Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18,19

وہ پتھر کیطرح کھڑی اسے حیرانگی سے دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا” وہ لاپرواہی سے پوچھ رہا تھا جیسے اس بات سے اسے خاطرخواہ فرق پڑتا ہو ۔
ساز نے ارد گرد دیکھا اور ایک قدم دور لیا ۔
عمر مسکرایا
اوہ نشئ کے ساتھ سونا تو مولویوں پر حرام ہوتا ہے یہ یوں کہو انکی شان کے خلاف ہے یہ بات تو ” وہ خود سے اسکی پریشان صورت دیکھ کر اخذ کرتا بولا جبکہ ساز کے پاس الفاظ اب بھی نہیں تھے ۔
چلو ہم ایک کمرے میں رہ تو سکتے ہیں “
کیونکہ باہر تم رو گی اور مجھے سخت چیڑ ہے تمھارے رونے سے تم میری نیند برباد کرتی ہو” وہ مدعا بیان کر گیا
م۔۔۔میں نہیں رو گی” وہ منمنائ تو عمر نے اسے غور سے دیکھا
آر یو شیور “
جی” بس اتنا ہی کہا
سٹل میری آفر وہیں ہے نشئ نہیں انسان سمجھ کر اگر دل کرے تو ا جانا ” وہ دوبارہ اندر چلا گیا اور اسکے جاتے ہی گھپ اندھیرے نے اسکو گھیر لیا
ساز نے ارد گرد دیکھا ایسا لگا آج رات اتنی گھیری ہے کہ بس سیاہی چھا گئ اور لون میں ملگجہ سا اندھیرہ وہ نیچے کی جانب سیڑھیاں اتر رہی تھی یہ اسکا گھر تھا اندھیرہ ضرور تھا لیکن وہ کیوں ڈرتی
برحال اسکی آفر نے ساز کے چھکے چھڑا دیے تھے جب اسنے کہا میرے ساتھ سو سکتی ہو ۔۔
عمر خیام ایک شرابی نشئ ۔ ۔۔
اسکے دماغ نے سوچا لیکن دل اسکے مخالف تھا
معلوم نہیں کہیں دور سے ایک آواز ابھری تھی
وہ اچھا تو ہے “
کبھی تنہائی میں بھی اسکا فائدہ نہیں اٹھایا تھا کبھی ایسا ذکر بھی نہیں کیا تھا اور اس دن مول میں اسنے کہا تھا ان دونوں کے درمیان ڈیل ہے بس
لیکن یہ ڈیل کیا ہوتی ہے واضح بات تھی وہ دونوں میاں بیوی تھے وہ سن سی لون میں بیٹھی تھی کہ اچانک تیزی سے کوئ اسکے آگے سے گزرا اسکی چیخ نے گویا پورا گھر ہلا دیا ۔
عم۔۔عمر” وہ چلا اٹھی
لیکن عمر کی جانب سے کوئ ریسپونس نہیں آیا وہ جو بھی تھی لون میں گشت کر رہی تھی اور ساز کی مداخلت اسے بہت بری لگی تبھی کبھی اسکے آگے سے گزرتی کبھی پیچھے سے ۔
ساز جلدی سے اٹھی اندر کی جانب بھاگی ۔
اندھیرہ شدید تھا اور اسے دور سے بھی عمر کے کمرے میں روشنی نظر ا رہی تھی دروازے کے نیچے سے ۔۔۔۔ وہ بنا بریکیں لگائے اوپر بھاگی اور کھڑاک سے دروازہ کھول کر اندر گھس گئ
اسنے اندر ا کر گھیرے گھیرے سانس لیے اور شرمندگی کا شدید سامنا کرنا پڑا ۔
کیونکہ وہ اسے جو رویہ دے کر گئ تھی اسکا مطلب اسکی آفر ریجیکٹ کر گئ تھی اور اب خود ہی کمرے میں گھس گئ تھی اپنے آپ اسکے گال لال سرخ ہو گئے اور اسنے دیکھا وہ سکون سے اسی کی جانب دیکھ رہا تھا لیکن یہ کیا ۔۔۔۔
عمر ساز کو جبکہ ساز اسکے سامنے پڑی بوتلوں کو دیکھ رہی تھی جس میں سے وہ ایک شیمپئین گلاس میں وائن ڈالتا تھوڑی سی اور اسکے بعد آئس کیوب اتنے ٹھنڈے موسم میں بھی ڈال کر ہلکا ہلکا اسے ہلانے لگا ۔۔۔
مجھے تمھارے پلین کا پتہ نہیں تھا کہ تم آ جاو گی ورنہ لحاظ تمھارا تھوڑا بہت رکھ لیتا ” وہ ہلکی سا سیپ بھرتا بولا
ساز کی آنکھوں میں بے اتنائ سی بیٹھ گئ تھی
لیکن اسے کوئ فرق نہیں پڑتا تھا وہ پینے میں مصروف تھا
ساز کو لگا اس کمرے کی فضا بہت بھاری ہے اسنے دوبارہ دروازے پر ہاتھ رکھا اور باہر نکل گئ ۔۔۔۔۔
عمر خیام نے بڑا سا گھونٹ حلق میں اتارا اور اپنی جگہ سے اٹھا
ساز کو اس وقت ڈر نہیں لگ رہا تھا معلوم نہیں کیوں اسے یوں باقائدہ اب پیتے دیکھ بہت برا لگا بہت برا ۔۔۔۔
وہ بنا ڈرے باہر نکلی اور دو چار سیڑھیاں اتر کر سیڑھیوں پر بیٹھ گئ
کیا پروبلم ہے ” عمر بھی اسکے ساتھ ا کر بیٹھ گیا
کچھ نہیں آپ جائیں اپکا ٹائم ویسٹ ہو گا ” وہ سنجیدگی سے بولی
تم پاگل ہو اتنے اندھیرے میں اور سردی میں یہاں بیٹھ رہو گی
لائیٹ ا جائے گی کوئ نئی بات نہیں ہے ” وہ اب بھی کافی سنجیدہ تھی ۔
ٹھیک ہے جب آئے لائیٹ تب چلی جانا اپنے روم میں اوپر ا جاو ” وہ اٹھا
میں نے کہا نا آپکے ساتھ نہیں جانا مجھے جائیں آپ کیوں میرے پیچھے پڑ گئے ہیں” وہ ایکدم چلائ
عمر نے سرد نظروں سے اسکی جانب دیکھا
پ۔۔۔پلیز جائیں میں واقعی ایک شرابی کے ساتھ اسکے کمرے میں نہیں رہ سکتی تو مجھے باہر ہی رہنے دیں” کہہ کر وہ اٹھ کر سیڑھیاں اتر گئ
اور تبھی لائیٹ بھی آ گئ ساز نے شکر ادا کیا اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئ عمر سیڑھیوں میں ہی کھڑا اسے دیکھ رہا تھا اور پھر وہ بھی پلٹ کر کمرے میں چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن وہ ناشتہ بنا رہی تھی
اسنے اسکے لیے آملیٹ بنا کر سائیڈ پر رکھ دیا وہ جانتی تھی وہ آئے گا اور صرف چیزیں ٹٹولے گا تبھی ناشتہ سائیڈ پر رکھ کر وہ بدر کے لیے پراٹھا ڈالنے لگی ۔
ساز” بدر کچن میں ہی آ گیا
جی بھای” اسنے سر اٹھایا
امی آج شام میں واپس آ رہی ہیں میرا مطلب سب لوگ ” اسنے کہا تو ساز نے گھیرہ سانس بھرا
