Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 51

سارا دن اگلا لگ گیا تھا اسے سوئے سوئے ساز بے چینی سے پھر رہی تھی تائی جان چچی دونوں نے مل کر اسکا جینا حرام کر رکھا تھا
ہائے کیسی بے حیا بے غیرت نکلی سب کے سامنے استغفراللہ ۔۔۔، عمر نے اس میں بھی اپنی ماں والی عادات ڈال دیں ہیں ” وہ سنجیدگی سے سن رہی تھی لیکن منہ بند تھی وہ جانتی تھی عمر اٹھ کر ا گیا ان سب کی چونچیاں اپنے آپ بند ہو جائیں گی وہ تائی اور چچی سے الجھنا نہیں چاہتی تھی ۔۔
اور بالآخر اسنے ناشتہ خود ہی بنایا اور اوپر لے گئ اسکے کمرے ۔۔۔۔
آئے ہائے بھابھی جان کیسی آوارہ ہو گئ ہے ساز ایک ہاتھ میں سبحان قابو میں کر لیا اور ایک میں عمر ناز پر چلی گئ ناز کی بہو ” وہ بولی تو تائی نے بھی سر ہلایا
بس پتہ نہیں کیوں یہ بات عمر کو تکلیف دیتی تھی ۔۔۔ کہ اسکی ماں کو برا کہا جائے لیکن جب تائی چچی یہ باتیں کرتی تھیں اسے شدید دکھ ہوتا تھا وہ اسے ناز کے ساتھ تو نہ ملائیں ۔
لیکن اسکے اندر آج بھی کچھ بھی بولنے کی ہمت نہیں تھی رات والی حرکت کی وجہ سے وہ پہلے ہی کسی سے نگاہ ملا نہیں پا رہی تھی ۔
اپنے بھائی سے خاص کر ۔۔۔
وہ ناشتے پر بھی نہیں آئی تھی تائی نے کہہ دیا تھا تایا کو کہ یہ جو سامان یہ پاگل توڑ چکا ہے اس سے پیسے لے کر دیں تاکہ میں نیا سامان منگواؤ کیونکہ اسکے کمرے کی جگ مگ دیکھنے کے لیے سب ہی بے چین تھے مگر وہ تھا کمرے سے نہیں نکلتا تھا ساز اندر ائ عمر بیڈ پر سو رہا تھا ۔
اسنے دیکھا اور لیمپ کو اون کر دیا
کیا تھا سارا سارا دن ایسے ہی سویا رہتا تھا کیا عمر کوئی کام نہیں کرتا تھا اسکے پاس پیسے کہاں سے آتے تھے ۔
اچانک اسکا سیل فون بجنے لگا اور ساز ڈر گئ
اسنے کچھ دیر توقف لیا کہ وہ اٹھ جائے مگر وہ تو بلکل مدہوش تھا اور ساز کچھ جھجھکتی ہوئی آگے بڑھی سکرین پر فادر کا نیم چمکنے لگا اسے ایکدم جھٹکا سا لگا ۔
اسنے موبائل اٹھایا کیا تایا جان اسے کال کر رہے تھے ۔۔ کیا وہ تایا جان سے بھی اتنی محبت کرتا تھا ۔
عمر ” اسنے ہلکی آواز میں پکارہ لیکن وہ تو مردوں سے شرط باندھ چکا تھا کروٹ لے گیا
عمر یہ فون ” اسنے کہنا چاہا مگر وہ منہ بنا کر کمبل منہ تک لے گیا نیندوں میں اسکے گال بھی لحاف کی گرمائش سے کسی بچے کیطرح سرخ ہو رہے تھے وہ مسکرا دی ۔۔۔
معلوم نہیں اتنی محبت کیسے ہو جاتی تھی کسی انسان سے ۔
فون بند ہو گیا وہ گھیرا سانس بھر کر اٹھنے لگی کہ فون پھر سے بجا تو اسنے ہمت کر کے فون اٹھا لیا
تایا جان کو جواب تو دے نہیں سکتی تھی لیکن ۔۔۔ پھر بھی اس نے کال پک کر لی اور دوسری طرف سے آنے والی آواز پر کچھ حیرانگی تھی اسے ۔۔۔
