Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 72
No Download Link
Rate this Novel
Episode 72
اگلی صبح وہ دوبارہ فجر کی نماز کے لیے ائے تو وہ مسجد کے باہر بیٹھی تھی اسے دیکھ کر جیسے سن سا ہو جاتا تھا وہ جبکہ دو چار لڑکے ناز کے گرد کھڑے اسے تنگ کر رہے تھے اشفاق اس کے نزدیک ایا اور ان لڑکوں کو اس نے ڈانٹ ڈپٹ کر کے بھگا دیا جبکہ اسنے ناز کی طرف دیکھا ناز کو اس نے گھر جانے کا کہا اپ اپنے گھر چلی جائیں اپ یہاں پر بیٹھی ہیں وہ بولا اور ناز نے اسے بتایا کہ اس کا کوئی گھر نہیں ہے وہ اپنے گھر سے بھاگ کر ا گئ اشفاق حیرانگی سے اسکے چہرے جانب دیکھنے لگا اور ناز اسے بتا دیا اپنی معصومت میں کہ اس کی ماں اس سے غلط کام کرواتی ہے جس کی وجہ سے وہ گھر سے بھاگ گئی ہے اب اس کے بعد کوئی سہار کوئی اثرا نہیں ہے اسکے پاس ۔ بتاتے ہوئے اسکی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔۔ جو اشفاق کو کافی اچھے لگ رہے تھے ۔۔۔ معلوم نہیں کیوں اشفاق نے اسے مسجد کے اندر جانے کے لیے کہا مسجد سے پیچھے ایک کمرہ تھا جس میں اس نے ناز کو ٹہرا دیا اس کمرے کو باپ کے خوف سے اس نے تالا لگا دیا جبکہ ناز پھر ایک کمرے میں قید ہو گئی تھی یہ قید البتہ بری نہیں لگی تھی اسے ۔۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اب وہ کس کے ہتھے چڑھ گئی ہے تقریبا چار پانچ گھنٹے بعد اس کے کمرے کا دروازہ کھلا اور اشفاق کمرے کے اندر داخل ہوا تو اس کے ہاتھ میں کھانے کی ایک ٹرے تھی جس میں سادہ سا کھانا تھا ایسا کھانا وہ نہیں کھاتی تھی اس نے بہت عیاشی اور ارامی دیکھی تھی سادہ سے کھانے کی ٹرے اس کے اگے رکھی اور اسے کھانے کے لیے کہا میرا نام اشفاق ہے مولوی نظیر دین کا بیٹا ہوں میں اپ کو یہاں پر زیادہ عرصے نہیں رکھ سکتا یہ مسجد کا کمرہ ہے یہاں پر ابا جی کبھی بھی آ سکتے ہیں تو بہتر ہے کہ جہاں اپ جانا چاہتی ہیں اپ وہاں چلی جائیں وہ سنجیدگی سے بولا جب کہ ناز نے نفی میں سر ہلایا اپ نے مجھے ان لڑکوں سے بچایا یقینا اپ ایک اچھے انسان ہیں میری مدد کریں میں وہ سب نہیں کرنا چاہتی جو میری ماں مجھ سے کرواتی ہے اشفاق ایک بار پھر حیران ہوا کہ ایک ماں اپنی بیٹی سے کیا گندے کام کروا سکتی ہے جبکہ ابھی تک اسے علم نہیں تھا کہ وہ ایک کوٹھا چلانے والی کی بیٹی ہے ان دونوں کے بیچ کافی بحث کا تبادلہ ہوا اور پھر اشفاق کو اس کے حسن نے بھی مائل کر دیا تھا وہ سر ہلا گیا گویا ماں گیا ہو اسکی بات اس نے دوبارہ تالا لگایا کیونکہ مغرب کی نماز کا وقت تھا اور باہر نکل ایا تقریبا دو دن وہ اسی مسجد کے کمرے میں رہی اور کسی کو علم نہ ہوا کہ یہاں پہ ایک لڑکی ہے دو دن بعد جب اشفاق بالکل اس کے حسن کے اگے بے بس ہو گیا تو اس نے اپنے باپ سے اس لڑکی کا ذکر کیا اس دن وہ اپنے باپ سے بہت پٹا تھا اور اسکے باقی دو بھائ بھی سہم گئے جب کہ مولوی نظیر الدین اس لڑکی کو اس کمرے سے نکال کر اپنے گھر لے ائے اس لڑکی سے معلومات لی جو کانپ رہی تھی رو رہی تھی کیا میرے بیٹے نے تمہیں یہاں قید کیا اس نے سوال کیا جبکہ ناز نے نفی میں سر ہلا دیا وہ اس کا محسن تھا اس نے اسے ان لڑکوں سے بچایا تھا اج تک اس نے صرف مرد کو عورت کی عزت تار کرتے ہوئے دیکھا تھا ایک عزت دار روپ میں مرد کو دیکھ کر اس کی گرویدہ ہو چکی تھی مولوی نظیر الدین نے اس سے کئی سوال کیے جس کا جواب اس نے دیا لیکن اب تک کسی نے اسے یہ سوال نہیں کیا تھا کہ وہ کہاں سے ائی ہے کس کی بیٹی ہے بس اس نے یہی بتایا کہ اس کی ماں اسے غلط کاموں پر اکساتی تھی جس کی وجہ سے وہ گھر سے بھاگ کر آ گئ اور اب اس کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا اشفاق کے بہت اصرار پر مولوی نظیر الدین ان دونوں کے نکاح کے لیے امادہ ہو گئے اشفاق بے حد خوش تھا جب کہ دوسری طرف ناز حیران تھی کہ اچانک کیا ہو رہا تھا اسکی زندگی نے یہ کیسا پلٹا کھایا تھا وہ بھی تو ایک عزت دار زندگی گزارنے کی جو ہمیشہ سے اپنے دل میں خواہش رکھتی تھی اسے یہ عزت دار زندگی لگی تھی اشفاق نے اسے بتایا تھا کہ وہ مولوی نظیر الدین کا بیٹا تھا اور یہی بات اس کے دل کو بھا گئی تھی کہ وہ ایک مولوی کا بیٹا ہے وہ بھی مسکرا دی اور اس نے بھی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اپنا نام اس کے نام کے سپرد کر دیا دونوں کا نکاح بہت جلد ہوا اشفاق کی ماں ناز کو کچھ خاص پسند نہیں کرتی تھی لیکن پھر بھی بیٹے کی خاطر وہ خاموش رہی ناز نے اپنی زندگی کے خوبصورت دن اس کے ساتھ گزارے تھے اس سے بہت محبت کرتا تھا وہ اور حقیقت بھی یہی تھی کہ وہ اسے کسی پری کی طرح سنبھال کر رکھتا تھا ہاں ان کے گھر میں کھانے کی قلت تھی دو وقت کی روٹی ہی پوری ہو جاتی تو بڑی بات تھی لیکن اس گھر میں عزت دار ماحول تھا نہ بے غیرتی تھی نہ گھنگرو کی اواز تھی نہ شور شرابہ اور نہ ہی ناچ گانا اس نے وہاں پر نماز سیکھی تھی اور یہ بات اسے جیسے ہواؤں میں لے کر اڑتی تھی اسے ہمیشہ خوف رہتا تھا کہ وہ جہنم میں نہ جائے اب اسے لگتا تھا وہ نماز پڑھنا سیکھ گئی ہے تو یقینا جنت میں جائے گی وہ جب بھی گھر اتا اسے دیکھتا تو وہ جائے نماز پر ہوتی اسے دیکھ کر کافی خوش ہوتا تھا کہ وہ اس کے رنگ میں رنگ گئی تھی اور پھر چند ہی دنوں میں ناز پریگننٹ ہو گئی وہ جیسے ہی پریگننٹ ہوئی اشفاق کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا وہ اسے ڈاکٹر کے پاس لے گیا اسے دوائیوں کے ساتھ فروٹس اور بہت اچھی خوراک دینے کی کوشش کی ناز کو یہ سب ایک خواب سا لگ رہا تھا اسے محسوس ہی نہیں ہوتا تھا یہ کہ وہ 18 سال کہاں گزار کر ائی اور اب پچھلے ایک سال سے وہ ایک ایسے شخص کے ساتھ تھی جو اس کے لیے جیسے بہت کچھ تھا جیسے ساری زندگی تھا وہ شخص اس کے لیے اور پھر اس کے وجود میں اس کی پاک اولاد یہ سب جیسے کسی خواب سے کم نہیں تھا وہ ڈاکٹر کے پاس ائے اور وہاں سے نکلتے ہوئے ناز کسی سے بری طرح ٹکرائی وہ صرف 15 سالہ لڑکا تھا وہ جس سے ٹکرائی تھی وہ لڑکا اس سے ساکت نظروں سے دیکھنے لگا جیسے وقت تھم گیا ہو ۔ ہر چیز ساکت ہو گئ ہو ۔جبکہ ناز سنبھل کر سیدھی ہوئی اور اشفاق کی جانب بڑھ گئی اشفاق غصے سے اسے دیکھ رہا تھا اور وہ پہلا دن تھا جب اشفاق نے اس کے اوپر ہاتھ اٹھایا اسکے لیے مار پیٹ عام بات تھی اسکی ماں اسے کس بڑی طرح مارتی تھی لیکن جس شخص سے ہمیں امید نہ ہو اس کا برا رویہ یہاں تک اس کی ہلکی سی بری نگاہ بھی ہمیں کس طرح جھلسا دیتی ہے اور یہی حال اس کا بھی ہوا تھا اس رات بہت روئی تھی کیونکہ اشفاق نے اس پر ہاتھ اٹھایا تھا جو الفاظ اج تک پھولوں کی طرح نکلتے رہے تھے وہ بہت سخت تھے اس نے اسے یقین دلانا چاہا تھا کہ وہ صرف ایک 15 سالہ لڑکا ہے جب کہ اشفاق نے اسے بہت برا رویہ دیا تھا اور تقریبا پانچ دن اس سے بات نہ کی ناز کسی شخص کے لیے اشفاق کو کھونا نہیں چاہتی تھی کیونکہ اس کے نزدیک وہی بہت اچھا انسان تھا اس نے اس سے معافی مانگی یہ جانے بغیر کہ اس کی انا پر کس قدر تسکین بھری بات ہے یہ کہ وہ ایک عورت کو اپنے اگے جھکا رہا تھا وہ بھی حسن کی دیوی کو اس نے اسے معاف تو کر دیا لیکن رویہ سخت رہا ناز اس کے سارے کام کرتی وہ اب سارے کام سیکھ گئ تھی وہ سب بناز کے ساتھ نارمل رویہ رکھتے تھے کیونکہ ناز بہت جلد ان سب میں گھل مل گئی تھی جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ناز خوشی سے جیسے پاگل سی ہونے لگی کیونکہ ڈاکٹرز نے اسے بتایا تھا کہ اس کے ہاں بیٹا ہے اس نے سوچ لیا تھا وہ اس کا نام عمر رکھے گی کتنا خوبصورت نام تھا نا یہ بہت خوش رہنے لگی تھی زندگی سے ہر دکھ اور تکلیف نکل گیا تھا اور پھر جب اس کے دن قریب انے لگے تو وہ ڈاکٹر کے پاس گئی اور وہ وقت شاید اس کی زندگی کا بدترین وقت تھا اس کی ماں چین سے بیٹھنے والی نہیں تھی معلوم نہیں یہ بات اس نے کیوں نہیں سوچی اس کی ماں نے اس کو بالاخر ڈھونڈ ہی لیا بالوں سے پکڑ کر وہ اسے وہاں سے لے گئی اس وقت حیران کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا اس نے اس عورت سے اپنی بیوی کو بچانا چاہا اور چلا کر کہا یہ میری بیوی ہے جبکہ بیٹی کی شادی نگینہ بائی نے خون خار نظروں سے اس کی طرف دیکھا اور انگلی اٹھا کر بتایا کہ یہ میری بیٹی ناز ہے جو ایک کوٹھے کی بائی ہے اس کے مجرے نے شہر بھر میں تہلکہ میچا رکھا ہے کیا تجھے لگتا ہے کہ یہ اب بھی تیری بیوی ہے اشفاق پر جیسے پہاڑ سا ٹوٹ پڑا ناز بے حد روتی ہوئی اپنی ماں کے اگے ہاتھ جوڑنے لگی کہ وہ اسے چھوڑ دیں لیکن اس نے نہیں چھوڑا اور وہ اسے گاڑی میں بٹھا کر لے گئ جبکہ اس سڑک پر اشفاق کھڑا رہ گیا لوگوں کے بیچ میں تماشہ بنا اس کے گھر کے حالات دن بدن بگڑتے جا رہے تھے مولوی بن جانے سے گھر کا چولہا تو نہیں جل پڑتا اس کے پاس اور کوئی ہنر ہی نہیں تھا کیا کرتا غمزدہ رہ رہ کر بھی تھک گیا تھا چند مہینے غم منا کر جب وہ ہوش میں ایا تو اس سے اپنی غربت کا بہترین حل نظر انا شروع ہو گیا دوسری طرف ناز کے ہاں عمر خیام ہو چکا تھا اسے لگتا تھا کہ اس کی زندگی بس اتنی ہی ہے اشفاق واپس نہیں ایا تھا لیکن وہ اس کا انتظار کر رہی تھی اسے لگتا تھا وہ واپس ائے گا ایک کوٹھے پر اس نے عمر خیام کو جنم دیا تھا اور عمر خیام کی زندگی پر یہ چھاپ چھوڑ گیا کہ وہ کوٹھے والی کا بیٹا ہے ہر ممکن کوشش کر کے دیکھا عمر کو ان سب چیزوں سے دور رکھا اور یہاں تک کہ کسی کو اپنے بیٹے کے ہاتھ بھی نہیں لگانے دیتی تھی بس اسے ایک کمرے میں رکھتی لیکن نگینہ بائی کو اس سے پیسہ نظر ا رہا تھا اس نے ناز کو مجرا کرنے پر مجبور کر دیا اور اس رات نگینہ بائی کے کوٹھے پر مرد مرد پر چڑھ چڑھ کر ایک مجرہ کرنے والی کو روتے ہوئے مجرہ کرتے دیکھ کر جیسے نشے میں بہک رہا تھا اس کی انکھ سے انسو بہہ رہے تھے اس کے گھنگرو کی تھاپ جیسے شہر میں گونج رہی تھی جیسے پورا شہر ک کھنکھنا اٹھا تھا عمر کے رونے کی اواز اس کے کانوں میں پڑی وہ تڑپ کر پلٹی بھاگنا چاہتی تھی کہ نگینہ بائی نے اسے گھور کر دیکھا اس نے اسے اسی شرط پر مجبور کیا تھا کہ وہ مجرہ کرے گی اگر وہ عمر کو زندہ دیکھنا چاہتی ہے اور وہ ہر صورت میں عمر کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتی تھی نگینہ بائی نے اسے گھور کر دیکھا تو وہ پلٹنے پر مجبور ہو گئ دو گھنٹے سے وہ ناچ رہی تھی کہ اچانک اس کی نگاہ ان مردوں میں سے ایک مرد پر پڑی وہ مرد تو نہیں تھا صرف 15 16 سالہ ایک لڑکا تھا جو ساکت نظر سے اسے دیکھ رہا تھا ناز اسے پہچان گئی تھی کیونکہ اشفاق سے پہلا تھپڑ اسی کی وجہ سے کھایا تھا اس نے نفرت سے نگاہ پھیر لی اور کسی کے دل کی گرچیا کر گئی یہ نگاہ
مجرہ ختم ہوا تو تباہی سی مچ گئی اس کا ریٹ لگ رہا تھا جب کہ وہ اپنے بچے کو سینے سے لگائے بیٹھی تھی وہ سن سکتی تھی کہ ایک ایک مرد اسے کتنے کتنے روپوں میں خریدنا چاہتا ہے اور پھر صرف ایک 15 سالہ لڑکے کی اواز گونجی جس نے نگینہ بائی کو ناز کے ساتھ صرف ایک رات گزارنے کے لیے 20 لاکھ کی اواز نکالی تو نگینہ بائی کی انکھوں سمیت زبان بھی باہر نکل ائی اس کی زبان سے ٹپکتی رال لالچ سے بھرپور تھی 20 لاکھ کوئی عام بات نہیں تھی وہ بھی صرف 15 سالہ لڑکا اسکے منہ سے کہیں غلط تو نہیں نکل گیا ہر مرد نے اسے ایسے دیکھا جیسے اسے پاگل سمجھ رہا ہو اب 20 لاکھ ناز پر خرچ کرنا کوئی عام بات بھی نہیں تھی لیکن وہ خاموشی سے کھڑا نگینہ بائ کو دیکھ رہا تھا جیسے اس کے فیصلے کا منتظر ہو اور وہ جو چاہتا تھا ویسا ہی فیصلہ ہوا نگینہ بائی اس کے پاس ائی اس نے ماں سے منتیں کی تھی کہ وہ ایسا کچھ نہیں کرے گی جبکہ اس کی ماں کوٹھ چلا کر ایسی ہو گئی تھی کہ وہ کسی پر رحم اور ترس کھانے کے قابل نہیں تھی یہاں تک کہ اپنی بیٹی پر بھی نہیں روتے ہوئے نواسے کو نظر انداز کرتی وہ بیٹی کو گھسیٹ کر باہر لے ائی اور اس کمرے تک لے ائی جہاں وہ لڑکا کھڑا تھا اس نے اسے کمرے میں دھکیل دیا ناز نگ
ے اس لڑکے کی جانب دیکھا اور غصے سے اس کے سامنے اگئی اس نے اسے بہت سنائی وہ لڑکا خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا تم بمشکل 15 16 سال کے لڑکے ہو اور اتنی گھٹیا حرکتیں کرنا چاہتے ہو میرا بیٹا اوپر رو رہا ہے میرا عمر رو رہا ہے میں تمہیں کچھ نہیں دے سکتی جاؤ کسی اور کے پاس جاو اس نے نفرت سے کہا جب کہ وہ لڑکا اب بھی اسے دیکھ رہا تھا تم پاگل ہو وہ چلائی لیکن ابھی اس لڑکے پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا
بس” استگی سے اس نے اتنا ہی کہا
جائیں اپ “وہ بولا ناز اسے دیکھنے لگی اتنا ہی کافی ہے وہ بولا ناز نفی میں سر ہلاتی پلٹی اور بھاگتی ہوئی اوپر چلی گئی نگینہ تلملا کر اٹھی جبکہ شاہنواز کمرے سے باہر نکلا اور سیدھا اس کوٹھے سے باہر نکل گیا لوگ اسے دیوانہ اور پاگل سمجھ رہے تھے کہ صرف ایک لمحے کے لیے اس نے 20 لاکھ روپے بھرے تھے اور پھر یہ روز ہونے لگا ناز کو سمجھ اگئی کہ وہ اسے چھوئے گا نہیں وہ بس ایک لمحہ اسے دیکھتا اور اس کے بعد خود بھی نکل جاتا اور ناز بھی وہاں سے چلی جاتی عمر بڑا ہونے لگا تھا اور پھر اسے خبر ملی کہ اس کا شوہر ایا پاگل سی ہو گئی پہلی بار عمر کو چھوڑ کر وہ نیچے بھاگتی ہوئی ائ اور اشفاق کو دیکھا اس کے قدموں میں بیٹھ کر بے شمار روئ اب پتہ چلا تھا کہ یہی تو سارا سہارا تھا اسکا اب وہ اسے یہاں سے بچا کر لے جائے گا اسے یقین ہو گیا تو اس نے بڑے فخر سے ماں کو دیکھا جبکہ اس کی ماں نے ہنس کر نفی میں سر ہلایا اور اشفاق کی جانب دیکھ کر ہاتھ کے اشارے سے اس نے ان دونوں کو وہاں سے دفع ہو جانے کے لیے کہا ناز کی تو خوشی کا کوئی ٹھکانا ہی نہیں رہا وہ عمر کو لے ائی اور پھر وہ تینوں وہاں سے نکل گئے اشفاق کافی خاموش تھا ناز سارے راستے اسے دیکھتی رہی اشفاق اسے لے کر ایک بہت بڑے گھر میں ا گیا تھا ناز نے حیرانگی سے اسکی جانب دیکھا یہ ہمارا گھر ہے اشفاق نہ سر ہلا دیا ناز خوشی سے چہک اٹھی عمر دیکھو ہم اپنے گھر اگئے ہیں اب ہمارے ارد گرد وہ گھنگرو نہیں ہوں گے اب ہمارے ارد گرد کچھ اور نہیں ہوگا بیٹے کے ساتھ جیسے خوشیاں منانے لگی اشفاق خاموشی سے اسے دیکھتا رہا اور پھر اس نے اس کی جانب دیکھا اور اس کے گلے لگ گئ مجھے معاف کر دیں میں اپ کو بتا نہیں سکی کہ میں کون ہوں پھر اپ نے سوال نہیں کیا تو اسی لیے جان بچا لی کچھ نہیں ہوتا اشفاق بولا اور دو راتیں اس نے سکون سے گزاری اور پھر اسنے اس سے یہ سوال کیا کتنا کما لیتی ہو اس کے سوال پر ناز کے پسینے چھٹنے لگے اس نے عمر کی جانب ایک نظر بھی نہیں ڈالی تھی نہ ہی وہ عمر سے کوئی بات کرتا تھا جبکہ چھوٹا سا عمر اس کے ہاتھ پاؤں چھونے کی اس کے کندھے پہ چڑھنے کی کوشش کرتا تو وہ اسے بری طرح جھڑک دیتا یہاں تک کہ وہ ایک ڈیڑھ سال کے بمشکل چلنے والے بچے پر اپنا بھاری ہاتھ بھی اٹھا دیتا ناز کے لیے ناقابل یقین سا تھا یہ سب اور پھر جب اس نے سوال کیا کہ وہ کتنا کما لیتی ہے تو اس کا دل جیسا دھک سے رہ گیا نہیں میں نے کچھ نہیں کمایا جو پورے شہر میں تمہارے مجرے کا تہلکہہے؟ ہر مرد تمہارے ساتھ رات گزارنے کے لیے بے چین ہے اور تم یہ کہہ رہی ہو کہ تم نے کمایا ہی نہیں کچھ اشفاق اسے مسکرا کر دیکھ رہا تھا نہیں نہیں ایسا کچھ نہیں ہے وہ تو ایک کوئی بے وقوفی لڑکا وہ ایک دم رک گئ اشفاق کھل کر ہنسا ہاں یہی یہی میں سوال کرنا چاہ رہا ہوں کہ کتنا کما لیتی ہو تم اس کے لیے سوال نہیں تھا زوردار تھپڑ تھا وہ سر جھکا گئ اشفاق سر جھٹک کر تب وہاں سے چلا گیا لیکن ناز کا اندازہ نہیں تھا کہ وہ سر تا پیر اب بدل چکا ہے چند دن ہی گزرے تھے عمر اب چلنے لگا تھا بولنے بھی لگا تھا ناز کی ہنسی اس کی کھلکھلاہٹ اس گھر میں گونجنے لگی تھی اشفاق عمر کو نہ چھوتا تھا نہ ہاتھ لگاتا تھا اور نہ ہی کوئی بات کرتا تھا جیسے وہ اس کے اوپر کوئی بوجھ سا ہو الٹا ایک بار تو سفاکی سے اس کے پاؤں کے اوپر سے بھی گزر گیا تھا کبھی اس کہ ہاتھ پر چڑھ جاتا تو کبھی اس کے گال پر زوردار تھپڑ دے مارتا ناز نے اس سے یہ سوال کیا کہ وہ عمر سے ایسا رویہ کیوں رکھتا ہے کیونکہ یہ کوٹھے والی کا بیٹا ہے معلوم نہیں میری اولاد ہے کہ کسی اور کی مجھے کیا اس سے مجھے یہ بتاؤ کہ اب تم کمانے کب نکلو گی کیونکہ میرے پاس تمہیں اور تمہارے اس کوٹھے کی اولاد کو سنبھالنے کے لیے اور کھلانے کے لیے کچھ نہیں الٹا تمہیں جا کر ہم دونوں کو کھلانا ہوگا بتاؤ کس دن جاؤ گی اور کس دن لاکھوں میں تمہارے پاس پیسے ہوں گے وہ حیرانگی سے انکھیں پھیلائے اسے دیکھنے لگی کہ یہ وہی ہے جو ایک مولوی کا بیٹا تھا پانچ وقت کا نمازی اپ کو کیا ہو گیا میں اپ کی بیوی ہوں اس نے احتجاج کرنا چاہا
تو کیا ہوا میں تمہیں اپنی مرضی سے اپنی خواہش سے اجازت دے رہا ہوں کہ جاؤ اور کما کر لاؤ اور ہو سکے تو اتنا کما لینا کہ یہ میری قربانی ضائع نہ جائے اس کے بعد ناز غصے سے اس کا گریبان پکڑ گئی اتنا بے غیرت کوئی نہیں ہو سکتا کہ اپنی بیوی کو دوسروں کے ساتھ سونے پر مجبور کرے لیکن میں ہوں اشفاق نے کہا اور اس کا گلا دبا دیا تین سالہ کھڑا عمر یہ سارا منظر اپنی انکھوں سے دیکھ رہا تھا رو رہا تھا
اوے یہ تو کیا کھڑا یہاں دیکھ رہا ہے اس نے ناز کو دور کیا اور عمر کو گھسیٹ کر کمرے سے باہر تقریبا پھینکا ناز جیسے بلبلا گئی اس کا بچہ فرش پر جا گرا تھا رو رہا تھا ناز کی ممتا بے چین ہو اٹھی تھی وہ باہر جانا چاہتی تھی لیکن اشفاق نے اسے مارنا پیٹنا شروع کر دیا میں نے تجھے کہا ہے کہ اب جو تو ہے تو وہی رہے گی تیری نہ شناخت بدلنی ہے اور نہ ہی تیرا کردار اور معلوم نہیں تو کتنے مردوں ے ساتھ سو کر میرے پاس ائی تھی میں بے وقوف تھا لیکن اب میں تجھ سے کماؤں گا کل تو کسی کے پاس بھی جا میرے پاس اس گھر میں پیسہ ہونا چاہیے وہ بولا جبکہ ناز نے نفی کی ٹھیک ہے پھر یہ تیری اولاد مرے گی وہ بولا اور باہر نکلا اور عمر کا منہ پکڑ کر زور سے اس کی گردن دبا دی ناز چلا کر اس کے پاس ائی اس کے اگے ہاتھ پاؤں جوڑے نہ کرو وہ تمہاری اولاد ہے ایسے نہ کرو اس کے ساتھ وہ تمہاری اولاد ہے وہ چھوٹا بچہ ہے وہ صرف تین سال کا ہے اس نے اسے کھینچنا چاہا اپنے سینے سے لگانا چاہا اشفاق کو اس پر رحم نہ ایا اور بری طرح اس کو پیٹنے لگا جیسے پاگل ہو گیا ہوں کہا ہے نا تجھے کہ تو کمانے گھر سے جائے گی ناز اس بات پر ہامی بھر گئ اور پھر یہ عام ہو گیا اس سے دوسرے مردوں کے ساتھ سونے پر مجبور کرتا ناز دل سے دعا کرتی تھی کہ وہ لڑکا اسے مل جائے وہی لڑکا تاکہ اس کی عظمت برقرار رہے وہ مجبور تھی اپنی ماں کے اور اپنے شوہر کے ہاتھوں ایسا شوہر جو 5 وقت کی نماز پڑھتا تھا اور باقاعدہ مسجد جاتا تھا لیکن اپنی بیوی کو مار مار کے وہ دوسروں کے ساتھ سونے پر مجبور کرتا تھا لیکن ناز کو وہ لڑکا نہیں ملا اس کا دل پھٹنے کو ہو گیا جب اس کا ریٹ لگا تھا صرف 2 لاکھ روپے اور وہ ایک رات جو عمر کے بغیر اس نے گزاری تھی اس نے اپنی ماں کے اگے بھی بہت گڑگڑا کر کہا تھا کہ وہ یہ سب نہیں کر سکتی لیکن اس نے نہیں مانی اور جب وہ اس کمرے میں جانے لگی تو وہ لڑکا بڑا ہو گیا تھا وہ ایا اس ادمی کا گریبان پکڑا تھا اسے دور دھکیلا اس کی ماں کے منہ پر معلوم نہیں کتنے نوٹ مارے اور اسے وہاں سے چلے جانے کے لیے کہا ناز پلٹی مشکور نظروں سے اسے دیکھا اور جلدی سے وہ سارے پیسے اکٹھے کر لیے جبکہ اس کی ماں چلاتی رہ گئی ان سارے پیسوں کو اکٹھا کر کے باہر بھاگی باہر اشفاق کھڑا تھا وہ سارے پیسے اس کے ہاتھ میں تھما دیے اور وہ پاگلوں کی طرح اپنے بیٹے کے پاس بھاگنے لگی شاہنواز نے اسے روڈ پر بھاگتے اور پھر اس ادمی کو دیکھا اور پھر اپنی گاڑی میں سوار ہو کر وہاں سے چلا گیا لیکن اشفاق نے شاہنواز کو کبھی نہیں دیکھا تھا اور پھر یہ معمول بن گیا جب اسے اس کی ضرورت پڑتی وہ اتا وہ پیسے پھینکتا نگینہ کی جھولی سے وہ سارے پیسے وہ اکٹھے کرتی اور اشفاق کے پاس پہنچا دیتی اشفاق دن بدن ترقی کرتا جا رہا تھا اس نے اپنی دکانیں کھڑی کر لی تھی وہ گھر اس کی ماں نے اسے دیا تھا اور پھر اچانک شاہنواز غائب ہو گیا ایک مہینہ وہ غائب رہا اور ناز اذیت کا شکار رہنے لگے کہ اسے با مجبوری اس مرد کے پاس جانا پڑتا ہے جس کے پاس وہ نہیں جانا چاہتی تھی اور جب وہ پہلی رات اپنی عزت اپنی عظمت صرف اپنے بیٹے کی وجہ سے کھو گئی تو جب وہ پلٹ کر گھر ائی عمر کے اگے ہاتھ جوڑ گئی کچھ سال کا تھا وہ اتنا روئ اتنا روئی چیخے مار مار کے روئی تھی چھ سال کے بچے نے اپنی ماں کے انسو صاف کیے اور اس سے سوال کیا کہ وہ کیوں رو رہی ہے اور پھر سوال کیا کہ کیا اس کا باپ اسے تنگ کرتا یے ناز نے سر ہلایا کہ کاش اس کا بیٹا اسے بچا لے چھ سالہ بچہ غصے سے باپ کے پاس پہنچا جس کے لیے صرف پیسوں کی اہمیت تھی وہ باپ سے جا کر ماں کے حق میں سوال کرنے لگا ڈیڈ مجھے اپ اور مام اکھٹے چاہیے مجھے اپ دونوں کا پیار چاہیے اپ اتنے بڑے کیوں ہیں ہر وقت غصہ کرتے ہیں ہم دونوں نے کیا غلط کیا ہے ناز کا کلیجہ اپنے بچے کی باتوں رپ منہ کو ا گیا مام ہر وقت روتی رہتی ہیں وہ بولا جب کہ اشفاق نے اس کی گردن جکڑی اور اسے بارش میں باہر پھینک دیا وہ کبھی نرمی نہیں رکھتا تھا اسکے ساتھ ناز پریشانی سے باہر دوڑی لیکن اس نے ناز کے پیٹ میں لات مار کے اسے اندر کیا اور عمر کو باہر اندھیری رات میں پھینک دیا عمر ہمیشہ بارش سے ڈرتا تھا وہ اسے چیخ چیخ کر کہنے لگا کہ کہو تمہارے خواب صرف خواب ہے تمھاری ماں ایک کوٹھے والی ہے اور اس وقت اس بچے نے پہلی بار یہ الفاظ سنے تھے جہاں جس طرح جس شدت سے وہ بچہ باہر رو رہا تھا اس طرح اس ہی شدت سے اس کی ماں اس کے باپ کے اگے ہاتھ جوڑ رہی تھی کہ اس کا بچہ بہت چھوٹا ہے اور اس اندھیری تیز برستی بارش میں وہ خود کو خوف میں بٹھا لے گا لیکن وہ رات عمر نے اسی بارش میں اندھیرے میں گزار دی درخت کتنے خوفزدہ لگ رہے تھے چھ سالہ بچے کا دل نہ پھٹ جاتا اتنی اندھیری رات اور اتنی بارش اور اتنی بجلی کی کڑک میں لیکن اس کا باپ اس کی ماں کے ساتھ اندر تھا اور اس رات عمر کے دل میں وہ خوف بیٹھتا چلا گیا اس کے بعد اشفاق عمر پر ظلم ڈھانے لگا کیونکہ اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ ناز کی کمزوری صرف عمر ہے ناز روز جاتی تھی اسے چند لاکھ روپے لا کے دیتی تھے روز اپنی عزت کھو دیتی تھی اور اس طرح اس کی ماں بھی خوش تھی اور اس کا شوہر بھی خوش تھا عمر بڑھتا جا رہا تھا اور دوسری طرف ناز کے ہتھ میں ایک خوبصورت سی بچی بھی ا گئ وہ اسکی بیٹی نہیں تھی گلشن اسے تھما گئی تھی ناز اس بچی کو دیکھ کر بہت روئ تھی کیا قسمت لائ تھی وہ بچی بھی کوئ نہیں تھا اسکے لیے دنیا میں ۔ ۔لیکن ناز نے اسکا نام ائزہ رکھا اور اسکو بڑی محبت سے پالنے لگی تھی۔۔ اشفاق نے بھی ائزہ کو دیکھا پہلے تو وہ ناز پر مار پیٹ کر کے ائزہ کو مارنے بڑھا تو ۔ عمر نے چھوٹی سی ائزہ کو چھپا لیا ۔اور ناز پھر اپنے شوہر سے اس بچی کی وجہ سے پیٹنے لگی جس نے یہ طعنے دے دے کر اسے مارا کہ یہ بچی اسک گند ہے ۔ رفتہ رفتہ عمر کو اندازہ ہوتا جا رہا تھا کہ اس کی ماں کیا ہے اور جب اندازا ہونے لگا تو وہ اپنی ماں سے نفرت کرنے لگ گیا جبکہ ناز عرصے بعد جب وہ تھکان سے چور تھی کوٹھے سے نکلی ہاتھ میں چند لاکھ روپے تھے ایک گاڑی اس کے سامنے رکی اس گاڑی سے نکلنے والے شخص نے اسے دیکھا اب بے ساختہ اس کی انکھیں انسو سے تر ہو گئی ناز بری طرح اسے دیکھتی رو دی وہ اسے پہچان گئی تھی اس کا اس کے اوپر کوئی حق نہیں تھا اس کی جانب بڑھا ہی نہیں تھا اس کی انکھوں میں اس کے لیے انسو تھے شاید اس نے انے میں بہت دیر کر دی اور ناز نے اسے کہہ بھی دیا تم نے بہت دیر کر دی انے میں اب تو کچھ بھی نہیں رہا وہ لڑکا وہیں کھڑا رہ گیا جب کہ وہ ٹوٹے پھوٹے قدموں سے اگے چلنے لگی اور پھر اس لڑکے کی ہمت نہ ہوئی کہ اس کے پیچھے جا سکے اشفاق نے دوسری شادی کر لی تھی وہ اسے چھوڑ کر اپنے نئے گھر جا چکا تھا ساتھ کب ائزہ کو لے گیا پتہ ہی نہ چلا ۔۔۔ ناز نے خہ سوچ کر صبر کر لیا کہ چلو عزت دار زندگی گزار لے گی وہ ۔۔۔۔۔ناز بیمار سی تھکی تھکی سی رہتی تھی وہ عمر کو بھی اپنے ساتھ لے گیا تھا اس کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا خالی ہاتھ خالی گھر خالی دل اس گھر کو دیکھتی رہتی کتنے کتنے گھنٹوں خود کو باتھ روم میں بند کر کے اپنے اوپر پانی گراتی رہتی کہ گندگی اس کے اوپر سے ہٹ جائے اشفاق کو کما کر دے دیا تھا وقت بہت گزر گیا تھا وہ بوڑھی ہونے لگی تھی اسکے بچے اس سے دور تھے ۔۔ اب اشفاق کے پاس بہت کچھ تھا اسکے بچے بھی لے گیا تھا وہ اور اسے تنہا چھوڑ گیا تھا وہ گڑگڑا گڑگڑا کر اپنے رب سے معافی مانگتی پھر اسے بتایا گیا کہ اس سے شاہنواز سکندر ملنے ایا وہ نہیں جانتی تھی کون شاہ نواز پھر اسے بتایا گیا کہ اس سے شاہنواز سکندر ملنے ایا وہ نہیں جانتی تھی کون شاہ نواز جب وہ اندر ایا تو وہ اسے پہچان گئ ہلکا سا مسکرائی اور اس کے لیے اپنے سامنے چیئر رکھ دی شکریہ تمہارا کہ تم ائے میں بہت اکیلا محسوس کر رہی تھی کیا تمہارے پاس موبائل ہے کیا میں اپنے عمر سے بات کر سکتی ہوں اسے یہ تو سچ بتا سکتی ہوں کہ اس کی ماں نے کچھ بھی اپنے دل سے نہیں کیا وہ اج بھی خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا اور بس پھر وہ اتنا ہی بولا مجھے معاف کر دیجیے گا ارے تم مجھ سے معافی مانگ رہے ہو تم تو مجھے جانتے تک نہیں میرا دل جانتا ہے اپ کو اس نے کہا ناز اسے حیرانگی سے دیکھتی رہی ہنس پڑی اس کی کھلکھلاہٹ پورے گھر میں گونج اٹھی بے وقوف ہو تم کتنے سے تو ہو مجھ سے چھوٹے سے کیسی باتیں کر رہے ہو اچھا میرے گھر کچھ کھانے کے لیے نہیں میں تمہیں کیا کھلاؤں گی کیوں نہیں ہے اپ کے پاس کچھ کھانے کے لیے اس نے فورا موبائل اٹھایا باہر اپنے کھڑے گارڈ سے کچھ کھانے کے لیے منگوایا اور بہت کچھ منگا لیا ناز اسے دیکھنے لگی جب کہ وہ بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا جب کہ ناز نے سیریس لیا ہی نہیں اس کی انکھیں بتا رہی تھی کہ وہ کتنی والہانہ محبت کرتا تھا اس سے جبکہ ناز اسے صرف ایک بچہ سمجھ رہی تھی حالانکہ وہ 42 سال کی ہو چکی تھی اور اس کے سامنے بیٹھا شخص 28 سال کا تھا پھر بھی وہ اسے اپنے سے بہت چھوٹا سمجھ رہی تھی شاہنواز ملال میں ہتھیلی رگڑتا اس کے سامنے بیٹھتا اپنے غم کو چھپا نہیں پاتا تھا پھر یہ روز کا ہو گیا وہ عزت سے اس کے سامنے جا کر بیٹھ جاتا اس کے گھر پر چاندنی ہونے لگ گئی تھی کھانے کے لیے ہر چیز میسر تھی ہاتھ میں چند روپے بھی تھے جن کو خرچ کر پاتی اور پھر اچانک اسے خبر ملی کہ اسے ایک بہت بڑی بیماری لگ گئی ہے ایسی بیماری جو کبھی اس کی جان چھوڑ ہی نہیں سکتی تھی بیماری بڑھتی گئی وہ کمزور ہوتی گئی شاہنواز دیوانہ ہوتا گیا اشفاق لالچ ا اور ہوس کا پجاری ہوتا چلا گیا وہ اتا تھا اسکے ساتھ مار پیٹ کرتا تھا کتنا نہیں شاہنواز بل کھاتا تھا کہ وہ اشفاق کو جان سے مار دے مگر ناز اسے روک دیتی وہ کیسے اسکے زخموں ر مرہم رکھتا ناز بس عمر کی یاد میں گھائل رہتی تھی اور عمر اپنی ماں سے نفرت کرتا تھا کھی اشفاق نے عمر کو بیٹا سمجھا ہی نہیں ہر جگہ ہر گھڑی ہر وقت اس کی بےعزتی کرنا اس پر ہاتھ اٹھا دینا یہاں تک کہ اکثر وہ پاگلوں کی طرح اس کا گلا بھی سوتے میں دبا دیتا تھا عمر کو اپنی ماں کی نسبت اس پاگل درندہ صفت باپ کے ساتھ رہنا زیادہ مناسب لگتا تھا کیونکہ وہ کوٹھے والی کا بیٹا تھا باپ تو صاف تھا اسکا ۔۔۔
پھر ایک روز اشفاق اسے زبردستی گھر لے ایا ۔
جبکہ ایزہ اسکی دوسری بیوی اور بچوں کے ساتھ انکی خدمات کو انکے کسی رشتےداروں کے ہاں چلی گئ اور یوں ناز نے کبھی ایزہ کو دوبارہ نہیں دیکھا تھا ۔
عمر بڑی واضح نفرت کا اظہار کرتا تھا اس سے لیکن وہ بھی ہاسٹل میں رہتا تھا ۔۔
ہاسٹل کا اسکا خرچہ بھی اشفاق ناز سے اور ناز شاہنواز سے لیتی تھی جبکہ ایک پیاری سی لڑکی ناز کو پسند ا گئ تھی اپنے بیٹے کے لیے اسکے ہاتھ میں اسنے اپنا چھلا پہنا دیا ۔۔
اور چند دن وہاں رک کر وہ واپس اپنے بڑھاپے میں بھی پیٹ کر دوبارہ اشفاق کے گھر سے نکل گئ ۔
بیٹے کے ہوتے ہوئے ۔۔۔ بھی وہ بے آسرا تھی ایک مرد کی اس میں جس کو جانتی تک نہیں تھی
وہ دوبارہ وہیں ا گئ اور ۔۔ شاہنواز نے ہنگامہ کیا تھا بہت ناز سرد نظروں سے اسے دیکھ کر خاموشی کی چادر اوڑھ چکی تھی ۔۔۔
شاہنواز پاگلوں کیطرح ہر ممکن کوشش کر رہا تھا اسکا علاج ہو جائے وہ ٹھیک ہو جائے دن بدن وہ ختم ہو رہی تھی اور بس ایک بات کرتی تھی اس سے میرا عمر بہت معصوم ہے تم وعدہ کرو اسکا خیال رکھو گے
بتاو مجھے” اور شاہنواز ہر بار حامی بھرتا تھا کہ وہ جاری سانس تک عمر کا خیال رکھے گا اس سے محبت کرے گا اور ناز کی خاطر عمر سے تعلقات بنانا شروع کیے لیکن پھر رفتہ رفتہ عمر سے دلی لگو بڑھنے لگا عمر کے لیے وہ فرشتہ بن گیا اور ناز بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ اسی دن سے اسکے بیٹے کی حفاظت کرنے لگ گیا تھا ۔
اسکی محبت دیوانوں سی تھی اور دیونے کچھ نہیں دیکھتے
پھر ایک روز عمر اسکے پاس ا گیا
ناز اسکے آگے پیچھے ایسے گھومتی کہ وہ کوئ بہت قیمتی چیز ہو
وہ اس سے نفرت کرتا تھا نفرت کا اظہار کرتا تھا لیکن ناز کی گود میں سر رکھ کر لیٹ جاتا تھا اور ناز اسکے لیے تڑپ تڑپ جاتی تھی ۔
وہ تب ایا تھا جب وقت کم رہ گیا
ناز نے شاہنواز کو روک دیا کہ عمر کے سامنے وہ نہ آئے
تبھی شاہنواز اور عمر کا بھی کبھی ایک دوسرے سے سامنا نہ ہوا
عمر کا غم اسکی ماں کے جیسا تھا ۔
وہ ماں کو برا بھلا کہتا تھا اسکا باپ اسپر جو ظلم کرتا تھا اسکا شکواہ بھی اپنی ماں سے ہی کرتا تھا لیکن ناز کا وقت اختتام ا گیا
اور ایک زندگی خاموشی سے دنیا سے چلی گئ ۔
پیچھے عمر کو چھوڑ گئ جو ہو بہو اسی طرح جلتا تھا ۔۔ جیسے اسکی ماں ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
