Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 75
No Download Link
Rate this Novel
Episode 75
شاہنواز اج بہت دنوں بعد آفس ایا تھا اور بمشکل کیارا کو چھوڑا تھا اسنے ۔۔۔۔ وہ بیٹھا ہی تھا کہ دروازہ بجا اور عمر خیام اسی جنون کے ساتھ اسکے سامنے آ کر بیٹھ گیا
شاہنواز نے اسے دیکھا ٹہرا ہوا سمندر لگا تھا عمر کو وہ جس کی انکھوں میں کوئی تاثر نہیں تھا وہ کبھی اس سے اس طرح نہیں دیکھتا تھا عمر شرمندگی سے سر جھکا گیا شاہنواز اب بھی کچھ نہیں بولا خاموش نگاہوں سے اسے دیکھتا رہا ۔۔ وہ اٹھا ۔
شاہنواز کے پاس ایا ۔
آج شہزادہ نہیں بولیں گے ” وہ بولا شاہنواز نے اس سے رخ پھیر لیا
اور اپنے لیپ ٹاپ پر جھک کر کام کرنے لگ گیا اسکا چہرہ سرخ ہو رہا تھا پیشانی کی رگیں پھولنے لگیں تھیں ۔
ناراض ہیں ” اسکے سوال پر بھی شاہنواز کچھ نہیں بولا عمر کے اندر بے چینی بھر گئ ۔
یار اسطرح تو نہ کریں آپکو پتہ ہے میں اپکے بنا نہیں رہ سکتا “
تو چار ماہ کہاں لگا کر آئے ہو ” سرد نظروں سے شاہنواز نے اس سے ایک جھٹکے سے سوال پوچھا
عمر پہلی بار سر جھکا گیا اسکی غلطی تھی وہ اب بچہ نہیں تھا کہ حالات ماحول دیکھے اور سمجھے بنا ہی وہاں سے بھاگ اٹھتا لیکن اسنے حرکت ایسی ہی کی تھی ۔
شاہنواز کے تیور بتا رہے تھے وہ عمر سے کتنا خفا تھا ۔
میں نے ایزہ کو کچھ نہیں بتایا ” شاہنواز ایکدم چئیر چھوڑ کر اٹھا اور کھینچ کر عمر کے تھپڑ مار دیا ۔
عمر نے اسکی جانب سرخ چہرے سے دیکھا
مجھے ایک لمہے کے لیے اس بات سے فرق نہیں پڑتا عمر خیام کہ تم نے ایزہ کو میرے بارے میں بتایا یہ نہیں کیونکہ جانتا ہوں میں کہ وہ ناز کی بیٹی نہیں ہے ” وہ چلایا تھا ۔
عمر چپ ہو گیا اسکی غلطی تھی اور یہ وہ بخوبی جانتا تھا ۔
سوری ” اسنے اہستگی سے کہا ۔
ائ لو ائ کئیر ائ اپریشیٹ ۔۔ بٹ وین ائ ایم سائلینٹ سو بی کئیرفل ” انگلی اٹھا کر لتاڑا تھا اسنے اسے عمر اب بھی لب دبا گیا
پچھلے چار مہینے سے پاگل ہو رہا ہوں کہ تم دونوں کہاں چلے گئے کس کے پاس ہو ٹھیک ہو بھی یہ نہیں تم نے یہ سوچنا ضروری سمجھا کہ میری ایک بچی بھی ہے ” ٹیبل پر ہاتھ مارتا وہ دھاڑا پہلی بار عمر خیام کسی کا زلزلہ پہلی بار برداشت کر رہا تھا ۔۔۔۔
نہیں تم نے صرف اپنے بارے میں سوچا “
سوری ” وہ لب دبائے بولا ۔
ائ ڈونٹ نیڈ یور سوری میری بیٹی کی زندگی میں یہ چار ماہ دے دو گے۔” وہ غصے سے بھڑکا عمر نے اسکی جانب دیکھا
ہاں ہو گئ آپکے لیے وہ قیمتی “
ہاں وہ قیمتی ہے کیونکہ وہ میری بیٹی ہے عمر ۔۔ اور اگر تمھاری نظر میں میری کوئی ولیو ہوتی تو تم میری بیٹی کو بھی ولیو دیتے ائ جسٹ فیل سو شیم کہ جس پر میں نے اپنا سب لٹا دیا سارا احساس دے دیا اسے وہ مجھے چھوڑ گیا مجھے ہمیشہ ڈر رہا کہ تمھیں کچھ نہ پتہ چلے ناٹ فور دس کہ میری کوئی چوری تھی جو پکڑی جاتی ڈر تھا کہ تم ہرٹ نہ ہو اور یہ جذباتی قدم جو اشفاق کو مار کر کے اٹھایا وہ نہ اٹھاؤ لیکن تم نہایت خود سر اور بدین انسان ہو “