جی ٹھیک ہے ” وہ کہہ کر چولہے کی آنچ کم کر گئ
بہت پیاری لگ رہی ہو ” وہ اسکا لباس دیکھ کر مسکرایا
ساز کچھ نہیں بولی ۔۔۔
درحقیقت عمر ہی تمھارے خواب پورے کر سکتا تھا ” وہ مسکرا کر اسکا چہرہ دیکھ رہا تھا جو سنجیدہ تھا
نہیں میں نے اللّٰہ تعالٰی سے ہمیشہ ایک فرشتہ مانگا تھا بھائ ۔۔۔ عمر خیام نہیں” وہ کہہ گئ
جبکہ بدر نے اسے غور سے دیکھا
تم دونوں کی لڑائی ہوئ ہے”
ہم دونوں کی دوستی کب تھی” وہ الجھ کر بولی
اچھا بابا دوستی نہیں تھی لیکن رشتہ تو ہے” بدر اس آملیٹ کو کھانے لگا
رہنے دیں یہ انکا ہے ” وہ جلدی سے بولی
وہ مسکرا دیا ابھی لڑ رہی تھی اور اب کئیر کر رہی تھی اسنے وہ پلیٹ سائیڈ پر رکھی
اچھا اتنا خفا کیوں ہو ” بدر کو سمجھ ہی نہیں ائ
نہیں ہوں خفا آپ پھر کچھ سامان لا دیں کیونکہ کھانا بنے گا ” وہ بولی
ہمم تایا نے پیسے دیے تھے” بدر بولا تو ساز نے سر ہلایا
بدر کچھ دیر اسے کھڑا دیکھتا رہا ” اور کچھ توقف سے بولا
میں دوبئی جا رہا ہوں” اچانک اسکی آواز پر ساز کے ہاتھ سے پلیٹ چھٹتی چھٹتی بچی
بھائی” وہ حیرانگی سے اسکی صورت تکنے لگی
آ ہاں” وہ گھیرہ سانس کھینچ گیا
ک۔۔۔کیوں آپ مجھے اور امی کو چھوڑ کر اتنی دور چلے جائیں گے” ساز کی آنکھیں بھرا گئیں
بدر نے اسکے گال پر پھسلتے آنسو صاف کیے
ساز میں ساری زندگی تایا جان کی جوتیاں سیدھی کرتے نہیں گزار سکتا ۔۔۔
مجھے نفرت ہے اس گھر سے اس گھر کے ایک یک فرد سے مجھے یہاں سے جانا ہے تاکہ میں کچھ کر سکو تمھارے لیے اپنے لیے اور ہماری ماں کے لیے ۔۔۔
پیسہ بہت بڑی طاقت ہے ساز جس کے پاس پیسہ ہو گا اسکی زبان بھی چلتی ہے
میں مزید بے حسی کا وقت نہیں گزارنا چاہتا ” وہ اسے سمجھانے لگا
ساز اسکے سینے سے لگ گئ
آپ ہم دونوں کے لیے بہت بڑا سہارا ہیں بھائی ” وہ رو پڑی
ہاں ایک کمزور لکڑی کو ساری زندگی سہارا بنا کر تم لوگوں کو صرف طعنے ہی ملیں گے
مجھے ایک مضبوط سہارا بننا ہے بہت مظبوط اور یوں سمجھو دن رات ایک کر کے میں نے یہ چانس حاصل کیا ہے میں اسے گنوانا نہیں چاہتا ” وہ بولا تو ساز نے اپنے آنسو صاف کیے وہ سر ہلا گیا
آپ واپس تو آئیں گے نہ”
بلکل آؤں گا بہت جلد آؤ گا یہیں اور تایا جان سے بڑا کاروبار کھڑا کروں گا تم دیکھنا ” وہ بولا تو ساز ہنس دی
ماشاءاللہ انشاءاللہ ” ۔ “
آپ جائیں بھائی اور اس بار امی کی بلیک میلنگ میں مت آئیے گا ” وہ بولی تو دونوں ہنس دیے اور ل بدر نے سر ہلایا
وہ ایکچلی ایک پروبلم ہے بس ” بدر بولا
کیا؟ وہ سوالیہ نگاہوں سے اسکی جانب دیکھنے لگی
مجھے پانچ لاکھ روپے بھرنے ہیں ساز اور میرے پاس ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں اور پھوٹی کوڑی کے ساتھ ساتھ تایا جان مجھے کبھی بھی اس گھر سے ایک روپیہ یوں نہیں دیں گے کہ تم سب کو میں سڑک پر لے آؤ ” وہ تمہید باندھتا بولا
ساز فکرمندی سے اسے دیکھنے لگی
پھر بھائی”
پھر ۔۔۔ایکچلی آخری سہارا یہ یوں سمجھو آخری چانس عم۔۔عمر خیام ہے ‘” وہ بولا ساز نگاہ جھکا گئ وہ سمجھ گئ تھی بات کا رخ ۔۔۔
عمر ہی اتنے پیسے دے سکتا ہے ساز “
بھائی آپ ان سے پیسے مانگیں گے” ساز کو برا تو لگا بس اپنی بے بسی پر آنسو بہانے کے علاوہ کوئ چارہ نہیں تھا
ن۔۔نہیں تم مانگو گی
مجھے انکار کر دے یا نہ دے ضد باندھ لے لیکن مجھے یقین ہے وہ تمھیں انکار کر ہی نہیں پائے گا “
کیوں” وہ بولی جبکہ بدر نے اسکا گال تھپتھپایا
جو انسان لاکھوں تمھاری شاپنگ پر خرچ کر کے ایک جھٹکے میں تمھاری آنکھوں کے اس خواب کو پورا کر دے کہ تم اچھا لباس پہنو تو وہ انسان تمھیں کبھی کسی چیز کے لیے انکار نہیں کرے گا ” بدر بولا تو ساز کے سامنے گزشتہ دو چار روز گزر گئے ہاں اسکی ہر بات وہ مان لیتا تھا
لیکن پانچ لکھ بہت بڑی رقم ہے ” ساز کا دل بیٹھنے لگا
میں تم سے وعدہ کرتا ہوں وہاں جا کر یہ پیسے سب سے پہلے دوں گا ” وہ بولا تو ساز پریشان سی ہو گئ
پلیز ساز اپنے بھائی کے لیے ۔۔۔۔ کوشش تو کرو یہ آخری چانس ہے میں تایا جان کے آنے سے پہلے یہ کرنا چاہتا ہوں ورنہ وہ کبھی نہیں کرنے دیں گے” وہ بولا تو ساز کا دل اتنی شدت سے دھڑکنے لگا کہ پیشانی عرق آلود ہو گئ
رات کو وہ اس سے کتنی بدتمیزی کر چکی تھی کتنی اکھڑ کر بولی تھی اور اس وقت اسے اسکی ضرورت کس انداز میں پڑی تھی وہ چپ ہو گئ
تم شام سے پہلے بات کرو گی نہ ” وہ بولا تو ساز لاشعوری طور پر سر ہلا گئ
تھینکیو بس میں آج سارے پیپرز گھر لے آؤں گا تھینکیو سو مچ ساز ” وہ مسکرایا اسکی جوش میں پیشانی چوم لی اور گال تھپتھپا کر وہ باہر نکل گیا
بھائی ناشتہ”
باہر کر لوں گا تم کر لو ” وہ کہہ کر چلا گیا
جبکہ ساز کو لگا وہ اپنے قدموں پر ابھی کھڑی نہیں ہو پائے گی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کمبل میں لیٹا ایل سی ڈی کو گھور رہا تھا
سامنے فلم کافی بےہودہ سی چل رہی تھی مگر اسکے چہرے پر اثرات کوئ نہیں تھے
وہ سکون سے لیٹا ہوا تھا کہ دن چڑھ چکا تھا شام ڈھلنے کو بے چین تھی اور وہ کمرے سے نہیں نکلا تھا
اچانک اسکا فون بجنے لگا اسنے نمبر دیکھا اور کال اٹینڈ کر لی
کیسے ہو شہزادے ” دوسری طرف سے پوچھا گیا
ٹھیک ہوں ” بس اتنا جواب آیا
کیوں بھئی ٹھیک کیوں ہو بس “
سوچ رہا ہوں باہر چلا جاوں کچھ دنوں کے لیے” عمر نے ایک انگڑائی لی اور دوسری طرف سے ہنسنے کی آواز پر خود بھی مسکرایا
اس سے اچھی سوچ اور کیا ہو گی”
یہی تو میں سوچ رہا ہوں بینکاک یہ تھائی لینڈ چلا جاؤ “
بہت اچھے بیٹے اس سے زیادہ صاف ستھری جگہوں کا سوچتے” دوسری طرف سے جواب پا کر وہ ایکدم ہنسنے لگا تو جیسے اسکی آنکھیں بھی ہنس دیں تھیں
تبھی اسے دروازہ کھلنے کی آواز ائ
اور دروازہ کھل کر جھجھکی جھجھکی سی ساز اندر ا گئ
میں تو یہیں جاو گا ” وہ ساز کو دیکھتا بولا
آہ عمر بہت ضدی ہو تم” دوسری طرف سے کہا گیا
ہممم لیکن لوگ میری ضد سے ابھی واقف ہی نہیں ” وہ مجال ہے اسپر سے نگاہ ہٹانے کو تیار ہو جبکہ ساز کو لگا وہ یہیں گیر جائے گی
اچھا یار زیادہ سنجیدہ نہ ہو بتاؤ کب جانا ہے”
آج رات” وہ بولا
اوکے “
پھر ٹکٹس کرا دیتا ہوں میں” وہ بولا
نہیں تو میں نے کرا لیں بس میرے اکاؤنٹ میں پیسے ٹرانسفر کرا دیں”
اچھا کتنے چاہیے”
تین کڑوڑ اور یہ صرف اس ٹریپ کے ہیں”
افکورس میری جان بس اس ٹریپ کے ہیں اور تم ایک ایک روپیہ خرچ کر کے آؤ گے ایک پیسہ بھی واپس نہیں لانا” دوسری طرف سے کہا گیا
یس افکورس” وہ بولا جبکہ فون بند کر دیا
وہ اب بھی دروازے کے پہلو سے لگی کھڑی تھی جبکہ عمر مووی دیکھنے لگا
ساز کو آگے کی جانب قدم خود ہی اٹھانے پڑے وہ اگے بڑھی اور اسکے سامنے کھڑی ہو گئ
اسنے ایل سی ڈی کی طرف دیکھا بھی نہیں تھا
ایل سی ڈی پر پیچھے چلنے والا سین اور آگے ساز ۔۔۔۔ عمر دلچسپی سے یہ منظر دیکھنے لگا اگر لب ساکت تھے تو آنکھیں مسکرا رہیں تھیں
اسنے آواز تیز کر دی
کمرے کی خاموشی میں عجیب و غریب آوازیں پھیلنا شروع ہو چکیں تھیں
ساز کے لیے اسکے ساتھ ہر منظر نیا تھا
وہ ایک جھٹکے سے مڑی اور جیسے ہی نگاہ ایل سی ڈی پر گئ اسکی چیخوں سے کمرہ جیسے ادھر ہو گیا وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھتی نیچے بیٹھ گئ
عمر نے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی ہنسی روکی
ساز بیڈ سے ٹیک لگائے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر جیسے کانپنے لگی تھی وہ سیدھا ہوا اور عین اسکے کان کے قریب بیڈ پر گیرا اور الٹا لیٹ کر بولا
استغفار پڑھ لو کیا دیکھ لیا تم نے اللّٰہ تعالٰی معاف نہیں کریں گے” وہ مزے سے بولا تھا
یا اللّٰہ مجھے معاف فرما دیجیے میں بلکل نہیں جانتی تھی یہ اللّٰہ پلیز مجھے معاف کر دیں” وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی
عمر ہنسنے لگا
معافی اپکو بھی مانگنی چاہیے” وہ مڑ کر پھر اسی طرح بولی
میں تو بہت گناہ کرتا ہوں کس کس گناہ کے لیے معافی مانگو اور کس گناہ کے لیے مجھے معافی ملے گی” وہ بولا
ساز اسکی صورت دیکھنے لگی
اللّٰہ تعالٰی دل سے معافی مانگنے والوں کو معاف کر دیتے ہیں وہ اپنے بندے کے گناہ نہیں نیت کو دیکھتا ہے ” وہ بولی
عمر نے سرد نگاہ اٹھائی
میرے ماں کے گناہوں کو معافی مل سکتی ہے وہ جو راتیں غیر محرموں کے ساتھ گزارتی تھی اسے معافی مل سکتی ہے” وہ ایکدم چلایا ۔
ساز کا رنگ فق سا ہوا
بتاو ہے جواب ؟
شوہر کے ہوتے ہوئے اپنے کاروبار کو چلانے والی عورت کو معافی مل سکتی ہے نہیں ساز میڈیم کوئ معافی نہیں ملتی تو جتنی تکلیف زندگی میں یہ مرنے کے بعد میری ماں سہے گی میں بھی اتنی ہی سہو گا” وہ کمبل پھینک کر کھڑا ہو گیا
معلوم نہیں کیوں ساز کو لگا وہ اپنی ماں سے بے انتہا محبت کرتا ہو
آپ۔۔آپ ناز آنٹی سے بہت محبت کرتے ہیں نہ” اسکے یہ الفاظ تھے کہ عمر پاگل سا ہونے لگا وہ جھٹکے سے مڑا اور ساز کی گردن جکڑ کر اسے اپنے سامنے کھڑا کیا
اگر مرنا نہیں چاہتی تو آئندہ ان موضوعات کو میرے سامنے مت چھیڑنا مجھے اس عورت سے اسکے شوہر سے اسکی اس اولاد سے سخت نفرت ہے سخت نفرت ہے ” وہ خود کا بھی ذکر کر رہا تھا
ساز کے چہرے کا پیلا پڑتا رنگ دیکھ اسنے جھٹکے سے اسے چھوڑا اور سر تھام گیا ساز بیڈ پر جا کر گیری
جلدی سے سیدھی ہو گئ
کیا ملا تمھیں یہ ذکر کر کے” وہ جیسے خفگی سے بولا
ائ۔۔ایم سوری” وہ آہستگی سے بولی
عمر نے مڑ کر دیکھا وہ سر جھکائے رو رہی تھی
وہ سانسیں بھرنے لگا بلاوجہ اسکے غصے کا نشانہ یہ لڑکی بن جاتی تھی اور یہ دوسری بار ہو رہا تھا
وہ مڑا اور پھر سے لیٹ گیا
وہ اسکے قدموں میں بیٹھی تھی اسنے تکیہ اٹھایا اسکے پاس رکھا اور لیٹ گیا ترچھا ۔۔۔
کیوں آئی ہو رات تو بہت درس دے رہی تھی شرابی کے کمرے میں نہیں رہو گی” وہ مدعا پر آیا
ساز اسکے چہرے کو اتنا قریب دیکھ کر بھکلا کر اٹھ گئ
دور ہوئ ۔۔۔
عمر مسکرایا ۔
چھیڑنے آئی تھی مجھے”
میں اپکو کیوں کیوں چھیڑو گی”
ہاں مولانی شرابی کو چھیڑتی ہوئی کہاں اچھی لگتی ہے
خیر کوئ کام ہے تو بتاؤ ورنہ جاو مجھے پیکینگ کرنی ہے” وہ بولا اور
ساز انگلیاں چٹخانے لگی
اپ۔۔۔آپ نے ناشتہ نہیں کیا ” وہ بولی
یہ بات کرنی تھی” وہ بے زار ہوا
ن۔نہیں”
پھر” عمر اسکے چہرے پر کنفیوزن دیکھ رہا تھا
اسکی پیشانی بھیگ رہی تھی وہ انگلیوں کو توڑ دیتی
اچھی لگ رہی ہو ” سکون سے اسکا جائزہ لیتا وہ اسکا دل دھک دھک دھڑکا گیا
وہ آنکھیں اٹھائے اسے دیکھنے لگی
پلیز اب جھپکیاں نہ مارنا “وہ نگاہ پھیر گیا
جبکہ ساز سر جھکا گئ
مولانی ٹائم ویسٹ کر رہی ہو ” وہ موبائل میں وقت دیکھتا بولا 4 بج رہے تھے
وہ ۔ ۔ “
آگے “
کوشش کرو تم بول سکتی ہو ” ۔
آپ مجھے کنفیوز کر رہے ہیں” اسنے اپنی انکھیں صاف کیں
اوکے میں چپ ہوں” وہ خاموش ہو گیا
وہ ایکچلی مجھے ۔۔۔ میں آپکو واپس کر دوں گی ۔۔مجھے ۔۔ وہ میں مجھے پان۔۔۔پانچ پانچ لاکھ روپے چاہیے ” وہ مٹھیاں بھینچ گئ
معلوم نہیں کیا ری ایکشن دے انکار کر دے اسے منتیں کرنی پڑیں
یہ پتہ نہیں کیا کیا ہو ؟
وہ ایک لمہے کے لیے اسے دیکھتا رہا
دراز کھولو” عمر کے چہرے پر سنجیدگی تھی
ساز نگاہ چرا گئ اور اسکا دراز کھولا
چیک بک ہے یہاں” وہ چیک بک نکال گئ
اسنے ہاتھ میں لی بنا سوال جواب کے اسنے پانچ لاکھ کا چیک بنایا اور اپنے سائین کر کے اسکی جانب بڑھا دیا
ساز دنگ تھی نگاہ جھپک جھپک کر اسے دیکھنے لگی
عمر نے سنجیدہ نگاہ اسکی نگاہوں میں ڈال کر اسکو چیک پکڑنے کا کہا ۔۔۔
ساز نے وہ چیک کانپتے ہاتھوں میں تھام لیا ۔۔
اسنے چیک بک وہیں پھینکی اور اٹھ کر واشروم کی جانب بڑھنے لگا
آپ نے سوال نہیں کیا کوئی” ساز بے چینی سے پوچھنے لگی
نہیں یہ میرے لیے عام بات ہے “
میرے ساتھ دو لفظ نرم بول کر ہر شخص قیمت وصول کرتا ہے تم نے بھی کر لی” وہ بولا اور اندر گھس گیا “
ساز کو لگا جیسے وہ کھڑے کھڑے مرنے والی ہو اتنی شرمندگی ہوئی تھی کہ وہ گھیرے گھیرے سانس لینے لگی
نہیں ایسا نہیں تھا وہ اپنے لیے مانگنے نہیں ائ تھی
وہ چہرہ چھپا گئ اسے سانس لینے میں دقت جو ہو رہی تھی ۔۔۔
وہ شاور لے رہا تھا وہ باہر ہی کھڑی رہی
پتہ نہیں کیوں اسکا دل کیا اسے سچ بتائے اسنے واقعی اپنے لیے کچھ نہیں لیا تھا
وہ انتظار کرتی رہی یہاں تک کے وہ باہر نکلا ۔
اب کیا ہے” اسے دیکھ کر وہ پوچھنے لگا
بلیک شرٹ اور جینز کی پینٹ میں وہ باہر نکلا تھا شرٹ کے بٹن کھلے تھے اسنے نگاہ نہیں اٹھائی
میں نے اپنے لیے نہیں مانگے ” وہ بولی
وہ رک گیا اسکی جانب دیکھا ۔
واپس کرو ” غصے سے بولا
ج۔۔جی” وہ حیران ہوئی عمر نے اسکے ہاتھ سے چیک کھینچ کر پھاڑ دیا
ساز کا دل پھر سے ڈوب گیا
وہ کیسا انسان تھا بھلا اسکی سمجھ سے باہر ۔۔۔۔
پلیز بدر بھائ کو ضرورت ہے”
چلو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس للو کے لیے کچھ دوں میں”
وہ میرے بھائی ہیں ” اسے برا لگا
میں کیا کروں وہ بال بنانے لگا “
آپ نے مجھے دیا تھا ” وہ منہ بنا گئ
پرنسز تمھیں پھر بھی دے سکتا ہوں اسے کیوں دوں “
میری وجہ سے دے دیں وہ اسکے پیچھے پیچھے بچوں کیطرح چل رہی تھی
کیوں تم میری نانی ہو جو تمھارے لیے دے دوں” اسنے بیلٹ کھینچی
بیوی تو ہوں” وہ اچانک بول گی اور لبوں پر ہاتھ رکھ گئ
عمر نے نگاہ گھمائ ” اچھا “
بیوی ہو میری چلو ٹھیک ہے تم یہ واپس کیسے کرو گی مجھے” وہ اب سکون سے بولا
جی بھائی نے کہا ہے وہ دوبئی جاتے ہی بھیج دیں گے” وہ فخر سے بولی
چلو دوبئی میں بندر جاتے ہیں وہ بھی بندر بن جائے گا پہلے بھی گھٹ نہیں ہے ” اسنے اسکا مذاق بنایا
تو ساز نے اسے منہ بنا کر دیکھا ۔
ہم واپس دے دیں گے” وہ اسکے پیچھے پیچھے ا گئ
ٹھیک ہے میں اپنی مرضی سے لے لوں گا فکر کیسی ہے” وہ آئینے میں اسے دیکھنے لگا
پھر پھر وہ چیک”
وہ مڑا اور اسے دیکھنے لگا
میرے ساتھ چلو گی تھائی لینڈ”
اسنے سینے پر ہاتھ باندھ کر اسے دیکھا
وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی
جی”
جی ان پیسوں کی قیمت تمھارا میرے ساتھ جانا ہے بس “
میں نہیں جاوں گی” وہ صاف مکر گئ
پھر خوابوں میں لینا مجھ سے پیسے “
عمر پلیز” وہ بولی
وہ رک گیا ۔
اپنی پیکنگ کر لو لے کر جاؤ گا اور یاد رکھنا لے کر جاؤ گا “
اسنے چیک لکھا اور اسکے ہاتھ میں تھما دیا
میں نہیں جاوں گی” وہ مٹھی بند کرتی بولی
تمھارا تو باپ بھی جائے گا ” وہ بھڑکا
وہ بڑبڑانے لگی
گالیاں بعد میں دینا جاؤ اب پیکنگ کرو ” وہ بولا
جبکہ ساز کو وہ پاگل ہی لگا اور عمر نے اسے کمرے سے باہر دھکیل دیا ۔۔۔
میں نہیں جاؤں گی نہیں جاؤں گی نہیں جاؤں گی” وہ بھڑکی
وہ سکون سے دروازہ بند کر گیا جبکہ ساز پیچھے تائی سے ٹکرائی
اے منحوس کیا بے غیرتی ہے یہ”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے

قسط 19

