Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

بدر کیطرف سے ولیمے کا فنکشن کا اہتمام تھا اور سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں تھیں بدر جس کے پاس بائیک سہی کرانے کے پیسے نہ تھے وہ ولیمہ دے رہا تھا ۔۔۔ جبکہ ساز اور نجما بھی اسکے تیور دیکھ کر حیران تھیں ۔
ابھی تھوڑی دیر پہلے اسے تیار ہونے کا کہہ کر گیا تھا ساز تو خوف کے مارے نیچے جا ہی نہیں پا رہی تھی کہ تائی جان اسکی جان کو لڑ جاتی لیکن بدر بھائی جو کر رہے تھے وہ سراسر اس بات کے خلاف تھی اور معلوم نہیں عمر کہاں چلا گیا تھا
ساز اسکے لفظوں پر حیران تھی وہ اسے چھوڑ کر چلا جائے گا یعنی وہ اس شادی کو ختم کر دے گا اسے طلاق دے دے گا ۔۔۔۔۔
یہ بات اسے چین سے بیٹھنے تک نہیں دے رہی تھی ۔
خود معلوم نہیں وہ کہاں تیار ہو کر چلا گیا تھا جبکہ ساز کو اپنے لفظوں میں الجھا چھوڑ گیا تھا بدر نے تیار ہونے کا کہا تھا وہ اپنے کپڑے نکال کر شاور لینے چلی گئ دل تھا کہ بجھا بجھا سا تھا ۔
وہ شاور لے کر باہر ائی اور اپنے بال سلجھا کر اسنے اپنا لباس دیکھا
اسکا لباس بہت قیمتی تھا اور بلکل سادے چہرے سے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی اسنے سر پر دوپٹہ اڑھا اور باہر نکلتی کہ دروازے میں وہ آندھی طوفان کیطرح داخل ہوا
کہاں کہاں جایا جا رہا ہے” وہ ہاتھ اٹھا کر پوچھنے لگا کافی فریش لگ رہا تھا
وہ بدر بھائی نے ولیمہ دیا ہے معلوم نہیں کہیں جانا ہے بس اسی کے لئے تیار ہوئی ہوں” وہ اداسی سے بولی
یہ تم تیار ہوئی ہو ” وہ سیگریٹ کی ڈبی نکال کر لبوں میں سیگریٹ دبا کر اسکا معائنہ کر ے لگا
جی” وہ اپنا دوپٹہ سہی کر گئ
ایک تو تمھیں تمیز ہی کوئی نہیں اسنے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے آئینے کے سامنے لے آیا
یہ دوسری بار تھا اسنے اسکا ہاتھ پکڑا تھا ساز تو اپنے ہاتھ کو اسکے ہاتھ میں دیکھنے لگی جبکہ وہ ان جذبات سے جو ساز محسوس کرتی تھی بلکل لاپرواہ تھا ۔۔۔
اسنے اسپر سے سب سے پہلے دوپٹہ اتارا ساز کی آنکھیں پھیلیں وہ احتجاج کرتی کہ وہ ٹوک گیا
شش بی کوائیٹ” وہ آئینے میں دیکھتا اپنی سیگریٹ کو ہونٹوں کی قید سے آزاد کرتا ایک طویل دھویں کا سلسلہ اسکے کان کے قریب چھوڑتا اپنے کام میں مگن تھا جبکہ ساز اسکی جانب دیکھ رہی تھی اسکا پورا وجود کپکپا رہا تھا لیکن وہ شخص اس بات کو اہمیت ہی نہیں دے رہا تھا کہ اس لڑکی پر اسکی قربت اور توجہ کیا جادو بکھیر رہی تھی
اسنے اسکا دوپٹہ سائیڈ پر پھینکا
ڈریس تو اچھا ہے مگر پھر بھی ہر وقت اس منہ سے نہیں پھیرتے ۔۔۔۔ سٹائل کریٹ کرو ” وہ بولا اور کچھ سوچنے لگا پھر اسنے فون گھمایا
ساز بنا دوپٹے کے جیسے خود کو خالی خالی محسوس کرنے لگی وہ دوپٹہ اٹھا کر خود پر اڑھ گئ ۔۔۔۔
عمر نے ایک نظر دیکھا اور پھر فون پر بات کرنے لگا ۔
ہاں ۔۔۔ اچھا ٹھیک ہے “
اوکے اوکے میں آتا ہوں” وہ بولا
کہاں جا رہے ہیں” وہ بے ساختہ پوچھ گئ
ہم جا رہے ہیں بیوقوف لڑکی اس دن تو سب کی آنکھیں پھٹی تھی آج تو ان سب کی ایسی کی تیسی ” وہ آنکھ دباتا اسکا ہاتھ پکڑ کر بولا جبکہ ساز اسکے ساتھ ساتھ ہو لی
نیچے فنکشن پر تبصرے ہو رہے تھے بدر بھائی کے پاس اتنے پیسے کہاں سے آئے اس موضوع نے سب کو ہی سوچ بچار میں ڈالا ہوا تھا تائی تو سر پر دوپٹہ باندھے پڑی تھیں
ساز ان سے اجازت لینے کے لیے رکنا چاہتی تھی مگر عمر کھینچ کر باہر لے ایا
انھیں برا لگے گا میں ایسے ہی ا گئ میں کبھی انکی اجازت کے بنا نہیں نکلی گھر سے” وہ منمنائی
لگتا ہے اپنی تائی سے شادی کی ہے تم نے ” وہ جمپ لگا کر سوار ہوا تھا گاڑی میں جبکہ دوسری طرف ساز منہ بنا گئ وہ گاڑی گھما کر باہر نکلا گیا
ہم کہاں جا رہے ہیں؟
پارلر اور تمھیں کچھ ڈفرنٹ پہنانے “
نہیں میرے پاس تو بہت کپڑے ہیں اتنے پیسے ضائع نہ کریں” وہ پریشانی سے بولی عمر مسکرایا دیا
سیگریٹ منہ سے نکلی دھواں فضا میں چھوڑا ۔
تم واقعی الگ ہو میرے ساتھ موجود ہر لڑکی شاپنگ پر جانے کے لیے مرتی ہے اور ایک تم ہو شاپنگ ہی نہیں کرنا چاہتی ” وہ نفی میں سر ہلا گیا
ساز نے اسے دیکھا وہ گاڑی کافی سپیڈ میں چلا رہا تھا ۔
اور کچھ ہی دیر میں وہ ایک بہت بڑے پارلر کے سامنے گاڑی روک چکا تھا اسنے گاڑی رکی اسے نیچے تارا ساز اتنی کنفیوز تھی کہ سختی سے اسکا ہاتھ تھام گی
آپ بھی اندر جائیں گے” وہ حیران ہوئی
افکورس ” وہ اسے لیے اندر ایا
اور وہاں موجود لڑکی سے بات کرنے لگا ساز کو لگا وہ واقعی پینڈو ہے وہ کانفیڈنس میں چھا کر بھی نہیں پا رہی تھی
اور عمر نے اس لڑکی سے انگلش میں کافی لمبی چوڑی گفتگو کی ساز اسکی لہجہ اسکی انگلش زبان پر کمانڈ محسوس کر کے جیسے متاثر ترین ہو چکی تھی
اوکے” اسنے کہا اور وہ لڑکی سر ہلا گئ
تم یہاں میکپ کراو میں ڈریس لے آتا ہوں”
عمر یہ آپ کیا کر رہے ہیں” ساز نے اسکا ہاتھ پکڑا
ریلکس ہنی ابھی گیا ابھی آیا ” وہ کافی جوش میں تھا غائب ہو گیا اور ساز کو اتنے سارے لوگوں میں اپنا آپ تنہا لگ رہا تھا بلاوجہ رونا انے لگا اور وہ لڑکیاں اے بیٹھا گئ اس سے کافی اچھے سے بولی تھی
وہ اس سے باتیں کرنے لگی تو ساز کا دل کچھ ہلکا ہوا ورنہ بار بار آنکھیں بھر رہیں تھیں
وہ تیار ہو رہی تھی خود کو مختلف دیکھ کر جیسے ایکسائٹڈ ہی ہو گئ ۔۔۔
شرم بھی ائی سب دیکھ کر کیا سوچیں گے اسکے بارے میں لیکن یہ تو اسکے خواب تھے چھوٹے چھوٹے کیا عمر ہی اسکا فرشتہ تھا جسکو اسنے دعاؤں میں مانگا
وہ مسکرا دی ” ہاں وہ ہی تھا “
اس میں جو بری عادت تھی وہ چھوٹ بھی تو سکتی تھی ۔
اور اگر وہ بری عادت چھوٹ جائے تو وہ شاید دنیا کا پرفیکٹ انسان تھا
وہ اسکے بارے میں غلط رائے رکھتی تھی وہ اسے نشئ کہتی تھی یہ جو بھی اسنے سوچ لیا تھا وہ عمر کے اندر سے یہ عادت چھٹوا دے گی اور اسکے بعد وہ سب سے اچھا انسان تھا ۔
وہ تادیر اسکو سوچتی رہی یہاں تک کے وہ لڑکی اسکا شانہ ہلا گئ تب اسنے ہوش میں آ کر اردگرد دیکھا
جی ” میم آپکے ہزبینڈ نے یہ ڈریسز بھیجے ہیں جو اپکو اچھا لگے وہ پہن لیں انھوں نے کہا ہے” وہ پھولے نہیں سمائی کیا وہ کوئ پرنسز تھی جسے وہ ایسے ٹریت کر رہا تھا
شرم سے لال ہوتے گالوں اور اس لڑکی سے نگاہ چراتی وہ اٹھی اور اسنے دیکھ وہ ساری ہی ساڑھیاں تھی اسنے تو کبھی یہ لباس نہیں پہنا تھا ۔
وہ پریشانی سے اس لڑکی کو دیکھنے لگی
میم یہ کلر بہت سوٹ کرے گا آپ پر”
اپکا اپنا کلر شیڈ بہت وائیٹ ہے مہرون رنگ آپ پر بہت کھلے گا ” اسنے کہا
آپکے ہزبینڈ کو بھی اچھا لگے گا ” وہ بولی
کیا سچ میں ” بے ساختہ وہ بول اٹھی جبکہ وہ لڑکیاں کھلکھلا گئیں اور ساز شرم سے سرخ ہوتی آگے بڑھی اور اسنے وہ ساڑھی اٹھا لی
ان لڑکیوں نے اسے وہ ساڑھی پہننے میں مدد کی اور ساز نے خود کو آئینے میں دیکھا تو ایک لمہے کے لیے خود ہی چونک گئ
اسکے کھلے لمبے کمر سے نیچے جاتے بال رول کیے تھے جبکہ اسکے ہونٹوں پر سجی بلڈ ریڈ لیپسٹک اسکی آنکھوں کا حسین میکپ اسکے چہرے کا گال اسکا گھیرہ گلا اسکی ساڑھی وہ ساز سے بہت مختلف لگ رہی تھی یوں کہا جا سکتا تھا وہ عمر کی ساز لگ رہی تھی
وہ خود کو دیکھتی رہی ۔۔۔ شرم سے ہاتھ پاوں کانپ اٹھے کیونکہ وہ لڑکیاں اپنے کیمرے میں اسکی تصاویر لے رہی تھیں اور تبھی عمر اندر ا گیا
وہ مسکرا رہی تھی
اسکو مسکرا کر دیکھنے لگی وہ ایک لمہے ٹھہر کر اسکی جانب دیکھتا رہا اور پھر ان لڑکیوں کے فلیش دیکھے جو ساز کے چہرے کی جانب تھے
عمر کے چہرے کی سنجیدگی ساز کے چہرے سے مسکراہٹ کھینچ گئ وہ آگے بڑھا اور اسکے آگے کھڑا ہو گیا
ائ تھنک ائ ڈونٹ الاوڈ دیس ” سخت بے لچک لہجے میں کہتا وہ ان سب لڑکیوں کے منہ اتار چکا تھا ۔
ماں بی یو ال نیڈ کمپلین ” اسنے ناگواری سے کہا اور وہ لڑکیاں ایکدم پریشان ہو گئیں
پلیز سر سوری اپ پلیز کمپلین مت کیجیے گا ہم ڈیلیٹ کر دیں گے ” وہ اسکی منت کرنے لگین مگر اسنے موقع نہیں دیا اور سیدھا وہ انکے اونر کے پاس چلا گیا
وہ لڑکیاں کیا پریشان ہوتی ساز رونے والی ہو چکی تھی اسکے اس سرد رویے پر ۔۔۔۔
میم پلیز سر کو روکیں ہمیں اونر کام سے نکال دیں گی ہم نے ساری پکس ڈیلیٹ کر دیں ہیں” وہ بولیں جبکہ ساز بے چارگی سے انکو دیکھتی اپنا ناخن کاٹنے لگی عمر اندر سے باہر آیا اور ساتھ ہی اونر بھی نکل آئیں اور ان لڑکیوں کو بے بجا ڈانٹ پلا دی جبکہ عمر نے انکے موبائلز چیک کیے
ان سب نے تصویریں ڈیلیٹ کر دیں تھیں وہ مطمئین سا ہو گیا اسکا ہاتھ پکڑ کر باہر ا گیا
ساز کافی ڈر گئ تھی اسکا ری ایکشن کافی سخت تھا اسکی آنکھیں سرد تھیں چہرے پر ایسا تھا کہ وہ ان لڑکیوں میں سے کسی کے بھی منہ پر تھپڑ مار دیتا
اسنے بار بار عمر کی جانب دیکھا مگر وہ اسکی طرف نہیں دیکھ رہا تھا اسے لگا اسکی تیاری بے کار ہے دل بجھ گیا
آپ ناراض ہیں ” وہ بلاخر سوال کر گئ
نہیں ” وہ سنجیدگی سے بولا
مگر ” عمر نے گاڑی روک لی
ائندہ اپنی تصویریں کسی کو مت دینا کسی کو تصویر دینے والی لڑکی با کردار نہیں ہو سکتی جس کی تصویر ہر کیمرے میں ہو اسکا کردار ہو سکتا ہے بھلا ” وہ تلخی سے بولا
میں آئندہ نہیں کروں گی”
وہ اسکی بات پر حیران تو تھی لیکن جلدی سے اسکی بات مان گئ
ہمم۔” وہ شاید اب بھی اچھے موڈ میں نہیں تھا اسنے گاڑی پھر سٹارٹ کی اور ساز خود کچھ بول نہیں سکی عمر اسے وہاں لے ایا جہاں اسکے بھائی نے ولیمہ لگایا تھا
وہ اسے لیے اندر داخل ہوا
آج وہ تیار نہیں ہوا تھا لیکن پھر بھی اسکے ساتھ چلتا جیسے کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا اور ساز کا بس نہیں چل رہا تھا وہ ان سب نظروں سے غائب ہو جائے ۔۔۔۔
عمر نے اسکا ہاتھ چھوڑ دیا
جاؤ ” وہ نرمی سے بولا
اپ ؟ وہ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی
باہر ہوں فارغ ہو جاؤ تو ا جانا ” اسنے کہا اور مڑنے لگا کہ بدر نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا عمر خیام نے ذرا ناگواری سے سکی جانب دیکھا
اندر آؤ تم میرے لیے خاص مہمان ہو ” وہ نرمی سے بولا
عمر نے اسکا ہاتھ ہٹایا اور وہاں سے باہر نکل گیا
بدر نے سنجیدگی سے ساز کی جانب دیکھا جو شرمندہ سی ہو گئ پھر وہ اپنی بہن کے لیے اس بدتمیز انسان کو اگنور کر گیا
آج میری گڑیا اتنی پیاری لگ رہی ہے ” وہ بہن کے شانے پر ہاتھ رکھتا
بولا اور ساز اسکی تعریف پر ذرا شرما سی گئ
وہ دونوں بہن بھائی چلتے ہوئے اندر ا گئے اور سوہا ساز کو دیکھ کر جیسے بیٹھے بیٹھے بھسم ہی ہو گئ
یہاں تک کے خاندان کی ہر عورت کی نگاہ ساز پر تھی وہ عمر کو بھی اسکے ساتھ دیکھ چکے تھے ۔
صنم اور صوفیا تو اسکی قسمت پر رشک کر اٹھیں
کتنی خوش قسمت ہے ساز دیکھو کیسے بدل گئ” صوفیا نے کہا جبکہ صنم کی آنکھوں میں حسد سی اتر گئ
اچھا ہوتا کوئی ہماری کرا دیتا عمر سے زبردستی شادی”
صنم پاگل ہو گئ ہو “
ہاں تو اور کیا کہو جس کا انتظار کیا وہ تو ایا نہیں عمر ہی مل جاتا کم از کم ایک برائ کے ساتھ جب ساز کمپرومائز کر گئ ہے میں بھی کر لیتی امیر شویر تو ملتا پھر سٹینڈرڈ والا انسان جو کبھی کسی کے آگے جھکنے نہ دیتا ۔۔۔۔
دیکھو ولیمے کی دولہن سے زیادہ حسین لگ رہی ہے”
ساز تو حسین ہی ہے” صوفیا منمنائی
بس خروش پیسے نے مزید کر دیا ہے”
ایسی بات نہیں اسپر یہ لباس بہت اچھا لگ رہا ہے
بس صوفیا اب مجھے غصہ نہ دلاؤ ” صنم بھڑکی اور ساز ان دونوں کی جانب متوجہ نہیں تھی وہ بدر کے ساتھ تھی وہاں موجود ہر عورت نے اسکو پکڑ کر اسکی تعریف کی تھی
ساز نے سوہا کی جانب دیکھا اور سمجھ نہ سکی کیا کہے وہ اسے کھا جانے والی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی
امی اس سے کہیں اپنی شکل گم کرے ورنہ میں اسکے منہ پر کچھ پھینک دو گی” وہ غصے سے ڈوبی ڈوبی آواز میں بولی
آئے منحوس آگے سے ہٹ جا ” تائی جان بولیں ساز ادھر ادھر دیکھنے لگی
لوگ متوجہ تھے وہ کس طرح اسے انسلٹ کر رہے تھے لیکن وہ ان سب کے سامنے کبھی کچھ نہیں بولی تھی
بے حیا بے غیرت لباس تو دیکھو اس آوارہ کا عمر اسے بہت جلد کوٹھے پر بیٹھائے گا ” سوہا بولی ساز جیسے ہوا میں معلق ہو گئ آنسو سے بھر گئے
ماں بھی کوٹھے والی تھی بیوی کو بھی کوٹھے والی بنائے گا ۔۔۔ دفع ہو اب یہاں سے” وہ جتنا ممکن تھا اسے تکلیف دے دینا چاہتی تھی ۔
ساز کو لگا وہ واقعی گناہ کا ارتکاب کر بیٹھی ہے اور وہ فنکشن کے اختتام تک ایک طرف بیٹھی رہی یہاں تک کے عمر اسکا باہر ویٹ کرتا رہا مگر وہ بدر کے ساتھ گھر چلی گئ ۔۔۔۔
اور جب عمر کو پتہ چلا تو وہ حیران ہوا اور پھر سعود کی طرف نکل گیا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گھر لوٹا تو نشے میں تھا اسکے قدم لڑکھڑا رہے تھے اور وہ اوپر کمرے کی جانب چل دیا
ا گئے ” اشفاق صاحب کی آواز سن کر وہ سر کو ایکدم جھٹکا دیتا سیدھا ہوا ۔
ہائے ڈیڈ ” اسنے سکون سے مسکرا کر انھیں دیکھا
کیوں تم جان بوجھ کر وہ حرکتیں کر رہے ہو جو گھر والوں کو برداشت نہیں ہوتی ساز سے تمھاری شادی صرف اس حد تک ہے کہ وہ “
وہ ؟ وہ سوال کر گیا
وہ ۔۔ صرف میرا بستر گرم کرے میری جوتیاں سیدھی کرے میری مار کھائے اور بس ” وہ ہنس دیا
عمر ” وہ بھڑکے
ارے مولوی صاحب اپکا ایکسپیرینس شئیر کر رہا ہوں اور برا بھی آپ کو ہی لگ رہا ہے کیوں ناز سے طوائف سے آپکا تعلق اتنا ہی تو تھا پھر آپ نے سوچا ایک خاندانی عورت سے شادی کی جائے “
چپ ہو جائے بہت بکواس کرنے لگے ہو ” وہ بھڑک اٹھے
ساز اپکا مسلہ نہیں ہے آئندہ آپکی زبان پر اسکا نام بھی نہ آئے ورنہ دو لمہے لگیں گے مجھے اسکا ہاتھ پکڑ کر یہاں سے لے جانے میں”
اچھا میری ہی بھیک پر جو میں نے تمھیں دی اترا رہے ہو “
ہاں تو دے دیا نہ تھوک بھی مجھے نہ دینے والا شخص کچھ تو مجھے دے گیا اب اس سے دور رہیں “
تم اسکو بیوی ہی سمجھو اس گھر کی مہارانی نہ بناؤ کیا بیہودہ لباس پہنایا ہوا تھا آج تم نے اسے اس طرح ۔۔۔۔ ہمارے گھروں کی عورتیں نہیں نکلتی باہر کیا اسے بھی اپنی ماں کیطرح طوائف بنانا چاہتے ہو “
انکی بات عمر پر انگارے کیطرح پڑی تھی جبکہ تائی جان ہاتھ پر ہاتھ مار گئیں عمر انھیں اور انکی بیٹی کو نیچا دیکھانے چلا تھا
وہ اسے اسکی اوقات ہی یاد نہ دلا دیتی اسکی کمزوری تو تایا جان دبا چکے تھے وہ خونی نظروں سے انھیں دیکھنے لگا اور پھر جیسے وہ پاگل سا ہو گیا اسنے لاونج میں موجود تمام چیزیں توڑ ڈالیں
عمر ” اشفاق صاحب خود گھبرا کر آگے بڑھے تائی جان ہائے ہائے کرتی آگے بڑھیں اللّٰہ اللّٰہ کر کے تو اس لاونج کی کچھ شکل باہر ائی تھی وہ بھی وہ پاگل توڑنے بیٹھ گیا تھا
اشفاق صاحب روکو اسکو گھر ہی نہ توڑ دے پورا ” وہ چلا اٹھیں
کوئی باپ اپنی اولاد کو کیسے تکلیف دے سکتا تھا ہاں وہ دنیا کا واحد باپ تھا جو اپنی ہی اولاد کو اتنی تکلیف دیتا تھا کہ وہ سانس بھی نہ لے پائے ۔۔۔۔
ساز کمرے سے نکلی اور نیچے کا منظر دیکھ کر دل تھام گئ ۔
اپکو کیا لگتا ہے اپکی طرح بے غیرت ہے عمر جس کی بیٹی بھگوڑو جس کی بیوی طوائف اور بیٹا شرابی بڑے اچھے تمغے سینے پر لگا کر بیٹھیں ہیں “
پھولتی سانسوں اور باغی نظروں میں ذرا بھی لچک نہیں تھی وہ لونج کی واس چیئرز ٹیبلز اور بھی جو سامان رکھا تھا سب توڑ چکا تھا ۔
اشفاق صاحب نے غصے سے آگے بڑھ کر اسکے منہ پر تھپڑ دے مارا
ساز دور کھڑی یہ نظارہ کر رہی تھی سوہا بھی آنکھوں کو تسکین دے رہی تھی اسکے مقابلے میں اپنی بیوی کو لا رہا تھا
جبکہ بدر نے باہر نکلنا بھی ضروری نہیں سمجھا وہ جانتا تھا عمر خیام تھا وہ اس آدمی کو ڈیل کر سکتا تھا اسکے جانے سے نہ ہی کوئی فرق پڑتا تھا اور نہ ہی اسے کسی کی ضرورت پڑتی
نجما کی آنکھیں بھیگ گئیں بیٹی کو دیکھ وہ تڑپ اٹھی تھی اسکے چہرے پر آج ایک شرابی کے لیے واضح محبت تھی لیکن وہ آگے بڑھ نہیں سکی ۔۔۔۔
اسی طرح چچی اور اسکی فیملی بھی کھڑی یہ تماشہ دیکھ رہی تھی
مجھ پر بول مار رہا ہے تیری وجہ سے کسی کو منہ دیکھانے قابل نہیں ہوں میں اچھا ہوا تیری ماں مر گئ ورنہ آج میں اسکا گلہ دبا دیتا تربیت تو دیکھو اسکی کیا ہے ایک بات میری کام کھول کر سن لو عمر ۔۔۔۔۔
عمر خیام وہ بنے جس پر مجھے فخر ہو نہ کہ یہ چار چار بوتلیں چڑھا کر گھر کے اندر جھولتا ہوا داخل ہو کہ محلے کے لوگ پکڑ پکڑ کر پوچھیں کہ آپکے بیٹے نے پینی نہیں چھوڑی دل تو کرتا ہے تیرا گلہ دبا دوں تاکہ تو نہ رہے اور نہ ہی میرا بیٹا کہلائے ۔۔۔۔۔۔
میں اپکا فخر سے سر بلند کروں گا ڈیڈ” اہستگی سے وہ بولتا انھیں کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا وہ یہ تھپڑ بچپن سے کھاتا ایا تھا اور یہ لوگ یوں ہی کھڑے تماشہ دیکھتے تھے جن میں آج اسکی بیوی بھی شامل تھی ۔
اشفاق صاحب ایک پل کے لیے رکے اسکی جانب دیکھا
سچ کہہ رہے ہو ” دونوں بازو تھم گئے تھے
وہ ایک باغی گھوڑا تھا انکے قابو میں ا گیا اس سے بڑی کیا بات ہو سکتی تھی انکی حکومت کا وہ سکہ جو انکو نکیل ڈالنے چلا تھا انھوں نے اسے بھی اپنے قابو میں کر لے یہاں کھڑے پر شخص کو اپنا آپ دیکھایا تھا کہ وہ کیا کر سکتے ہیں ۔
عمر نے سر ہلایا
اچھی بات ہے پھر کچھ ایسا کرنا جس سے لوگ تمہیں عمر خیام نہیں عمر اشفاق سمجھے اور آئندہ گھر کے اصول توڑنے کی کوشش مت کرنا ساز جو ہے اسے وہ ہی رہنے دو تمھارا اسکی زندگی میں عمل دخل نہیں اور آئندہ ایسا لباس مجھے اس گھر کی کسی عورت کے تن پر دیکھا وجود سے ماس کھینچ لوں گا جھنمی ہیں ساری کی ساری نمائش کرتی پھیرتی ہیں ” وہ ترچھی نگاہوں سے ساز کو دیکھتے وہاں سے چلے گئے تائی جان بھی مسکرا کر عمر کو دیکھتی چلی گئیں
اور عمر آگے بڑھ گیا ساز کے پہلو سے گزر گیا ۔
ساز کا دل کیا اسے خود میں سما لے وہ تو ایسا نہیں تھا پھر اسنے اپنے ساتھ کیوں یہ زیادتی برداشت کی ۔۔۔ وہ سب سے نگاہ چرا کر اسکے پیچھے پیچھے اوپر آئی تھی ۔۔۔
وہ صوفے پر بیٹھا گیا کچھ دیر آنکھیں بند کیے لیٹا رہا ۔
ساز دور کھڑی اسے دیکھ رہی تھی ۔
عمر نے آنکھیں کھولیں اور اپنی سیگریٹ ڈھونڈنے لگا اسنے سیگریٹ جلا کر اپنے ہونٹوں میں دبا لی
جبکہ دوسرے ہاتھ سے بوتل سے وہ سارا حرام گلاس میں انڈیل کر اسنے ایک ہی باری میں سارا اندر اتار لیا اور پھر سر کو جھٹکا دیتا نگاہ اٹھا کر اسے دیکھنے لگا جو منہ پر ہاتھ رکھے کھڑی رو رہی تھی
لڑکیوں کے پاس بھی کیا حل ہوتے ہیں ۔۔
ہر بات کے جواب میں رونے بیٹھ جاتی ہیں اور پھر جبکہ وہ جانتی ہیں انکے رونے دھونے سے مسائل میں فرق نہیں آئے گا ۔
ادھر آؤ ” بھاری لہجے میں وہ بولا
ساز بلکل اچھے بچوں کیطرح اسکے پاس ا گئ اسکے ساتھ بیٹھ گئ جس کے ساتھ بیٹھنا بھی کبھی نہیں چاہا تھا
جس کا نام بھی زبان پر حرام سمجھتی تھی آج اسکی تکلیف پر دل گھٹ رہا تھا
رو کیوں رہی ہو ” اسنے سیگریٹ کا گھیرہ کش لیا اور پیچھے صوفے کی بیک سے ٹیک لگا لی
ت۔۔۔تایا جان نے اپکو مارا ہے” وہ بے ساختہ رو دی
عمر نے چونک کر اسکی جانب دیکھا ۔
سیدھا ہوا آگے بڑھا لبوں پر مسکراہٹ ایسی تھی جیسے بہت بڑی کوئی خوشی مل گئ ہو ۔
یہ آنسو تم میرے لیے نکال رہی ہو ” وہ حیران تھا
ساز نے اسکی جانب دیکھا
وہ سنجیدہ تھی وہ مذاق پر اتر گیا تھا
میں سنجیدہ ہوں انھوں نے آپکو کیوں مارا آپ ۔۔۔ اپ تو ۔ ۔۔ اپکو پتہ ہے عمر مجھے لگتا تھا آپ ہی وہ انسان ہیں جو تایا جان کو ہرا سکتے ہیں انکے ظلم کے خلاف جا سکتے ہیں ” وہ بولی جبکہ عمر اسے اپنی بڑی بڑی آنکھوں میں سمائے مسکرا کر دیکھتا رہا
تم دیکھنا اب میں کیسے ماروں گا ” وہ سکون سے بیٹھ گیا پاؤں جھلانے لگا
ک۔۔۔کیا مطلب ” وہ سمجھی نہیں
کچھ نہیں پہلے مجھے خوش ہونے دو کہ کوئی اپنی اتنی قیمتی چیز میرے لیے ضائع کر رہا ہے” اسنے ساز کے گال پر اہستگی سے انگلی پھیری اور اسکے گال سے انسو چن لیے
ساز نے تھم کر اسے دیکھا دل کا شور عمر کو سنائی دے رہا تھا وہ دور ہو گیا ساز نے کچھ جھجھک کر اسے دیکھا
وہ بے باک تھا اسکی ہزاروں گرل فرینڈز تھیں جہاں تک سنا تھا لیکن اسکی جانب کبھی نہیں بڑھتا تھا ۔
تم رو نہیں یہ میری جنگ ہے اور میں اپنی جنگ کا وہ کھلاڑی ہوں جو جیت سامنے والے کے حلق میں ہاتھ ڈال کر اپنے حصے میں کر لے گا ” وہ انکھ دبا کر بولا ۔
ساز نے نفی میں سر ہلایا اور عمر شانے اچکا گیا ۔
جاؤ اب سو جاؤ ” وہ بولا اور اپنے کام میں مگن ہو گیا
عم۔۔۔” وہ اسے روکنا چاہتی تھی لیکن ہمت نہیں بنی پا رہی تھی
عمر ” بلاخر ہمت کرتی پکار اٹھی جبکہ اسنے اوپر دیکھا
آپ نہ پیے” وہ اتنے میں ہی تھک گئ تھی
عمر نے چونک کر اسکی صورت دیکھی
کیوں؟ سوال عام سا تھا ساز کے پاس پھر بھی جواب نہیں تھا
یہ حرام ہے ” وہ اہستگی سے بولی
جاؤ سو جاؤ ” اسنے جیسے موضوع ہی ختم کر دیا اور ساز کا منہ سا اتر گیا ۔
وہ مڑ گئ عمر نے اسکی پشت دیکھی ۔
اور وہ چلتی ہوئی صوفے پر بیٹھ گئ اسکی جانب سے پیٹھ کر کے اور آنکھیں بند کر لیں
وہ گلاس اٹھا کر ہونٹوں سے لگا گیا مگر اندر اتار نہ سکا غصے سے گلاس ٹیبل پر پٹخ دیا ۔۔۔
اسک یوں مرجھا جانا اسے برا لگتا تھا
اسکا مطلب یہ بھی نہیں عمر خیام اسکے اشاروں پر ناچے نا چاہتے ہوئے بھی اسنے پورا گلاس زبردستی خود میں اتارا اور اٹھ کر بیڈ پر اندھا گیر گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زمیر کے پاس عمر خیام کی کال حیرانگی کا باعث تھی اسنے کال اٹھا لی
ہاں یار بولو ” وہ حیرانگی سے پوچھنے لگا
کہاں کام کرتے ہو تم ” سنجیدگی سے سوال کر گیا
زمیر نے جواب دے دیا
مجھے اڈریس سینڈ کرو “
لیکن کیوں ؟
جتنا کہا ہے اتنا کرو ” سختی سے بولا
اور زمیر نے نہ سمجھی سے اسے سارا اڈریس بتایا
کیا کام ہے تمھارا جو تم یہ سوال کر رہے ہو “
تیری بہن سے شادی کر رہا ہوں تجھے کارڈ دینے آنا ہے” اسکی بات پر زمیر تپ کر کچھ بولتا کہ کھڑاک سے فون بند ہو گیا زمیر نے اسے دو چار گالیاں دیں جبکہ عمر خیام سر جھٹک کر مسکرا دیا اور پھر وہ مسکراہٹ ایک سرد پن میں تبدیل ہو گئ ۔
وہ ایزہ سے ملنا چاہتا تھا ۔
یہ شاید وہ اسکی شکل دیکھنا چاہتا تھا وہ دیکھنا چاہتا تھا کتنی مطمئین ہے وہ یہ شاید وہ اپنے دل کے اندر کی بھڑاس نکالنا چاہتا تھا وہ بھڑاس نکالتا

جاری ہے