اور کتنی دیر ڈانٹیں گے” وہ انکھیں گھما کر بولا تم تھپڑ ڈیزرو کرتے ہو “
شاہنواز نے مٹھیاں بھینچ کر کہا جبکہ عمر لب دبا گیا ۔
ٹھیک ہے میں چلا جاتا ہوں اپ تو ایسا لگ رہا چار مہینے یہ ہی سوچتے رہے ہیں کہ کس طرح سے مجھے ذلیل کرنا ہے ” وہ اٹھ گیا شاہنواز سے دیکھتا رہا کافی غصے سے میں تھا شاید وہ ۔۔۔۔۔
عمر دروازے تک پہنچا اور پھر مڑ کر دیکھا اسنے اسے نہیں پکارا تھا یعنی وہ واقعی ناراض تھا
وہ اسکے نزدیک آیا اور اسکے سینے سے لگ گیا ۔
شاہنواز چار ماہ سے ان دونوں کے لیے بے چین تھا اسنے عمر کے گرد بازو سختی سے باندھے اور عمر کو لگا کہ جیسے سب مل گیا ہو وہ بیوقوف تھا جو اسکو غلط سمجھ کر اسے کھو دیتا ۔
جس نے اسکی ماں کی بھی حفاظت کرنا چاہی تھی وہ انسان غلط نہیں تھا جو غلط تھا وہ اپنے انجام کو پہنچ چکا تھا ۔
عمر اسکے سینے سے لگا رہا اگر یہ تھپڑ چار ماہ پہلے ہی مار دیتے تو کہیں بھی نہ جاتا بھاگ گیا تھا کیونکہ دل سہم چکا تھا سمجھ نہیں آیا کیا سہی ہے کیا غلط جب کہ سہی اور غلط تو واضح تھا وہ بول رہا تھا جبکہ شاہنواز کے دل و دماغ میں سکون سا اتر گیا ۔
یار تو ناراض ہو کر چلا گیا ایک بار تو میرے بارے میں سوچتا ” وہ اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھام گیا جبکہ عمر شرمندہ سا رہ گیا اسکی محبت میں کمی نہیں تھی کوئی اور عمر اپنی بیوقوفی میں کیا کر گیا تھا ۔
ایم سوری دوبارہ کہیں چھوڑ کر نہیں جاؤں گا اور نہ ہی بچوں جیسا بیہیو دوں گا ” وہ شاہنواز کے ہاتھ تھام کر بولا شاہنواز اسکے بال بکھیر گیا
زیادہ زور سے مار دیا تھپڑ ” اسنے عمر کا گال تھپتھپایا جبکہ عمر گال رگڑ کر منہ بنانے کی ابھی کوشش میں ہی تھا کہ شاہنواز نے ائ برو اچکائ
ذرا بھی ایکٹنگ کی ضرورت نہیں ہیں الریڈی تم پر بہت بھڑکا ہوا ہوں ” وہ کہہ کر دوبارہ کرسی پر بیٹھ گیا
بس بہت ہو گی ہے میں مزید اپکا غصہ برداشت نہیں کروں گا بیوقوف ہوں میں تو گدی سے پکڑ کر کھینچ لیتے نہ آپ نے بھی تو ہم دونوں کو چھوڑ دیا ” وہ بولا جبکہ شاہنواز نے نفی میں سر ہلایا ۔
تاکہ تمھارا دماغ آسمان سے زمین پر اترے ” وہ سکون سے بولا عمر نے سر ہلایا ۔
تمھیں مجھ سے شکایت ” شاہنواز ابھی بولتا کہ عمر اسکے قدموں میں بیٹھ گیا وہ اسکی جانب دیکھ رہا تھا
آپ جانتے ہیں اپ میرے لیے سب کچھ ہیں اگر اپ نہ ہوتے تو میرا اس دنیا میں دم نہ گھٹ جاتا ۔
آپ میرے محسن ہیں اپ نے مجھ پر احسان”
اوئے پاگل ” شاہنواز نے گھورا
احسان نہیں ہے یہ تمھارا حق تھا اور میں نے یہ حق تمھارے علاوہ کسی کو نہیں دیا کہ کوئی مجھ سے یوں الجھے میری ناک میں دم دے ” وہ بولا عمر اسکا ہاتھ پکڑ گیا ۔
کاش آپ مام سے شادی کر لیتے ” وہ بولا شاہنواز نے گھیرہ سانس بھرا
نہیں مجھے ایزہ ہی چاہیے تھی ” اسنے کہا تو عمر سر ہلانے لگا ۔
لیکن تمھاری ماں اچھی عورت تھی “
یہ بعد کی باتیں ہیں ” وہ سر جھٹک کر اٹھ گیا
شاہنواز نے گھیرہ سانس بھرا اسکا ماں باپ سے شکواہ اپنی جگہ کھڑا تھا ۔
عمر جیسے پر سکون ہو کر بیٹھ گیا اور چئیر پر گھومتے جیسے اسے احساس ہوا زندگی اس میں پھر سے لوٹ ائی ہے
آپکی ایزہ کو گھر پہنچا دیا ہے ” اسنے لاپرواہی سے کہا
دل تو کرتا ہے تمھارا منہ توڑ دوں لحاظ رکھا نہیں ہے اتنا کبھی کسی کا میں نے”
ہاں اپنے بیٹے کا رکھیں آپ پر فرض ہے “
میرا بیٹا انسان ہی کب ہے “
ہاں مجھے بھی جانوروں والی وائز آتی ہیں خود میں سے ” وہ ہنسا جبکہ شاہنواز نے نفی میں سر ہلایا اور اسکی صورت دیکھی
ساز کے پاس گئے ہو شی از ایکسپیکٹیڈ تمھیں اس سے دور جانا نہیں چاہیے تھا ” شاہنواز کے لہجے میں ساز کے لیے کافی فکر تھی ۔۔۔ عمر نے گھیرہ سانس بھرا
وہ ایکچلی ۔۔”
مجھے نہ اس سے ڈر لگ رہا ہے اور اس ڈر ڈر میں ۔۔ میں اسے مزید تنگ کر رہا ہوں” وہ شرمندگی سے اسے بہت راز بیان کر رہا تھا شاہنواز نے پیپر ویٹ زور سے اسکیطرف مارا کہ اسکی انگلیوں پر لگا عمر سی سی کرتا رہ گیا جبکہ شاہنواز اسے گھورنے لگا
تم انسان بن جاؤ عمر سیدھی طرح اس سے معذرت کرو اس وقت بہت حساس ہے وہ “
نہیں مانے گی اسکے ساتھ آڑے ہاتھوں چلنا پڑتا ہے “
محبت کرنے والوں کو پلکوں پر بیٹھایا جاتا ہے تمھیں محبت کی تمیز ہے نہیں چلے ہو محبت کرنے ” شاہنواز نے کہا جبکہ عمر کو بڑی زور سے چبھی تھی اسکی یہ بات ۔۔۔
کیا کہا اپ نے مجھے محبت کرنے کی تمیز نہیں ” وہ غصے سے اٹھا
بلکل یہ ہی کہا ہے ” وہ سکون سے بولا جبکہ عمر نے اسکے آگے چٹکی بجائی
اپکو تو میں دیکھ لوں گا اچھے سے اور ثابت کر کے دیکھاؤ گا “
چیلینج “
افکورس ائ ایکسیپٹیڈ ” عمر کہہ کر باہر نکلنے لگا کہ شاہنواز اٹھا اور اسکے شانے پکڑ کر فخر سے اسکیطرف دیکھا اسکا گال تھپتھپایا اور عمر اسکے سینے سے خود ہی لگ گیا
سوری میں ائندہ وعدہ کرتا ہوں حالات سے گھبرا کر کبھی نہیں بھاگو گا جو بھی مشکل آئے گی اسکا سامنا کروں گا “
دیٹس لائیک مائے بوائے”
پیار سے کہہ کر وہ ہاتھ کی مٹھی بنا گیا جس پر عمر نے اپنی مٹھی ماری اور باہر نکل گیا جبکہ شاہنواز مسکرا دیا
ہاں اب سب ٹھیک تھا زندگی میں کوئی خوف نہیں تھا اور نہ کسی سے کچھ بھی چھپانے کا ڈر ۔
اچانک اسے یاد ایا عمر نے کہا تھا ایزہ کو وہ گھر چھوڑ آیا ہے اسنے سب کچھ بند کیا اور ایزہ کو چار ماہ بعد دیکھنا تھا وہ تیزی سے وہاں سے نکلا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صنم کی بارات تھی اور عمر خیام کی آمد سب ساکت ہو گئے تھے اچانک وہ کہاں سے ا گیا ۔
ہمیشہ کیطرح عمر کے چہرے پر ان سب کے لیے کچھ نہیں تھا وہ بدر کے پیچھے کھڑی ساز کو دیکھنے لگا
ساز ” اسنے پکارہ مگر ساز نے کوئی جواب نہ دیا ۔
تم خود کو سمجھتے کیا ہو جب دل کرے گا منہ اٹھا کر چھوڑ کر چلے جاؤ گے اور جب دل کرے گا منہ اٹھا کر ا جاو گے اور میری بہن تمھارے حکم کی غلام ہے ” بدر نے اسکا غصے سے گریبان جکڑا
عمر نے بدر کی جانب سپاٹ نظروں سے دیکھا
یہ بات وہ کہے میرا گریبان پکڑے یہ کچھ بھی تمھیں اتنا اوور ہونے کی ضرورت نہیں ہے ا پنے کام سے کام رکھو ” عمر نے اسے جھٹکا جبکہ بدر کو تو آگ ہی لگ گئ
ٹھیک ہے ساز تم اس برساتی میڈک کے ساتھ جانا چاہتی ہو یہ رہنا چاہتی ہو ” بدر نے مڑ کر ساز کی طرف دیکھا جو سر جھکائے کھڑی تھی عمر اسی کی جانب دیکھ رہا تھا اسے پکا یقین تھا ساز انکار کر ہی نہیں سکتی وہ پورے کانفیڈینس میں کھڑا تھا
نہیں مجھے ان کے ساتھ نہیں رہنا ” سنجیدگی سے کہہ کر وہ مڑ گئی جبکہ عمر اگے بڑھا
ساز۔” اسنے پکارا مگر بے سود وہ کمرے میں چلی گئ اور بدر نے اس تک عمر کو پہنچنے نہ دیا ۔
اب سیدھی طرح جہاں سے آئے تھے چلے جاؤ ہوتے کون ہو تم یہاں آکر سپر حق جتانے والے بزدل “
بدر “
ہاں ہو غم بزدل جب اپنے باپ کا قتل کیا تھا تو سینہ تان کر کہتے کہ یہ سالا اسی قابل تھا نہ کہ منہ چھپا کر کہیں دفع ہو جاتے ” بدر تو جیسے اسے جان سے مار دینا چاہتے تھے ۔
تم نہایت احمق انسان ہو تب ہی سب تمھاری پرواہ کرتے ہیں جس کے پاس دماغ ہو اور سینہ فولاد جیسا اسے منہ چھپانے کی ضرورت نہیں پڑتی اور عمر خیام ” وہ دو قدم آگے بڑھا پہلی بار اس گھر میں عمر خیام کا منہ کوئی بند کرائے کھڑا تھا ۔
تم ساز کے اردگرد بھی نظر ا گئے تو مجھے سے برا کوئ نہیں ہو گا “
انگلی اٹھا کر وہ بولا ۔
تم بلاوجہ ساز اور میرے بیچ نہ او ” عمر سنبھل کر بولا
تمھارے بیچ صدیاں ہیں یہ چار ماہ صدیوں کیطرح ہیں عمر خیام کیونکہ میں نے دیکھا ہے اپنی بہن کو تڑپتے ہوئے بنا قصور کے دفع ہو جاؤ اب یہاں سے “
تم ہوتے کون ہو مجھے دفع کرنے والے ہاں کب سے سن رہا ہوں تمھاری بکواس زیادہ میرے باپ بننے کی ضرورت نہیں ہے تمھارا سر کھول دوں گا یہیں ” عمر دھڑا مگر بدر اسکے آگے سے نہ ہٹا
عمر اسے دانٹ پیسے دیکھتا رہا
میں یہیں ہوں دیکھتا ہوں کس (گالی) میں ہمت ہے مجھے عمر خیام کو یہاں سے نکالے ” بھنایا ہوا وہ لحاظ مروت ایکطرف رکھ گیا
سب اس تماشے کو کھڑے دیکھ رہے تھے چچا جان نے اگے ہو کر بدر کے شانے پر ہاتھ رکھا
بیٹا لڑائ جھگڑے سے معاملات نہیں سلجھائے جاتے
مجھے معاملات اب کسی کے ساتھ نہیں سلجھانے چچا جان ” وہ کہہ کر وہاں سے چلا گیا جبکہ سب نے ہی فیصلہ کیا کہ شادی کی تقریب کو باخوبی سرانجام دیا جائے یہ معاملات بعد کے پیں
صنم کی رخصتی کے وقت بھی ساز کمرے سے نہیں نکلی تھی جبکہ عمر پورے گھر میں بے چینی سے پھر رہا تھا ہاں ابھی ارہم نہیں تھا وہ اتا تو معلوم نہیں کیا ہنگامہ ارائ گھروں پھیل جاتی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیارا کو سینے میں بھینچ وہ مسلسل روئے جا رہی تھی دادی جان نے اسکی بلائیں لے لیں تھی ۔
ہٹ جائیں مجھے یاد کیا نہیں اب پیار کر رہی ہیں ” وہ روتے ہوئے بولی ۔
میرے لال میں نے تمہیں بہت یاد کیا ہے اور یہ معصوم چھوٹی سی بچی اسے تو تمہاری ممتا کی بے حد ضرورت تھی اس نے اور میرے میرے شاہنواز نے بھی تمہیں بہت یاد کیا بس خاک یاد کیا ہے اپ لوگوں نے مجھے چار مہینے سے میں غائب تھی کسی نے مجھے پلٹ کر نہیں پوچھا اور وہ شاہنواز انہیں تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے بہانہ چاہیے تھا کہ میں کہیں گم ہو جاتی اور ان کی زندگی عیاشی سے گزر جاتی ویسے بھی برا نہ مانیے گا دادی جان اپ کے بیٹے بہت ہی عیاش طبعیت کے ہیں اس نے ہاتھ اٹھا کے کہا اور سر جھٹک کر انسو جیسے ہی پونچے شاہنواز دوسری طرف کھڑا تھا چار ماہ بعد اس کو دیکھ رہی تھی ایسا لگا جیسے صدیوں بعد دیکھ رہا ہے شاہنواز بھی اس کی جانب دیکھنے لگا لبوں پہ مسکراہٹ تھی دل تھا کہ اس کو دوڑ کر خود میں سما لیتا بس دادی جان کا لحاظ کر لیا اسنے البتہ غصے سے منہ پھیر لیا اور کیارا کو اپنی گود میں اٹھا لیا کیارا چار ماہ کی ہو گئی تھی اب تو ہاتھ پاؤں جلانے لگی اس سے ازاد ہونے کی کوشش کرتی اپنے باپ کی جانب جانے کی طلب کر رہی تھی اس نے غصے سے کیارا کو اپنی طرف رخ کرایا میں تمہاری ماں ہوں اس نے اسے جھنجوڑا جب کہ شاہنواز نفی میں سر ہلا گیا یعنی وہ تو پوری توپ بن کر ائی تھی اس نے دادی جان کی جانب دیکھا جو ہولے ہولے مسکرا رہی تھی شاہنواز اب یہ چڑیل گھر میں اگئی ہے اب یہ تیرا جینا حرام کر دے گی وہ سر ہلا کر بولی جبکہ شاہنواز لبوں پر انگلی رکھ کر انہیں چپ رہنے کا کہنے لگا اور وہ اس کے پیچھے کمرے میں ایا تو کمرے کا دروازہ لاک تھا ا دروازہ کھولو میرا تو نام بھی لینے کی ضرورت نہیں ہے اور ویسے بھی میں اپ سے ملنے کے لیے نہیں ائی نہ ہی مجھے اپ کی ضرورت ہے میں اپنی بیٹی سے ملنے ائی ہوں اور اپنی بیٹی کے ساتھ ہی رہوں گی تو اپ جہاں تھے نہ چار ماہ سے وہیں رہے اندر سے اس کی چنگاڑتی ہوئی اواز ائی شاہنواز بالوں میں ہاتھ پھیر گیا عمر نے اسے کہاں پھنسا دیا تھا اچھا دروازہ تو کھولو کم از کم تمہیں دیکھ ہی لوں وہ بیچارگی سے بولا جب کہ وہ غصے سے کھڑی ہوئی کیارا تو جیسے چار ماہ میں بالکل ہی باپ کی ہو گئی تھی اندر سے رو رو کر اس نے برا حال کیا ہوا تھا وہ غصے سے اٹھی دروازے کو کھولا اور اسے گھورنے لگے میری جان وہ اس کے نزدیک جانے لگا جب کہ ایک دم رخ موڑ کر وہ کیارا کی طرف بڑھ گیا کیارا کو بیڈ سے اٹھا کر اس نے گود میں لیا اور اس کو جلانے لگا اووو میرا بچہ کیوں رو رہا ہے کیوں رو رہا ہے وہ جیسے لاڈ سے بول رہا تھا ایزہ کا دل کیا اس کے سر پہ کوئی چیز تو مار ہی دے اج اور اس نے بالکل ایسا ہی کیا بیڈ کے سائیڈ پر پڑا لیمپ اٹھا کر اس نے کھینچ کے شاہنواز کی کمر پر مارا شاہنواز تلملا کر پلٹا اور ایزہ کی طرف دیکھا تمہارا تو میں دماغ درست کر دوں گا اج معنی خیزی سے کہا تھا اپ کا دماغ میں درست کروں گی اپ کیا میرا دماغ درست کریں گے اب بھی اپ کو اس کیارا پیارا گیارہ کی ضرورت پڑ گئی ہے وہ جیسے رونے والی ہو گئی اور پاؤں پٹکتی ہوئی باہر نکلی کہ شاہنواز نے اس کی کمر میں بازو ڈالا اور ایک دم اسے اپنی جانب کھینچ لیا اس کی خوشبو کو گہرائی سے اندر اتارا تھا میں نے تمہیں بہت یاد کیا بہت زیادہ اتنا کہ اگر اب بھی تم نہ اتی تو میں پاگل ہو جاتا اسکی آنکھیں بند تھی اور کیارا خودبخود اسکی گود شے اتر کر بیڈ پر کھیلنے لگی تھی اور اس کو بانہوں میں سمیٹے کھڑا تھا جبکہ اس نے انکھیں بند کر لی تھی اسنے زور سے کہونی اس کے پیٹ میں ماری اور انگلی اٹھائی جھوٹی باتیں نا کسی اور سے جا کے کیجیے گا مجھے پتہ ہے چار ماہ جیسے میں نے گزارا ہے نا وہ باتیں مجھے پتہ ہے اور عمر بھائی اور اپ کی لڑائی ہوئی تھی اور سزا کسے بھگتنی پڑی صرف مجھے بھگتنی پڑی ٹھیک ہے مجھے پتہ تک نہیں ہے کہ کس وجہ سے میں اپ سے چار مہینے دور تھی اور چار مہینے میں ایک بار بھی اپ نے کوشش نہیں کی کہ اب کی کوئی بیوی بھی ہے وہ بھڑکی کہ شاید جائز ہی تھی شاہنواز کا خاموشی سے اسے دیکھنے لگا میں نے ڈھونڈا تھا تم دونوں کو ڈھونڈنا کچھ نہیں ہوتا شاہنواز میں جانتی ہوں پاتال سے بھی اپ انسان کو باہر نکال لیں گے اب ڈھونڈنا چاہتے ہی نہیں تھے مجھے وہ مجھے علم نہیں ہے کہ ایسا کیوں ہوا اور جب تک مجھے یہ علم نہیں ہوگا اپ مجھ سے دور رہیں گے اس سے ذرا سنا کر باہر نکل گئی یہ سزا بہت بڑی ہے وہ مسکرا کر بولا زہر لگ رہی ہے مجھے اپ کی مسکراہٹ اس نے دانت پیسے جبکہ شاہنواز ہنس دیا ابھی وہ ایزہ کی جانب بڑھتا ہے کہ کیارا پھر سے رونے لگ گئی شاہنواز کیارا کی طرف بڑھ گیا اور ایکدم اسے گود میں بھر لیا اچھا ہی تھا وہ چار مہینے کیارا سے دور رہی تھی اس کے شوہر پر قبضہ کر کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