وہ غصے سے اسے پرے دھکیلتی ہوئ بولیں اور انکے دھکیلنے سے ساز ایکدم پیچھے گیری تو اسکی مٹھی پر ان سب کی ہی نگاہ گئ تھی
کیا چھپا رہی ہو تم” سوہا سینے پر ہاتھ باندھ کر اسکے نزدیک ائ
کچھ نہیں” وہ کھڑی ہو گئ فاصلے پر چلی گئ اور اپنی ماں کی جانب دیکھا تو اسکی سمت بڑھی
اسکے گلے لگ گئ نجما نے اسے پیار کیا
کیسی ہو ” وہ مسکرا کر پوچھنے لگی تو وہ مسکرا کر سر ہلا گئ
اب یہیں کھڑی کھڑی ماں کے گلے لگی رہے گئ جا پانی وانی لے کر ا ” تائ اپنے تخت پر بیٹھتی بولیں سب ہی اندر آ گئے تھے
ایک منٹ” ساز آگے جاتی کہ صنم نے اسے روکا
تمھارا لباس تو کافی مہنگا اور اچھا لگ رہا ہے ساز بہت پیاری لگ رہی ہو ” کسی کی توجہ اسکے ڈریس پر نہیں گئ تھی صنم نے البتہ دلا دی
ساز جیسے چور سی ہو گئ ۔۔ وہ سر ہلا کر اندر جاتی
اے ادھر آ ذرا ” تای کو پیاس ویاس سب بھول گئ اسکے کپڑوں کو دیکھتی اسے اپنے پاس بلایا وہ نہ چاہتے ہوئے بھی انکے سامنے چلی گئ
انھوں نے چیک کیا تو کافی اچھا کپڑا تھا انکے تو خاندان میں کبھی کسی نے نہیں پہنا تھا اتنا مہنگا لباس ۔۔۔
کہاں سے آیا یہ سوٹ کہیں میرے کمرے میں ڈاکا تو نہیں ڈالا تو نے اے سوہا جا کر چیک کر ذرا ہائے اللّٰہ اتنا قیمتی لباس کہاں سے آیا تیرے پاس مرجانیے”
وہ چیختی ہوئ بولیں جبکہ سوہا بھاگ کر اپنی ماں کی الماریاں چیک کرنے لگی مگر وہاں تو بڑے بڑے تالے لگے ہوئے تھے
بھابھی کیا ہو گیا ہے اپکو میری بیٹی چور نہیں ہے “
ہاں تیری دہی چور نہیں ہے تو کہاں سے اتنا قیمتی لباس آیا اتنا تو صدف کا لہنگا قیمتی نہیں لگ رہا تھا ” وہ سوہا کی جانب دیکھ کر بولیں جو سر ہلانے لگی
یہ کسی برینڈ کا تو جوڑا نہیں” سوہا اٹھی
سوہا آپی یہ “
ہاں ہاں بول “
کہاں ڈاکہ ڈال کر ائی ہے
ع۔۔۔۔۔م۔۔۔۔۔۔ ایکدم اسے یاد آیا اس گھر میں شوہر کا نام لینا حرام تھا
انھوں نے دلایا تھا ” وہ بولی تو جیسے اسکے نام سے ہی خاموشی چھا گئ ۔
تای ائ برو اچکا کر دیکھنے لگی
ساز اپنے آپ ہی چور سی ہو گئ جیسے یہ بہت بڑا جرم ہو
انکی خاموشی پر وہ دو قدم دور ہوئ
چلو نجما اب تیری بیٹی راتوں کے پیسے لینے لگ گئ ہے ہاں بھئ جیسی اسکی ماں ویسے ہی اسکی بیوی سہی حرام ذادیاں پالی ہیں عمر خیام نے”
انکے الفاظ ایسے تھے کہ ساز کو لگا اسکے وجود میں کوئ خنجر گھس گیا ہو اور اسکے دل کو چار ٹکڑوں میں تقسیم کر گیا ہو ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہائے” رمشہ نے اسے ویو کیا تو وہ جلدی سے اٹھی اور اسکے گلے لگی ۔
کیسی ہو باربی ڈول ” وہ ہنستے ہوئے اسکے گال کھینچ گئ
آپ یہاں کیسے ” وہ حیران ہوئ
میں یہاں اممم بس مجھے تمھاری یاد آئی تو چلی آئی” وہ مسکرائی
بہت اچھا کیا آپ بیٹھیں میں کچھ لاتی ہوں آپکے لیے”
ملازم نہیں ہیں تمھارے گھر میں” رمشہ حیرانگی سے اتنے بڑے خالی گھر کو دیکھنے لگی
نہیں ہیں سب ہیں لیکن کچن کا کام میں خود کر لیتی ہوں تو وقت گزر جاتا ہے” وہ مسکرائی
تم پڑھائ شروع کر لو ” رمشہ نے مشورہ دیا اسکی بات پر ایزہ نے خاموشی سے نگاہ اٹھائی ۔۔۔
کئ منظر آنکھوں میں اچانک ہی ا کر ٹہر گئے
نہیں پڑھائی تو چھوڑ دی تھی شادی ہوتے ہی” وہ آہستگی سے بولی
ارے بابا دوبارہ شروع کر لو ” رمشہ نے فورس کیا
وہ ہلکا سا مسکرا دی اور رمشہ نے اسکی جانب دیکھا
فہیم فوت ہو گیا ہے” رمشہ نے کہا تو ایزہ کے ہاتھ سے کپ چھٹا اور چھناکے کی آواز پورے گھر میں گونجی
ش۔۔۔شاہ نے قتل کر دیا ” وہ دنگ رہ گئ
رمشہ خاموش ہو گئ
آپ سچ کہہ رہی ہیں انھوں نے قتل کر دیا ہے ” ایزہ کو جیسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا
قتل نہیں کیا بس اس قابل بھی نہیں چھوڑا کہ وہ زندہ بچ پاتا ” وہ بولا جبکہ ایزہ منہ پر ہاتھ رکھتی بیٹھتی چلی گئ
ریلکس تم پریشان نہ ہو “
میں پریشان نہ ہوں کیسے بے حس لوگ ہیں آپ سب آپ کیسے کہہ سکتی ہیں کسی کی موت کی وجہ میں بن گئ اور پریشان بھی نہ ہوں ۔۔۔
میں “
لیکن اس میں تمھارا کوئ قصور نہیں “
میرا ہی قصور ہے میرا ہی ہے میں نے انکی بات مان کر ہر قسم کا لباس پہن کر محفلوں میں سج سنور کر جا کر کسی نا محرم کے جزبات اپنے لیے بھڑکائے اور اسکی موت کی وجہ بن گی آپ اس میں یہ کہہ رہی ہیں میرا قصور نہیں ہے” اسکی انکھیں برس رہی تھی
لباس کا قصور نہیں ہوتا دیکھنے والے کی نگاہ کا ہوتا ہے”
نہیں میں جانتی ہوں مولوی کی بیٹی ہوں سب جانتی ہوں میرا ہی قصور تھا میں ” وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی
کس بات کا غم منایا جا رہا ہے “
اچانک شاہنواز کی آواز پر رمشہ کھڑی ہو گئ لیکن ایزہ کے اندر غصہ جنون معلوم نہیں کیا کیا اٹھ رہا تھا پہلی بار اسکی آواز سن کر نہ ہی اسے ڈر لگا اور نہ ہی اس کے اندر کوئ اور خوف کا جذبہ اٹھا وہ وہیں بیٹھی رہی
کچھ نہیں میں نے ایزہ کو بتایا کہ فہیم مر گیا ہے “
رمشہ کو اچھا نہیں لگا وہ نہ کرتی یہ ذکر ایزہ اب بھی نہیں اٹھی
اتنا بھی اہم نہیں تھا وہ کہ اسکا ذکر کیا جاتا ” وہ اندر ا گیا
ایزہ کو دیکھا جو نیچے بیٹھی آنسو صاف کر رہی تھی اسکی پیشانی پر واضح بل پڑ گئے ۔۔۔۔۔۔
شاہنواز” رمشہ کے ٹوکنے پر وہ رک گیا جبکہ وہ ایزہ کیطرف بڑھ رہا تھا
کیا تم جا سکتی ہو ” سنجیدگی سے اسنے رمشہ کو کہا
مجھے بہت برا لگ رہا ہے” رمشہ افسوس سے ایزہ کو دیکھنے لگی
برا لگانے والی کوئ بات نہیں آپ امیروں کے لیے کسی کو مار دینا بہت عام بات ہے اگر اتنا ہی اپنی بیوی کے لیے جنون تھا تو اسے آدھے لباس میں نامحرموں کے سامنے آنے پر فورس نہ کرتے
کسی کو مار دینے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک لیتے پہلے” وہ نہیں جانتی تھی اس میں اتنی طاقت کہاں سے آئی کہ وہ بول سکے ۔۔
وہ ان دونوں کے پاس سے گزر کر باہر ا گئ اسے بار بار رونا ا رہا تھا
اس شخص نے ایک انسان کو مار دیا اور رتی بھر بھی دکھ نہیں تھا اسکے چہرے پر ۔۔۔
رمشہ شدید شرمندہ ہو گئ شاہنواز کے کڑک تیور بہت کچھ کر جانے کے گواہ تھے
شاہنواز وہ چھوٹی ہے پلیز ان معملات کو نہیں سمجھ سکتی “
چپ ہو جاؤ تم اسکی حمایت لینے کی ضرورت نہیں ہے اسکی جرت کیسے ہوئ میرے آگے زبان کھولنے کی”
شاہنواز پلیز ” رمشہ نے اسے روکنا چاہا مگر شاہنواز نے اسے تحمل سے وہاں سے جانے کے لیے کہا
وعدہ کرو تم اسپر ہاتھ نہیں اٹھاؤ گے”
جاؤ ” وہ بولا رمشہ کو جانا ہی پڑا کیونکہ جانتی تھی کہ شاہنواز ایک نہیں سنے گا وہ خود کو کوستی وہاں سے نکل گئ جبکہ ایزہ کمرے میں جا چکی تھی اسنے وضو کیا اور جائے نماز پر بیٹھ کر بے تحاشہ رو دی
اسکی ہچکیوں سے شاہنواز کے قدم رک گئے
یا اللّٰہ مجھے معاف کر دے “
میں نے اپنے شوہر کے حکم کو مانتے ہوئے تیرے حکم کو نظر انداز کر دیا ۔۔۔
یا اللّٰہ مجھے معاف کر دے میں نے تجھ سے شکوہ باندھ لیا
یا اللّٰہ میں بہت تنہا ہوں مجھے ان آزمائشوں سے نکال لے ” وہ جیسے دل ہار ہار کر رو رہی تھی شاہنواز دروازے پر ہی رک گیا جبکہ بہت ہی کڑک انداز میں وہ کمرے کی سمت بڑھا تھا
اسنے گھیرہ سانس لیا ہاں چھوٹی عمر کی لڑکی تھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر گھبرا رہی تھی نا چاہتے ہوئے بھی اسے اپنے غصے کے گراف کو کم کرنا پڑا وہ اندر آیا اور بیڈ پر بیٹھ گیا وہ دعا مانگ کر جائے نماز اٹھا کر بنا اسکی جانب دیکھا اٹھنے لگی
تبھی شاہنواز نے اسکا ہاتھ تھام لیا
ایزہ کو لگا اسے کسی کرنٹ نے چھو لیا ہو ۔۔۔
ہاتھ چھوڑیں میرا ” بدلے ہوئے تیور چہرے پر غصہ ایسی ایزہ تو شاہنواز نے کبھی دیکھی ہی نہیں تھی
کیوں؟ وہ سنجیدگی سے بولا
قاتل ہیں اپ اور میں قاتل کے ساتھ نہیں رہو گی” وہ اسکی آنکھوں مین آنکھیں ڈال کر بولی
اچھھھا” وہ ذرا اچھا کو کھینچتا ہوا کھڑا ہوا “
تم جانتی ہو میں کون ہوں” وہ اب سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا
بلکل جانتی ہوں آپ قاتل ہیں” ۔
یہ تمھارا مسلہ نہیں “
یہ میرا ہی مسلہ ہے ” وہ غصے سے چلائی جبکہ شاہنواز دھاڑ اٹھا
ایزہ اپنا منہ بند رکھو میری آواز سے اونچی تمھاری اواز ہوئی تو “
تو تو کیا کریں گے آپ مجھے ماریں گے تو شوق سے یہ شوق بھی پورا کر لیں شاہنواز “
وہ بے رخی سے بولی اور اسکے پاس سے جانے لگی
بہت بڑی بننے کی کوشش نہیں کر رہی ہو “
میں جانتی ہوں نہ میرے پاس اپکے جتنی عقل ہے اور نہ ہی مجھے چاہیے جس عقل میں بے حسی شامل ہو جائے”
مجھے واپس جانا ہے دادی جان کے پاس ” وہ سنجیدگی سے بولی
شاہنواز اس رعب پر حیران تھا وہ تو اس لڑکی کو اپنا زر خرید روبورٹ سمجھ چکا تھا اب اسکے ذاتی جزبات سے کچھ حیران تھا
کہیں نہیں جا رہی ہو تم اور یہ جتنا ناٹک کر رہی ہو گریٹ میں ایمپریس ہو گیا اب اس سب تماشے کو بند کرو اور ائندہ ” اسنے اسکا بازو سختی سے جکڑا
تمھاری آواز میری آواز سے بلند ہوئی تو میں تمھارا حشر بگاڑ دوں گا ” اسنے جھٹکے سے اسکا بازو چھوڑا
ایزہ بیڈ پر گیری شاہنواز اسکے ناتواں وجود کو دیکھ کر وہاں سے چلا گیا ایزہ فورا اٹھ کر بیٹھ گئ ۔
اسے یہ بات سمجھ ہی نہیں ا رہی تھی کہ وہ کیسے کتنے آرام سے ایک انسان کو مار سکتا تھا ۔
وہ اس کمرے سے ہی نکل گئ اسے لگ رہا تھا اسکی سانسوں پر بوجھ بن گئ ہے فہیم کی موت کیونکہ وہ اسکی وجہ سے مرا
اگر وہ چھپ جاتی دنیا کے سامنے نہ آتی دنیا کو اپنا روپ نہ دیکھاتی تو کوئ اپنی جان نہ گنواتا وہ باہر نکل آئی
شاہنواز واشروم سے نکلا تو وہ کمرے میں نہیں تھی ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ وہ اسکے ہوتے ہوئے کمرے سے یوں نکل جائے لیکن ایزہ واقعی پیٹنا چاہتی تھی وہ یوں ہی باہر نکلا وہ لاونج میں بھی نہیں تھی اور شاہنواز نے لون میں دیکھا وہ لون میں بیٹھی تھی ہوا کی دوش پر بال اڑ رہے تھے گٹھنوں پر سر رکھے وہ یقینا رو رہی تھی وہ کافی غصے سے اسکی جانب بڑھا اور اسکا ہاتھ کھینچ کر کھڑا کیا
کیا بکواس ہے یہ ہاں کس بات کی اکڑ دیکھا رہی ہو ۔۔۔ ہو کون تم ؟ ہاں ہو کون تمہیں کیا لگ رہا ہے شاہنواز ان باتوں سے ایمپریس ہوتا ہے کھینچ کھینچ کر دو تھپڑ لگا کر سارا نشہ نکال دوں گا تمھیں میرے ہوتے ہوئے کس نے اجازت دی ہے کہ تم کمرے سے نکلو ہاں” وہ غرایا ایزہ نے اسکی آنکھوں میں ابلتے شعلے دیکھے مگر مجال ہو اسکے سینے میں اسکے لیے خوف نام کی کوئی چیز ہو ۔۔۔
میری مرضی بھی ہے اور میں اپنی مرضی سے ہی رہو گی اگر اتنی ہی آپکے اندر میری ضرورت کی تمنا ہے تو کسی اور عورت کو لے آئیں مجھے بلکل کوئی تکلیف نہیں ہو گی” وہ اپنا ہاتھ کھینچ کر اسکے ہاتھ سے نکال گی
شاہنواز کا ہاتھ ہوا میں بلند ہوا لیکن اسکے چہرے پر نہیں پڑا وہ یوں ہی کھڑی رہی
اندر چلو میرا دماغ خراب نہ کرو ” وہ زیچ ہوتے ہوئے بولا
نہیں جاؤں گی دنیا ادھر سے ادھر ہو جائے” وہ ضد باندھ چکی تھی
وہ کچھ دیر کھڑا رہا اسکی صورت دیکھتا رہا اور پھر ایک گھیرہ سانس آزاد کیا
اچھا تو ایسا ہے “
آواز آہستہ تھی گھمبیر تھی ایزہ نے دو قدم دور لیے
تم مجھے خود کو چھونے نہیں دو گی” وہ اسکے چہرے پر انگلی سے ایک سطر کھینچنے لگا ایزہ نے کوفت سے اسکا ہاتھ جھٹک دیا
شاہنواز کی تیز نظروں نے اسے گھورا مگر اسپر کوئ اثر نہیں ہوا
چلو ٹھیک ہے ایسے تو ایسے صیحی اب زیادہ مزاہ آئے گا ” وہ بولا اور جھکا ایزہ کو ایک جھٹکے سے شانے پر اچک لیا
شاہنواز چھوڑیں مجھے” وہ اپنے نازک ہاتھوں کے مکے اسکی کمر پر برسا گئ
مجھے چھوڑیں آپ قاتل ہیں مجھے آپ کے ساتھ رہنا ہی نہیں” وہ بولی
جبکہ شاہنواز اسے اچک کر کمرے میں لے گیا اسے بیڈ پر پٹخ دیا ایزہ ایک جست میں اٹھی اور دوسری طرف اتر گئ
شاہنواز نے دروازہ لاک کیا اپنی شرٹ اتار کر ایک طرف پھینکی
میں تمھارا وہ حشر کروں گا تمھارے اندر جتنی یہ اکڑ جنم لے رہی ہے یہ سب یہیں مڑ جائے گی” وہ غصے سے اسکی سمت بڑھا
لیکن ایزہ نے سائیڈ ٹیبل پر رکھے فروٹس میں سے جلدی سے چھری اٹھا کر اپنی گردن پر رکھ دی
میں خود کو مار لوں گی” سرخ نظریں ضد سے بھرپور تھیں
شاہنواز کے قدم رکے”
ایزہ یہ بہت تیز ہے” وہ بولا
تو کیا فرق پڑتا ہے آپکے دیے ہوئے زخم آپکے دانتوں کے نشان آپکے ہاتھوں کی سختی پچھلے سات ماہ سے بیوی نہیں طوائف بنی ہوئی ہوں” وہ چلائ
شاہنواز دنگ رہ گیا
جسے صرف شاہنواز روندتے ہے اپنے بستر پر اسکے وجود کو مسل کر رکھ دیتا ہے اسکے علاوہ کچھ نہیں تو اس چھری کی تیز دھار مجھ پر پھیرے مجھے فرق نہیں پڑتا سمجھے اپ”
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتی غصے سے چلاتی وہاں سے پھر باہر نکل گئ
جبکہ شاہنواز ان لفظوں پر ہی رک گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دو دن ایزہ شاہنواز کو کہیں نہیں دیکھائ دی
اور معلوم نہیں اسکا وجود نشے کیطرح تھا وہ اسکو چھونے کے لیے بے تاب پھر رہا تھا اسکے ان لفظوں کے وزن کا اندازا اسے کرانا چاہتا تھا مگر مجال ہو اتنے بڑے گھر میں یہ چوہے بلی کا کھیل ختم ہو رہا ہو وہ دو دن سے نہیں دیکھی تھی شاہنواز کے دوستوں نے آنا تھا انکی بیویوں نے بھی اور ایزہ محترمہ غائب تھی
تم نے اپنی مالکن کو دیکھا ہے کہیں” اب جتنا نخرہ وہ اسے دیکھا گئ تھی اور اتنی سی لڑکی جتنی باتیں سنا گی تھی یہ الفاظ خود با خود نکلے تھے اسکے منہ سے ۔۔۔۔
جی وہ تھوڑی دیر پہلے کچن میں ہی تھیں کھانا بنا رہیں تھیں “
ہے کہاں” وہ متجسس ہوا کہ چھپی کہاں ہے
وہ ” شاہنواز ائبرو اچکا کر دیکھنے لگا
انھوں نے منع کیا ہے آپ کو بتانے سے ” وہ ملازمہ سر جھکا گی
ایکسیلینٹ تم سب کی تنخواہ وہ دیتی ہے یہ میں ٹھیک ہے تنخواہ بھی تبھی ملے گی جب تمھاری مالکن اپنے ہیرو سے نکلے گی”
وہ کہہ کر انھیں گھور کر چلا گیا جبکہ ساری ملازمہ کی تو جان پر بن گئ تھی
شاہنواز تیار ہوا اسکے دوست بھی نیچے ا چکے تھے اور آج رمشہ بھی تھی اور ان لوگوں کی پارٹی کا وہی سلسلہ جاری تھا ایزہ حیران تھی چار دن بھی کسی کی موت کا سوگ نہیں بنایا اور یہ ہوتے ہیں ہائی کلاس لوگ مر جائے کوئ تو مر جائے انکی بلا سے ۔۔۔
اسے نفرت سی ہو گئ ان لوگوں سے جو خود کو بہت ماہان سمجھتے تھے ۔
ملازمہ اسے بتا چکی تھی کہ انکی نوکری خطرے میں ہے مگر ایزہ نے اس بات کا برہم نہیں لیا شاہنواز کچھ بھی کر لے وہ اب اسکے ہاتھوں ذلیل بلکل نہیں ہونے والی تھی
وہ انیکسی میں تھی وہ گھر تو چھان رہا تھا کہ گئ کہاں لیکن انیکسی میں آنے کی زحمت ہی نہیں کی
اسے اندر سے گانوں کی آوازیں ا رہیں تھیں
وہ اپنے رب کے حضور توبہ کرتی دوپٹہ لیتی اچھے سے لون میں ا گئ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایزہ نظر نہیں ا رہی” رمشہ نے اسے سے پوچھا
پاگل ہو چکی ہے تمھیں بھی بہت جلدی تھی اسے بتانے کی” وہ بھڑکا
غلطی ہو گئ مجھے سے ” رمشہ شرمندہ ہو گئ
وہ ہے کہاں میں بات کرتی ہوں اس سے “
میں نے کہا نہ پاگل ہو چکی ہے کھانے کو دوڑ رہی ہے” وہ بولا
اور تم کس لیے مسکرا رہے ہو اتنا ” رمشہ کو اسکا مسکرانا سمجھ نہیں آیا
دو دن سے اس گھر میں چھپی ہوئی ہے اور مجھے مل نہیں رہی” وہ ہنس پڑا
شاہنواز وہ بہت سریس ہو گئ ہے” رمشہ پریشان ہوئی
ہوتی رہے بات وہیں کی وہیں ہے میری چیز کو کوئ چھوئے گا میں اسکو زندہ چھوڑ دو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ” وہ لاپرواہی سے بولا جبکہ رمشہ نے سر جھٹکا
تم نے اسپر ہاتھ اٹھایا ہے “
ہممم جس طرح وہ خونخوار ہوئی ہوئی ہے مجھے ہی نہ مارنے لگ جائے”
اچھا خونخوار شکل دیکھو اپنی اور پھر اس معصوم کی”
اچھا روپ ہے اس معصوم کا مجھے مزاہ آ رہا ہے “
وہ بولا اور تبھی سامنے سے آتی ہوئ ایزہ کو دیکھا
سفید پور نور چہرہ اور رو رو کر سرخ ہوئی ناک اور آنکھوں کے ساتھ گال بھی ۔۔۔ وہ ڈیک کیطرف بڑھی اور اسنے میوزک بند کر دیا
شاہنواز خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا
میوزک کے بند ہوتے ہی سب نے اسکی جانب دیکھا
جائیں آپ لوگ یہاں سے محفل لگانی ہو تو اب گھر سے باہر لگائیے گا ” وہ سب کی جانب دیکھتی بولی
رمشہ نے شاہنواز کو دیکھا اسکے چہرے پر غصہ نہیں تھا
سب نے ہی شاہنواز کو دیکھا تھا
اسنے ایک گھونٹ اندر اتارا اور سب کی جانب دیکھ کر شانے اچکا گیا ایزہ چپ چاپ کھڑی تھی
یہ تو کچھ زیادہ ہی غصے میں ہے”
سنکی ہو چکی ہے ” شاہنواز مسکرایا
اوکے” سب سے پہلے رمشہ ہی ہلی تاکہ سب میں ہمت ہو ۔۔۔
شاہنواز کے دوستوں نے اسکی سمت دیکھا وہ گردن سے ان سب کو جانے کا کہہ گیا اور رفتہ رفتہ وہاں سے سب چلے گئے
جبکہ ایزہ نے ایک نگاہ اسے دیکھا اور کچن کی سمت بڑھ گئ
شاہنواز اسکے پیچھے گیا
کیا چاہتی ہو تم” اسنے سنجیدگی سے پوچھا
جو میں چاہتی ہوں وہ آپ پوری کریں گے میری خواہش ” وہ مڑ کر دیکھنے لگی
ہاں بولو ” وہ سنجیدگی سے بولا
طلاق دے دیں مجھے” اسنے کہا آنکھوں کی ضد اور بغاوت شاہنواز دیکھ سکتا تھا
اسکا ہاتھ ہوا میں بلند ہوا اور ایک زور دار تھپڑ ایزہ کے چہرے پر لگا اپنا نشان چھوڑ گیا ایزہ کا سر ایکدم شیلف پر لگا اور اسنے آگے بڑھ کر اسکا منہ جکڑ لیا
مل گیا جواب یہ ہی چاہ رہی تھی نہ چلو اب اچھے سے غم منا لینا لیکن شاہنواز تمھیں تمھاری آخری سانس تک نہیں چھوڑے گا اس بات کو اپنے دماغ میں بیٹھا لو ” وہ بولا اور جھٹکے سے اسے چھوڑ کر وہاں سے چلا گیا
ایزہ کا گال سن ہو چکا تھا
آنکھ سے پانی نکلنے لگا جبکہ گال پر اسنے ہاتھ رکھا اور پھر اوپر دیکھا
آنکھیں زور سے بند کر لیں وہ جس ضد پر اتر گئ تھی اسکو منواتے ہوئے یہ سب تو ہونا ہی تھا
اسنے بے دردی اور مکمل بے حسی سے آنکھیں صاف کیں اور پھر کھڑی ہو گئ دوسری طرف وہ غصے سے کمرے کی ایک ایک چیز توڑ چکا تھا
وہ جو اسکے آگے نگاہ نہیں اٹھا سکتی تھی وہ کھڑی ہوئی اس سے طلاق مانگ رہی تھی
یہ ذلالت کا تھپڑ لگتا تھا اسے ہمیشہ کیا مرد میں وہ خاصیت ہی نہیں کہ عورت اسکے ساتھ رہنا نہ چاہے بے عزتی کا احساس دیتی تھی یہ بات اور آج ایزہ کے الفاظ اسے بے عزت کر گئے
اسے یقین تھا اب دماغ ٹھکانے جائے گا اسکا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح
۔۔وہ کمرے میں آئی شاہنواز تیار ہو رہا تھا
ایزہ کو دیکھ کر برش رکا اسکے گال پر انگلیوں کے نشان تھے آج تک ایزہ پر ہاتھ نہیں اٹھایا تھا اسنے ۔۔۔
دوسری طرف اسنے اتنے مہینوں میں ضد بھی تو نہیں باندھی پھر یہ الفاظ وہ پاگل سا ہو گیا تھا وہ مڑا ۔۔۔
مجھے اپنے ابو کے گھر جانا ہے کچھ دیر تک ا جاؤ گی”
کون ابو ” شاہنواز چونکا اسے تو لگا تھا ایزہ کے آگے پیچھے ہی کوئی نہیں ۔۔۔
میں بھی پیدا ہوئی تھی برسات میں نہیں اگی تھی”
وہ ایکدم اپنی ہنسی ضبط کر گیا چہرے پر سنجیدگی طاری کر لی
کیوں کر رہی ہو یہ سب ” وہ خود ہی سوال کر گیا
میں نے کچھ نہیں کیا صرف یہ کہا ہے مجھے اپنے ابو کے پاس جانا ہے”
سات ماہ سے تمھارا باپ کہاں تھا “
جہاں بھی تھا مجھے اب جانا ہے “
ایزہ شاہ اتنی ضد اچھی نہیں “
یہ بات آپ مجھے کہہ رہے ہیں “
تم چاہتی کیا ہو ” وہ اسکے نشان پر ہاتھ رکھ گیا
آپ اپنے آپ کو پولیس میں ایریسٹ کرائیں اور سزا بھگتیں اس جرم کی جو آپ نے کیا ہے ” وہ بولی جبکہ شاہنواز کا قہقہ ابھرا
اور وہ ہنستے ہنستے بیڈ پر بیٹھ گیا
یعنی تم فہیم کی موت پر اب تک اڑی ہوئی ہو ۔۔۔
ایزہ کو اسکے قہقہے کا شدت سے دکھ ہوا
اچھا تو پھر سنو ۔۔۔
میں تو نہیں مانوں گا اسے غلط اب تمھارا جو دل کرتا ہے وہ کرو ” وہ شانے اچکا گیا
لیکن یاد رکھنا سامنے شاہنواز کھڑا ہے
جو لوگوں کی اکڑ کو توڑ پھوڑ دیتا ہے ” اسکا گال تھپتھپا کر وہ باہر نکلنے لگا
ڈرائیور باہر کھڑا ہے میں کہہ دوں گا چلی جانا” وہ باہر نکل گیا ایزہ نے اپنی آنکھوں مین چھپی نمی صاف کی اور اپنے کپڑے چینج کرنے چلی گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے