Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 23
No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
وہ غصے سے اسکی جانب دیکھ کر منہ پھیر گیا وہ ایک ہوٹل میں تھے جبکہ ساز کے لیے یہ سب اتنا انوکھا تھا کہ وہ بنا روکے روئے جا رہی تھی
عمر خیام اپنی ضد پر اسے جہاز تک تو لے گیا تھا لیکن اندر بیٹھ کر اسنے مکمل اپنے جاہل ہونے کا ثبوت دیا تھا اور چکرا کر دوسرے پسنجر پر گیر گئ جیسے ہی جہاز نے ٹیک آف کیا اور چار نچار اس 15 16 گھنٹے کی فلائیٹ میں اسکی طبعیت خرابی کی وجہ سے ان دونوں کو باہر کر دیا گیا تھا
عمر خیام کا پارہ اتنا ہائی تھا کہ وہ اسکی شکل بھی نہیں دیکھ رہا تھا جبکہ وہ کھانے پینے اور ہر شے سے جاتی رہی تھی بس ایک ہی ضد تھی کہ اسے واپس جانا ہے جو کہ عمر آج اسے اسی جہنم میں پھینک کر پوری کر دیتا
اٹھو تمھیں تمھارے گھر چھوڑ دوں” اسنے سنجیدگی سے کہا کیونکہ اسنے ہر صورت جانا تھا تھائی لینڈ میں اسکا پہلا ٹور تھا بنکاک کئ بار جا چکا تھا
اور ویسے بھی جب اسکا دماغ زیادہ خراب ہوتا تو وہ اکثر ٹورز پر نکل جاتا تھا لیکن ساز تو اس دنیا کا حصہ نہیں تھی اس کا دل اسی گھسی پیٹی زندگی میں اٹکا ہوا تھا
وہ جلدی سے اٹھ گئ ویسے بھی اس شاندار ہوٹل کے بڑے سے کمرے میں اسکا گھٹ رہا تھا معلوم نہیں کیوں وہ ابھی اتنی جلدی یہ سب قبول نہیں کر پائی تھی
بچپن کا خوف اس کے اندر اتنی مظبوط جڑے پکڑ چکا تھا کہ یہ خواب اور فرضی زندگی لگ رہی تھی جبکہ حقیقت وہ ہی تھی جہاں وہ جانے کی ضد باندھے ہوئے تھی
عمر نے اسے ایک نظر دیکھا اور بے زاریت سے گاڑی کی چابی اٹھا لی
وہ اسے باہر نکلنے کا اشارہ کر کے خود بھی باہر نکلا ساز نگاہ جھکائے اسکے پیچھے چلتی جا رہی تھی یہاں تک کے وہ باہر پہنچے گاڑی میں سوار ہوئے تو عمر خیام کو کس کس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا تھا شخصیت میں ایک ایسا طلسم تھا کہ وہ جہاں سے گزر جاتا مڑ کر لوگ ضرور دیکھتے تھے
وہ جمپ لگا کر گاڑی میں سوار ہوا اور گاڑی سٹارٹ کی
زبردستی ساز اسے واپسی لے جانے پر مجبور تو کر چکی تھی لیکن گھر والوں کو کیا کہتی ۔۔۔
عمر سکون سے ڈرائیو کر رہا تھا جیسے ساز سے تھک گیا ہو اور اس سے بات بھی نہیں کرنا چاہتا ہو
وہ میں کیا کہو گی سب میرا مذاق بنائیں گے” اسکے دل میں نیا افسانہ گاڑی میں بیٹھے ہی چلنے لگا
جو تمھارا دل کرے وہ کہنا میں کیا کہہ سکتا ہوں” اسنے موڑ کاٹا
آپ۔۔۔۔” وہ رک گئ عمر نے اسکی جانب نہیں دیکھا
آپ واپس جائیں گے” وہ خود ہی بولی
ہممم” بس ہنکارہ بھرا
ساز باہر دیکھنے لگی سب اسکا مذاق اڑائیں گے وہ جس طرح زبردستی اسے لے کر نکلا تھا وہ سب اسکا جینا حرام کر دیں گے وہ باہر دیکھتی رہی تبھی گاڑی میں اسکے موبائل کی تیز رینگینگ ٹون نے دونوں کو متوجہ کیا تھا
ہمم میری رات کی فلائیٹ ہے”
کیوں” وہ ایکدم بگڑا
اگلے چار دن بھی فلائیٹ نہیں ہے یہ کیا بکواس ہے مجھے جانا ہے کچھ بھی کروائے ہر صورت جانا ہے” وہ شاید کسی کو ڈانٹ رہا تھا
دوسری طرف سے جواب ملا
اوہ جسٹ شیٹ اپ” موبائل اسنے ڈیش بورڈ پر دے کر مارا
یہ سب تمھاری وجہ سے ہوا ہے میں کتنا بڑا گدھا ہوں تمھیں بلاوجہ سب کے سامنے سپورٹ کیا اور اپنے گلے کا ہار بنا لیا
چار دن بھی اگلے فلائیٹ نہیں ہے تھائی لینڈ کی ” وہ اسپر بگڑا
سز اسکے ڈاٹنے سے سہم سی جاتی تھی
واقعی اسکا قصور تھا لیکن وہ اسے اپنے ساتھ زبردستی لایا تھا وہ نہیں آنا چاہتی تھی وہ سٹرینگ پر مکہ مارا گیا اور کچھ دیر بعد وہ گھر بھی پہنچ گئے
تقریبا دوپہر کا وقت تھا وہ گاڑی سے نکلا اور ساز بھی نکلی
عمر نے اسکی جانب ایک غصیلی نگاہ اٹھائی اور اندر چلا گیا وہ لاونج سے گزرا تو اسکی مہک سے ہی لاونج مہکنے لگا اور سب حیرانگی سے اسے دیکھنے لگے لیکن اسے بھلا کیا پرواہ تھی کہ کوئی اسکی جانب دیکھتا ہے یہ نہیں وہ اپنے کمرے میں چلا گیا اور دروازہ مڑا تو دور دور تک اسکے موڈ کا اندازا ہو گیا تھا سب کو
جیسے ہی ساز اندر آئی تو سر جھکا ہوا تھا اسنے نگاہ اٹھا کر سب کو سلام کیا تو سوہا کو مائیو کے سوٹ میں ابٹن لگے دیکھ حیران ہوئی
لو ا گئ یہ بھی” تائی نے گھور کر دیکھا
ساز نے ماں کو حیرانگی سے دیکھا جو نگاہ چرا گئ اگر اسکی مرضی سے کچھ ہو رہا ہوتا تو بات تھی لیکن یہاں اسکی مرضی سے کچھ نہیں ہو رہا تھا
ارے کیا تیرا تھائی لینڈ ساتھ والے بازار میں تھا جو کل گئ اور اج ا گئ
ہاں” تائی کی اواز پر سب نے قہقہہ لگایا جس میں سوہا کی کھلکھلاہٹ بھی تھی
ساز کچھ نہیں بولی اسنے شکواہ بھری نگاہوں سے ماں کو دیکھا
اسکے پیچھے بس ایک دو دنوں میں اسکے بھائی کی شادی رکھ لی اسے خبر تک ہونے نہیں دی
لیکن شکوے کا کوئ فائدہ ہوتا تو کچھ بات بنتی وہ جیسے قدموں کو ٹوٹا ہوا محسوس کر رہی تھی ۔
یہ عمر کا جی راضی ہو گیا تجھ سے” انکی زبان کے آگے خندق تھی گھر میں بیٹھے چار لوگوں کا بھی خیال نہیں کیا تھا انھوں نے ۔۔۔
ساز کا چہرہ سرخی مائل ہو گیا
اب کیا بت بن کھڑی ہے تجھے تو تیرے تایا ہی پوچھیں گے جا ذرا کچھ کام دھندا کر ” انھوں نے اسے کچن کی راہ دیکھائی اور ساز کو جو پہلے ہی رونا ا رہا تھا وہ کچن میں چلی گئ
اسکے آنسو نکل گئے اول تو تائی جان کے الفاظ وہ کسی کا لحاظ نہیں کرتی تھی سب کے سامنے اسے بے عزت کر دیتی تھی اور دوسرا اسکا بھائی اسکے بنا ہی اپنی زندگی میں آگے بڑھ رہا تھا وہ بھی سوہا کے ساتھ ہی ؟
سوہا کی دوستیں زور زور سے گانے گا رہیں تھیں تائی جان اور چچی تالیاں بجا رہیں تھیں خوش تھیں محلے کی دو چار عورتیں منہ پر کپڑا رکھے یقینا یہ سوچنے میں مجبور تھیں کہ یہ مولانا اشفاق احمد کا گھر ہے جن کی عورتوں کو کبھی کسی نے نہیں دیکھا اسکی دوستوں نے سوہا کو بیچ سے اٹھایا اور وہ ٹھمکے لگی
ساز آتے ہی کاموں میں لگ گئ کیا اسے یہ زندگی پسند تھی وہ اسے کہاں لے جا رہا تھا اور وہ کہاں رک گئ تھی
لیکن سوہا کی دوستوں نے رات تک گھر میں میلا سا لگائے رکھا کسی کو کوئ اختلاف نہیں ہوا سب خوش تھے کسی کو ہوتا بھی کیوں ؟
اور حیرانگی تو تب ہوئ جب ان سب کی مغرب کی نمازیں قضا ہو گئیں اور کسی نے آج کوئی اختلاف نہیں کیا
تایا جان بھی ا گئے تھے وہ بھی مسکرا رہے تھے ساز البتہ ڈر رہی تھی انھوں نے ایک نگاہ ہی دیکھا تھا بس اسے ۔۔۔
ساز ” نجما نے اسے پکارہ جو باہر ابھی چائے دے کر ائی تھی
تم واپس کیوں ائی ہو” انھوں نے سنجیدگی سے پوچھا
میں میں نہیں گئ میں جا نہیں پائی امی ” وہ سر جھکائے بولی
اس جہنم کی سزا کو جھیلنے کا شوق ہے شاید تمھیں خیر ۔۔۔۔
عمر کو کھانا دو رات ہونے کو ائی ہے تم نے توجہ بھی نہیں دی ” انھوں نے ٹرے اسے تھمائی
امی میں نہیں “
ساز” وہ ذرا درشتگی سے بولیں تو وہ ٹرے لے کر اوپر ا گئ اسے سب نے کمرے میں جاتے ہوئے دیکھا تھا جبکہ ساز کو بہت شرمندگی ہوئی تھی جبکہ وہ اسکا شوہر ہی تھا ۔
وہ کمرے میں ائی تو وہ ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہا تھا
کھانا کھا لیں”
تم کھا لو ” ٹکا سا جواب دے کر بالوں میں پاتھ پھیرتا وہ کسی کو فون ملا رہا تھا
آپ بچے نہیں ہیں کہ تھائی لینڈ نہیں جائیں گے تو کچھ ہو جائے گا آپکو ” وہ اسکی بے چینی دیکھ کر بولی
تو تمھاری طرح تمہارے تایا تائی کی جوتیاں سیدھی کرتا پھیرو ” وہ بولا تو ساز کو ذلت کا احساس سا ہوا ۔
بدر بھائی کی شادی ہے آپکی بہن سوہا”
جسٹ شیٹ اپ دنیا میں میری کوئی بہن ماں باپ کوئ رشتہ نہیں ہے مجھے مزید غصہ نہ دلاؤ چلی جاو یہاں سے” وہ بھڑکا
جبکہ ساز نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا کہ کیا واقعی اسکا کوئی نہیں جتنا وہ نفرت کرتا ہے خود سے منسلک رشتوں سے وہ بنا کچھ بولے مڑ گئ
جبکہ عمر پھر سے نمبر ڈائل کرنے میں لگ گیا
نیچے مہمان جا چکے تھے سوہا کافی خوش لگ رہی تھی وہ نیچے آئی اور کچن میں جانے لگی کہ تایا جان کی کڑک آواز پر قدم دروازے پر ہی جم گئے
لگا روح ابھی قبض ہو جائے گی
ہاں واپسی آنے کے بعد اسک انجام کیا ہو گا اسنے اس بارے میں تو سوچا ہی نہیں تھا
ادھر آ ” انھوں نے بلایا نجما بھی بے چین ہو گئ
بدر بھی گھر پر نہیں تھا اور عمر معلوم نہیں نشہ کر چکا تھا یہ ٹھیک تھا وہ بے چینی سی بیٹی کو مڑتے ہوئے دیکھنے لگیں جو کہ مڑی اور ان سب کے بیچ گویا امتحان دینے کھڑی ہو چکی تھی ۔
تایا جان اسے گھور رہے تھے
جب میں نے روکا تو تو نے گھر سے باہر قدم کیسے نکالا ” وہ اسکے سامنے کھڑے ہو گئے سب وہاں کھڑے مزے لے رہے تھے جبکہ وہ نازک سی لڑکی پتے کی طرح کپکپا رہی تھی
سوال کیا ہے کچھ ” وہ دھاڑے
ع۔۔۔عم عمر لے گئے تھے تایا جان میں نہیں جانا چاہتی تھی” اور جیسے قیامت ہی برپا ہو گئ
تایا جان کا ہاتھ اسپر اٹھا اور اسکا گال سرخ کر گیا
تو نے اپنے شوہر کا نام زبان سے نکالا بھی کیسے بے تمیز بے حیا لڑکی ” وہ گھوم کر صوفے پر گیری تھی
بھائی صاحب بھائی صاحب کیا کر رہے ہیں اپ یہ بچی ہے بھائی صاحب غلطی سے نکل آیا منہ سے ۔۔۔۔
اچھا غلطی سے تیری بیٹی نے پانچ لکھ روپے اس سے ایٹھ لیے غلطی سے تیری بیٹی اسکے ساتھ گلچھرے اڑانے نکل پڑی اور اب غلطی سے نام لے رہی ہے
ارے بدبخت ہوتی ہیں وہ عورتیں جو شوہر کی عزت نہیں کرتی لعنت پڑے گی اسکے منہ پر شوہر کا نام منہ پھاڑ کر لے رہی ہے عمر ۔۔۔
ہیں آج تک اس گھر کی کسی عورت نے یہ حرکت نہیں کی
مزاجی خدا ہے اسکا حقوق سے آگاہ بھی ہے” وہ چلا رہے تھے
یہاں تک کے انکے چلانے سے عمر ماتھے پر تیور ڈالے کمرے سے باہر نکل آیا اسے انکی آواز سے بھی کوفت تھی تبھی وہ باہر نکلا تھا اور میدان لگا ہوا ساز کے لیے تھا
وہ خاموشی سے ایک نگاہ ساز کو دیکھنے کے بعد سپاٹ چہرے سے آگے بڑھا سیڑھیاں اترا
اشفاق صاحب کو اندازہ نہیں تھا وہ گھر پر ہے ایک لمحہ کے لیے چونکے پھر اسکے آگے نمبر بنانے کو وہ آگے بڑھے نجما کو دور کیا اور ساز کو کھڑا کیا
عمر نے اسکے چہرے پر تھپڑ کا نشان دیکھ لیا تھا
معافی مانگ معافی مانگ اسکے آگے جھک کر تجھے اللّٰہ بھی معاف کرے گا تو نے جو گستاخی کی ہے آج کے بعد کی تو زبان گدی سے کھینچ لوں گا تیری ” وہ اسے جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر بولے
جبکہ ساز نے سرخ آنسوؤں سے بھری آنکھیں اٹھائیں سانسوں کو بمشکل اندر اتارا کہ اسکی ہچکی لاونج میں گونجی
عمر اسکا چہرہ خاموشی سے دیکھ رہا تھا اور تایا جان کو تقویت مل رہی تھی اسکی خاموشی سے کہ عمر کو ساز میں انٹرسٹ ہے ہی نہیں وہ فلرٹ کر سکتا تھا اس سے محبت و حبت نہیں ۔۔۔
معافی مانگ جھک اسکے اگے”
تایا جان پھر سے بولے اور ساز نے اپنے کانپتے ہاتھ اوپر اٹھائے
نجما منہ پر دوپٹہ رکھ کر منہ موڑ کر بری طرح رو دی اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے ۔
نگاہ نیچی کر ” تایا جان چلائے
ساز فورا نگاہ جھکا گئ
اسکے دونوں ہاتھ عمر کے سامنے جڑ گئے معافی کی صورت کس جرم کی معافی صرف اپنے ہی شوہر کا نام لینے کی یہ یہ بات بھانا تھی اگلی پیچھلی ساری بھڑاس اس تھپڑ میں نکل آئی تھی
اسکے منہ سے ابھی کچھ الفاظ نکلتے ہی کہ اچانک عمر خیام نے اسکے وہی جڑے ہاتھ اپنی بھاری ہتھیلی میں تھامے اور جھٹکے سے اس کانپتی ہوئ لڑکی کو اپنی سمت کھینچ کر سینے سے لگا لیا وہ سیدھا اسکے سینے میں سما گئ اور ہچکیوں سے رو دی بری طرح وہ دور نہیں ہوئی اس سے وہ اسکے سینے سے لگی بری طرح رو رہی تھی اور پورے لاونج میں اسکے رونے کی آواز تھی
ایم سوری ” عمر نے کہا آواز واضح تھی سب سن سکتے تھے
ایم سوری ” وہ پھر بولا
میں نے تم سے کہا تھا اب تمھیں کوئی کچھ نہیں کہے گا لیکن میں نے دیر کر دی ۔۔۔
وہ اسکے بالوں میں انگلیاں پھنسائے اپنے سینے میں اسے چھپائے سارے گھر کے سامنے اسے بھینچے کھڑا تھا جبکہ وہاں کھڑا ایک ایک شخص شاکڈ تھا
وہ جیسے دنگ رہ گئے تھے
یہاں تو ایسی باتیں حرام تھیں اور عمر نے اسے سینے سے ہی لگا لیا زبان جیسے ہل نہیں سکی اسنے ساز کو دور کیا
اور اسکی آنکھیں صاف کیں ساز ایکدم حوش میں آئی
ادھر ادھر دیکھا اسنے دور ہونا چاہا مگر اسنے اسے دور ہونے نہیں دیا اسنے پھر سے آنسو صاف کیے ۔۔
اور سپاٹ نگاہ وہاں کھڑے ایک ایک شخص پر اٹھائی
آپ نے مارا ہے اسکو ” وہ انکی جانب بڑھا ساز آنسو بھلائے بھکلا کر سہمی ہوئ نظروں سے اسے دیکھنے لگی جو اپنے باپ کی سمت بڑھا
عمر” وہ ایکدم پیچھے ہوئے
میں نے پوچھا ہے آپ نے مارا ہے ” وہ دھاڑا ایکدم اسکے دھارنے پر اشفاق صاحب کے چہرے کے رنگ واضح اڑے تھے
عمر یہ کیا طریقہ ہے بیوی کے لیے باپ پر چڑھو گے” ارہم نے اسکے شانے پر ہاتھ مار کر دھکیلا اور عمر خیام کا ہاتھ گھوم کر اسکے منہ پر پڑا تھپڑ کی آواز میں اتنی گونج تھی کہ بلکل اسی طرح ارہم بھی زمین پر گیرہ لیکن عمر اسے دیکھ نہیں رہا تھا سب ایکدم منہ پر ہاتھ رکھ گئے
وہ اپنے باپ کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا
عمر بڑا ہو گیا ہے ڈیڈ یہ بات یاد رکھیے گا ” وہ انگلی اٹھا کر جیسے وہ آنکھوں آنکھوں میں انھیں بہت کچھ جتا رہا تھا
ہائے میرا بچہ ” تائی جان ارہم کے پاس آئیں مگر ارہم بے عزتی کے احساس سے پاگل سا ہونے گیا عمر نے اسکی جانب دیکھا تک نہیں اشفاق صاحب اسکی نظروں کو کیا اسکی بات کے مفہوم کو بھی سمجھتے تھے وہ کس بارے میں کہہ رہا تھا
عمر خیام کی بیوی ہے ساز اور ہو سکے تو میری بیوی سے اپنے ہاتھ پاوں کو یہاں تک کے نگاہ کو بھی دور رکھنا یہ سب کے لیے میری لاسٹ وارننگ ہے ورنہ عمر پاگل ہے ڈیڈ یہ بات آپ کے منہ سے بچپن سے سنتا آیا ہوں ۔۔۔۔
آپ نے عمر خیام کا پاگل پن بھی دیکھا ہے پھر بھی آپ میری زندگی میں دخل دے رہے ہیں ” وہ عین انکے سر پر کھڑا تھا
اگر آپکی بیوی یہ آپکی کوئی اور اولاد اس جگہ ہوتی تو مجھے قسم تھی میں اسکا منہ تھپڑوں سے رنگ دیتا یہ وہ ہاتھ ہی تن سے جدا کر دیتا میری بڑی خواہش ہے آپ سے میرا رشتہ باپ بیٹے کا نہ ہوتا تو میں اپکو بخوبی بتاتا مولانا صاحب اپکا دین کیا کہتا ہے کس کس حقوق کی ناانصافی کا آپ پر قرض ہے وہ مڑا ایک غصیلی نگاہ سب پر اٹھائی
میں لحاظ نہیں کرتا آخری بار سمجھا رہا ہوں
ساز عمر خیام کی بیوی ہے اور اپنی بیوی کو سمجھا لے وہ اپنے ہاتھ اور زبان بند رکھے اگلی بار منہ سے بات نہیں کروں گا “
اور یہ بات سب کے لیے ہے ۔۔
میں تھائی لینڈ جاؤں یہ جہنم میں یہ میرا مسلہ ہے میری بیوی میرا نام لے یہ مجھے کچھ بھی کہے یہ بھی میرا مسلہ ہے کسی نقلی جالی مولوی کا دین ایمان مجھ پر میری بیوی پر مسلط نہ ہی ہو تو اچھا ہے
طوائف سے شادی کرنے سے پہلے اپنے ایمان کو جگاتے ” یہ طعنہ مارنے کی جرت بھی عمر کے علاوہ کوئ نہیں کر سکتا تھا یہ اذیت وہ انکے ساتھ ساتھ خود کو بھی دے گیا تھا
اسنے حونک کھڑی ساز کا ہاتھ تھاما اور اسے ان سب کے بیچ سے نکال لے گیا جبکہ اشفاق صاحب سمیت سب کی زبانیں تالو کو جا لگیں نجما مزید پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی
وہ کس طرح اپنے رب کا شکر ادا کرتی جبکہ ساز اسکے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ دیکھ رہی تھی وہ ان سب کے سامنے اسے کمرے میں لے ایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہا تھا تمھیں چل لو میرے ساتھ نہیں تمھیں یہیں انا تھا ” وہ اسپر بھی خفا ہوا اسے ساز کے چہرے پر پڑے نیل جیسے ماضی کی یاد دلا رہے تھے
میں اس آدمی کے ہاتھ توڑ دو گا دیکھنا تم اسکی جرت کیسے ہوئی تم پر ہاتھ اٹھانے کی” وہ اسے بیڈ پر بیٹھا کر ادھر ادھر دیکھنے لگا
ساز حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی
اسنے اپنے دراز ٹٹولے اور فرسٹ ایڈ بکس نکال کر اس میں سے ایک ٹیوب نکالی وہ اسکے نزدیک آیا
ابھی کچھ دیر پہلے وہ اسپر بھڑک رہا تھا کہ اسکی وجہ سے وہ تھائی لینڈ جا نہیں سکا اور اب ۔۔ اب وہ اسکی اتنی کئیر کر رہا تھا
وہ شاید خود بھی لاعلم تھا کہ کر کیا رہا ہے
اسنے وہ ٹیوب ہاتھ پر نکالی اور جیسے ہی عمر کے ہاتھ ساز کے گال کی طرف بڑھے تو کسی کا چہرہ آنکھوں میں سما گیا
وہ ۔۔ وہ اس گال کو اور ہاتھ میں موجود ٹیوب کو ڈانٹ پر ڈانٹ چڑھائے دیکھتا رہا
عمر” ساز کو جھٹکا لگا تھا اسکا یہ جھک کر اتنا قریب آنا اور پھر اسکے گال کو گھورتے رہنا
تم فکر نہ کرنا اب کوئی ہاتھ تمھاری جانب نہیں اٹھے گا میں اٹھنے ہی نہیں دوں گا میں ہاتھ توڑ دو گا بھلے وہ میرا باپ ہی کیوں نہ ہو ۔
ٹرسٹ می” اسکی انکھوں میں ایک الگ ہی جنوں خیزی تھی آنکھیں لال سرخ تھیں ساز کے لیے یہ تھپڑ نئے نہیں تھے مگر عمر جیسے ماضی میں جا پٹخا تھا اسکی پیشانی کی رگیں تنی ہوئیں تھیں جیسے ابھی پھٹ جائیں گی
کتنے آنسو اسکے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں نے اس عورت کے صاف کیے تھے وہ سر جھٹک کر دور ہوا
آپ غصہ نہ کریں میں ٹھیک ہوں” ساز کو لگ رہا تھا جیسے وہ پاگل سا ہو رہا ہے
یہ تو کبھی توجہ نہیں دی اور آج توجہ دی تو وہ دیوانہ لگ رہا تھا
کیسے ٹھیک ہو تم اپنا چہرہ دیکھو ” وہ آگ بگولہ ہوا
یہ عام بات ہے “
شیٹ اپ” وہ چلا اٹھا
عورت کے لیے پیٹنا اتنا عام کیوں ہے تم ۔۔ تم عورتیں پاگل ہوتی ہو کیا مرد کی مار تمغوں کیطرح سہتی ہو عجیب جاہل ” وہ مٹھیاں بھینچ کر ضبط سے اسے دیکھنے لگا
ساز آنکھیں جھپکنے لگی “
ایک تو تم میری سمجھ سے باہر ہو لیٹ جاؤ ” اسنے بلینکیٹ اٹھایا
عمر” وہ حیران رہ گئ
شیٹ اپ ساز مجھے ایک لفظ نہیں سننا تمھارا گال ٹھیک نہیں ہوتا تب تک تم یہاں سے باہر نہیں جا رہی ہو لیٹ جاؤ “
اسنے کہا جبکہ ساز گھبرا سی گئ
اسنے ایک نگاہ اسے دیکھا وہ سر پر سوار تھا وہ نا چاہتے ہوئے بھی پیچھے لیٹ گئ
عمر نے اسپر کمبل سیدھا کیا اور ریموٹ اچھال دیا
ٹی وی دیکھ لو بور نہیں ہو گی”
اسنے پینٹ کی پوسٹس میں ہاتھ ڈال کر اسکے گال سے نگاہ چرائی
میں ٹی وی نہیں دیکھتی” وہ آہستگی سے بولی
اسکے اس انداز سے عجیب سا احساس بھی ہو رہا تھا
معلوم نہیں دل و دماغ میں کس بات کی خوشی کا احساس تھا حیران بھی تھی بس انوکھا سا تھا سب ۔۔۔
ٹھیک ہے موبائل استعمال کر لو ” اسنے اپنا موبائل نکال کر اسکی جانب اچھال دیا موبائل بھی اسکی گود میں گیرہ
ساز نے اسے بے چارگی سے دیکھا
میں ۔۔۔ موبائل بھی استعمال نہیں کیا کبھی” وہ شرمندہ ہوئی
وہ اسے ایسے دیکھنے لگا جیسے وہ مارس سے ائی ہو ۔۔۔
اوکے میں سیکھانا ہوں تمھیں” وہ سر جھٹکتا عین اسکے پہلو میں بیٹھ گیا
ساز کا دل جیسے اسکے بلکل نزدیک بیٹھنے سے پاتال میں جا گیرہ وہ اسکی خوشبو اپنے اردگرد محسوس کر کے جیسے اوسان خطا کر گئ تھی اور وہ کتنے سکون سے اسکے پہلو میں بیٹھا ۔
اسپر موجود کمبل خود پر ڈالا اور موبائل اٹھایا
دیکھو یہ ڈیوٹیر ہے اس میں پوری دنیا ہے ٹھیک ہے پوری دنیا ” وہ اسکی جانب دیکھتا بولا جس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئ
ساز کی دھڑکنوں نے عجب لے پر شور کرنا شروع کر دیا تھا لیکن یہ شور صرف ساز کو ہی سنائی دے رہا تھا اسے کیوں نہیں جو اسکے اتنے قریب ا گیا کہ اسکی دھڑکنیں اتھل پتھل سی ہو گئیں
وہ نگاہ جھکا گئ ۔۔۔
بار بار نگاہ جھکاتی کبھی اٹھاتی وہ جیسے خود کی غائب دماغی پر افسوس کرنے لگی ۔۔۔
ٹھیک ہے سمجھ آیا کچھ ” اسنے کہہ کر پھر اسکی جانب دیکھا ۔
ج۔۔۔۔۔ جی جی” وہ ایکدم بولی
گڈ یو لو تم رکھ لو “
وہ بے نیازی سے اسکی جانب موبائل اچھال گیا
چلو جب تک تمھاری طبعیت ٹھیک نہیں ہوتی مووی لگا لیتے ہیں”
اسنے کہا اور ریموٹ اٹھا لیا
ساز اسکے ہاتھوں کی جانب دیکھنے لگی اسے لگ رہا تھا اسے یہ سب کرنا نہیں آتا اپنے آپ اسکے چہرے پر مسکراہٹ بکھرنے لگی اور وہ جو اسے شرابی نشئ کہتی تھی جیسے ہر بات بھول گئ
بس اتنا یاد رہا کہ دنیا میں کوئی تھا جو اسکے لیے کچھ کر سکتا تھا
آج جو کچھ ہوا وہ نیا نہیں تھا اسنے اس گھر کے ہر شخص کے آگے ہاتھ جوڑے تھے
لیکن آج چھاوں سی محسوس ہوئی تھی اتنی گھیری دھوپ میں کسی انجن نے اسے چھوا دی تھی
وہ کیا لگا رہا تھا کیا کر رہا تھا وہ نہیں جانتی تھی لیکن سب اچھا لگ رہا تھا
اپنی ہی دھڑکنوں سے خائف ہوتی وہ ہوش میں ائی
یہ غلط ہے یہ گناہ ہے فلمیں نہیں دیکھنی چاہیے” اسنے اسکی لگائی گئ فلم کو بند کر دیا
جو کہ ابھی وہ تفصیل دینے ہی لگا تھا کہ یہ مووی بہت اچھی ہے
لو بھلا گناہ ثواب کے چکر میں رہی تو لے لیے تم نے دنیا کے مزے” وہ پھیل کر لیٹ گیا
ساز ایک فاصلہ سا بنا گئ اسکی ٹانگیں الگ کانپ رہیں تھیں اس سے تھوڑا دور ہو گئ
مانگیں مجھے نہیں لینے مزے میں تو ایک عام سی لڑکی ہوں”
ہاں پتہ ہے پتہ ہے وہی بوڑھی اماں والی باتیں شروع مت کر دینا
مجھے نیند آنے لگی ہے تم بھی سو جاؤ “
وہ بولا اور آنکھوں پر بازو رکھ لیا
ساز نے اسے دیکھا آدھا نیچے لیٹا ہوا تھا پاؤں میں جوتے تھے اور آدھا کمبل خود پر ڈالے سونے کے لیے تیار تھا
وہ کیوں مسکرا رہی تھی سمجھ نہیں سکی لیکن وہ مسکرا دی
اور باقی سارا وقت اسے دیکھتی رہ گئ
آج اسے بہت خوشی محسوس ہوئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ نے دیکھے اس ساز کے رنگ ڈھنگ کیسے اسکے سینے سے لگی کھڑی تھی بھابھی” ثروت چچی بولیں
امی اسکا شوہر ہے وہ نکلی اس پر تایا جان نے اسکے منہ پر تھپڑ دھاڑا
اور سوہا جو بدر بھائی سے باتیں کرتی ہے ” صنم غصے سے بولی
ہیں ہیں تیری اتنی زبان تو میری بیٹی کے متعلق بولے ” تائی کا تو میٹر ہی گھوم گیا
صنم چچی نے اسے ڈیٹا
امی یہ ہی سچ ہے” وہ اٹھ گئ
اسکی زبان کو لگام دے ثروت ورنہ” وہ بھڑکیں
بھابھی معاف کر دیں بچی ہے دیکھیں اچھا ہو گیا سب کچھ بس کل مہندی کی رسم بھی ہو جائے”
ارے جاؤ تم لوگ ایک تو وہ منحوس ساز اور اسکی ماں دونوں ایسی زہر لگتی ہیں مجھے اوپر سے سوہا کی ضد نے الگ ہی غصہ دلا رکھا ہے ۔۔۔۔ وہ اسکو جھٹکتی بولیں
اب کیا یہ مہندی وندی کی ضرورت تھی بس کافی تھا نکاح بھی
ایک تو وہ کنگلہ ہی ذہن لگتا ہے مجھے”
وہ منہ بنا کر بولیں اندر آتے بدر نے یہ بات سنی تھی
اور پھر وہ کچن میں چلا گیا جہاں اسکی ماں کا ہونا یقینی تھا
امی تایا جان نے نکاح کی رسم کب رکھی ہے “
وہ سیدھا سوال کرنے لگا
ہلکی آواز میں بولو کیا بے شرموں کیطرح منہ پر ہی بولے جا رہے ہو
بس کریں یہ عام بات ہے جو یہ شرم ورم ہے مجھے بھی پتہ ہے کون کتنا ہے ” وہ ناگواری سے بولا
کہہ رہے تھے کل مہندی کے بعد ہی ہو جائے گا “
اسکے تیور اچھے نہیں تھے بس اسی روز کا انتظار تھا ” وہ بڑبڑایا
ساز ا گئ ہے اور تمھیں پتہ ہے اج کیا ہوا ” نجما کافی خوش تھی سب بتاتی چلی گئ
ہممم خوشی کی بات ہے تایا جان کو سیدھا عمر ہی کر سکتا ہے لیکن اب انکا وقت چل پڑا ہے امی اب وقت بدل گیا ہے” وہ نفرت سے بولا
پچھلی باتیں بھول جاو بیٹا ” نجما بولی
بھول گیا “
نجما چچی ” سوہا کر آواز پر دونوں نے مڑ کر دیکھا
وہ بدر کو دیکھ کر مسکرانے لگی
ذرا فریش جوش بنا دیں میری سکن کے لیے اچھا ہے”
اچھا بیٹا باہر بیٹھو لے آتی ہوں”
خود بن لو” بدر سنجیدگی سے بولا
جب کام کرنے والے موجود ہیں تو مجھے کیا ضرورت “
وہ تمھاری ساس اور میری ماں ہیں کام کرنے والی نہیں “
جانے دو بدر یہ باتیں بحث کی نہیں نجما شاکڈ ہی رہ گئ
ابھی ساز نے اپنے شوہر کا نام لیا تو بھائی صاحب نے اسکے ساتھ کتنا برا سلوک کیا اور سوہا تو وہ دونوں کو دیکھنے لگی
بدر نے ضبط سے سر ہلا دیا
ایسا لگ رہا ہے جیسے جیسے شادی کے دن قریب ا رہے ہیں تم مجھے پسند کرنے لگے”
ٹھیک سوچ رہی ہو ” وہ زبردستی مسکرایا اور وہاں سے باہر نکل گیا
سوہا نے نجما کی جانب دیکھا
وہ آپکی بیٹی کا نصیب اور یہ میرا نصیب” وہ آنکھوں کو دلنشین سی جنبش سے کر بولی اور خود بھی چلی گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
