Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 57
No Download Link
Rate this Novel
Episode 57
شاہنواز کا گھر دولہن کیطرح سج چکا تھا ۔۔ عمر نے زبردستی بہت محنت اور مشقت سے ساز کو پارلر بھیج دیا تھا ۔۔۔ وہ تو اب تک آئ ہی نہیں تھی اور دوسری طرف گھر والے البتہ سب ا گئے تھے ہاں سوہا نہیں تھی ۔۔ ۔
بدر نے اسکی جانب دیکھا وہ خاموشی سے بیٹھی شاید تسبیح کر رہی تھی ۔۔
تم مہندی میں نہیں جاو گی” اسکے سوال پر سوہا نے سر اٹھایا
ایک انسان کو اتنی تکلیف نہیں دینی چاہیے کہ اسکی چیخیں دل پھٹنے کا سبب بن جائیں وہ میری شکل نہیں دیکھنا چاہتا میں اسی لیے نہیں جا رہی آپ چلے جائیں میں ٹھیک ہوں” کہہ کر وہ دوبارہ تسبیح پڑھنے لگی بدر کے تو سینے میں نہ اٹک گیا یہ آپ ۔۔۔
کیا کیا کہا ہے تم نے ” حیرانگی سے ششدر وہ سوال کر رہا تھا ۔
بدر اس وقت تسبیح کر رہی ہوں آپ تیار ہو جائیں “
سوہا تم مجھے پاگل کرنا چاہتی ہو ” بدر کے تو دماغ میں کرنٹ لگنے لگا تھا اتنی مار کھانے پر بھی منہ سے آپ نہ نکلا اچانک وہ اسے عزت دینے کھڑی ہو گئ تھی ۔
میں نے کیا کیا ہے اب ” وہ اسکی صورت دیکھنے لگی
یہ آپ کا ڈرامہ کیا ہے ” وہ بولا تو سوہا مسکرا دی
ڈرامہ نہیں ہے اپنے آپ منہ سے نکل گیا
کیوں اپکو اچھا نہیں لگ رہا ” وہ بولی تو بدر کو شدید غصہ چڑھا آگے بڑھا اور اور اسکی گردن جکڑ لی
تم کس لیے یہ سب کر رہی ۔۔۔۔ سانپ اپنی فطرت کبھی نہیں بدلتا تم تمھارا باپ تمھاری ماں اور تمھارا بھائی سانپ ہیں میں یہ مان سکتا ہوں عمر نے شراب پینا چھوڑ دی ۔۔ لیکن یہ نہیں مان سکتا کہ تمھارے اندر انسانیت بھر جائے تو بہتر ہے جو تمھاری اوقات ہے اسی پر چلو ۔۔
تم اتنی مظلوم بن کر ثابت کیا کرنا چاہتی ہو دوسروں کی تکلیف کا احساس ہو رہا ہے تمھیں واہ سوہا بی بی ۔۔ چھوٹی بچی کاکی تو تم جب بھی نہیں تھی جب میری ماں سے اپنے پاؤں دباتی تھی
تم بھولی کچھ نہیں ہوں اور اگر تم ان دو بچوں پر اترا رہی ہو تو تمھارا اس میں کوئی کمال نہیں ہے یاد رکھنا ” گردن جھٹکتا وہ غرایا
سوہا نے سانس حلق میں اتارا اور سر جھکا لیا ۔۔۔
میں اپنی ہر غلطی پر معافی “
اوو جسٹ شیٹ اپ ” وہ دھاڑا ۔۔۔
شیٹ یورپ ماوتھ ۔۔۔ اپنی غلطی پر معافی شکل دیکھو اپنی معافی مانگنے چلی ہے ” وہ کہہ کر باہر نکل گیا
وہ غصہ کر لیتا لیکن ایسے نہ کہتا یہ کہہ کر وہ اسے بلکل احساس کمتری میں مبتلا کر گیا تھا سر جھکائے وہ بے ساختہ رو دی ۔
جبکہ بدر چلا گیا تھا اور گھر میں صرف وہ تھی جو اکیلی تھی ۔۔۔ وہ رو دی ۔۔
وہ جتنا رونا چاہ رہی تھی اتنی تکلیف ہو رہی تھی ۔۔
اور اس ایک ہی شخص تو درکار تھا وہ ہی میسر نہیں ہو رہا تھا ۔
جبکہ دوسری طرف گھر والوں کی آنکھیں چکا چوند ہو گئیں یہ مناظر دیکھ کر ۔۔
ایک بہت اونچے پول پر لائٹس بندھی کون کی شیپ میں نیچے ا رہی تھیں جہاں ایک صوفہ رکھا تھا جو صرف عمر اور ساز کے لیے تھا باقی سیٹنگ ہلکی پھلکی لائٹ میں تھی ساری روشنی عمر نے اپنے گرد کرا لی تھی شاندار ڈیکلریشن شاندار کھانے کی خوشبو شاہنواز کے دوست احباب عمر کے دوست احباب اور بہت سے لوگ وہاں موجود تھے ۔۔۔
بہت سی رنگینی تھی ویئٹرز سرو کر رہے تھے اتنا بیلنس تھا ماحول کہ اب عمر خیام کے معیار پر سب اتر رہا تھا ۔
بلیک کرتے پر بلیک ہی کولا پہنے وہ ریڈ شال گلے میں لٹکائے باہر آیا تو کسی یونانی دیوتا کا سا حسن تھا اسکے پاس ۔۔ اور ایسے ہی عمر خیام سب کے دل پر چھا نہیں جاتا تھا ۔
اسکی خمار زدہ پلکیں ہی کسی بھی لڑکی کا دل لوٹ لیتی تھیں نکھرے سے بھری کھڑی ستواں ناک پھر ۔۔ بریڈ پھر دور سے بھی چمکنے والی رنگت اور آنکھوں کے رنگ میں ہلکا ہلکا ہیزل براون رنگ وہ باکمال تھا سر سے پاوں تک کمال تھا ۔۔۔
وہ آیا تو سعود اور اسکے باقی دوستوں نے شغل میلہ سا لگا لیا اسکے ارد گرد بھنگڑے ڈالنے لگے وہ مسکرا رہا تھا
شاہنواز بھی اسی محفل کا حصہ تھا ۔۔
وہ جتنا گریس فل لگ رہا تھا شاید کوئی لگتا وہی سٹائل اسنے سفید سوٹ پر بلیک شال ڈالی ہوئی تھی اور عمر کو ہنستا ہوا دیکھا اسنے ایک ہزار ہزار کے نوٹ کی گیڈی اسکے سر پر رکھ کر ہوا میں اچھال دی ۔۔۔
اور محفل میں زعفران سا بھر گیا ہر منہ پر سوال یہ تھا کہ ان کا آپس میں رشتہ کیا ہے لیکن جو محفل سامنے دیکھائی دے رہی بڑی حسین لگ رہی تھی لیکن اس محفل میں کچھ لوگ ایسے تھے جن کی سمجھ سے باہر تھی یہ محبت ۔۔ اشفاق صاحب جو یہاں اس دولہے کے والد تھے اصل وہ ایک طرف بیٹھے یہ تماشہ دیکھ رہے تھے ۔۔
عمر خیام کی خوشی ہضم نہ ہوئ معلوم نہیں کیوں وقت کے ساتھ ساتھ خود غرضی انکے اندر بستی جا رہی تھی
ارہم باپ کے کان میں لگائی بجائی کر رہا تھا تائی بھی دیکھنے آئ تھی کہ آخر ۔۔ وہ ہے کون شاہنواز سکندر ہے اور جتنا دیکھ رہیں تھیں اتنا دل بیٹھے جا رہا تھا ۔
چچی صنم صوفیا ۔۔۔ چچا جان اور نجما جو داماد پر دور سے ہی واری صدقے ہو رہی تھی ۔۔۔۔
جبکہ بدر بھی آ گیا تھا نجمہ اس سے بار بار سوہا کا پوچھ رہی تھی وہ سنجیدگی سے بیٹھا تھا چھوڑ تو ایا تھا اسے اکیلے اب دل مٹھی میں تھا کہ کیا ضرورت تھی لڑنے کی اسکی طبعیت بھی ٹھیک نہیں پھر گھر میں اکیلا ۔۔۔ وہ اسکی بیوی ہے ؟
لیکن وہ ڈھیٹ بنا بیٹھا اپنی ہی سوچوں سے لڑتا رہا اور پھر محفل میں ایک پڑی سی اتری
ایزہ شاہ ۔۔۔۔ گھبرائے گھبرائے سی وہ ۔۔۔۔ محفل میں ائی تھی ۔۔۔
اسنے چاروں طرف دیکھا ۔۔۔
بہت لوگ تھے ۔۔۔ وہ ان میں کسی بھی اپنے کو دیکھنے کی خواہش مند نہیں تھی وہ سب کھڑے ہو گئے ۔۔۔
عمر اور شاہنواز نے بروقت مڑ کر دیکھا تھا ۔
وہ لونگ شیٹ اور پاجامے میں نازک سی لڑکی اب جو کہ پریگنینٹ ہونے کی وجہ سے بھاری بھاری سی ہو گئ تھی بڑی حسین لگ رہی تھی اور اسکا حسن تو مثالی تھا وہ سیڑھیوں پر ہی تھم گئ
گھر کے اندر سے آئی تھی ان سب کو ہارٹ اٹیک پڑنے کو بے چین تھا کہ جو وہ سوچ رہے تھے واقعی ویسا تھا
شاہنواز ایزہ کا شوہر تھا ۔۔
ایزہ اتنا امیر آدمی کی بیوی تھی ایزہ کا یہ گھر تھا
اف دلوں لگتے ہوئے سوال تھے
شاہنواز اسکی جانب بڑھا اور اسکا ہاتھ تھام کر اتارا
سب سے پہلے اسکے حسن سے خائف ہوتا اسکا صدقہ کر گیا
کیا ضرورت ہے انسان کو اتنا حسین ہونے کی وہ بولا جبکہ ایزہ نے اسکی جانب سے نگاہ پھیر کی
پہلے آپ میرے بھائی پر مار جائیں میں تو دور دور سے دیکھ لوں گی ” شاہنواز ہنس دیا
یار کوئی مرد سے بھی جیلس ہوتا ہے ” وہ اسکے گال پر نرمی سے سب کے سامنے ہاتھ پھیر رہا تھا بدر کی نگاہیں اسی پر تھی وہ اب حسین ترین ہو گئ تھی کسی کی محبت کو سنبھالے ہوئے تھی ۔۔۔
وقت نے اسے کتنا جادوئی کر دیا تھا ۔۔۔
وہ اپنے شوہر کے ساتھ کھڑی محو گفتگو تھی اور مجال ہو محفل میں کوئی ان دونوں پر سے نگاہ ہٹا سکا ہو
مرد آپ نے بتایا تک نہیں اب تک یہ اتنی اچھی دوستی ان سے کیسے ہوئی آپکی بیوی سے تو نہ کی آپ نے ” وہ آنکھیں سکیڑ کر دیکھنے لگی
اب ایسے طنز مارو گی تو تمھیں پتہ ہے میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا ” وہ بولا تو ایزہ جلدی سے دور ہو گئ
دادی جان کا بیپہو بھی بدل گیا تھا کافی خوش تھیں عائشہ البتہ خاموش تھی دادی جان نے بھی اسپر سے صادقہ وارا اور ان لوگوں کیطرف وہ دیکھ نہ سکی دادی جان اسے سب سے ملانے لگیں ۔
مہمان بھر گئے تھے دولہن کا انتظار تھا اشفاق صاحب اور انکی فیملی پر توپ کا گولہ گیرا تھا بدر فورا اٹھا اور وہاں سے نکل گیا
وہ اسکا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا کتنا بدل گئ تھی جو اپنا چہرہ کبھی دیکھا نہ سکے وہ لڑکی سکون سے سب سے مل رہی تھی
ہممم پیسے میں طاقت ہی الگ ہے
ساز کا دم نکل رہا تھا وہ بے ساختہ ہی رونے لگ گئ ۔۔۔
عمر نے باہر مینچز کو بھیجا تھا مگر سعود نے اسے بتایا کہ وہ رو رہی ہے عمر فورا اسکے پاس باہر آیا تھا دروازہ کھولا گاڑی کا اور اسے دیکھ کر غش کھا گیا ۔
کیا لگ رہی ہو یار ہوٹ ۔۔۔ ” اسے مزید روتا دیکھ الفاظ اندر ہی اتار لیے ۔۔
کیا ہوا ہے” بڑی چاہت سے اسکے گالوں کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرا تھا اسنے ۔
دیکھو اب تمھاری شان شایان ہے نہ سب ” میرا میرا دل گھبرا رہا ہے میں اتنے لوگوں کو فیس نہیں کر سکتی”
کیوں بھئی عمر خیام کی ہو تم کوئی تمھاری طرف نہیں دیکھے گا ڈونٹ وری”
جی نہیں میں نہیں او گی اندر “
میں اٹھا کر لے جاو گا ” وہ گھور کر بولا
پلیز عمر آپ ۔۔۔ اپ ” وہ اسکے سینے پر ہاتھ رکھ گئ ۔
عمر کا تو دل ہی باہر ا جاتا ۔۔۔۔ وہ جھکا اور بے ساختہ اسکے گالوں کو چوم لیا ۔
میرے ساتھ رہنا ہے تو یہ چڑیا سا دل بڑا کر لو ورنہ میں خود کر دوں گا ” وہ اسکے کان کے نزدیک بولا
ساز کو لگا وہ وہیں غیر جائے گی اسکا دماغ چکرا رہا تھا
عمر نے اسے باہر نکالا اور اسکے لڑکھڑاتے وجود کو اپنا سہارا مکمل دے کر وہ اسے اندر لے ایا ۔۔
اور ان دونوں کی اینٹری پر ۔۔ ایکدم انار جل پڑی فائیرز ہونے لگے ۔۔ پارٹی بمز پھوڑے تھے ساز نے اسکا ہاتھ سختی سے جکڑا ہوا تھا وہ اسے اسی جگہ پر لے آیا جہاں ایک صوفہ رکھا تھا اور روشنی کی رنگینی ایسی تھی کہ ان دونوں کے بعد محفل میں کوئی نہیں دیکھا تھا ۔
وہ کھڑا ہو گیا انکی تصویریں دھڑا دھڑ کھنچ رہیں تھیں ۔
ایزہ نے اپنے بھائی کے ساتھ ساز کو دیکھا اور بس ہلکا سا مسکرا کر شاہنواز کے بازو پر سر رکھ کر کھڑی ہو گئ اور اسکا بازو تھام لیا
تم اپنی فیملی سے ملو گی نہیں “
نہیں اسکی ضرورت ہی نہیں “
اور ساز سے “
اسکی بھی ضرورت نہیں” وہ مسکرا دی شاہنواز نے اسکا گال سہلایا
چلو پھر بیٹھ جاو “
کچھ کھائیں”
وائے ناٹ ہنی ” وہ دونوں مڑ گئے
عمر اور ساز کی تصویریں کھینچی کانپتی ہوئی وہ اسکے پہلو سے چپک کر بیٹھ گئ
اتنا چیپکو گی تو پھر بدلے میں میں بھی چیپکو گا ” وہ مزے سے بولا ۔۔۔
جبکہ ۔۔۔ ساز ایکدم دور ہوئی اور عمر کا قہقہہ ابھرا تھا ۔
ساز نے اپنوں کی جانب نگاہ گھمائ اور اچانک اسکی نگاہ ایزہ پر چلی گئ جسے شاہ کھانا کھلا رہا تھا اور ایزہ نان سٹاپ کسی بات پر بولے جا رہی تھی ۔۔۔
ساز دنگ رہ گئ عمر نے بھی دیکھا تھا ۔۔
ایزہ ” وہ اشارہ کرتی بولی
ہممم ایزہ ۔۔ ” وہ بس اتنا ہی بولا اور پھر مہندی کی رسومات دادی جان نے شروع کر دیں اسکے اپنے گھر والے منہ بنا رہے تھے اور دادی جان نے رسم کا آغاز کیا
میرا بچہ ہاں تیزی بیوی بھی پیاری ہے “
یہ بھی کا کیا مطلب ہے ” وہ ائ برو چکا گیا ۔
بزرگوں حسین ہے ذرا غور سے چشمہ درست کرو ” وہ منہ بنا گیا ساز کو شرمندگی ہوئی
ہاں میری بہو سے ذرا سی کم ” وہ جان بوجھ کر چھیڑ رہی تھیں “
پھر میں بولوں گا تو کہیں گی ہائے دیکھ مجھ پر چڑھ رہا ہے” وہ نکل اتار گیا دادی جان ہنسنے لگی اور عمر نے بھی سر جھٹکا
اور پھر اسکی فیملی بھی ا گئ تائی جان نے لگائی تو ساز کے گال پر چٹکی ہی کاٹ لی سی نکلی تھی اسکے منہ سے عمر نے مڑ کر دیکھا اور وہ ہلکا سا مسکرا دی کہ اسے پتہ لگا یہیں شروع ہو جائے گا
عمر ان لوگوں سے اتنا مخاطب نہیں ہوا تھا ۔
اور اشفاق صاحب نے بیٹے کی جانب دیکھا عمر بھی انکی آنکھوں میں دیکھنے لگا ۔
وہ چند لمہے دیکھتے رہے اور پھر ہر چیز کو ترک کر کے آج وہ اسے سینے سے لگا سکتے تھے لیکن وہ وہ باپ تھا جو اپنے بیٹے سے ہی جل رہا تھا وہ اسکی کسی بھی خوشی میں شامل ہوئے بنا وہیں سے نکل گئے اپنے ساتھ ارہم تائی اور چچا کو بھی لے گئے تو با مجبوری سب کو جانا پڑا نجما کھڑی منہ دیکھ رہی تھی
امی” ساز نے پکارہ تو عمر نے نجما کی جانب دیکھا ۔
وہ آگے بڑھی اور کچھ جھجھکتے ہوئے عمر کے گال پر ابٹن لگا دیا
بیٹا ماشاءاللہ آپ بہت اچھے لگ رہے ہو میرا دل تو ہے میں رکو مگر بھائی صاحب ” وہ بولیں تو عمر نے انکا ہاتھ پکڑ لیا
آپ یہیں رکیں میں بھیجوا دوں گا آپکی بیٹی کی مہندی ہے “
وہ نرمی سے بولا ساز کی جانب نجما نے دیکھا تایا جان غصہ کریں گے مجھے بھی جانا چاہیے ” وہ بولی جبکہ عمر نے ایسی خونی نگاہوں سے اسے دیکھا کہ وہ سہم ہی گئ ۔۔
یہ آپکی بیٹی اسطرح خون پیتی ہے میرا ” وہ بھڑکا
ساز غلط بات بیٹے شوہر ہیں آپکے وہ یہاں موجود ہیں بھائ صاحب کی فکر اپ کیوں کر رہے ہو پھر ” نجما نے ٹوکا
لیکن تایا جان بڑے “
او دہی بڑے مجھے غصہ نہ دلوا تمھارا والی وارث میں ہوں تایا سے کرتی پھر شادی جب اتنا ہی شوق تھا اسکا کہنا ماننے کا ” وہ گھور کر بولا تو ساز کا منہ کھلا گیا
کتنا بدتمیز تھا وہ ” ساز تو شرمندگی سے سر جھکا گئ اور نجما منہ پر ہاتھ رکھ گئ
آپ بیٹھیں کچھ ٹھیک سے کھایا بھی نہیں ” عمر نے اسکی چئیر لگوا دی ساز کو کچھ تسلی ہوئی کہ چلو اسکی ماں کو تو عزت دے رہا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکے دوستوں نے سٹیج پر ادھم اٹھانا لیا تھا ساز بھی بیٹھی تھی عمر کو بیچ میں لیے وہ بھنگڑا ڈال رہے تھے اور پھر سعود نے اسکے ہاتھ میں بوتل دے دی ۔
اسکے بعد عمر آپے سے ہی باہر نکل گیا
ساز کا دل بیٹھنے لگا کیوں دی اسکے دوست کے اسکے ہاتھ میں بوتل اچھا بھلا جیتنا تھا ۔
شاہنواز نے پیسے کو اسپر پانی کیطرح بھا دیا وہ جھومتا ہوا اسکے نزدیک آیا اور اسنے ساز کے سر پر پانچ ہزار کے نوٹوں کی گڈی اچھالی تو آوازوں سے نعروں سے جیسے پوری محفل گونج اٹھی
ساز سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگی
اب تو مسکرا دو ” وہ جھک کر آنکھ دبا گیا
اس اصراف پر مسکراو ” وہ بول کر منہ پھیر گئ ۔
بہت ناراض ہوتی ہے” وہ نجما سے بولا جو خود ششدر تھی ۔
جانے ” اسنے اپنی بہن کو پکڑا جو خود دور کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھی اسنے بھائی کو مسکراتے دیکھا تو مسکرا دی ساز سے اور باقی سب سے وہ دور دور ہی تھی ۔
چئیر پر بیٹھی تھی دادی جان کے ساتھ وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر محفل میں لایا اور اسکے سر پر سے بھی وار دیے ۔۔۔
یہ سب کئی دیر تک چلتا رہا شاہنواز کا تو شوق تھا یہ سب کرنا ۔۔
اور پھر جیسے ہی اسکے ہاتھ میں رائفل ائ تو ساز ایکدم کھڑی ہوئی
او میرا شیر” شاہنواز بلائیں اتار رہا تھا اور دونوں نے ایک دوسرے کے شانے پر ہاتھ رکھا اور ۔۔۔۔
جب فائرنگ شروع کی تو عمر کا قہقہہ چاروں طرف گونج رہا تھا
شاہنواز اسکو دیکھ کر خوش تھا دادی جان بھی مسکرا رہیں تھیں وہ جانتی تھی یہ سب عام تھا انکے ہاں ۔۔ عائشہ عجیب حسد کا شکار تھی
ساز کی جان پر بنی تھی وہ نجما سے چپک گی جبکہ ایزہ بھی بھائ کے سینے سے لگی رہی یہاں تک کے پورا برسٹ خالی کر کے اسنے سعود سے دوبارہ لی ۔۔
دونوں ہنس رہے تھے اور خوشیاں منانے کا انداز کس قدر عجیب تھا
ساز رونے لگ گئ لیکن یہ شغل ختم نہ ہوا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
