Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 54
No Download Link
Rate this Novel
Episode 54
وہ دونوں رات گئے گھر لوٹے تھے عمر صاحب تو کمرے میں جا چکے تھے معلوم نہیں کیوں سوہا کا دل کیا جا کر وہ پیپر پھاڑ دے وہ اسے سچ نہ بتائے وہ اسے کمرے میں جاتا دیکھتی رہی اور تبھی ابو اور ارہم بھی ا گئے
کہاں گئی تھی تم اس آوارہ کے ساتھ” ارہم بھڑکا تو سوہا نے گھیرہ سانس لیا
بھائ ہے میرا تمھیں کیا مسلہ ہے” اسنے سنجیدگی سے کہا ۔
وہ بھائی نہیں ہے تمھارا یہ بھائی ہے ہو کیا گیا ہے سوہا تمھیں” امی بھی بولیں تو وہ تلخی سے مسکرا کر وہاں سے جانے لگی ۔
بات سنو میری ” ابو کی سخت آواز پر وہ مڑی
آئندہ عمر کے ساتھ کہیں مت جانا اچھا آدمی نہیں ہے یہ کوٹھے والی کا بیٹا ہے تمہیں بھی کوٹھے پر بیٹھا کر بیچ دے گا آئندہ مجھے اس کے ساتھ کہیں نظر مت آنا ” سوہا کے رنگ ایکدم اڑے تھے ۔۔۔ وہ باپ تھا وہ ان سب کا باپ تھا ۔۔۔
اتنی نفرت ایک ہی اولاد سے کیوں وہ شاید اسکا احساس کر رہے تھے لیکن عمر ۔۔ اسنے اوپر دیکھا اوپر سنجیدگی سے وہ یہ سب سن رہا تھا
لیکن انھیں رتی بھر بھی اس بات کی پرواہ نہیں تھی ۔۔ وہ کچھ بھی سنتا پہلے کبھی اسکا احساس نہیں کیا تھا تو آج اچانک کیسے کر سکتے تھے وہ ۔۔۔ عمر کمرے میں واپس چلا گیا جبکہ سوہا کو بے ساختہ رونا اگیا ۔
آپ باپ ہیں اسکے ناز آنٹی مڑ چکیں ہیں اپ ایک انسان کو اتنی تکلیف نہ دیں ابو کہ قیامت والے دن آپکی معافی نہ ہو” وہ بول گئ آج وہ اپنے باپ کو بول گئ تھی ۔۔۔۔۔۔
کیونکہ اسے سب کے حقیقی روپ نظر آنے لگ گئے تھے ۔۔۔
اشفاق صاحب کو اتنا غصہ چڑھا اس بات پر کے اگے بڑھ کر پہلی بار سوہا کے منہ پر کھینچ کر تھپڑ مارا کے وہ صوفے پر جا کر گیری
قیامت والے دن میری معافی نہیں ہو گی میری ارے تہجد گزار پانچ وقت کا نمازی ہوں میں اور تیری اتنی جرت تو مجھے منہ اٹھا کر یہ بات کہے کہ میری معافی نہیں ہو گی ۔۔ “
اشفاق صاحب بیٹی ہے اپکی “
بھاڑ میں گئ” (گالی)
تائ جان بیٹی پر چھاوں بن گئیں پہلی بار جو اسپر ہاتھ اٹھا تھا
مارنے دیں اپ انھیں آپ دیکھیے گا اللّٰہ انھیں کبھی معاف نہیں کرے گا فرعون والی صفت ہے ان میں” وہ اپنی ماں سے بولی جبکہ شور شرابے کی آواز پر سب سے پہلے بدر نکلا تھا معلوم نہیں انتظار کرتے ہوئے اسکی انکھ لگ گئ تھی
اور تایا جان اسکی اس بکواس پر ہتھے سے اکھڑ رہے تھے تائ جان بیٹی کا منہ دبا رہیں تھیں کہ وہ جتنا بولے گی انھیں اتنا غصہ چڑھا گا
نیچ عورت ۔۔۔ ” وہ دوسرا ہاتھ اٹھا کہ بدر نے فورا انکا ہاتھ پکڑ کر پیچھے دھکیلا ۔۔۔
یہ کیا حرکت ہے”
تیرا مسلہ نہیں ہے تو دور ہو “
بیوی ہے یہ میری” وہ دھاڑا اور اسکی دھاڑ پر جیسے گھر کا ایک ایک شخص ۔۔۔ سہم اٹھا تھا آج تک اسنے بہن پر اٹھتا ہاتھ نہیں روکا کیونکہ تب ہمت نہیں تھی شاید ۔۔ اور اختلاف بھی کرتا تو دب جاتا سینے پر تکلیف سہتا رہا تھا لیکن آج اسکے بازوں میں طاقت بھی تھی ہمت بھی
ناچے گی یہ تیری بیوی کوٹھے پر وہ نچوائے گا اسے ۔۔۔
تو دیکھ لیو ۔۔ یہ جتنا اسکے پیسے پر عیاشی کا سوچ رہی ہے منحوس کماتا ہی عورت کی بولی لگا کر ہے ورنہ کہاں سے آتا ہے اسکے پاس اتنا پیسہ ۔۔ کاروں کے خزانے دبا کر بیٹھا ہے کیا ۔۔۔ ” ساز نے فورا اوپر دیکھا تھا۔۔۔ وہ تقریبا بھاگی تھی اوپر وہ ذہنی ڈپریشن میں جاتا تھا اپنے باپ کی ان باتوں پر ۔۔۔
عمر ” اسکا دل دھک سے رہ گیا جب دروازے کو لاک دیکھا ۔
آپ ایک ظالم انسان ہیں اور مجھے افسوس ہے کہ آپ میرے باپ ہیں” سوہا غصے سے بولی تھی
تجھے تو میں ” وہ آگے بڑھ کر اسکا منہ نوچ لیتے کے بدر نے انھیں پھر دور دھکیلا
میں اپکے ہاتھ توڑ دوں گا اپنی اوقات میں رہیں آپکے پاس اپنی بیوی ہے اسپر ہاتھ صاف کریں اور سچائی سنی کیوں نہیں جاتی آپ سے میں تو آپکے انجام کے انتظار میں ہوں ۔۔ ” انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ غرایا تھا جبکہ ارہم دور کھڑا یہ تماشہ دیکھ کر ہنس رہا تھا ۔
تایا جان کا بی پی ہائ ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔
آئندہ میری بیوی پر ہاتھ اٹھائیں گا چاہو تو آپکے اس گھر پر لات مار کر جا سکتا ہوں لیکن اس گھر پر میرا حصہ ہے میرا حق ہے لیے بغیر تو کہیں نہیں جاوں گا ” وہ مڑا اور سوہا کا ہاتھ پکڑ کر وہ اسے کمرے میں لے گیا جبکہ ساتھ ہی اپنی ماں کو بھی وہاں جانے کا کہا تایا جان نے گالیاں دے دے کر اپنا حلق خشک خود ہی کر لیا تھا ۔
اتنا غصہ اتنا غصہ تھا انھیں کہ اب وہاں صرف ساز دیکھ رہی تھی وہ جیسے جنونی ہو گئے اس وقت بس نہیں چل رہا تھا گھر کے ایک ایک فرد کو جان سے مار دیں وہ اوپر کی جانب بڑھے اور تائی جان نے پہلی بار انھیں روک تھا
بس کریں اشفاق صاحب ” وہ بولیں مگر وہ انھیں دھکیلتے اوپر چڑھ گئے
ارہم ارہم اپنے باپ کو روک بیٹے یہ کیا ہو گیا ہے اسے” وہ بولیں ارہم نے سر جھٹکا
اچھا ہے پیٹے ” وہ مزے سے بولا
ساز کا دم خشک ہو گیا اور وہ ساکت کھڑی رہ گئ جبکہ ۔۔۔۔ تایا جان اس سے پہلے اسپر ہاتھ اٹھاتے دروازہ کھلا اور عمر نے اسے اندر کھینچ کر دروازہ بند کر لیا ۔
جبکہ انھوں نے لات ماری تھی اسکے دروازے پر ۔۔۔۔
تم سب جھنمی ہو ” گالیاں بکتے وہ وہاں سے اتر گئے جبکہ ارہم کو غصے سے دیکھا
کبھی باپ کی حمایت بھی لے لیا کر”
آپ اپنی حمایت کے لیے خود ہی کافی ہے گبر گبر ہیں اپ ۔۔۔” وہ چاپلوسی کرنے لگا
تو دیکھ میں سن سب کے ساتھ کرتا کیا ہوں ” تائی جان دونوں باپ بیٹوں کو دیکھ رہی تھیں حیرانگی سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسنے پتھر کے ہوئے اسکے وجود کو اندر کھینچا ۔۔ وہ اسکے سینے سے ا لگی عمر پوری طرح نشے میں دھت تھا ۔
کیوں مرنے والے کام کرتی ہو ” وہ بولا جبکہ ساز کو بڑی طرح اسپر ٹرسٹ آیا اور اسنے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام لیا اور رو پڑی ۔۔ اسکے کانپتے ٹھنڈے ہاتھ اسکے چہرے پر تھے
ہے ۔۔ رونا نہیں ابھی تو ہمارے شادی ہو گی ویسے ۔۔ سونے ایک بات تو بتاو ” وہ دور ہوا ۔۔۔ اور بوتل سے منہ لگا کر اسنے بوتل کو ٹیبل پر رکھ دی
تمہیں لگتا ہے میں تمہیں کوٹھے پر بیٹھا دوں گا ” اسکے سوال پر وہ تڑپ گئ تھی ۔۔۔
وہ اسکی جانب بڑھی
نہیں بلکل نہیں آپ اپ پلیز تایا جان کی باتوں کو دل پر نہ لیں ” وہ اسے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی
میں بھی یہ ہی چاہتا ہوں مگر بڑی زور سے لگتی ہیں “
وہ بیڈ پر غیر گیا بوتل ہاتھ میں اٹھا چکا تھا اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے وہ آنکھیں بند کیے لیٹا شراب کی بوتل اندر اتار رہا تھا ۔۔۔ ساز کا بس نہیں چلا وہ اسکی ساری تکلیفیں اندر اتار لے ۔۔۔ اسنے وہ بوتل پکڑ لی
مجھے بھی پینی ہے ” وہ جلدی سے بولی ۔۔ اور اپنی آنکھیں صاف کیں
عمر نے نشے سے بھرپور نگاہیں اسپر اٹھائیں
واقعی” وہ مسکرا دیا ساز نے سر ہلایا ۔۔۔
لیٹو” وہ بولا آنکھوں میں بے ساختہ اسی گرمائش اتری کہ ساز کا پورا وجود ایکدم ہی جل اٹھا ۔
یہ کیا فضول باتیں وہ بول چکی تھی ۔۔۔۔
لیٹ جاؤ ۔۔ اور یہ دوپٹہ اتار دو “
ساز کا دم ہی نکل گیا ۔۔ اسکے اندر ہلنے کی ہمت نہیں رہی عمر کا قہقہہ بلند ہوا ۔۔۔۔۔
مولانی ” وہ سر جھٹک گیا ۔
آپ نہ پیا کریں”
مجھ سے ایسی باتیں نہ کرو وہ سنجیدگی سے بولا
پلیز نہ پیا کریں حرام ہے یہ سخت گناہ ہے آپ کیوں گناہ کمانا چاہتے ہیں ” میں نے کہا نہ مجھ سے ایسی بات نہ کرو ” کھانے کو ڈالا تھا وہ وہ سہمی مگر ہار نہیں مانی
عمر پلیز میرے لیے چھوڑ دیں”
تم اتنی اہم نہیں ہو میرے لیے” وہ سر جھٹک کر بالکنی میں ا گیا ۔
ساز کے دل میں چبھی معلوم نہیں ٹھان چکی تھی آج وہ اسکے نزدیک گئ ۔۔ وہ گرل کے پاس کھڑا ایک سرد رات جس میں روم روم کھڑا ہو جائے اس میں کھڑا سکون سے ٹھنڈی ہوا کو اپنے بدن پر سہتا پی رہا تھا
ساز بے کانپتے ہاتھوں سے خود پر سے دوپٹہ اتارا ۔۔۔
وہ ایک چڑیا کے معصوم بچے کیطرح کانپ اٹھی اپنے قدموں کو لاکھ روکنے کے باوجود آج وہ ۔۔۔۔ اسکے سے شراب ہٹانے کی کوشش کا ارادہ بناتی اسکی جانب بڑھی تھی ۔۔۔۔ اور کانپتے ہوئے اسکے پہلو میں کھڑی ہو گئ ۔۔۔
عمر نے مڑ کر دیکھا ۔
لمبے ریشمی بال جن کی الجھی ہوئی چوٹیاں ۔۔۔ اسکے کمر تک جا رہی تھی شفاف وجود ۔۔۔ اسکی گردن اسکے گلے کی گہرائ ۔۔۔
اسکے وجود قیامت سا منظر لیے اسکے سامنے تھا وہ نشے سے بہکا ہوا خود کو محسوس نہیں کر پایا تھا کہ اسکے سامنے آنے سے بس اسے ہی دیکھتا رہ گیا ۔۔۔
اسکے گال پر ہاتھ رکھا بوتل سائیڈ پر رکھ دی ۔
بیٹھو” حکم دیا اسکے انداز میں حکم ہی ہوتا تھا ۔۔
وہ بیٹھ گئ ۔۔۔
عمر نے شراب کی بوتل اور اسکا موازنہ کیا
ساز کو بہت برا لگا ۔
بلاشبہ تمھارے اندر اس سے گئی گناہ زیادہ نشہ ہے ۔۔۔ مگر جان عمر میں اپنی عادت ترک کبھی نہیں کر سکتا ۔۔۔ میرے غم مجھے جینے نہیں دیں گے” اسکی ٹھنڈی انگلیاں ساز کے وجود پر تھیں
ساز نے اسے بھیگی نگاہوں سے دیکھا اور اسکا ہاتھ جھٹک کر اٹھی اور اپنا دوپٹہ اٹھا کر وہاں سے چلی گئ ۔۔
دروازہ غصے سے کھینچ کر مارا تھا اور عمر نے وہیں منہ سے بوتل لگا لی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بدر نے اسکی جانب دیکھا اور اسکے چہرے پر تھپڑ کے نشان دیکھے ۔۔۔
تھپڑ کے نشان بڑے واضح تھے بدر نے اسکی آنکھوں میں دیکھا
زبان چلانے کے جتنے جوہر ہیں میرے ساتھ پورے کر لیا کرو میں اگلی بار تمھارے باپ کا لحاظ نہیں کروں گا “
تم نے بھی مجھے یوں ہی مارا تھا یہ نئے نشان نہیں ہیں”
اسنے اسکے ہاتھ جھٹکے اور اسکے پاس سے چلی گئ ۔۔ واشروم سے چہرہ دھو کر اسنے اپنی آنکھوں سے نکلنے والے انسووں کو آج بہت بے دردی سے رگڑا تھا ۔۔
بے حسی بھی کمال ہے غم سے دور رہتا ہے انسان لیکن احساس نے تو اسے تکلیف سے دھرا کر دیا تھا ۔
وہ باہر آئی اور لیٹ گئ ہو سکے تو کمرے میں ہیٹر لگوا لو ” اسنے نارمل کہا لیکن ایسا لگا طعنہ مارا ہو بدر خاموشی سے اسے دیکھنے لگا اور وہ لیٹ گئ کروٹ لی اور آنکھیں بند کر لیں جبکہ بدر نے لائیٹ آف کی اور جب وہ اپنا بلینکیٹ لینے لگا تو ایک نگاہ اسے دیکھا اور اسپر اپنا بھی ڈال کر اسکے بلینکیٹ میں لیٹ گیا اور اسکی کمر کے اندر ہاتھ ڈال کر اسے خود سے نزدیک کر لیا تھا ۔۔۔۔۔
اتنی اچھی نہ بنو کہ مجھے تم سے انسیت ہونے لگ جائے میں تم سے محبت نہیں کرنا چاہتا ” وہ بولا اسکی گردن میں چہرہ چھپا لیا ۔
معلوم نہیں کیسی سی خوشبو محسوس ہوئی کہ اپنے آپ اسکی گردن پر پیار کرتا وہ آنکھیں بند کر گیا جبکہ سوہا ایک ہی جگہ کو سکت نظروں سے گھور رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری بات سنیے گا اور توجہ سے سنیے گا ” وہ بولا ۔۔ شاہنواز کے سامنے کھڑی تھی ۔۔۔
سنیائیے” وہ اپنی شرارتی بلی کو دیکھنے لگا ۔
اب اگر میرے موبائل میں نیٹ نہیں چلا تو میں اپکا لیپٹاپ توڑ دوں گی” وہ اسکے بازو سے سر اٹھا کر دیکھنے لگی
میں ڈر گیا ہوں” وہ بولا
شاہ”
ہمممممم مائے پرنسیز ” وہ اسکے گال کو بار بار چومتا بولا تھا جبکہ ۔۔۔ ایزہ شرما سی گئ ۔۔۔۔۔
چلو اٹھو شاباش بہت دہر ہو گئ بستر میں اٹھ کر ناشتہ کرو اب میرے بچے کے بھی پیٹ میں بھی کچھ ڈالو ” وہ بولا
ہمممممم پہلے نیٹ نہیں چل رہا ” وہ منہ بنا کر بولی
بات سنو میری اٹھا کر تمھارا یہ ٹیب یہ موبائل پھینک دوں گا اٹھ کر فریش ہو فاسٹ ” وہ بولا جبکہ وہ مڑ مڑ کر اٹھی اور ۔۔۔۔ شاہنواز نے اسکے اوپری بٹن بند کیے ۔۔۔
اور اسکے ہونٹوں پر پیار کر کے اسکا گال تھپتھپایا
جاو جلدی سے ” وہ اٹھ گئ اور بیڈ سے جمپ کی ۔
شاہنواز ایکدم آگے بڑھا کبھی زمین پر گیرتی وہ ہنسنے لگی تھی اسے ڈرا کر ۔۔۔۔۔ شاہنواز ضبط سے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔۔
اور وہ واشروم میں بھاگ گئ
شاہنواز نے سر نفی میں ہلایا اور خود بھی اٹھا تبھی دروازہ بجا کر عائشہ کمرے میں آ گئ
شاہنواز نے فورا اپنی شرٹ اٹھا کر جسم پر ڈالی اور بستر چھوڑ کر اٹھا
وہ ” وہ شاہنواز کو دیکھتی ۔۔۔ ادھر ادھر دیکھنے لگی ایزہ نہیں تھی
نیچے کوئی آیا ہے ایزہ کا پوچھ رہا ہے”
ملازموں کو کہہ دیا کرو خود مت آیا کرو ” سنجیدگی سے کہہ کر وہ اٹھ گیا ۔
شاہنواز کی جانب عائشہ نے دیکھا اور سر ہلا گئ
میں دیکھتا ہوں جائیں اپ یہاں سے” وہ بولا اور عائشہ کمرے سے نکل گئ
اسے عائشہ کی نظروں سے کوفت ہوئی اس سے پہلے بھی وہ ہر بار رہنے آتی تھی دادی جان کی وجہ سے لیکن اس سے پہلے اسکی آنکھوں میں یہ حرکات نہیں دیکھی تھی اسنے جو اب دیکھ رہا تھا ایزہ تو پاگل تھی اگر اندازا لگا لیتی تو اسکی جان کو ا جاتی
وہ فریش ہو کر آئ ۔۔
اور شاہنواز فریش ہونے چلا گیا اور ایزہ تیار شیار ہو کر نیچے ا گئ
کیسی ہو ایزہ ” عائشہ نے معمولی سا اسے دیکھا
اسلام علیکم عائشہ آپی ” وہ مسکرائی ۔
وعلیکم سلام ایکچلی میں کمرے میں آئی تو شاہ تھا بس تو تم سے ملنے کوئی ایا ہے لون میں ہے لڑکا ہے “
عمر بھائی ” وہ ایکدم اچھلی ۔۔۔۔
عائشہ نے اسے بھاگتے ہوئے دیکھا اور ۔۔۔۔۔ وہ دادی جان کی ہائے ہائے سنے بنا باہر بھاگی وہ لون میں کھڑا تھا پیٹھ موڑے
ایزہ بھاگی اور اس سے چند قدموں کے فاصلے پر رک گئ
عمر مڑا اسکی جانب دیکھا ایک لمبی سانس اسنے کھینچی تھی ۔۔۔
عمر بھائی ” وہ اسے بے تابی سے دیکھ رہی تھی عمر نے اسکی جانب قدم اٹھائے اور ۔۔۔ اسنے خود سے لگا لیا ۔۔۔
ایزہ کو لگا وہ غش کھا جائے گی
کیا سوہا نے بتا دیا تھا سب انھیں ۔۔۔۔ عمر اسکو خود میں بھینچے کھڑا تھا
نانی جان وہ تو اس مرد کے سینے سے لگ گئ” عائشہ بولی جبکہ انھوں نے سر جھٹکا بھائی ہے اسکا ۔
اچھا ” عائشہ بیٹھ گئ سامنے کا منظر دیکھنے لگی
تب تک سیاہ شلوار سوٹ میں شاہنواز نیچے اترا اور اسنے سفید بہت نرم شال شانوں پر ڈال رکھی تھی وہ دادی جان کے پاس آیا دادی جان نے اسے دعائیں دے ڈالیں ۔
عائشہ اسے حسرت سے دیکھنے لگی اسنے یہ سوچا شاہنواز اس سے شادی کرے گا لیکن شاہنواز نے پہلے ناز سے محبت کی پھر اس لڑکی سے شادی کر لی جو اسکی بیٹی لگتی تھی لیکن بیوی تھی اسکی ۔۔۔
شاہنواز تھوڑی دیر وہاں کھڑا ہوا اور پھر وہ زمیر سے بات کرنے لگا ۔۔
مجھے آج رات کا سارا پلین چاہیے عمر کہاں فنکشن کر رہا ہے کیا کھانا ارینج کرنا چاہتا ہے کن لوگوں کو بلانا چاہتا ہے سب سب مجھے پتہ ہونا چاہیے اور مین سوال وہاں ” ایکدم اسکے قدم زمین نے جکڑے اور وہیں عمر خیام نے نگاہ اٹھائ اور دنوں کی نظریں پتھرا گئیں
شاہنواز کو لگا جیسے فلحال وہ ہل بھی نہیں سکتا ۔۔ زمیر البتہ مسکرانے لگا کیونکہ وہ جانتا تھا عمر یہیں پر ہے شاہنواز نے ایک خونی نگاہ زمیر پر ڈالی اور اسکی مسکراہٹ دم توڑ گئ شاہنواز نے آنکھیں سکیڑ کر اسپر خاموش نگاہ ڈالی اور ۔۔ وہیں رک گیا
عمر ایزہ سے الگ ہوا ۔۔
اسکی آنکھوں میں الجھن تھی اسکی آنکھوں میں حیرانگی تھی اسکی آنکھوں میں معلوم نہیں کیا کیا تھا شاہنواز کو لگا اسکا دل دھل گیا ہو ۔۔۔
ایزہ مسکرا کر اگے آئی
یہ شاہ ہیں بھائی ” عمر ایزہ کی سنے بنا اسکی جانب بڑھنے لگا ۔
عمر کی آنکھوں میں جو بے یقینی تھی شاہنواز حلق تر کر گیا ۔ ۔
وہ مسکرا دیا
عمر بھی پھیکا سا مسکرایا لیکن سمجھ اب بھی نہیں آ سکا تھا
اپ ” بس اتنا ہی بولا
یار سرپرائز تھا تمھارے لیے تم پہلے ہی جان گئے ” وہ بات کو کور کرنے کی کوشش میں تھا لیکن بات میں وزن نہیں تھا
م۔۔مطلب کیسا سرپرائز ” وہ سمجھا نہیں اب بھی اسکی آنکھوں میں سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ۔
میری جان میرے شیر کیا ہو گیا ۔۔۔۔۔ دیکھو ہمارا قریبی رشتہ نکل آیا “وہ اسکے شانے پر اپنا بھاری ہاتھ رکھتا بولا ۔
آپ ۔۔۔ اپ نے مجھے بتایا نہیں ” وہ سوال کر رہا تھا ۔
شاہنواز کو دنیا میں سب سے زیادہ خوف دو ہی باتوں سے آتا تھا عمر کے سوالوں سے اور یہ جان جانے سے کہ شاہنواز کون ہے ۔۔۔
تمھارے شادی کا سرپرائز تھا نہ ” وہ مسکرایا
کافی عجیب سرپرائز ہے “وہ حیران تھا ۔۔۔
شاہنواز کا دل بیٹھ رہا تھا ایزہ بھی سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ۔
شاہنواز نے اسکو گلے سے لگایا اسکا چہرہ پکڑا
ٹینشن کس بات کی ہے ۔۔۔ بھئ “
مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا ” عمر کی پیشانی پر تیوری تھی ۔
شاہنواز نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا ۔
ایکچلی ۔۔ یہ سرپرائز تھا میں جانتا تھا یہ بات اور سوچا تھا تمھاری شادی پر دوں گا پھر شادی ان حالات میں ہوئی اور آج ہم دونوں نے آنا تھا “
یہ واقعی سرپرائز تھا نہ” وہ اسکا چہرہ دیکھنے لگا
ہاں نہ ” وہ پھیکا سا مسکرا دیا ۔ ۔
عمر نے ایک طویل سانس کھینچا کھل کر مسکرایا اور آگے بڑھ کر اسکے سینے سے لگ گیا ۔۔۔۔
آپ پر تو مجھے خود سے زیادہ بھروسہ ہے ۔۔۔۔” وہ بولا تو شاہنواز جیسے ختم سا ہونے لگا اسکی کمر پر ہاتھ رکھا کر تھپتھپایا
پریشان نہیں ہونا میں ہوں نہ”
وہ بولا جبکہ عمر اب بھی بے یقین تھا ائ تھنک مجھے چلنا چاہیے ابھی میں ٹھیک نہیں فیل کر رہا ۔۔۔ ایکدم اتنے دھچکے برداشت نہیں کر پا رہا ” وہ ہنسا وہ مسکراہٹ میں بات ہی نہیں تھی ایزہ خاموشی تھی وہ جا رہا تھا ۔۔۔۔
جبکہ ۔۔۔۔ شاہنواز نے ایزہ کے گال پر ہاتھ رکھا اندر جاو میں آتا ہوں
لیکن ” آتا ہوں نہ وہ مسکرایا ہلکا سا اور جیسے ہی ایزہ اندر چلی گئ ۔۔۔
شاہنواز آگے بڑھا خاموشی سے ساتھ زمیر بھی چل رہا تھا ۔
اور جیسے ہی وہ کچھ فاصلے پر آئے شاہنواز نے زمیر کے منہ پر کھینچ کر تھپڑ مارا اور اتنے مکے مارے کے اسکی ناک سے خون بہنے لگا یہاں تک کے مارتے مارتے اتنے جنون پر اتر گیا کہ اسکی گردن دبا دی جبکہ زمیر چلانے لگا تھا ۔
تمھیں پتہ ہے عمر کون ہے تم کیسے جانتے ہو عمر کو ۔۔ تم جانتے تھے عمر یہاں ہے تم نے مجھے جان بوجھ کر انفارم نہیں کیا ۔۔” وہ اسکی گردن پر پاوں رکھ کر کھڑا ہو گیا
اسے اب میری وجہ سے تکلیف ملی ہے میں تمھیں جان سے مار دوں گا ” وہ دھاڑا جبکہ زمیر کچھ بول نہیں سکا شاہنواز کے پی آئے نے اسے دور کیا
اور زمیر اٹھ کر ہاتھ جوڑ گیا تھا ۔۔۔ شاہنواز نے سب کو جھٹکا اور ۔۔۔ اب تک اسکا دل نہیں سنبھلا تھا عمر کے دل کی کیفیت پر وہ جیسے مر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