میرے شہزادے کیسے ہو یار جب سے آئے ہو کوئ آتا پتہ نہیں ہاں بھول تو نہیں گئے اپنی ساز کے چکروں میں مجھے” اسنے موبائل کان سے ہٹایا یہ کون تھا جو اسے بھی جانتا تھا
ہیلو ” شاہنواز بولا ۔
ہیلو ” وہ شرمندہ سی ہو گئ ۔۔۔
وہ ۔۔۔ وہ سو رہے ہیں” ہلکی سی آواز میں بولی تھی ایکدم شاہنواز خاموش ہو گیا
ساز ” کچھ توقف سے بولا ۔
ج۔۔۔جی ” وہ بس اتنا ہی بولی کچھ اسکی آواز کے رعب میں بھی تو ا گئ تھی
کیسی ہو بیٹا ” وہ بولا جبکہ اسکے عمر کی ہی لڑکی اسکی بیوی تھی
ج۔۔۔جی میں ٹھیک ہوں”
عمر سے ناراض ہو سنا تھا میں نے”
وہ مجھے چھوڑ گئے تھے نہ لیکن کل رات کے بعد نہیں ہوں ” وہ بے دھیانی میں سچ اگل گئ اور اسکے بعد منہ پر ہاتھ رکھ لیا
کل رات کیا ہوا ہے ” وہ عجلت میں بولا ۔
وہ ۔۔۔ ک۔۔کچھ “
ٹیل می ” سختی سے بولا ۔ ۔
تایا جان اور عمر کا جھگڑا ہوا تھا ناز آنٹی کو لے کر تایا جان اچھے نہیں ہیں عمر کو ٹیز کرتے ہیں ” آہستگی سے بولی اور عمر جیسے نیندوں میں ہی لحاف اٹھا کر اسکی صورت تکنے لگا
اب کس کو کہانی سنا رہی تھی وہ ۔۔۔ وہ اٹھا اور اسکے ہاتھ سے موبائل اچک لیا ۔
یار آپ کو بھی چین نہیں ہے ۔۔۔ بندہ سو بھی جاتا ہے کبھی کبھی”
میری جان تم سونے کے علاوہ کیا کام کرتے ہو ” ساز کو آواز آئی تھی اسکے انداز میں بے شمار محبت تھی ۔
ہاں وہ میں تھک جاتا ہوں” وہ بالوں میں ہاتھ پھیر گیا ۔
اس سے بات کرتے ساز کا دھیان نہیں رہا وہ کھڑی تھی اسکے پاس ۔
اچھا تم تھک جاتے ہو ۔۔۔ چلو پھر اور ریسٹ کر لیا کرو “
اچھا اب مجھ پر طنز نہ ماریں” وہ بولا ۔
میری مجال ہے خیر تم ٹھیک ہو “
ہاں جی ٹھیک ہوں ۔
ہممممم کسی چیز کی ضرورت “
نہیں ۔۔۔۔ بس وہ برونڈی آرڈر کی تھی اب تک نہیں ائ “
ا جائے گی فکر نہ کرو ” ساز کا منہ بن گیا
روکا کیوں نہیں تھا کہ شراب پینا تو اچھی بات نہیں ایسا لگا وہ کوئی بوتل کا جن ہو جو اسکے ہر حکم پر جی ہاں کہے گا
تھینکیو “
شادی کی شاپینگ کب کرنی ہے “
ام ہاں کرتے ہیں یہ محترمہ بتائیں گی وہ تو ” ساز مڑ کر جانے لگی ۔
ارے تم کہاں جا رہی ہو “
کر لیں آپ بات جن سے کر رہے ہیں جن کی آپ جان ہے “
بس جلا دیا آپ نے میری بیوی کو ” موبائل پھینک کر وہ اٹھا
یار وہ مرد ہیں ” ساز سنے بنا باہر نکل گئ وہ دروازہ کھول کر اسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔
ناشتہ رکھا ہے کر لیجیے گا ورنہ آپکی جان ہیں انکے پاس جائیں ” وہ ہلکی آواز میں کہہ کر نیچے اتر گئ جبکہ عمر بالوں میں ہاتھ پھیر گیا
اور ناراض ہو گئ ” وہ منہ بنا کر بولا
سوری ” شاہنواز ہنسا دیا اور آگے سے عمر کچھ بولتا کہ شاہنواز کے کان سے موبائل چھین کر ایزہ نے فون بند کر دیا ۔
شاہنواز نے اسکی جانب دیکھا اب یہ باتیں نئی نہیں تھیں اسنے منہ بنائے اس لڑکی کو اپنے سامنے ٹیبل پر بیٹھا لیا
جی فرمائیے اب کیا ہے “
شاہ مجھے بھی گاڑی لینی ہے سب اپنی بیویوں کو گاڑی لے کر دیتے ہیں میں نے ٹک ٹاک پر دیکھا تھا “
تمھیں گاڑی چلانے آتی ہے” اسنے سوال کیا
ام نہیں” وہ بولی جبکہ شاہنواز نے اسے کھڑا کیا ۔
او پہلے گاڑی چلانا سیکھ لو پھر تمھیں گاڑی دلواو گا
سچی” وہ چلا اٹھی
ایزی ایزی ۔۔۔ ” اسنے اسکے گال کھینچے اور وہ جلدی جلدی آگے چلنے لگی کہ شاہنواز نے اسے بازوں میں بھر لیا
دادی جان گھر پر نہیں تھیں وہ عائشہ کو لینے خود گئ تھیں کیونکہ شاہنواز انکے بقول اپنے کاموں اور اپنی بیوی میں لگا ہوا ہے اسنے معذرت بھی کہ مگر وہ خود چلی گئیں
ایزہ اسکے جان لٹانے والے انداز پر پھولے نہ سماتی تھی
اسے بازوں میں اٹھا کر وہ پورچ تک لایا تھا اور پہلے روز سے اسے کسی گارڈ اور کسی کی پرواہ نہیں تھی ۔
ایزہ ڈور کھولنے کے لیے آگے بڑھی کے شاہنواز گاڑی میں پہلے سوار ہوا اور اسے اپنی گود میں بیٹھنے کی دعوت دی” وہ شرمندہ سی زمیر کو اور باقی گارڈز کو دیکھنے لگی
کم اون ” وہ اسے اپنا ہاتھ دے گیا جسے تھام کر وہ اوپر چڑھی اور شاہنواز کی گود میں جھجھکتے ہوئے بیٹھ گئ جبکہ ۔۔ ایزہ شرمندہ سی تھی زمیر نے ڈور کلوز کر دیا
شاہنواز نے اسے اپنے ساتھ ہی بیٹھایا گاڑی آٹو میٹک تھی لوکیشن سیٹ کرنی تھی بس جو وہ بیٹھنے کے بعد پہلی فرصت میں کر چکا تھا اب ایزہ اس گاڑی کو کھلونے کی طرح ٹریٹ کرتی یہ کچھ بھی کر لیتی گاڑی اپنی جگہ پر خود پہنچ جاتی اور اسے کہتا کہ وہ ڈرائیو کر رہی ہے
چلاؤ ” م۔۔مگر مجھے چلانا نہیں آتا
لو چل بھی پڑی اس میں مشکل کیا ہے “
وہ بولا جبکہ ایزہ کی گردن سے دوپٹہ ہلکا سا سرکایا
شاہ میں گاڑی چلا رہی ہوں” ایزہ جھنجھلائ
ہمممم چلاؤ لیکن میں تو فارغ ہوں نہ ” وہ بول اور اسکی گردن پر جھک کر اسنے ایزہ کی نازک نرمائی سے بھرپور گردن کو اپنے لبوں سے ہی سرخ نشان سے نواز دیا وہ اس نشان پر انگلی چلانے لگا
ایزہ کو لگا اسکی آنکھیں بند ہو جائیں گی ۔۔۔
وہ منہ بنانے لگی شاہنواز مسکرایا اور عین اس نشان کے ساتھ ایک اور نشان بنایا تھا
ہمارا ایکسیڈنٹ ہو ۔۔ہو جائے گا ” وہ بولی تھی
ہونے دو ” اسنے نارمل کہا ۔
آپ اپ اس لیے لائیں ہیں مجھے “
ہمممم گھر میں کہاں ہاتھ لگتی ہو یہاں بھاگ نہیں سکتی تم” وہ اسکی گردن پر پیار کرتا اسکا چہرہ اپنے شولڈر پر پیچھے کیطرف کر کے اسکی آنکھوں پر ہاتھ دھرتا اسکی گردن پر پوری طرح جھک آیا ۔
اور اسکی دیوانگی کی آواز گاڑی میں بھی گونجنے لگی تھی ایزہ ایکدم کراہی وہ دور ہوا
مسٹر شاہ گاڑی آٹو میٹک ہے اپکا بے بی نہیں ” وہ کھلکھلا دی
شاہنواز اپنی مسکراہٹ ہونٹوں میں دبا گیا
بہت چلاکو ہو ” وہ ہنسا اور اسکے گال چومتا اسے سیدھا کر گیا ۔
اور اسکے بعد آٹومیٹک سے گاڑی ہٹا کر اسکو گاڑی سیکھنے لگا تھا لیکن یہ بات مان لینا اسکے لیے آسان ہو گیا کہ یہ لڑکی نہایت نکمی ہے تبھی پڑھنے کی کوشش بھی نہیں کرتی “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سارا سارا دن سٹور میں بیٹھے گزر جاتا تھا اب تو اسکی ماں بھی توجہ نہیں دیتی تھی یوں لگتا تھا ۔۔۔ محبتیں ایک ساتھ ہی دم توڑ گئیں ۔
نجما اور ساز بھی سارا سارا دن کاموں میں لگی رہتی کوئی اسکے پاس نہیں آتا تھا ۔
وہ بھی تنہائی میں اترتی جا رہی تھی اسنے اپنے پاوں دیکھے ۔
میں اتنی کالی کیوں ہوں ” حالانکہ ایسا نہیں تھا اسکا رنگ سنہری تھا لیکن وہ کمپلیکس میں اترتی جا رہی تھی بار بار اپنے ہاتھوں اور پاوں کو دیکھتی اور انپر کپڑا ڈال دیتی ۔۔۔
اچانک دروازہ کھلا اور عمر کو اپنے سامنے دیکھ وہ حیرانگی سے اٹھی ۔
ہائے ” وہ اندر ا گیا تم یہاں “
ہاں میں مجھے لگا تمھیں یہ جگہ پسند ہے تو خیر بھی دیکھ لوں کیا ہے یہاں ایسا کیا کہیں تمھارے بدر کی لاش واش تو نہیں چھپی ہوئ
اللّٰہ نہ کرے کیسی باتیں کر رہے ہو ” اسے خود لگا وہ برسوں بعد بولی ہو ۔
ایک تو تم عورتوں کی سمجھ نہیں آتی یوں چٹکیوں میں سر پر چڑھتی ہو اور چٹکیوں میں سر پر مرد کو چڑھا لیتی ہو
خیر یہاں کیوں رہتی ہو تم ” اسنے سٹور کا سامان الٹنا شروع کر دیا
عمر یہ میرا بستر ہے ” سوہا ناراضگی سے بولی
ہاں دیکھ رہا ہے شاہی محل ہے ” وہ الٹ پلٹ کرتا جا رہا تھا ۔۔۔ اسکے بستر پر سامان پھینک رہا تھا ۔
سوہا کو بے ساختہ رونا ا گیا اسکا دل بہت کمزور ہو رہا تھا ۔
وہ مڑا اور اسکی جانب دیکھا جو منہ پر ہاتھ رکھے رونے لگی تھی
تمھارے باپ بھائی کو علم نہیں تم یہاں سوتی ہو “
سب کو پتہ ہے لیکن ۔۔۔ جو بے حسی مجھ میں تھی وہ سب نے اختیار کر لی ہے “
تم نے کیا کیا تھا ان سب کے ساتھ ” وہ اسکے نزدیک آ گئ
ت۔۔۔تمھاری ساز کے پاوں میں نے جلائے تھے ” عمر نے سنجیدگی سے اسے دیکھا ۔
آئندہ احتیاط کرنا ” بس اتنا ہی بولا تھا وہ ۔۔۔ سوہا نے آنسو صاف کر کے سر ہلایا ۔
تم انسانوں کیطرح رہو یہ کیا دوپٹہ سے منہ چھپاتی ہو “
تم میرے پاس کیوں آتے ہو “
اچھا سوال ہے ایکچلی پتہ ہے کیا جس سے میرا باپ نفرت کرے مجھے خود ہی اس سے محبت ہو جاتی ہے “
میں تمھاری سوتیلی بہن ہوں “
تو “
میرے سگوں کو بھی میری خبر نہیں تو کیوں میرے پاس آئے ہو “
بات سنو میں اتنا ایڈوانس نہیں ہو سوال کم کرو مجھ سے ۔۔ مجھے غصہ آیا لڑو گا بھی
