Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 46

نائیٹ کلب میں نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کا شور ہنسی مذاق قہقہے اور نازیبا حرکات سب جاری اور ساری تھی تھائی لینڈ کے سب سے مہنگے کلب میں اس وقت وہ اتنے شور گل میں ایک خالی ٹیبل پر بیٹھ تھا
چار ماہ سے وہ تھائی لینڈ میں تھا اور چار مہینے میں اسکی کوئی ایکٹیویٹی نہیں رہی یہ تو وہ ہوٹل میں ہوتا یہ پھر خالی شراب ہی اندر اتارتا رہتا
چھوڑ تو آیا تھا لیکن ساز اسکے اعصابوں پر سوار تھی چلو مان لیتے ہیں محبت ہو گئ تھی اور ان چار مہینوں میں وہ مان گیا تھا وہ جس طرح اسے اپنے اردگرد دیکھتی تھی جس طرح ہر لڑکی ہر انسان یہاں تک کے اسکا دوست سعود جو کہ اسی کی وجہ سے یہاں ایا تھا وہ بھی اسکی خاموشی پر حیران تھا
اوو بھائی اٹھ یار وہ دیکھ ” سعود نے اسے جھنجھوڑا جس کی آنکھیں سرخ ہو رہیں تھیں
پھر زیادہ پی لی تو نے” سعود نے سر پکڑ لیا
کیا دیکھا رہا ہے” وہ نارمل بولا کیونکہ وہ نارمل تھا
وہ دیکھ” وہ ایک لڑکی کیطرف اشارہ کرتا بولا
منی سکرٹ اور بلاؤز میں کافی خوبصورت تھی عمر تھا اس لڑکی کے نزدیک گیا ۔
اور اسکی کمر میں ہاتھ ڈال لیا وہ ساز کو کچھ زیادہ ہی سوار کر چکا تھا وہ جب اسے خود اتار کر پھینکے گا تب ہی کچھ ٹھیک ہو گا اسنے اس لڑکی کا چہرہ اپنی جانب موڑا
وہ لڑکی عمر کے آگے تھرکنے لگی اسکی گردن میں بازو ڈالے لیے اور عمر اسکے چہرے پر جھکنے لگا
سعود نے خوشی سے نعرے لگا دیے سب لوگ متوجہ ہوئے اور شور شرابہ ملنے لگا وہ لڑکیاں جو کہ اسپر ٹرائے کر رہی تھی جیلس سی ہو گئیں جب کہ وہ لڑکی جس کی کمر میں عمر ہاتھ ڈالے کھڑا تھا ۔ خوشی سے پچھلے نہ سمائی اور عمر خیام اسکے ہونٹوں پر جھکتا ہی سعود نے اسکے اوپر شراب کی بوتل پورے پریشر سے اچھال دی ۔
وہ لڑکی بھی بھیگ گئ اور عمر کا چہرہ خود ہی پکڑ کر وہ اسکے ہونٹوں کی طرف لمہوں میں بڑھی کہ وہ اکتایا ہوا سا اسکے ہونٹوں کو دور کر گیا اور باہر نکل آیا
بالوں میں ہاتھ پھیرا
اور سر پکڑ گیا یہ سب کیا تھا کیوں وہ آگے بڑھ نہیں پا رہا تھا کیوں وقت ساز پر رک گیا تھا
او تو پاگل ہے ” سعود چیخا
ہاں “
تو اسکی بے عزتی کر کے ا گیا یار بہت غلط بات ہے” وہ اسکے مکہ مارا گیا جبکہ عمر نے سر جھٹکا اور گاڑی کی طرف بڑھا
چل ٹھیک ہے اب مان لیتے اس سے محبت ہو گئ ہے “
سعود چار مہینے میں جیسے تنگ ا گیا تھا خود ہی اسکے پیچھے پڑ گیا ۔
مجھے نہیں ہے ” وہ کمزور سا بولا جیسے اس بات میں دم نہ ہو
اوو بس کر آیا بڑا تو محبت کرتا ہے تو میرے بھائی گھبرانے کی بات کیا ہے تیری ملکیت ہے سالے تو کیوں ڈر رہا ہے” سعود مسکرایا
ڈر نہیں رہا ۔۔۔۔
ڈر رہا ہے تجھے لگ رہا ہے ہر عورت ایک جیسی ہے”
وہ جانتا تھا وہ اپنی ماں کو لے کر حساس ہے تبھی معنی خیزی سے بولا عمر نے اسے دیکھ سرخ نظروں سے دیکھا سعود ہاتھ اٹھا گیا بات صاف ہے بھلے بری لگے تب بھی ۔۔۔
تو بس ایک ہی ٹریک کا سوچ رہا ہے یہ کیوں نہیں سوچتا جس لڑکی کو چھوڑ کر آیا ہے اسکے ساتھ تیرے باپ نے اور سوتیلی ماں نے کیا کیا ہو گا “
طعنے دیے ہوں گے روئی ہو گی بہت ” وہ سامنے درختوں کو دیکھنے لگا سب پتہ ہے پھر بھی جان بوجھ کر حرکات کر رہا ہے بیوقوف” وہ بولا جبکہ عمر نے سر ہلایا ۔
چھوڑ اس موضوع کو میں پلٹ نہیں سکتا ” وہ گھیرہ سانس بھر گیا
اور سعود نے ذرا چیڑ کر دیکھا
چل چلیں” وہ کلب کے اندر جانے کا کہنے لگا
ضرورت نہیں ہے بور کر کے رکھ دیا ہے ” وہ سر جھٹک کر بولا اور خود اندر چلا گیا جبکہ عمر گاڑی میں بیٹھ گیا ۔
دل تھا کہ بس اسکے علاؤہ کچھ دیکھنے کا خواہش مند نہیں تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امی میں نے ساز کا رشتہ کر دیا ہے ” بدر کے اچانک کہنے پر ساز نے ماں کی گود سے سر اٹھایا
حیرانگی سے آنکھیں کھولے اسے دیکھنے لگی
سبحان سے وہ خلع کے پیپرز خود تیار کرا رہا ہے اور اج رات ہی پیپرز آ جائیں گے صرف سگنیچر کرنے ہیں ” وہ بولا تو ساز سے نگاہ نہیں ملا پا رہا تھا ۔
بدر” نجما کچھ توقف لے کر بولی
امی ساری زندگی اس شرابی کے نام پر نہیں بیٹھاؤ گا میں ساز کو “
وہ سیدھا بولا تھا
دل میں کچھ چبھا تو تھا لیکن پھر وہ کھڑی ہو کر چلی گئ
آپ پلیز اسے سمجھائیں گا ” بدر نے ماں کا ہاتھ پکڑا ۔
تم بس سوہا کو کمرے میں لے جاؤ وہ بچی تمھارے لیے سٹور میں رہ رہی ہے “
ڈرامے کر رہی ہے فکر نہ کریں ” وہ بولا اور اٹھ گیا ۔
بہت ہی بے رخی اختیار کر لی ہے بدر تم نے” وہ غصہ ہوئی
جیسے کو تیسا ” وہ کہہ کر چلا گیا جبکہ ساز کے لیے شام تک کا انتظار بہت مشکل تھا وہ چاہتی تھی شام آئے ہی نہ اور عجلت میں سوہا کے پاس گئ
بھابھی ” وہ سوہا کو رشتے سے پکارنے لگ گئ تھی ۔
ہممم ” سوہا ابھی شاور لے کر آئی تھی بھائی خلع کے پیپرز منگا رہے ہیں اور سبحان سے شادی کرا رہے ہیں” وہ سر جھکا کر بولی ۔
سوہا نے اسکی صورت دیکھی
یہ تو تمھارا بھائی بہت ہوا میں ہے میں اسکا دماغ درست کرتی ہوں “
وہ تن فن کرتی سیدھا کمرے میں پہنچ گئ ساز پریشان سی ہو گئ دونوں کی لڑائی نہ ہو جائے جبکہ سوہا نے دروازہ بند کر لیا اور بدر نے مڑ کر دیکھا ہفتے بعد آئی تھی وہ کمرے میں ۔
تم سمجھتے کیا ہو خود کو “
تمھارا شوہر “
شیٹ اپ ” وہ بھڑکی
یو شیٹ اپ ” وہ بھی گھورنے لگا ۔
ایک نمبر کے کمینے انسان ہو تم کیوں تم دوسروں کے دلوں سے کھیل رہے ہو “
واہ درس بھی وہ دے رہے ہیں جو منافقت کی حد کر چکے ہیں” بدر طنزیہ ہنسا
اگر کوئی سرھرنا چاہتا ہے تو اسے زیچ نہیں کرنا چاہیے ” وہ اہستگی سے بولی
سدھرتے وہ لوگ ہیں جو واقعی سدھرنا چاہتے ہوں تمھارے جیسے مطلبی نہیں جو صرف مجھے اپنی اچھائ دیکھانا چاہتے ہیں تو تم پوری دنیا کو الو بناؤ مجھ پر اثر نہیں ہو گا “
ایکسپوز می مسٹر بدر زمان ” اچانک ہی وہ اسکا گریبان پکڑ گئ بدر نے اسکا ہاتھ دیکھا اور پھر غصے سے بھری آنکھیں ۔۔۔
مجھے بلکل شوق نہیں ہے تم پر جادو چلاؤ بلکہ اس گھر کے ہر مرد سے مجھے نفرت ہو گئ ہے اس میں تم بھی شامل ہو “
اچھا واقعی ” وہ سکون سے بولا جیسے کہہ رہا ہو کہ ذرا شکل دیکھاؤ ایسا ہے بھی”
جی ہاں” وہ ذرا نگاہ چرا گئ
تمھیں دیکھانے کو کچھ نہیں کر رہی سمجھے اور مجھ سے نہ الجھا کیوں ساز کے خلع کے پیپرز بنوائے ہیں تم نے ” وہ اسکا ہاتھ جھٹکتا بیڈ پر بیٹھ گیا
تو کیا ساری زندگی تمھارے بھائی کے نام پر بیٹھا دوں اسے ۔۔۔۔
لیکن وہ اب بھی آ سکتا ہے ۔۔۔
بھی اس بھی کے لیے اپنی بہن کی زندگی تباہ نہیں کروں گا میں تو بہتر ہے تم اس معاملے سے دور رہو ۔۔۔۔
لیکن وہ عمر سے محبت کرتی ہے ۔۔۔۔
ہماری زندگیوں میں محبت کا کوئی کام نہیں ہے کسی کو کسی سے محبت کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ سب دوسرے کی اصلیت سے واقف ہیں سمھجہ ا گئ تو جو میں کر رہا ہوں کرنے دو مجھے”
لیکن ” بدر نے اسکی جانب دیکھا
ٹھیک ہے شاید تم ٹھیک ہو ” وہ ہار مانتی بیٹھ گئ
اسکی شرٹ گیلی تھی بدر نے اسکی بھیگی کمر پھر اوپر بندھے بال اور دوپٹے کے بنا دیکھا یعنی وہ سارے گھر میں یوں ہی گھوم رہی تھی ۔
یہ کون سا طریقہ ہے گھر میں گھومنے کا ” وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اختلاف کر گیا ۔۔۔۔۔
کیوں کیا ہے اب اور ویسے بھی میں کیوں آئی ہوں تمھارے کمرے میں یہ تو بادشاہ اکبر کا کمرہ ہے ” وہ فورا کھڑی ہو گئ
اکبر کی کنیز کبھی کبھی ا سکتی ہے ” وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولا جبکہ سوہا کو تو زور سے چبھے کنیز بنا رہا تھا
کسی اور کو بناؤ اپنی کنیز ” وہ گھور کر کہتی جانے لگی
پھر تمھارے اندر چڑیل ا جاتی ہے ” وہ ایکدم اسکا ٹاور کھینچ گیا بال سارے کھلتے الجھے الجھے سے اسکی کمر پر پھیل گئے اور وہ اسکی جانب دیکھنے لگی
کیا مسلہ ہے تمھارے ساتھ ” وہ اپنا تولیہ لینے کو آگے بڑھی
محسوس تو تمھیں ہو رہا ہے پھر اترا کیوں رہی ہو “
مجھے اس کمرے سے نکال چکے ہو سمجھے اب مجھ پر حکم نہ جماؤ دو میرا تولیہ ” وہ اس سے لینے کو جھکی ۔
ہمممم ” وہ تولیہ صوفے پر پھینکتا اسے لکڑی کی الماری سے لگا گیا
اہ میری کمر ” ہینڈل اسکی کمر پر لگا تھا جبکہ بدر نے پوزیشن چینج نہیں کی ۔۔۔۔
یہ تم دیکھنے لائق ہوتی جا رہی ہو یہ پہلے بھی تھی ” وہ اسکا سنہری چہرہ دیکھنے لگا سوہا چپ ہو گئ ۔
چھوڑو مجھے تمھارے مقابلے کی نہیں ہوں” وہ غصے سے بولی
چلو خیر ہے لائیٹ بند کر کے کر لیں گے لائیٹ بند ہونے کے بعد تو ہر عورت ایک جیسی ہے بھلے خوبصورت ہو یہ نہیں” وہ اسے ٹیز کر رہا تھا ۔
محبت کرنے والی عورت کا مقابلہ کسی وحشت سے نہیں کر سکتے سمجھے اور آئندہ مجھے ہاتھ لگایا تو ہاتھ توڑ دو گی ” وہ آگ بگولہ ہوتی اسے دور دھکیل کر اسے شرمندہ کر گئ تھی جبکہ باہر نکلتے اسنے تولیہ بھی اٹھا لیا ۔
بدر نے گھیرہ سانس کھینچا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیار ہو کر وہ سعود کے ساتھ باہر جانے کے لیے نکل ہی رہا تھا کہ اسکا سیل فون بجا اور فون پر اسنے دیکھا تو ایکدم اسکی آنکھیں پھیلیں اور پھر سکڑ گئ
اگر تم نے سائین نہ کیا تو عدالت کی طرف سے مزید ایک مہینے بعد تم دونوں کی طلاق ہو جائے گی تو بہتر ہے سائین کر کے میری بہن کو آزاد کرو
ایک مسیج میں یہ تھا جبکہ دوسرے میں ساز کے ساتھ سبحان کی تصویر تھی جس پر لکھا تھا
یہ سبحان ہے تم سے بہت بہتر اور بہت چاہنے والا۔۔۔۔
عمر نے ایک سانس کھینچا اور اسے دوبارہ ہوا میں چھوڑا جیسے بھول گیا
دانت پر دانٹ جما لیے وہ سر ہلانے لگا ۔
اسنے کال ملائی ۔
ہممم پاکستان جانے والی پہلی فلائیٹ کی ٹکٹ چاہیے “
اوکے جلد از جلد ” کہہ کر اسنے فون بند کیا اور مڑ کر پیکنگ کرنے لگا
کیا ہوا ” سعود اندر ا گیا
کچھ نہیں ساز کی شادی کر رہے ہیں” وہ سنجیدگی سے بولا
اور تو اب ہیرو کیطرح جائے گا اور کہے گا نہیں یہ میری ہے اور پھر وہ لڑکی تجھے لگتا ہے تیرے سینے سے ا لگے گی
عمر ۔۔ کہاں تھے تم مجھ پر میرا بھائی ظلم کر رہا تھا ” وہ بولا اور ہنسنے لگا جبکہ عمر نے اپنا بیگ بند کر کے سنجیدگی سے اسے دیکھا
تیری مریم کا نکاح کسی اور سے کرو گا پہلے جا کر پاکستان ۔۔۔۔۔
اوو ہیلو مریم صرف میری ہے” سعود گھور کر بولا
عمر نے سر جھٹکا اور ائیرپورٹ کے لیے نکل گیا
یار اب تھائی لینڈ آئے ہی تھے آخری بار چلتے ہیں نہ وہاں ” سعود بولا
شیٹ اپ” وہ گاڑی میں سوار ہو گیا
اس بار واقعی تو مولوی کا بیٹا لگا ہے
گاڑی سے باہر پھینک دو گا منہ بند کر ” وہ بھڑکا یہ پہچان اسکے لیے خوشی کا باعث کسی دن نہیں تھی وہ گاڑی ائیر پورٹ کی جانب ڈال گیا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیلو ساز کیسی ہو ” سبحان مسکرایا ۔
ٹھیک ہوں ” وہ بھی ہلکا سا مسکرائی
پیپرز بھیج دیے ہیں ” اسنے کہا تو وہ سر ہلا گئ
سارے آنسو اندر دبا کر مسکرا دی کیونکہ بدر سمیت امی اور اب تو سوہا نے بھی کہا تھا کہ وہ کیوں اسکا انتظار کرے گی سبحان پڑھا لکھا سلجھا ہوا لڑکا ہے کوئی عیب نہیں ہے اس میں شرابی نہیں ہے اور نہ ہی چھوڑ کر جائے گا
اسنے دل پر پتھر رکھا اور قبول کر لیا ۔
اور سبحان سے منگنی بھی ہو گئ تھی بس خلع ہوتے ہی کچھ مہینوں تک شادی ہو جاتی
عجیب ہی بات تھی بیوی کسی کی منگنی کسی سے وہ اپنی قسمت پر صرف ہنس سکتی تھی
وہ سوالیہ نشان بنا گیا تھا تبھی وہ ایسی ہو گئ تھی ۔
سبحان ابھی کچھ دیر پہلے ہی آیا تھا
تائی جان تایا اور ارہم تینوں ہی آمنہ آنٹی کے گھر دو دن سے گئے ہوئے تھے بدر نے یہ فیصلہ اپنے قدموں پر لیا تھا تبھی کسی کے اختلاف کو خاطر میں نہیں لائے تھے اور سبحان تبھی گھر ا رہا تھا
صنم اور صوفیا سامنے ہی نہیں آئی تھی سوہا کبھی کبھی ا جاتی تھی
اپکو پڑھنے کا شوق ہے میں نے بھی ماسٹرز کیا ہو ہے سائیکالوجی میں ” وہ مسکرایا
عمر نے پی ایچ ڈی ان انگلش انکا ایکسینٹ انکا لہجہ سب کافی زبردست ہے ” وہ بے ساختہ بولی سبحان چپ ہو گیا جبکہ ساز کو شرمندگی ہوئی
سوری ” وہ آہستگی سے بولی
جی آئندہ خیال کیجیے گا اس شرابی کا ذکر مجھے پسند نہیں ” سبحان سنجیدگی سے بولا تو ساز نے سر ہلایا
میں اپکے لیے ائس کریم لایا تھا ” اسنے کہا تو ساز نے سر ہلایا اور کچھ دیر ادھر ادھر کی بات کے بعد وہ چلا گیا
ساز ایکدم صوفے پر بیٹھ گئ
بار بار اس کمرے کو دیکھا جہاں اسکا دل تھا ۔
ارہم کو ابھی خبر نہیں تھی کیونکہ ہفتہ پہلے وہ گیا تھا اور اسی ہفتے میں یہ منگنی ہوئی تھی ورنہ جس طرح اسنے جینا حرام کیا تھا کچھ نہ کچھ کرتا ضرور
وہ شکر ادا کر گئ اسے خبر نہیں ہوئی تھی ابھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان میں قدم رکھتے ہی اسکے پاس گاڑی پہنچ گئ وہ آتا اور شاہنواز کو خبر نہ ہوتی وہ سوار ہوا اور سعود بھی ہوا
اب اپنی کمر باندھ لے ” وہ بولا اور گاڑی کو سپیڈ دی اور اسکے بعد اسنے نہ کوئی سگنل دیکھا نہ ہی کوئی پولیس پوسٹ گاڑی طوفان کی طرح چل رہی تھی
کتے کمینے پولیس پیچھے لگ گئ ہے پورے 0ا سگنل توڑے ہیں تو نے وہ بھی چیک پوسٹ پر ” سعود چلایا
اور عمر کے چہرے کی ایکسائٹمنٹ بتا رہی تھی وہ کیا چاہتا ہے ۔
اسنے مڑ کر دیکھا واقعی پولیس پیچھے تھی اور بس اسنے گاڑی کی سپیڈ بڑھائی اور پولیس کو نچا ہی دیا
وہ آگے کے ہر سگنل کو توڑتا جا رہا تھا
شاہنواز کی کال سعود نے پک کی تھی
عمر یہ کیا کر رہے ہو ” شاہنواز بھڑکا
عمر آئے اور اپکو پتہ نہ چلے کہ عمر آیا ہے اب تو محبت ہو گئ ہے اب تو پورے اسلامہ اباد میں شور مچا دے گا آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں”
عمر ” سعود چلایا آگے ٹرک تھا ۔
شاہنواز بول رہا تھا اسے کچھ سنائی نہیں دیا تھا
جو جیلس اسے ساز کو سبحان کے ساتھ دیکھ کر اٹھی تھی بس دل کیا ٹکڑے کر دے اپنے ہی وہ اسکی تھی
اسکی ہے اسکی رہے گی اور یہ بات پتھر پر لکیر تھی
اسکے دل نے مان لی تھی نہ پھر کیا چاہیے تھا وہ پاگلوں کیطرح ڈرائیو کر رہا تھا اور بھاگتا ہی چلا گیا جیسے مزاہ ا رہا تھا ۔
جبکہ شاہنواز کے پاس پولیس کروائی چل ہی تھی اسلام آباد کیپیٹل تھا اس میں اتنا ہنگامہ مچانے کی طاقت بھی عمر ہی رکھتا تھا ۔
سر اپکی گاڑی سگنلز توڑ رہی ہے “
ایس ایچ او کی کال پر وہ ایک نظر ایزہ کو دیکھ کر رہ گیا
جو سٹڈی کی کھڑی سے پاگلوں کیطرح جھانک رہی تھی کہ نیچے ہی گیر جائے اسنے فورا اسے پیچھے کھینچا اور انسپکٹر سے بات کرنے لگا
آپ روکے میں کال کرتا ہوں “
میں نیچے ہی تو جھانک رہی تھی میں گیرتی نہیں اپ چھوڑیں مجھے ” اسنے عمر کو پھر کال ملائی
یار شہزادے اللّٰہ کے واسطے رک جاو “
نہیں ” وہ بولا اور شاہ نواز نے ایک ہاتھ سے ایزہ کو پکڑا تھا دوسرے سے عمر سے بات کر رہا تھا ۔۔۔۔
اسکی دعا تھی گھر جلدی ا جائے تاکہ یہ ہنگامہ بند ہو اور ایزہ تو اج دو تھپڑ کھائے گی اس سے سو فیصد ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر کے آگے گاڑی رکی تو دل کیا بس اندر جائے اسے اٹھائے اور بھاگ جائے وہ اندر داخل ہوا ۔
ہر چیز ویسے ہی تھی
سوہا کچن سے ا رہی تھی ایکدم اسکے ہاتھ سے کپ چھوٹ گئے
چھناکے کی آواز پھیلی تو نجما ساز صوفیا صنم چچی اور چچا سب باہر گئے
سعود کی ہنسی چھوٹتی چھوٹتی رہ گئ ساز اسے حیرانگی سے دیکھنے لگی حیران تھی شاکڈ تھی
یقین نہیں ایا یہ معجزہ لگا کچھ تو تھا چار ماہ بعد اسے دیکھا تھا ۔
وہ ” وہ ساز کی جانب ہی دیکھ رہا تھا سمجھ نہیں آیا اسے کہے کیا ۔۔۔
ہر شخص میوٹ کھڑا تھا ۔
وہ میں ” وہ اسکی جانب بڑھا
ہائے بیوی ” وہ مسکرایا
اور معلوم نہیں ساز میں کیا جنون اٹھے اسنے عمر کے تھپڑ دے مارا
تھپڑ میں جان تو نہیں تھی مگر تھپڑ تھا ابھی شاید سب بے حوش ہو جاتے اور وہ پلٹ گئ جبکہ اس حرکت کے بعد کپکپاہٹ چڑھ گئ تھی اسے ۔۔۔
اوئے یہ تو تجھے نکھرے دیکھا گئ ” سعود بڑبڑایا
جچتا ہے اسپر ” سکون اور ڈھٹائی سے بولتا وہ بالوں میں ہاتھ پھیر کر سب کی جانب دیکھتا اوپر چڑھ گیا لیکن کافی کچھ بدل گیا تھا یہ بات اسے سمجھ آنی چاہیے تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے