Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 79
No Download Link
Rate this Novel
Episode 79
عمر مٹھیاں بھینچ کر اسے دیکھنے لگا
نہایت کمینے انسان ہو تم ” اسنے بھڑکتے ہوئے کہا جبکہ ارہم کو کوئی فرق نہیں پڑا
انسان کے پاس دماغ کی کمی ہو تو حسن بھی بے کار ہے ۔۔ اور تم بلکل اس مثال پر پورے اترتے ہو ۔۔۔”
اپنی اوقات میں رہو ارہم اور آئندہ ساز کے ارد گرد نظر نہ آنا ۔۔۔
ہاں نہیں آوں گا اب تو خود شادی کرنے لگا ہوں ۔۔ ” وہ سنجیدگی سے بولا ۔۔
عمر کی پیشانی پر موجود بلوں میں مزید اضافہ ہو گیا ۔۔ اسنے اسے وہیں چھوڑا ۔۔ یہاں تک کہ دھکیلا اور جانے لگا کہ اسکی پکار پر رک گیا ۔
میں تمھاری مدد کر سکتا ہوں”
مجھے ضرورت نہیں ۔۔ وہ ٹکا سا جواب دے گیا ۔
ٹھیک ہے ” اسنے کہا عمر باہر نکل گیا جبکہ ارہم اپنے کمرے میں چلا گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تائی جان شاہنواز کو بہت دل سے دعوت دے کر آئیں تھیں ایزہ کی حالت سٹیبل نہیں تھی لیکن اسنے پھر بھی جانے کی ٹھان لی تھی ۔
ایزہ تم ٹھیک ہو جاؤ گی تو خود لے جاوں گا ” اسنے روکا
نہیں مجھے جانا ہے میں بور ہو رہی ہوں ایک ہی جگہ بیٹھے بیٹھے اور اب تو میں ٹھیک ہو رہی ہوں “
ہاں تم ٹھیک ہو رہی ہو لیکن ابھی مکمل ٹھیک تو نہیں ہوئی ابھی صرف اوپری چوٹیں ٹھیک ہوئی ہیں اندر کی نہیں ۔
شاہ اپ بوڑھیوں کی طرح اما دادی نہ بنیں ” وہ منہ پھلا گئ ۔
تمھیں جتنا کہا ہے اتنا کرو اور کیارا کو بار بار گود میں مت اٹھانا مجھے فکر ہو رہی ہے یار تمھاری” وہ کافی دنوں بعد آفس جا رہا تھا اسکے پاس فکر مند سا بیٹھ گیا ایزہ نے مسکرا کر اسکے گلے میں بازو ڈالا اور اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگی شاہنواز نے اسکی کمر میں بازو ڈال لیے ۔
آپ میری اتنی فکر نہ کریں بلکل ٹھیک ہوں میں ” وہ بولی اور اسکی ناک کے ساتھ اپنی ناک ٹچ کی ۔
اگر تم بلکل ٹھیک ہوگی مجھے تب بھی فکر ہوتی کیونکہ پاگل ہو تم تو کہیں سے بھی کود کر ہاتھ پاوں تڑوا لو گی “
شاہ ” وہ دھیمے لہجے میں پکار گئ
ہمممم” جبکہ شاہنواز نے اسکو لیٹا دیا اور خود بھی اسکے پہلو میں لیٹ گیا جبکہ کیارا دادی جان کے پاس تھی اور آفس جانے کے لیے وہ جو بلکل تیار تھا اب اسکو بانہوں میں لیے لیٹا ہوا تھا
میں ٹھیک ہو جاوں گی پھر ہم باہر گھومنے جائیں گے ” وہ بولی شاہنواز نے اسکے معصوم بھولے سے چہرے پر جی بھر کر پیار کیا تھا
احمق لڑکی یہ ہی سمجھا رہا ہوں کافی دیر سے ۔۔۔
نہیں ابھی تو جانا ہے مجھے ہر حال میں میں تو باہر مطلب ملک سے باہر یعنی کہیں بھی کیونکہ مجھے باہر کے ملکوں کے نام نہیں اتے” وہ اسکی شرٹ کے بٹن کو کھینچتی اداسی سے بولی
شاہنواز کو ہنسی سی ا گئ
اب ایک کام کرو تم موبائل پر سارے نیم سرچ کرو پھر لیسٹ مجھے پکڑا دینا پھر ہم چلیں گے
جہاں جہاں میں کہوں گی ” وہ حیران ہوئی
ہاں جہاں جہاں تم کہو گی “
اسکی ٹھنڈی انگلیاں شاہنواز کے سینے پر حرکت کرتیں اسکے کے دنوں سے سوئے ہوئے جذبات کو جگا رہی تھیں جبکہ اس لڑکی کو پرواہ نہیں تھی کہ وہ کیا کام کر رہی ہے ۔
اچھا پھر میں چلنے لگ جاو گی تو چلیں گے اور کیارا کو نہیں لے کر جاو گی وہ بہت روتی ہے ” وہ مٹھیاں بھینچ گئ جبکہ شاہنواز نے گھورا
بیٹی ہے وہ تمھاری ۔۔۔
ڈاکو ہے وہ میرے شوہر پر ڈاکہ ڈالے بیٹھی ہے ” اسنے کہا اور زور سے شاہنواز کے ناخن مارا
شاہنواز کافی دیر سے اٹھنے کی کوشش میں تھا وہ چاہتا تھا وہ اٹھ جائے کیونکہ اسکے جذبات کا طوفان سہنے کی حالت میں ایزہ ابھی نہیں تھی ۔
ایزہ شاہ ” گھمبیر لہجے میں کہتے اسنے ایزہ کے کان کی لو کو لبوں میں دبا لیا جبکہ دوسری طرف ایزہ گھبرا اٹھی کہ سوئے ہوئے شیر کو وہ جگا چکی تھی ۔
تم مجھے سہہ لو گی ” نہایت مدھم اور سرسراتے لہجے میں بولتے اسنے ایزہ پر اپنی گرفت مضبوط کر لی تھی
ایزہ تھوڑا دور ہوئی
ش۔۔۔شاہ اپ اپ آفس جا رہے تھے ” اسنے گویا یاد دلایا تھا
ایک چھٹی اور سہی ” وہ بولا اپنی ٹائی گلے میں سے کھینچ لی ایزہ کے سامنے اسکا چوڑا سینہ تھا وہ اسکے آگے بلکل دب جاتی تھی ۔
پلیز ” شاہنواز کی انکھوں کی بے خودی بتا رہی تھی کہ وہ کیا چاہتا ہے اس سے ۔۔۔
لیکن ۔۔۔ لیکن میں ٹھیک نہیں ہوں ” اسکی تپتی سانسوں سے خود کو بچاتی وہ اسکے جذبات کے سامنے بے بس ہو رہی تھی ۔
تم نے ہی جگایا ہے مجھے برداشت بھی تم ہی کرو گی” اور کہتے ساتھ ہی اسنے ایزہ کا چہرہ اونچا کیا اور اسکے ہونٹوں کو چھوا ۔
ایزہ نے انکھیں زور سے میچ لیں
آئی تھنک تم میرے ساتھ بیڈ رولز بھول گئ ہو وہ کہتے ہیں نہ کسی کو اتنی ڈھیل نہ دو کہ وہ مکمل تبدیل ہو جائے تو محبت ہو یہ نفرت گرفت پکی ہونی چاہیے ” اسنے اسکے بازو ذرا سختی سے پکڑے ایزہ نے فورا آنکھیں کھول دیں ۔
آپ تھوڑے دن حوصلہ تو کر لیں مجھے ابھی بھی چوٹیں لگی ہوئی ہیں ” وہ نرمی سے اپنی انگلیوں کے ٹھنڈے پور اسکی گردن اور شرٹ کے اندر سے جھانکتے سینے پر چلاتی جیسے اس کو شانت کرنا چاہ رہی تھی جو کافی سے زیادہ موڈ میں تھا
شاہنواز کی انکھوں میں خماری کے جو ڈورے تھے ایزہ شرما گئ شاہنواز نے مٹھیاں بھینچ لیں کہ واقعی وہ فلحال اس کنڈیشن میں نہیں تھی اور اگر وہ اسکی عزت اور قدر نہ کرتا تو محبت کا دعوا بے فضول تھا ۔
وہ ذرا خفگی سے اسے دیکھتا رہا
اچھا بھئ آپ تو ناراض ہی ہو گئے ” وہ اہستگی سے کہتی اب اسے تنگ کرنے کو اسکی گردن کی جانب اپنی ہونٹ لے گئ اور نرمی سے اسکی گردن کو چھوا
ایزہ سٹاپ دس میں تمھیں چھوڑو گا نہیں پھر “
فلحال مجھے علم ہے اپ کچھ نہیں کریں گے ” جان بوجھ کر اسکی شرٹ کے بقیہ بٹنوں کو صرف اور صرف اسے ٹیز کرنے کے لیے وہ کھول رہی تھی
شاہنواز اٹھنے لگا کہ ایزہ نے اسکی شرٹ کو مٹھیوں میں جکڑ کر پھر کھینچ لیا اسکی نکھوں میں شرارت تھی
تم مجھے اکسانا بند کرو گی “
جی نہیں شاہنواز سکندر کی برداشت دیکھنا چاہ رہی تھی ” اسنے اسکا چہرہ اپنے چہرے کے نزدیک کیا
ہر وقت کسی شکاری کی طرح شکار کرنے کو بے چین رہتے ہیں “
یہ تو ابھی بے چین ہوا نہیں پھر یہ حال ہے ” وہ اس حرکتوں پر مسکراہٹ ضبط کر گیا ۔
جبکہ ایزہ خاموشی سے اسکے چہرے پر اہستگی سے پیار کر رہی تھی دونوں کی انکھیں بند تھیں شاہنواز پر اسکا نرم لمس جذبات بھڑکانے کا کام کر تو رہا تھا لیکن وہ خاموش تھا ۔۔
ایزہ نے انکھیں کھول کر اسے دیکھا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا
وہ شرما کر اسکی گردن سے بازو نکال گئ ۔۔
شاہنواز نے اسکا چہرہ اپنی جانب موڑا ۔۔ اور اس سے پہلے وہ جھک کر اسکے ہونٹوں میں رس سا گھول دیتا کہ اسکی بیٹی نے پیچھے سے باپ کی کمر پر تھپڑ مارنا شروع کر دیے تھے ۔۔ معلوم نہیں وہ اندر کیسے ا گئ وہ تو دادی جان کے پاس تھی کیا دادی جان کمرے میں آئی تھیں اور وہ مدہوشی میں محسوس نہ کر سکے ” جھٹکے سے شاہنواز کھڑا ہوا اور ایزہ اسکی بھکلائی ہوئی صورت دیکھ کر ہنسی روک نہ سکی
تم ہی وہ لڑکی ہو جو میرا اچھا بھلا سٹینڈرڈ ختم کرو گی ” وہ بھڑکا
لو بھلا ۔۔۔ میں نے کیا کیا ہے اور ویسے بھی دادی جان کیوں آئے گی وہ اب کرولنگ کرنے لگ گئ ہے شاہ ” وہ بولی
بکواس میری بیٹی زمین پر نہیں چلے گی “
ہاں اسکے لیے تو ٹائیر والے جوتے آئیں گے بیٹی نہ ہو گئ معلوم نہیں کیا ہو گیا ” وہ غصہ کرنے لگی ۔
شیٹ اپ مجھے شرمندگی ہو رہی ہے ” کیارا کو دیکھتے وہ شرمندہ تھا واقعی ۔۔۔
کیوں ہو رہی ہے “
بچی ہے وہ ” شاہنواز تو کھانے کو دوڑ رہا تھا
تو اسے کیا پتہ ۔۔۔۔ آپ ” ایزہ غصے سے اسے دیکھنے لگی
بے حیا ہو گئ ہے تمھاری ماں میں کیا کر سکتا ہوں ” وہ کیارا کو پیار کرتا باہر نکلنے لگا جبکہ یہ نے اسکی کمر پر زور سے کشن مارا
میں اسے بہت ماروں گی “
میں تمھیں نہ جان سے مار دوں ” وہ مڑا اور ایزہ نے دانت پیس لیے
مجھ سے بات نہ کرنا اب پھر اور میں جاوں گی جو مرضی کر لیں اپ “
نہیں جانا کہا ہے نہ “
شاہ ” وہ بھڑکی
شاہنواز ہاتھ ہلا کر چلا گیا جبکہ ایزہ کو شدید غصہ آیا اور اسنے موبائل اٹھا کر عمر کو کالز پر کالز کرنا شروع کر دیں اور اتنی کالز کی کہ دوسری طرف مدہوش بے ہوش پڑا عمر سائیڈ ٹیبل پر بمشکل ہاتھ مارتا کال پک کر گیا
کیا تکلیف ہے ” وہ جھنجھلا کر بولا ۔
مجھے نہیں رہنا اس ادمی کہ ساتھ مجھے لے کر جائیں یہاں سے “
وہ غصے سے بولی
اب کیا کیا ہے شاہ نے ویسے اسی لیے میں تمھیں اس ادمی سے دور رکھ رہا تھا اب پتہ چل گیا حیا دور اندیش عمر کو غلط سمجھ رہی تھی تم “
بھائی ” وہ بھڑکی
کیوں اگ بنی بیٹھی ہو بھئ ” وہ سیدھا ہوا بالوں میں ہاتھ پھیرا ۔۔
میں نے کہا نہ مجھے لینے ائیں “
اچھا ۔۔ یہاں میرا گھر جڑ نہیں رہا تم اپنا برباد کرنے پر تل جاو ” وہ ڈپٹ کر بولا ۔
ایزہ نے غصے سے فون بند کر دیا اور موبائل پھینک کر مارا ۔
کوئی اسکی بات نہیں سنتا تھا نہ مانتا تھا تبھی شاہنواز کمرے میں آیا ۔۔
ایک اسکا بچہ کم تھا کہ یہ بھی بچہ اسنے پال رکھا تھا وہ اسکے نزدیک آیا زبردستی جھک کر اسے پیار کیا
چلو شاور لیتے ہیں پھر تمھارے گھر چلیں گے ۔۔۔۔
اس کیارا کو جا کر لیں “
میں مارو گی مجھے ہاتھ نہ لگانا ۔۔
شیم اون یو اپنی ہی بیٹی سی جل رہی ہو ” اسنے زبردستی اسے بازوں میں اچک لیا ۔۔۔
جلا کون رہا ہے آپ صرف مجھ سے پیار کریں “
ہاں تم بہن بھائیوں کی تو دماغ کی ایک رگ فالتو ہے ۔۔ ہر کوئی چاہتا ہے میں بس اسی سے پیار کروں ” شاہنواز گھیرہ سانس بھر کر اسے واشروم میں لے گیا ۔۔
ایزہ مسلسل بول رہی تھی یہاں تک کہ شاہنواز نے اسکے ہونٹوں پر پیار کیا اور اسے خاموشی رہنے کا کہا جبکہ گرم پانی ایزہ پر کھول دیا ۔
ایزہ اس کے ہر عمل پر اسکے بعد بھکلا سی گئ تھی کہ وہ چاہ کر بھی اسے کسی چیز سے روک نہیں پائیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں اکٹھے پہلی بار آئے تھے انکے گھر ۔۔۔۔۔
شاہنواز اور بدر کے علاوہ باقی سب ایک دوسرے سے اچھے سے ملے تھے شاہنواز اپنی پوری آن بان کے ساتھ پاوں پر پاوں رکھتا اپنی بیٹی کو اپنی ایک ٹانگ پر بیٹھائے بیٹھا تھا جبکہ ایزہ اپنوں کے بیچ ا کر بہت خوش ہو گئ تھی سب لوگ اسکا بہت خیال اور احساس کر رہے تھے ۔۔
شاہنواز عمر کو کئ کالز کر چکا تھا مگر ابھی تک وہ نہیں ایا تھا
ان دنوں کے لیے زبردست کھانے کا اہتمام کیا جا رہا تھا
سٹ ہئیر بیٹا ” شاہنواز نے ساز کو کہا تو وہ ذرا شرمندہ سی ایزہ کے پاس بیٹھ گئ
آپ لوگ بلاوجہ تکلفات میں لگے ہوئے ہیں باہر سے کچھ منگا لیتے “
وہ بولا جبکہ ساز کے جواب دینے سے پہلے ہی تائی جان بولتی اٹھیں
ارے نہیں بیٹا کیسی باتیں کر رہے ہو گھر کے کھانے کی اپنی بات ہوتی ہے ۔۔ ” وہ بولیں تو شاہنواز خاموش ہو گیا ۔
صنم بھی اپنے شوہر کے ساتھ ا گئ تھی جبکہ ارہم بھی ا گیا شاہنواز کو دیکھ کر ایکدم اسکی جانب بڑھا
گڈ ایوننگ سر ۔۔ کیسے ہیں اپ “
اس قدر جنٹل مین بن رہا تھا سب حیران تھے خاص کر بدر جسے سوہا بار بار گھسیٹ کر وہاں لاتی جبکہ وہ بار بار اٹھ کر کمرے میں چلا جاتا ۔
ائ ایم فائین ” شاہنواز نے سر ہلایا
آپکی بیٹی ہے “
ہممم کیارا شاہ “
بیوٹیفل “
اگر کسی کو اچھو لگ جاتا تو برا نہیں تھا کیونکہ ارہم نے آج تک کسی سے اس طرح بات نہیں کی تھی سب حیران انکھیں پھاڑے شاہنواز کے روعب کے اگے اسے دبتا دیکھ رہے تھے اور بیٹی کی تعریف پر تو شاہنواز پھولے نہ سماتا تھا
بس اب آپ ارہم بھائی اس کیارا پیارا کی تعریفیں کرتے رہیں شاہ کا دل خوش ہوتا رہے گا ” ایزہ بولی تو ارہم نے اسکی جانب دیکھا ہلکا سا مسکرا دیا پھر اسکی ٹانگوں کیطرف دیکھا ۔۔ اور اسکا حال احوال لینے لگا
ایزہ ” شاہ نے ٹوکا
ہاں جی پتہ ہے آپکی بیٹی کا نام نہ بگاڑو میں “
ایزہ نے سر جھٹکا جبکہ سوہا مسکرا دی شاید اسے بدر سے لاکھ گناہ بہتر ہمسفر ملا تھا لیکن اسکے لیے تو بدر بیسٹ تھا
کیا مسلہ ہے تمھارے ساتھ جلے کٹے بلے بنے پھر رہے ہو ” سوہا نے گھورا کر اسے دیکھا
اسے دعوت دینا ضروری تھا بدتمیز ادمی ہے تم نے دیکھا نہیں اسکا رویہ “
جناب بدر زمان آپ کے بارے میں وہ جانتا ہے سب “
سو واٹ میری بیوی ہے دو بچے ہیں اپنے آپ میں رہے تو بہتر ہے “
وہ بھڑکا اچھا اچھا ٹھیک ہے نہ ائیں “
سوہا تو خوش ہو گئ اسکے اس رویے پر بدر نے سر جھٹکا اور سوہا اسکے بال بگاڑ گئ
تم پٹ جاو گی مجھ سے ” وہ بھڑکا اور مینہ رونے لگ گئ سوہا نے شانے اچکائے
سنبھالیں اب ” وہ کہہ کر اسے بھڑکا ہوا ہی چھوڑ کر باہر ا گئ ۔
باہر سب ایک دوسرے سے باتوں میں لگے ہوئے تھے
کھانا تیار ہو گیا ہے میں ٹیبل پر لگا دیتی ہوں ” سوہا نے کہا تو سب نے سر ہلایا اور صوفیا اور سوہا نے کھانا لگایا ۔
ابھی وہ لوگ کھانے کی ٹیبل کیطرف بڑھتے کہ عمر نیچے اترا اور سب کی نگاہ اسپر گئ تھی
سفید قمیض شلوار میں ضرورت سے زیادہ ہینڈسم لگ رہا تھا ساز نے نگاہ پھیر لی
او شہزادے کہاں گم تھے” کیارا کو ایزہ کو دے کر وہ اپنے شہزادے سے ملا جو اسکے سینے سے لگ گیا ۔
کیا ہوا اداس کیوں ہو ” اسنے فکر میں اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھام لیا
عمر ” شاہنواز کا دل ڈوب گیا اسکی آنکھوں میں بے پناہ اداسی تھی ۔
کیا ہوا ہے ” وہ بے چینی سے پوچھ رہا تھا ساز بھی بے ساختہ اٹھ گئ
معلوم نہیں کیا ہوا تھا سب ہی پریشان ہو گئے تھے وہ منہ بنائے کھڑا تھا
یار کچھ بولو گے یہ دل بند کرو گے میرا ” شاہنواز کے بے چینی سب ہی دیکھ سکتے تھے بدر بھی باہر ا گیا تھا ۔۔
وہ بھی کچھ پریشانی ہوا ۔
میں کچھ کہنا چاہتا ہوں ” وہ بولا جبکہ سب اسی کے بولنے کے منتظر تھے کھانے کو سب بھول گئے تھے ہاں بس ایک شخص چین سے بیٹھا تھا وہ ارہم تھا ۔۔ جو کیارا کو اپنی گود میں لے چکا تھا اور کیارا کے ساتھ کھیل رہا تھا جیسے عمر کی کسی بات سے اسے فرق نہ پڑتا ہو ۔۔
میں خود کو پولیس کسٹڈی میں دے رہا ہوں ” سنجیدگی سے کہتے اسنے سر اٹھایا اسکی آنکھوں میں ہلکی سی سرخی تھی ۔
شاہنواز نے ایک قدم دور لیا
کھینچ کر تھپڑ ماروں گا سارے ہوش ٹھکانے لگ جائیں گے اس بارے میں کوئی کچھ نہیں جانتا “
میرا ضمیر جانتا ہے میں نے اپنے باپ کو مارا ہے پہلے شرابی پھر چور اور اب قاتل بھی آخر کس کس بات کو آپ دنیا سے چھپائیں گے” عمر نے کہا ساز کا وجود بے ساختہ کانپنے لگے گیا تھا وہ ایسے جھانک کر اسے دیکھ رہی تھی جیسے دنیا کئ بہت بھیڑ میں وہ تنہا کھڑا ہو اسکا چہرہ ٹھنڈا پڑنے لگا تھا وہ اس سے ناراض تھی بہت ناراض تھی لیکن اسے اب اپنی انکھوں سے دور تو نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔
تم پاگل ہو گئے ہو معلوم بھی ہے قتل کے کیس میں سالوں سال لگ جاتے ہیں کوئی باہر نہیں نکلتا ” بدر تو آگ بگولہ ہو گیا اس لڑکے کی حرکتوں کی وجہ سے ساری تکلیفیں اسکی بہن کو سہنی پڑتی تھیں
معلوم ہے میں ساز کو تکلیف نہیں دینا چاہتا مزید لیکن مجھے میرا ضمیر چین نہیں لینے دے رہا “
عمر جسٹ اینف ” شاہنواز کی برداشت سے باہر تھی ۔
آپ لوگ مجھے روک نہیں سکتے میں کال کر چکا ہوں کچھ ہی دیر میں وہ لوگ مجھے لینے آتے ہوں گے “
وہ سنجیدگی سے بولا ضبط سے اسکی پیشانی کی رگیں پھول رہی تھیں
آر یو میڈ تم نے میری بہن کو مذاق سمجھا ہوا ہے میں تمھارے ٹکڑے کر دوں گا ” بدر شعلہ بار ہوتا اسپر چڑھ دوڑا شاہنواز سر تھام کر بیٹھ گیا
اسے ہی مزید تکلیف نہیں دینا چاہتا اسی لیے چلے جانا چاہتا ہوں ۔
دنیا کیا کہے گی میرے بچے کو اسکو ۔۔۔ قاتل کی بیوی قاتل کا بیٹا “
وہ چلا کر بدر کو خود سے دور کر گیا جبکہ ساز قدم بھرتی اسکے نزدیک گئ اور زور دار تھپڑ اسکے گال پر مار کر اسکا گریبان جکڑ لیا ۔
اگر آپ کو مناسب لگے تو ایک بار میرا گلہ گھونٹ دیں عمر اپکو چین ا جائے گا ” ہچکیاں بھرتی وہ اسکی جانب دیکھتی بولی تھی عمر لب دبا گیا ۔
تم میرے ساتھ رہنا نہیں چاہتی اور میں اپنے بچے کو قاتل باپ کا نام نہیں دینا چاہتا میں جانتا ہوں یہ زیادتی ہے تمھارے ساتھ لیکن ۔۔ شاید ہم سب کے لیے یہ ہی بہتر تھا لیکن یو نو ایک بات ہے میں تمھیں بہت مس کروں گا خاص کر اس تھپڑ کو ” وہ ہلکے سے بولا ۔
عمر یہ اپ نے کیا کیا ہے ” وہ اسکا سینے سے لگ گئ اور بے شمار رو دی ۔
آپ میرے ساتھ اتنا بڑا ظلم نہیں کر سکتے عمر میں اپکے بنا کیسے رہو گی”
تم تو مجھے سے بات تک نہیں کرتی ۔۔۔
میں ناراض تھی بس ۔۔۔
مانتی تو ہو نہیں ۔۔۔
اب مان گئ ہوں نہ ۔۔ وہ بہت بے چین تھی
کھاو میری قسم “
اللّٰہ کی قسم ہوتی ہے بس ۔۔” وہ روتے ہوئے بولی ۔۔
ہاں اللّٰہ کی قسم کھاؤ میں نہیں چاہتا جانے سے پہلے تمھیں خود سے بدظن کر کے جاؤں
پلیز آپ ایسی باتیں نہ کریں آپ روک دیں شاہ سر اپ روک دیں عمر کہیں نہیں جائیں گے پلیز ” وہ بہت بری طرح رو رہی تھی سب کی انکھیں اسکے رونے پر آبدیدہ تھیں خواتین کی ۔
عمر کہیں مت جائیں پلیز کہیں مت جائیں “
تو تم مجھ سے ناراض نہیں ہو “
نہیں بلکل نہیں ہوں “
اہ” اسنے گھیرہ سانس بھرا ساز کو بانہوں میں بھرا اور سب کو دیکھتے ایک آنکھ دبائی تھی ۔۔۔
بدر نے جی بھر کر لعنت دی تھی اسے ۔۔۔
عمر قہقہہ ضبط کر گیا شاہنواز اسکی چالاکی پر حیران تھا جبکہ ہر کوئی اسکی اس حرکت پر نفی میں سر رکھ ہلا رہا تھا
پھر میں پولیس کو منع کر دیتا ہوں ” ارہم اٹھتے ہوئے بولا
ہاں ہاں کر دیں عمر کہیں نہیں جائیں گے ” وہ اسکے آگے کھڑی ہو گئ
میری جان میرے رس گولے میں کہیں بھی نہیں جا رہا ۔۔
ٹھیک ہے بھی ارہم کہہ دو جناب عمر خیام صاحب کا موڈ بدل گیا ہے ” ساز کو پیچھے سے پکڑتا وہ بولا سب کی ہستی دیکھ کر ساز کو احساس ہوا کہ یہ ڈرامہ تو جو شخص ڈرامے باز شوہر نے رچایا تھا اسنے منانے کے لیے ۔۔۔۔ وہ غصے سے مڑی
دیکھو مسلی مولویوں کی ویسے بھی یک زبان ہوتی ہے اب تم اپنی بات سے نہیں پھیرو گی ” وہ بولا جبکہ ساز اسکے پیٹ میں کہونی مارتی وہاں سے چلی گئ ۔۔
آہ آف “
بہت اچھا کیا ہے اسنے” شاہ بولا
لمہوں میں وہ اسکا بی پی لو کر گیا تھا
آپ عمر خیام سے واقف ہی نہیں ابھی “
ہاں بڑی توپ چیز ہے ” بدر بولا جبکہ ارہم کی جانب دیکھا
یہ تم دونوں کی دوستی کب ہوئی “
مشورہ ہی میرا تھا ” ارہم فخر سے بولا
بڑی بات ہے بھئی اگ اور پانی کا ملاپ ہو رہا ہے “
بدر نے تالیاں بجائ اور سب ہی حیرانگی سے سر ہلا گئے ۔
میری موٹی کو ایکچلی منانے کا وقت ا گیا ہے ” وہ بالوں میں ہاتھ پھیرا اوپر کی جانب بڑھا کیونکہ ساز اوپر ہی گئ تھی سب مسکرا دیے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
