Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 41

وہ اسے لیے ایک بہت بڑے گھر میں آ گیا تھا وہ اپنے گھر جانا چاہتی تھی لیکن عمر خیام کا دماغ کیسے درست کرتی اول تو ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ اسکی جانب دیکھ بھی لے اسنے اسے شدید تنگ کیا ہوا تھا
وہ اسے بار بار یاد دلا رہا تھا کہ اسنے ارہم بھائی کے موبائل میں کیا دیکھا تھا اور ساز جیسے ہی اسکی یہ باتیں سنتی سن رہ جاتی اور شرمندگی سے سر جھکا لیتی کہ اب تو بولنے کے لیے اسکے پاس الفاظ نہیں اور اسی چکر میں وہ اسے یہاں لے آیا تھا یہ بہت بڑا گھر تھا پتہ نہیں کیوں ساز کو لگ رہا تھا عمر اسے ناز آنٹی کے گھر لے ایا ہے کیونکہ یہاں پر موجود ہر چیز کی نک سک بیان کر رہی تھی کہ یہ انکا گھر ہے وہ کمرے سے باہر نکل ائ کیونکہ عمر بیڈ پر پھیل کر سو رہا تھا اور وہ صوفے پر ہی تھی ۔
وہ باہر ا گئ تھی فریش ہو کر اور اسنے ایک نگاہ پورے گھر پر گھمائی
رہنے والے کی نازک مزاجی کی طرح تھا یہ گھر کچھ بہت حسین بہت خوبصورت اور پھر وہ پورے گھر کی سیر کو نکل گئ اسنے کمرے کھول کر چیک کیے ۔
عجیب نچوڑ والی چیزیں تھیں کہیں ویڈیو گیم کا پورا ایک سسٹم تھا اور کہیں دیوار پر پوری ایل سی ڈی لگی تھیٹر کی شکل دے رہی تھی
کسی کمرے میں عمر کے سردیوں کے کپڑے تھے کسی میں گرمیوں کے کہیں عمر کا کچھ تھا کہیں کچھ اور جم بھی تو تھا اسی گھر میں ۔۔۔۔
یہ عمر کا گھر تھا یہ ناز آنٹی کا انکا تو کوئی کمرہ نہیں تھا وہ پر سوچ ہوئی اور اچانک سکی نگاہ ایک چھوٹے سے دروازے پر گئ اسنے وہ دروازہ کھولا
اور اندر سے بڑی پیاری سی خوشبو اسکے ناک کے نتھنوں سے ٹکرائی اور وہ اندر ا گئ
بلکل عام سا فرنیچر اور بلکل عام سا کمرہ
ایک جائے نماز بچھا ہوا تھا بستر پر شکنیں تھیں جن پر ڈھول جمی ہوئی تھی اور جائے نماز پر رکھی تسبیح کے دانے آدھے ہوئے ہوئے تھے پانی کا گلاس آدھا رکھا تھا اور ایک سفید شال لیٹی ہوئ ایک طرف رکھی تھی
وہ حیرانگی سے ایک ایک چیز کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
یہ تو عمر ناز آنٹی کے مرمت کے بعد یہاں آیا ہی نہیں تھا یہ پھر اسنے ان چیزوں کو انکے احساس کو ایسے ہی چھوڑا ہوا تھا اگر ایسا تھا تو وہ تو عشق کرتا تھا اپنی ماں سے ۔۔۔ وہ دل ہی تھام گئ کہ اسکے دل میں بھی کبھی اسی محبت نہیں آئ اپنی ماں کے لیے
کیا کر رہی ہو یہاں ” اچانک پیچھے سے آتی آواز پر وہ ذرا ڈر گئ مڑی تو وہ دروازے کے باہر کھڑا تھا آف سردی اتنی تھی اور وہ یوں ہی شرٹ لیس ا گیا تھا
آپ کپڑے تو پہنیں ” وہ جلدی سے چہرہ موڑ گئ ۔
تم باہر او ” اسنے سنجیدگی سے کہا
ساز کو احساس ہوا کہ وہ غلطی کر چکی ہے وہ خاموشی سے سر جھکائے باہر ا گئ اور بنا اندر جائے ہی اسنے وہ دروازہ بند کر دیا
آپ اندر کیوں نہیں گئے”
مجھے طوائفیں پسند نہیں ” سر جھٹک کر وہ بولا اور کچن کی جانب بڑھ گیا ۔
طوائفیں نماز بھی تو نہیں پڑھتی ہو سکتا ہے کہ انھوں نے توبہ کر لی ہو آپ ایسے تو ان پر ٹھپا نہیں لگا سکتے کہ اگر وہ طوائف تھیں تو مری بھی طوائف رہ کر ہی ہیں ” اسنے جراح کی
ڈاکٹر ڈاکٹر ہو کر مرتا ہے وکیل وکیل ہی مرتا ہے شرابی شرابی ہی مرتا ہے اور نمازی نمازی ہی مرتا ہے اور طوائف بھی طوائف ہی مرتی ہے مجھ سے بحث مت کرو میں تمھارے ساتھ سخت رویہ نہیں رکھنا چاہتا کافی پیو گی ” وہ اپنی بات پر ایسے زور دے گیا جیسے یہ ہی حقیقت ہو اور وہ اسے چلا نہیں سکتی ۔
مجھے نہیں لگتا ایسا ہے نہ ہر شرابی شرابی ہو کر مر سکتا اور نہ ہر طوائف طوائف ہو کر ہدایت کسی کو بھی کسی بھی وقت مل سکتی ہے ایک نمازی سے زیادہ ” اسنے اپنی بات مکمل کی عمر نے سنجیدگی سے دیکھا
کافی پینی ہے ” اسنے پھر پوچھا
میں کالا پانی نہیں پیتی اور مجھے گھر جانا ہے مجھے میری امی یاد ا رہی ہیں”
کون ہیں تمھاری امی مجھے تو کبھی نہیں ملوایا تم نے ” وہ کافی بنا کر خود پینے لگا اور اسکے لیے فریج سے جوش دودھ چاکلیٹ جام کا جار اور بریڈ رکھ دیا
اتنے سب کچھ وہ بھی بنا محنت کے اسنے پہلی بار دیکھا تھا
یہ میں کھا لوں۔” وہ عجیب ایکسائٹمنٹ سی شو کرنی لگی تھی چاکلیٹ کو دیکھ کر ۔۔۔
افکورس بھوت تو ہیں نہیں یہاں” عمر نے سر جھٹکا
اور ساز بریڈ کھول کر اسپر زیادہ زیادہ لگانے لگی جیسے اسے بس ایک ہی سلائس کھانا ہے اور وہ جتنا بھی لگائے گی اب ابھی لگا لے بعد میں ملے نہ ملے ۔
ہے ہے ریلکس یہ سارا تمھارا ہے بریڈ ٹوٹ رہا ہے تھوڑا تھوڑا کر کے کھاو ” وہ بولا اور اپنی مسکراہٹ کپ کے پیچھے چھپا لی وہ شرمندہ سی ہو گئ
تمھیں چاکلیٹس پسند ہیں ” اسنے اسے اہستہ سے کھانے کو بولا
جبکہ ساز کی انگلیوں میں چاکلیٹس لگ گئیں تھی ساری اسنے سر ہلایا پورے جوش سے اور اپنی ایک انگلی منہ میں لے لی ۔
عمر اسے دیکھ رہا تھا
کتنی پسند ہے ” وہ سنجیدگی سے اسے گھورتی نگاہوں سے دیکھتا سوال کرنے لگا
بہت پسند ہیں مگر میرے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے تو کھانے کو بھی نہیں ملتی تھی بدر بھائی کبھی کبھی لا دیتے تھے ۔۔ کوئی لاتا ہی نہیں تھا ۔۔ پھر اسنے دوسری انگلی بھی منہ میں ڈالنی چاہی کہ عمر نے اسکا ہاتھ جکڑ لیا ۔
حالانکہ دونوں آمنے سامنے کھڑے تھے شیلف کے اسطرف وہ تھی اسنے ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے سامنے کھڑا کر لیا۔
ساز اسے حیرانگی سے دیکھنے لگی اسکا کپ کافی کا دھواں اڑا رہا تھا ۔۔۔ جنوری کی یکم تھی سرد ہوائیں وجود میں اتر رہیں تھیں پہلے ہی اوپر سے اسنے بھی اسکے اندر جیسے برف جما دی اسکی آنکھیں عجیب ہی طرح سے ساز کو دیکھ رہی تھی ۔
مجھے بھی بہت پسند تھی یہاں تک کے ایک بار میں نے مام سے ضد لگا لی کہ مجھے اپنا پورا روم چاکلیٹ سے بھرا ہوا چاہئے تھیں چھوٹا تھا کافی ۔۔۔
اور تم جانتی ہو جب میں سکول سے آیا “
وہ روکا اسکی کمر کو دونوں ہاتھوں میں جکڑا اور ایک جھٹکے سے اٹھا کر اسے شیلف پر بیٹھا دیا ساز جیسے آنکھیں پھاڑے سے دیکھتی رہ گئ
عم۔۔۔عمر ” عمر کو سنائی ہی نہیں دے رہا تھا ۔
ساز کو لگا سردی اتنی بڑھ گئ ہے کہ وہ ٹھٹرا رہی ہے عمر عین اسکے سامنے کھڑا ہو گیا ۔
میں سکول سے آیا تو میرے کمرے کو انھوں نے چاکلیٹس سے بھر دیا دیواروں پر بیڈ پر میرے کپڑوں میں ہر جگہ چاکلیٹس تھی
میں نے خوشی سے انھیں کیسیز کر ڈالیں ایسے ۔
اسکے حسین سے چہرے پر جھک کر اسنے اسکے گال پر ایک چھوٹی سی کس کی ۔۔۔ ساز کو ہچکی لگ گئ لیکن عمر اسکی حالت کی پرواہ نہیں کر رہا تھا اسنے ایکدم اپنے دونوں ہاتھ اسکے سینے پر رکھے اور اسے دباؤ دے کر دور کرنے لگی مگر مجال ہو اسکے پہاڑی وجود کو وہ ہلا بھی پا رہی ہو ۔
اسکی ٹھنڈی انگلیاں ساز کو اپنے قبضے میں قید کر رہیں تھیں
پھر یہاں کس کی ” اسنے دوسرے گال پر بھی کس کی ۔
پھر ناک پر کی اسکی دونوں آنکھوں کی نرمی سی لبوں میں دبا لیا ساز کی سردی جاتی رہی اور لگا جیسے ماحول میں تپش بڑھ رہی ہو اسکے کان سرخ ہو گئے اور گالوں پر لالی الگ بکھرنے لگی ۔
عمر کچھ دیر بعد اسکی آنکھوں پر سے ہٹا اور دور ہو گیا ۔
بدلے میں انھوں نے بھی ساری مجھے کس کی تھیں ” وہ بولا ساز پہلے کم حونک تھی جو مزید ہو گئ اسکو پھر سے ہچکی آئ شرمندگی سے ادھر ادھر دیکھنے لگی
خیر بتانے والی بات یہ ہے کہ ہم دونوں کو چاکلیٹس پسند ہے ہاو کومن ” اسنے چاکلیٹ کا ڈبہ اٹھا اور اس میں سے چمچ بھر کر منہ میں رکھ لی
کھانا چاہو گی ” وہ مزے سے اسکے دیکھتا بولا ۔
ن۔۔۔نہیں ” اسنے ری جیکٹ کیا اور ۔۔۔ شیلف پر سے اترنے لگی ۔
عمر خیام کو انکار کرنے والوں کا انجام نہیں ہوتا میری ہر طاقت کا جواب ہاں ہے “
کیوں ہٹیں دور ہوئے مجھے گھر جا ” اسکے الفاظ ادھورے رہ گئے اسنے اسکا چہرہ اپنے دونوں ہتھیلیوں میں جکڑا اور اسکے لبوں پر جھک گیا ۔
ساز کو یہ کھیل نہیں کھیلنے اتے تھے جبکہ وہ تو لگتا تھا بادشاہ ہے اس دنیا کا جب وہ اپنی ایسی جھلک دیکھا دیتا ساز جیسے سن رہ جاتی اسے دماغ عمر کے قبضے میں چلا جاتا اور دماغ کے ساتھ ساتھ اسکے دل اور اسکے جسم پر بھی عمر خیام کا اختیار ہو جاتا
اسنے اسکی کمر میں ایک ہاتھ ڈال لیا اور وہ خود بھی کھا رہا تھا اسے بھی کھلا رہا تھا جیسے چاکلیٹ کے ٹیسٹ میں مزید اضافہ ہو گیا ۔ ۔
ساز کو اپنے منہ میں گھلتی وہ چاکلیٹ فیل ہو رہی تھی اور اسکے ساتھ ساتھ زبردستی احتجاج کرتا اسکا لمس جو زبردستی اسے کھلا رہا تھا گویا وہ کھانے پر مجبور تھی اور چاکلیٹ تمام ہوئی عمر نے ساری چاکلیٹ صاف کر لی اور پھر جیسے جھٹکے سے دور ہو گیا
ساز کے سرخ ہونٹ گویا تھے شدت خوب تھی پر زور تھی ۔
وہ یہ سب نہیں کرنا چاہتا اسکے ساتھ پھر بھی اسے اپنی جانب اب کھینچنے لگی تھی ۔
ساز جہاں منہ جھکا کر بیٹھی تھی وہیں عمر دور ہو گیا ۔
اسکا چہرہ دیکھنے لگا اپنے بے اختیار ہونے پر خود کو کوسنے لگا یہ کیسی بے اختیاری اسے اپنے اردگرد لپیٹ رہی تھی وہ اسے چاہتا نہیں تھی پھر اسکے ساتھ یہ سب کرنے کا کیا مقصد تھا یہ زیادتی تھی لیکن وہ کر رہا تھا وہ اسے چھوڑ دے گا وہ جانتا تھا
پھر اسے اپنا کر کے کیوں چھوڑنا چاہتا تھا وہ چھوڑ دیتا نہ ویسے ہی جیسی وہ ہے
لیکن یہ بے خیالی سے اپنے قبضے میں بڑی طرح جکڑ رہی تھی وہ جیسے دماغ کی ہر دلیل پر لعنت بھیجتا آنے والے وقت کی پرواہ کیے بنا دوبارہ اسکی جانب بڑھا نیوٹرلا کی چمچ بھری اور ساز کے لبوں پر پھیر دی ۔
Open your mouth ……
حکم دیا وہ لب وا کر گئ دل کی دھڑکنوں کی بے ہنگمی عمر کو سنائی دے رہی تھی وہ کان بند کر گیا اور اسکے منہ میں چمچ ڈال کر اسکے ہونٹوں کو اور ادھ کھلے منہ کو دیکھنے لگا ۔
عمر ۔۔ ساز نے جیسے اسے روکنا چاہا
عمر نے اسکی آنکھوں میں دیکھا اور جیب میں سے اپنا رومال نکال کر اسکی آنکھوں پر باندھ کر وہ اسکے شانے پر دباؤ ڈال کر اسے شیلف پر لیٹا چکا تھا ۔
ساز جیسے کسی بے جان گڑیا کیطرح اسکی ہر بات مان رہی تھی وہ چند لمہے اسے دیکھتا رہا اور اسکے بعد اسکے کان میں مدھم سی سرگوشی کی تھی
مجھے آج سے پہلے اتنا ذائقہ کیوں محسوس نہیں ہوا ” وہ سوال کر رہا تھا اور کرتے کرتے ساز کے لبوں پر سے اسکے ساری چاکلیٹ صاف کر دی ساز کی سانسوں کی آواز بہت تیز تھی اتنی کہ عمر کو پاگل پن پر اکسا رہی تھی اور عمر نے اسکے آدھے کھلے منہ کو دنوں ہاتھوں سے پکڑا اور پوری طرح اسپر چھا گیا
اسکا لمس آگ تھا اور وہ خود کسی انگارے سے کم نہیں تھا جلا کر راکھ کر دیتا ۔
لمہے سرک رہے تھے پل بڑھ رہے تھے مدہوشی سر پر چڑھ رہی تھی دیوانگی سی محسوس ہو رہی تھی جسے فلحال ایک ضدی شہزادہ کوئی نام نہیں دینا چاہ رہا تھا لیکن دل کے ہاتھوں مجبور ہو رہا تھا
ان لمہوں کی خوبصورتی نہ قابل بیاں سی تھی ۔
وہ اسکے ہونٹوں سے گال پر آیا مٹھاس جیسے بڑھتی گئ ساز چہرہ موڑ گئ اور عمر نے اس گال پر بھی مٹھاس گھول دی
چاکلیٹ سے زیادہ ذائقہ ہے تم میں جس چیز کا ذائقہ مجھے سمجھ ا جائے میں اسے اسے ختم کر دیتا ہو ۔۔ پورے طرح ” ہلکی سی چاکلیٹ اسکے ہونٹوں کے کنارے پر تھی اسنے وہ بھی صاف کی اور اسکی جانب دیکھا
وہ اسکے شولڈرز پر سختی سے ناخن چبھوئے ہوئے تھی عمر نے اسکی آنکھوں کی ہٹی یوں ہی کھول دی
ساز آنکھیں بند کیے ہوئے تھی ۔
حسین ” عمر ایک لفظ میں بات تمام کر گیا اور ساز کے لب مسکرا دیے ۔
وہ اس حسین مسکراہٹ کو پہلی بار بہت قریب سے دیکھ رہا تھا
یہ سب بھول جانا تمھاری زندگی میں ایسا بھی کچھ ہوا تھا ” اور پھر خود ہی دور ہو گیا ۔
میں فریش ہو جاتا ہوں ” وہ پیچھے ہٹ گیا
پھر ہم گھر چلیں گے ” وہ بولی
ابھی نہیں ابھی مجھے تمھارے ساتھ تھوڑا اور وقت گزارنا ہے “
وہ مڑ کر اسکی جانب دیکھنے لگا ۔
لیکن آپ گھر میں بھی تو گزار سکتے ہیں” وہ اہستگی سے بولی
پھر عمر خیام تمھیں مختلف ملا تو تم ہرٹ ہو گی
اسنے کہا ۔
کیا مطلب ” ساز کو سمجھ نہیں آیا ۔
کچھ نہیں وہ کہہ کر اپنے کمرے میں چلا گیا
ساز اس انوکھے چاکلیٹ کھانے کے طریقے سے جیسے بہک گئ
معصوم جذبات تھے اسکے بھاؤ میں بہتے چلے گئے ۔
ایک لمہے کے لیے بھی ان مہربانیوں کے پیچھے کی وجہ نہیں جاننی چاہی تھی
وہ محبت کرنے لگا تھا وہ یہ جان گی تھی اور جب محبت ہونے لگ جائے تو کہاں عقل کہ باتیں سمجھہ آتی ہیں وہ بھی بہتی جا رہی تھی
وہ تیار ہو کر نیچے آیا تو فریش تھا
چلو نیو ائیر اس بار تمھارے نام “
کیا نیو ائیر” وہ بریڈ کھا رہی تھی ۔
عمر کو کافی اچھی لگتی تھی اسکی یہ سادگی ۔
آج فرسٹ جنوری ہے “
تو “
تم پاگل ہو”
اب آپ مجھے پاگل کہیں گے”
پاگل کو پاگل ہی کہا جاتا ہے دماغ تو گٹھنے میں ہے تمھارے ” وہ اسکو اوپر سے نیچے تک دیکھنے لگا
ویسے تم کم و بیش میری بیوی نہیں میری ماسی لگتی ہو ” ساز نے اسے گھورا
آپ ہٹیں مجھے اپنے گھر جانا ہے “
مجھے اپنے گھر جانا ہے ” وہ منہ بنا کر بولا
چلو شوپینگ کرتے ہیں تمھاری”
اسنے کہا اور ساز کے نہ چاہنے کے باوجود اسے کھینچ کر اسنے گاڑی میں بیٹھا دیا
میرے پاس بہت کپڑے ہیں” وہ بولی تھی وہ نہیں کرنا چاہتا تھی شاپینگ
تو اور لے لو ” اسنے شانے اچکا کر گھر سے باہر گاڑی نکالی اور گارڈ نے دروازہ بند کر دیا یہ واحد شخص تھا جو ان دونوں کے علاوہ یہاں موجود تھا ۔
اسنے زن سے گاڑی آگے بڑھائی اسکی گاڑی کی آواز ساز کے دل کو ہمیشہ پریشان کرتی تھی ۔
یہ اسراف ہے فضول خرچی گناہ ہے اللہ تعالٰی پسند نہیں کرتے حساب کتاب نہیں دینا آپ نے ” وہ گھورنے لگی
میرے باپ کی جگہ دھاڑی مونچھ لگا کر مسجد کا امام بن جاؤ ۔۔۔ چلو اللّٰہ کے گھر میں ڈھونگی انسان کی جگہ ایک اچھا انسان بیٹھ جائے گا جو لوگوں کو ایسی باتیں بتا کر سیدھا کر دے گا ” وہ ہلکا سا ہنسا
وری فنی” وہ منہ بنا گئ
اوئے تمھیں انگلش بھی آتی ہے ” وہ حیران ہونے کی اداکاری کرنے لگا ۔
جی الحمدللہ میں نے ایف ایس سی کیا ہے اور بہت اچھے گریڈز میں پاس ہوئ تھی “
ایکدم جھٹکے سے گاڑی رکی ۔
تم ایف ایس سی کی سٹوڈنٹ ہو ” وہ حیران ہوا
جبکہ ساز تو پھولے نہ سمائی وہ ایمپریس ہو گیا تھا اس سے ۔
جی” وہ دانت نکالنے لگی
اچھا ” بس اتنا کہہ کر اسنے گاڑی آگے بڑھ لی
آپ نے کتنا پڑھا ہے “
پی ایچ ڈی انگلش ” بات ختم بس
اسکا منہ کھلا گیا جبکہ وہ لاپرواہ ڈرائیو کر رہا تھا
جھوٹ ” وہ بس اتنا ہی بولی اور عمر کا قہقہہ گاڑی میں بلند ہوا ۔
سریسلی جھوٹ نہیں ہے یہ بس وقت زیادہ تھا تو پڑھتا گیا اور گھر آنے کا دل نہیں کرتا تھا ” وہ بولا
ساز کو رونا انے لگا وہ تو چوڑی ہو گئ تھی کہ وہ ایف ایس سی کیے ہوئے ہے ۔
ایک شرابی کیسے اتنا پڑھ سکتا ہے اسے کیوں یقین نہیں ا رہا تھا مگر وہ سنجیدگی سے بول رہا تھا
مجھ سے بات نہ کریں” وہ منہ بنا کر منہ پھیر گئ
لو مجھے کیا پتہ تھا تم نے بس ایف ایس سی کیا ہوا ہے”
تو حیران کیوں ہوئے تھے” وہ آنکھیں نکال گئ
او ہو یار مجھے یقین نہیں ایا تم اتنی چھوٹی ہو بس ” وہ پہلی بار تفصیل دے رہا تھا کسی کو جبکہ ساز کو رونا ارہا تھا اب
میں نے کہا نہ مجھ سے بات نہ کریں گھر چلیں”
لو میرے پڑھنے پر ناراض ہو گئ ہے کہا ہے نہ تمھاری عقل گھٹنوں میں ہے ” وہ سر جھٹک گیا
جبکہ ساز گھور کر بے بسی سے چہرہ موڑ گئ
وہ دونوں مال پہنچے اسکا منہ بنا ہوا تھا عمر نے سب سے پہلے اسکا ڈریس چینج کرایا وہ اب بھی منہ پھلائے ہوئے
اچھا میری ڈگریاں تم لے لینا میرے تو کسی کام کی نہیں” اسنے اسکے شانوں پر بازو پھیلا کر اسے اپنے نزدیک کر لیا ۔
ایسا تھوڑی ہوتا ہے ” وہ ہونٹ نکال گئ ۔
عمر کو ہنسی ا رہی تھی
تم واقعی اس بات پر دکھی ہو ” وہ حیران تھا
ہاں ” اسنے کہا
آہ اب کیا کیا جائے تم ایڈمیشن لے لو آگے پڑھ لو ” وہ بولا
جبکہ وہ اداس ہو گئ
تایا جان نہیں مانیں گے”
تمھاری شادی تایا سے ہی تو ہوئی ہے”
استغفراللہ استغفراللہ ” وہ توبہ توبہ کرنے لگا وہ ہنسنے لگا اور ایک فوڈ کارنر پر رک گیا دونوں کے لیے برگر خریدا
وہ خوش لگ رہی تھی اسکے ساتھ ۔
اگر میں بھی تمھارے تایا جیسا ہوتا یہ بڑی ساری دھاڑی مونچھیں اور لالچی ” وہ ہنس دیا ۔
آپ بہت اچھے ہیں عمر ” وہ اہستگی سے بول دی
عمر کی مسکراہٹ سمٹی اور سنجیدگی سے اسکی جانب دیکھا
مجھے یہ الفاظ مت کہا کرو میں بلکل اچھا نہیں ہوں نہ تمھارے لیے نہ کسی اور کے لیے” وہ سکون سے بولا اور ایک شاپ میں داخل ہوا ۔ ساز ذرا ہچکچا سی گئ وہ ہر بات منہ پر جو مارنے کا عادی تھا یہ جنٹس شاپ تھی وہ اپنے لیے کچھ دیکھ رہا تھا ۔
اور وہاں سے اپنے لیے شاپینگ کر کے وہ باہر نکلا ۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر پورا دن اسنے ساز کے ساتھ نیو ائیر کا پہلا دن بنایا تھا اسے اپنی دنیا کی سیر کرا دی تھی ۔
وہ بھی خوش تھی اسکے ساتھ اور اب ایسی کوئی بات نہیں کی جس سے وہ اداس ہوتا یہ اسکے منہ سے کوئ تلخ بات نکلتی ۔
پورا دن دونوں نے ساتھ گزارا تھا اور رات کے ڈنر کے وقت جب وہ ٹیپ ریکارڈر کیطرح چل رہا تھا
اچانک زمیر کی کال دیکھ کر رکا ۔
ویٹ میں ابھی آیا ‘
اسنے کہا اور ساز نے سر ہلا دیا وہ خاموشی سے کھا رہی تھی تبھی کسی نے اسے پکارہ
ہائے کسی ہو ساز “
وہ سبحان تھا ایک بار جب انکے گھر آیا تھا اسنے دیکھا تھا ایکدم وہ کھڑی ہو گئ اور مڑ کر دیکھنے لگی
عمر وہاں کسی سے محو گفتگو تھا
اپ”
جی میں سبحان کیسی ہیں اپ ننم اپ گھبرا کیوں رہی ہیں” وہ مسکرایا
آپ جائیں ” وہ بس اتنا ہی بولی وہ بر بار مڑ کر دیکھا رہی تھی ۔
تو آپکی شادی ان سے ہوئی ہے عمر خیام شرابی” سبحان نے منہ بنایا
اور عمر نے کال بند کی مڑا تبھی سبحان بھی ایسے مڑ گیا جیسے بس گزر رہا ہو
کھانا کھا لیا ” وہ سنجیدگی سے بولا
ج۔۔جی چلیں پھر” اسنے پوچھا تو وہ سر ہلا کر اٹھ گئ
لیکن سبحان نے ان دونوں کو ہی دیکھا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے