Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 52
No Download Link
Rate this Novel
Episode 52
بدر کا جیسے خون کھولنے لگ گیا اپنی اوقات میں رہو عمر خیام ” بدر نے اسے نہایت ناگواری سے دیکھا تھا ۔
اچھا بدر زمان میری اوقات جانتے ہو ” ائسکریم پھینک کر وہ بلکل سیدھا ہو چکا تھا
کیا ہو رہا ہے یہ” تایا جان بیچ میں ہی بولے وہ ابھی کمرے سے نکلے تھے ارہم تو مزے سے دونوں کو دیکھ رہا تھا ۔
جبکہ ساز ایکدم آگے بڑھی ۔
شیٹ اپ” یہ جرت عمر خیام کی ہی تھی کہ باپ کو جھاڑ دیتا ۔ تایا جان کو اسکی ان ہی حرکات پر شدید غصہ چڑھتا تھا ۔
بتاو مجھے کیا اوقات ہے میری”
وہ سنجیدگی سے پوچھنے لگا
میرے منہ نہ ہی لگو تو بہتر ہے اور آئندہ میری بیوی کو میری اجازت کے بنا کہیں مت لے کر جانا انڈرسٹینڈ دیٹ”
وہ اسکے پہلو سے نکلنے لگا تھا عمر نے ۔۔۔ ایک قدم دور لیا ۔۔۔
بدر نے سر جھٹکا وہ سوہا کے ساتھ کھڑا ہو گیا تھا ۔ سوہا بھی خاموشی سے بدر کو دیکھ رہی تھی
چلو ” بدر نے اسکا ہاتھ پکڑا ۔ اور اسے کمرے میں لے جانے لگا ۔
سوہا نے فورا اپنا ہاتھ چھڑایا
تم بھول رہے ہو میں سٹور میں رہتی ہو ” وہ سنجیدگی سے بولی
تماشہ نہ کرو دماغ گھوما نہ میرا تو ابھی یہ ساری اکڑ نکال دوں گا چلو کمرے میں” عمر سکون سے سینے پر ہاتھ باندھے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
ٹھیک یے بدر اپنا دماغ گھوما لو “
اسنے اپنا ہاتھ چھڑایا اور سٹور میں چلی گئ ۔۔
اسے کہتے ہیں اوقات ” وہ مسکرا کر اسکا گال تھپتھپا کر وہاں سے مڑا ساز کا ہاتھ پکڑا بدر پر جتاتی نگاہ ڈالی اور وہیں سے کمرے میں چلا گیا ۔۔ بدر کی پیشانی کی رگیں پھول گئیں تھیں
روز روز کا تماشہ لگانا ضروری ہے تم سب کا ۔۔۔ “
تایا جان بھڑکے تو بدر دانت پیستا کمرے میں چلا گیا ۔۔
جبکہ ۔ دوسری طرف کمرے میں آتے ہی ساز نے اسکے ہاتھ سے ہاتھ چھڑانا چاہا ۔
اور عمر نے اسے اچک کر سینے میں بھر لیا ۔
ہائے ہنی ۔ مائے بے بی سوئفٹ سوئیٹ” وہ اسکے گال کھینچتا بڑے پیار سے بولا
اپکو شرم آتی یے”
یہ میرا کمرہ ہے یہاں بے شرم ہو سکتا ہوں”
آپ نے میرے بھائ کو انسلٹ کیا یے” وہ ناراضگی سے بولی
وہ اسی قابل یے ” وہ شانے اچکا گیا ۔
عمر”
حکم میری جان” وہ اسے فلائنگ کس کرتا بیڈ پر بیٹھ گیا ۔
دیکھو آئے بائے شائیں کی باتوں کو اب بند کرو اور فوکس کرو شادی پر “
مجھے تو نہیں کرنی آپ سے شادی”
وہ بھڑکی اپنی بات کے علاوہ دوسرے کی بات تو بے کار تھی نہ اسکے نزدیک
یار پلیز ایسا مت کرو چھوٹا سا چھوٹا سا میرا دل ہے اداس ہو جاتا ہے تمھارے بنا تو ” وہ معصومیت سے بولا ۔ ساز سر پکڑ گئ ۔۔
آپ جب مجھ سے بات نہیں کرتے تھے تب ہی زیادہ اچھے تھے” وہ بولی اور پھر جانے لگی ۔۔۔
کیسی ناشکری لڑکی ہو تم ۔۔۔ “
وہ افسوس کرتا بیڈ پر چت لیٹ گیا ۔
عمر میں واقعی شادی نہیں کروں گی”
میں تمھیں تمھارے گھر سے اٹھا کر لے جاوں گا مسز عمر خیام تم نے مجھے سمھجا کیا یے ” وہ دروازہ کھولتی باہر نکلی تھی جبکہ وہ پیچھے پوری بلند آواز سے بولا جبکہ وہ فانوس کو گھور رہا تھا لبوں کی تراش میں دلچسپ مسکان تھی ۔
میں نہیں جاو ۔۔جاو گی”
وہ بھی باضد ہو گئ کافی ضدی ہو گئ تھی اسکے ساتھ رہتے رہتے ۔۔۔
وہ مسکرا دیا ۔۔۔
چلو پھر فورس میرج کے لیے ریڈی رہو “
وہ سکون سے بولا ۔۔ ساز کو علم تھا وہ یہاں کھڑی ہو گی یہ شخص پاگل کر دے گا اسے وہ باہر نکل گئ تھی ۔۔۔
اور امی کے کمرے میں گئ
اب کیوں منہ بنائے بیٹھی ہو ایک تو تم دونوں بہن بھائی نے مجھے اب تنگ کر دیا ہے “
اپکا کا داماد بلکل اچھا نہیں یے مجھے نہیں کرنی اس سے شادی” وہ بولی جبکہ ۔۔۔ نجما نے ایک نظر ساز کو دیکھا
بہت ضدی ہو گئ ہو ساز تم “
شکر نہیں یے تم میں اب ۔ اپنے شوہر کا دل دکھا کر اپنے رب کو کیا منہ دیکھاو گی”
امی” وہ پریشان ہو گی
ہاں تو ٹھیک کہہ رہی ہوں گناہ ہے شوہر کے ساتھ ایسا رویہ کرنا “
اور شوہر جو بھاگ گیا تھا ۔۔ بیوی کو چھوڑ کر اس کا بھی گناہ بتا دیں”
وہ رونے والی ہو گئ تھی نجما کچھ بولتی کہ خود ہی اٹھ کر وہ ۔ بستر میں لیٹ گئ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بدر سے رات چین سے گزری ہی نہ تھی ۔۔۔۔ وہ غصے سے سٹور کی جانب گیا تھا
لیکن وہاں لاک تھا دروازہ وہ بجائے بنا ہی واپس آگیا ۔۔۔
اور اگلی صبح سوہا کو کچن میں دیکھ اسنے ارد گرد دیکھا کوئ نہیں تھا ۔
اور وہ کچن میں گیا اسکا ہاتھ جکڑا اور دیوار کی جانب دھکیل کر اسکے دونوں ہاتھ دیوار سے لگا دیے
یہ کیا ڈرامے بازی لگائ ہوئ یے تم نے”
کیا۔۔ کیا ہے میں نے اور یہ یہ کون سا طریقہ ہے بات کرنے کا “
سوہا نے خود کو چھڑانا چاہا
سوہا آئندہ مجھے عمر کے ساتھ نہ دیکھنا ” وہ وارن کرنے لگا
بدر ۔۔ وہ میرا بھائ یے اور وہ اگر میرے ساتھ دیکھ رہا ہے تو تمھیں کوئ مسلہ نہیں ہونا چاہیے “
بدر نے اسکا منہ جکڑ لیا سوہا حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی
تم اتنے برے ہو گئے ہو کہ میرا دل نہیں کرتا میں تمھاری طرف دیکھو بھی ” “
اسنے کہا تو بدر طنزیہ مسکرایا
کیا تمھارے اس سو کولڈ آوارہ بھائ سے بھی زیادہ برا جس کے ہاتھ میں شراب کی بوتل اور ماتھے پر چور کا ٹیگ ہے “
اس میں انسانیت بھی ہے جو تم میں اور میرے باپ میں نہیں ۔ اگر اس میں عیب ہیں تو وہ تمھیں سب سے پھر بھی بہتر ہے “
غصے سے کہہ کر اسنے اسے دور دھکیلا بدر نے دانت پیسے
روم میں اپنا سامان لے کر دوبارہ او “
نہیں ” وہ تڑخ کر مڑی
سوہا ” وہ غصے سے اسپر ہاتھ اٹھا گیا ۔ لیکن یہ ہاتھ ہوا میں ہی بلند تھا کہ سوہا کی آنکھوں میں ڈر سا اترا
اسنے ہاتھ نیچے کر لیا
جتنا کہا یے تم اتنا کرو تمھارے نکھرے دیکھنا ہی نہیں چاہتا بدر زمان ۔۔ “
ہاں بہت اچھے سے جانتی ہوں لیکن میں وہ پھر بھی نہیں کروں گی جو تم چاہتے ہو ۔۔”
وہ بولی اور اس سے دور ہوئ
اچھا ٹھیک یے میں بھی دیکھتا ہوں مجھ سے کس طرح ضد باندھو گی”
بدر”؛ وہ غصے سے نکلا سوہا جانتی تھی وہ اسکا سامان اٹھانے پہنچ گیا ہے اور اسنے ایسا ہی کیا سٹور سے سامان نکال لیا اور کمرے میں لا کر بیڈ پر پھینکا ۔
انسان کے بچوں کیطرح رہو میرے ساتھ تمھارے باپ کا ملازم نہیں ہوں میں اب “
ہاں تم بہت امیر ہو چکے ہو بہت اچھے سے پتہ چل گیا ہے مجھے”
اسنے بیڈ پر سے سامان اٹھایا لیکن باہر کیسے جاتی وہ روم کو لاک کر چکا تھا وہ بھی بقائدہ چابی سے ۔
سوہا اسے دیکھنے لگی اور بدر کی نگاہ اسکے سامان پر ایک چابی پر گئ وہ گاڑی کی چابی تھی
کہاں سے آئ یہ” وہ حیرانگی سے بولا سوہا کچھ نہیں بولی صوفے پر بیٹھ گئ
میں نے کچھ پوچھا ہے “
معلوم نہیں کیوں اسے رونا آ رہا تھا نہ جانے کتنا سفر رہتا تھا ابھی اسکے مزاج میں بلکل تبدیلی نہیں تھی وہ حاکم وہ ہی رویہ وہ نہ ہی اپنی کسی بات پر شرمندہ تھا نہ ہی اسے یہ دکھا تھا کسی انسان کے دل میں وہ کیسا خوف اتار گیا ہے ۔ ۔
سوہا کے انسووں کی قدر نہیں تھی کیونکہ وہ دیکھ رہا تھا مگر صاف کرنے کے لیے ہاتھ نہ بڑھایا اسنے وہ جھک کر اسکی شکل دیکھنے لگا ا ور سوہا نے گال رگڑ کر صاف کیے
عمر نے دی یے “
آہ بھیک لینی شروع کر دی اب تم نے چلو اپنے باپ والا کام کر رہی ہو “
بدر” وہ سسک اٹھی تو اور کیا کہو یہ کیا ہے کیوں لی تم نے اس سے یہ چابی “
اس نے گفٹ کی یے بھیک لینے کا اتنا شوق ہوتا تو وہ یہاں عرصے سے ہے بہت پہلے لے لیتی “
واہ گفٹ” اسنے چابی پھینک کر ماری عمر خیام اب اسکی برداشت سے باہر ہو چکا تھا ۔
سوہا کو بھی شدید غصہ چڑھ گیا اسنے اپنا سامان پھینکا اور وہ چابی اٹھا لی
جب تم مجھے یہ دلوانے قابل ہو جاو تب یہ رویہ دینا “
اسنے بھی پورا بدلہ لیا ۔۔ اور دروازے کی جانب بڑھنے لگی کہ مزید اس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا وہ اسکے ساتھ یہ رویہ رکھے ۔
جبکہ بدر نے اسکی کلائ پکڑ کر موڑی اور اسے دیوار سے لگا دیا ایسے کہ اسکا چہرہ دیوار سے لگ چکا تھا
تمھیں یہ لگتا یے بدر یہ سب نہیں کر سکتا “
چھوڑو مجھے بدر انسان ہوں میں پلیز میرا ہاتھ چھوڑ دو” وہ لب دانتوں میں دبا کر دیوار سے ہی سر ٹکا کر رو دی تھی
بدر نے جھٹکے سے چھوڑا اس سے چابی کھینچ لی ۔
آئندہ یہ تمھارے پاس نہ دیکھے ” “
ٹھیک ہے وقت نکالو اور مجھے مار دو تاکہ تمھیں تسلی ہو جائے رحم تو تمھیں مجھ پر آئے گا نہیں لیکن میں بھی نہیں کھاو گی مجھے کس بات کی سزا مل رہی ہے مجھے سمھجہ نہیں اتا “
بدر مسکرا دیا ۔۔۔۔
اسکی آنکھیں سوج سی گئیں تھی رو کر ۔
سزا ” ؟؟؟؟؟
جو سب کچھ تم نے ایزہ کے ساتھ کیا اسکے بعد تو تمھیں خود کو ختم کر دینا چاہیے ویسے وہ سب عمر کو پتہ چل جائے “
سوہا کا چہرہ ایکدم اترا معلوم نہیں ایزہ کا نام ہی اسکے لیے کمزوری تھی ۔
تو تم کیا کرو گی ہاں کیا کرو گی جب اسے پتہ لگے گا کہ ۔۔جو اسکا حق تھا اسپر تم نے ڈاکہ ڈالا ہے جو سچ تھا وہ تم نے ایسے بیان کیا اسکا گناہ بن گیا ۔
تو میں تمھارے سو کولڈ بیلوڈ بھائ کا رویہ دیکھنا چاہو گا
تمھارے ساتھ “
وہ مسکرایا اور سینے پر ہاتھ باندھ کر کچھ دیر اسکی شکل دیکھتا رہا ۔۔
جو اسے ہی دیکھ رہی تھی جھاگ کیطرح بیٹھ گئ
میرے ساتھ انسانوں کیطرح رہو تاکہ ت۔ھارا راز فاش نہ ہو اوکے “
وہ قریب آیا اسکا گال تھپتھپایا اور ۔۔ اسکی سانسیں اٹکا کر وہ باہر نکل گیا
ایزہ خالی کمرے کو دیکھتی رہی اور پھر بیڈ ہر بیٹھ گئ ۔ ۔
زندگی اتنے امتحان تو نہ لے جو بھی کچھ کیا ہاں وہ مان گئ اسنے غلط کیا لیکن اسنے تو اپنی محبت لی تھی ۔۔ یا چھین لی تھی ۔
اسکی آنکھوں سے آنسو گیرنے لگے ایسا نہیں تھا اسے عمر سے کچھ چاہیے تھا
لیکن ۔۔۔۔ وہ بس ایک ہی سہارا لگ رہا تھا اسے ۔۔ اپنائیت سی لگی تھی وہ کھونا نہیں چاہتی تھی ۔
لیکن پریشانی اور فکر نے اسکا چہرہ بلکل پھیکا کر دیا ۔ تھا اور پھر بیٹھے بیٹھے ایک فیصلہ کر لیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایزہ شاہ اگر نیچے گیر گئ تو نہ ہی میں تمھیں بچاو گا اور نہ ہی تمھارے مرنے پر غم مناو گا تو بہتر ہے انسانوں کیطرح اس کھڑکی سے دور ہو جاو “
وہ تنگ تھا اس سے کھڑکی سے جھانکنا کوئ عجیب بات نہیں تھی اب جاہلوں کیطرح جھانکنے کی ضرورت ہی کیا تھی کہ آدھا وجود باہر غیر جائے ۔۔ وہ پریگنینٹ تھی اور کسی ایک دن بھی نہیں لگتا تھا شاہنواز کو کہ ہاں واقعی وہ ایک سریس دور سے گزر رہی ہے
میں مر گئ اپکو دکھ نہیں ہو گا مجھ سے تو پیار کرتے ہی نہیں ۔۔ آپ “
وہ بولی اور اسکے ہاتھ سے کتاب کھینچ لی ۔۔۔
اسنے کتاب کھینچی شاہنواز نے اسے کھینچ کر گود میں بیٹھایا اور دل سے لگا لیا
اب تو تمھیں کہیں جانے نہیں دینا ۔ ۔ میں نے مرنے کی باتیں نہیں کرنی ہمممم لیکن تم بھی تو دیکھو آدھی کھڑکی سے باہر نکل جاتی ہو کوئ دھیان کرو “
شاہ آپ واقعی مجھ سے محبت کرتے ہیں”
پہلے تم جواب دو تم کرتی ہو “
ہاں تھوڑی سی” وہ تنگ کرنے کو بولی
شاہنواز نے سنجیدگی سے اسکا چہرہ دیکھا ۔
سوری ناراض کیوں ہو جاتے ہیں ” وہ ہونٹ نکال گئ ” شاہنواز نے اسکے ہونٹوں کو خوبصورتی سے ۔۔ خود میں بھرا اور اپنی سانس کو بڑی مدھم سے انداز میں اسکی سانسوں کا حصہ بنا گیا
ہاں میں تم سے محبت کرنے لگ گیا ہوں اور میری محبت تمھیں کسی اور کا سوچنے کی اجازت نہیں دیتی “
وہ اسکا چہرہ دیکھتا بولا ۔۔ جو بے حد حسین تھا وہ شرما گئ اور بھی پیاری لگی تھی ۔۔۔
مجھے بھی ہے مگر آپکے غصے سے اب بھی ڈر لگتا ہے “
وہ شرمائ شرمائ سی بولی ۔ جبکہ شاہنواز مسکرایا ۔
اور اسکا گال چومتا چلا گیا
میں بے کب کہا یے اب غصہ الٹا تمھاری مرضی سے چلنے لگ گیا ہوں ‘
وہ جیسے خود پر افسوس کر رہا تھا
ایزہ کھلکھلا دی ۔۔۔
نہیں وہ جب آپ گھورتے ہیں نہ تو ڈر لگ جاتا ہے “
تو تم انسانوں کیطرح رہتی کب ہو
پریگنینٹ ہو تم اور پورے گھر میں ادھم اٹھانا فرض سمھجتی ہو اپنا ۔
خیر اب عائشہ کو تنگ مت کرنا وہ دادی جان کو بہت پسند ہے “
میں کیوں کرو گی مجھے وہ نہیں پسند”
وہ منہ بنا گئ
کس لیے” اسنے حیرانگی سے پوچھا حالانکہ عائشہ کافی نائیس نیچر لڑکی تھی ۔
وہ اپکو دیکھتی یے”
وہ بولی شاہنواز ہنستا چلا گیا ۔
میں تمھارا علاج بڑے زوروں شور سے کرنا چاہتا ہوں لیکن کیا کروں یہ دل اب تمھارا احساس کرنے لگ گیا ہے”
شکر ہے اللہ کا ورنہ پہلے تو آپ ” وہ رک گئ
پاور آف مین مائے ڈائیر کسی لڑکے سے شادی نہیں ہوئ تمھاری”
ایزہ کا چہرہ ایکدم سرخ سا رہ گیا
وہ سٹپٹائ اور شاہنواز اسکے چہرے کے رنگوں کو دیکھ رہا تھا ۔۔کتنی خوبصورت تھی وہ ۔۔
اور شکر تھا ملازمہ نے دروازہ بجا ڈالا ۔
چھوٹی بی بی آپ سے ملنے کوئ خاتون آئیں ہیں”
مجھ سے” وہ خوش ہو گئ
کون ہے” شاہنواز نے سوال کیا
وہ جی وہ کہہ رہی ہیں کہ وہ بی بی کے گھر سے ہیں”
گھر سے”، شاہنواز کھٹک سا گیا ۔
ایزہ شانے اچکا گئ
میرے گھر سے کیسے ہو سکتا ہے کوئ ۔۔۔
وہ شاہنواز کی جانب دیکھنے لگی گویا پوچھ رہی ہو چلی جائے ۔
ہممم جاو تم میں دیکھ رہا ہوں”
وہ کیسے وہ مسکرائ ۔
شاہنواز نے ۔۔۔ سکرین اسکی جانب کر دی “
آپ نے کہاں کہاں کیمرے لگائے ہوئے ہیں’
ہاں تمھارے واشروم میں بھی ہے”
شاہ” وہ غش کھا گئ شاہنواز کا قہقہ ابھرا
نہیں تمھیں وہاں پرائیویسی دی ہے اب جاو اور جلدی او “
اسنے کہا تو وہ شکر ادا کرتی سر ہلاتی باہر آ گئ
سیڑھیاں اتر کر وہ ڈرائنگ روم میں آئ ۔۔
اور ایکدم قدم جیسے زمین میں دھنس گئے
ایزہ نے سوہا کی جانب دیکھا اور سوہا ایزہ کو دیکھتی رہ گئ
یہ وہ حسن تھا جس پر بدر زمان روز اسے طعنہ دے رہا تھا
لیکن وہ حسین ترین لگ رہی تھی
اور وہ پریگنینٹ تھی ۔۔۔
سوہا اسے دیکھتی رہ گئ
ایزہ کی آنکھقں میں ماضی کے اوراق جیسے بڑی ہی تیزی سے پلٹنے لگے ۔
دونوں ایک دوسرے کو اذیت سے دیکھ رہیں تھیں
ایزہ نے ہمت کر کے دروازہ بند کر دیا ۔
اور اسکے سامنے بیٹھ گئ ۔
سوہا خود با خود اسکے سامنے جھکتی جا رہی تھی ۔۔
اپنا جرم اسے اندر اندر کھا رہا تھا ۔۔
وہ آگے بڑھی ایزہ نے چہرہ جھکا لیا
یعنی وہ اسکی صورت دیکھنے کی روادار نہ تھی ۔۔۔
میں تم سے معافی مانگنا چاہتی ہوں”
مجھے آپ سے شکایت نہیں “
وہ بس اتنا ہی بولی ۔
خدا کے لیے مجھے معاف کر دو ایزہ “
وہ اسکے پاس بیٹھ گئ
اور ہاتھ جوڑ دیے
سوہا
۔ سوہا اسکے آگے ہاتھ جوڑے ۔۔ وہ حیرانگی سے آنکھیں کھولے اسے دیکھنے لگی
اسکی آنکھوں میں ا نسو تھے خوف تھا معلوم نہیں کیسی اذیت تھی جس میں مبتلا لگی تھی وہ
۔
ائزہ اسکے ہاتھ تھام گئ
مجھے معاف کر دو میں ۔ نے ظلم کیا تم پر”
وہ سسک اٹھی
تم جیسے سزا دینا چاہوں ویسے مجھے دے دو بس بس ایک بار”
بس ایک ہی چیز تم سے مانگو گی ۔۔
عمر “
عمر بھائ” وہ حیران رہ گئ
وہ کچھ نہیں جانتا وہ جان گیا تو مجھ سے نفرت کرے گا پلیز “
ایزہ نے سر جھکا لیا ہلکا سا مسکرائ
سارے راشتے چھین لینا چاہتی ہیں آپ مجھ سے”
وہ بولی جبکہ سوہا لب دبا گئ ۔۔
سب کچھ چھین کر آپ مجھ سے میرے بھائ کو مانگ رہی ہیں”
ایزہ میں “،
وہ جسے یہ تک اعتبار نہیں کہ اسکی بہن پاک دامن ہے جو شاید کبھی میری شکل دیکھتا ہے تو ڈپریشن میں چلا جاتا ہے ۔۔ “
وہ خود بھیگے لہجے میں بولی
آپ مجھ پر ایک رحم کھائیں اگر آپ چاہتی ہیں میں آپکی جانب سے دل صاف کر لوں ۔ انھیں یقین دلا دیں کے میں پاک دامن ہوں”
وہ بولی سوہا سر جھکا کر سر ہلانے لگی
ہاں میں ایسا ہی کرو گی ۔ بہت قیمتی یے عمر ۔۔ مجھے اندازا ہے ےمھارے لیے بھی میرے لیے بھی”
وہ بولی تو ایزہ مسکرا دی ۔ بس اتنے میں ہی وہ اپنا سارا غم بھلا گی تھی
اور بدر” سوہا نے اسکا نام لیا
ایزہ کو جیسے فرق ہی نہیں پڑا دل میں بھی کوئ خیال نہ آیا
میں شادی شدہ ہوں سوہا اپی اور اپنے شوہر سے بہت محبت کرتی ہوں ۔۔ اور “
شاید اپنے بچے کا بتا رہی تھی
سوہا مسکرا دی ۔
شرمندگی کی تہوں میں ڈوب گی
وہ خود بری تھی تبھی سب کو برا سمھجتی تھی ۔
چلتی ہوں ” اٹھ گئ
آپ کس کے ساتھ ائ ہیں اپکو میرے گھر کا کیسے پتہ چلا “
ایزہ اٹھی ۔
ایک بار ابو کے منہ سے سنا تھا شہر کے مشہور شخص کی بیوی ہو تم دیکھو ایزہ اللہ نے تمھیں کس طرح بھر دیا ۔۔۔
اور میں اسے پا کر بھی خالی ہاتھ ہوں”
اداسی سے مسکرا کر وہ باہر نکل گئ
۔
اور جیسے ائ تھی ویسے ہی چلی گئ
ایزہ چند لمہے دروازے کو دیکھتی رہی
۔۔
اور پھر بیٹھ گئ
۔
گھیرہ سانس بھرا اور باہر نکلنے لگی کہ شاہنواز کو دروازے میں پایا
شاہ آپ ہماری باتیں سن رہے تھے”
وہ منہ بنا کر بولی ۔۔۔
شاہنواز نے جھک کر اسکی پیشانی چومیں اور اسکے شانے پر ہر ہاتھ رکھ کر اسکے ساتھ دوسری باتوں میں لگ گیا ۔
شاید انسان کے اندر اپنی غلطی کا احساس جنم لے جائے تو اس سے بڑھ کر کچھ نہیں اسوقت شاہنواز کے اندر ماضی میں کیے گئے رویے کا دکھ سا بھرا تھا جو اسنے ایزہ کے ساتھ کیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کمرے میں بیٹھی ۔۔۔ تھی مکمل اندھیرہ تھا کمرے میں دل اداس تھا ہر بات کو لے کر شرمندگی تھی اسپر جو اسنے کیا
ہاں وہ وعدہ کر کے ائ تھی کہ وہ عمر کو سب بتا دے گی لیکن ۔ کیا پھر ۔
وہ خاموشی سے لیٹ گئ
حالانکہ ہوا بہت تیز تھی آج پھر بھی اسنے کمرے کی کھڑکی کھول کر کمرے کو برف کیطرح ٹھنڈا کر رکھا تھا ۔
وہ گھیری رات ۔۔ اور تیز ہوا کو شدت سے محسوس کرنے لگی ۔۔۔
تبھی دروازہ کھلا اور بدر کسی سے فون پر بات کرتے ہوئے داخل ہوا
جی ٹھیک ہے پھر انشاءاللہ میں اپکے پاس کل ہی چکر لگاتا ہوں”
سوہا نے اسکی جانب دیکھا اور سوتی بن گئ اسکا دل ہی نہیں تھا بدر سے بات کرنے کا وہ ۔
اسنے کال بند کی لائیٹ کھولی اور جھرجھری سی ائ تھی اسے اتنا ٹھنڈا کمرہ تھا آگے بڑھ کر اسنے کھڑکی بند کی مڑ کر دیکھا بنا کمبل کے وہ ویسے ہی لیٹی معلوم نہیں سو رہی تھی یہ پھر ویسے ہی لیٹی ہوئ تھی
بدر کو کمرے میں ٹھنڈک کے احساس نے چین نہ لینے دیا ۔
کیا پاگل لڑکی ہے کھڑکیاں کھول کر بیٹھی تھی ۔
وہ ادھر ادھر دیکھنے لگا تو احساس ہوا اسکے کمرے میں ہیٹر ہونا چاہیے تھا ۔
لیکن اب کیا کرتا ۔ وہ ۔ اسی سوچ پر پریشان ہوتا ۔ ادھر ادھر دیکھ رہا تھا پھر سوہا کی جانب دیکھا اور اسکے نزدیک آیا ۔
اسکا ہاتھ پکڑا
برف کیطرح ٹھنڈا تھا ۔
بے ہوش ہو گئ تھی کیا جو جاگی نہیں اتنی ٹھنڈ میں کیسے لیٹی ہوئ تھی اسنے ۔
اسپر کمبل ڈال دیا ۔
اور خود میں تو اپنی جیکٹ بھی اتارنے کی ہمت نہ تھی ۔
وہ اپنے شوز اتار کر سوکس سمیت ۔۔سردی سے پریشان ہوتا ۔
اسکے ساتھ کی کمبل میں گھس گیا سوہا کے وجود میں حرکت بھی نہ تھی ۔
اف ” وہ سردی سے پریشان تھا اسنے دوسرا کمبل اور ایک لحاف بھی دونوں پر ڈال لیا
اور وہ جیکٹ پھینک کر لیٹ گیا
سوہا نے اسکی پشت دیکھی ۔
اسے سردی لگ رہی تھی معلوم نہیں کیوں اسے ہنسی ا گئ ۔۔
کیونکہ وہ اسکی طرف کھسک رہا تھا ۔
اتنی سردی لگتی تھی اسے ۔
وہ جان بوجھ کر دور ہو گئ ۔۔
بدر نے مڑ کر دیکھا ۔۔۔۔
اور سیدھا لیٹ گیا
مجھے سردی لگ رہی یے پلیز اٹھو “
وہ بولا سنجیدگی سے جبکہ سوہا نے کروٹ نہ بدلی
تم سن رہی ہو یار سردی لگ رہی ہے”
تم بچے ہو ۔۔ جو شور کر رہے ہو ہو جائے گا کچھ دیر میں ٹھیک “
وہ بولی اور سکون سے لیٹ گئ
تمھیں نہیں لگ رہی”
نہیں اسنے سنجیدگی سے کہا اور بدر کچھ دیر کروٹ بدلتا رہا ۔ اور پھر تھک کر اسنے سوہا کی کمر میں ہاتھ ڈالا اسے کھینچ کر خود میں بھینچ لیا
لمبا سانس اسنے کھینچا اور مکمل اسکے ہاتھ پاوں کو خود سے جوڑتا وہ اسے اپنے قبضے میں کرتا ۔ خود کو ریلکس چھوڑ گیا ۔
ت
۔۔۔تممممم۔
۔ بہت بھاری “
اسنے کچھ کہنا چاہا
صبح تک تم سے حاصل کر لوں صبح ہوتے ہی کمرے میں ہیٹر لگوا لوں گا “
تم کتنے چیپ ہو صرف اپنی خواہش پر میرے نزدیک آنے کا سوچتے ہو
وہ اسے دور کرنے لگی جبکہ
بدر نے سر جھٹکا ۔
تمھیں سردی کیوں نہیں لگ رہی
کیونکہ میرے اندر وہ درد نہیں یے جو تم میں ہے دور ہٹو “
کچھ زیادہ ہی چیڑتی ہو میرے نزدیک آنے پر ۔ بہاو کھاتی ہو یہ ۔ کوئ اور بات یے”
اسکے سوال پر سوہا نے اسکی آنکھوں میں دیکھا
بہت قریب تھا وہ دل کیا ت ہر بات چھوڑ کر اسکےو اپنے بازو میں بھر کر محبت کی اس چھاوں میں بیٹھایا کہ ہر سردی گرمی سے محفوظ ہو جاتا ۔
کیونکہ تم ایک خوبصورت لڑکی ڈیزرو کرتے ہو پھر میرے پیچھے کس لیے پڑ گئے ہو “
میں کیا کروں میں حلال کھانے کا عادی ہوں”
وہ مزے سے بولا جبکہ سوہا نے سانس کھینچا
بدر تم واقعی بہت بھاری ہو پلیز دور “
بدر نے اسکی ٹھنڈی ہوتی ناک سے اپنی ناک مس کی
جسٹ فیل جو مجھے چاہیے وہ میں لے کر رہو گا تو تم بھی اپنی چونچ بند کرو کیونکہ سردی تمھیں بھی لگی یے”
ٹھیک یے ہمارے پاس ہیٹر ہے میں لگا لیتی ہوں “
تمھارے باپ کی تو اپنے کمرے میں روح بھی گھسنے نہ دوں تم ہیٹر کی بات کر رہی ہو “
ضد نہ کرو میں “
تم ضد کرنا بند کرو ۔ ۔ “
اسنے اسکی آنکھوں پر اپنا ٹھنڈا ہاتھ رکھا اور اسکے چہرے پر اہستگی سے اپنا چہرہ مس کرتا سہلاتا ہونٹوں پر ٹہر گیا ۔
سوہا محسوس کر سکتی تھی سب ۔
وہ دور ہونا چاہتی تھی لیکن بدر تو اسپر چھایا ہوا تھا ۔
اسنے ۔ اسکے کانوں کو چھوا سوہا کے وجود میں واقعی حدت سی بھرنے لگی وہ سمٹنے لگی تھی اس میں اسکی آنکھیں بند تھیں
وہ بہت خوبصورت تھا سوہا دیکھ سکتی تھی اسے بند آنکھیں کیے وہ اسکو چھو رہا تھا ۔
کہیں دماغ میں ایزہ تو نہیں “
جیسے وہموں نے اسے جکڑا
اب ہلنا مت سوہا “
ایکدم خوشی کا احساس اسکے وجود میں بجلی کی طرح کندہ
ممکن تھا مدہوش لمہوں میں وہ اس شخص کا نام لیتا جسے سوچ رہا تھا ۔
لیکن نہیں اسنے اسکا نام لیا جسے ۔ وہ چھو رہا تھا ۔۔۔
اسکے گال اسکی گردن
بدر کے ٹھنڈے چہرے پر اسنے جھرجھری سی لی ۔۔
اسنے ایک ائ برو اچکا کر دیکھا
اور بدر نے اسکی گردن کو اپنے ہونٹوں کے گھیرے نشانوں سے سجا دیا
سوہا کی بڑھتی سانسیں ۔
بدر کے اندر بھی بے چینی بھرتی تھیں اور ابھی وہ ۔ شاید ہر حد پار کر گزرتا کہ ۔
اچانک دروازہ بجا بدر نے آنکھیں کھولیں
سوہا کی جانب دیکھا جو اس سے نگاہ بچا رہی تھی
اور تیزی سے بجنے والے دروازے پر سوہا بھکلا گئ
نہیں جانا کہیں بھی
اے سوہا دروازہ کھول تیرا باپ کھڑا ہے”
تائ جان کی آواز پر بدر نے مٹھیاں بھینچ کر اسکو دیکھا
وہ ” سوہا نے کچھ کہنا چاہا
میں نہیں کھولوں گا “
بدر نے کہا اور اسے مزید زور سے جکڑا
بدر پلیز ہو سکتا ہے کوئ کام ہو
تم سے کیا انکے پاس اپنا شیطانی دماغ کم ہے جو تمھارا استعمال کر کے انھوں نے اپنی بھوتیا طاقت بھڑانی ہے
ہو گی فضول گوئ” وہ غصے سے بولی
ہاں تمھارے بماں باپ تمھارے سگے ہیں اچھی بھلی کچھ سردی تھمی تھی
تھم جائے گی آگے بھی چند لمہے نکل جانے سے دوبارہ برف نہیں ہو جاو گے” وہ بولی تو بدر نے آنکھیں سکیڑ کر اسکی جانب دیکھا اور گھیرہ سانس بھرتے دونوں نے دروازے کو دیکھا جو کہ ابھی ٹوٹ جاتا حالات ایسے تھے
