Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 60
No Download Link
Rate this Novel
Episode 60
کمر درد کے باعث وہ ہل بھی نہیں پا رہی تھی ۔۔ اسنے بھاری ہوتے پردے اٹھائے اور اوپر دیکھا ہلکی مدھم مدھم روشنی تھی چاروں طرف ایکدم وہ اٹھ کر بیٹھی تو گلے میں چین سی فیل ہوئی ۔
اسنے اس چین پر ہاتھ رکھا اور اس چین کی جانب دیکھا اسپر مکمل عمر لکھا تھا وہ مسکرائی کچھ شرما سی گئ جھجھک نے چارو طرف سے جیسے سے گھیرے میں لیا اور اسنے اپنے اوپر بلینکیٹ کھینچ لیا
وہ لوگ اب تک بوٹ پر تھے آف پانی کے اوپر اسکی تو روح بھی کانپ جاتی تھی کہ کبھی سوچ بھی لیتی تھی بوٹ کے بارے میں اور اب پوری رات اور شاید آدھا دن وہ کتنے سکون سے سوتی رہی ۔۔
افسوس سے منہ بنا کر وہ بیڈ سے سرکتی ہوئی اتری اسکی نمازیں قضا ہو گئیں
اسنے توبہ کی اور واشروم کو تلاشنہ چاہا لیکن واشروم تو کہیں بھی نہیں ملا تھا اسے ۔۔۔
وہ حیرانگی سے دیکھنے لگی کہ وہ اب کیا کرے
اسنے اپنا ڈریس چینج کیا اور بالوں کو باندھ لیا
لمبے بال الجھے بکھرے سے بندھ گیا تھے وہ باہر ائ تو اسے پانی کا شور سا محسوس ہوا اور اسنے تھوڑا سا اچک کر ڈرتے ڈرتے دیکھا تو وہ کتنے سکون سے جھیل میں تیر رہا تھا اسکی آنکھیں باہر نکل ائی
عمر ” وہ بھاگ کر جھانک کر اسے دیکھنے لگی
ہائے مائے لو ” عمر نے فلائنگ کس دی تھی اسے ۔
گڈ مارننگ کیسی رہی رات اور صبح ” وہ مزے سے تیرتا ہوا بولا
ساز کو لگا وہ دنیا کا سب سے بڑا پاگل انسان ہے
عمر آپ ڈوب جائیں گے” مدھم آواز میں وہ اسکی فکر میں رونے کو بے تاب تھی
عمر کا قہقہہ ابھرا میں نہیں ڈوبوں گا اب تو میرے ساتھ تم ہو تمھارے ہوتے ہوئے کیسے ڈوب جاو گا اچھا خیر او تم بھی میرے ساتھ”
آہ کبھی نہیں ” وہ کانپ ہی اٹھی
تم بہت ڈرپوک ہو ” وہ بوٹ کی جانب بڑھا
عمر پلیز نہیں عمر میں مر جاوں گی آپ مجھے میں بھی میری مرضی نہیں ہے مجھے مجھے اس گندے پانی میں نہیں اترنا “
وہ جلدی سے دور ہوتی بولی الٹا اس سے بھی جھجھک محسوس پو رہی تھی وہ صرف ٹروزر میں تھا وہ بھی گھٹنوں تک چڑھا رکھا تھا منہ پر ہاتھ پھیرتا پانی جھٹک کر وہ اسکے نزدیک آیا
ساز پیچھے بھاگی اور کمرے کا دروازہ بند کرتی کہ عمر نے دروازے کے بیچ اپنا بازو پھنسا لیا
عمر پلیز میں مجھے بہت ڈر لگتا ہے آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں”
وہ رو پڑی
میری جان میرے ہوتے ہوئے کیوں ڈر رہی ہو ا جاو جلدی سے دیکھو تمھیں پتہ ہے نہ ضد میرے اندر کیسے بھری ہوئی ہے ۔”
ساز لاشعوری طور پر سارے دروازے کا دباو اسکے بازو پر دیے کھڑی تھی وہ جبکہ دروازہ بند کرنے کو بے چین تھی لیکن عمر نے بازو نہیں ہٹایا
اور جب ساز پھر بھی نہ ہٹی تو کچھ کچھ ڈرامہ تو ضروری تھی
آہ آہ ” اسنے اپنا بازو نکالا
ایکدم دروازہ بند ہو گیا عمر بازو پکڑ کر بیٹھ کر بند دروازے کو دیکھنے لگا
بڑی ضدی ہو گئ تھی یہ لڑکی ۔۔۔
وہ اٹھنے لگا کہ ایک ڈری ڈری سی آواز سن کر مسکرا دیا
عمر آپکے بازو پر سچ میں لگی ہے ؟
بتائیں نہ لگی ہے یہ جھوٹ بول رہے ہیں”
عمر مجھے ڈر لگ رہا ہے
عمر ” اسنے دروازہ کھولا اسکی خاموشی سے گھبرا کر اور تبھی ۔۔۔
پکڑی گئ ” وہ بولا اور ہنسنے لگا
عمر نہیں عمر مجھے بہت ڈر لگتا ہے عمر عمر”
ساز کی چیخیں پوری بوٹ پر گونج رہی تھی لیکن اسے کوئی فرق نہیں پڑتا رہا تھا ساز کو لگ رہا تھا اس جھیل کے سارے جانور اس سے چمٹ جائیں گے اور شارک اسے کھا جائے گی وہ عمر کی گردن میں بازو ڈالے اوپر اچک رہی تھی کہ پانی سے دور ہو جائے اور باقائدہ رو الگ رہی تھی جبکہ دوسری طرف عمر ہنس رہا تھا اور ایکدم اسنے اسے پانی میں چھوڑ دیا
اور ساز کی چیخوں نے جیسے اسکے کانوں کی سماعت چھین لی تھی ایکدم وہ اس سے چمٹ گئ تھی ۔۔ پتے کیطرح کانپ رہی تھی
ساز ایک منٹ تم کھڑی تو ہو یہ زیادہ گھیری نہیں ہے یار” وہ اسے روکنے لگا جو غش کھانے لگی تھی ۔۔
اور اسکی چیخوں کو روکنے کا عمر کے پاس ایک اور آسان طریقہ یہ تھا کہ وہ اسکی آواز کی گھونٹ دے اسنے اسکے پہلے سے محبت کی شدتیں کو سہتے زخمی لبوں کو خود میں بھر لیا اور بڑی مستعدی سے وہ اسے جذبات کے رنگوں میں ڈھال کر اسکے ذہن کو اس ٹینشن سے آزاد کر رہا تھا کہ وہ پانی کے اندر ہے ۔۔
ساز کا جسم اسکی ہلکی سی قربت پر جیسے ڈھیلا پڑ گیا اور عمر ہنس دیا تھا ۔
ساز نے اسکی صورت دیکھی
اتنا تو تم رات کو نہیں چیخی” اسکے الفاظ ساز کا دماغ گھما گئے سرخ ہو گئ ۔۔ جبکہ عمر اسکے چہرے پر پھیلے قوس قزح کے رنگ دیکھ کر جیسے اپنے دل کو اسکی جانب بڑھنے سے روک نہ پایا ورافنگی سے اسے دیکھنے لگا جو اسکے سینے پر اپنے ہاتھوں کی کپکپاتی روکنے کے چکر میں تھی ۔۔ اور عمر تو جیسے اس میں کھویا ہوا تھا اور اسنے ایکدم اسے دور کیا اور جلدی سے بوٹ پر چڑھ گئ
یو ” وہ بھڑکا اور خود بھی چڑھا اور اس سے پہلے وہ کمرے میں گھس جاتے کہ عمر نے اسے اچک کر گھما دیا
دونوں بے ساختہ ہنسی دیے ۔
میں نے تمھارا ڈر ختم کیا ہے” وہ اسکے گال کھینچتا بولا ۔
ن۔۔۔۔نہیں مجھے کوئی شوق نہیں اور آپ بھی مت کیا کریں ڈوب گئے تو ” وہ فکرمندی سے بولی
میری دیہاتی بیوی ۔۔۔۔۔” وہ بے چارگی سے اسے دیکھنے لگا
عمر ” وہ منہ بسور گئ ۔۔
تو اور کیا کہو اس گھیرائی ایک پول کی گھیرائی جتنی ہے یہ مصنوعی جھیل ہے جو کہ میرے جیسے عاشقوں کے لیے بنائی گئ ہے تبھی یہ بوٹ ایک ہی جگہ چکر کاٹ رہی ہے” وہ بولا تو ساز کو کچھ حوصلہ ہوا شرمندگی سے مسکرا دی ۔
عمر ہنس دیا
بھوک لگی ہے” وہ بولا
ہممم” اسنے سر ہلایا
تمھیں کھا جاوں” وہ آگے بڑھا
آہ ن۔۔۔نہیں” وہ شرما کر دور سی ہوئی ۔
چلو ادھر او پہلے پیار کرواؤ اتنی پیاری کیوں لگ رہی ہو اور تمھاری گردم پر یہ نشان آف “
وہ بے شرمی سے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھتا بولا جبکہ وہ خود کو کہاں چھپاتی اس سے ۔۔ اسکی والہانہ نظروں سے ۔۔
آنکھیں جھپکنے لگی جبکہ عمر مے اسے اچک کر اپنی گود میں اٹھا لیا
اور اسکے ہونٹوں کو پھر سے اپنے قبضے میں کر لیا ۔۔۔
یہاں تک کے اسکی شدت اسکی طلب بڑھتی چلی گئ کہ اسنے ساز کو بوٹ کے لکڑی کے فرش پر لیٹایا اور اسکے ہونٹوں سے تو جیسے دور ہی نہیں ہونا چاہتا تھا اب وہ ۔۔۔ وہ دور ہوا ۔۔
تمھارا ذائقہ زبردست ہے” وہ آنکھ دبا گیا ۔
م۔۔مجھے بھوک لگی ہے ” وہ اہستگی سے بولی جبکہ اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ لیا عمر نے سر ہلایا اور مسکرا کر اٹھا
چلو میں تمھارے لیے کھانا بناتا ہوں “
ہم گھر نہیں جائیں گے کیا ” وہ اٹھ کر اپنا دوپٹہ درست کرتی بولی ۔
کیوں گھر جا کر کیا کرنا ہے” اسنے پوچھا
امی مجھے یاد کر رہی ہوں گی نہ” وہ شرمائ شرمائ سی بولی ۔
پہلے تم میرا دل بھر دو اچھے سے پھر اپنی امی کی یاد کا سوچنا ۔ ” وہ بولا اور گھیری نظروں کے حصار میں اسے بھر لیا ساز سر جھکا گئ ۔۔ وہ سکون سے اسکے لیے چھوٹے سے کچن میں کھانا بنانے لگا
اسنے اسکے لیے کچھ چیزیں بنائی تھیں بریڈ کے ساتھ سینڈوچ تھے اور جوس ڈال کر اسکی خدمت میں پیش کیا
جان عمر فلحال اس سے پیٹ بھرو پھر تمھیں اچھا سا کھانا بھی کھلاو گا وہ بولا تو ساز نے مسکرا کر پلیٹ تھام لی
کتنا اچھا لگ رہا تھا اسکے ساتھ اس طرح رہنا ۔۔
وہ اپنے آپ سرخ سی ہوتی ۔۔۔ آنکھیں جھپکتی کھانے لگی جبکہ وہ ٹیبل پر کہونی ٹکائے اپنی ہتھیلی پر اپنا ہی چہرہ رکھے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔ جیسے وہ اسکی زندگی میں کوئی معجزہ سا ہو ۔۔
وہ اسے ایسے دیکھ رہا تھا کہ ساز سے ایک لقمہ بھی اندر نہیں اتر رہا تھا اسنے کھانا چھوڑ دیا ۔
عمر کا قہقہہ ابھرا
اور وہ اسکے پاس آیا اسکو اٹھا کر اسکی جگہ پر بیٹھتا وہ اسے اپنی گود میں بیٹھا گیا
اسے اپنے ہاتھ سے ناشتہ کرایا تھا ۔
اور جس جس طرح پھر اسکا دل کیا اس اس طرح اسنے اپنی مرضی سے کھایا تھا ۔
ساز کا دم سا نکل گیا تھا اسکی ان بڑھتی جسارت اور قربتوں پر
یہاں تک کے اسکی گردن کے نشانوں میں مزید اضافہ ہو گیا تھا وہ تھک کر اسے دیکھنے لگی جبکہ عمر کا دل تو بھر ہی نہیں رہا تھا ۔
ایسے نہ مجھے دیکھو ۔۔۔
تمھارے جسم کے ایک ایک روئیں پر اپنا لمس چھوڑ کر میں نے تمھیں اپنا ثابت کرنا ہے ہر صورت میں ۔۔۔ سمجھی ۔
تم کیا ہو میرے لیے میں میں جانتا ہوں میری زندگی کی پہلی خوشی آخری حقیقت میرا وہ رشتہ جسے میں نے بڑے عرصے بعد پایا تم میرے لیے سب کچھ ہو ساز اس زمین اسمان کو میں تمھارے لیے ایک کر سکتا ہوں
لیکن بس ۔۔” اسنے اسکی جانب دیکھا ساز اسکی محبت پر بھی رونے کو تھی ۔۔۔
تم مجھ سے کبھی جھوٹ مت بولنا ۔۔ میرے علاوہ کسی کو مت چاہنا اپنی وفا اپنی عصمت کو میرے لیے رکھنا
عمر خیام تمھارے وجود کو تاروں سے چمکا دے گا اور ایسے ایسے انداز میں محبت کرے گا تمھیں کبھی کسی کی ضرورت نہیں پڑے گی ائی پرومیس “
عمر ” وہ حیرانگی سے اسے دیکھتی اسکے گال پر ہاتھ رکھ گئ
وہ کتنا کنفیوز تھا اسے لگتا تھا وہ اسکی ماں جیسی ہے جو اسکے باپ سے وفا نہیں کر سکی
جو اسکے باپ کی محبت سے تھک کر دوسرے مردوں کے پاس گئ ۔
تو کیا ساز بھی اسکی محبت سے تھک کر کسی اور کو تلاشے گی وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی تھی
میں ۔۔ میں عمر کی ہوں ” وہ بولی تھی ۔
مجھے آپکے علاوہ کوئی نہیں چاہیے” اہستگی سے بولتی وہ واضح کر رہی تھی کہ وہ صرف اس سے محبت کرے گی ہر وقت ہر صورت ۔
ہمم مجھے تم پر یقین ہے نہ تبھی تو تم سے دل لگایا ہے ” وہ مسکرایا ۔۔ اور اسکی پیشانی چوم لی ۔۔۔
اسے خود میں بھینچے وہ دور تک پھیلے کھلے آسمان کو دیکھ رہا تھا اسکے دل کی دھڑکنوں میں کافی شور تھا ساز کی سسکی پر وہ اسکا چہرہ اوپر کرتا دیکھتا مسکرا دیا ۔
تم کیوں دل دکھا رہی ہو بیوقوف لڑکی او تمھیں اصل انسووں سے رولاو” وہ اسے بازوں میں بھر کر اندر لے جانے لگا جبکہ وہ اسکے سینے پر مکے مار کر سے دور کرنے لگی جس کا کوئی فائدہ نہیں تھا وہ اسے بیڈ پر پھینک چکا تھا
اسنے آگے بڑھ کر مور کا پنکھ اٹھایا اور ساز کے چہرے پر پھیرا وہ مدہوشی سے جیسے کانپ ہی اٹھی چار سو عمر خیام تھا اسکے
ساز نے زور سے آنکھیں بند کر کے بے ترتیب دھڑکنوں سے اسکے لمس کو محسوس کرتے اسکو اپنا آپ دے دیا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکا بخار اتر گیا تھا لیکن موڈ بہت ہی خراب تھا
چڑچڑا ہو چکا تھا اور اس چڑچڑا پن میں سوہا کو گھنچکر بنا کر رکھ دیا تھا وہ ۔۔۔ابھی اسکے لیے سوپ لائی تھی جسے وہ سائیڈ پر رکھ گیا
تم نے پیا نہیں تمھیں اچھا نہیں لگا ” سوہا نے باول اٹھایا
وہ اسے اپنی خدمت پر تعینات دیکھ کر زیادہ چیڑ رہا تھا
سوہا نے باول میں سے سوپ کا چمچ بھرا اور اسکی جانب بڑھایا
بدر نے وہ چمچ سمیت باول بھی پھینکا اور ایکدم سوہا کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے بیڈ پر پھینکا اور اسے گھور کر دیکھنے لگا
وہ گھبرا کر اسے دیکھنے لگی
کس دن تک یہ تماشہ لگا کر رکھو گی تم ۔۔۔
۔۔ میں بس اپنے بچوں کا لحاظ کر رہا ہوں ورنہ تم مجھے ایک آنکھ بھی نہیں بھاتی۔” سختی سے بولتا وہ اسکے دل میں ایک اور زخمی دے گیا ۔
میں نے تو تمھیں کہا ہی نہیں مجھ سے محبت کرو بدر تم پریشان مت ہو ۔۔ ” کل سے اسکی کمر میں شدید درد تھا
اپنے بچوں کا خیال کر لے وہ اس بیوی کا خیال کیوں نہیں کر رہا تھا جس کو یہ بوجھ اٹھانے کے لیے دے دیا تھا ۔
وہ بمشکل اٹھی تھی
لیٹی رہو ” وہ بھڑکا
تمھاری دوائی “
اپنی اوقات میں رہو سوہا اشفاق مجھے تمھیں اپنے ساتھ نہیں رکھنا تو میرے لیے سرکس کا جوکر بننے کی ضرورت نہیں ہے” وہ بھڑکا جبکہ سوہا کی آنکھیں بھیگ گئیں اسنے سانس اندر کھینچا اور بیٹھ گئ
کچھ نہیں بولی تھی
بدر کچھ دیر اسے گھورتا رہا اور پھر منہ پھیر گیا
ایزہ کو دیکھ کر اسے عجیب ہی لگ رہا تھا وہ اتنی سے لڑکی اور شاہنواز اتنا بڑا اور وہ جیسے ہضم نہیں کر پا رہا تھا
وہ پریگنینٹ تھی شاہنواز اسپر سے کیسے نوٹ وار رہا تھا اسنے کیسے اسے اپنے سینے سے لگایا ہوا تھا
اسکا دم گھٹا اور وہ ا گیا ۔۔۔
ایسا نہیں تھا ایزہ کو دیکھ کر کوئی محبت وحدت کا احساس ہوا تھا ۔
لیکن بس کچھ تھا جو اسکو بہت چبھ رہا تھا ۔
ایزہ اس سے محبت کرتی تھی آج ایک امیر کبیر انسان کے بچے کی ماں اور اسکی بیوی بنی کھڑی تھی وہ سوہا کو دیکھتا رہا
جاو یہاں سے۔”
تمھیں کیا ہوا ہے ” وہ خود ہی سوال کر گئ
مجھے تم سب سے زیادہ بری لگ رہی ہو
اور اتنی لگ رہی ہو کہ میرا بس نہیں چل رہا کہ میں ” وہ مٹھیاں بھینچ گیا
سوہا اسے دیکھ رہی تھی اسنے سارے جذبات اندر اتار لیے
اور وہ اٹھنے لگی اور ایکدم بیٹھ گئ اسکا بی پی شاید لو ہو گیا
تھا وہ بے حس بنا بیٹھا رہا تھا وہ اٹھ کر باہر آئی اور اسے سب سے پہلا انسان اپنے سامنے نجما نظر ائی تو وہ بری طرح اسکے سینے سے لگتی رو دی اور اتنا روئی کہ نجما بھکلا ہی گئ
جہاں بیٹی کے لیے بے حد خوش تھی سوہا کو اسطرح روتے دیکھ اسکا جیسے دم سا نکلا ۔
سوہا کیا ہوا ہے بیٹا ” وہ کوئی جواب نہیں دے سکی تھی اور روئے جا رہی تھی اور پھر وہ ہٹی اور وہ پچھلے صحن میں چلی گئ
نجما کو شدید غصہ آیا تھا وہ بچی دن رات اسکے بیٹے کی خدمت میں لگا رہی تھی اور اسکے بیٹے کے نکھرے نہیں جا رہے تھے غصے سے وہ بدر کے پاس ا گئ
کیا کہا ہے تم نے سوہا کو ” وہ بھڑکیں
چلو اب اسنے شکایتی پروگرام شروع کر دیا ہے ” وہ تلخی سے بولا
بدر اب تو بس کر دو وہ تمھارے بچوں کی ماں ہے “
تو میں کیا کروں امی میرے اندر سے اسکے باپ کے لیے کبھی نفرت نہیں جائے گی نہ ہی اسکے لیے ۔۔۔ بھول گئیں اپ یہ کیا کیا کرتی رہی ہے ” وہ بھڑک اٹھا
وقت گزر گیا وہ کتنی بار میرے پاؤں میں بیٹھ کر معافی مانگ چکی ہے اب تو بھابھی کا بھی رویہ اچھا ہو گیا تم کیوں نہیں رک رہے”
میرے بلا سے بھاڑ میں جائے سب کچھ جو میرے ساتھ ہوا ہے اسے میں کبھی بھولو گا نہیں نا ممکن ہے یہ ” وہ بولا اور اٹھ گیا ۔
نجما اسے دیکھ کر باہر نکل گیا
بدر کو شدید غصہ آیا تھا وہ اسکی تلاش میں نکلا اور پورے گھر میں ڈھونڈنے کے بعد جب وہ اسے کہیں بھی نہ ملی تو وہ پچھلے صحن میں آیا وہ گھٹنوں میں منہ چھپائے بیٹھی تھی آگے بڑھ کر بے رحمی سے اسکا بازو کھینچ کر وہ اسے اندر لے ایا
اشفاق صاحب ارہم تائی جان نجما ثروت چچی چچا صنم صوفیا سب نے دیکھا تھا اسکا یہ رویہ کیسے وہ اسکے ساتھ سلوک کر رہا تھا بنا جوتی کے وہ اسکے ساتھ گھستی چلی گئ
آئے ہائے مڑ جئے تو بدر وہ تیرے ہی بچے منحوس سنبھالے ہوئے ہے اور تو ” تائی کا تو دل حلق میں آ گیا اور وہ آگے بڑھیں کہ وہ کمرے کا دروازہ بند کر چکا تھا ۔
سوہا ڈری سہمی نظروں سے اسے سیکھنے لگی
ایک اسکی محبت نے اسکا نکھرا اسکا مغرور انداز سب چھین لیا تھا وہ جیسے ذلیل ہو کر رہ گئ تھی اسکے ہاتھوں اسی شخص کے لیے تو اسنے الزام لگا دی تھا ایزہ پر ۔۔۔ وہ خود پر جتنا پشتاتی کم تھا
وہ اسے کمرے میں لے ایا اور اسکا منہ جکڑ لیا ۔
آئندہ امی کو میرے خلاف بھڑکنے کی کوشش بھی مت کرنا ورنہ تمھارے ٹکڑے کر دوں گا “
میں میں نے کسی کو بھڑکایا نہیں یے”
بس چپ ” وہ آنکھیں نکال کر اسپر چڑھ دوڑا تھا جبکہ سوہا کے الفاظ اندر ہی رہ گئے جبکہ بدر نے اسے بیڈ پر دھکیلا ۔
اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے لگا
وہ چلا سکتی تھی کہ یہ بھیک اسے نہیں چاہیے تھی وہ یہ بھیک نہ دے اسے بس وہ اسے مارے پیٹے لیکن یوں اسکے عزت نفس کی دھجیاں نہ بکھیرے
وہ صرف اپنے مقصد اور طلب پر اسے استعمال کر رہا تھا وہ کیا تھی کچھ جذبات نہیں رکھتی تھی کیا وہ دور ہوئی
بدر”
شرم کرو کیا تم منہ دیکھاو گی مولوی کی بیٹی ہو کر شوہر کے حقوق پورے نہیں کرتی ” وہ پھنکارا اسکی ٹانگ پکڑ کر کھینچی تو وہ دوبارہ بیڈ پر ا گئ ۔
بدر نہیں میری طبعیت نہیں ٹھیک میں میں سچ میں میری طبعیت نہیں “
ششش” کیا چاہیے مجھے تم سے وہی جو ایک عام شوہر کو چاہیے ہوتا ہے بس اسپر اتنی عام شکل و صورتوں کی لڑکی کا نکھرا نہیں بنتا ” اسنے اپنی شرٹ ایکطرف پھینک دی
سوہا کے گال بھر گئے تھے انسووں سے اسکی بے ساختہ ہچکیاں سی نکلیں اور وہ اپنے ہی لب دبا گئ تھی
۔۔ کہ وہ نہ روئے اسکے آگے نہ روئے وہ اس سے بہت نفرت کرتا تھا۔لیکن بے سود وہ رو پڑی تھی وہ ہار گئ تھی
مرد کے اگے عورت جلدی ہار جاتی ہے ” وہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگا اور بدر نے اسکا دوپٹہ اتار دیا
سوہا خاموش ہو گئ تھی کچھ نہیں بولی وہ جھکا اسکی گردن کے نزدیک آیا
ایک حسین سی خوشبو کے احساس نے اسے چونکا دیا وہ ایک پل کو دور ہوا وہ نظریں جھکائے بیٹھی تھی وہ پھر اسکی گردن کے نزدیک ہوا
یہ خوشبو کیسی تھی ۔
وہ اپنی ناک کو اسکی مزید نزدیک لے گیا اور رفتہ رفتہ اسنے اپنے ہونٹوں کو اسکی گردن پر چلایا ۔
کہ سوہا مٹھیاں بھینچ کر بیٹھی رہی تھی
اسنے ہلکا سا لبوں کو وا کیا اور اسکی گردن کی نازک جلد کو خود میں بھرتا وہ اسکی گردن پر ایک نشان بنانے لگا ۔
اسکے گندمی سنھری رنگ پر نیلا نشان بڑا واضح سا بنا تھا جبکہ سوہا اب بھی پتھر کی بنی ہوئی تھی
بدر نے اسکو لیٹایا اسکے بے آواز انسووں کو دیکھنے لگا
احساس ہوتا تو قدر ہوتی محبت ہوتی تو پرواہ بھی ہوتی ۔
وہ اپنی من چاہی اپنی مرضی من مانیاں کرتا وہ دور ہوا تو سوہا کی سسکیوں نے کمرے میں شور سا کر دیا بدر نے وقت دیکھا رات کے تین بج رہے تھے ۔
اسکی تکلیف سے کراہتی سسکیوں پر اسکی پیشانی پر بل پڑ گئے کیا مسلہ ہے تمھارے ساتھ” وہ چیڑ کر بولا
میری کمر ” وہ سسکی ۔
بس چپ ” وہ جھاڑ گیا تھا ۔
اور ٹیبلیٹ نکال کر اسکی کانپتی ہتھیلی پر سجا دی
اس وقت وہ دنیا کا سب سے برا مرد تھا جسے اپنی ہی بیوی سے اتنی نفرت تھی کہ وہ اسے جان سے مار بھی دیتا تب بھی چین نہ لیتا
کیسی قسمت تھی
ایک طرف سکھ کے ساتھ محبت کی وادیوں میں بھر رہے تھے آنے والے وقت سے انجان
اور ایک طرف “صبر کی حدود اب پار ہو رہیں تھیں ” ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
