے ایا
سر عمر خیام گلشن بائی کے کوٹھے پر ہے ” اسکے الفاظ منہ سے نکلے ہی تھے شاہنواز کرسی چھوڑ کر اٹھا تھا پیچھے اسکی رولنگ چئیر گیر گئ ۔۔اسکے چہرے کی پریشانی بڑی واضح تھی اور وہ تقریبا دوڑتا ہوا وہاں سے نکلا تھا دوسری طرف زندگی شاہنواز پر گھیرہ بڑا سخت کر رہی تھی ۔
وہ بور ہوتی لون میں گھوم رہی تھی کیارا دادی جان کے پاس تھی اور وہ دادی جان سے لڑ چکی تھی کہ اس سے نہیں سنبھلتی یہ کیارا اتنا روتی ہے دادی جان نے اسے دو چار باتیں سنائیں اور کیارا کو اپنے پاس سلا لیا جبکہ وہ منہ بسور کر باہر آئی اور ۔۔۔ شاہنواز کا انتظار کرنے لگی تھی ۔۔
وہ اج پورے گھر میں اکیلی گھوم رہی تھی منہ بنائے وہ پہلی بار گھر پر توجہ دے رہی تھی اسنے دیکھا ہی نہیں تھا کہ وہ محل میں رہتی ہے وہ دیکھتی دیکھتی ۔۔ دوسری لون میں آئی وہاں سیڑھیاں نیچے کیطرف جا رہی تھیں اسے حیرانگی ہوئی کہ یہاں بیسمنٹ بھی تھی وہ اسطرف ا گئ اور پھر اسنے سیڑھیاں اترنا شروع کر دیں
وہاں ایک بڑا سا دروازہ تھا اور اس دروازے کے اس پار ہر راز کھل جانے کے لیے بے چین تھا ۔
ایزہ حیرانگی سے اس دروازے کو کھٹکھٹانے لگی ۔۔
جبکہ اندر سے کوئی آواز بھی نہ آئی وہ پلٹی کہ دروازہ ایکدم کھل گیا وہ متجسس سی اندر بڑھ گئ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گلشن خاموش ہوئی اور عمر کرسی پر سے اٹھ گیا اسکے اندر بے حد خاموشی تھی جیسے اسکے دھندلے ذہن پر چیزیں دوبارہ سے چل پڑی تھی جسے وہ بھولنے کی ہر ممکن کوشش کرتا انجان تھا بلکل اسے آج پتہ چلا تھا ایزہ اسکی بہن نہیں اسکی ماں کیطرح ایک لاوارث لڑکی تھی ۔۔۔
وہ اٹھا اسکے قدموں میں تھکاوٹ تھی بے زاریت تھی ہر شے سے ۔۔۔
گلشن نے اسکو روکنا چاہا لیکن وہ ہاتھ جھٹک کر باہر نکلا ۔۔۔ وہ جیسے جیسے باہر جا رہا تھا ہر شخص نے جو اس کہانی سے واقف تھا اسکے قدموں میں تھکان دیکھی تھی ۔
عمر باہر ا گیا اس نے گاڑی کا دروازہ کھولنا چاہا لیکن ہاتھوں میں جیسے جان نہیں رہی تھی نشہ کر کے بھی وہ اپنے ہاتھوں میں طاقت محسوس کرتا تھا کبھی اس طرح کی کیفیت محسوس نہیں ہوئی تھی
جبکہ آج ایسی تھی جیسے روح سی نکل گئی ہو جسم سے اب نہ ہاتھ میں طاقت تھی نہ پاؤں میں چلنے کی ہمت اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا اندر بیٹھا اور سیٹ سے سر ٹکا دیا اس کی انکھوں سے بے اواز انسو بہنے لگے تھے مسلسل انسو بہتے اس کے گریبان میں جا رہے تھے اسے لگ رہا تھا وہ زندگی سے ہی تھک گیا کبھی یہ جاننا کہ وہ کوٹھے والی کا بیٹا ہے کبھی یہ جان لینا کہ اس کا باپ اس سے کتنی نفرت کرتا ہے تو کبھی ان نفرتوں کا سہنا کبھی زمانے کے سامنے کھڑے ہو کر یہ سننا کہ یہ ایک طوائف کا بیٹا ہے اور پھر کبھی رازوں کے اوپر سے پردہ ہٹ جانا اسے شاہنواز سے عجیب محبت تھی شاہنواز اس کے لیے بہت خاص تھا لیکن اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ اس کا اور شاہنواز کا ایسا تعلق بنے گا کیا ایک بیٹے کی غیرت گوارا کرتی تھی کہ وہ اپنی ماں کے ہی عاشق سے بے پناہ محبت کرتا ہے اسے وہ درجہ دیتا ہے جو وہ چاہتا تھا اگر شاہ نواز کبھی اسے اندھیرے کنویں میں بھی گرنے کے لیے حکم دیتا ہاں حکم دیتا تو وہ اس کے حکم پہ لبیک کہہ کے اس اندھیرے کنویں میں بھی کود جاتا بس اتنی ہی محبت کرتا تھا وہ اس سے کاش کبھی ان رازوں پر سے یہ پردے اٹھتے ہی نا وہ یوں ہی انجان رہتا اور کبھی جان نہ پاتا اس نے ایک طویل سانس کھینچی شاہنواز کی گاڑی اسے سامنے سے اتی ہوئی نظر ارہی تھی شاہنواز کی گاڑی دیکھتے ہی اس نے سٹیرنگ کو پکڑا اور گول گھماتے اپنی گاڑی کو ریورس کرنے لگا شاہنواز اس کی طرف گاڑی بڑھا رہا تھا جبکہ وہ بنا دیکھے پیچھے کی طرف گاڑی لے جا رہا تھا شاہنواز اسی کی انکھوں میں دیکھ رہا تھا جبکہ عمر بھی اسی کی انکھوں میں دیکھ رہا تھا بلا خوف و خطر ہاں اب انداز ذرا مختلف تھا یہاں تک کہ عمر نے گاڑی کو ریورس کیا اور دوسری جانب موڑ لی شاہنواز نے گاڑی کی سپیڈ بڑھائی اور شیشہ نیچے کر کے اسے پکارنا چاہا عمر میری بات سنو وہ چلایا تھا لیکن عمر نے گاڑی کی سپیڈ کو مزید بڑھا لیا شاہ نواز اس کے پیچھے ہی تھا عمر گاڑی کو بہت رفلی چلا رہا تھا جیسے اسے کسی سگنل کی کسی پولیس افیسر کی یا کسی کی پرواہ نہ ہو شاہنواز پریشانی سے موبائل اٹھا کر اسے کال کرنے لگا لیکن عمر نے کال پک نہ کی جبکہ اسی وقت اس کے پی ائے کی کال ا گئی نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے وہ کال اٹینڈ کر لی اور شاید اس کی قسمت نے اس کا ساتھ دیا تھا کہ اس نے وہ کال اٹینڈ کر لی اور دوسری طرف سے جو بات اس نے سنی اس کی گاڑی کو بریک لگا تھا ایسی بریک کے گاڑی کی آواز دور دور تک گونج گئی گاڑی کے ٹائر چرچراے اور اس نے ریورس گیئر مارتے ہوئے گاڑی اپنے گھر کی جانب موڑ لی تقریبا 200 کی سپیڈ پہ اس نے گاڑی بھگائی تھی اسے لگ رہا تھا جیسے ہر چیز اس کے ہاتھ سے نکل جائے گی دوسری طرف عمر الگ سمت میں جا رہا تھا لیکن اس وقت شاہنواز کو عمر کی پرواہ نہیں شاید ایزہ کی زیادہ پرواہ تھی وہ پاگلوں کی طرح گھر تک پہنچا تھا گاڑی رکنے سے پہلے وہ گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے اندر بھاگتا ہوا ایا اس وقت اشفاق اپنی بیٹی کی گردن دبوچے لون میں کھڑا تھا دادی جان سینے پر ہاتھ رکھے ہائے ہائے کر رہی تھی جبکہ اس کے گارڈ بندوق تانے کھڑے تھے اس کا پی ائے بھی وہیں موجود تھا شاہنواز کے اندر جیسے جعلہ مکھی سا پھٹ گیا وہ اس سمت بھاگ کر پہنچا جبکہ اشفاق نے اس کی گردن کو مزید سختی سے جکڑا اور لوہے کا راڈ اٹھا کر اس نے ایزہ کے پیٹ پر اس کی نوک رکھ دی اگر تم نے میرے قریب آنے کی کوشش کی تو میں اس کے پیٹ سے یہ راڈ ار پار کر دوں گا وہ شاہنواز پر دھاڑا شاہنواز کے قدم وہیں رک گئے تمہاری جنگ مجھ سے ہے تو یہ جنگ مجھ سے لڑو اس جگہ کو چھوڑ دو میری جنگ تم سے ہے اس وقت کسی بات کی سمجھ نہیں ا رہی تھی اس کا باپ اسے کیوں مارنا چاہ رہا تھا اور وہ شاہنواز سے کس جنگ کی بات کر رہا تھا شاہنواز نے اگے قدم بڑھائے میں نے کہا وہیں رک جاؤ اشفاق پھر سے دھاڑا اور اشفاق ایزہ کے پیٹ میں وہ راڈ چبھانے کی کوشش کی ایزہ درد کی کیفیت سے چلائی شاہنواز کا دل جیسے پاتال میں جا گرا اشفاق میں نے تمہیں کہا ہے تم ایزہ کو چھوڑ دو یہ میری اور تمہاری جنگ ہے اس سے صرف مجھ تک رکھو نہ اس جنگ میں عمر کا کوئی کام ہے اور نہ ہی ایزہ کا چھوڑ دو ایزہ کو تم نے مارنا ہے تو مجھے مارو وہ مٹھیاں بھینچتا اس کی جانب پھر بڑھا لیکن اشفاق مزید اس کے پیٹ پر اس راڈ کو دباؤ دینے لگا نہیں نہیں وہ بولا اسنے ایک طرف تھوک دیا وہ کوٹھے والی اور تو تم دونوں کی اوقات ایک جیسی ہے میں مولوی نظیر کا بیٹا پہلے میرے ساتھ دھوکہ ہوا کہ اس کوٹھے والے نے اپنے حسن سے مجھے پاگل کیا پھر اس نے تجھے پاگل کیا اور تو بے وقوف احمق انسان تو نے اس کے لیے مجھے بھرا وہ ہنسا قہقہہ لگایا تو نے مجھے بھرا مجھے اپنی جائیدادیں دی وہ ہنس رہا تھا اس پر طنز کر رہا تھا شاہنواز کسی صورت نہیں چاہتا تھا کہ یہ کہانی ایزہ کو پتہ چلے جو اس کے بازو پر دونوں ہاتھ پھنسائے اپنی گردن سے دور کر رہی تھی لیکن اشفاق کا سارا دھیان شاہنواز کی طرف تھا اس وقت رک جاؤ رک جاؤ جو تمہیں تکلیف ہے وہ مجھے دو ۔۔ چھوڑ دو ایزہ کو میں کہتا ہوں چھوڑ دو وہ دھاڑا اور اس کی جانب پھر قدم اٹھائے یہاں تک کہ اس نے ایزہ کے پیٹ میں وہ راڈ اتارنا شروع کیا اور ایک دم گولی کی آواز ابھری ایزہ درد کی کیفیت سے چیخنے لگی تھی جبکہ اشفاق سخت نظروں سے عمر کو دیکھ رہا تھا ایک دم وہ پیچھے جا کے گرا شاہنواز نے مڑ کر دیکھا حیرانگی سے وہ عمر خیام کی جانب دیکھ رہا تھا جس کی انکھیں سرخ تھیں بڑی بڑی انکھیں رونے کے باعث بھاری ہو رہی تھی اس کا ہاتھ کانپ رہا تھا اس نے اشفاق کے ماتھے پر گولی ماری تھی گہرے گہرے سانس لینے لگا اس نے وہ بندوق وہیں پھینکی اور ایزہ کی جانب بڑھا شاہنواز اب تک ساکت کھڑا تھا اشفاق کا وجود تڑپ رہا تھا اس کی انکھیں پھر گئی تھی جسے اپنے آخری انجام کو وہ پہنچنے کو تھا عمر نے پلٹ کر باپ کی جانب نہیں دیکھا وہ ایزہ کی طرف ایا اس کے پیٹ سے خون نکل رہا تھا اس نے اس ایزہ کو بازو میں اٹھایا شاہ نواز کی جانب سرد نظروں سے دیکھا اور ایزہ کو وہاں سے لے کر گاڑی کی طرف بڑھ گیا شاہنواز کی گاڑی اس نے وہیں چھوڑی اور ایزہ کو لے کر وہ روڈ پر ایسے ہی چلنے لگا جب کہ درد سے سر پٹخ رہی تھی شاہنواز نے اشفاق کا جیسے اخری انجام دیکھا جیسے اس کے ہی بیٹے نے مار دیا تھا وہ جیسے ہوش میں ایا پلٹا اور باہر کی طرف بھاگا وہ جانتا تھا عمر اس سے خفا ہو گیا ہو سکتا ہے یہ شاکڈ وہ برداشت بھی نہ کر سکے وہ ان دونوں کو دور جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا پہلی بار اس کے ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے انکھوں میں ویرانگی تھی دادی جان نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا اس کی انکھ سے انسو ٹوٹا اور سر جھڑک کر اس نے وہ انسو صاف کیا دادی جان کی جانب دیکھا جو اس کے ہر غم سے واقف تھے وہ لب بھنچ گیا ان کی جانب دیکھتا رہا میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں تو بس اتنا بولا لہجہ بھرا گیا اور اس کے بغیر رہ نہیں سکتا اس نے ایک سانس کھنچا جیسے وہ تکلیف ساری اندر اتارنا چاہ رہے ہو جب اپنے ہی بیگانے ہو جائیں تو کیسے عجیب سی کیفیت رکھتی ہے ہاں وہ دونوں اس کے اپنے نہیں تھے لیکن اس نے ان دونوں کی حفاظت ان سے محبت شاید سگوں سے بھی بڑھ کر گری تھی وہ اسی بات کا مان رکھ لیتا کہ اس نے ان تینوں کا کبھی برا نہیں چاہا ناز کے لیے بھی اس کی دیوانگی اور اس کی دیوانگی کی کہانی دادی جان واقف تھی ہر بات سے وہ ناز کے ساتھ ایک ایک لمحہ گزار کر جب بھی لوٹتا تو وہ ان کی گود میں سر رکھ کر ساری کہانی انھیں بتاتا کتنی ہی بار دادی جان نے کوشش کی تھی کہ ناز کے پاس جائیں بس ایک بار کے علاوہ وہ ان کے پاس کبھی نہیں ائی اور اس ایک باری میں ہی تو دادی جان کو بہت دل سے بھا گئی تھی کیونکہ وہ ان کے پوتے کی اول اور اخری خواہش تھی اس نے کبھی کسی چیز کی خواہش نہیں کی تھی سوائے ناز کے وہ اس کی محبت کے لیے کیا کیا کر گزرا تھا کتنا کتنا پیسہ لوٹا چکا تھا دادی جان ہر بات سے واقف تھی اور اج پھر وہ اسی طرح ٹوٹ گیا تھا جس دن ناز کی عظمت لٹ گئی تھی اس دن وہ بچوں کی طرح ان کی گود میں سر رکھ کے تڑپ تڑپ کر رویا تھا یہ سوچ کر کہ وہ وقت پر اس کی مدد نہیں کر سکا وہ اس پیسے کا کیا کرے جب وہ ایک بے بس لڑکی کی مدد نہیں کر سکا وہ ان کے گھر ائی تھی معلوم نہیں کتنی منتیں کر کر کے اس نے اسے اپنے گھر بلایا کر اس کے سامنے بیٹھ گئی انکھوں میں رونق نہیں تھی پھیکا رنگ اور غم ایسا کہ چہرے سے ایا ہو جائے جبکہ شاہنواز کی کیفیت پاگلوں کی سی تھی اس کے سامنے اس کی پسند کا ہر کھانا اس کے پرہیز کا کھانا اس نے رکھوایا ایک لمحے کے لیے بھی ناز پر سے نگاہ نہ ہٹائی کہ کہیں نگاہ ہٹتے ہی کچھ ہو نہ جائے وہ جاتے جاتے بس اسے ایک پودے کا تحفہ دے کر گئی تھی اور اس کو شاہنواز نے بڑا سنوار تھا پھر اسی کی بیٹی نے ا کر وہ پودا نوچ دیا ہاں اس کے دل سے نوچ دی تھی محبت لیکن عزت وہ اج بھی بہت کرتا تھا اس سے محبت پر جیسے ایزہ کے نام کی گرد بیٹھ گئی تھی ناز کے نام پرانا ہوتا چلا گیا تھا اور ایزہ اس کے دل میں پورے حق سے سما گئی تھی اب وہ بھلا اس کے بغیر کیسے رہتا عمر ایا اور اس سے لے گیا اس نے اشفاق کو مار دیا شاید وہ رحم کے قابل اسے لگا ہی نہیں تھا زندگی جیسے جدا ہو گئی تھی شاہنواز ان کے پیچھے نہیں گیا وہ اندر آ گیا دادی جان نے اس کے چہرے پر پیار کیا اتنے مضبوط اتنے جوان شیر جیسے پوتے کی انکھوں میں انسو دیکھ کر وہ اسی کے سینے سے لگ کل رونے لگی تھی وہ دادی جان کو چپ کرا کر انھیں اندر لے کر ا گیا جبکہ اس نے گارڈز سے اشفاق کو اس کے گھر پھینکوانے کا حکم دے دیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اشفاق کی لاش گھر ائی تو گھر میں جیسے تہلکہ سا مچ گیا تائی جان سینہ پیٹ پیٹ کر رونے لگی تھی اس کے ماتھے میں اسی کے بیٹے نے گولی اتار دی تھی ارہم حیرانگی سے کھڑا باپ کی میت کو دیکھ رہا تھا جسے دو گارڈ پھینک کر گئے تھے نہ کہ وہاں چھوڑ کر گئے تھے انہوں نے اشفاق کو ان کے گھر کے اگے پھینکا وہ اشفاق جو مسجد کا امام تھا لوگ اس کے ارد گرد جمع ہوئے انکھیں پھاڑے ہر شخص اسے دیکھ رہا تھا جو اج ذلیل و خوار ہوا زمین پر پڑا تھا اپنے ہی گھر کے اگے اس کی انکھیں پھٹی ہوئی تھی اور پیشانی سے خون نکل رہا تھا وہ ذلیل ہو چکا تھا اسے اس کے بیٹے نے ہی مار دیا اور مرنے کے بعد کی رسوائی بھی اس کے گلے میں ہی پڑی کہ مسجد کا امام ہو کر وہ ایک گندی گلی میں اپنے ہی گھر کے اگے پڑا تھا محلے کا ہر فرد اچک اچک کر اسے دیکھ رہا تھا توبہ توبہ کر رہا تھا وہ چہرہ جو پُرنور ہوا کرتا تھا سیاہ ہو چکا تھا جو اسی کے کرتوتوں کا نتیجہ تھا اسے اندر لے جا کر انہوں نے دروازوں پر تالے لگا دیا اندر تائی سوہا نجمہ ثروت صوفیہ صنم بری طرح تڑپ تڑپ کر رو رہی تھی سوہا نے باپ کا چہرہ اپنے بازو میں بھر کر سینے سے لگا لیا جبکہ ارہم اب بھی ساتھ کھڑا اسے دیکھ رہا تھا وہ نہیں جانتے تھے کہ اس کو کس نے مارا وہ دو ہفتوں سے غائب تھا ۔۔۔۔۔ دوسری طرف ساز کو تایا جان کی موت کی اطلاع ملی تو اس کے جسم کے جیسے رونگٹے تھے کھڑے ہو گئے وہ چوکیدار سے مدد لے کر اپنے گھر پہنچی تھی اور وہاں صورتحال دیکھ کر اتنے ظلم و ستم تایا جان کے سہنے کے بعد بھی وہ ان کے لیے بے شمار پھوٹ پھوٹ کر رو دی عمر معلوم نہیں کہاں تھا اس نے بدر سے کہہ کر عمر کو بارہا بلانا چاہا لوگ لوگوں پر چڑھ چڑھ کر اشفاق کو دیکھنا چاہ رہے تھے لیکن انہوں نے کفن سے اس کا منہ باندھ دیا نہ اس کا چہرہ کسی کو دکھایا اور نہ ہی ان کی ہمت پڑی ہے کہ اس کا چہرہ دیکھ سکتے ہیں اس کا جنازہ ارہم بدر نے شانوں پر اٹھایا جبکہ پیچھے دو اور لوگ تھے اور ارہم اب تک نہیں رویا تھا وہ سنجیدگی سے باپ کا جنازہ کندھوں پر اٹھائے ابھی باہر نکلتے کہ سامنے سے عمر خیام اندر ہی داخل ہو رہا تھا اس نے بے حد بے رحمی اور سرد نظروں سے باپ کے جنازے کو دیکھا ہر دوسرا شخص اسے بتا رہا تھا کہ اس کا باپ مر گیا اس کا باپ مر گیا اس نے بالکل اسی سفاکیت سے جس سفاکیت سے اپنی ماں کو دیکھا تھا اسی سفاکیت سے اپنے باپ کو دیکھا بدر کی ضد پر وہ جنازہ وہیں رکھا گیا اور عمر نے اس کا چہرہ کھول دیا وہ مکمل اس پر جھکا ہوا تھا یہاں تک کہ سائے کی طرح اس کے چہرے پر پھیلا ہوا تھا کہ کسی دوسرے کی چاہ کر بھی نگاہ نہ پڑتی جیسے اس کے اندر کوئی جذبات ہی نہ تھے اس نے ایسی نظروں سے باپ کو دیکھا چند لمحے کھڑا اسے دیکھتا رہا اس کے بعد اس کے منہ پر کپڑا باندھ کر اس نے بدر کو ہٹا کر وہ جنازہ اپنے کندھے پر خود اٹھایا دونوں بیٹوں کی انکھوں میں ذرا بھی انسو نہ تھے تیسرا کندھا بدر نے دیا اور چوتھا کسی اجنبی نے اور اس طرح اشفاق کا اختتام ہو گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت کا کام بڑی تیزی سے گزرنا ہے اور جب صورتحال ایسی ہو تو وقت بڑی تیزی سے بہتا جیسے پانی بند توڑ کر کہیں سے بھی نکل جائے اپنی راہ بنا لے اسی طرح وقت بھی بہہ جاتا نہ وہ ہماری ہاتھ میں اتا ہے نہ ہم اسے قید کر سکتے ہیں اور نہ ہی ہم وقت کو دوبارہ لوٹا کے ہر چیز کو صحیح کر سکتے ہیں ہاں البتہ پچھلی غلطیوں کو سوچ کر نئے انے والے کل کو سدھار ضرور سکتے ہیں شاہنواز نے پلٹ کر عمر اور ایزہ کے بارے میں نہ پوچھا اور عمر نے پلٹ کر ساز کے بارے میں نہ پوچھا ہر دوسری انکھ حیران اور ذہن پریشان تھا کہ شاہنواز اشفاق کے جنازے میں کیوں نہیں شامل ہوا اور عمر جنازے کے بعد کہاں چلا گیا کوئی اس بارے میں نہیں جانتا تھا البتہ ایک وجود تھا ان سب کے بیچ اگر کوئی حیران اور پریشان تھا تو ان سب کے بیچ ایک وجود تھا صرف جو ٹوٹ چکا تھا عمر پہلے بھی اسے یوں ہی چھوڑ کر چلا گیا تھا اور اب تو اس کی خطا بھی نہیں بتائی تھی اب تو یہ بھی نہیں بتایا تھا کہ اس کا جرم کیا ہے کہ پچھلے چار پانچ مہینوں سے اس نے پلٹ کر ایک بار بھی ساز کو دیکھا نہیں پوچھا نہیں یہ سوال نہیں کیا کہ وہ کہاں ہے وہ واپس کیوں نہیں ایا وہ ہر کسی سے صرف یہی سوال کرتی تھی اس نے کیا کیا ہے وہ کہاں چلا گیا وہ اگر کہیں جانا چاہتا تو اسے ساتھ لے کے جاتا وہ دونوں تو ایک دوسرے کے ساتھ بہت خوش تھے غم اس کے سینے میں بیٹھتا چلا جا رہا تھا اور اسے غم میں ان سب کو ایک خوشخبری کی اطلاع ملی کہ ساز کہ ہاں خوشخبری ہے حالانکہ سوہا بہت بیمار رہتی تھی لیکن پھر بھی وہ ساز کا بہت خیال رکھتی تھی وقت پلٹا کھا چکا تھا تباہی چار سو پھیل چکی تھی اور اتنی خاموشی کہ کوئی بولتا بھی تو اواز چیخ کی طرح لگتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