اور جہاں لگے گا کچھ غلط ہے تو منہ بھی توڑ دوں گا تو اتنے سوال نہ کرو ۔
خیر ۔۔ چلو میرے ساتھ “
کہاں
اوو یار میری شادی ہے بھئ ” وہ جھنجھلا گیا ۔
تو اپنی بیوی کو لے کر جاو جسے چھوڑ گئے تھے ” عمر نے سینے پر ہاتھ باندھ لیے
میں کہیں نہیں جانا چاہتی تھی ۔۔ ” وہ اداسی سے بولی ۔
تھپڑ لگا کر لے جاو یہ ایسے ہی چلو گی “
کہاں “
جہاں لے جا رہا ہوں چپ چاپ چلو “
لیکن عمر ” اسنے روکنا چاہا ۔
اور عمر ہاتھ پکڑ کر اسے وہاں سے باہر لے گیا تائی جان سمیت چچی اور ساز اور نجما کو بھی جھٹکا لگا تھا
آوے آدھی رات کو میری بچی کو کہاں لے جا رہا ہے او کمبخت منحوس کہاں نکل رہا ہے ” وہ اسے گاڑی میں بیٹھا کر گاڑی باہر نکل گیا جبکہ بدر اسی وقت اندر داخل ہوا تھا
عمر خیام ساتھ سوہا کو دیکھ کر پیشانی پر بل پڑے اور عمر اسکے پہلو سے لے کر نکل گیا
کچل دوں تمھارے شوہر کو ” پنگے اسکے رکنے نہیں تھے
کیا ہے عمر پہلے ہی مجھے ڈر لگ رہا ہے “
اس پھٹیچر سے ” وہ سر جھٹکا
تم بتاو گے کہاں لے جا رہے ہو سب کو ہارٹ اٹیک دلوا دیا ہے تم نے “
پتہ ہے کیا نہ یہ میرا شوق ہے میں اپنے باپ کو چین سے بیٹھنے نہیں دے سکتا “
تو تم کیا کرنے والے ہو “
رک جاو ” وہ مسکرا دیا سوہا کو کچھ سمجھ نہیں آیا
پلیز مجھے بتاو گے”
بات سنو بہن ہو تم میری بھگا کر لے کر نہیں جا رہا صبر سے بیٹھی رہو ” معلوم نہیں وہ دھیانی میں بولا تھا یہ واقعی مان رہا تھا اسکی بات ۔
اسکا دل ایکدم جیسے بھر سا گیا آنکھ میں نمی ا گئ عمر ڈرائیو کر رہا تھا ۔۔
تمھاری گاڑی اچھی ہے “
تمھیں چاہیے ” وہ نارمل تھا
تم دے دو گے ” وہ مسکرائی ۔
ہاں اس میں کیا بڑی بات ہے یہ لو “
ابو کو جلانا چاہتے ہو نہ ” سوہا سمجھ گئ تھی جبکہ عمر نے نفی کی
نہیں گاڑی چھوٹی چیز ہے فکر نہ کرو دل سے دے رہا ہوں ہماری دوستی پر تحفہ “
ہم دوست ہیں ” وہ سوال کر رہی تھی حیرانگی سے ۔۔
ہاں سوتیلی بہن سننے میں ہی ذرا مزاہ نہیں دے رہا نہ عمر خیام کی دوستی ۔۔ بھی قیمتی ہے ” وہ آنکھ دبا گیا ۔
ہممم قیمتی ہے کیونکہ تم خوبصورت ہو بدر بھی قیمتی ہے وہ بھی خوبصورت ہے دنیا میں خوبصورت لوگ قیمتی ہوتے ہیں ” اسنے مدھم آواز میں کہا جبکہ عمر نے ماتھے پر بل ڈال کر اسے دیکھا
کیا مطلب تمھیں یہ کس نے کہا سب اپنی شکل آپ ہوتے ہیں “
نہیں صرف خوبصورت ولیو رکھتے ہیں “
نہیں ایسا تو کچھ نہیں ” وہ رک گیا جیسے اسے سمجھ ا گئ ہو ۔۔۔۔۔
خوبصورتی پیسے سے ہے “
نہیں چہرے بھی خوبصورت ہونے چاہیے ” وہ ہنس دیا تمھارے باپ نے اس خوبصورت چہرے پر اپنے جوتے مارے ہوئے ہیں وہ بھی اتنے اتنے کہ شاید ہی کوئی سوچ سکے تو خوبصورت چہرے کچھ نہیں ہیں جیب میں پیسہ ہو گا آپ دنیا کے سب سے خوبصورت انسان ہو “
اسنے کہا تو ۔۔ سوہا اسے دیکھتی رہ گئ اسنے سر جھٹکا ۔
چلو او ۔۔ پھر ساز کی شاپینگ بعد میں کریں گے پہلے بدر کے دل پر مارتے ہیں خنجر لیکن ” اسنے گاڑی روکی ۔
نہیں مجھے نہیں مارنا “
اوہ شیٹ اپ یار ” وہ بدمزاہ ہوا اور پھر آہستہ آہستہ اسکے کان میں کچھ نہ کچھ بتانے لگا گیا ۔
سوہا کو ہنسی ا گئ بے ساختہ ایسے کوئی خوبصورت نہیں ہو جاتا
تم باہر نکلو گاڑی سے ۔۔۔۔
تم کیوں کر رہے ہو یہ سب “
دل کر رہا ہے ۔۔ اللّٰہ کی راہ میں خرچ کرنے کا ” وہ بولا جبکہ سوہا نے گھور کر دیکھا
اور عمر کا قہقہہ ابھرا ۔
بہت بدتمیز ہو “
ہاں ۔ ۔ ‘اسنے کہا اور گاڑی سے اترا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سوہا کو کہاں لے گیا تھا بدر کے اندر جیسے اگ سی بھر گئ وہ سمجھتا کیا تھا خود کو جو دل میں آئے کرے گا ایسا کیسے ممکن تھا سوہا گئ کیوں اسکے ساتھ ۔
وہ غصے سے ادھر ادھر چکر لگانے لگا
تمھیں پتہ ہے کہاں لے کر گیا ہے تمھارا شوہر”
نہیں مجھے نہیں پتہ”
وہ خود جلی ہوئی بیٹھی تھی پتہ نہیں کیوں جل گئ تھی حالانکہ کوئی جلنے والی بات تو نہیں تھی ۔
سب کو پتہ تھا بہن ہے وہ اسکی اور اسکو بھی دیکھو منہ اٹھا کر نکل گئ
پوچھا تھا اسنے مجھ سے جو چلی گئ
معلوم نہیں کہاں لے گیا ہو گا ” وہ فکرمند سا بیٹھا گیا
بھائ آپ مجھے بھی ڈرا رہے ہیں” وہ منمنائی ۔۔
تمھارا شوہر ہے ہی اوارہ ” وہ سر جھٹک کر بولا ۔
جی نہیں وہ کسی کام سے گئے ہوں مگے”
آج سے پہلے تو نہ پڑا اسے ایسا کوئی کام ۔۔۔
وہ دیکھو ا گئے”
کہاں گئ تھی تم اس کے ساتھ مجھ سے پوچھا تھا یہ کون سا طریقہ ہے گھر سے نکلنے کا “
وہ سب کے سامنے سوہا پر بھڑکا عمر صاحب سکون سے ائسکریم کھانے لگے تھے
اور ساز جو ناراضگی سے اسے دیکھ رہی تھی اسے بھی آفر کی لیکن اتنے بیہودہ طریقے سے کہ وہ پانی پانی ہو گئ اسنے ائسکریم زبان پر لگا کر اسے زبان دیکھائی اور ونک کی جبکہ وہ تو شرمندہ رہ گئ ۔
جبکہ وہ ہنس کر ۔۔ بدر کو دیکھنے لگا
سوہا نے عمر کی جانب دیکھا ایک سانس بھرا اور بدر کی طرف دیکھا
اپنے بھائی کے ساتھ گئ تھی کس بات پر بھڑک رہے ہو ” وہ سکون سے بولی
وہ آج بڑا تمھیں یہ بھائی لگ رہا ہے ” وہ اسکا بازو سختی سے جکڑ گیا ۔
تائ بھی ا گئ ۔۔تھی وہ آگے بڑھتی کہ عمر کے بولنے پر رک گئیں
تم برساتی مینڈک اتنا ہوا میں نہ اڑو ۔۔۔ بس بہت ہے جتنا کر چکے ہو سمجھے اپنے اندر کی ہوا کسی اور پر مارنا عمر خیام پر یہ اسپر آئندہ حکم نہ چلانا کیونکہ جو تم ہو اسکے پیچھے کون ہے یہ تم بہتر جانتے ہو ہے بیوی کے بھی ہو تبھی اتنی بھی عزت دے رہا ہوں سمجھے “
اسکی آنکھوں میں دیکھتا وہ بولا بدر کا جیسے خون کھول گیا

۔