Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 07
No Download Link
Rate this Novel
Episode 07
وہ اسے دیکھ رہا تھا بلاشبہ وہ کافی خوبصورت تھی ۔
روکا تھا میں نے تمھیں روہان سے مخاطب نہیں ہونا ” انگوٹھا اب بھی اسکے نرم ہونٹوں پر گردش کر رہا تھا ایزہ کی ہر امید کے برعکس ہوتا تھا یہاں سب کچھ۔۔۔
خاص کر شاہنواز وہ اسے برا سمجھتی تو اسکی حمایت لے لیتا اور جب وہ سب نارمل سمجھتی تو سوال کر کے روح کھینچ لیتا ۔
ایزہ نے نفی میں سر ہلایا ۔
م۔۔۔میں نے کچھ نہیں کیا تھا ” وہ بس اتنا ہی بولی
شاہنواز کے انگوٹھے کی حرکت رک گئ ۔
تو اسکی جرت کیسے ہوئ وہ تم سے بات کرے” شاہنواز نے اچانک اسکا چہرہ اپنے ہاتھ کی سخت جکڑ میں پکڑ لیا ۔
ایزہ کی سانس وہیں ا ٹک گئ
م۔۔۔میں سچ کہہ رہی ہوں ” اسکے پاس ایسے الفاظ ہی نہیں ہوتے تھے وہ اپنی بات پر زور دے سکے ۔
اور اگر جھوٹ نکلا تو ” وہ اسکے چہرے کے قریب ہوا
جان سے مار دیجیے گا ” وہ یہ الفاظ بنا خوف و خطر کے بولی کہ مرنا شاید اس زندگی سے زیادہ بہتر تھا
شاہنواز مسکرا دیا
اسکا چہرہ جھٹکا دے کر چھوڑا
ایسے نہیں ایسے تو بلکل نہیں ” وہ شانے اچکا گیا
جاو اپنا بیگ پیک کرو مجھے نکلنا ہے اور دادی جان سے معافی مانگ لینا ” وہ کہہ کر مڑا اور پھر خود کو آئینے میں دیکھنے لگا ۔
جی” نہ اسنے قصور پوچھا نہ ہی قصور جاننا چاہا ۔
وہ واشروم میں چلی گئ
فریش ہو کر وہ باہر ائ تو شاہنواز نہیں تھا اسنے ائینے میں خود کو دیکھا
اسکے وجود پر زخم دو دن پرانے تھے دو دن سے شاہنواز نے اسے چھوا نہیں تھا ۔
وہ ان چیزوں کی عادی ہو گئ تھی ۔
اب نہ روتی تھی ان باتوں پر نہ ہی اپنا بچاو کرتی تھی الٹا جب وہ اسکے ساتھ لیٹتا ۔ اور اسے اپنی جانب نہ کھینچتا تو وہ حیرانگی کے مارے ساری رات سو نہیں پاتی تھی ۔
وہ تیار ہو کر سیاہ جوڑے میں بالوں کو آج بے ساختہ کھلا چھوڑے ۔ سر پر دوپٹہ جمائے نیچے ا گئ
بنا میکپ اور کسی چیز کے بھی وہ چلتی پھرتی آفت تھی
وہ نیچے ائ تو دادی جان کے سامنے شاہ نواز بیٹھا تھا ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے ۔
اور ایک پل کے لیے اسے دیکھ کر رہ گیا ۔
اسکا حسن قیامت خیز تھا وہ توجہ سے اسے دیکھنے لگا جس کی جھکی جھکی نگاہ شاہنواز کا سارا دھیان کھینچ چکی تھی ۔
دادی جان نے نخوت سے ائزہ کو دیکھا
یہ کیا حلیہ یے ۔اسطرح ائیرپورٹ پر جاو گی” وہ ایکدم تلخی سے بولیں شاہنواز کی پیشانی پر بل سے پڑے مگر فلحال کچھ نہیں بولا ۔
جا کر اس لباس کو بدلو ہاں تمھاری جیسی آوارہ بدچلن لڑکیوں کی اولین خواہش ہوتی ہے کہ مرد انپر فدا ہو جائیں استغفراللہ زمانہ تو دیکھو کیسا ا گیا ” وہ غصے سے توبہ توبہ کرتے بولی جبکہ وہ پلٹنے لگی لباس تبدیل کرنے کے لیے
رک جاو میرے پاس زیادہ وقت نہیں جو پہن لیا سو پہن لیا ” وہ اٹھتے ہوئے بولا نگاہ اسی پر تھی دادی جان دیکھ رہیں تھیں اور انھیں پوتے کی یہ توبہ سخت زہر لگ رہی تھی وہ اتنا ہی لاغرض سا رہتا نہ کیا ضرورت تھی اتنا اسپر دھیان دینے کی ۔
وہ کھڑا ہو گیا اور ایزہ دادی جان کے پاوں پکڑ گئ
آپ مجھے معاف کر دیں ا گر میں نے آپکی دل آزاری کی ہے تو ” ۔
اگر” وہ اسکے لفظ پکڑ گئیں
او بی بی یہ ڈھکوسلے نہ کسی اور خے سامنے کرنا یہ اگر کیا ہوتا ہے پتہ نہیں ہے کیا تیری بدچلنی کا مجھے” وہ اسکے وجود کو لفظوں سے چھلنی کر دینا چاہتی تھیں لیکن وہ ساکت بیٹھی تھی ۔
ان لفظوں کی چبھن کا اظہار اور اسکی اجازت تو کبھی بھی نہیں تھی ۔
ہٹو یہاں سے ” وہ اسکے ہاتھ جھٹک گئیں
دادی جان” شاہنواز بیچ میں ہی بول اٹھا ۔
آئندہ آپ ایزہ کو ان لفظوں سے مت پکاریے گا جب دنیا کہ ہاتھ میں توڑ سکتا ہوں تو آپکے منہ سے یہ لفظ سن کر مجھے تکلیف ہو گی” ۔
خلاف توقع شاہ نواز کی آواز اسے حیران کر گی اسنے حیرانگی سے مڑ کر دیکھا دادی جان کا منہ سا بن گیا ۔
پہلو بدلنے لگیں ۔
ایزہ نے انکے پاوں پھر سے پکڑنا چاہے
تو وہ اسکے ہاتھ جھٹک گئیں لیکن اب کچھ بولی نہیں تھیں شاہنواز کو کسی کی کال ا گئ تو وہ باہر نکل گیا ۔
اور اسکے جاتے ہی دادی جان نے اسکے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑ لیا ۔
ایزہ کی بے ساختہ چیخ نکلی کہ وہ اسکے ہونٹوں کو بھی اپنی ہتھیلی سے دبا گئیں ۔
پرانے دماغ اور خیال کی عورت تھیں جو بس بہو پر ظلم کرنے کو ترجیح دیتی تھیں
کیا گھول کر پلایا یے تو نے شاہ کو کہ سچی باتوں کو بھی جھوٹا کہہ رہا ہے ۔ تیری بدچلنی تو اسکے آگے کھل ہی جائے گی یہ ڈرامے اور ڈھونگ میرے سامنے کرنے کی ضرورت نہیں پوتا چھین لیا کلموہی بدذات نے میرا ” وہ اسکے بالوں کو جھنجھوڑنے لگیں ایزہ کی آنکھیں بھیگ گئیں آنسو ٹپ ٹپ بہنے لگے اور ایک ملازمہ دوڑتی ہوئ اندرا ئ
ایزہ بی بی شاہ صاحب بلا رہے ہیں” ۔
وہ بولی ۔
جبکہ دادی جان نے اسکے بال اچھے خاصے کھینچے تھے کے اسکے بال انکی مٹھی میں اتر گئے
اسکی آنکھیں سرخ ہو گئیں اور انسووں کی ایک جھڑی بن گئ
انھوں نے لات مار کر ایزہ کو اپنے تخت پر سے ہٹایا ۔
دفع ہو جا اب میری نظروں سے اور واپس آنے پر مجھے خوشخبری نہ ملی تو یہ جو حمایت لے رہا ہے نہ نرگیس بیگم کا پوتا ہے ” وہ فخر سے بولیں
ہڈی پر سے چمڑا الگ کرا دوں گی” ۔
وہ بولیں ایزہ ۔ پیچھے قدم لینے لگی ۔
اور ملازمہ بھی خاموش کھڑی رہی گئ
اسپر ہونے والا ظلم یہ پہلا تو نہیں تھا دادی جان اسکے ساتھ یہ ہی سلوک کرتی تھیں
شاہنواز جب جب اسے جوتے کی نوک پر رکھتے تو وہ ایزہ کے ساتھ نارمل رہتی ورنہ انھیں ایسے ہی دورے پڑتے تھے وہ اپنے چہرے پر پھیلے آنسو صاف کرتی دوپٹے کو اچھے سے لیے باہر اگئ
تو شاہنواز گاڑی میں سوار تھا وہی ڈرائیور تھا ایزہ کا دم سا گھٹنے لگا وہ اسے دیکھ رہا تھا ترچھی نگاہوں سے ایزہ کا بس نہیں چلا کہیں غم ہو جائے غائب ہو جائے ۔
اور جیسے ہی اسنے ایزہ کو شیشے میں دیکھ کر آنکھ ماری ۔
ایزہ کے ہاتھ پاوں پھول گئے
اسنے شاہنواز کو دیکھا ۔
وہ اعتبار بے اعتباری کے بیچ تھا ۔
وہ دادی جان کے خلاف پہلی بار بول رہا تھا کیونکہ چھ ماہ میں ایک بار بھی دادی جان کے خلاف بات کرتے سنا نہیں تھا الٹا اسے اگنور کرنا عام بات تھی
گاڑی روکو ” ۔شاہنواز نے اچانک کہا تو ذرا ڈرائیور نے گاڑی روک دی۔
اور شاہنواز باہر نکل گیا
ایزہ بے چین ہو گئ ۔
باہر ایک گاڑی رکی تھی اس میں سے نکلنے والے شخص سے وہ مل رہا تھا اور اندر ایزہ کی ہمت جواب دے گئ وہ شکایت لگاتی تو کہیں خود بری نہ بن جاتی کہیں وہ اسی کے بارے میں یہ نہ سوچ لیتا کہ اسی میں برائ ہے جو ہر مرد اسکے ساتھ ایسا کر رہا یے
ڈرائیور ڈھٹائی پر اترا ہوا تھا ۔
وہ دانت نکوستہ ایزہ کو دیکھ رہا تھا ایزہ نے منہ چھپا لیا ۔
پردے میں رہنے دو پردہ نہ ہٹاو ۔
پردہ جو ہٹ گیا تو ۔
بھیڑیا کھا جائے گا ” ۔
وہ گنگنا رہا تھا ۔
ایزہ کے ہاتھ کانپنے لگے تھے ۔
آنکھیں انسووں سے بھر گئیں تھیں ۔
اور ڈرائیور اب سیٹی بجا رہا تھا ۔
وہ دروازہ کھول کر اندر بیٹھا
تو ڈرائیور کی چونچ بند ہوئ اور ایزہ کچھ بھی سوچے سمھجے بنا اسکے نزدیک ہو گئ ۔
شاہ نواز نے اسکی جانب دیکھا ایزہ نے کانپتا ہاتھ اسکے بازو میں ڈالا اور اسکے بازو پر سر رکھ لیا
اسطرح وہ چھپ گئ تھی ڈرائیور سے ۔
اسنے ٹانگیں سمیٹ لیں بولی کچھ نہیں تھی بس بچوں کیطرح اسی کے پہلو میں چھپنا چاہ رہی تھی ۔
شاہنواز نے اسکی اس حرکت کو دیکھا اور پھر ایک نظر آگے بیٹھے ڈرائیور کو ۔
اور اچانک ہی اسکی گردن پیچھے سے جکڑی
گاڑی روکو” ۔
ایزہ سیدھی ہوئی
گاڑی روکو ” وہ دھاڑا ایزہ دور ہو گئ ۔
ڈرائیور نے گاڑی روکی
شاہنواز باہر نکلا
اور اسنے باہر نکل کر ڈرائیور کو کھینچ کر باہر نکالا اور الٹے ہاتھ کے دو تھپڑ کھینچ کھینچ کر اسکے منہ پر برسا دیے
ایزہ منہ پر ہاتھ رکھ گئ ۔
کیا اسے علم ہو گیا تھا ۔ جو وہ کہہ نہیں پا رہی تھی ۔
ایزہ اب بھی حیران تھی ۔
کل سے اب تک شاہنواز اسے اعتبار کی کڑی میں بے دھیانی میں باندھتا جا رہا تھا ۔
اسنے ڈرائیور سے کچھ نہیں کہا تھا اسپر غصہ نکال کر اسنے ڈرائیور کو دھکیلا
صاحب میں نے کیا کیا یے آپ مجھے مار کیوں رہے ہیں” وہ متواتر ایک ہی سوال کرتا اپنا بچاو کر رہا تھا جبکہ دوسری طرف ایزہ اپنی بڑی بڑی آنکھیں پھیلائے یہ منظر دیکھ رہی تھی ۔
کیا وہ اتنی حثیت رکھتی تھی کہ وہ بن کہے سمھجہ جاتا ۔
آئندہ میرے ارد گرد بھی نظر نہ انا” اسکی ناک سے بہتے خون کو اگنور کرتے وہ اسے نوکری سے نکالتا بس اتنا ہی بولا ۔
اور ڈرائیور کو روڈ پر ہی پھینک کر وہ خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا ۔
شاہنواز سکندر پہلی بار گاڑی پروٹوکول کے بنا چلا رہا تھا نہ ہی وہ چلاتا تھا نہ اسے ضرورت ہڑتی تھی ۔
ایزہ دم سادھے گئ
شاہنواز نے گاڑی کی سپیڈ بھڑائ اس سے کوئ بات نہیں کی تھی اور ائیرپورٹ کی جانب بڑھ گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آو آو عمر بیٹا کیسے ہو ٹھیک سے نیند ای مچھروں نے کاٹا تو نہیں بھئ تمھارے لیے سپیشل مچھروں کو مارنے والی دوا ہوتی یے نہ وہ لگائ تھی ۔
کیا ناشتہ” ۔
اتنے سوال کیوں کر رہی ہیں اپ” وہ بےزاریت سے بولا ۔
تائ کا منہ سا اترا ۔
عمر بھائی آپ امی سے بدتمیزی کرتے ہیں ہر وقت” سوہا زرس غصے سے بولی
اور عمر نے سوہا کو کبھی ولیو نہیں دی تھی
مجھے ناشتہ چاہیے” وہ بس اتنا ہی بولا سوہا بےعزتی کے احساس سے سرخ ہو گئ ۔
آ ہاں اری او نجما کہاں مر گئ ناشتہ بنا دے عمر کو ” ۔
وہ بولیں
اپ بنا کر دیں” عمر نہیں جانتا تھا یہ نجما کون ہے بلکہ اس گھر میں وہ صرف تائ اپنے باپ اور سوہا اور ارہم کے ساتھ چچا کو بھی تھوڑا بہت جانتا تھا اور بدر کو تو بس دیکھا ہی تھا
ہیں” ۔تای حیران ہوئ
ہاں اپکے پاس ہاتھ نہیں ہیں انھیں ہاتھوں میں تو بڑا ہوا ہوں میں” وہ انھیں کی بات انکے منہ پر مارتا سکون سے بولا
میں بنا دیتی ہوں” نجما پریشانی سے بولی تائ جان کو تو عرصہ گزرا کچن میں نہیں گئیں تھیں
نو تھینکس” سرد لہجے میں بولا
مجھے بھوک لگی ہے جلدی کریں” وہ پاوں جھلاتا موبائل نکال گیا
ہاں ہاں میں اپنے بیٹے کے لیے ناشتہ بناتی ہوں” وہ مسکرا کر اٹھ گئیں ۔
جبکہ سوہا عمر کو دیکھنے لگی
دیکھنے میں وہ ہمیشہ سے پرفیکٹ تھا بدر سے بھی زیادہ حسین رنگت تھی معلوم نہیں انکی رنگت انکی ماں پر کیوں گئ تھی سوہا اور ارہم کی ورنہ عمر بھی تو اسی کے باپ کی اولاد تھی ایسے سونے کیطرح چمک دھمک رکھتا تھا ۔
سوہا منہ بنانے لگی اور تائ نے تب تک نجما سے ناشتہ بنوا لیا
عمر خاموشی سے ملک شیک اور بریڈ سلائس لینے لگا
اور اچانک ہی سامنے سے ایک انٹی ا گئیں
اسکا دھیان اپنے کھانے کی جانب تھا ۔
اسلام علیکم ” انھوں نے تائ کو سلام کیا
تم پھر ا گئ کہا تو ہے ہماری بچی چھوٹی ہے بھئ نہیں کرنی کوئ شادی وادی” تائ زرا غصے سے بولیں
میرا بیٹا بھی ایا ہے اپ ایک بار مل لیں میرے بیٹے سے اپکی بیٹی کو بہت عزت سے رکھے گا ” انھوں نے پیار سے کہا اور ایک خوبرو لڑکا اندر داخل ہوا تو سوہا تو دل تھام گئ
دیکھو بھلا ساز کی قسمت تھی کیا تھا صوفیا صنم جو ماں کے کمرے سے ابھی نکلیں تھیں دیکھ کر حیران ہوئیں اور کہیں نہ کہیں جیلسی بھی ہوئ تھی ساز سے جبکہ ثروت بھی منہ بنا گئ اسکی بھی تو دو بچیاں تھیں اب یہ ساز میں کون سے لال لگے تھے جبکہ ساز اپنا اخری پیپر دینے بدر کے ساتھ گئ ہوئ تھی ۔
نجما بھی چپ کھڑی تھی
تمھارا دماغ خراب ہے بہن ہمارے ہاں لڑکے منہ اٹھا کر نہیں اتے نکالو بھئ اسکو باہر” تائ غصے سے بولیں اور عمر کو دیکھا جو کہ لاتعلق بنا ناشتہ کر رہا تھا
اسکا کوئ ریسپونس نہ پا کر وہ خود ہی اٹھیں
جبکہ وہ خاتون نجما کے پاس اگئیں
مجھے اپکی بیٹی بہت پسند ہے ۔اپ کا اختیار ہے اپ ہاں کہہ دیں” وہ بولیں
جبکہ نجما کے چہرے کے رنگ سے اڑ گئے
سوہا زرا اپنے باپ کو فون گھماو یہ لوگ یوں نہیں مانیں گے” تائ بھڑک کر اٹھیں اور وہ لڑکا ابھی کچھ کہتا کہ بدر اور ساز بھی ا گئے
ساز ان لوگوں کو گھر میں دیکھ کر کچھ حیران ہوئ اور جلدی سے اوپر چلی گئ
بدر نے سوالیہ نگاہ اس لڑکے پر اٹھائ جو انکے گھر میں کھڑا تھا
یہ ساز کے بھائ ہیں نہ ” وہ خاتون آخری بار قسمت آزمائی ہوئ بدر کے پاس گئیں
بیٹا میں بہت دونوں سے آپکی امی تائ چچی سب سے بات کر رہی ہوں مجھے آپکی بہن ساز بہت پسند ہے اور میں کیا میرا بیٹا بھی بیت خوش رکھے گا انھیں آپ ایک بار میرے بیٹے سے مل لیں” وہ بولی تو بدر حیران ہوا یہ بات نجما نے کی نہیں تھی اس سے اور ساز دل تھامے سب سن رہی تھی
اچھا لیکن آنٹی ہمارے ہاں اجنبی لڑکے گھروں میں نہیں آتے
بدر بولا
اچھا اچھا بیٹا ۔ سبحان بیٹا آپ گاڑی میں بیٹھو میں آتی ہوں” وہ جلدی سے انکے گھر کے ماحول کر احترام کرتی بولیں بدر کو تو بہت اچھی لگیں جو چیزوں کو ولیو دے رہیں تھیں ۔
اور انھوں نے دو تین بار آنے کا کہا تھا
بدر تمھارا دماغ خراب ہو گیا ہے میں انکار کر چکی ہو باہر نکالو اس عورت کو ” تائ جان بولیں تو بدر نے سرد نظروں سے اسے دیکھا
کیوں انکار کیا ہے ” ۔اسکے سوال پر ان خاتون کی جان میں جان آئی اور تائ نے غصے سے اسے دیکھا
ساز میری بہن ہے اور اسکا پورا اختیار میرے پاس ہے” وہ سکون سے بولا ۔
اب گونگی کا گڑھ کھا لینا زبان تو تمھاری ہلے گئ نہیں من چاہی جو کر رہا ہے بیٹا ارے منحوس تجھے کہا ہے اپنے باپ کو بلا” تائ چلائیں جبکہ بدر نے سر جھٹکا
آپ میرے ساتھ ائیں” وہ انھیں باہر لے ایا
بیٹا میں چاہتی ہوں آپکی بہن ” ۔
آنٹی آپ مجھے سلجھی ہوئ خاتون لگیں ہیں میں یقینا اس بارے میں سوچوں گا ” ۔وہ مسکرایا۔
جبکہ وہ بھی مسکرا دیں
بہت شکریہ اتنی عزت دینے کا ‘
عزت کہاں آپ نے تو ساری اصلیت ہی دیکھ لی” وہ طنزیہ ہنسا ۔
جانے دو بیٹا مجھے ساز کو لے کر جانا ہے باقیوں سے مجھے غرض نہیں” وہ مسکرائیں تو بدر بھی مسکرایا
میں کل پھر او گی ” وہ کہہ کر چلی گئیں جبکہ بدر نے سر ہلایا اور ۔
اندر ا گیا
یہ کون سا طریقہ ہے بڑوں کو بےعزت کرنے کا ” تائ بھنا اٹھیں
بدر” نجما نے کچھ بولنا چاہا
امی میں لڑکے کی معلومات نکلوا لوں ہم ساز کی شادی کر دیں گے اس دوزخ سے بچ جائے گی”
لو یہ گھر دوزخ بن گیا ۔ ” تائ کی چیخ و پکار شروع ہو چکی تھی
بدر نے کان بھی نہیں دھرے اور چلا گیا تایا نے نجما کو طعنے مارنا شروع کر دیے ساز منتظر تھی صوفیا اور صنم کی مگر دونوں ہی نہیں آئیں
اور دوسری طرف سوہا بے چین ہو گئ
ساز اتنے امیر لوگوں میں جاتی اسے چین کیسے آتی جبکہ عمر تو کب کا وہاں سے جا چکا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کس سے پوچھ کر تم نے ہاں کی یے” بدر کو کٹگھڑے میں کھڑا کر لیا تھا۔
ابھی تک تو نہیں کی لیکن کر دوں گا ” ۔
تمھارے بڑے مر گئے” تایا جان بھڑکے
ساز بہن یے میری میں اسکے بارے میں سوچنے کی اور درست فیصلہ لینے کا پورا اختیار رکھتا ہوں”
بس” وہ دھاڑے
پہلے اپنے قدموں پر کھڑے ہو اسکے بعد اس منہ کو کھولنا میرے سامنے
کیا اوقات ہے تیری ۔ کیا اپنی بہن کو اپنی خوشی سے ایک چادر تک نہیں دے سکتا شادی کے فیصلے کرے گا ” وہ اسکو بےعزتی کرنے میں کوئ قصر نہیں چھوڑتے تھے اور وہ ہی ہو رہا تھا جیسے پورے گھر کی دل کی آواز تایا جان بول رہے تھے ساز منہ پر ہاتھ رکھے رو رہی تھی اسکی وجہ سے پورے گھر میں اسکا بھائ بے عزت ہو رہا تھا وہ نہ ضد کرتا کون سا ساز کو شادی کی جلدی تھی نہ عمر نکلے جا رہی تھی ۔
تایا جان میری بہن’
دو دانے بھی اپنے پیسے کے ڈالیں ہیں تو نے اسکے حلق میں جو فیصلہ کرنے چلا یے نکل اس گھر سے اور یہ گند بھی لے کر جا پھر دیکھتا ہوں کون تیری بہن سے شادی کرے گا ” انھوں نے اسے دھکیلا تو بدر ایکدم دور ہوا ۔
اوقات دیکھو اسکی اور باتیں سنو ” وہ ہنس دیے
اگر دوبارہ وہ عورت اس گھر میں دیکھی تو تھپڑوں سے منہ سجا دوں گا ” وہ بولے
میں ساز کی شادی وہیں کروں گا” بدر ہمت کر کے ضد پر اڑا رہا
جبکہ تایا جان نے جوتی اتاری اور اسپر ہاتھ اٹھاتے کہ ساز دوڑ کر بھائ کے آگے ا گئ ۔
تایا جان آپ جو کہیں گے وہ کریں گے ہم”
پاگل ہو گئ ہو ” بدر دھاڑ اٹھا یہ ڈرامہ کیا زندگی بھر چلتا وہ لوگ اسی طرح زندگی گزارتے
ارے تم تو ہٹو ‘ ساز کو دھکیل کر ۔
تایا جان نے بس اسکا گریبان پکڑا ۔
جبکہ عمر یہ شور شرابہ سن کر ابھی نکلا تھا کمرے سے
اور وہی بدر نامہ کچھ کچھ جانتا تھا وہ اس بارے میں
بدر ایک مظلوم لڑکا اور اسکا باپ ایک جلاد تایا وہ سیب کھاتے ہوئے یہ منظر سکون سے دیکھ رہا تھا ۔۔
تایا جان میں اپنی بہن کی شادی کا حق رکھتا ہوں”
تو کر نہ جا یہاں سے” وہ بھڑکے بدر انھیں گھورنے لگا
جا بھئ جا تو یہاں سے نکل اس گھر سے ” ۔
بھائ صاحب ہم تو آپکے فیصلے پر چلتے ہیں اپ بڑے ہیں بچہ ہے یہ”
بس گونگی عورت زبان کھل گئ اب تیری ۔
میں نے کر دیا آج تیری بیٹی کا رشتہ ۔
عمر خیام سے اور جس میں اس فیصلے کے خلاف جانے کی جرت ہے وہ آئے میرے سامنے” وہ بولے اس بیچ اپنے نام کی باز گشت پر عمر نے ائ برو اچکا کر باپ کو دیکھا
جبکہ تایا جان نے کہہ تو دیا اب عمر کا ہی ڈر تھا بیچ میں کود گیا تو کچھ نہین چھوڑتا انکا
کیا” اس سے پہلے بدر چیخا
اپکا دماغ ٹھیک ہے آپکے شرابی بیٹے اور میری بہن کا جوڑ بنتا بھی ہے” بدر تلملا اٹھا
ہاں بنتا ہے تیری بہن میں سرخاب نہیں لگا میں فیصلہ کر چکا ہوں’ ۔
میں یہ ہونے نہیں دوں گا پاگل ہیں اپ” عمر کو لگا اسے بولنے کی ضرورت نہیں وہ ابھی صرف تماشا دیکھ رہا تھا
بھای صاحب میری بچی آپکی بچی یے کچھ اچھا سوچ” ۔
شکر مناو کہ تمھارے بھائ نے یہ سوچا ۔ برائ کیا ہے عمر میں لاکھوں میں کھڑا ہو گا چاند کیطرح چمکے گا “
تائ بھی بولیں
اور اگر اس خاتون کو اتنی ہی ہمارے ہاں رشتے داری کی پڑی ہے صنم کی کر دو وہاں ” وہ بولے تو ثروت چچی کو بھی سکون ملا مسکرا دیں
بہت شکریہ بھائی صاحب آپ بہت عظیم ہیں”
آپ اپنے دماغ سے یہ وہم نکال دیں ” بدر دھاڑا
تم اس گھر سے نکلے گے میرے فیصلے کے خلاف گئے تو اور تم شادی کی تیاریاں کرو عمر خیام اور ساز کی شادی ہو گی وہ بھی بہت جلد “
واقعی” اور نجما بدر سمیت ساز کے دل کو بھی اس آواز نے چین دیا تھا اب تایا تائ تو کیا کوئ بھی اسکے آگے پر نہیں مار سکتا تھا ۔
عمر تم سے بعد میں بات کروں گا میں” ۔
وہ بعد ابھی ہو جائے تو بہتر ہے میرے کمرے میں آئیں ورنہ مجھے یہاں بھی کوئ دقت نہیں” ۔وہ بولا اور چلا گیا ۔
ساز نے ماں کو دیکھا
امی نہیں ” وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی
گھبراو نہیں کچھ نہیں ہو گا
بدر نے اسے سینے سے لگا لیا جبکہ نجما سب کی جانب دیکھنے لگی پرسکون مسکان سب کے لبوں پر تھی اور وہ بے بس کھڑی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری زندگی کا فیصلہ لینے والے آپ کون ہوتے ہیں”
باپ تمھارا ” وہ بولے
اچھا بس یہ ڈھونگ رچانا بند کریں ” وہ چیڑ گیا
لگتا ہے تمھارا انٹرسٹ اس ڈائری میں رہا نہیں” اشفاق صاحب ہلکا سا مسکرائے عمر نے کھا جانے والی نظروں سے انھیں دیکھا
آپ مجھے بلیک میل نہیں کر سکتے” وہ انگلی اٹھا کر بولا
بلکل نہیں میں صرف تمھیں یہ کہہ رہا ہوں کہ شادی کرو بس “
مجھے شادی کی ضرورت نہیں “
تو میرے بیٹے تمھیں کہا کس نے ہے کہ اس بھکارن کے ساتھ ساری زندگی بندھے رہو جہاں دل کرے وہاں جاو جس پر دل آئے اسے استعمال کرو “
آپ مولانا ہیں” وہ طنزیہ ہنسا
اشفاق صاحب سنجیدہ ہو گئے
تمھاری بکواس ہی مجھے تم سے بات کرنے سے روکتی ہے”
تو بات ہی کیوں کرتے ہیں” ۔
خیر تمھیں تمھاری زبان میں سمجھانا پڑے گا ۔
تمھیں اگر نہیں چاہیے تو میں انکار کر دیتا ہوں کوئ زبردستی نہیں”
وہ بولے اور جانے لگے
مجھے شادی ہوتے ہی میری مطلب کی چیز چاہیے” وہ بولا
تو اشفاق صاحب خوش ہو گئے اسکا شانہ تھپتھپا کر باہرا گئے اب مزید چوڑے ہو گئے تھے ۔
بدر کو یقین تھا وہ بےعزت ہوں گے مگر انکی خوشی نے اسے حیران کر دیا
کرو ساز اور عمر کی شادی کی تیاری ۔۔۔۔ اور تیاری بھی کیا دو جوڑے بناو اور نکاح کی تاریخ یہ ہی کوئ اگلے ہفتے کی رکھ لو” وہ بولے تو ساز کو لگا وہ بےحوش ہو جائے گی جبکہ اسنے بری طرح رونا شروع کر دیا تھا
سب وہاں سے چلے گئے اور ساز پھوٹ پھوٹ کر رو دی
مجھے نہیں کرنی امی پلیز نہیں ” وہ ایک سانس بول رہی تھی نجما بھی اسکے ساتھ بے بسی سے رو دی جبکہ بدر خاموشی سے ان دونوں کو دیکھنے لگا اور جیسے اسکے دماغ نے بڑی عجلت میں حرکت کی تھی
وہ تایا کہ کمرے میں بنا اجازت کے گھسا
اگر عمر اور ساز کی شادی ہو گی تو سوہا اور میری شادی کی بھی تیاریاں کریں اور” وہ کچھ بولتی کہ وہ غرایا
یہ میرا فیصلہ میری زندگی کا فیصلہ ہے”
وہ جتا کر چلا گیا اور تایا جان نے گھیرہ سانس بھرا
ٹھیک ہے مجھے اعتراض نہیں “
کرتا ورتا تو کچھ ہے نہیں” تائ کو اختلاف ہوا
کچھ نہیں ہوتا میں اسے رکھ لوں گا پانچ سو روپے پر” وہ کہہ کر لیٹ گئے جبکہ تائ بے چین ہو گئیں بیٹی کے مستقبل کی فکر تھی انھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
