Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 24
No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
امی مجھے اپنے کمرے میں بڑی سی سکرین لگانی ہے”
سوہا تو تھپڑ کھائے گی اب اپنے باپ سے” وہ اسے گھورتی ہوئی بولیں
کیا ہو گیا ہے آپ کو آپکی ایک ہی بیٹی ہے سگی اور اسکے بھی ارمان پورے نہیں کریں گی” وہ ماں کے پاؤں دبانے لگی
کون دلائے گا تجھے اور تیرا باپ چلنے دے گا اس گھر میں کوئی چیز ” وہ بھڑکیں
امی عمر سے کہیں نہ وہ پیسے دے” وہ ذرا جھجھکتے ہوئے بولی
دماغ ٹھیک ہے” وہ اسکے ہاتھ جھٹک گئیں
امی مجھے نہیں پتہ ایک تو کنگلے سے شادی کر رہے ہیں پھر میں لے کر کچھ بھی نہ جاؤں جیسے عمر اپنے کمرے میں گانے سنتا ہے مجھے بھی سننے ہیں”
لو جی یہ پاگل ہو گئ ہے چھوری” وہ اسے گھور کر بولیں اور سوہا منہ بنا گئ
امی پلیز” اسنے ماں کے گلے میں بازو ڈالے
اچھا ٹھیک ہے دور ہو دیکھتی ہوں کچھ کرتی ہوں اور تو نے پارلر جانا ہے کسی” وہ اسکی بات یاد کرتی بولیں
ہاں نہ یہ ساتھ والی ہے نہ آسیہ بہت اچھا تیار کرتی ہے ” وہ جوش سے بولی
اچھا ٹھیک ہے بل جا لیکن جلدی انا ہے ” انھوں نے کہا اور وہ جیسے ہواؤں میں جھولتی باہر آئ
آج تو سماں ہی الگ تھا اسنے زبردستی گھر میں گینڈے کے پھول لگوائے تھے اور ابو فلحال کسی چیز کو انکار نہیں کر رہے تھے وہ تو بس فائدہ اٹھا رہی تھی بہت خوش تھی وہ جھومتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئ
اور دوسری طرف ساز کے دل پر جیسے عجیب وحشت سی ہوئی وہ ایک جھٹکے سے اٹھی
ارد گرد دیکھا وہ عمر کے بستر پر تھی دل تھا جیسے گرفت میں ا گیا وہ ایک لمحے میں کھڑی ہو گئ لیکن اسکے پاس عمر نہیں تھا
وہ جلدی سے اٹھی اور کمرے سے باہر بھاگ اٹھی
کل سے اب تک وہ کمرے میں ہی تھی اسے کل نیند نے جا لیا تھا معلوم نہیں کب اسے دیکھتے دیکھتے سو گئ
اسے شرمندگی کا احساس شدت سے ہوا اور وہ کمرے سے نکلی تو دل کی دھڑکنوں میں شدت تھی لیکن خوش آئندہ تھی کمرے کے باہر کوئ نہیں تھا وہ جلدی سے اپنے کمرے میں جانے لگی تو وہاں سوہا کو دیکھ کر ایکدم چونکی
ہاں دیکھ رہی تمھارے شرابی نے تم پر کتنا پیسہ خرچ کیا ہے برحال مجھے یہ سوٹ پسند آیا ہے یہ پسند آیا ہے اور یہ بھی بلکہ یہ سب اب شادی میری ہو رہی ہے کپڑے تمھارے پاس اتنے اچھے ہوں تو یہ تو بے کار ہی بات ہو گئ
تو میں یہ سب لے کر جا رہی ہوں”
لیکن یہ سب میرے ہیں” وہ منمنائی
ہاں بڑے تمھارے ہیں زیادہ عمر پر اترانے کی ضرورت نہیں ہے ارے یہ ہمارا ہی احسان تھا جو تمھیں اتنے امیر بندے کے ساتھ باندھ دیا ہم نے ۔۔۔
تم ہو ہی کیا یہ تمھاری اوقات تمھارے ولیو ہے ہی کیا “
وہ اسے بھڑکتی ہوئی سنا گئ جبکہ ساز نے پہلی بار پیشانی پر بل ڈال کر اسے دیکھا
سوہا آپی یہ میرے کپرے ہیں اور میں اپکو بلکل نہیں دوں گی” اسنے اسکے ہاتھ سے ہھینچ لیا
جبکہ اسکا دل کانپ رہا تھا لیکن پھر بھی وہ سوہا کے کھلے منہ کی پرواہ کیے بنا الماری میں دوبارہہ کپڑے لگا گئ
تمھاری اتنی جرت ” سوہا نے اسکے بال جکڑے
سوہا آپی چھوڑیں مجھے اپ یہ کیا کر رہی ہیں ” وہ غصے سے پاگل ہونے لگی
آپی چھوڑیں مجھے ” وہ اسکے بالوں میں لٹک گئ تھی جبکہ اگر وہاں پر وقت پر بدر نہ آتا تو شاید سوہا غصے کی شدت سے اسکے بال نوچ ہی لیتی
یہ کیا کر رہی ہو ” بدر نے اسے دور کیا
چھوڑو مجھے جان نہ لے لوں اسکی میں میرے سامنے زبان درازی کر رہی ہے
سمجھا لو اب اپنی بہن کو عمر پر اترانے کی ضرورت نہیں ہے ” وہ بھڑکی
ساز بھیگی آنکھوں سے بدر کو دیکھنے لگی جبکہ بس اج کا ہی تو دن تھا اگر اج وہ یہاں بھی صبر کر لیتا تو یقینا اگے آنے والا ہر کل مختلف ہوتا وہ کچھ نہیں بولا سوہا وہاں سے چلی گئ جبکہ بدر نے ساز کے انسو صاف کیے
تم رو مت” بھیا اپ اس چڑیل سے شادی مت کریں اپ اپ کے لیے ایزہ”
ساز” ایکدم جیسے اسنے اسکی آواز کو بند لگا دیا
میں آئندہ ایسی بات نہ سنو “
اسنے گھور کر کہا ساز خاموش ہو گئ جبکہ بدر باہر نکل گیا اور ساز نے جلدی سے آنسو صاف کیے
کاش کاش ماضی پلٹ جاتا ۔
کاش” اسنے سوچا اور چہرہ دھونے چلی گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کچن میں کھڑی سب کے لیے روٹین کے حساب سے ناشتے بنا رہی تھی چہرے پر ابھی بھی نیلا نشان تھا ۔
عمر جب شاور لے کر نکلا تو ساز کو بیڈ پر نہ دیکھ کر اسنے ادھر ادھر دیکھا وہ کہیں نہیں تھی وہ تیار ہوا
اور نیچے ا گیا پیشانی پر کئ بل تھے جو گواہ تھے اسکا موڈ آف ہے تایا جان لاونج میں بیٹھے تھے آج انکی بیٹی کی مہندی تھی اور نکاح تھا اور پہلی بار انکے ہاں ایسا کوئی فنکشن ہو رہا تھا خاندان بھر نے آنا تھا
ارہم نے عمر کو ناگواری سے دیکھا بڑی مشکل سے اشفاق صاحب نے اسے روکا تھا کہ وہ کوئی بھی حرکت نہ کرے
عمر کا یہ سب جلوہ تو انھیں سہنا ہی تھا عمر انکے ایک کہنے پر انھیں چیک پر چیک کاٹ کر جو دے رہا تھا وہ نیچے آیا اور اسنے کچن میں جھانکا کیونکہ یقین تھا وہ یہیں ہو گئ
کچن میں اسے دیکھ کر نجما مسکرا دی
اب وہ داماد کی نگاہ سے جو دیکھ رہی تھی جبکہ داماد کو پتہ تک نہیں تھا یہ اسکی ساس ہے
دوسری طرف ساز اپنے کام میں مگن تھی ناشتہ زیادہ بڑا بن رہا تھا کیونکہ سب مہمان ا رہے تھے تائی کی بہنیں ثروت چچی کی گھر والے تایا جان کے دوست احباب انکی بیویاں بچے اور ناشتے پر ہی آنا تھا تبھی وہ ناشتہ بنا رہی تھی عمر نے اسے کڑاہی کے نزدیک دیکھا جہاں وہ پوریاں تل رہی تھی جبکہ یہ ناشتہ باہر سے بھی آ سکتا تھا لیکن اگر باہر سے آتا تو نجما اور اسکی بیٹی کو پتہ کیسے چلتا کہ انکی اوقات کیا ہے
کیا کر رہی ہو یہ تم” اسکے سوال پر اندر آتی تائی ثروت چچی دونوں رک گئیں
ساز نے مڑ کر دیکھا تائی کی جانب سے عمر کی پیٹھ تھی
تمھیں کہا تھا نہ جب تک طبعیت ٹھیک نہ ہو کمرے سے نہ نکلنا” وہ گھور کر بولا
ساز شرمندہ شرمندہ سی نگاہیں جھپکتی کبھی سب کو تو کبھی اسکو دیکھتی
میں ٹھیک ہوں” وہ منمنائی
یہ میں بتاؤ گا کب تم ٹھیک ہو “
باہر آؤ اور ناشتہ کیا ہے تم نے” وہ سنجیدگی سے پوچھنے لگا
اسکے پاس جواب تو تھا مگر ہمت نہیں تھی
نہیں بیٹا کافی دیر سے کہہ رہی ہوں مگر کام میں لگ گئ ہے” نجما پہلی بار بولی
آپ کون” وہ سپاٹ تھا
اسکا منہ سا اترا گیا
امی ہیں میری” ساز کو برا لگا
عمر نے گھیرہ ساز بھرا ۔۔۔ تم باہر آؤ”
اسنے اسے انگلی کے اشارے سے باہر آنے کے لیے کہا
ارے بیٹا ٹھیک ہٹی کٹی ہے دو چار تھپڑ خدا کھا لینے سے اسکی چمڑی پر کہاں کوئی اثر پڑ ا تم پریشان نہ ہو باہر چلو میں اپنے ہاتھوں سے اپنے بیٹے کا ناشتہ لاتی ہوں” وہ چاپلوسی سے بولیں
چلیں پھر ایک تھپڑ مجھ سے کھا لیں پھر بتائیے گا کتنی ہٹی کٹی ہیں آپ ” اسنے ترچھی نگاہوں سے تائی کو دیکھا ثروت تو چونچ دبا گئ کون اپنی عزت کراتا اسکے ہاتھوں سے تائی کا چہرہ سرخ ہو گیا ۔
اور یہ ہو کیا رہا ہے”
یہ سب باہر سے نہیں ا سکتا “
عمر گھر کے معملات میں داخل نہ دو ” انکی بحث پر تایا جان لاونج سے اٹھ کر ا گئے
ٹھیک ہے” اسنے ساز کا ہاتھ پکڑا اور اسے باہر کھینچ لیا
یہ بے حیائی نہیں چلے گی اشفاق صاحب میرے گھر میں” تائی کا ضبط جواب دے گیا تھا
بدر بھی وہیں ا گیا خاموشی سے یہ سب ملاحظہ کر رہا تھا تختہ پلٹنے والا تھا قربانی اسکے جذبوں کی ہوتی لیکن تخت پر اگلا بادشاہ کون ہوتا بہت جلد پتہ چل جاتا تبھی وہ سکون میں تھا
عمر کو بے ساختہ ہنسی ا گئ اور ساز جو ہاتھ چھڑانے کو بے چین تھی عمر نے مزید گرفت سخت کر لی تھی اسکے ہاتھ پر ۔۔۔
ڈیڈ اپکا نام لیا ہے انھوں نے تھپڑ ماریں گے یہ کوئی اور زحمت کرے” وہ انکی آنکھوں میں دیکھتا بولا
اسی لیے زہر لگتے ہو تم بد لحاظ اور بے غیرت جو ہو اور اسے بھی اپنی ماں جیسا ہی بناؤ گے اسی سے پیدا ہوئے ہو نہ عمر تبھی اسی کیطرح کی حرکتیں کرو گے” انھوں نے جیسے ایک ہی وار میں سارے حساب برابر کر دیے سب سے کمزور لمحے ہو جاتے تھے اسکے لیے جب کوئی اسے اسکی ماں کا طعنہ دیتا تھا ۔
اسنے باپ کیطرف دیکھا ۔
ساز کا ہاتھ چھوڑ دیا اور تقویت کا ایک سانس اشفاق صاحب کی مسکراہٹ بتا گئ تھی کہ اب اونٹ پہاڑ تلے ا گیا ہے ۔۔ مسکرا کر اسے دیکھنے لگے ۔
خون تو میں اپکا ہوں گند کی شروعات تو آپ سے ہوتی ہے انکا قصور تو مجھے پیدا کرنا تھا اور وہ اتنے ہی قصور پر میری نفرت کی مستحق ہیں آپ سوچیں میں اپکے لئے کیا ہوں خدا کی قسم میں اپکے لئے سزا نہ بن جاوں تو کہیے گا ” نفرت سے پھنکارتا وہ الٹے قدم لیتا وہاں سے باہر نکل گیا جبکہ ساز اسکی تکلیف اپنے اندر محسوس کر رہی تھی وہ حساس تھا اس ٹاپک کو لے کر اور تایا جان نے اسے وہیں چوٹ کی تھی ۔
جاتے جاتے قدم رک گئے پلٹ کر دیکھا اور رک گیا
وہ سرخ نگاہوں سے اسے ایسے دیکھ رہی تھی جیسے اسکی ماں بے بسی سے دیکھتی تھی اور یہ ہی بے بسی اسے ساز کی جانب متوجہ کرا رہی تھی
جہاں سب کو سانپ سونگا کہ اب وہ چلا جائے گا وہیں وہ مڑ کر دوبارہ کمرے میں چلا گیا اور اشفاق صاحب کو سکون مل گیا کہ وہ گیا نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نکاح نامے پر سائین کرتے ہوئے اسنے ایک پل کے لیے اپنے آپ کے لیے اپنے جذبات کے لیے کسی بات کے لیے کچھ نہیں سوچا سوائے انتقام کے ۔۔۔
ایک ایسا بھیانک انتقام جس سے روح بھی کانپ جائے وہ سائین کر کے مطمئین سا بیٹھ گیا اور دوسری طرف سوہا نے بھی ایک حسین شخص کو اپنی زندگی میں قید کر لیا تھا
اسکی آنکھوں میں عکس آیا اور طنزیہ مسکراہٹ نے اسکو جیسے احساس دلایا کہ آج اسنے وہ بھی پا لیا جسے چھین کر چنا تھا اسنے ۔۔۔۔ وہ مسکرا دی
” بدر اسکا تھا “
اسنے ایک معصوم سی لڑکی کو آنکھوں آنکھوں میں ہی اتار لیا جیسے اسکے سامنے قہقہے لگائے کہ دیکھو پا لیا میں نے اسے ۔۔۔ وہ مسکرا کر ادھر ادھر دیکھنے لگی
ابو نے اسکے سر پر پیار کیا
وہ وائیٹ کلر کے غرارے سوٹ میں تھی لیکن ان سب میں ساز وہاں کھڑی سب سے الگ لگ رہی تھی
جبکہ عمر نے نیچے آنے کی زحمت بھی نہیں کی تھی اور وہ چاہ کر بھی اوپر پور دن نہیں جا سکی کیونکہ اسکے جاتے ہی اسے کولہو کا بیل جو بنا لیتے تھے سب ۔۔
وہ اسے دیکھنے لگی جس کے چہرے کی خوشی بتا رہی تھی کہ وہ بدر کو پا کر کتنا خوش ہے
اسکے بھائی کی زندگی میں یہ سب کیا تھا ۔
اسے امی نے بتا دیا تھا کہ بدر دوبئ کیوں نہیں جا سکا ۔
ساز اپنے بھائی کے لیے بہت غمزدہ تھی لیکن قسمت نے موڑ لے لیا تھا اب کچھ فائدہ نہیں تھا بدر باہر تھا
ارے بیٹی تمھارا شوہر کہاں ہے “
نشئ ہے پتا ہو گا کچھ پی پلا کر”
تائی کے قہقہے نے ساز کا چہرہ سرخ کر دیا ۔
سبکی کا احساس اندر تک اتر گیا
ن۔۔نہیں وہ انکی طبعیت نہیں ٹھیک”
وہ لاشعوری طور پر اسکا ڈیفنس کرنے لگی
جھوٹ بول رہی ہے اماں جی کیا بتاو اتنا پیتا ہے اتنا پیتا ہے ہر قوت شراب کو منہ لگا رہتا ہے اسکا بلکل ماں جیسا ہے ماں طوائف تھی بیٹا ایک اور طوائف بنا رہا ہے”
تائی جان” ساز تڑپ اٹھی
بس منہ تو تو کھول ہی نہ میرے سامنے” وہ اسکے احتجاج کا گلہ گھونٹ گئیں
اللّٰہ کی پناہ توبہ توبہ” وہ عورت ساز کو دیکھ کر توبہ کرنے لگی اور ساز کی آنکھیں دکھ سے بھر گئیں ۔
اسکے مڑ کر دیکھا بدر اندر ا رہا تھا ۔۔۔
وہ دولہا تھا کسی نے اسے دولہے والی اہمیت نہیں دی تھی
ساز اپنے بھائی کے نزدیک آئ اور اسکو بہت محبت سے دیکھا اسکی آنکھیں بار بار اشک بار ہو رہیں تھیں ان ارمانوں کا خون دیکھ کر جو اسکے بھی آنکھوں میں اتر رہے تھے بدر نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا
بس سمجھو ساری فکریں ختم” وہ اسکا گال تھپتھپا گیا
انشاءاللہ اللّٰہ ساری مشکلات دور کر دے گا بھائی
میں اپکے کاموں میں آسانی کے لیے کل روزہ رکھو گی” وہ بولی بدر مسکرا دیا
اور باہر مہمانوں کے لیے کرسیاں لینے آیا تھا ارہم جبکہ جم کر بیٹھا تھا اور تایا جان کو تو کوئی ہلا نہیں سکتا تھا بدر تو چلا گیا لیکن ساز کے اندر سے غم نہیں گیا
بار بار ان سب کے الفاظ اسکے دل میں خنجر کیطرح چبھ رہے تھے ۔
سوہا اپنے دوستوں کے ساتھ تصویریں کھینچوا رہی تھی اشفاق صاحب کے گھر میں چلتے گانے باجے کی آواز دور دور تک سنائی دی جا سکتی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہمان جا چکے تھے فنکشن ختم ہو چکا تھا سب گھر والے لاونج میں جمع تھے جبکہ سوہا بار بار بدر کو دیکھ رہی تھی
رخصتی مہینے بعد کریں گے “
تایا جان کی بات پر بدر نے سر اٹھا کر انکی جانب دیکھا
نہیں تایا جان رخصتی کل ہی ہو جائے تو بہتر ہے ” وہ آرام سے بولا تھا
کیوں” وہ اکھڑے
ابو ” سوہا بیچ میں ہی بول اٹھی
یہ بے حیائی نہیں تھی یہ تو اسکا حق تھا انکے نزدیک وہ بس اتنا ہی کہہ کر چپ ہو گئ سب کی آنکھیں پھٹی ہوئی تھیں جبکہ انھوں نے سر ہلایا
ٹھیک ہے”
انھوں نے کہا اور کمرے میں چلے گئے سب ہی چلے گئے تھے سوہا بدر کو دیکھ رہی تھی جو اپنے کمرے میں چلا گیا
خوابوں کی سیج سج رہی تھی دل کی دھڑکنیں شور کر رہی تھیں
جبکہ ساز نے سارا گھر سمیٹا اور اسکے بعد وہ کمرے میں ائ تو بری طرح تھک چکی تھی لیکن سامنے ہی اسے نشے میں دھت دیکھ وہ دو قدم دور ہوئی
عمر نے بھی اسے دیکھا ہلکا سا مسکرایا
ہائے بیوی” اسنے گلاس اٹھا کر چیئرز کیا جبکہ ساز اسے آنکھیں پھاڑے دیکھنے لگی
اسکی نرمی اور توجہ نے یہ بات بھلا دی تھی کہ وہ واقعی شرابی ہے وہ ان گلاس ان بوتلوں کو دیکھنے لگی اور صوفے پر بیٹھ گئ سانسیں بھاری ہو گئیں
کیا ایسے لوگوں کی عزت اہمیت قدر ہوتی ہے شراب پینے والے تو اللّٰہ کے ہاں سرخرو نہیں پھر وہ ۔۔۔۔
وہ اسے دیکھنے لگی جو بوتل کو گلاس میں الٹ کر خالی بوتل کو زمین پر چھوڑ گیا اسکی جانب ۔۔۔۔
گول گول ہوتی بوتل ساز کے قدموں میں جا پہنچی وہ مسکرا دیا
کیا ہوا غصہ مت ہونا یار ضرورت تھی ورنہ میرے باپ کی باتیں مجھے مار دیتی ” وہ ہنستے ہوئے بولا اور ساز منہ پر ہاتھ رکھ کر بری طرح رو دی
عمر نے چونک کر اسے دیکھا وہ روتی ہی چلی گئ
ہے ۔۔ وائے ار یو کرائینگ میں نے تمھیں ہرٹ نہیں کیا کیا بوتل تمھیں لگی ہے ” وہ اسکے پاس ا گیا ۔
ساز اس سے دور ہو گئ
عمر نے اس فاصلے کو توجہ سے دیکھا
اچھا رو مت پلیز مجھے بتاو کیا ہوا ہے “
اور ۔۔۔اور کیا ہونا ہے آپ شراب پی رہے ہیں ” وہ بولی روتے میں بولتی ہوئی بھی اچھی لگتی تھی
معلوم نہیں نشہ کر کے اسے اسکی ہر حرکت ادا کیوں لگنے لگتی تھی اسنے سر جھٹکا
تو ” کچھ پلے نہیں پڑا کہ اس سے کیا مراد تھی وہ تو تھا ہی شرابی ۔۔۔
آپ اپ جانتے ہیں سب نیچے مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ تمھارا شوہر کہاں ہے اور تائی جان نے آپکے بارے میں کتنی بری بری باتیں ان لوگوں کو بتائی لیکن میں نے کہا نہیں ایسا نہیں ہے لیکن انکی بات سچ ثابت ہوئی انکی بات سچ ثابت ہوئی آپ واقعی نشئ ہیں ۔۔۔
لیکن مسلہ یہ ہے آپ میرے شوہر بھی ہیں میں نے ماننا نہیں تھا لیکن سب نے منوا لی یہ بات مجھے سے اب میں لوگوں کو کیا منہ دیکھاؤ کس منہ سے کب تک جھوٹ بولو کہ ایسا نہیں ہے ” وہ غصے سے کہتی کھڑی ہو گئ
مجھے سنٹیمنٹز میں پھنسا رہی ہو “
عمر اسکی بچکانہ باتوں پر ہنسا
جب وہاں سب کے شوہر تھے تو اگر میرے بھی ہو جاتے تو کچھ نہ ہوتا کم از کم تائی جان جھوٹی ہو جاتی”
کن چکروں میں پڑ رہی ہو ساز میں اس ٹائپ کا بندہ نہیں ہوں بھئ” وہ ہنسنے لگا
ہاں میں ہی پاگل تھی ” وہ آنسو صاف کرنے لگی
عمر جبکہ سکون سے اسے دیکھنے لگا
ساز کو شدید غصہ آیا اس شخص نے سے اپنے ہی اندر موجود غصے سے بھی تعارف کرا دیا تھا
عمر جواب دیے بنا ہی دوبارہ اپنے ٹھکانے پر پہنچ گیا اور ساز نے اسی کے سامنے جائے نماز بچھا کر عشاء کی نماز ادا کی مگر اسے ایک پرسنٹ بھی فرق نہیں پڑا
اور وہ لڑکی جو اپنے بھائی کے لیے دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتی تھی آج اسکے لئے ساری دعا میں روتی رہی
اسکے رونے پر کوفت زدہ ہوتا وہ بالکنی میں ا گیا آسمان کو دیکھتے وہ شراب پی رہا تھا جبکہ اسکی بیوی اندر عشاء کی نماز پڑھ کر اسکے لیے ہدایت مانگ رہی تھی اور وہ یہ کیوں کر رہی تھی
ایک معصوم دل کو توجہ دی تھی عمر خیام نے کوڑے کاغذ پر عمر خیام کا نام لکھا جا رہا تھا خبر دونوں کو ہی نہیں تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج گھر میں بارات کا فنکشن تھا پورا گھر ہی درہم برہم تھا
ساز صوفے پر سوئی تھی اور عمر تو ساری رات ہی نہیں سویا تھا بالکنی کے دروازے میں کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا کہ وہ جھٹکے سے اٹھی
یہ اللّٰہ بہت دیر ہو گئ” اسنے دل پر ہاتھ رکھا نگاہ عین عمر سے جا ملی عمر اسی کی جانب دیکھ رہا تھا
وہ منہ بنا کر وہاں سے اٹھ گئ
عمر مسکرا دیا اور ساز باہر جانے لگی
اگر کمرے میں ہی رہ لو تو آج ماسی نہیں بنو گی”
مجھے آپ سے بات نہیں کرنی “
وہ نروٹھے لہجے میں بولی عمر دل پر ہاتھ رکھ گیا
آہ میرے دل کی چوٹوں میں اضافہ ہو گیا “
وہ اداکاری کر رہا تھا آنکھوں کو جاندار جنبش دیتا بولا
ہوتا رہے” وہ اسکے انداز پر جیسے اپنے اندر سر سے اٹھتے جذبات جو عجیب ہی لے پر اتر رہے تھے محسوس کرنے لگی
بڑی ظالم ہو تم تو “
آپ جتنی نہیں ہوں”
ہاں حاضر جوابی تو بس میرے سامنے ہے باقی سب کے آنے میسنی بنی رہتی ہو بھولو مت تمھاری طرف بھی میرا حساب خوب ہے یاد رکھو تمھاری وجہ سے میں تھائی لینڈ نہیں جا سکا
سب کچھ قسمت سے ہوتا ہے آپکی قسمت میں نہیں تھا “
اسنے دروازے کی ناب پر ہاتھ رکھا وہ کچھ نہیں بولا وہ باہر نکل گئ
جبکہ وہ اسکے لفظوں کے معنی میں اتر گیا ۔۔۔
اسکا قصور تھا اسنے اپنی قسمت میں یہ تکلیفیں خود چنی تھیں
وہ ابھی مزید سوچتا کہ فون کی بیل نے اسے متوجہ کیا جبکہ وہ یہ فون ساز کو دے چکا تھا لیکن وہ لڑکی ان چیزوں پر توجہ نہیں دیتی تھی ہاں اسکے دلائے گئے کپڑے شوق سے پہنتی تھی
ہاں زمیر بولو”
وہ بولا جبکہ دوسری طرف سے کافی خوش مزاجی سے دریافت ہوا
کیسا ہے سالے کہاں پر ہے مجھے تو بھول گئے سعود اور تو “
بھکاریوں سے تعلقات نہیں رکھتے اب ” وہ بولا تو زمیر کا قہقہہ اٹھا
اچھا چلو اب کیا کر سکتے ہیں
تیری طرح نہیں ہو سکتے کہ دھن آسمان سے برسے یہاں کی کروڑوں کی جائیداد کھاتا رہو میں “
کام کی بات کر” وہ سنجیدہ ہوا
کام کیسا بس ملتے ہیں بات چیت کرتے ہیں ” وہ بولا
نہیں ملنا بھائی تجھ سے ویسے بھی سعود ملک سے باہر ہے وہ آئے تو ہی مل سکتا ہوں” وہ بولا
دیکھ لے ہو سکتا ہے تیرے لیے مجھ سے ملنا کام کا ہو ” زمیر کی بات پر وہ چونکا
شکل دیکھی ہے سالے تو نے اپنی تیرے سے میرا کام کیسا “
زمیر پھر ہنسنے لگا اور عمر کو اسکی ہنسی سے کم کوفت نہیں تھی یار وہ مجھے یاد ا رہا تھا کہ تیری ایک بہن بھی ہے جو گھر سے بھاگ گئ تھی تجھے بھی یاد ہو گا “
زمیر کے الفاظوں پر وہ موبائل پر گرفت سخت کر گیا
اسنے چار گالیاں دیں ” زمیر ہونے لگا
سالے تیری بہن کے شویر کے ہاں نوکری لگی ہے میری ۔۔۔۔
مجھے لگا تجھے نہیں پتہ تیری بہن بھاگ کر کہاں گئ تو تجھے بتا دوں “
زمیر” وہ غرایا آج کے بعد اس نمبر پر کبھی رابطہ نہ کرنا
ارے کیا ہو گیا ہے “
ایک تو تیری مدد کی تو چیخ رہا یے
وہ اسے گالیاں دینے لگا زمیر خاموش ہو گیا
بہن تیری بھاگی تھی گالیاں مجھے دے رہا ہے ” وہ جیسے عمر پر سر سے پاوں تک تیزاب پھینک چکا تھا
وہ بے چینی سے ادھر ادھر ہو رہا تھا
فون بند کرتا کہ زمیر نے روکا ۔۔۔
اچھا سن پندرہ سال بڑے مرد سے شادی کی ہے اسنے برا سخت ہے “
وہ مسکرایا تھا عمر نے کال بند کر دی
کاش وہ بھی مر جاتا ہاں اپنی ماں کے ساتھ ہی مر جاتا یہ پھر اسے بھی کوئ بیماری ہو جاتی
وہ اتنی شراب پیتا تھا اسے کوئی بیماری نہیں ہوئی اسے آج تک آج تک وہ ان ہی الفاظ میں گھیرہ رہا وہ کانوں پر ہاتھ رکھ گیا
دو عورتوں نے اسے تباہ کر دیا
وہ جب ھونا چاہتا تھا تب اسکو یاد دلا دیتے تھے کہ وہ کیا تھا ایک بھاگی ہوئی بہن کا بھائی اور ایک طوائف کا بیٹا ۔۔۔۔
عمر کی چیخ سے پورا گھر اوپر سے نیچے تک دہل گیا
ساز کے ہاتھ سے کپ چھٹا چھناکے کی آواز سے وہ خود نہیں جانتی تھی یہ چیخ سن کر اسے کیا ہوا وہ ان سب کے بیچ سے دوڑتی ہوئی اوپر آئی
وہ دونوں ہاتھ کانوں پر رکھے جیسے پاگل سا ہو رہا تھا
عمر” وہ دور کر اس تک پہنچی
عم۔۔۔” سرخ چہرہ آنکھوں سے بہتا پانی پھولی ہوئ رگیں اور دانت پر دانت جمائے وہ جیسے اپنے اپے میں نہیں تھا
کیا۔۔۔ کیا۔۔۔ ہو۔۔۔ہوا” اسکے علاؤہ کوئی نہیں آیا تھا بے حسی ایسی تھی
کچھ تو جیسے پُرسکون ہوئے تھے اسکی چیخ کی اذیت کو محسوس کر کے انھیں فرق نہیں پڑا تھا ساز اکیلے اسکے پاس کھڑی تھی جبکہ اسکے باپ نے بھی بیٹے کی چیخ سنی تھی مگر وہ باپ نہیں تھے وہ ایک لالچ سے بھرے انسان تے جنھیں اپنا مفاد کے علاؤہ کچھ نہیں دیکھائی دیتا تھا
عمر نے اسے دیکھا اور ساز کے ہاتھ پاؤں گئے وہ اپنے ٹھنڈے ہاتھ اسکے چہرے پر رکھ گئ
آپ۔۔آپ کو کیا ہو رہا ہے” وہ رو پڑی جبکہ عمر نے اسے خود میں بھینچ لیا
تم مجھے چھوڑ کر بھاگو گی تو نہیں”
وہ سوال کر رہا تھا خود میں بھینچے وہ اس سے سوال کر رہا تھا
ساز تھم گئ ۔۔۔۔۔
