Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 08

ساز نے رو رو کر برا حال کر لیا تھا صوفیا اور صنم افسوس سے اسے دیکھ رہیں تھیں
بہت برا کیا ہے تایا جان نے اس طرح کوئ اپنے شرابی بیٹے کو زبردستی کسی کے ساتھ باندھ سکتا ہے” صنم بولی جبکہ ساز نے رو رو کر آنکھیں سوجھا لیں تھیں
پلیز تم دونوں کچھ کرو مجھے عمر خیام سے شادی نہیں کرنی اور اور مجھے ابھی تو شادی نہیں کرنی میرا ریزلٹ میری پڑھائ” وہ چہرے پر ہاتھ رکھے رو دی
ہم کیا کر سکتے ہیں بدر بھائ بھی تو خاموش ہو گئے ہیں تم بدر بھائ سے بات کرو ” وہ دونوں بولیں
تو ساز بے سر ہلایا اسکی جان سولی پر لٹک گئ تھی گھر کا سب سے گندا لڑکا تھا عمر خیام ۔۔۔
جو نشے میں ہر وقت دھت رہتا ہر وقت گھر سے باہر ہوتا اور نہایت بدتمیز ہونے کے ساتھ ساتھ اسکے اندر احساس نام کی چیز نہیں تھی اسے کسی کے بھی ہونے نہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا تھا تبھی وہ شادی کے لیے مان گیا تھا
ساز کا دل بیٹھے جا رہا تھا ۔
ایسا تو نہیں ہوتا نہ اسنے ایسا کیا کیا تھا جو اسے بدلے میں عمر خیام مل رہا تھا وہ تو عمر جیسی بھی نہیں تھی
کیونکہ ہر انسان کو ویسا ہی شخص ملتا ہے جیسا وہ خود ہوتا ہے وہ تو ایسی بلکل نہیں تھی پھر اسے عمر خیام کیوں مل رہا تھا وہ نیچے ائ صوفیا صنم بھی پیچھے سے اسکے ساتھ ہی اتریں تھیں اسنے ادھر ادھر دیکھا سوہا اچانک سے دیکھ کر مسکرا دی
ارے ساز او او ” وہ اسے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کرنے لگی مگر ساز صرف بدر کو ڈھونڈ رہی تھی جو معلوم نہیں کہاں غائب تھا ۔
وہ باہر ائ تو وہ اپنی بائیک کو دیکھ رہا تھا
بھائ” اسکی روندی ہوئ آواز پر پلٹا
وہ ساز سے نگاہ چرا گیا وہ خود ہی دوڑ کر اس تک پہنچی
بھائ پلیز ایسا مت کریں مجھے نہیں کرنی عمر خیام سے شادی وہ اچھا انسان نہیں ہے بھائ آپ کہیں نہ کچھ آپ تایا جان سے بات کریں میں نے ایسا کیا کیا ہے مجھ پر یہ ظلم نہ کریں” وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی بدر کا دل ہلا چکی تھی اسنے اسے سینے سے لگا لیا جبکہ وہ بچوں کیطرح رو دی
تمھارے حق میں اچھا ہو گا وہ ” وہ آہستگی سے بولا
نہیں بھائی وہ اچھا نہیں یے وہ ہر وقت شراب پیتا ہے اور اور صنم بتا رہی تھی لڑکیوں سے تعلقات بھی رکھتا ہے اپ مجھے اسکے ساتھ کیسے بندھ سکتے ہیں” وہ بولتی جا رہی تھی جبکہ بدر نے ایک گھیرہ سانس اندر اتارا
ساز بچے رونا بند کرو جلدی سے پہلے پھر بات کرتے ہیں”
ب۔۔بھائ مجھے شادی نہیں کرنی” وہ سسکیاں لیتی بولی
اچھا ٹھیک ہے او ادھر او ” وہ اسے چئیر پر بیٹھا گیا
ہو سکتا ہے وہ ویسا نہ ہو جیسا ہم سمجھتے ہیں سب” وہ بولا
آپ حمایت لے رہے ہیں ایسے انسان کی جس سے کوئ امید نہیں جو اپنے قدموں پر ٹھیک طرح چل نہیں پاتا وہ جوا بھی کھیلتا ہے” وہ جیسے دل ہار کر روئ تھی
بدر یہ سب جانتا تھا اسنے ساز کو پھر سے سینے سے لگا لیا اسکے پاس خود کوئ الفاظ نہیں تھے وہ کیا کرتا اسکے لیے ایک بے بس انسان تھا وہ اسے شدید غصہ چڑھا تھا
ابھی وہ مزید کچھ بولتا کہ تائی جان ا گئیں پیچھے نجما نے سارے شاپر پکڑے ہوئے تھے جبکہ ثروت اور تائی جان خالی ہاتھ باتیں کرتی ا رہی تھیں اور اسکی ماں کے چہرے پر تھکاوٹ ہی تھکاوٹ تھی دونوں بہن بھائیوں نے ماں کو دیکھا ساز اپنا غم بھلائے ماں کیطرف بڑھی اور اسکے ہاتھ سے بھاری سامان لے لیا
وہ سب اندر چلے گئے اور بدر کو لگا وہ اس وقت غصے سے پاگل ہی نہ ہو جائے ۔
بس لے لیا جوڑا دو جوڑے ٹھیک ہیں مہنگائ تو دیکھو کیسے سر کو رہی ہے دو ہزار میں تو کچھ ملا ہی نہیں۔۔۔ پانچ ہزار کا جوڑا آیا ہے تمھارا دیکھ لو بس اب اپنی قسمت” وہ ساز کو بولیں جبکہ ساز نے کوئ جواب نہیں دیا
آئے ہائے یہ شکل پر منحوست کیوں طاری کی ہوئ ہے
دلہنوں کا یوں رونا دھونا اچھا شوگن نہیں ” وہ جھڑک گئیں ساز نے انکی جانب دیکھا
مجھے عمر خیام سے شادی نہیں کرنی وہ شرابی ہے” اندر داخل ہوتے عمر کے قدم اس معصوم سی ڈری سہمی آواز پر رکے اور اسنے آواز کے تعاقب میں دیکھا
اس لڑکی کی پشت دیکھائ دی تھی وہ سیگریٹ لبوں میں دبائے ہنس دیا اور اندر چلا گیا جبکہ سیگریٹ کی بدبو جب پھیلی تو سب نے مڑ کر دیکھا اور ساز کو مزید رونا آیا ۔
سن لیا اسنے کیسے منہ پھاڑ کر بولی ہے تو ہاں ۔۔۔ کیا تربیت ہے بھئ نجما تمھاری واہ واہ کوئ لحاظ کوئ پردہ کوئ شرم نہیں دور دور تک نہیں” تائی نے اٹھ کر اسکے تھپڑ جڑ دیا ۔۔۔۔
ساز صوفے پر گیری
بھابھی بچی ہے” نجما تڑپ کر آگے بڑھی
مر جانیے کی اج شادی ہو جائے کل کو دس بچے کر لے گی بچی ہے زبان کو لگام دے اپنی ۔۔۔
تیرے تایا نے سن لیا زبان کھینچ لیں لے گے اسکی بے حیا” وہ چیخنے لگیں جبکہ ساز ماں کے سینے میں چہرہ چھپائے رو دی
اسکے پاس کوئ حل ہی نہیں تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اجی میں کہتی ہوں یہ جو ہفتے بعد کی تاریخ ہے اسے دو دن کے بعد ہی کر دیں آوارہ لڑکی ہے زبان کھل گئ ہے اسکی”
رات کا کھانا کھاتے ہوئے تائی جان بولیں تو سب نے تائی جان کی جانب دیکھا وہاں عمر موجود نہیں تھا اور تایا جان نے عین حسب عادت بدر کو کھانے کے وقت کسی کام سے بھیج دیا تھا
تایا جان کی نگاہ اسے اپنی پیٹھ پر بھی محسوس ہو رہی تھی ساز سے لقمہ بھی حلق سے نہیں اترا اسنے صنم اور صوفیا کو دیکھا جو چپ چاپ کھا رہیں تھیں جیسے اسکی کچھ نہ لگتی ہوں
بھابھی بچی ہے بچے تو ایسی باتیں بول”
چپ” تایا جان کی دھاڑ پر نجما کا سانس رک گیا
اب اس کو کس یار کے ساتھ پکڑا ہے” وہ تائی جان کی جانب دیکھتے بولے جبکہ تائی جان انکے طنز پر پہلو بدل گئیں
اور بے عزتی کے احساس سے سرخ پڑ گئیں وہ جانتے تھے انکا اشارہ کس طرف ہے
ن۔۔۔نہیں یار کے ساتھ نہیں لیکن کل کو بنا لے کسی کو کیا خبر ابھی تو منہ پھاڑ کر کہتی ہے عمر شرابی ہے شادی نہیں کروں گی دیکھو بھلا شرم و حیا تو اس گھر میں بس ایک ہی بچی کے پاس رہ گئ میری سوہا مجال ہو جو ایک بار بھی منگنی کے باوجود بدر سے بولی بھی ہو ” تائی بولی جبکہ ثروت بھی بے چین ہوئ
بھابھی میری صنم صوفیا بھی تو شرم و حیا والی ہیں” وہ اپنے بچوں کو تایا کی نگاہ میں گندا نہیں بنا سکتی تھی
ہاں ہاں بھائ لیکن میری سوہا کا مقابلہ نہیں ” وہ بولیں
اور سن لیں میں سوہا کی شادی نہیں کروں گی ابھی اس بدر کو کسی کام دھندے پر لگنے دیں” انھوں نے کہا جبکہ تایا جان خاموش ہو گئے
کل نکاح کا انتظام کر لینا چار لوگوں میں نکاح پڑھا دیا جائے گا ” وہ کہہ کر اٹھ گئے اور ساز غش کھا کر وہیں گیر گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امی کیا ہے اپکو مجھے بدر سے شادی کرنی ہے اور آپ نے بلاوجہ ڈرامہ لگ دیا ” وہ بھڑکی
منہ بند کر لے اپنا ” تائی نے اٹھ کر دروازہ بند کیا
تو اور کیا کہوں اچھا بھلا سب ٹھیک ہو رہا تھا اپکو کیوں دورہ پڑ گیا۔۔۔
مجھے نہیں پتہ مجھے شادی کرنی ہے” وہ بھڑک کر بولی
بس سوہا مجھے غصہ چڑھا نہ مار دو گی تمھارے سر پر کچھ” وہ نہایت غصے سے بولی
مسلہ کیا ہے اپکو “
کماتا دھرتا نہیں کچھ تمھارے باپ کا ہاتھ ہے مجھے ابھی عمر کے ساتھ لالچ چپکی ہوئ ہے کبھی بھی بدر کو کچھ نہیں دے گا بدر کو خود ہی کچھ کرنے دو ” وہ کپڑے تہہ لگاتی بولیں تھیں
لو بھلا اب بھی کچھ نہیں کرتا لیکن روٹی تو پوری ملتی ہے نہ” وہ پہلو بدلتی کھڑی ہو گی
شادی کے بعد بچے لگ جاتے ہیں ایک چھڑی چھاٹ انسان اور بال بچوں والے میں فرق ہے” تائی بولیں تو سوہا پاوں پٹخ گئ
بس دفع ہو یہاں سے اور اپنی زندگی چاہتی ہے تو منہ بند ہی رکھ ” وہ بولیں جبکہ سوہا منہ بسور کر باہر ا گئ
اچھا بھلا سب ٹھیک ٹھاک ہو رہا تھا معلوم نہیں کیا دورہ پڑ جاتا تھا اسکی ماں کو وہ صوفے پر بیٹھ گئ
پھر ایکطرح اسے یہ بات ٹھیک بھی لگی ابھی تو ساز کی آئے روز کی بے عزتی کے مزے لینے تھے اسے اگر اسکی بھابھی بن جاتی تو شاید عمر اسپر کسی قسم کا دباؤ ڈالتا لیکن وہ اسپر دباؤ ڈال ہی نہیں سکتا تھا وہ اسکو بتا نہ دیتی ۔۔۔۔
خیر چھوڑو ” سب کچھ دماغ پر سے اتارا کر وہ ساز کو دیکھنے پہنچ گئ
نجما اسکا سر دبا رہی تھی
ارے ساز تم تو بے ہوش ہو گئ” وہ ہنس دی
سوہا بیٹا اسکی طبعیت نہیں ٹھیک”
اچھا آپ تو چپ کریں عجیب میسنی سی عورت ہیں اپ بھئی پہلے اسکے لیے کچھ تو بولیں بیٹی تھی آپکی کہہ سکتی تھیں میرا اختیار ہے عمر خیام مطلب واقعی عمر جو دو قدم پیے بنا نہ چلے ” وہ منہ بنا کر بولی
نجما خاموش ہو گئ اور دوسری طرف ساز پھر سے رونے لگی تھی
امی مجھے بچا لیں کچھ کریں اس شادی سے بہتر ہے آپ مجھے مار دیں” وہ بولی جبکہ سوہا کو ایک لمہے کے لیے اسپر ترس آیا اور اگلے لمہے وہ چل بھی گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلا دن عجیب خاموشی لیے ہوئے تھا ۔
گھر میں سب تھے چہل قدمی ہو رہی تھی دو چار لوگ جو گواہان کے طور پر باہر سے ا رہے تھے انکے لیے کھانا بن رہا تھا اور بیٹی کے نکاح پر بھی نجما کچن میں تھی
جاؤ بھی تمھارے تایا نے کہا ہے کہ بس آدھے گھنٹے تک پہنچ جائیں گے گھر تیار ہو جا کر اور اسکے بھی نیلی پیلی کوئ سرخی لگا دینا ” تائی نے سوہا کو ڈریس دیا تو سوہا نے دیکھا
اتنا اچھا جوڑا لائی ہیں اپ اسکے لیے” وہ سرخ رنگ کے عام سے لباس کو دیکھتی جلن محسوس کرتی بولی
ارے میری بچی تو نے اس سے زیادہ مہنگا جوڑا پہنا ہوا ہے اور دیکھ کتنی پیاری لگ رہی ہے” انھوں نے اسکی بلائیں لیں اور وہ مطمئین ہو کر باہر ا گئ
بدر اندر ہی رہا تھا سوہا نے ادھر ادھر دیکھا اور اسکے پاس ا گئ
بتاو بھلا کیسی لگ رہی ہوں” وہ ذرا اترا کر بولی
شکل و صورت سے تو اچھی ہی لگ رہی تھی بدر نے اگنور کر دیا اور آگے بڑھ گیا
تایا جان کتنی دیر میں آئیں گے ” اسنے تائی سے پوچھا
آتے ہوں گے تم نے انتظامات دیکھ لیے “
چار لوگوں ا رہے ہیں تائ جان چار سو نہیں” وہ سر جھٹک گیا
بس طنز کرا لو رشتوں کا بھی حساس نہیں ساس ہو تمھاری” وہ بولی
یہ تو آپکی بیٹی میرے نکاح میں آ جائے پھر ہی کوئ رشتہ بنے گا ” وہ کہہ کر پلٹتا
منہ دھو کر رکھو میاں اپنا جب تک کسی کام دھندے پر نہیں جاتے میں اپنی بیٹی نہیں بیاہوں گی” وہ بولیں تو بدر نے حیرانگی سے مڑ کر دیکھا یعنی اب صرف ساز کا نکاح ہو رہا تھا
یہ کیا بکواس ہے تایا جان سے میری کمٹمنٹ تھی” وہ بھڑکا
کون سی کمنمنٹ بھئ کہہ دیا میں نے بس ” وہ ہاتھ اٹھا کر بولیں بدر تلملا کر پلٹا سوہا کھڑی مسکرا رہی تھی وہ دانت پیستا وہاں سے چلا گیا اور اسکے بعد اسنے تایا جان کو ہزار فون کر لیے مگر اسنے فون نہیں اٹھایا معلوم نہیں کہاں تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عمر خیام والد اشفاق صاحب تمہیں ساز زمان اپنے نکاح میں قبول ہے” وہ نیندوں میں اٹھا تھا تو پتہ چلا نکاح ہے اسکا شدید بے زاریت اور نیند میں چور وہ منہ دھو کر انکے سامنے بیٹھا تھا
چھتیس بار کہوں قبول ہے کہہ تو دیا ” وہ اکھڑ کر بولا
بیٹے تین بار “
قبول ہے قبول ہے قبول یے مزید مجھ سے سوالات کرنے کی ضرورت نہیں ہے”
اسنے اس مولانا کے ہاتھ سے پیپر کھینچا اور عمر خیام بڑا بڑا درج کر کے اسنے پیپر ٹیبل پر پھینکا اور اٹھا گیا
اب مجھے نہ اٹھانا کوئ” کہہ کر وہ دوبارہ کمرے میں چلا گیا تھا ۔
تایا جان ادھر ادھر دیکھنے لگے جبکہ بدر نے ایک ادھم اٹھایا تھا جسے ہمیشہ کیطرح بیٹھا دیا گیا تھا وہ ہر صورت سوہا سے آج ہی نکاح کرنا چاہتا تھا لیکن ابھی قسمت بلکل کوئ اسکا ساتھ نہیں دے رہی تھی
بدر نے نفرت سے تایا کو دیکھا اور دوسری طرف ساز لال جوڑے اور زبردستی کے پہنائے گئے زیورات میں بیٹھی ایک سانس رو رہی تھی ۔
اور جب اس سے سوال ہوا تو وہ بچوں کیطرح انکار کر گئ
نہیں نہیں قبول” وہ بدر کے ہاتھ تھام گئ
تایا نے اسے کھا جانے والی نگاہ سے دیکھا ۔
بدر بھائی نہیں پلیز” وہ آخری کوشش کرنے لگی جبکہ تایا نے اسکا ہاتھ سب کے سامنے پکڑا اور زبردستی اسکا انگوٹھا لگوا دیا
مولانا صاحب زبردستی نکاح نہیں کرا سکتے آپ بچی کو قبول ہے کہنا بہت ضروری ہے”
قبول ہے کہو ” وہ حکم دیتے دھاڑے
ق۔۔قبول ہے” وہ بولی اور تین بار بول کر اسنے اپنا چہرہ چھپا لیا
بدر بے بس کھڑا تھا ۔
مبارک اور سلامتی ہونے لگی جبکہ بدر سے مزید یہ سب برداشت نہیں ہوا اور وہ باہر نکل گیا
خود پر شدید غصہ تھا نہ ہی کچھ کر سکتا تھا وہ اور نہ ہی کر پاتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لے جاو بھئی ساز کو اسکے کمرے میں ” تائی مسکرائ
نجما بیٹی کو سینے سے لگائے رو دی
صنم اور صوفیا بھی جبکہ سوہا تائی اور ثروت چچی خوش تھیں
ساز کو زبردستی گھسیٹ کر عمر کے کمرے کے باہر لے جایا گیا
ساز نے نجما کا ہاتھ جکڑ رکھا تھا
امی نہیں ” وہ سہمی ہوئ سی بولی
اللّٰہ کے حوالے” اسکے پاس اسکے علاوہ کوئ بات نہیں تھی
ارے بند کرو یہ ڈرامہ عجیب ڈرامے لگائے ہوئے ہیں رات سر پر چڑھ گئ ہے صبح سے کام کر کر کے کمر ٹوٹ گئ” تائ بولیں جبکہ صبح سے ہی وہ تخت پر بیٹھیں تھیں
سوہا نے بے زاریت سے دیکھا اور ساز کو اندر دھکیل دیا اور دروازہ باہر سے لاک کر دیا
ڈرامے باز” کہہ کر وہ پلٹ گئ
نجما منہ پر دوپٹہ رکھے رو دی “
مر جانی کیوں منحوست پھیلا رہی ہے چائے بنا کر لا بس اب رو رو کر گھر بھر دیا میرا ” وہ چلائیں تو نجما کچن میں چلی گئ
اچھا ہو گیا ایک بچی کے فرض سے فارغ ہو گئے
ثروت چچی چاپلوسی کرتی بولیں
ہاں بھئ کل کو وہ عورت آ کر کھڑی ہو جاتی ہفتے میں تو دنیا ادھر سے ادھر ہو جاتی بس ہو گئ شادی جہاں ہونی تھی”
وہ بولیں اور ثروت چچی انکے پاوں دبانے لگیں
صنم صوفیا اور سوہا اپنے اپنے کمروں میں چلی گئیں تھیں
مجھے ساز کے لیے بہت دکھ ہے” صوفیا نے کہا تو صنم نے سر جھٹکا
بھئ تمھاری بہن کی شادی اتنے امیر کبیر لڑکے سے ہو تمھیں خوشی نہیں ہو گی” صنم بولی
ہو گی مگر ساز بھی تو ہماری دوست تھی”
اچھا اب بس کرو اللّٰہ کرے وہ آنٹی جلدی سے آ جائیں پھر سے” وہ بیڈ پر لیٹ گئ
صوفیا نے بھی شانے اچکائے اور چینج کرنے چلی گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلامہ آباد میں سردی ذرا زیادہ تھی
اور اسے ہمیشہ سے سردی بہت لگتی تھی اسے یہ تھا سردیوں میں وہ ہمیشہ کمرے کی ہو جاتی تھی جبکہ اسکی بڑی بہن اسے کتنی باتیں سنا دیتی تھی اور اسے کوئ فرق بھی نہیں پڑتا تھا مسکرانا اسکی طبعیت کا خاصا تھا ۔
یہاں ا کر شاہنواز اپنے کاموں میں لگ گیا تھا اسنے اس سے کوئ بات نہیں کی
پہلے اس محل نما گھر میں وہ دونوں ہوتے تو بولنے کی اجازت نہیں تھی اب اس محل نما گھر میں کوئ نہیں تھا اور اب اسے بولنے کی عادت نہیں تھی ملزم کام کر جاتے کھانا بنا جاتے وہ سارا دن لون میں بیٹھ کر گزار دیتی
شاہنواز اپنے کام سے گھر میں آتا اور اسکے بعد چلا جاتا اسنے ایک بار بھی کوئ بات نہیں کی تھی اور اکثر رات کو دیر سے آتا تو اسکی جان بخشی ہوئ تھی
ایزہ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی شاور لے کر نکلی تھی
اسنے بال خشک کیے اور اسکی ڈریسنگ پر میکپ رکھا تھا اسے یاد آیا اسے کتنا شوق تھا میک اپ کا مگر امی نے کبھی استعمال نہیں کرنے دیا تھا
اور شادی کے بعد کوئ خوشی اسکے سینے میں جنم نہیں لے سکی تھی تبھی اسنے خود سے نہیں لگایا اور نہ شاہنواز کو ضرورت تھی
اسنے لیپسٹک کھولی اور ہونٹوں پر لگا لی
اسکی چمکتی رنگت پر سرخ اناڑی لپپسٹک حسین لگ رہی تھی دوسری طرف اسنے بلش بھی لگا لیا اور بے دھیانی میں وہ میکپ استعمال کرتا چلی گئ
یاد ہی نہیں رہا وہ تو پتھر کی ایزہ تھی اب ۔۔۔
اسنے ڈارک بلو کلر کا ڈریس پہنا تھا جو ہلکے پھلکے کام سے بہت حسین لگ رہا تھا اسنے بالوں میں برش چلایا اور یہ سوچ کر کہ کچھ دیر تک وہ یہ سب ہٹا دے گی وہ نیچے ا گئ
نیچے اترتے ہی ملازمائیں سمیت ملازم اسے دیکھتے رہ گئے
وہ ملازمتوں کی تعریف پر سرخ سی پڑنے گئ
جبکہ وہ باہر لون میں آ گئ ابھی وہ بیٹھی ہی تھی کہ شاہنواز کی گاڑی دیکھ کر ایکدم اسکے رنگ اڑے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے