Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 77

ہر ممکن کوشش کے باوجود عمر ساز سے بات نہ ہی کر سکا تھا نہ ہی اسنے منا سکا تھا ۔۔
کچھ دنوں بعد ایزہ گھر ا گئ تھی ۔۔ وہ مکمل بیڈ ریسٹ پر تھی اسکے آگے پیچھے ۔۔ چھتیس ملازمائیں شاہنواز نے رکھوا دیں تھیں ایزہ خاموشی سے بس اسے دیکھتی شاہنواز اسکے سارے کام خود کرتا اور ابھی بھی کیارا نے اسے رو رو کر تھکا دیا تھا بھلا کتنا ہی باپ سے اٹیچ ہو اسے ماں کی ضرورت تو ہر صورت تھی ۔۔ ایزہ نے اہستگی سے کیارا کو مانگا تھا اس سے ۔۔۔
نہیں یہ تمھیں تنگ کرے گی تمھیں پین ہو گا تم دیکھو میں اسے چپ کرا لوں گا ” وہ روتی ہوئی کیارا کو سنبھالتا پھولے سانسوں میں بولا تھا ۔۔۔
آپ مجھے دے دیں ائ تھنک اسے بھوک لگی ہے “
ایزہ نے کہا تو شاہنواز نے کیارا کی جانب دیکھا واقعی اسے خیال ہی نہ ایا یہ تو ۔۔
وہ ایزہ کے پاس لایا اور فیڈر بنانے لگا اسنے کیارا کو ایزہ کے پہلو میں جیسے ہی لٹایا وہ اچک اچک کر ایزہ پر چڑھنے لگی ۔
ایزہ اپنی ٹانگیں ابھی موو نہیں کر سکتی تھی اسنے پھر بھی کیارا کو اپنے اوپر کر لیا
دل میں سکون سا اتر گیا اسے شاید شاہنواز پر یقین تھا وہ سچ کہہ رہا تھا لیکن دل میں ایک سوال تھا ذرا خوفزدہ سا جو وہ پوچھنا ہی نہیں چاہتی تھی ۔۔
وہ سوال کرتی کہ وہ کس کی بیٹی ہے تو معلوم نہیں کون سی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا اسنے کیارا کو سینے سے لگا لیا وہ اہستگی سے ماں کے سینے پر سر رکھے فیڈر پیتے آنکھیں بند کر گئ ماں کی خوشبو ایسی ہی ہے کہ اولاد کو ہر قسم کا سکون میسر آ جاتا ہے ایزہ نے بھی آنکھیں بند کر لیں
اسکی بیٹی کا باپ موجود تھا اسکی بیٹی کے پاس ایسا کوئی سوال نہیں تھا کہ وہ کس کی بیٹی ہے ۔۔ اور نہ ہی اسکے اپنے اندر ایسا کوئی سوال تھا ۔۔ اسکے دل میں کوئی خواہش نہیں تھی وہ ناز کو دیکھو اپنے باپ کی موت کا ذکر کرے یہ کچھ بھی وہ خاموشی سے کیارا کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگی شاہنواز اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
تم تھک جاو گی ” اسنے کیارا کو اتارنا چاہا
مجھے سکون مل رہا ہے ” اسنے شاہنواز کی جانب دیکھا ۔
تم پریشان کیوں ہو رہی ہو میں سچ بول “
شاہ ” اسنے شاہنواز کے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی
مجھے جاننا نہیں اپکا ماضی اپکو پتہ ہے آپ نے مجھ پر بھروسہ کیا تھا اور دنیا کے واحد انسان تھے اپ جس نے مجھ پر میرے ماضی کو جان کر بھروسہ کیا اور کہا کہ میں انکھوں دیکھے پر یقین رکھتا ہوں ۔
حالانکہ وہ سب سچ تھا جو اپکو بتایا گیا سب حقیقت تھی اپ نے بھروسے کا رشتہ بنایا تھا میرے اور اپنے درمیان سب سے پہلے ۔۔
مجھے بھی آپکے ماضی کے بارے میں نہیں جاننا یہاں تک کے یہ بھی نہیں اگر میں ناز کی بیٹی نہیں تو کس کی اولاد ہوں ۔
میں صرف شاہنواز سکندر کی بیوی اور کیارا شاہ کی ماں ہوں بس اتنی پہچان کافی ہے ۔۔اور اور ۔۔ ارہم بھائ نے اچانک سب بتایا تو کافی جھٹکا لگا تھا دماغ کو دل کو شاید تب ہی پاگل ہو گئ تھی ۔۔۔
اور دیکھیں ہاتھ پاوں ٹوٹوا لیے ” وہ منہ بنا گئ
تم ٹھیک ہو جاؤ گی تھراپیسٹ آئے گا کل وہ تمھاری ایکسرسائز بتائے گا پھر اسی حساب سے ایکسرسائز کرو گی اور میں نے ڈاکٹر سے پوچھا ہے ۔۔
انشاءاللہ ایک مہینے میں بھاگو گی تم اس گھر میں ” وہ اگے بڑھ کر اسکی پیشانی چوم گیا کیارا سکون سے سو گئ تھی جبکہ ایزہ مسکرا دی اور سر ہلایا پھر کچھ یاد ایا ۔
لیکن یہ جو چار مہینے بلاوجہ مجھے سزا دی گئ ہے اس کا حساب کتاب الگ ہے شاہنواز سکندر ” وہ گھور کر بولی ۔
حکم سر آنکھوں پر سرکار ” وہ بے ساختہ اسکے ہونٹوں پر جھکا اور ہلکا سا چھو کر دور ہو گیا ۔
آہ کب تم مجھے میسر ہو گی کہ میں اپنی تھکان اتار سکوں ” گھیری نظروں سے اسے دیکھتا وہ بولا تھا ایزہ کے چہرے پر ۔۔ گلال سے کھلے ۔۔۔۔۔
اور تبھی دادی جان وہی بنا دروازہ بجائے اندر ا گئیں ۔۔ انکے ساتھ عمر بھی تھا ۔
آئے ہائے اتنی کوئ بدتمیز ہے یہ ساز تو مجھے لے چل میں دیکھ اسکا دماغ کیسے سیدھا کرتی ہوں میرے بچے کو دیوانہ بنا رہی ہے ۔۔ “
وہ جھلا کر بولیں
ہاں ہاں یہ ہی بات ذرا سیدھا کریں نہ اسے دیکھتی تک نہیں میری طرف میری آنکھیں ڈال ہو گئیں ہیں قسم سے ایک مہینے سے بس ایک لفظ بات کے لیے ترس رہا ہوں” وہ غمزدہ ہو کر دادی جان کے شانے پر سر رکھ گیا ۔۔۔
ہائے بچہ یہ لونڈیاں صرف پاگل کرنے کو آئیں ہیں دنیا میں عقل وقل تو ہے نہیں ان میں شوہر کا حکم تو سر آنکھوں پر ہوتا تھا ہائے ایک ہمارا زمانہ تھا جہاں شوہر نے حکم دیا سر جھکا دیا “
وہ کونوں کو ہاتھ لگاتی بولیں تھیں شاہنواز نے ایزہ پر سے کیارا کو ہٹا کر ایکطرف لٹایا اور خود دوسرے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر بیٹھ گیا ۔
اس نواب زادہ نے اپنی مرضی کی کہانی سنائی ہو گی اپکو ۔۔۔ چار ماہ سے غائب تھا اس بچی کا کیا قصور ہے جو ہر بار اس کے غائب ہونے پر وہ اسکے انتظار میں پلکیں بچھائے رو رہی ہے وہ یہ ڈیزرو کرتا ہے “
یہ تو میرے دشمن ہو گئے ہیں اسی کی سائیڈ لیں گے آئے بڑے ” عمر بھڑکا جبکہ شاہنواز نے سر جھٹکا ۔
ہائے شاہنواز ایسے تو نہ کہہ میرا معصوم بچہ ہے ۔۔ کیا ہو گیا بھول چوک تو معاف ہوتی ہے
جی دادی بھول چوک معاف ہوتی ہے مگر مجال ہے کوئی سمجھے”
آپ کو تو اس سے بھی بری سزا ملنی چاہیے”
تم تو منہ بند کرو اپنا ” وہ غصے سے کوشن پھینک کر بولا
جبکہ ایزہ چلانے لگی
شاہ ” وہ چلائی دوسری طرف شاہ نے عمر کو گھورا عمر سر جھٹک گیا ۔
دادی جان ہولے ہولے ہنس رہی تھیں انکے گھر اسکے انے سے رونق لگ جاتی تھی وہ اب بھی منہ بسور انکے شانے پر سر ٹکائے بیٹھا تھا
دادی جان کوئی اپنے زمانے کی ٹیپس ہی دے دیں “
ہاں جانے میرا بچہ مسجد جاتا اللّٰہ سے مانگ دیکھو کیسے تار کیطرح سیدھی ہو گی ” شاہنواز نے اپنی ہنسی روکنے اور ایزہ کھلکھلا دی شاہنواز کو جیسے دلی سکون ملا تھا اسکی کھلکھلاہٹ سے
یہ بات سب سے اچھی کہی ہے آپ نے نماز تو پڑھتے نہیں محبت کرنے چلیں ہیں “
میں اب کچھ اور مارو گا تمھارے منہ پر اسکا منہ بند کرائیں اوور ہو رہی ہے بہت ” وہ شاہ پر بھڑکا
ایزہ ” شاہنواز تو بس ان دونوں کی جنگ میں ان دونوں کو ٹوکنے کے لیے بیٹھا تھا ۔
ہیں تو نماز نہیں پڑھتا ” دادی جان نے مڑ کر دیکھا ۔۔
وہ منہ بنائے بیٹھا تھا شاہنواز ہنسنے لگا ۔۔۔۔۔
اور ابھی بات جاری ہی تھی کہ سوہا نجمہ ساز ۔۔ بھی ا گئیں وہ تینوں ایزہ کی طبعیت پوچھنے اکثر آتی تھی اج تو صنم بھی ساتھ ہی تھی ۔
واہ ماشاءاللہ ماشاءاللہ ۔۔۔” عمر ساز کو ڈارک بلو کلر کے ڈریس میں دیکھ کر ایک دم چہکا کتنی پیاری ہوتی جا رہی تھی ہر گزرتے دن کے ساتھ لیکن مجال ہے اسے دیکھتی بھی ہو
ساز ماں کے پیچھے چھپ گئ ۔۔
ان سب نے سلام کیا ساز نے ایزہ کو پھول دیئے جسے عمر نے اچک لیا
تھینکیو ” وہ دانت نکال کر بولا
یہ میرے لیے ہیں” ایزہ نے دانت پیسے
شیٹ اپ ” وہ اسکی جانب دیکھتے بولا ۔۔۔ ساز رخ ہی موڑ گئ ۔
وہ سب ہی بیٹھ گئے ساز کا دل کیا اٹھ کر چلی جائے لیکن وہ چلی جاتی تو وہ اسکے پیچھے آ جاتا تبھی وہ منہ موڑ بیٹھی رہی تھی نجما سوہا صنم ایزہ کی طبعیت پوچھ رہے تھے وہ کچھ نہیں بولا تھا ساز نے بھی اسکی طبعیت پوچھی
تم ٹھیک ہو ایزہ اگر کوئی کام ہو تو مجھے بتائیے گا آپ میں ا جاو گی”
ہاں بالکل آپکی ضرورت تو پڑتی رہتی ہے ہمیں آپ منہ ہی نہیں لگا رہی” وہ اسکے سامنے آ گیا
امی گھر چلیں ” ساز غصے سے بولی
عمر شرافت سے جا کر بیٹھ جاو “
ایک بچے کا باپ بننے والا ہوں اور عزت کوئی نہیں ہے میری “۔سرد آہ بھر کر وہ صوفے پر بیٹھ گیا
میں ٹھیک ہوں ہاں لیکن ا جایا کرو ” ایزہ نے مسکرا کر کہا ۔۔
تو عمر نے اسے پیچھے پیچھے سے ہی تھمبز آپ دیکھایا اصل بہنوں والی بات تو اب کی تھی اسنے ۔۔۔
ہاں میں کہتی ہوں مگر اسکی طبعیت ہی ٹھیک نہیں رہتی سوہا نے کہا
نہیں میں ا جاو گی طبعیت کا کیا ہے ” وہ اہستگی سے بولی تو ایزہ سر ہلا گئ ۔۔
کیارا کو دیکھ کر ساز کیارا کی جانب بڑھ گئ
آپ تو کچھ بولیں “
عمر تیری ہی غلطی ہے اس بچی کی معصوم شکل دیکھ کر مجھے ہو گیا ہے احساس ” دادی جان نے کہا تو عمر نے انھیں آنکھیں گھما کر دیکھا
تو مان تو رہا ہوں دادی جان پھر وہ شوہر کا حکم کہاں گیا کیسی دھوکے باز نکلی آپ بھی ” وہ بھڑکا
اچھا بس بس ” وہ ہاتھ اٹھا کر بولی
ساز دہی ادھر آ” دادی جان کی بات پر اسنے دادی جان کی جانب قدم بڑھا دئے جبکہ دوسری طرف عمر تھا بیٹھا مگر وہ بد تہذیب نہیں تھی ۔
میری بچی تو بلکل ٹھیک کر رہی ہے ” انھوں نے اسکی پیشانی چوم لی شاہنواز کا قہقہہ ابھرا جس میں باقی سب کے بھی شامل تھے جبکہ ساز سنجیدہ ہی تھی عمر کا منہ لٹک گیا دادی جان کے دھوکے پر ۔ ۔۔جبکہ وہ غصے سے اٹھا اور باہر نکل گیا
لو ہو گیا اب وہ ناراض “
ہو جائے موا بچی کو چار مہینے کھپا کر اب دو منٹ میں اسکو راضی کرنا چاہ رہا ہے ” دادی جان نے کہا تو شاہنواز نفی میں سر ہلانے لگا ۔
بچوں کیطرح بعض اوقات بیہیو کرتی تھیں وہ بھی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت کوشش کے باوجود بھی ساز ماننے کے لیے تیار نہ تھی جبکہ عمر لاونج میں بیٹھا یہ ہی سوچ رہا تھا کہ آج تو اسے پکڑ کر ہی مانئے گا وہ بار بار اسکے کمرے کے دروازے کیطرف دیکھتا تبھی ۔۔
بدر مسکراتا ہوا کمرے سے نکلا ایسی آگ لگی نہ اسے مسکراتا دیکھ دل کیا اٹھا کر کچھ مار دے اسکے منہ پر یہ منحوس ہی تھا جس نے اسکی زندگی کو سٹاپ لگایا تھا سوہا بھی پیچھے سے آئ تھی عمر نے منہ پھیر لیا ۔
ماشاءاللہ ” نجما نے سوہا کے ہاتھ سے دونوں بچوں کو لیتے پیار کرتے کہا تھا اسکے بچے تھے بھی بہت پیارے اکثر لاونج میں دونوں لیٹی ہوئی ہوتیں تو عمر خود بھی انکیطرف بڑھ جاتا اور دونوں کو پیار کرتا ۔۔ سوہا یہ دیکھ کر لمہہ بھر کے لیے حیران ہوئی تھی لیکن پھر رشک آیا اسے اپنے بچوں پر حالانکہ اسکے دونوں بچوں کے رنگ اپنے باپ پر بلکل نہیں گئے تھے انکا سکن شیڈ سوہا جیسا بھی نہیں تھا
اور سوہا نے شکر ادا کیا تھا وہ وہ نہ اسپر گئ ہیں انھیں اپنے باپ پر انھیں جانا چاہیے تھا لیکن وہ بہت پیاری تھیں دونوں بلکل ایک جیسی تھیں ۔۔۔
اکثر عینہ اور مینہ کا فرق سب گھر والے بھول جاتے تھے ۔۔۔۔
عمر تو نگاہ پھیر چکا تھا جبکہ دوسری طرف بدر نے ماں کو بتایا کہ وہ سوہا کے ساتھ باہر جانا چاہتا ہے عمر تو ایکدم پلٹا ۔۔ اور سوہا اسکے پلٹنے پر شرمندہ رہ گئ اور بدر نے اسے اگنور ہی کیا
یہ کیسے ممکن ہے میری زندگی میں گھن لگا کر تم ہنی مون بنانے چلو ہو سالے صاحب بس نیوے نیوے ہو کر رہو ” وہ بھڑکا اور نجما کے پہلو میں کھڑا ہو گیا نجما ابھی کچھ بولتی کہ بدر نے انکھیں سکیڑ کر دیکھا
میں اپنی بیوی کو چھوڑ کر نہیں جاتا “
اور میں اپنی بیوی کو مارتا نہیں ہوں سو چپ چاپ یہیں رہو واہ بھئ دوسروں کے ارمانوں کا خون کر کے چلا ہے ہنی مون بنانے منہ نہ توڑ دوں” وہ اگ بگولہ ہی ہو رہا تھا ۔
بدر نے کوئی جواب نہیں دیا اور سوہا بھی خاموش ہو گئ جبکہ نجما ہنس دی تھی ۔
آنٹی آپ ہی کچھ کر دیں میرے لیے ” اسنے نجما کے ہاتھ سے دونوں بچے لے لیے نجما کو خود اسپر ترس ایا لیکن اب تو ساز اسکی بھی نہیں مان رہی تھی
بہت اچھا ہو رہا ہے تمھارے ساتھ ” بدر نے اپنے بچوں کو اس سے لیا ۔
دل تو کرتا ہے تیرا منہ توڑ دوں لیکن کیا کروں ” وہ بے چارگی سے مٹھیاں بھینچ گیا تھا جبکہ بدر اپنے بچوں میں لگ گیا تھا ۔
چلو ساز کو بلاؤ شاپنگ پر چلنا ہے اسنے ” بدر نے کہا عمر تو جلدی سے مڑا کہ اب وہ باہر آئے گی سوہا ہنستی ہوئی ساز کو پکارنے لگی
جو ہنسے میری بے بسی پر وہ میرا دشمن ہے “
وہ گھور کر بولا تھا لیکن مجال ہو کسی کو اسکی کسی بات سے فرق بھی پڑتا ہو ساز کمرے سے نکلی اور سوہا کے ساتھ باہر لون میں ا گئ ۔
بدر بھی نجما کو دونوں بچوں کو دے کر اٹھ گیا
وہ سب گاڑی میں سوار ہوئے ۔
یہ وہ ہی گاڑی تھی جو سوہا کو عمر نے دی تھی عمر خاموشی سے ان لوگوں کو دیکھ رہا تھا ساز پیچھے بیٹھ گئ اور ساز کے بیٹھتے ہی ۔۔ عمر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا
میں بھی چلوں گا میری گاڑی ہے ” وہ ضدی بچے کیطرح بولا سوہا کی تو ہنسی ہی بند نہیں ہو رہی تھی بدر جانتا تھا وہ ڈھیٹ آدمی ہے گاڑی میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھا سوہا ساز کے ساتھ بیٹھی اور ساز ابھی گاڑی سے اترتی کہ عمر نے گاڑی کو لاک کر کے گاڑی اگے بھگا لی ۔
اسنے باقائدہ شیشہ سیٹ کیا تھا اسے دیکھنے کے لیے ۔۔۔۔
ڈرائیونگ کر لو ہمارے بچے ابھی چھوٹے ہیں ہم نے مرنا نہیں ہے”
سوہا نے اسکے بازو پر تھپڑ مارا لیکن عمر نے ہاتھ جھٹکا اور گاڑی میں گانا چلا دیا
سکون سے سونگ ( پی لوں تیرے ہونٹوں کی شبنم پی لوں) لہک لہک کر گا رہا تھا جبکہ بدر نے گھور کر میوزک بند کر دیا
یہ کیا بیہودگی ہے ” وہ چیڑ کر بولا ساز میں تو ہمت ہی نہ تھی آنکھیں بھی اٹھاتی جبکہ ۔۔ عمر نے اسکی جانب دیکھا
تمھارے ٹوئنز ہوئے تو میں نے پوچھا کہ یہ کیا بیہودگی تھی “
شیٹ اپ عمر “
یو شیٹ اپ سالے ہو سالے بن کر رہو میرے ابو کی جگہ سنبھالنے کی ضرورت ” وہ رک گیا کیونکہ ساز اسے دیکھ رہی تھی
اچھا ٹھیک ہے ” فورا سنبھال کر مسکرانے لگا
تمھیں درحقیقت یہ ہی ٹھیک کر سکتی ہے ” بدر کو بھی ہنسی ا گئ تھی جبکہ عمر نے مٹھیاں بھینچ لیں ۔
ساز نے نگاہ جھکا لی وہ انھیں زبردستی مال میں لے ایا تھا اور وہاں سے بدر سوہا اور ساز بچوں کی کچھ شاپینگز کے لیے نکل گئے جبکہ عمر گاڑی میں ہی رہا وہ ۔۔ پریشان تھا آخر کو یہ لڑکی مان کیوں نہیں رہی اوپر سے ہاتھ نہیں لگتی ۔
بھائ گجرے لے لے اپنی بیوی کو دے دیو ” ایک بچی بولی تھی خوبصورت گجرے اسنے اسکے آگے بڑھائے ۔۔۔
بیوی مان ہی نہیں رہی کیا کروں ” وہ معصومیت سے بولا وہ بچی منہ پر ہاتھ رکھتی اسکی معصومیت پر ہنسنے لگی عمر بھی مسکرایا اور اسے پیسے دے ۔۔۔
اچھا میرا ایک کام کرو یہ جا کر اس باجی کو دے دو کہو سوری “
وہ بولا وہ موٹی باجی”
ہاں موٹی ” عمر ہنسا ۔
جبکہ وہ بچی بھاگ کر ساز کے پاس ائی اور اسے گجرے دیتی سوری کہنے لگی
ساز اسے حیرانگی سے دیکھتی گجرے تھام گئی اسے گجرے اچھے لگے تھے اسکے لبوں پر مسکراہٹ سی پھیلی ۔۔
آپ مجھے سوری کیوں کر رہی ہو ” وہ اس بچی سے بولی
وہ تیرا شوہر ہے نہ بجی بہت سوہنا ہے معاف کر دے اسے پلیج ” وہ اٹھلا کر بولی جبکہ ساز نے سر اٹھ کر عمر کی طرف دیکھا وہ اسے فلائنگ کس دے گی ساز نے وہ گجرے تو اس بچی سے لے لیے مگر اندر چلی گئ وہ بچی منہ بنا گئ
بڑی نکھریلی ہے تیری بیوی “
ہاں اسے نکھریلی بنانے والا بھی تو میں ہی ہوں” وہ بولا جبکہ دونوں اب اور طریقے سوچ رہے تھے تو اسے چااااکلیٹ دے “
چاااکلیٹ سے پٹنے والی نہیں ہے ” عمر بولا ۔۔
جبکہ اور بچے بھی اسکے ارد گرد اکٹھے ہو گئے عمر کو ایک ترکیب سوجی اسنے سارے بچوں کو جھک کر کچھ سمجھایا تھا اسکی شرارتی انکھوں میں بہت کچھ تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ڈاکٹر کے پاس گئ تھی ویسے تو اسے یہ جاننا نہیں تھا کہ اسکی گود میں بیٹا آئے گا یہ بیٹی دونوں ہی اسکے لیے قیمتی ہوتے لیکن بیٹے کی خبر سن کر وہ شاپنگ کرنے آ گئ
اور وہ پیارے پیارے کپڑے خرید چکی تھی ۔۔
مسکراتی ہوئی باہر ا گئ سوہا اور بدر بھی اسکے ساتھ ہی تھے ۔
گجرے اسنے ہاتھوں میں ڈالے ہوئے تھے ایکدم وہ باہر نکلے اور رک گئے
پھول ہی پھول بکھرے ہوئے تھے عمر خیام بوکے پکڑے بیچ میں بیٹھ تھا جبکہ وہ سارے بچے ہاتھ میں کلیاں پکڑے کھڑے تھے
باجی بھائی کو معاف کر دو ” اردگرد کے لوگ مسکرا کر یہ منظر دیکھ رہے تھے عمر نے تو معصومیت کی انتہا کر کے اسے دیکھا
بدر نے ساز کی جانب دیکھا اور سوہا تو بہت ہی خوش ہو گئ
ساز اب تو معاف کر دوں عمر خیام اپنے گھٹنوں پر ا گیا ہے ” وہ اسے جھنجھوڑ کر بولی بدر کی بھی انکھوں میں نرمی اور رعایت تھی سب لوگ ساز کی بات کے منتظر تھے لیکن وہ آرام سے سیڑھیاں اترا کر اسکے عین ساتھ سے گزر کر گاڑی میں بیٹھ گی
عمر نے مڑ کر دیکھا ۔۔
اور مسکراہٹ سمٹ گئ وہ کھڑا ہو گیا ہاتھ جھاڑے بچے بھی اداس ہو گئے اسنے سب بچوں کو پیسے دیے اور خود بھی گاڑی میں بیٹھ گیا بدر اور سوہا بھی وہ چاروں خاموش ہو گئے تھے ساز باہر دیکھ رہی تھی اسنے عمر کیطرف نہیں دیکھا تھا انھیں گھر چھوڑ کر عمر ۔۔ دوسری گاڑی لے کر باہر نکل گیا ۔۔
تمھیں کیا ہو گیا ہے ساز ” سوہا نے کہا جبکہ بدر نے ٹوک دیا
زبردستی نہ کرو اسکے ساتھ ” وہ بولا تو سوہا سر ہلا گئ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