Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 09

اسکے ساتھ کوئ اور بھی تھا
ایزہ کا دل کیا یہاں سے غائب ہو جائے وہ سہمی سہمی نظروں سے سامنے دیکھتی حالانکہ وہ پیچھے قدم لے سکتی تھی لیکن شاہنواز کو سامنے پا کر وہ اسی طرح ہو جاتی تھی جیسے جسم سے روح نکل گئ ہو اور جان باقی نہ رہی ہو
شاہنواز نے اسے لون میں سجے سورے بڑی حیرت سے دیکھا تھا وہ مرد جو اسکے ساتھ آیا تھا اسنے بھی ایزہ کو دیکھا ۔
شی از سو بیوٹی ہو از شی”
اس مرد نے بظاہر تعریف کی تو ایزہ کو لگا اب شاید اسکے ٹکڑے کر دیے جائیں وہ اسکے پاس نہیں آیا تھا اس بات کا جواب نہیں دیا اور اسے یوں ہی دیکھ کر وہ اندر چلا گیا ۔
ایزہ کے وجود میں ہلکی سی حرکت ہوئ
ہاتھ پاوں کانپ اٹھے بے چینی سے پہلو پر پہلو بدلنے لگی
وہ مرے مرے قدموں سے اندر ائ اور جلدی سے بھاگ کر اوپر چلی گئ
شاہنواز ٹانگ پر ٹانگ جمائے خاموشی سے بیٹھا تھا جبکہ وہ آدمی اسے کچھ بتا رہا تھا اور ان دونوں کے درمیاں توقف ایزہ کے بھاگنے پر ہوا تھا
ایزہ کمرے میں ائ اور اسنے روم لاک کر دیا
کیا کیا ضرورت تھی اسے یہ سب کرنے کی اسے کیوں ضرورت پڑی یہ سب لگانے کی؟
اسے خوف سے رونا آیا تو ہونٹوں پر ہاتھ مل دیا
اسکی لیپسٹک گالوں پر پھیل گئ
سارا چہرہ بار بار دھو دھو کر سرخ کر لیا تھا اسنے جبکہ رو رو کر آنکھیں بھی سجا لی تھیں یقینا اب وہ اسکا منہ توڑنے گا
اس سے کہے گا کہ کس یار کے لیے سج کر بیٹھی تھیں کیونکہ اسکے لیے تو کبھی تیار نہیں ہوئ تھی
دادی کی باتیں سچی ثابت ہو جائیں گی اور اسنے کہا تھا جس دن وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا اسے دنیا کی ہر لڑکی کے لیے عبرت بنا دے گا
ہو سکتا ہے اسے مار مار کر اسکی ہڈیاں توڑ دے ۔
ویسے تو انکے گھر میں ٹی وی یہ موبائل لڑکیوں کے پاس ہوتا نہیں تھا لیکن یہاں ا کر اسنے ایسی نیوز کئ بار سنی تھی پھر کالج میں بھی لڑکیاں اکثر بتا دیتی تھی اب اسکے ساتھ کیا ہو گا ؟
بے چینی نے اسے ایسے چین نہ لینے دیا کہ اسکا دم گھٹنے لگا اور وقت کافی گزر گیا
اچانک دروازہ کھلا ایزہ کھڑی ہو گئ
جرم کی سزا پانچ گھنٹے بعد ملے یہ پانچ منٹ بعد ملنی ہی تھی اسنے شاہنواز کو عجلت میں اندر آتے دیکھا
اور جتنی جلدی میں تھا وہ وہیں رک گی اسے دیکھ کر ۔۔۔۔
تمھیں کسی ملازم نے بتایا تھا آج گھر میں پارٹی ہے چھوٹی سی” ۔اسکے سوال پر ایزہ نے حیرانگی سے سر اٹھایا
وہ کچھ کہہ نہیں سکی ۔۔۔
اتنی تیار ہو کر لون میں بیٹھی تھیں تو یقینا کسی نے بتایا ہو گا ورنہ تمھارے شکل کبھی سنوری ہوئ دیکھی نہیں میں نے خیر سب اتار کیوں دیا ” اسکے سوال پر ایزہ کا دل کیا وہ زمین پر پڑ جائے اور چیخے چلائے بہت زور زور سے روئے
اللّٰہ نے اسے بچا لیا کتنی آسانی سے وہ خوف سے مرنے کو تھی اور اللّٰہ تعالٰی نے کتنی سہولت سے اسے اس خوف سے نکال دیا
اسکی نگاہ جھک گئ کیونکہ اسکی آنکھوں میں پانی بھرنے لگا تھا
مج۔۔مجھے لگا اپکو برا لگا اس۔۔اس وجہ سے چہرہ دھو ۔۔۔دھو دیا ۔م۔۔مجھے نہیں ۔۔۔پتہ ۔۔۔ تھا۔۔میں وی۔۔ویسے ہی بس تھوڑا بہت تیار ہو گئ تھی” وہ سچ بتا گئ جہاں اللّٰہ نے خود سے اتنی مدد کی سچ پر بھی اسکی مدد کرتے ۔۔۔
شاہنواز نے اسکے اٹکے ہوئے لفظ سنے
گھر میں ہزار ملازم ہیں” لہجے میں سختی اتری
میں آئندہ خیال رکھوں گئ” ایزہ کی آواز بھیگ گئ
تمھیں کھانا وانا بنانا آتا ہے” وہ سنجیدگی سے پوچھنے لگا
ج۔۔جی” ایزہ نے گال پر سے آنسو صاف کیے
گڈ ٹھیک ہے فارغ کرو پھر سب کو گھر سے گھر کے اندر کوئ مرد نہیں آئے گا پھر جیسے مرضی پھیرو ” وہ کہہ کر مڑ گیا
ایزہ نے حیرانگی سے اسکی پشت دیکھی وہ شخص ہر جگہ حیران کرتا جا رہا تھا وہ اپنے اندر کے گلٹ کے باعث اتنی خوفزدہ رہتی تھی
پھر اسکے سخت اور سرد رویے پر پھر دادی جان کے طعنوں اور مار پیٹ پر لیکن ہر بار جب اسے لگتا اب وہ اسے مار مار کر ختم کر دے گا وہ کوئ نہ کوئ راہ دے جاتا اور وہ یہ بھی جانتی تھی یہ سب وہ لاپرواہی اور بے دھیانی میں کرتا ہے
اسے ایزہ میں انٹرسٹ بستر کی حد تک تھا اگر اسے ایزہ سے محبت ہوتی تو یقینا وہ اسکی خاموشی سے کو توڑتا لیکن شاہ نواز کو جتنا وہ سمجھ پائ تھی
ایک میچور مرد تھا
اور اپنے ہر انداز میں بولڈ اسے غرض نہیں تھی وہ اپنی بیوی کو چار بندوں میں چھونا ہے یہ اکیلے کمرے میں ۔
وہ محبت وغیرہ کے جذبوں سے عاری تھا ۔
اسنے ایک بار دادی سے باتیں کرتے اسکے یہ الفاظ سنے تھے
محبت بچوں کا کھیل ہے اگر وہ مجھ سے نہ بھی کرے مجھے تب بھی فرق نہیں پڑتا اور مجھے دنیا میں کسی سے محبت نہیں “
یہ الفاظ شادی کے شروع دنوں میں سنے تھے اسنے جب دادی جان نے کہا تھا کہ ایزہ کم عمر ہے تم سے بہت محبت کرے گی
ہو سکتا یے تب انھیں ایزہ اچھی لگتی ہو اور وقت کے ساتھ ساتھ انھیں اسکا کردار اسکے چہرے پر دیکھتا ہو
شاہنواز ایک انا پرست مغرور اور گھمنڈ مرد تھا جبکہ اسکے برعکس ایزہ محبت اور چاہت کے لبادے میں لیٹی ایک حسین سی کلی جس کے اختبارات اسی کے ہاتھ میں تھے
ایزہ کو اسکی کوئ بات اچھی کبھی نہیں لگی ان کے بیچ کبھی کوئ بات ہوئ بھی نہیں اور بس مرد کا شکل و صورت سے اچھا ہونا کافی ہوتا ہے
سیرت کہاں جاتی ہے ؟
اخلاق کہاں جاتا ہے لہجے کی نرمی آنکھ کی نرمی کہاں جاتی ہے لیکن اسکا یہ اندھا اعتبار ایزہ کو پاگل کر رہا تھا
جب دنیا میں کسی نے اسپر اعتبار کیا ہی نہیں تو شاہنواز کو کیوں ہے اسپر اعتبار وہ سب کچھ سچ ہی تو ہے جو اسکی دادی نے کہا
وہ واقعی آوارہ تھی” ٹپ ٹپ آنسو بہتے چلے گئے
یہاں تک کے دروازے کی کلک پر اسنے جلدی سے آنسو صاف کیے
جب گھر مہمانوں سے بھر جائے گا تب تم نے اپنے قدم نیچے لے کر جانے ہیں” ایکدم وہ ذرا غصے سے بولا
ایزہ نے آنسو صاف کیے وجود میں حرکت ہوئ
میں ۔۔ میں کیا پہنو ” وہ جاتے جاتے رک گئ
یہ تم مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہو ” اسنے ذرا کڑوی سی نگاہ سے دیکھا
وہ پارٹی میں جاتی وقت ڈریس آپ چوز کرتے ہیں نہ” وہ اہستگی سے بولی
شاہنواز نے گھیرہ سانس بھرا اسکی وارڈروب ایک جھٹکے سے کھولی وہ تو اتنی نازک سی تھی کہ اس آواز سے ہی ہل گئ شاہنواز نے نفی میں سر ہلایا اور اسکے ڈریسز دیکھنے لگا اور ان ڈریسز میں سے اسنے اسکے لیے ریڈ کلر کی ساڑھی کھینچ کر اسکی جانب اچھال دی
اب مجھے روتی ہوئ نہ دیکھنا” کہہ کر وہ مڑا اور خود تیار ہونے لگا
ایزہ نے اس سرخ ساڑھی کو دیکھا
کچھ زیادہ ہی پسند تھا اسے یہ لباس وہ اکثر پارٹیز میں ساڑھی میں ہی جاتی تھی
وہ ڈریسنگ روم میں چلی گئ کیونکہ اسکے ساتھ اسکے پہلو میں تیار ہونے کی ہمت ہی کہاں تھی ۔
اسنے تقریبا آدھے گھنٹے میں خود کو تیار کر لیا تھا بلکل ویسا ہی جیسا ہو جاتی تھی
وہ باہر نکلی تو شاہنواز نہیں تھا
بس اتنی ہی ولیو تھی اسکی دو لفظ جملوں کے بعد وہ اپنی دنیا میں مگن ہو جاتا اسنے اپنی وارڈروب سے ایک سیٹ نکالا کافی نفیس تھا اور گلے میں پہن لیا کافی خوبصورت لگ رہا تھا
چھوٹے چھوٹے ائیرگز پہن کر وہ مکمل تیار ہو چکی تھی ۔
اسنے ائینے میں خود کو دیکھا
وہ حسین تھی یہ بات تو اسنے ہر آنکھیں پڑھی تھی اور دنیا میں ایک ہی شخص تھا جو اسکی تعریفوں میں زمین آسمان ایک کر دیتا تھا اور وہ کتنی بیوقوف تھی نامحرم کی تعریفوں پر پھولے نہ سماتی تھی
خود پر افسوس تو وہ بہت عرصے سے کر رہی تھی
اسنے کہا تھا روتی ہوئ نہ دیکھا آنکھوں کو ٹشو سے صاف کر کے وہ دروازہ کھول کر نکلی تو گھر میں چہل پہل امیروں کے جوتوں کی ٹک ٹک اور گلاسوں کا ہلکا سا شور سا اٹھ رہا تھا
وہ کنفیوز سی تھی شاہنواز کو ڈھونڈنے لگی وہ اسے دور کھڑا دیکھائ دیا
یہاں وہ جانتی ہی کسے تھی سر جھکائے اسکے پہلو میں ا کر کھڑی ہو گئ اور اسکا ہاتھ تھام لیا
اسکی اس حرکت پر شاہنواز نے پلٹ کر ایک نظر چاروں طرف دیکھا
ہر نگاہ اسپر تھی
Meet my wife eza shah”
وہ بولا تو سامنے کھڑی عورت نے اسکی جانب ہاتھ بڑھا لیا
She is too young۔۔
وہ ہلکا سا مسکرائ
ایزہ بھی مسکرا دی شاہنواز کا ہاتھ اسکی کمر پر تھا ایک ڈھارس سی ہو رہی تھی اور پھر ہلکا ہلکا کانفرنس بھی آنے لگا
کیا کرتی ہو تم ” وہ پوچھنے لگی
شاہ کا انتظار ” جو حقیقت تھی اسنے اتنی بتا دی
جبکہ وہ لڑکی قہقہہ لگا اٹھی
سو سوئیٹ کیا یہ کھڑوس اتنا سوئیٹ ہے بھی کہ تم اسکا انتظار کرو ” اسکے چیڑنے سے شاہ کو کوئ فرق نہیں پڑ رہا تھا یقینا وہ اسکی جاننے والی تھی ورنہ اسکی جانب کوئ ہاتھ نہیں بڑھا سکتا تھا
شاہنواز کی جانب ایزہ نے دیکھا وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے ہی دیکھ رہا تھا ایزہ سر ہلا گئ
بہت پیاری ہو تم” اسنے پھر سے تعریف کی
باقی میرے لیے چھور دو میں کر دوں گا ” بلاخر اسنے اس لڑکی کا ہاتھ ہٹا ہی دیا
ایزہ بھی حیران تھی بار بار اسکی تھوڑی کو چھو رہی تھی اور وہ کھڑا مسکرا رہا تھا
پل بھر کے لیے کسی اور کا گمان ہونے لگا تھا کہ وہ شاہنواز تو نہیں ہو سکتا مگر جیسے ہی اسنے ہاتھ یٹایا تو یقین ہو گیا کہ وہ وہ ہی ہے ۔۔۔
آہ تم آج بھی اتنے ہی پوزیسیو ہو ” وہ لڑکی بولی تو شاہنواز شانے اچکا گیا
مجھے زندگی نے ایک بار میری جگہ سے ہلایا یے بار بار نہیں توڑ سکتی” وہ کہہ گیا
ایزہ چونکی تھی مگر بات کہیں اور نکل گئ
شاہنواز ایزہ کو اسکے پاس چھوڑ کر دوسری طرف چل گیا
اپکا نام کیا ہے” ایزہ نے خود ہی پوچھ لیا
وہ ہنس دی ۔۔
دیکھو کب سے میں تم سے بات کر رہی ہوں نام ہی نہیں بتایا ایکچلی میں شاہنواز کی یونیورسٹی فیلو ہوں ۔۔ فیلو سمجھو بزنس پاٹنر سمجھو یہ کچھ بھی سب کو لگتا تھا وہ مجھ سے شادی کرے گا ” وہ قہقہہ لگا اٹھی ایزہ نے اسکی جانب دیکھا ۔
لیکن یہ بات بس ہم دونوں کو نہیں لگتی تھی یو نو دوستی ایک بہت خوبصورت رشتہ ہوتا ہے اگر دونوں طرف سے اس رشتے کی پاکیزگی کو سمجھا جائے
تو میں شاہنواز میں اس طرح انٹرسٹیڈ تھی ہی نہیں اور شاہنواز تو شاہنواز تھا ” وہ سر نفی میں ہلاتی ہنس دی
مطلب” ایزہ کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی
ارے بھئی چھ سات ماہ ہو گئے شادی کو اور تم مجھ سے مطلب پوچھ رہی ہو ” وہ مسکرائ
ایزہ خاموشی ہو گی
چپ چپ رہتی ہو یہ یہ ڈرا کر رکھتا ہے” وہ بولی
نہیں ایسا تو نہیں ہے” وہ اہستگی سے بول دی
نہیں مجھ سے بہتر شاہنواز کو کوئ نہیں جانتا وہ یقینا تمھارے ساتھ سخت ہے” وہ سنجیدگی سے بولی
ایزہ کچھ نہیں بولی
دیکھو ایزہ ہر انسان کی زندگی میں کچھ نہ کچھ ضرور ہوتا ہے تمھاری زندگی میں بھی ہو گا
اور میری میں بھی ہے
شاہنواز تم سے بہت بڑا ہے ائ نو لیکن بیوی بیوی ہی ہوتی ہے پندرہ سال چھوٹی ہو یہ پندرہ سال بڑی ۔۔۔۔
مرد اگر کسی کے آگے گھٹنے ٹیکتا ہے تو وہ اسکی بیوی ہی ہو گی بھلے کتنا بھی آنا پرست ہو “
اور زندگی میں واقعات حادثات بہت تبدیلی لے رہے ہیں
مجھے لگتا ہے تمھارے حسن سے اگر وہ متاثر ہے تو تمھاری کردار سے بھی ہونا چاہیے
چھ سات ماہ میں تمھیں اسکے اندر محبت کا بیج بو دینا چاہیے تھا
تمھاری فضل میں ہریالی بہت ہوتی یہ میرا وعدہ ہے کیونکہ شاہنواز نہایت چپکو انسان ہے” وہ خود ہی ہنس دی
جس کا ہو جائے اسکے بعد تو کوئ اسکے خلاف زمین آسمان بھی ایک کر دے کبھی نہیں جئے گا “
انھوں نے کہا وہ آنکھوں دیکھے پر یقین رکھتے ہیں” ایزہ کو پہلی بار احساس ہوا تھا کہ شاہنواز اسکا شوہر ہے
یہ کسی نے حساس دلایا تھا ۔
بلکل تم بھی تو آنکھوں دیکھے پر یقین کر لیتی ہو گی میں بھی کر لیتی ہوں لیکن اچھی بات یہ ہے وہ کسی کی باتوں میں نہیں آتا اور میں اور تم کسی کی بھی باتوں میں ا سکتے ہیں” اسنے بتایا اور یہ بات تو ایزہ بھی سمجھ گئ تھی چپ ہو گئ ۔
ہمیں اپنے ہاتھوں سے زندگی کو خود سنوارنا ہوتا ہے”
لیکن میری زندگی میں ایسا کچھ نہیں ہے جسے سنوارا جائے” وہ کسی سے سات ماہ بعد بولی تھی
کیوں نہیں ہے بہت کچھ ہے تمھارے پاس غور کرو”
میں اچھی لڑکی نہیں ہوں” وہ بولی رمشہ نے اسکی جانب دیکھا
میں کون سا اچھی ہوں ماضی تو میرے پاس بھی ہے” وہ ہلکا سا مسکرائ
مگر مجھے یہ لگتا ہے میں جتنے دل سے اپنی غلطی کو سدھاروں گی میرے لیے اتنا ہی اچھا ہے تو تم نے ایسا کیوں نہیں سوچا “
لیکن وہ غلطی گناہ ہے” وہ سسک اٹھی
یہ تو شکر تھا وہ دونوں بلکل الگ بیٹھیں تھیں
گناہوں کی معافی نہیں ہوتی کیا ” اسنے اسکے نازک سے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا
آپ پوچھیں گی نہیں وہ کیا ہے” وہ حیرانگی سے دیکھنے لگی
نہیں” وہ مسکرائ اور اسکے پاس ہو گئ
کیونکہ مجھے یہ دکھ رہا ہے کہ ایک چھوٹی سی معصوم سی لڑکی نے بلاوجہ بہت سارا بوجھ اٹھا رکھا ہے تم نے کبھی اللّٰہ سے معافی مانگی ہے
مانگی ہے مجھے لگتا ہے انھوں نے معاف کر دیا ہو گا مگر دنیا معاف تو نہیں کرے گی”
اسکے گالوں پر پھیلتے آنسو دیکھ رمشہ کا افسوس بڑھ گیا اسے امید نہیں تھی وہ ایک بے بس لڑکی سے ملے گی
ارے جانے دو جب تمھیں اس ذات کی معافی پر یقین ہے تو دنیا کا رخ وہ تمھارے لیے خود بدل دے گا ” وہ پیار سے اسکا گال سہلا گئ
ک
۔۔کب” وہ کانپتے لہجے میں پوچھنے لگی
ام ممممم جب تم اس گلٹ سے نکل کر دنیا کو دیکھو گی” وہ مسکرائ ۔
یہ باتیں افسانوی نہیں” وہ ہنس دی
لگتا ہے شاہنواز کے ساتھ رہ کر مچیور ہو گئ ہو ” ایزہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگی ۔
تم یہ نہیں ہو جو تم ہو ۔۔۔ اپنا وہ رخ دیکھاؤ تمھیں یقینا بہت کچھ ملے گا ” وہ اسکا شانہ تھپتھپا گئ۔
ایزہ چپ ہو گئ
اچھا یہ بتاو تمھارا فیورٹ کلر کون سا ہے”
بلیک” ۔۔وہ ہلکا سا مسکرائ
واو شاہنواز کو بھی بلیک ہی پسند ہے” رمشہ چہک کر بولی
ایزہ کی چھوٹی سی پیشانی پر الجھن بھرے بل پڑے
جی نہیں انھیں گرے پسند ہے وہ گرے کلر شوق سے پہنتے ہیں” وہ بولی تو رمشہ کا قہقہہ ابھرا کیوں کہ شاہنواز پیچھے ہی کھڑا تھا اور ایزہ کی اسکی جانب سے پیٹھ تھی
اوکے بھئ تم جانتی ہو اپنے شوہر کو
یہ بتاو کہ تمھیں کھانے میں کیا پسند ہے ” وہ اگلا سوال کرتی بولی
ام کچھ بھی “
یہ کچھ بھی کون سی ڈش ہے شاہ” اسنے شاہنواز کو مخاطب کیا
کتنی بار کہا ہے میرا پور نام لیا کرو “
اچھا بھئ شاہ تو تمھیں تمھاری بیوی ہی کہے گی بس “
وہ گونگی ہے” شاہنواز نے ایزہ کا ادھورا گلاس اٹھا کر لبوں سے لگا لیا اور اسپر نگاہ اٹھائ ایزہ کا چہرہ معلوم نہیں کس احساس سے سرخ ہو گیا
She is blushing how cute”
رمشہ اسے پیار سے دیکھنے لگی جبکہ ایزہ کے ہاتھ کانپ گئے
یہ کیوٹ کیا ہوتا یے کتنی فضول بولتی ہو تم” وہ چیڑ گیا
تم مردوں کو سینس ہی کب ہوتی ہے” رمشہ لڑنے کو ائ
اگر ہم مرد تمھارے اس نام نہاد حسن کی تعریف نہ کریں اپنی پوری سینسیز استعمال کر کے تو تم عورتوں کسی کباڑے میں پڑی بے کار کتاب کیطرح ہو “
ہاہا بہت بے کار بات تھی” رمشہ اٹھ گئ
جبکہ ایزہ کو ڈر لگا وہ کیسے اسکا مذاق اڑا سکتی تھی
سچ تو تم سے کبھی برداشت نہیں ہوتا” شاہنواز نے بقیہ گلاس ایزہ کی جانب بڑھا دیا وہ پھر سے سرخ ہو گئ اور کانپتے ہاتھوں سے گلاس تھام لیا
میری تو بدعا ہے تمھیں ایسی محبت ہو ایزہ سے کہ تمھارے دماغ سے یہ مرد مرد کا بخار تو اترے”
شاہنواز کا قہقہہ کافی عجیب تھا
یہ مذاق تھا ” وہ ہنس کر مڑ گیا ایزہ کا چہرہ سا اترا گیا
رمشہ نے بھی گھورا اسکی پشت کو ۔۔۔
دیکھا کتنا گھمنڈ ہے اسکو ایسا سیدھا کرو تار کیطرح ہو جائے”
وہ مجھ سے بہت بڑے ہیں میں انکے بارے میں یہ باتیں نہیں کر سکتی” ایزہ بولی جبکہ رمشہ پیشانی پر ہاتھ مار کر رہ گئ
واہ وہ تمھارا ابو ہے” وہ بھڑکی
بیوقوف لڑکی بڑا ہے یہ چھوٹا شوہر ہے تمھارا جس پر تمھارا ہر قسم کا حق بنتا ہے یہ اسے عزت دینے کے چکروں میں اپنی ولیو نہ گیراو ذرا چڑھ کر رہو چھوٹی عمر کی بیویاں مرد کی لاڈلی ہوتی ہیں تم اسے ایسے عزت دے رہی ہو جیسے تمہارا بڑا بھائ ہو “
استغفراللہ ” بے ساختہ اسکے منہ سے نکلا
گڈ یہ ہی سوچ اچھی ہے کہ تم اسے بھائ ابو ماموں یہ چاچا نہیں سمجھتی شوہر کیطرح ٹریٹ کرو بلکہ محبوب کیطرح” ۔
آپ کچھ زیادہ ہی فلمی ہیں” وہ ہلکا سا ہنسی
اور ایکدم مسکراہٹ تھمی وہ سات ماہ میں ایک بار بھی ہنسی نہیں تھی
کیوں اتنا ڈر رہی ہو ” وہ اس لڑکی کا خوف دیکھ کر کافی اداس ہو گئ تھی
تم بہت اچھی لگتی ہو مسکراتی ہوئ دیکھو اسکے سامنے مسکراو گئ تو وہ تم پر اپنا سب کچھ بھی وار سکتا ہے اتنی ہی حسین ہو تم” وہ بولی جبکہ ایزہ خاموشی ہو گئ
اچھا خیر میں چلتی ہوں کبھی تمھارا بدتمیز خبیث شوہر مجھے نکالے ۔۔ ہے تو اتنا ہی بدتمیز “
وہ بیگ اٹھا کر گھر کے اندر ا گئ ایزہ بھی پیچھے پیچھے ا گئ تقریبا لوگ جا چکے تھے ایزہ تو یہ بھی نہیں جانتی تھی یہ پارٹی کس لیے تھی کس غرض سے تھی
بہت بہت مبارک ہو شاہنواز ایم شیور تم آگے مزید ترقی کرو گے”
ایک انکل بولے تو وہ مسکرایا
افکورس سر
I’m willing to challenge myself
وہ اکڑ کر بولا ایزہ اس کی جانب دیکھنے لگی
وہ وائٹ اینڈ بلیک ڈریس سوٹ میں تھا اور بے حد ہینڈسم لگ رہا تھا بڑھی ہوئ بریڈز بڑھے ہوئے بال جنھیں سلیقے سے سیٹ کیا ہوا تھا اور اپنے مال اور وجاہت کا نکھرے اسکی ستواں ناک پر بیٹھا رہتا تھا
دیٹس گریٹ” وہ ہنسی اور پھر چلے گئے
تم نے یہیں رہنا ہے” شاہنواز نے اب رمشہ کی جانب دیکھا
دیکھا دیکھا کہا تھا نہ کتنا بداخلاقی ہے یہ شخص جا رہی ہوں اور ویسے بھی اب مجھے تم میں انٹرسٹ نہیں میں تو ایزہ سے ملنے آؤ گی”
بس زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے” وہ ہاتھ اٹھا کر بولا
ایزہ” رمشہ نے منہ بنایا جبکہ وہ گھبرا گئ
آپ اپ پلیز برا نہ مانیے آپ دوبارہ بھی آئیے گا ” وہ اسکا ہاتھ پکڑ گئ اور شاہنواز نے اسکا وہی ہاتھ دور کھینچ کر رمشہ کے ہاتھ پر سے ہٹایا ۔
کوئ بہت ہی گھٹیا آدمی ہو تم”رمشہ نے اسکے بازو پر مکہ مارا
بہت شکریہ اب جاو ” وہ بولا جبکہ رمشہ نے ایزہ کو بائے کہا دور سے ہی ۔۔
آپ اپ دوبارہ بھی آئیں گی نہ” وہ بے ساختہ بولی
کیوں نہیں میں ضرور او گی” وہ ہلکا سا مسکرائ
اور ایزہ نے سر ہلایا اور رمشہ آخری مہمان تھی وہاں سے چلی گئ
شاہنواز کے ہاتھ میں اب ابھی اسکا ہاتھ تھا
نوکر نکال چکا ہوں میں تو یہ سارا بکھیڑا سمیٹو “
اسنے ایزہ کا ہاتھ چھوڑا اور کہہ کر کمرے میں جانے لگا
ایزہ نے سر ہلا دیا ویسے تو ساڑھی سے ڈسٹرب کر رہی تھی لیکن خالی بیٹھنے سے بہت بہتر تھا وہ کام کر لیتی
آج دل عجیب پرسکون سا تھا جیسے بہت بوجھ ہٹا ہو
جیسے اندر ہی ندر جو گھٹن اسے مار رہی تھی وہ باہر نکلی ہو کچھ تو تھا اس لڑکی میں جو وہ اس کو پرسکون کر گئ تھی۔
وہ ہلکا سا مسکرائ
اور ایک ملازمہ اسکے پاس تھی اسکے ساتھ مل کر اسنے پورا حال روم صاف کیا جو چیز جہاں تھی وہاں رکھی اور اسکے بعد اس ملازمہ کو بھی اسنے بھیج دیا کیونکہ دو ہی بندے تھے وہ تھک گئیں تھیں
اب جب صبح سب آئیں تو برتن دھو لینا” اسنے ذرا تھکن سے بھرپور آواز میں کہا
جی بی بی” وہ کہہ کر باہر نکل گئ تو ایزہ نے خود حال روم کے دروازے بند کیے
اچھا احساس تھا جو اسکے ارد گرد تھا
تیز اسلامہ آباد کی ہوا اسکے بالوں میں ہلکا سا بندھا جوڑا کھول گیا
اسنے بال سمیٹ کر ایک شانے پر کیے اور دروازے بند کر کے اپنے روم کیطرف بڑھنے لگی
وہ اندر ائ شاہنواز بیڈ پر ترچھا لیٹا ہوا تھا
ایزہ اندر ائ اور دروازہ بند کیا شاہنواز نے سر اٹھا کر اسکی جانب دیکھا تو اسکی پشت پر نگاہ گئ
کمرے میں نائٹ لائٹس اون تھیں تبھی روشنی ملگجی سی تھی
وہ آئینے کے سامنے ائ اور اسنے اپنا سیٹ نکالا اپنے ہاتھوں سے رینگز اتاری اور بالوں کو سمیت کر جوڑا بنا لیا
شاہنواز کی نگاہ اسکے گلے کی گھیرائ میں الجھی
ایزہ ڈریسنگ روم کی جانب بڑھتی کہ شاہنواز کی آواز پر رک گئ
ادھر او” وہ تھم گئ تھی
اب اب۔۔۔ وہ اسکے ساتھ”
وہ مڑی اسکا جوڑا پھر سے کھل گیا بال ایک طرف پھیل گئے اور وہ آہستگی سے اسکی جانب ائ
شاہنواز نے اسکے لیے ہاتھ کھولا اور ایزہ اسکے پہلو میں لیٹ گئ
اسکے ہاتھ پر سر رکھتے ہی اسے لگا تھا وہ اسپر حاوی ہو جائے گا ہمیشہ کیطرح ۔۔۔
لیکن شاہنواز کس سوچ میں تھا وہ کچھ سکینڈ بعد اسکی جانب متوجہ ہوئ جو ایزہ کیطرف متوجہ نہیں تھا
وہ یوں ہی لیٹی رہی پھر اسے دیکھنے لگی
تم ایسی نہیں ہو جو تم ہو ۔۔ احساس دلاؤ اسے” رمشہ کی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائ
وہ تمھارا بھائ یا ابو نہیں ہے جس کی عزت کر رہی ہو ” وہ اسکی بات پر اپنے آپ مسکرا دی
اسکے سامنے مسکرایا کرو ” اور اسکی مسکراہٹ پر شاہنواز واقعی متوجہ ہو گیا
رمشہ اپنا اثر چھوڑ گئ تم پر” وہ طنزیہ مسکرایا
ایزہ کی مسکراہٹ کچھ سمٹی
نہیں ایک بات یاد ا گئ انکی تو ہنسی ا گئ”
اچھا کیا بات” وہ اسکی جانب کروٹ موڑ گیا تو ایزہ ذرا گھبرا سی گئ ۔
نگاہیں جھک گئیں شاہنواز اسکے بہت قریب تھا کہ وہ بآسانی اسے سینے میں بھینچ لیتا
لیکن معمولی سا فاصلہ اب بھی دونوں کے مابین تھا
بتاو” سنجیدگی سے پوچھا ۔
ان ۔۔انھوں نے جو کہا وہ میں بتا دوں” وہ اجازت لینا چاہتی تھی کہیں اسے برا نہ لگے جاتا
افکورس اور کسے بتاو گی” وہ اسکے گلے پر اپنی انگلی سے ٹریسنگ کرتا اسکی گردن تک لے ایا
انھ۔۔انھوں نے کہا کہ آپ میرے ابو ہیں جو میں آپکی عزت کروں” اسکی انگلی کی حرکت رک گئ ۔
آنکھوں میں الجھن چھا گئ اور پھر وہ ہنستا چلا گیا اٹھ کر بیٹھ گیا
پھر تم نے کیا کہا ” اسنے اسکی جانب دیکھا
پہلی بار اسکے سامنے ہنسا تھا ورنہ مسکرانا بھی تکلف سمجھتا تھا
میں نے کہا نہیں وہ بڑے ہیں مجھ سے” وہ بھی بیٹھ گئ
اچھی بات ہے بڑوں کی عزت کرنی چاہیے اور تمھاری یہ جھکی ہوئ نگاہ ہی تمھیں میرے ساتھ رکھے ہوئے ہے ورنہ شاہنواز سکندر کے لیے مشکل نہیں تھا تمھیں چھور دینا” اکڑ تو وہیں کی وہیں تھی اگر ہنس لیا تھا تو یہ تو مقصد نہیں تھا بدل گیا
ایزہ نے سر ہلایا اور شاہ نواز فریش ہونے چلا گیا ۔
وہ واپس آیا ایزہ بھی فریش ہونا چاہتی تھی مگر اسکا ویٹ کر رہی تھی
لیٹ جاؤ ” وہ ویسے ہی حکم دے گیا
م ۔۔میں چینج کر لو “
نہیں” صاف جواب آیا
ایزہ لیٹ گئ اور وہ اسکے پہلو میں لیٹ گیا
چند لمہے اسکی اکھڑی سانسوں کو دیکھتا رہا اور پھر ساڑھی کا پلو کھینچا دیا ایزہ کا دم سا نکلا ۔۔۔
پلو اسکے وجود سے الگ کرتا وہ اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے کسی موم کی گڑیا کیطرح خود پر کھینچ گیا
چند لمہے اسکے چہرے کی جانب دیکھتا رہا اور پھر وہ وہی شاہنواز تھا وہی جو اسکے وجود کو کھلونے کیطرح استعمال کرتا تھا اور وہ وہی ایزہ تھی جو اپنی وقت اور حیثیت کو اسکے اس ردعمل سے جان جاتی تھی کہ وہ فقط اسکی راتوں کو بخشنے والا سکون ہے
اسکے چبھتے دانت اسکے ہاتھ کی سختی اسکے ہاتھ کی بے رحمی اسکا لمس سب کچھ ویسا ہی تھا
اور رمشہ اسکے بارے میں کیا کیا بتا رہی تھی
اسنے ایک اچھی بیوی کیطرح اپنے پتھر جیسے وجود کو اسکے حوالے کر دیا پھر اسنے جب تک چاہا اسکو اپنی مرضی سے وقت دیتا رہا اور جی بھر گیا تو الگ ہو گیا
گھیرے سانس بھرتا وہ کروٹ لے گیا
اور ایزہ کا نازک سا وجود آج کئ دنوں بعد اسکے نشانات سے سج گیا تھا وہ خالی خالی نظروں سے اپنے ارد گرد پھیلے اندھیرے کو دیکھتی رہی اور آنکھیں بند کیں تو کئ آنسو اسکے گالوں پر گیرے مگر احساس کچھ نہیں ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے