Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 02
No Download Link
Rate this Novel
Episode 02
عمر خیام اندر داخل ہوا تو لڑکھڑاتے قدم دھندلی نظروں اور نہایت بے زار چہرہ وہ پیچھلے ایک ہفتے سے ہی یہاں تھا ۔
اسنے وہاں بیٹھے لوگوں کو دیکھا اور پھر ایک آدمی کا شانہ پکڑ کر ہلایا
کوئ ۔۔۔۔ مر گیا ہے کیا “
اسکے سوال پر اس آدمی نے افسوس سے اسکی جانب دیکھا
آپکی والدہ کا انتقال ہو گیا ہے “
دوسری سمت اس آدمی نے اسے بہت غمگین خبر دی تھی
جس کے جواب میں وہ ” اوہ” کر کے رہ گیا
بیمار تھیں کیا ” وہ اسی سے سوال کرنے لگا وہ آدمی بھیگی آنکھوں سے عمر خیام کو دیکھنے لگا اور سر ہلا دیا
کیا ہوا تھا ” وہ بولا
کینسر” اسنے بس ایک لفظی جواب دیا
بہت برا ہوا” وہ بولا اور اندر ا گیا
اس محل جیسے گھر کے بیچم بیچ اسکی ماں کا جنازہ رکھا تھا اسکے مدعا بہت تھے اسے چاہنے والے اتنے تھے کہ اسے ضرورت ہی نہیں تھی اپنے زندہ جوان جہان بیٹا یہ شوہر کی ۔۔ وہ انکے قریب آیا تھوڑا سا جھکا
اور انکے چہرے پر سے سفید کپڑے ہٹا کر انکا چہرہ دیکھا جو کافی مطمئین تھا
وہ چند لمہے انھیں دیکھتا رہا
سب عورتیں مرد ل منہ پر ہاتھ رکھے حیرانگی سے اسے دیکھنے لگیں کیونکہ ناز بہت تمیز تہذیب اور اخلاق والی خاتون تھیں اور انکا بیٹا ۔۔۔۔
لوگ اسے دیکھ کر توبہ توبہ کرتے رہے تھے
کیونکہ اسکی سفید قمیص پر لیپسٹک کے کئ نشان تھے اور اسکے جھولتے قدم گواہ تھے کہ وہ نشے میں ہے
جھک کر وہ مسلسل اپنی ماں کو دیکھ رہا تھا
کئ لمحات یوں ہی خاموشی اور حیرانگی کے درمیان نکلے تو وہ سیدھا ہو گیا اور دوبارہ انکے چہرے پر کپڑا ڈال کر وہ اپنے کمرے میں چلا گیا
اسے تو دنیا میں موجود ہر شخص سے نفرت تھی کجا کہ وہ اپنی ماں کو اہمیت دیتا لیکن یہ تو اسکا دل ہی جانتا تھا
کہ اگر خاموشی سے کوئ چیز سینے میں پھرتی ہے تو اسکا دل ہی ہے وہ ۔۔۔
کوئ بھی تاثر دیے وہ اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر عین بیڈ پر اندھا جا گیرہ
کتنے دکھ کی بات ہے بیٹا شرابی اور شوہر نے دھکے دے کر نکال دیا
اللّٰہ ناز آپا کی روح کو سکون دے” وہاں چیماگویاں ہونے لگی
اب جنازہ اٹھا لیتے ہیں کیونکہ انتظار تو عمر صاحب کا ہی تھا ” ان میں سے کوئ ایک بولا
کیا انکے شوہر نہیں آئیں گے” کسی ایک نے سوال کیا
ایسا لگتا نہیں ہے “
کچھ لوگ بولے اور جوان بیٹا اور زندہ شوہر کے ہونے کے باوجود وہ اجنبیوں کے شانوں پر اپنی آخری جائے پناہ میں چلی گئیں تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمر خیام ” نرمی سے پکار کر اسپر پھونک ماری
جاگ گئے ہو شہزادے” وہ مسکرائیں
اسنے ایک آنکھ کھول کر دیکھا
آپ تو طوائف ہیں پھر یہ نمازیں پڑھنے کر مجھ پر دم شوقیہ کرتی ہیں یہ دیکھاوا” وہ کروٹ لیتے ہوئے بھی کافی کڑوا بولا تھا
اسکا دل جیسے بے چین ہوا مگر سنبھال گئیں
اللّٰہ سے محبت میں نمازیں پڑھیں جاتی ہیں”
طوائفوں کو کیسی محبت” وہ بند آنکھوں سے ہی ہنس دیا
مجھے تم سے اہم بات کرنی ہے ” وہ اسکے بالوں میں ہاتھ چلانے لگیں
عمر آنکھیں بند کیے ہی لیٹا رہا ۔
وہ کچھ دیر اسکے اٹھنے کا انتظار کرتی رہیں اور پھر وہ جانتی تھیں کہ وہ آنکھیں کھول کر انھیں نہیں دیکھے گا
ابھی ہفتہ بھر پہلے ہی وہ اپنے باپ کے گھر سے نکال دینے پر یہاں آیا تھا تو اسکا دل چیر گیا تھا اسکا بیٹا نہ یہاں کا تھا نہ وہاں کا خود کو مجرم مانتے کتنی بار کوستی رہی تھیں
لیکن علم تھا وقت کم ہے
تم سن رہے ہو نہ ” بڑی آس سے وہ بولیں
اسنے پھر بھی کوئ ریسپونس نہیں دیا ۔
عمر خیام میں نے اپنی ہر چیز تمھارے نام کر دی ہے تمھیں اپنے باپ کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن اگر انکی یاد آئے تو انکے پاس چلے جایا کرنا وہ تم سے بہت محبت کرتے تھے
یہ پراپرٹی سارا بیلنس ہر چیز تمھارے نام ہے میں نے تمام فائلیں وکیل کو دے دیں ہیں تم جب چاہو اس سے وہ فائلیں لے سکتے ہو ” وہ بولتی جا رہی تھیں
وہ چپ چاپ لیٹا ہوا تھا ہاں سن بھی رہا تھا
اور” لہجہ بھیگ گیا
اپنی ماں کو معاف کر دینا” انکا آنسو اسکے گال پر گیرہ
عمر کی آنکھ کھل گئ اسنے سرخ نظروں سے ادھر ادھر دیکھا
وہاں کوئ نہیں تھا یہ تمام گفتگو اسکی ابھی کل رات ہی تو ہوئ تھی
دل پر گھبراہٹ ہوئ تو وہ اٹھ گیا
اٹھ کر سائیڈ ٹیبل پر پڑی بوتل اٹھائ اور لبوں سے لگا لی
عمر خیام” اپنا نام اسنے خود ہی پکارہ
سخت زہر لگتا تھا اسے اپنا آپ بھی ۔۔ نہ بھی ہوتا وہ تو کوئ فرق نہ پڑتا
غم تھا یہ غصہ بوتل کھینچ کر دیوار پر ماری تھی اسنے کیوں اسکی انکھ نم ہو رہی تھی
کیا وہ ایک طوائف کے مرنے پر دھاڑیں مارنا چاہتا تھا
کبھی نہیں اپنا ہی گلہ گھونٹتا وہ اٹھا اور شاور کھول کر پانی کے نیچے کھڑا ہو گیا
کافی ٹھنڈا پانی تھا اسکو
احساس نہیں ہوا تھا البتہ ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناز آنٹی فوت ہو گئیں ہیں
کیا” اس اطلاع پر صوفیا اور ساز کھڑی ہو گئیں
انکی آنکھیں بھیگ گئیں اور دونوں نے اپنے منہ میں کچھ پڑھا تھا
مگر کیسے” صوفیا نے سوال کیا
انھیں کینسر ہو گیا تھا ” یہ دوسرا جھٹکا تھا دونوں ہی بے ساختہ رو دیں
اللّٰہ انکی مغفرت کرے ” دونوں بولیں اور بیٹھ گئیں
عمر خیام کہاں ہے وہ وہیں ہے”
افکورس صوفیا کیسے سوال کر رہی ہو اسکی ماں فوت ہو گئیں ہیں وہ وہیں ہو گا ” صنم نے نفی میں سر ہلاتے کہا
ہاں بہت دکھ کی بات ہے ” وہ بولی
وہ اچھی تھیں” ساز آہستگی سے بولی دونوں نے اسکی سمت دیکھا اور اس بات سے تو انکاری نہیں تھی کہ وہ اچھی تھی
اسکا اخلاق اس گھر میں رہنے والے ہر شخص سے بڑھ کر تھا
کچھ دیر بھی صدمے میں نہ گزر پائے تھے سوہا ا گئ
نیل پینٹ پر پھونک مارتی وہ ان تینوں کو دیکھنے لگی جو ادھر ادھر ہو گئیں تھیں
ساز” اسنے اسے ہی پکارہ جس کا کل پیپر تھا “
جی” وہ نہ چاہتے ہوئے بھی بولی
میرے پاوں کا مساج کر دو بہت دکھ رہے ہیں” وہ بولی اور صوفیا اور صنم نے ساز کی جانب دیکھا وہ کل کے پیپر کا غم نہیں بھولی تھی کہ سوہا نے اسے ٹیز کرنے کی قسم کھا لی تھی
شازیہ سے کرا لو سوہا اسکا پیپر ہے” صوفیا بولی جبکہ سوہا نے بےزاری سے اسے دیکھا
تم سے بات نہیں کی میں نے اگر تم ا رہی ہو تو ٹھیک ہے ورنہ میں بولتی ہو امی سے وہ ہی کہیں گی تمھیں بلکہ ایک کام کرتے ہیں نجما چچی تو فارغ ہو گئیں ان سے کروا لیتی ہوں” وہ سکون سے پلٹ گئ
ساز صوفیا صنم ایک دوسرے کو حیرانگی سے دیکھنے لگی
ساز جلدی سے اٹھ کر بھاگی تھی نیچے اور وہ پہنچتی کہ وہ نجما سے بات کر چکی تھی جو پہلے ہی چولھے کے آگے کھڑے کھڑے تھکن سے جیسے ختم ہونے کو تھی
نجما نے اسکی بات پر ایک لمہے کے لیے دیکھا
پلیز چچی” وہ مسکرائ
آ اچھا میں یہ رکھ کر آتی ہوں” انھوں نے کہا اور کچن میں چلی گئیں جبکہ سوہا صوفے پر بیٹھ گئ
ساز کی آنکھوں میں بڑے بڑے آنسو سما گئے ۔
اسکی ماں گرم پانی لے ائ اور اس سے پہلے وہ سوہا کے پاوں میں بیٹھتی ساز کا دل پھٹ سا گیا وہ آگے بڑھی اور امی سے پانی کا باول لے لیا
آپ تھوڑی دیر آرام کر لیں” وہ سرخ نظروں سے ہلکا سا مسکرائ تو اسکے گالوں کا گڑھا خوبصورتی سے چمکنے لگا
ارے نہیں میں تھکی تو نہیں” وہ بھی مسکرائیں
ہاں کیا ہی کیا ہے تم نے ایسا بھی اچھا نجما تم نے کچن سے فارغ ہو کر یہ اس کا سوٹ ذرا استری کر دینا اسنے اپنی دوست کی شادی میں جانا ہے “
وہ بولیں تو نجما نے جی بھابھی کہہ کر سوٹ تھام لیا اور ساز اسکے قدموں میں بیٹھ کر اسکا مساج کرنے لگی
سوہا کو کافی سکون مل رہا تھا تبھی آنکھیں بند کر گئ
مجھے غصہ ا رہا ہے” صنم بھڑکی جبکہ صوفیا کا بھی یہ ہی حال تھا دونوں صنم کے کمرے میں ا گئیں
یار یہ غلط ہے سوہا اور تائ جان ان دونوں کو ملازمت سے بھی بدتر رویے کے ساتھ ٹریٹ کرتی ہیں کوئ پوچھے یہ گھر ان لوگوں کا بھی تو ہے” صوفیا بولی جبکہ صنم نے سر ہلایا
اسکا پیپر ہے اب ساری رات روئے گی” وہ دونوں فکرمند سی ہوئ
دل تو کر رہا ہے س کے بلیچ میں لال مرچیں ملا دوں” صنم کے دماغ میں خیال آیا تو صوفیا نے اسکے بازو پر تھپڑ مارا
پاگل مت بنو ۔۔۔
دونوں نے دروازے سے باہر جھانکا تائ جان جا چکیں تھیں کمر سیدھی کرنے کو وہ دونوں باہر گئیں اور تبھی بدر بھی اندر ایا تھا
اسکے ہاتھ میں فائل تھی آج اسنے انٹرویو دیا تھا جہاں سے کال آنے کی اسے کوئ امید نہیں تھی
سامنے سوہا اور ساز کو دیکھ کر وہ رک
ساز” اسنے پکارہ ساز نے نگاہ اٹھائ
کھڑی ہو یہ کیا کر رہی ہو ” وہ بھڑکا
سوہا نے آنکھیں کھولیں
تمھاری ہونے والی بیوی کی خدمت” وہ مسکرائ جبکہ بدر کا دل کیا اسکے کھینچ کر تھپڑ مارے صوفیا اور صنم مطمئین سی ہو گئیں ۔
شیٹ اپ ” وہ دھاڑا اٹھا
اپنی زبان کو لگام دو بدر “
اور تم اپنی حرکتوں کو ” وہ گھورنے لگا
کیا ہو گیا اگر کچھ دیر اسنے مساج کر بھی دیا ” ۔
کیا ہی ہو جاتا اگر تم اپنے پاوں کو خود دھو لیتی تو انھیں مساج کی ضرورت نہ پڑتی” وہ طنزیہ مارتا وہاں سے اپنی بہن کو لیتا چلا گیا جبکہ صنم اور صوفیا منہ پر ہاتھ رکھے ہنسنے لگیں اور وہ ان دونوں کے پیچھے گئیں
سب کے سامنے بدر کے سامنے جانا بھی حرام تھا مگر وہ پیچھے سے اسکے سامنے چلی جاتی تھیں
بہت خوب بدر بھائ آپ نے تو اسکا دماغ ٹھکانے لگا دیا ” دونوں ہنستے ہوئ اسکے بستر پر بیٹھ گئیں
تمھیں کون کہتا ہے تم یہ کام کرو ” بدر نے ساز کی جانب دیکھا
وہ امی سے کراتی اگر میں نہ کرتی” ساز نے گال صاف کیے
بدر کو لگتا تھا یہ اسکا قصور ہے
اب بھی چچی اسکے کپڑے پریس کر رہی ہیں ” صوفیا نے اطلاع دی بدر ساز کو چھوڑ کر باہر ا گیا اور نجما کو تلاشنے لگا
سوہا لاونج مین نہیں تھی جبکہ لاونج کے پیچھے ایک طرف اسکی ماں تھکی ہاری اسکے کپڑے پریس کر رہی تھی
بدر نے غصے میں اسکے کپڑوں پر استری رکھی اور ماں کو کھینچ کر زبردستی وہاں سے لے گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا سوٹ جلا دیا چچی آپ نے” وہ چلا اٹھی
جبکہ سب کھانا لگنے کا انتظار کر رہے تھے تایا جان نے اسے بڑی کڑوی نگاہ سے دیکھا
کہاں جا رہی ہو ” وہ پوچھنے لگے انکے سامنے کسی کی بولنے کی مجال نہیں تھی
بابا جانی مجھے اپنی فرینڈز کی شادی میں جانا ہے”
کس سے پوچھ کر” وہ بولے
اجی جانے دیں بچی ہے ایک ہی ہماری بیٹی ہے اسکے چونچلے پورے نہیں ہوں گے تو کیا فائدہ”
بھولو مت ایک اور بھی تھی ” وہ غصے سے بولے
تائ چپ ہو گئیں
کہیں نہیں جانا جاؤ اندر” وہ بولے اور پھر کھانے لگے سوہا نے ماں کو روتے ہوئے دیکھا جبکہ وہ فلحال تو کچھ کر نہیں سکتی تھی
وہ پاوں پٹختی اندر چلی گئ
چھوڑو گی نہیں تجھے میں نجما” وہ دانت پیستی اسکے پکے ہوئے کھانے میں نمک کے ڈبہ الٹ گئ
جبکہ باہر ابھی کھانا لگانے کو وہ اندر ا رہی تھیں ۔
سوہا بھاگ اٹھی دوپٹہ سر پر جما کر باہر ا گئ دوسری طرف نجما اور ساز نے کھانا لگایا
لڑکیاں الگ بیٹھیں تھیں مرد الگ تھے
ان میں بدر ہی نہیں تھا نہ وہ بیٹھنا پسند کرتا تھا ۔
استغفراللہ “
تایا نے نوالہ پھینکا نجما کا دم سا نکل گیا
یہ کھانا بنایا ہے پھوڑ ہے یہ عورت” وہ اسی طرح سب کو گالیاں نکال دیتے تھے یہ عام بات تھی اپنی بیوی سے لے کر سب کو ۔۔۔
جبکہ مسجد کے خیر سے موذن تھے معزز اور با عزت لوگوں میں شمار ہوتا تھا
اتنی زہر کھانا بنایا ہے نجما تم نے” تائ بولیں
نجما نے کھانا چکھا نمک کی بھرمار تھی ۔
میں نے ٹھیک”
میں میں نے ڈالا تھا مجھے کم ل۔۔۔لگا تھا ” ساز سب کے سامنے اپنے اوپر لے گئ کہ اسکی ماں کو مزید گالیاں نہ سننی پڑیں
ساز” نجما نے غصے سے اسکی جانب دیکھا
مجھے لگا کم ہے” وہ نگاہ جھکائے بولی
سب نے کھانا چھوڑ دیا۔جبکہ ساز کو اب بری طرح سنائی جا رہی تھی اور اس میں اسکی ماں بھی شامل تھی صنم اور صوفیا پہلو بدل رہیں تھیں وہ جانتا تھیں اسنے کچھ نہیں کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہنواز یہ تمھاری بیوی کو دن تو نہیں چڑھ گئے ہر وقت کمرے میں گھسی ہوئ ہے” دادی جان کے سوال پر اسنے چونک کر دیکھا وہ پارٹی میں جانے کے لیے تیار بیٹھا تھا
ایزہ بخار سے نڈھال ہوتا وجود کھینچتی باہر ائ
اس وقت اسے رونا ا رہا تھا آنکھیں سرخ ہو رہیں تھیں اسنے سلام کیا
کچھ زیادہ دیر نہیں ہو گئ” سخت نگاہ اسپر ڈالے وہ سوال کر رہا تھا ۔
معافی چاہتی ہوں”
پچھلے چھ مہینے سے خیر سے بی بی یہ لفظ بول رہی ہو تم ” دادی جان بھڑک اٹھیں تو وہ سر جھکا گئ
چلو اب” شاہنواز آگے چلا گیا وہ چھوٹے چھوٹے قدم لیتی اسکے پیچھے چل دی
اور گاڑی میں سوار ہوئے تو شاہنواز کا موڈ شاید کچھ اور تھا
اسنے ایزہ کو اپنی سمت کھینچا وہ نازک سی گڑیا کیطرح اسکے سینے سے ا لگی ۔۔۔
خوفزدہ سی اسے دیکھنے لگی
اسکا چہرہ تپ رہا تھا سانسوں کی گرمی شاہنواز کے چہرے پر پڑ رہی تھی لیکن احساس نہیں تھا تو سوال کیسے ہوتا
وہ اسکے حسین نرم سرخی مائل ہونٹوں پر جھکا
ایزہ نے ایک سانس کھینچا ۔۔۔۔
شاہنواز کو ڈرائیور کی پرواہ نہیں تھی
بخار کیوں ہے تمھیں” بلاخر وہ پوچھ ہی گیا
ایزہ پتھرائی ہوئ آنکھوں سے اسے دیکھتی نفی میں سر ہلا گئ
نہیں ہے اپکو غلط لگا” وہ بولی تو اسکی کڑک نگاہ نے ایزہ کی روح نکل دی
آپ غلط نہیں ہیں مجھے بخار نہیں ہے” وہ ائ برو اچکائے اسے دیکھتا رہا
اچھا بات ہے ادھر بیٹھو پھر” وہ اسے اپنی ٹانگوں پر بیٹھانا چاہتا تھا
ش۔۔۔اہ “
گاڑی میں ڈرائیور” سپاٹ تیور تھے ہاتھ بھی اٹھا سکتا تھا وہ اسکے حکم کو بجا لاتی ویسے ہی بیٹھ گئ شاہ نواز نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈالا اور اسکی گردن پر جھکتا وہ حسین نشانات بناتا اسکو شرمندہ کر رہا تھا
کیونکہ ڈرائیور چور نگاہ سے انھیں ہی دیکھ رہا تھا ایزہ کو شدید رونا آنے لگا جبکہ شاہنواز نے اسکی ساڑھی کا پلو کھینچا
پ۔۔پلیز شاہ ” وہ ایکدم سسکی
روکو گاڑی” وہ غرایا
دفع ہو جاو ” ڈرائیور جلدی سے باہر نکلا اور شاہنواز سکندر نے اسے کسی موم کی گڑیا کیطرح گاڑی کی سیٹ پر پٹخا اور اسے دیکھنے لگا
آج تک شاہنواز کی قربت میں ایزہ شاہ کی اپنی مرضی شامل نہیں ہوئ تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
