Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 25
No Download Link
Rate this Novel
Episode 25
نہیں بھاگو گی نہ وعدہ کرو وعدہ کرو مجھ سے مجھے چھوڑ کر نہیں بھاگو گی کسی مرد کو نہیں دیکھو گی کسی کو چھو گی نہیں کسی کو چھونے نہیں دو گی ۔
بتاؤ مجھے ” وہ اسے جھنجھوڑ کر دھاڑا ۔
ن۔۔۔نہیں کرو گئیں میں ایسی نہیں ہوں” وہ کانپتے لہجے میں بولی
م ۔۔۔میں جانتا ہوں تم ویسی نہیں ہو تم ساز ہو عمر کے لیے ساز ۔۔۔
آئی نو ائ نو دنیا کی ہر لڑکی ایک نہیں ہوتی دنیا کی ہر لڑکی ایزہ نہیں ہوتی ناز نہیں ہوتی میں جانتا ہوں تم ویسی نہیں ہو” وہ بولا اسکا گال تھپتھپا کر بولتا رہا اور پھر اٹھ گیا
ہو ہی نہیں سکتی تم ویسی” اور وہ بولتا ہوا واشروم میں بند ہو گیا
ساز منہ پر ہاتھ رکھ گئ
ہر شخص خود میں اذیت چھپائے ہوئے تھا اور وہ عمر کو شرابی سمجھتی تھی
اسکی چیخ نے آج اسکا دل پھاڑ دیا تھا۔
وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ گئ اور پلٹ پلٹ کر دیکھنے لگی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایزہ جھولے میں بیٹھی اس وقت آسمان کو دیکھ رہی تھی کافی ڈھنڈ بڑھ گئ تھی دسمبر کا مہینہ تھا اسلامہ اباد میں تو کمال موسم کی تباہ کاریاں تھیں
پھر بھی ٹھنڈے جھولے پر وہ جھول رہی تھی
اسکے دماغ میں ایک ہی بات چل رہی تھی اور وہ یہ تھی کہ شاہنواز کے موبائل میں کس حسین عورت کی تصویر تھی
وہ عورت بہت خوبصورت تھی ایسے کہ اسنے کبھی دیکھی ہی نہیں تھی اتنی خوبصورتی ۔۔۔
لوگ کہتے تھے وہ بہت خوبصورت ہے لیکن اسے تو وہ عورت دنیا کی حسین ترین عورت لگی پھر وہ کیسے حسین ہو سکتی ہے عجیب جلن اور حسد کا سا احساس تھا جو اس میں اٹھ رہا تھا جبکہ وہ بار بار جھٹکنا چاہتی تھی شاہنواز نے اسے چھوا نہیں
یہ بات نہ چاہتے ہوئے بھی چبھ رہی تھی ۔۔۔۔
” کیا وہ شاہنواز کی محبت تھی ” جھولا ایکدم رکا
اور اسے کچھ انہونی کا سا احساس ہوا
لیکن وہ ایسا کیوں سوچ رہی تھی کیوں بھلا شاہنواز کسی سے بھی محبت کرے اسے کیا فرق پڑتا تھا وہ کون سا اس سے محبت کرتی تھی لیکن دل میں عجیب کیفیت تھی آج کل اسکے ۔۔۔
ایسا لگ رہا تھا کوئی اپنا چھن گیا ہے لیکن جو اسکے تھے وہ تو اسکے ارد گرد تھے
اسنے سامنے کھلتا دروازہ دیکھا ۔
اس میں سے شاہنواز کی گاڑی اندر آئی
دادی جان سو رہیں تھیں ورنہ وہ اسے چین سے بیٹھنے نہ دیتی پہلے ہی دل کھول کر سنائی تھی انھوں نے صبح ۔۔۔۔۔
وہ ایزہ کو جھولے میں دیکھ چکا تھا
ایزہ نے بھی دیکھا اور پھر نگاہ پھیر گئی
وہ زمیر کے ہاتھ میں سامان دیتا کہ اس حسین سی لڑکی کو دیکھ کر اسنے زمیر کو وہاں سے چلے جانے کا کہہ دیا زمیر نے شاہنواز کو ایک نظر دیکھا اور پھر نہ چاہتے ہوئے بھی چلا گیا
اب کوئی ملازم نہیں تھا وہاں ۔۔۔
شاہنواز نے قدم اسکی جانب اٹھائے
ایزہ نے سر جھکا لیا وہ اسکے نزدیک آیا اسکی خوشبو پھیلی
سردی سے مہرون شال کو او وائیٹ سوٹ پر لپیٹے بیٹھی تھی
اسکے نزدیک آتے ہی اسنے اسکی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھا اور اسکا چہرہ اوپر کیا
ایزہ نے نگاہ نہیں اٹھائی اسکی جانب نہیں دیکھا
میری طرف دیکھو ” شاہنواز کا حکم ہوا
ن۔۔نہیں دیکھنا” وہ آہستگی سے نفی کر گئ
وہ گھور کر اسے دیکھنے لگا
تمھیں اب مجھ سے ڈر نہیں لگتا
ل۔۔لگتا ہے” فورا جواب دیا
پھر ضد کیوں کرتی ہو تمھاری یہ ضد مجھے تم پر ہاتھ اٹھانے پر مجبور کر سکتی ہے” وہ اسکی انکھوں میں دیکھنے لگا اور ایزہ نے انکھیں اسکی جانب اٹھائیں
شاہنواز نے ان حسین آنکھوں سے زیادہ حسین آنکھیں بھی دیکھیں تھیں پھر یہ آنکھیں انھیں آنکھوں سے جا کر کیوں مل جاتی تھیں ایزہ کچھ نہیں بولی شاہنواز چند لمہے اسے دیکھتا رہا اور پھر نگاہ پھیر گیا ۔
دادی جان کہاں ہیں” وہ اسکے ساتھ بیٹھ گیا پہلی بار وہ جھولے میں لون میں بیٹھا تھا
سو رہی ہیں” وہ بولی
شاہنواز آسمان کی جانب دیکھنے لگا ۔
ایزہ کچھ دیر انگلیوں کو موڑتی رہی اور پھر اسکی جانب دیکھا وہ کسی سوچ میں تھا آج کل کچھ بدلا بدلا سا لگتا تھا ۔
اچانک ہی اسکا سیل فون بجنے لگا اسنے موبائل کی جانب دیکھا اور کھل کر مسکرایا ۔
اور اسکے پہلو سے اٹھ گیا ایزہ کی چھوٹی سی پیشانی پر سوچ اور متفکر سی ہو گئ وہ جتنا اسکی جانب سے دماغ ہٹانا چاہ رہی تھی اتنا ہی کمزور محسوس کر رہی تھی خود کو ۔۔۔
اسکی توجہ پہلے کسی اور طرح تھی وہ بت کی طرح اسکے حکم کی غلام بنی رہتی تھی لیکن اب توجہ کا مرکز کچھ اور تھا اور وہ جان گی تھی وہ قاتل ہے پھر بھی اسکی بے توجہگی کیوں اندر ہی اندر بری لگ رہی تھی وہ اندر چلا گیا
معلوم نہیں کس اہم شخص کا فون تھا وہ اداسی سے وہیں بیٹھی رہی اداسی کی وجہ بھی نہ سمجھ آنے والی تھی ۔
وہ کچھ دیر جھولے میں بیٹھی رہی اور اسکے بعد وہ اٹھی تبھی کسی کی پکار پر اسے رکنا پڑا
وہ مڑی وہ زمیر تھا
خوش شکل لڑکا تھا اس سے کچھ سا ہی بڑا ہو گا
بے ساختہ شاہنواز کا خوف محسوس ہوا تھا اسے وہ کافی سے زیادہ جنونی تھا ان معملات میں تبھی وہ بنا جواب دیے اندر جانے لگی
میں جانتا ہوں آپ عمر خیام کی بہن ہیں بہت اچھا دوست ہے میرا”
اچانک جیسے ایزہ کو کسی نے اندر تک جھنجھوڑ دیا وہ انھیں قدموں پر پلٹی
حیرانگی سے زمیر کو دیکھا ۔
اسکی آنکھوں میں حیرانگی بے چینی کیا کچھ نہیں تھا
عمر بھائی ” وہ اسکا نام دھرا گئ
جی بتایا تھا آپکے بارے میں مگر کہنے لگا طوائف کی بیٹی سے میرا کوئ تعلق نہیں ” وہ مسکرایا
ایزہ نے بلکل توجہ نہیں دی اسکی بات پر ۔۔۔۔
آپ مجھے ان تک پہنچا سکتے ہیں وہ ۔۔۔ وہ کہاں ہیں وہ کہاں ہیں مجھ ان سے ملنا ہے انکو جو کچھ پتہ ہے وہ سب جھوٹ ہے آپ ۔۔۔ آپ مجھے ان سے ملوا سکتے ہیں پلیز ” وہ بے تابی سے بولی جبکہ زمیر کی آنکھیں چمک اٹھیں مسکرا دیا ۔
وہ آپ سے ملنا نہیں چاہتا ایزہ شاہ “
میں میں جانتی ہوں لیکن ” وہ منہ پر ہاتھ رکھ گئ
میں ۔۔ میں انھیں سچ بتاؤ گی وہ سب جھوٹ ہے جو انھیں سب بتاتے ہیں” وہ پاگل سی ہونے لگی تھی زمیر نے ادھر ادھر دیکھا
اپ دیکھیں یہ سب ایسے تو ممکن نہیں ہے وہ آپ سے ملنا نہیں چاہتا “
زمیر بار بار پیچھے دیکھ رہا تھا اگر شاہنواز اسے دیکھ لیتا تو ٹکڑے کر دیتا تبھی وہ توجہ میں تھا
پ۔۔پھر پھر کیسے وہ ہیں کہاں وہ چھوڑ گئے تھے وہ چھوڑ گئے تھے انھوں نے ایک بار بھی پلٹ کر نہیں دیکھا ان کی بہن پر ظلم ہوا اور وہ آنکھ اور کان بند کر گئے انھوں نے مجھے ہماری ماں جیسا سمجھا لیکن ۔۔۔ لیکن مجھے انھیں سب سچ بتانا ہے میں اپکے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں آپ مجھے ان تک لے جائیں میں نہیں جانتی وہ کہاں ہے ” وہ روتے ہوئے اسکے آگے ہاتھ جوڑ گئ زمیر کے لیے یہ بہترین لمہے تھے اسنے سر ہلایا
پلیز” وہ آگے بڑھی اور پیچھے شاہنواز باہر ہی ا رہا تھا زمیر جیسے گدھے کے سر پر سے سینگ کی طرح غائب ہو گیا ۔۔۔۔
ایزہ پر بری نظر نہیں ڈال سکتا تھا لیکن ایزہ سے خوب مال نکلوا سکتا تھا وہ جانتا تھا شاہنواز اسکے ٹکڑے کر دے گا اگر وہ ایزہ کو میلی نگاہ سے دیکھے گا ہاں وہ بے پناہ حسین تھی مگر فلحال زمیر کے لیے ایک بلینک چیک تھی
شاہنواز باہر نکلا
ایزہ” اسنے آواز دی
ایزہ مڑی اور پلٹ کر دیکھا زمیر جا چکا تھا
اسنے شاہنواز کو آگے بڑھ کر یہ سب بتانا چاہا لیکن رک گئ وہ مانتا ہی نہ کہ اسکا کوئی ہے جس کے لیے وہ اتنا حساس ہے
کیا ہوا ہے ” وہ وہیں سے اسے دیکھنے لگا
ا۔۔۔۔انکھ میں مٹی چلی گئ ” اسنے گال صاف کیا
اندر آؤ سردی ہو رہی ہے ” وہ بولا
ایزہ سر ہلا کر اندر ا گئ لیکن دماغ تو جیسے اتھل پتھل ہو گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوہا کی بارات تھی حال میں فنکشن تھا اور سب ہی تیاری کر رہے تھے گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا حیرت انگیز طور پر آج ساز کا سارا دھیان کمرے میں تھا
جہاں عمر تھا وہ تادیر پیتا رہا تھا ساز اسے چاہ کر نہیں روک سکی لیکن وہ ساری رات روتی رہی اسے احساس ہوا کہ وہ تکلیفوں میں گھیرہ ہے اور خود کو آزاد کرنے کے لیے پیتا ہے ۔
اب دن چڑھ گیا تھا
دوپہر ہو گئ اور اب تو سب بارات کے لیے تیاری کرتے پھر رہے تھے کہ وہ اٹھا نہیں تھا صبح سے اسکا ناشتہ بنائے وہ بار بار دیکھتی مگر وہ اوندھا پڑا تھا سو رہا تھا
ساز جاو تیار ہو جاؤ ” نجما نے کہا
امی ہو جاؤ گی تیار ” وہ اداسی سے بولی
نجما مسکرا دی
عمر کی وجہ سے پریشان ہو ” وہ اسکے شانے پر ہاتھ رکھتی بولی
امی مجھے لگتا ہے انھیں ہمارے سے زیادہ دکھ ہے ہم ذاتی اذیت سے نہیں گزرتے ہم لوگوں کے طعنے سنتے ہیں اور پھر ویسے ہی ہو جاتے ہیں کوئ مرد کیسے اتنا حساس ہو سکتا ہے اپنی ماں بہن کے لئے ۔۔۔۔
اور پھر وہ اذیت اسکی آنکھوں میں دیکھتی ہے ” وہ بولتی ہی چلی گئ نجما اسی کی جانب دیکھ رہی تھی
اچھی بات ہے تم اسے سمجھ رہی ہو اگر تم چاہو تو شاید وہ شراب جیسی حرام چیز پینا چھوڑ دے “
ایسا ہو سکتا ہے امی ” وہ سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگی
بلکل ہو سکتا ہے ” وہ مسکرائی
تو ساز نے سر ہلا دیا
چلو اب جاؤ اور تیار ہو جاؤ “
کیا عمر بھی آئے گا ” انکے سوال پر وہ نفی میں سر ہلا گئ
مجھے نہیں لگتا ” وہ کہہ کر اپنے کمرے میں چلی گئ جتنا مناسب لگتا تھا یہ جتنا ہو سکتا تھا اس سے وہ اتنا تیار ہوئی اور اتنے میں بھی وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی وہ سر پر دوپٹہ رکھ کر باہر ائی ۔
سوہا کو آج پارلر لے جایا گیا تھا اسکا بارات کا جوڑا بہت مہنگا اور خوبصورت تھا ساز کو ایسا جوڑا نصیب نہیں ہوا تھا جبکہ جس لڑکی کو شادیوں میں جانے کا شوق تھا کیا اسے اپنی شادی کا نہیں تھا لیکن کبھی کسی سے ایسی بات نہیں کی تھی ۔
شرم و حیا اور جھجھک ہمیشہ ہی آڑے رہتی تھی
اسے اکثر سوہا خوش نصیب لگتی تھی ایک تو اسے اسکے بھائی جیسا شوہر مل گیا تھا اور اسکے ابو اسکی تمام خواہشیں پوری کر دیتے تھے دیکھا جاتا تو خواہشیں تو اسکی بھی پوری ہونے کو بے تاب تھیں بس توجہ وہ خود ہی دیتی تو بات تھی
سب حال میں نکلنے کو بے چین تھی اور بدر نے نجما اور اسے گاڑی میں بیٹھنے کے لیے کہا
بھائی میں ایک منٹ میں آتی ہوں “
وہ کہہ کر اوپر کمرے میں آئی کوئ انسان اتنی لمبی نیند کیسے لے سکتا تھا فکر میں اسی لیے وہ آئ اور کمرے کا دروازہ کھولا تو کمرہ خالی تھا وہ حیرانگی سے ادھر ادھر دیکھنے لگی
وہ کہاں چلا گیا تھا ؟
ساز تمھیں علم ہے نہ یہ حال تایا جان نے اپنی جان لگا کر بک کرایا ہے اور اس حال کی لائٹس آف ہونے سے پہلے ہی وہاں پہنچ جانا چاہیے ورنہ وہ شاید ہی اس بات کا خیال کریں کے میں دولہا ہوں ” بدر سینے پر ہاتھ باندھے اسے دیکھتا بولا
جی بھائی ” وہ یہ کہہ کر بجھے ہوئے دل سے نیچے ا گی اور وہ تینوں گاڑی میں بیٹھ گئے بدر نے ایک گاڑی کا ارینج کیا تھا انھیں پیسوں میں سے جو اسے عمر نے دیے تھے وہ نہیں گیا تھا اور شکر تھا اسے ساری رقم مل گئ تھی عمر کو دینے کے بجائے اسنے اپنے پاس رکھ لی تھی وہ جو سوچے بیٹھا تھا اب اسے ان پیسوں کی ضرورت تھی
نجما اور ساز دونوں اسکے ساتھ سوار ہوئیں اور جس سفر کے لیے وہ نکلے تھے خوشیوں سے بھرا ہونے بجائے ایک خاموشی سمیٹے ہوئے تھا اپنے اندر ان تینوں میں سے کسی نے ایک دوسرے سے بات نہیں کی شاید اپنی ہی سوچوں میں مگن تھے
وہ حال میں پہنچے تو پہلے ہی سب کچھ ہو چکا تھا کیونکہ یہاں دولہے سے زیادہ دولہن کی اہمیت تھی وہ سٹیج پر بیٹھی تھی جو پھول بدر پر برسائے جانے تھے وہ سوہا پر برسائے جا چکے تھے اور وہ اپنی پوری تیاری اور سج دھج کے ساتھ سٹیج پر تھی اور کافی خوش تھی وہ اپنی پوری تیاری کے ساتھ کافی پیاری لگ رہی تھی لیکن بدر نجما اور ساز ایسے ہی اندر آئے تھے ۔
حال بھی ایک ہی تھا تایا جان کو اس شادی میں کسی بات کا اختلاف نہیں تھا
بھئ نکاح ہو گیا تھا تبھی ہم نے ایک ساتھ ہی کر لیا ” تائی جان سب کو تسلی دے رہیں تھیں
وہ سٹیج کی جانب بڑھنے کے بجائے تایا جان کے پاس چلا گیا جبکہ ساز اور نجما ایک طرف بیٹھ گئی وہ اپنی حیثیت اور وقت جانتے تھے تبھی ایک طرف بیٹھ گئے
ساز کا دل بلکل ہی بجھا ہوا تھا بار بار عمر کا خیال ا رہا تھا وہ کہاں چلا گیا ہو گا کیا وہ ٹھیک ہو گا اسے کوئی تکلیف کوئی پریشانی تو نہیں ہو گی
بس یہ ہی سوچیں چلی جا رہی تھیں ۔
سوہا کی جانب اسنے دیکھا وہ اچھی لگ رہی تھی اسکی تصویریں کھینچی جا رہیں تھیں اسکی دوستیں اسکے ساتھ ہنسی مذاق کر رہیں تھیں وہ خوش نصیب تھی جبکہ اسنے اپنی ماں کے کان میں منہ بنا کر کچھ کہا تو تائی جان نفی میں سر ہلاتی بدر کو پکڑ کر سوہا کے پاس بیٹھا گئیں بدر خاموشی سے بیٹھ گیا
کھانا کھلا اور سب کھانا کھانے لگے لیکن آج اسکا دل نہیں کر رہا تھا
اچانک کھانے اور چمچوں کے شور میں ایکدم خاموشی چھا گئ وہ ادھر ادھر دیکھتا اندر ایا
سیگریٹ منہ میں دبائے رات کے فنکشن میں بھی گاگلز لگائے وہ اندر آیا تو بلیک تھری پیس میں وہ اندرونی شرٹ کے آدھے بٹن کھولے اپنے چوڑے سینے کی نمائش کرتا حال میں داخل ہوا تو ناگواری سی چھا گئ ۔۔۔
بھلا اسے شادی کہتے ہیں جو اسکی بیوی کو پسند تھی ایک زیورات سے سجی دولہن اور ایک پرانے کپڑوں میں دولہا اور بے شمار کھانے پر جھکے لوگ بے کار شادی ۔۔۔
جب وہ شادی کرتا تو دنیا دیکھتی لیکن اسکی شادی تو ہو چکی تھی وہ خود ہی اپنی سوچ پر ہنستا ہوا اسے تلاش کرنے لگا جس کی وجہ سے وہ یہاں تھا ۔۔۔
اسکے فضول رونے پر سعود کے ساتھ اپنا پروگرام کینسل کر کے وہ یہاں موجود تھا
اسکا باپ اسے ہی دیکھ رہا تھا اسنے دوسری نگاہ اس پر نہیں اٹھائی
ارے سکینہ یہ تیری سوتن کی اولاد ہے نہ” تائی جان کو اسکی جاننے والی نے کہا وہ غصے سے سر جھٹک گئیں
ہائے اتنا سوہنا مونڈا تو میری سارا کی بات ہی چلا لے “
شرابی ہے اور شادی شدہ ہے” تائی جان پھنکاری
نہ کہہ”
یہ ہی سچ ہے وہ بیٹھی منحوس اسکی بیوی جسے ڈھونڈ رہا ہے تائی نے ساز کی جانب اشارہ کیا جبکہ دوسری طرف وہ عورت ہنسی
ویسے جوڑ تو اسے کہتے ہیں دیکھ ایک چاند تو دوسرا سورج ایک تیری بیٹی کا جوڑ بنا ہے دولہا تو چاند جیسا ہے بس دولہن ” وہ منہ پر دوپٹہ رکھتی ہنسے لگی تائی کے تو مرچیں ہی لگ گئیں
بکواس نہ کر ” وہ جھڑک گئیں جبکہ تائی نے عمر کو دیکھا وہ اب تک بیچ میں کھڑا تھا
ساز عمر” نجما نے اسکو کہا جو پلیٹ میں چمچ چلا رہی تھی
ایکدم کھڑی ہو گئ چہرے پر خوشی سی چھلک اٹھی اور سکے اٹھتے ہی عمر کو نظر ا گئ
وہ اسکے نزدیک آیا عورتیں اسکو ایسے دیکھ رہیں تھیں جیسے وہ کوئی سوپر سٹار ہو یہ ایسا انوکھا انسان جو انکی محفل میں ا گیا ہو
یہ تھارے ہی بھائی کی شادی ہے نہ ” عمر بولتے ہوئے اسکی جانب ہاتھ بڑھا گیا کہ اسے وہ ان عورتوں کے بیچ سے نکالنا چاہتا ہو
ساز نے ٹرانس کی سی کیفیت میں اسکے ہاتھ میں اپنا نازک ہاتھ رکھ دیا
بدر کے چہرے پر پورے فنکشن میں اب مسکراہٹ ائی تھی ساز نے ہاتھ رکھا وہ اسے باہر نکال لایا
یہ تم تیار ہوئی ہو تمھارے سے زیادہ تو میں ہو گیا ایون دولہے سے زیادہ ۔۔۔ مجھے بتاتی تو سہی تمھاری ہاں شادی میں میں بستر سے اٹھ کر بھی ا سکتا تھا ” وہ ادھر ادھر دیکھتا بولا ۔
آپ اپ آئیں ہیں” وہ تو اسی بات پر حیران تھی عمر نے ایک ائ برو اچکائ
تم نے ہی تو کہا تھا لوگ میرے بارے میں پوچھتے ہیں بتاؤ کس آنٹی نے کہا تھا ” وہ سیگریٹ لبوں سے نکال گیا
عمر” وہ ایکدم شاکڈ ہوئی وہ اونچی آواز میں بول رہا تھا
یہ تمھارا بھائی دولہا کم ویٹر زیادہ لگ رہا ہے”
اچھا بس کریں آپ ہی پوری دنیا میں حسین نہیں ہیں ” وہ چیڑ گئ
خیر یہ تو سچ ہے مجھ سا ڈھونڈ کر دیکھاؤ ” وہ آنکھ دبا گیا
ساز اپنے آپ مسکرانے لگی تھی
کیا فضولیات سی شادی کا کھانا کھا رہی ہو چلو آؤ میں باہر سے کھانا کھلاتا ہوں” وہ بولا جبکہ ساز نے نفی میں سر ہلایا
آپ بدر بھائی سے ملیں ” اسنے کہا
کیوں وہ حج کر کے آیا ہے” وہ بے زادیت سے بولا
ساز نے اسے سنجیدگی سے دیکھا
اچھا اچھا آنکھیں کیوں دیکھا رہی ہو پتہ نہیں تمھاری آنکھیں مجھے کیوں پٹا لیتی ہیں ” وہ مدھم آواز سے بولا جبکہ ساز کی مسکراہٹ تھی رک ہی نہیں رہی تھی سارا خاندان ساری دنیا اسے اسکے ساتھ دیکھ رہی تھی اسکے قدم تھے کے اڑ رہے تھے وہ سٹیج پر اس کے ساتھ آئی سوہا نے منہ بنا کر اسے دیکھا ساز اسے سخت زہر لگی تھی اسکا مہنگا لباس ہی اسے سمجھ نہیں آتا تھا ۔
بدر اٹھ کر عمر سے ملا عمر سائیڈ پر ہو گیا ۔
اچھے لگ رہے ہو دونوں ساتھ ” بدر مسکرا کر بولا
تھینکس لیکن بتانے کی ضرورت نہیں تھی ” وہ ٹکا سا جواب دے گیا ساز نے پھر اسے دیکھا تو وہ سوری کر گیا اسکے انداز پر ساز پھولے نہیں سما رہی تھی وہ اسکی مان رہا تھا سن رہا تھا
بدر نے اسکے سر پر پیار کیا ان تینوں نے ہی سوہا کی جانب نہیں دیکھا تھا سوہا لاشعوری طور پر اپنے آپ کو ٹھیک کرنے لگی جبکہ غصے میں شدت ا گئ
تم لوگ آگے سے ہٹو گے میں دولہن ہوں ” وہ بگڑ کر بولی
مانگنے والی لگ رہی ہو جو ٹین پکڑ پہن کر لوگوں کو ایمپریس کرنا چاہ رہی ہو ” وہ سنجیدگی سے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھتا بولا اسکے منہ پھٹ ہونے پر ساز اور بدر چپ سے ہوئے
عمر” ساز نے اسکا بازو پکڑا
بکواس کرنے کا شوق ہے تمھیں” سوہا تڑپ اٹھی
لو سچ بتا رہا ہوں ” وہ کافی سنجیدہ تھا
ساز نے اسے کھینچ کر نیچے اتارا
وہ شانے اچکا کر نیچے ا گیا جبکہ سوہا نے ان دونوں کو گھورا
اب وہ غصہ کرے گی” وہ پریشان ہوئی
بھاڑ میں جائے ” وہ سکون سے بولا
اور تائی سے مزید دنیا کی نگاہیں ان دونوں پر برداشت نہ ہوئی تو اسنے رخصتی کا شوشہ اٹھا لیا اور رخصتی پر سب ہی کھڑے ہو گئے کھانا کھا لیا لوگ جانے بھی لگے تھے
بدر نے گاڑی وہ بھیج دی تھی
ایک گاڑی ہی لے آتے رکشے میں جاؤ گی اب میں” سوہا نے گھور کر اسکی جانب دیکھا بدر نے کوئی جواب نہیں دیا
اور تایا جان نے ارہم کی گاڑی میں سوار ہونے کا کہا خاندان بھر کھڑا تھا
باہر جاؤ ” ساز کو کہہ کر وہ باہر نکل گیا جبکہ سب سوہا کو لے کر باہر ا گئے ارہم کی گاڑی میں بیٹھایا گیا
ساز نجما ایک طرف کھڑی تھی سوہا کے نکھرے ہی بہت تھے جن کی وجہ سے سب ہی اسکا خاص خیال رکھ رہے تھے
تایا جان تائی اور ارہم سوہا کو لے کر گاڑی میں سوار ہو گئے اور باقی کسی کی پرواہ نہیں تھی انھوں نے اور اس سے پہلے انکی چھوٹی سی گاڑی آگے بڑھتی ۔۔۔
کہ عمر خیام کی گاڑی انکی گاڑی کے آگے کھڑی ہو گئ اور اسکی گاڑی کی تیز آواز سے ہی جیسے سب پر عجیب ہی اثر طاری ہو گیا اسنے دروازہ کھولا
میڈیم اندر آؤ گی یہ اور انتظار کریں گے ” وہ فارمل سا بولا جبکہ ہر آنکھ میں ساز کے لیے عجیب ہی حسد تھی
سوہا نے باپ کو دیکھا جو خود یہ سب دیکھ رہے تھے
جاؤ بیٹا ” نجما کے تو دل و دماغ میں سکون ہی اتر گیا تھا
وہ اسے آگے کر گئ اور بدر نے بھی اسے کہا تو وہ ان سب کے سامنے اسکی ٹیکسلا میں سوار ہوئے اور دولہن کی گاڑی سے پہلے ہی وہ گاڑی موڑ گیا ساز کے دل کی دھڑکنوں کا شور عمر کا نام لینے لگی تھی وہ سینے پر ہاتھ رکھ گئ ۔۔
کہیں دل باہر ہی نہ نکل آئے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
