Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 61
No Download Link
Rate this Novel
Episode 61
اگلی صبح وہ اٹھ کر چلا گیا اور دوسری طرف سوہا ایسے ہی پڑی رہ گئ وہ سکون سے فریش تھا اور جا چکا تھا اسنے نہیں پوچھا تھا اسکی بیوی ٹھیک ہے کچھ ہوا تو نہیں کسی بھی بات کو ملحوظ خاطر لائے بنا وہ کام پر نکل گیا سوہا ۔۔ بمشکل تمام اٹھی اور اٹھ کر دیکھنے لگی ۔
اسکی کمر گویا ٹوٹ رہی تھی ایسا کیوں ہوا تھا اسے سمجھ نہیں ا رہی تھی وہ اتنی سخت جان تو ہو چکی تجی پھر یہ نزاکت کیوں اڑے ا گئ تھی
وہ ہمت کر کے فریش ہوئی اور باہر نکل ائی ۔
اسکا اترا ہوا چہرہ اسکے چہرے کی بے آرامی تھکاوٹ وہ سیدھا ماں کی گود میں جا کر سر رکھ گئ
سوہا یہ کیا حال بنا لیا تو نے ” تائی تڑپ ہی گئیں انھیں اج سے پہلے احساس نہیں ہوا تھا تکلیف کیا ہے اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی لیکن یہ غم انھیں احساس دلا رہا تھا کہ انکی بیٹی کا غم کیسا غم ہے اسکی آنکھوں کی ویرانی دیکھی ہی نہیں جا رہی تھی
وہ لیٹی رہی تو نجما اسکے لیے ناشتہ لے ائی اسنے تڑپ کر سر اٹھایا
چچی آپ کیوں لائی ہیں میں خود بنا لیتی ” تو انھوں نے اسکے سر پر پیار کیا
میں بدر سے بات کرو گی اس طرح تو بات نہیں بنے گی” وہ بولیں جبکہ تائی نے سر جھٹکا
کر لی تو نے بات یہ ا جائے اس سے بات میں کروں گی
جی بھابھی آپ ہی کیجیے گا ” نجما نے فورا ہی کہا
سوہا کچھ نہیں بولی چپ چاپ ناشتہ کرنے لگی تھی
آمنہ کے بچے ا رہی ہیں دو چار روز کے لیے یہاں ” تائی جان بولیں اسکا تب بھی کچھ خاص ردعمل نہیں تھا جیسے دنیا میں اب کچھ بھی ہو جائے اسکے لیے وہ سب بس باتیں ہی ہیں کوئی احساس نہیں باز اوقات انسان کی زبان پر کہنے کے لیے نہ شکواہ رہتا نہ ہی شکایت
نہ ذہن میں کوئی سوال نہ اپنی تکلیف پر ہی ہونے والی تکلیف پر ایک بھی آنسو یہ شکایت یر لفظ دم توڑ دیتا ہے یہ احساس سے اری محسوس ہوتا ہے کچھ ایسا ہی سوہا کا حال تھا وہ ہر احساس سے اری تھی اس وقت ۔
تم صاف ستھرا لباس پہن لینا ” وہ بولیں وہ سر ہلا گئ
اسے پا کر کھویا تھا اسنے وہ غم بھی نہ بناتی ہاں سب کا اپنا اپنا طریقہ ہے اور اسے بلکل رونا نہیں ا رہا تھا اب ۔۔۔
تائی کی آنکھیں بھیگ گئیں
تو پریشان نہ ہو سوہا میں کروں گی اس کے بارے میں بات ” تائی فکر سے نڈھال ہوتی جا رہی تھیں
امی” اچانک کسی احساس کے تحت سر اٹھایا اسنے ۔۔۔یہ بات کئ دن سے کھٹک رہی تھی
ہاں بول نہ ” تائی نے پیار کیا تھا اسے
ارہم اور صوفیا کی شادی کا نہیں سوچنا کیا آپ لوگوں نے”
وہ جو تیرا باپ سانپ بن کر اپنی ہی اولاد کو مال کے پیچھے کھا رہا ہے وہ کسی نئے نشانے پر لگ رہا ہے مجھے اب وہ عمر کو چین نہیں لینے دے گا بدبخت ادمی ” بے ساختہ حمایت نکل گئ تھی انکے منہ سے اسکے لیے ۔۔۔
کیا مطلب “وہ چونکی نجما بھی چونکی تھی
ائے ہائے پتہ نہیں پرسوں رات سے کوئی چیز ڈھونڈے بیٹھا ہے ۔۔۔
معلوم نہیں کس کی تصویر ہے ۔۔۔
اور بہت خوش ہے وہ تصویر دیکھ کر ” تائی نے بتایا تو سوہا ایکدم اٹھی
کون سی تصویر کیا وہ تصویر گھر پر ہے ” وہ بھاگ کر کمرے میں گئ تھی
سوہا ” وہ دونوں بولیں تھیں پیچھے سے مگر بے سود وہ بھاگ کر کمرے میں پہنچ گئ تھی
وہ ساتھ لے گیا ہے شاید ” تائی تکیہ اٹھا کر دیکھنے لگی
تکیے کے نیچے کچھ بھی نہیں تھا ۔۔۔سوہا نے ماں کی جانب دیکھا ۔
کیوں کر رہے ہیں وہ یہ سب کیا بیر ہے انھیں عمر سے اپنے ہی بیٹے سے کیا بیر ہے” سوہا کو تکلیف ہوئی تھی ہاں جتنی حساس وہ ہو گئ تھی ان کچھ دنوں میں اب ہر تکلیف پر دل کانپ اٹھتا تھا ۔
ہاں اسے ارہم جیسی اولاد چاہیے لالچی خود غرض” وہ کہہ کر باہر نکل گئیں جبکہ سوہا اور نجما نے حیرانگی سے اسکی پشت دیکھتی رہ گئی ارہم کی برائی وہ کیسے کر سکتی تھیں بات حیرانگی کی ہی تھی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آمنہ کی دونوں بیٹیاں اور داماد اور آمنہ خود اور انکا بیٹا سب ا چکے تھے انکے لیے کھانا بنایا گیا تھا
اور کافی احتمام کرنا چاہتی تھی تائی اپنی بہن کے لیے کیونکہ جب وہ جاتی تھیں تب آمنہ بھی دسترخوان بھر دیتی تھی لیکن انکے ہاتھ میں فلحال کچھ بھی نہیں تھا
ان سے جتنا ہو سکا اتنا انھوں نے کیا تھا
سوہا تھوڑا سا فریش ہو کر ان سب کے سامنے ائ تھی اسنے لائیٹ کلر کا سوٹ پہن رکھا تھا اور اسپر باریک سی شال لیے وہ ائ سب سے ملی
ارے سوہا کتنی بدل گئ ہو تم ماشاءاللہ” آمنہ بولی جبکہ آمنہ کے ساتھ ساتھ باقی سب بھی ۔
اسکی پیشانی پر ایک بل پڑا کیا سب اسکی مذاق بنا رہے ہیں” وہ کنفیوز سی سر جھکا گئ مسکرا بھی نہ سکی تھی ۔
ماشاء اللّٰہ بہت ہی بدل گئ ہو اور کافی پیاری لگ رہی ہو شادی کے بعد تو سب ہی بدل جاتے ہیں لیکن سب پر الگ الگ ہی روپ چڑھتا ہے اب صدف کو دیکھو شادی سے پہلے کیسے پیاری ہوتی تھی اب گھر کے کام کر کر کے کیسے بلکل سوکھ کر کانٹا ہو گی” آمنہ بولی تو سب ہی ہنس گئے
جبکہ سوہا مٹھیاں بھینچ گئ نظر جھکی ہوئی تھی ۔
صدف کو برا کیوں نہیں لگا اسکی ماں نے سب کے سامنے اسے کیسے کہہ دیا وہ ہنس رہی تھی کیوں اسے برا نہیں لگا اور جس کی تعریف کی جا رہی تھی اسے بہت برا لگ رہا تھا جیسے سب اسکا مذاق بنا رہے ہوں
وہ کچھ دیر بیٹھی رہی اور پھر اٹھ کر لون میں آ گئ
پیچھے امی آمنہ آنٹی کو بتا رہی تھیں کہ وہ پریگنینٹ ہے اور ماشاءاللہ ٹوئنز ہیں “
وہ باہر ا گئ آج دھوپ تیز تھی مگر اسے بری نہیں لگ رہی تھی
تم واقعی بہت بدل گئ ہو ” اچانک شہریار کی آواز پر وہ مڑی
ہوا تیز تھی اسکے بال بکھر کر چہرے پر ا گئے اسنے دوپٹہ درست کیا
اور گھیرہ سانس بھرا
چالاکی تو بلکل دیکھائی نہیں دے رہی” وہ ہنسا تو سوہا بھی ہنس دی
بدر نے کافی بدل دیا ہے اور اچھی بات ہے سب کو چینج آنا چاہئے “
وہ بولا تو سوہا سر ہلا گئ
کافی خوبصورت بھی ہو گئ ہو ” ایکدم وہ جھٹکے سے مڑی
ایسا لگتا تھا کوئ اسپر تیزاب پھینک رہا ہو ۔
تم مجھے سے ایسی باتیں کس لیے کر رہے ہو مجھے علم ہے میں کیا ہوں “
نہیں سریسلی یقین اسی بات پر نہیں ا رہا ” وہ مسکرایا
شیٹ اپ ” لو بھلا آئینہ نہیں دیکھتی”
بدر نہیں بتاتا کیا ” وہ کھل کر ہنسا
وہ دونوں ہی ہم عمر تھے اور سوہا کو بچپن سے ہی اس سے چیڑ تھی کوئ خصوصی لیکن اب خاموشی سے اسکی بات سن رہی تھی اس سے بات کر رہی تھی ۔
شہریار اسکی سنھری رنگت اسکا بھرا بھرا وجود اسکے چہرے کی ساکت کی تبدیلی سب دیکھ کر حیران تھا اوپر سے مزاج کی تبدیلی بہت زبردست تھی وہ حیران ہوا تھا سوہا نے رخ موڑ لیا
تم اندر جاو کھانا کھاو ” وہ بولی
نہیں مجھے تم سے بات کرنی ہے ایک بات تو بتاو ذرا تم مجھے ۔۔ “
وہ پرانی باتیں چھیڑ گیا اسے اسکی حرکتیں بتانے لگا کہ وہ اسکے ساتھ کیا کیا کرتی تھی سوہا کو بے ساختہ ہنسی انے لگی اور وہ اسکی باتیں سننے لگی دماغ ہٹ گیا تھا ان ساری باتوں پر سے جو اسے پریشان کرتی تھیں ۔
اور شہریار اور وہ ہنسنے لگے اپنی پرانی باتیں یاد کرنے لگے اپنی پرانی بیوقوفی پر ہنستے وقت کا اندازا ہی نہیں ہوا تھا کتنا وقت گزر گیا انھیں ۔
وہ مسکرا دی تھی ہنس رہی تھی ہنستے ہوئے اسکے بال اڑتے اور وہ بے دھیانی میں انھیں سنوارتے آج بہت مختلف لگ رہی تھی
شاید ماں بننے کا روپ چڑھ رہا تھا جس سے وہ خود گھبرا رہی تھی کیونکہ بدر اس سے نفرت کرتا تھا اور کر رہا تھا ۔
اوہو تم دونوں اندر ا جاو کھانا کھا لو ” شہریار کی بہن بولی ۔
اب تو چائے پینے کا وقت ا گیا ہے چلا بھئ سوہا اب سارے ہنر دیکھا دو ” وہ مسکرائی اور ۔۔۔ سوہا سر ہلا کر اندر آ گئ ۔
اسنے چائے بنائی وہ وہیں کھڑا تھا اور عجلت میں بدر اندر داخل ہوا
گھر میں مہمان اور ہنسی مذاق قہقہے سن کر ایک پل کو رکا آمنہ سے ملا ۔۔
اور آمنہ نے اسے وہیں بیٹھا لیا جبکہ وہ کچھ چیزیں لینے آیا تھا اسے مروتا وہیں بیٹھنا پڑا تھا
اور بھئی بدر کیا حال چال ہیں سب سے پہلے تو بہت مبارک ہو تمھیں ماشاءاللہ ” وہ بتا ادھوری چھوڑ گئیں بدر نے سر ہلایا ۔
اور پھر تمھیں یاد ہے تم نے مجھ سے بدلا لیا اتنے زور زور غبارے مارے تھے تھے تو تم بہت بدتمیز ویسے” وہ بولتی ہوئی باہر آئی شہریار پیچھے پیچھے تھا ہنس رہا تھا
یو ڈیزرو یار تم نے میرا بازو توڑ دیا تھا ” ان دونوں کی ہی نظر بدر سے ملی بدر نے سوہا کی جانب دیکھا ۔
وہ مسکراتی ہوئی باہر نکلی تھی اور بدر کو دیکھ کر مسکراہٹ سمٹ گئ
شہریار نے آگے بڑھ کر بدر سے سلام کیا سنجیدگی سے جواب دے کر
وہ بیٹھ گیا سوہا نے چائے بیچ میں رکھی اور سب سے پہلے اسے ہی دی
نہیں مجھے نہیں پینی تم میرا سامان نکال دو مجھے جانا ہے وہ کچھ کاغذات رکھوائے تھے الماری میں” کافی سنجیدہ تھا وہ ۔۔۔
سوہا سر ہلا کر اٹھ گئ اور باقی سب کو بھی ساتھ کے ساتھ چائے سرو کر دی تھی جبکہ بدر اٹھنے لگا تو امنہ نے دوبارہ بیٹھا لیا ارے بھئی ہم تو کچھ دیر میں چلے ہی جائیں گے بیٹھ جاو ” وہ بولیں بدر سے باتیں کرنے لگی سوہا اسکا سامان لے ائ اور ٹیبل پر رکھ دیا جبکہ وہ الگ صوفے پر بیٹھ گئ پاوں اوپر کر کے وہ بیٹھی بلکل مختلف سی لگ رہی تھی ۔
اور اس حد تک کے بار بار سب کی نگاہ اسی پر اٹھ رہی تھی
چائے تو کافی اچھی بنا لیتی ہو تم بدر تو روز تعریف کرتا ہو گا ” شہریار شرارتی لہجے میں بولا جبکہ سوہا بس مسکرائی
تمھیں اچھی لگی” وہ پوچھنے لگی
ہاں بلکل آج تمھارے جیسی لگی جیسے تم اچھی لگ رہی ہو ویسے چائے بھی اچھی ہے ” وہ بولا تو سوہا نے اسکے شانے پر مکہ مارا دیا
مجھے لگ گیا ہے پتہ تم بہت فضول بولتے ہو “
اور مجھے یہ لگ رہا ہے میں نے کیوں نہیں کر لی تم سے شادی” اسکا مذاق تھا یہ اور سوہا بھی منہ بنا کر ہنس دی
تم سے کیوں کرتی میں بھلا “
ہاں پہلے تمھارے اندر چالاک آتما جو تھی “
وہ دونوں ہنس دیے جبکہ بدر اس فرینکنیس پر حیران ہونے کے ساتھ ساتھ پہلو بدل رہا تھا اور آمنہ اسکی جان نہیں چھوڑ رہی تھی
مروتا کچھ دیر بیٹھ کر وہ ایکسپوز کرتا اٹھ گیا
اسے لگا تھا وہ اسکی بات سننے آئے گی مگر وہ نہیں آئ اور بیٹھی رہی ۔۔
یہاں تک کے بدر غصے سے ٹیبل کے نزدیک آیا فائل کھینچ کر اٹھائی اسکی جانب گھور کر دیکھا جو اسے دیکھتے ہی مسکراہٹ سمیٹ گئ تھی اور اچھی خاصی گھوری لگا کر وہاں سے چلا گیا اور سوہا سر جھکا گئ ۔
کافی سنجیدہ ہیں بدر بھائی ” شہریار کی آواز آئی تھی اسے ۔
ہممم ہر وقت ایسے ہی ہیں” اسکی بھی ائ تھی دل تو کیا ایک تھپڑ مار کر رکھ دے کہ وہ کسی نا محرم کے ساتھ بیٹھی باتیں کس حق سے کر رہی ہے اسکا میٹر شاٹ ہونے لگا تھا اور کاروباری معملات مصروفیت کی طرف بڑھ رہے تھے ۔۔۔
وہ کافی غصے سے گھر سے نکلا تھا ۔
۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آمنہ اور اسکی فیملی جا چکی تھی زبردستی ان سب کو انوائیٹ کیا تھا تم نے لازمی انا ہے کبھی اپنے بدر کی وجہ سے نہ او ” شہریار نے کہا تو وہ ہنس دی
اچھا ٹھیک ہے” وہ ہنستے ہوئے بولی ۔۔۔
اور وہ لوگ چلے گئے تھے ۔۔
سوہا مسکراتی ہوئ اندر ائ تو کمرے میں سے بدر باہر ا رہا تھا
وہ کب آیا پتہ ہی نہ چلا سنجیدگی سے اسنے سوہا کا چہرہ دیکھا تھا
سوہا کی مسکراہٹ پھر سمٹ گئی اور بدر کچن میں چلا گیا وہ اسکے پیچھے ا گئ میں دے دیتی ہوں کھانا “
وہ کھانا نکالنے لگی وہ دور ہو کر اسکی صورت دیکھنے لگا
شوہر کی قربت میں تو نہیں مسکراتی تم جتنا اس نا محرم کی قربت میں ہنسی مذاق چل رہا تھا تمھارا “
وہ کزن ہے میرا ” وہ بس اتنا ہی بولی
اور میں شوہر “
علم ہے مجھے”
اچھا ” اسنے اسکا بازو پکڑ کر اپنی جانب موڑا ۔
تم زیادہ پھیلنے کی کوشش نہ کرو “
کیا کروں اور بدر میں بتاو مجھے تم کیا کرو میں ۔۔ میں اپنی یہ کھال یہ مس اتار کر پھینک دوں جو تمھیں نہ پسند ہے ۔
یہ میں خود کو مار دو شاید یہ زیادہ مناسب ہے میرے ختم ہو جانے سے تمھیں سکون ا جائے گا ” وہ چھری اٹھا گئ
اور بدر نے کھینچ کر اسکے منہ پر تھپڑ دے مارا وہ شیلف پکڑ گئ ۔
میرے ساتھ زیادہ اوور ہونے کی ضرورت نہیں ہے” وہ بھڑکا ۔
جبکہ ۔۔۔ سوہا نے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔۔
وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔کسی نے دیکھا تھا نہیں کسی نے بھی نہیں خوش ہو گئ تھی وہ ۔۔سر جھکا گئ اسکی انکھ کے قریب نشان بن گیا تھا اسنے پلیٹ میں کھانا لگایا اور اسکے آگے رکھ دیا ۔
بدر کو نہ جانے اسکی خاموشی سے اپنے ہاتھ اٹھانے پر افسوس ہونے لگا ۔۔۔ وہ باہر چلی گئ
اور پیچھے اس سے بھی کھانا نہیں کھایا گیا وہ کھانا یوں ہی چھوڑ کر اٹھا تو نجما کو دیکھ کر رک گیا ۔
امی”
بس بدر” وہ پہلی بار تلخی سے بولی تھی
آج کے بعد مجھ سے مخاطب نہ ہونا عورت کو بے عزت کرنا نہیں سکھایا تھا میں نے تم بکل اپنے تایا جیسے ہو ” وہ کہہ کر چہرہ موڑ گئ اور اسکے پاس سے چلی گئ جبکہ بدر کے اندر جیسے کچھ چبھ سا گیا ۔۔۔۔۔۔۔
اسنے گھیرہ سانس بھرا اور کمرے میں آیا وہ جائے نماز پر بیٹھی رو رہی تھی ۔۔
بدر کو پہلی بار اپنے ہاتھ اٹھانے پر پشتاوا ہوا تھا ۔۔۔
وہ چاہتا تھا اسکے نزدیک جائے اس سے بات کرے وہ اسکے قریب جا کر بیٹھ گیا ۔
سوہا نے آنسو صاف کیے اور اسکی جانب دیکھا
کچھ چاہیے ” وہ بس اتنا ہی بولی آنکھ کے قریب نیلا نشان بدر کو دیکھ گیا جبکہ ماں کے الفاظ کہ وہ بلکل تایا جیسا ہے اسے کھانے لگے تھے وہ اسکی صورت دیکھنے لگا
سوہا نگاہ چرا کر اٹھی ۔۔۔ اور بیڈ پر لیٹ گئ
تم نے کھانا کھایا ہے” اسنے پوچھ مگر سوہا کے پاس جواب نہیں کہا کیا کہتی اسے وامیٹس آنے لگ گئیں تھیں ۔
اوہ کروٹ لے کر لیٹ گئ ۔۔۔
بدر نے اسکے چہرے پر سے کمبل ہٹایا اسکی آنکھوں کے گرد آنسو تھے چند لمہے وہ دیکھتا رہا اسے ۔۔
اور پھر چلا گیا کمرے سے ہی نکل گیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سو گئ تھی وامیٹ محسوس کر کے وہ بھاگتی ہوئی واشروم میں گئ اور بدر جو صوفے پر بیٹھا جوتے پہن رہا تھا اٹھ کر واشروم میں آیا وہ پتے کیطرح کانپ رہی تھی
تم نے رات کچھ کھایا نہیں ” وہ اب بھی کچھ نہیں بولی
اسکا وجود ٹھنڈا پڑ گیا تھا اور وہ کانپ رہی تھی بدر نے اسے بازوں میں بھرا اور اسے لیے اندر ا گیا
جواب دو کیا کھایا تھا تم نے ” اسنے کہا جبکہ وہ چپ رہی ۔
سوہا ۔۔۔
تھپڑ” وہ بولی بس اس سے بھر گیا تھا
م۔۔۔مجھے کچ۔۔۔کچھ پیسے پیسے دے دو ۔۔۔ میں ڈاکٹر کے پاس چلی جا۔۔جاو گی” وہ کانپتی ہتھیلی اسکی طرف بڑھا گئ ۔۔۔
بدر شرمندہ سا رہ گیا ۔
اسنے جیب میں ہاتھ ڈالا پھر جتنے پیسے نکلے اسنے اسکی ہتھیلی پر رکھ دیے
اتنے تو نہیں چاہیے تھے ” اسنے دو نوٹ رکھ کر باقی اسے دے دیے ۔
اور اٹھ گئ
بیٹھ جاؤ میں ناشتہ لے آتا ہوں “
وہ بولا سوہا نے جواب نہیں دیا کمر پر ہاتھ رکھتی وہ صوفے پر بیٹھ گئ کچھ دیر بیٹھ کر وہ جیسے اپنی سانسیں بحال کر رہی تھی
چلو میں لے چلتا ہوں ڈاکٹر کے پاس “
وہ تمھیں بولے گی” وہ اسکی جانب دیکھنے لگی ۔
اچھی بات ہے ناجائز تھا ” وہ آہستگی سے بولا ۔
سوہا نے چونک کر سر اٹھایا میں خود چلی جاو گی” کہہ کر وہ کمرے سے جانے لگی ۔۔ بدر اسے چند لمہے دیکھتا رہا اور گھیرہ سانس بھر گیا جتنا افسوس اس تھپڑ کا تھا آج سے پہلے نہیں ہوا اور وہ پھر بھی اسی کی کنسرن کرتی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمر نے کال پک کی جھک کر اسکا گال چوما اور ہنستے ہوئے دور ہو گیا وہ شرما کر پریشانی سے اسے دیکھنے لگی اسنے دیکھا نہیں تھا نمبر کس کا ہے ۔
عمر خیام سپیکینگ” بڑی چہک تھی اسکی آواز میں
تمھارا باپ بات کر رہا ہوں ” لمہوں میں اسکی مسکراہٹ سمٹی
جی” وہ سوال کر گیا
کہاں ہو تم؟ انکے سوال پر اسنے برا سا منہ بنایا
کہیں بھی ہوں اپکو کیا ” وہ بولا جبکہ اشفاق صاحب طنزیہ ہنسا
بس یہ سمجھو تم جہاں بھی ہو جلدی واپس او بہت ساری چیزیں تمھاری منتظر ہیں “
اور نہ او تو ” وہ تلخی سے بولا اور سر جھٹکا
پیسے کے علاوہ اپکو مجھ سے کچھ نہیں چاہیے اور اب میں ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں دینے والا اپکو “
وہ تو تمھیں دینا ہی پڑے گی جو میں مانگو گا اور یہ وقت اور حالات بتائیں گے کہ تم مجھے کیسے اور کب دینے والے ہو ” وہ ہنس دیے
عمر نے کال بند کر دی ۔
ساز اسے ہی دیکھ رہی تھی گھیرہ سانس بھرا تھا اسنے پیشانی کے بل بتا رہے تھے متفکر ہو گیا ہے
ساز آگے بڑھی اور اسکے گلے سے لگ گئ عمر کے چہرے پر گھیری مسکراہٹ ا گئ ۔
آپ پریشان نہ ہوا کریں عمر” وہ اہستگی سے بولی
لو میرے پاس بھلا کیا پریشانی ہے اچھا سنو تم کچھ مزے دار سا بناو میں فریش ہو جاؤ ” وہ اسکا گال تھپتھپا کر وہاں سے چلا گیا ۔ ساز اسکی پشت دیکھنے لگی کل سے اب تک اسکی زندگی سر سے پاوں تک بدل دی تھی اسکی خوشبو اسکی محبت اسکی محبت کی دیوانگی کے اسپر ثبوت بہت کچھ ایسا تھا جو کہ اسکے دل کو گرفتار رہا تھا ۔
لیلن کہیں انہونی سا خوف تھا جیسے کچھ ہو نہ جائے جیسے تایا جان کا فون آیا تو اسکا دل دھک سے رہ گیا تھا وہ اپنی فکر اتار کر اسکے لئے پلاو بنانے لگی تھی وہ اس وقت ناز آنٹی کے گھر میں تھے ۔
اسنے تھوڑا سا اپنے اور اسکے لیے کھانا بنایا وہ فریش ہو رہا تھا اور پھر وہ وضو کر کے جائے نماز ڈھونڈنے لگی ۔
اور پھر اسے یاد آیا وہ جائے نماز ناز آنٹی کے کمرے میں ہے
وہ وہاں آ گئ تو ایسا لگا یہاں بہت خوشبو ہے وہ مسکرائی اور جائے نماز بچھا لی اسکا دل کیا عمر بھی اسکے ساتھ نماز پڑھے اور جیسے ہی اسنے پلٹ کر دیکھا وہ پیچھے کھڑا تھا ۔
وہ تھوڑا گھبرا گئ ۔
وہ خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا دروازے میں کھڑا اندر نہیں ایا تھا
عمر ہم اکٹھے نماز پڑھیں” وہ بولی تو عمر نے ایک قدم دور لیا ۔
پڑھ کر باہر ا جانا ” وہ مڑ گیا
آپ کیوں بھاگتے ہیں ہر چیز سے ” وہ اسکے پیچھے پیچھے آئی
عمر مڑا اسنے ساز کا چہرہ پکڑا اور اسکے گالوں کو جھک کر چوم لیا
مجھے بس تم مل گئ ہو اور مجھے کچھ نہیں چاہئے”
اللّٰہ کے بنا انسان ادھورا ہے اسے سب کچھ مل جائے گا چین نہیں ملے گا یہ غلط ہے عمر”
پتہ ہے پتہ ہے “
وہ ہاتھ اٹھا کر بولا اور لون میں اتر گیا ساز نے وقت دیکھا ظہر کا وقت ختم ہونے کو تھا پہلے ہی دیر وہ گئ تھی وہ منہ بنا گئ ۔
اور اپنی نماز پڑھ کر وہ باہر آئی تو وہ لون میں بیٹھا تھا شاہنواز نے شاید انوائیٹ کیا تھا اس سے ہی بات کر رہا تھا
اوکے ابھی آتا ہوں” وہ بولا اور ساز کی جانب دیکھا
چلو شاہ کے پاس چلتے ہیں “
وہ کچھ نہیں بولی کوئ فائدہ ہی نہیں تھا ماننی تو تھی نہیں اس نے
وہ اسکی بات مان کر اسکے حکم کے مطابق چلنے لگی وہ لوگ کچھ دیر میں شاہ کے گھر پہنچے اور ساز تو جھجھک رہی تھی وہ ایزہ کا گھر تھا وہ اتنی دھڑلے سے کیسے ا سکتی تھی جبکہ وہ تو اڑتا ہوا اندر گیا تھا
وہ جیسے ہی داخل ہوا ۔۔ دادی جان نے اسکے لیے بانہیں کھول دی
اہ میرا بیٹا آیا ہے” وہ بولیں عمر رک گیا
حیرانگی سے انھیں دیکھنے لگا دادی جان مسکرا دیں تھی وہ سوال کرتا کہ شاہنواز اور ایزہ بھی آ گئے ۔
ایزہ کا لاسٹ منتھ چل رہے تھے وہ کافی ہیلدی ہو گئ تھی ۔
شاہنواز نے اسکے لیے بازو کھولے تو وہ اسکے بازو میں سما گی اور ایزہ اسے بھی ملا ۔۔۔جبکہ ساز ایکطرف کھڑی تھی
دادی جان سے بھی ملو “
وہ جھکا انکے آگے سر جھکا دیا ساز بھی اگر بڑھ کر انھیں سلام کر گئ
آئے چھوڑی مجھے تو لگا تو بولتی ہی نہیں”
وہ بولیں جبکہ عمر نے ائی برو اچکائی
بزرگوں پنگے کم لیا کرو “
عمر ” شاہنواز نے ٹوکا وہ زبان دبا گیا جبکہ ایزہ نے ساز کی جانب نہیں دیکھا ساز سر جھکا گئ کچھ کنفیوز سی لگ رہی تھی عمر نے اسے اپنے نزدیک کر لیا شاہنواز کے پاس بیٹھ کر تو وہ جیسے دنیا ہی بھلا دیتا تھا وہ شاہنواز کو ۔۔ سب کچھ بتا رہا تھا کہ وہ کیسے غصے میں آیا اور کیسے کیا کیا کچھ اسنے کیا شاہنواز بھی ہنس رہا تھا ۔
اور پھر شاہنواز نے ہی پوچھ لیا
تم بارات والے دن بھی غصے میں تھے ” وہ پوچھنے لگا جبکہ عمر نے شانے اچکا دیے
اب نہیں ہوں
اچھا یہ بتاو منہ دیکھائی کیا دی ہے”
عمر خیام پورا پورا دے دیا اور کیا دوں “
اوہو شرم کر یار ” شاہنواز نے اسے شرم دلائی وہ منہ بنا گیا
آپ نے جانے کو کیا دیا تھا “
پوچھ لو ” ذرا فخر سے وہ آنکھ کے اشارے سے بولا ایزہ نے چین نکال کر دیکھائی جس میں ایک ہیرا بیچ میں جڑا ہوا تھا ۔
اوو رہنے دیں جناب پرانی چیزیں میں پہلے ہی دے چکا ہوں “
اسنے ساز کی گردن کی جانب اشارہ کیا اسکی گردن میں گولڈ کی چین تھی ۔
شاہنواز کوئک جواب دیتا کہ اسکا فون بجنے لگا
اوہ ایکسکیوزمی گائیز میں آتا ہوں ” وہ اٹھ گیا
ساز اور ایزہ خاموشی تھے عمر نے دونوں کیطرف دیکھا
تم دونوں جانی دشمن ہو ایک دوسری کی کیا؟
اسنے بے ساختہ سوال کیا تو ایزہ چونکی ساز کی جانب دیکھا اور ساز تو پہلے ہی سر جھکائے بیٹھی تھی
سونے۔” اسنے پیار سے اسکے سر پر ہاتھ رکھا
جاو ایزہ کے پاس ” وہ بیوی سے بولا تھا ساز ہلکا سا مسکرائی سامنے اسکی بہن تھی وہ واقعی بہت کچھ جھیل چکی تھی ایزہ نے لیکن کوئی ریسپونس نہیں کیا اٹھ گئ
ساز شرمندہ سی ہوئی عمر نے آنکھ کے اشارہ سے اسے اسکے پیچھے جانے کے لیے کہا تو ساز اسکے پیچھے چلی گئ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
