Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 27
No Download Link
Rate this Novel
Episode 27
میں ۔۔۔ میں چھوڑو گی نہیں ان سب کو میں میرے ساتھ یہ سب امی جان بوجھ کر کیا ہے مجھ سے کس کس بات کا بدلا لیا ہے وہ ۔۔۔ وہ ایزہ ” وہ ایکدم چلا اٹھی جبکہ تائی جان نے جلدی سے اٹھ کر دروازے کو کنڈی چڑھا دی
اس ایزہ کی وجہ سے بدر نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا ہے وہ سمجھتا ہے میں بدصورت ہوں م۔۔مجھے مجھے بدصورت کہا ہے اسنے میں اسے چھوڑو گی نہیں بہت اچھا کیا میں نے بہت اچھا کیا تھا اور اب جو میں کروں گی یاد رکھے گا یہ ” وہ اٹھی جبکہ تائی نے اسکا ہاتھ پکڑ کر کھینچ کر اسے بیٹھا لیا
تیرا دماغ پھر گیا ہے چار تھپڑ کیا لگے الٹا سیدھا بولنے لگی ارے بیماری ہوتی ہے مردوں کو عورتوں پر ہاتھ صاف کرنے کی دفع کر اس کہانی کو اور اپنی زبان کو لگام دے کبھی جزبات میں سب کچھ اگل دے “
ا۔۔۔امی” وہ حیرانگی سے ماں کو دیکھتی رہ گئ
اس نے مجھے مارا ہے اپکی بیٹی پیٹی ہے اسکے لفظوں کے نشتر سہے اور اپ
آپ کے لیے یہ عام بات ہے “
اس بات سے زیادہ اہم یہ ہے کہ وہ دوکان ہڑپ گیا منحوس اس چکر میں تیرا باپ آگ بگولہ ہوا ہوا ہے رات سے سمجھا رہی ہوں ٹھنڈے ہو جاؤ ” امی اس دوکان سے زیادہ اہمیت میرے وجود پر لگے ان نشانوں کی ہے” وہ چلا اٹھی ۔
بس سوہا” تائی جان نے ہاتھ بلند کیا
اتنا ہنگامہ آرائی کر کے سب کے سینوں میں چین ڈالنے کی ضرورت نہیں اور ایزہ کا نام دوبارہ تمھاری زبان پر نہ آئے تم پر ہی محبت کا بخار چڑھا ہوا تھا ارے ہزار بار کہا کہ اس کنگلے کے پاس ہے ہی کیا ایک ولیمہ تو لگا نہیں سکتا لیکن نہیں ۔۔۔۔ بخار تھا بدر چاہیے بدر چاہیے اب مل گیا تب بھی چلا رہی ہے
ایک بات سن لے اب میری” وہ اسکی حیرانگی سے پھیلتی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولیں
آج کے بعد اس کمرے سے باہر نہ آئے تیرا کوئ بھی معاملہ میں ڈال دوں اس نجما اور ثروت کے سینوں میں چین ۔۔۔ کبھی نہیں
کوشش کر سب سہی ہو جائے گا اور تیرا باپ نہ کبھی بھی نہیں چھوڑے گا اسے
دوکان کے کاغذات ایک تیری شادی ہونے سے اسکے ہاتھ سے نکل گئے تجھے کیا لگتا ہے چین سے بیٹھ جائے گا ۔
ساز کو دیکھ اس نشئ شرابی کے ساتھ آج تک ایک آواز نہ نکلی الٹا لٹو بنا لیا اسنے اسے ۔۔۔ تو ۔۔ تو میری بڑی سمجھدار بیٹی ہے” انھوں نے آگے بڑھ کر اسے پیار کیا جس کو زندگی میں پہلی بار یہ فیلینگز بہت بری لگ رہیں تھیں
اور تو سب سنبھال لے گی مجھے یقین ہے اور وہ ” وہ کچھ کہتے کہتے رکیں سوہا نے آنکھیں اٹھا کر انھیں دیکھا
وہ ” وہ رکیں پھر گھیرہ سانس بھرتے بولیں ۔
تیرا باپ کہہ رہا تھا دوکان کے کاغذات واپس چاہیے اسے ۔۔۔ کل رات جذباتی ہو کر کاغذات تو دے دیے لیکن وہ تیرا ہی باپ ہے بیچ میں مجھے گھیسٹنے کے بجائے سیدھی طرح اسے کاغذات دے کر اپنی جان چھٹوا لے ” وہ کہہ کر باہر نکل گئ جبکہ سوہا خاموشی سے دیوار کو دیکھنے لگی ۔
کیا یہ اتنی عام بات تھی بس شوہر نے مار لیا تو ۔۔ تو کیا ہو گیا
ہاں اکثر اسنے اپنی ماں کو پیٹتے ہوئے دیکھا لیکن اسکے احساسات بلکل ویسے ہی رہے جیسے آج اسکی ماں کے تھے اسنے بھی کبھی اپنی ماں کے زخموں کو نہیں دیکھا تو آج اسکی ماں نے بھی نہیں دیکھا اور اسے اسکا پیٹنا کچھ بھی اہم نہیں لگا اسکی انکھ سے بے ساختہ آنسو گیرا اور گال پر لڑھک گیا اور تبھی دروازہ کھلا بدر اندر آیا سوہا نے اسکی جانب دیکھا
بدر نے کچھ خاص توجہ نہیں دی اسنے سب سے پہلے وہ کاغذات اٹھائے اور انھیں چیک کرنے لگا سوہا اپنی جگہ سے اٹھی اور اٹھتے وقت اسکے وجود میں اٹھتی ٹیسیں جیسے دماغ ہلا گئیں
تم نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا ” وہ اسکے چہرے پر سکون دیکھتی سوال کرنے لگی اسکے اندر آگ جلا کر وہ کتنے سکون میں تھا
کیا کیا ہے میں نے تمھارے ساتھ ” وہ لاپرواہی سے پیچ الٹتے بولا
چہرہ سپاٹ اور سنجیدہ تھا
تم نے مجھے مارا ہے بدر ” وہ حیران تھی اس بات کی اہمیت تو کسی بھی شخص کی نظر میں نہیں تھی
تو اس گھر کی ہر عورت اپنے شوہر سے پیٹتی ہے یہ اتنی بڑی بات نہیں” وہ پیچھے ہٹا اور بیڈ کا سائیڈ دراز کھول کر اس میں سے پین نکال کر کچھ لکھنے لگا
سوہا حیران سی اسکے سامنے کھڑی ہو گئ
میں سوہا اشفاق ہوں تم مجھے مار نہیں سکتے تم مجھ پر اتنا بڑا ظلم کر کے اتنے نارمل نہیں ہو سکتے تم مجھ سے کس بات کا انتقام لے رہے ہو ” وہ چلائی
بدر نے سکون سے اسکی جانب دیکھا
تمھیں یاد ہے جب تایا جان نے میری ماں پر ہاتھ اٹھایا جب انھوں نے انکے ہاتھوں پر گرم گرم کھانا پھینک دیا جب انھوں نے انپر بری نگاہ ڈالی تب ان سے سوال کرنے والا کوئی نہیں تھا کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں وہ عورت کی عزت کیوں نہیں کرتے وہ عورت کی قدر کیوں نہیں کرتے کیونکہ وہ اس گھر کے سربراہ تھے وہ گردن بھی اتار دیتے سوال بنتا نہیں تھا تمھارا سربراہ بدر زمان ہے تم کس حیثیت سے مجھ سے یہ بات پوچھ سکتی ہو کہ میں نے سوہا اشفاق کو مارا ہاں البتہ تم مجھے یہ اشفاق نامی شخص کا نام اپنے ساتھ لگا کر مزید جانور بناؤ گی تو بہتر ہے اس بات کو بھول جاو ” تفصیلی جواب دیتا اسے لاجواب کر کے وہ اٹھنے لگا
نہیں بدر تم مجھ سے ایزہ کا بدلہ نہیں لے سکتے ایزہ نے جو کیا وہ اسکا قصور ہے میرا نہیں ” اور ایکدم اسکا چہرہ بدر کے ہاتھ کی سخت گرفت میں جکڑا گیا
دوبارہ یہ نام اپنی زبان پر مت لانا تمھیں میں اتنی اوقات نہیں دیتا کہ مجھ سے سوال کرو ” اسکا منہ جھٹک کر وہ اٹھا
یہ ظلم ہے” وہ چلائی اسکی تکلیف کی کسی کی نظر میں اہمیت نہیں تھی وہ اپنی بات اپنا حق نہیں منوا پا رہی تھی
اس گھر میں سوائے ظلم کے کچھ نہیں ہوا تم کیوں اتنا دل پر لے رہی ہو ” وہ مسکرا کر اسکی جانب دیکھنے لگا
میں چھوڑو گی نہیں تمھیں بدر تم نے مجھے انسلٹ کیا ہے اب تم یاد رکھنا اس بات کو ” وہ آنسو پونچتی غصے سے بولی
افکورس میں بھی تمھیں نہیں چھوڑو گا ” وہ دونوں ہاتھ اٹھا کر لاپرواہی سے بولا سوہا اسے گھورتی رہی جبکہ وہ مسکرا دیا
ولیمہ ہے آج رات تمھارا اب جو کچھ ہو چکا ہے اس کے بعد ولیمہ مجھ پر فرض ہے تیار ہو جانا بنا تماشے کے ورنہ تم بہتر جانتی ہو ” وہ سکون سے بولا اور چلا گیا جبکہ وہ پیپرز جو اسکا بے حس باپ اس سے چاہتا تھا وہ اپنے ساتھ لے گیا تھا
سوہا وہیں بیٹھ گئ ٹوٹ ٹوٹ کر انسو گرنے لگے مگر اندر ایک طوفان اٹھ رہا تھا
یہ کیا تھا ایسا رویہ وہ پہلی بار جیسے اپنے ہی لوگوں سے متعارف ہوئی ہو دونوں ہاتھ آنکھوں پر رکھ کر وہ بری طرح رو دی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جب سے عمر خیام کا نام سن چکی تھی تب سے بے چین تھی
دادی جان اسکو ساگ بنانے پر لگا چکی تھی اس نے آج سے پہلے کبھی نہیں بنایا تھا وہ چاہتی تھی اسلامہ اباد سے جانے سے پہلے وہ عمر سے مل لے ورنہ وہ کبھی بھی یہاں سے چلی جائے اور پھر اپنے بھائی کو کھو دے
شاہنواز کی روٹین وہ ہی تھی اور ایزہ کو فلحال کوئی فرق نہیں پڑتا تھا وہ اسکی توجہ کی طلب گار بھی نہیں تھی اسے اب اپنے بھائی کی پرواہ ہو چکی تھی
دادی جان کے ساتھ ساگ بنواتے ہوئے وہ ادھر ادھر دیکھ رہی تھی کہ زمیر نظر ا جائے
اسنے دیکھا وہ گھر پر ہی تھا اور گاڑی کے پاس کھڑا ڈرائیور کو کچھ سمجھا رہا تھا ایزہ نے اسے اچک کر دیکھا
اور زمیر نے بھی اسکی جانب دیکھا اور مسکرا دیا
وہ سمجھ گیا تھا وہ لڑکی اب اسکی جانب خود سے بڑھے گی اور وہ انجوائے کرے گا وہ اسکی جانب سے نگاہ پھیر گیا
ایزہ نے دادی جان کو دیکھا
تجھے ٹھیک سے بنانا نہیں آتا معلوم نہیں کیسی لڑکی ہے تیرا دھیان تیرے عاشق میں سے نکلے تو کچھ سوچے” انھوں نے اسے طعنہ دیا ایزہ نے انکی جانب دیکھا یہ طعنہ تو وہ بھول ہی گئ تھی ۔
ایکدم سے دل میں عجیب کسک سی ہوئی اور اسنے نگاہ جھکا لی کیا آج بھی اسکا عکس اسکی آنکھوں میں واضح دیکھتا تھا ۔
اسنے کبھی دادی جان کے آگے زبان نہیں چلائی تھی
تبھی اندر سے ایک ملازمہ آئی اور دادی جان کو موبائل دیا انکی کسی دور پرے کی رشتہ دار کی کال تھی تبھی دادی جان اسکے پاس سے اٹھ گئیں اور ایزہ اٹھتے ہی زمیر کی طرف بڑھی جو کھڑا مسکرا کر اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔
آج دھوپ ویسے ہی تیز تھی تبھی وہ اور دادی جان ساگ سنوار رہیں تھیں
شادی جان اندر چلی گئیں وہ زمیر کے پاس ا گئ
اپکا شویر میڈیم اس طرح اپکو میرے اگے پیچھے دیکھ کر اپکا سر قلم کر دے گا “
انھیں مجھ پر اعتبار ہے ” ایزہ نے پہلی بار پورے یقین سے یہ بات ہی تھی زمیر خاموش ہو گیا
مجھے عمر بھائی سے ملنا ہے ” اسنے سنجیدگی سے کہا اور شاہنواز کی بیوی ہونے کا پورا بھرم رکھا ۔
ابھی تو وہ مصروف ہے” وہ بولا
کہاں” ایزہ کو لگا جیسے وہ بہت عرصے سے پیاسی ہو اور کنواں بھی چند قدموں کے فیصلے پر ہو
کسی بدر زمان کی شادی میں کزن ہے اسکا ” زمیر اتنا جانتا نہیں تھا تبھی بولا جبکہ ایزہ کو لگا اسکے قدموں تلے زمین کھسک گی ہو وہ پلکیں جھپک کر اسے دیکھ رہی تھی وہ آگے بھی کچھ بولا تھا
لیکن ایزہ تو انھیں لفظوں میں ٹک گئ تھی
معلوم نہیں پہلو میں بستا دل ایسے کیوں ہو گیا تھا جیسے خنجر سا اندر اتار دیا ہو
یہ وہ نام تھا جس کے لیے وہ چھ ماہ سے اپنی آنکھوں کو سوجھا رہی تھی
جس کی وجہ سے وہ واپس پلٹ نہ سکی جس کے لیے اسنے اپنی زندگی تباہ کر لی جس سے محبت کرتے کرتے اپنی عزت کو تباہ کر لیا خود پر الزام سہے خود کو آوارہ بدچلن معلوم نہیں کیا کچھ بنوا لیا ۔۔۔
زمیر اسکے آگے سے ہٹ گیا تھا وہ اپنے قدموں کو دیکھنے لگی
ننگے پاؤں ٹھنڈے فرش پر جیسے سن ہو گئے اور ایزہ گھوم کر پیچھے گیر جاتی کہ کسی نے اسے جکڑا اور وہ جیسے ہوش میں اتر گئ
ایزہ ” اسنے ایزہ کا چہرہ تھپتھپایا ۔
ایزہ کیا ہوا ہے اسکو ” شاہنواز نے ذرا دھاڑ کر اردگرد کے لوگوں کو ہلا دیا
کیا ہوا ہے ایزہ کو ” وہ بھڑک کر ملازمہ کو دیکھنے لگا جبکہ وہ پریشان ہو گئیں
صاحب ابھی تو ٹھیک تھی
وہ بولی جبکہ شاہنواز اس موم کی گڑیا کو اپنے بازوں میں اچک گیا
اور اندر لے ایا اور اسے کمرے میں لے گیا
ہوا کیا ہے ” دادی جان بھی اٹھ گئیں اور انکے چہرے پر بھی واضح پریشانی تھی جبکہ شاہنواز اسکا گال تھپتھپانے لگا
زمیر ڈاکٹر کو کال کرو ” وہ بولا جبکہ زمیر پہلے ہی کر چکا تھا
سر بس ابھی آتے ہوں گے ” اور کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر بھی آ گیا
اور اسنے ایزہ کو چیک کیا تو مسکرا دیا
مبارک ہو شاہنواز صاحب آپ کے ہاں اچھی خبر ہے اپ انھیں گائناکالوجسٹ کے پاس لے جائیں کچھ انجکشن ہے اور آئی تھنک کچھ کھایا بھی نہیں ہوا تو آپ اپنی مسز کا خیال رکھیں”
ہائے اللّٰہ یا اللّٰہ تیرا شکر ہے یا اللّٰہ تیرا شکر ہے میرے مالک میرے کانوں نے یہ اچھی خبر سنی
میرے بچے شاہ “وہ شاہنواز کا منہ چوم گئیں جو سن سا بیٹھا تھا
ارے او کلثوم جا ذرا مٹھیاں بٹوا آج تو میری مراد پوری ہو گئ ہے ” دادی جان اس نئی ملازمہ کو بولی جو خود مدھم مدھم مسکرا رہی تھی شاہنواز نے دانت پیس کر ایزہ کی جانب دیکھا اور کھڑا ہو گیا دروازہ بند کیا اور اسکے بعد جب تک ایزہ کو حوش نہیں آیا وہ کمرے میں مارشل اٹ کرتا رہا
ایزہ کو جیسے ہی حوش آیا ابھی اسکی آنکھیں بھی نہیں کھولیں تھیں کہ شاہنواز نے سے جھنجھوڑ کر کھڑا کر دیا
ایزہ ناسمجھی سے سے دیکھنے لگی
اٹھو یہ بچہ ختم کرائیں گے ہم تمھیں کہا تھا نہ میں نے مجھے کوئی اولاد نہیں چاہیے یہ بچہ مجھے نہیں چاہیے ایزہ ۔۔۔ اٹھو ” وہ اسکو زبردستی کھڑا کرنے لگا ایزہ اسے ایسے دیکھ رہی تھی جیسے جانتی تک نہ ہو اسکی آنکھوں سے بے ساختہ کئ آنسو بہنے لگے ۔
سینے میں اٹھتا درد یاد ا گیا اور شاہنواز اسکے رونے پر اکتا سا گیا
میں نے کہا ہے یہ ڈرامہ ختم کرو اور اٹھو ” وہ اسکا بازو پکڑ کر اسے کھڑا کر گیا
ایزہ کا دل کیا زور زور سے روئے اور اسکے سامنے اس وقت ایک سنگ دل شخص کھڑا تھا
اگر دیوار بھی ہوتی تب بھی وہ آخری بار ہی سہی اپنی محبت کے اس اختتام پر اس سے سر ٹکرا کر روتی اور وہ شاہنواز کے سینے سے لگ گئ
اسکی ہچکیاں بڑھتی جا رہیں تھی وہ ایسے رو رہی تھی جیسے اسکو کہیں شدت سے درد ہو رہا ہو اور س سے سہا نہیں جا رہا ہو جیسے کسی چوٹ میں شدید تکلیف ہو
ہاں دل اندر ہی ٹوٹ گیا تھا تو کرچیاں دیکھائی نہ دیتی سنائی تو جا سکتی تھیں
شاہنواز اپنی جگہ پر ٹھہر گیا
وہ لمہوں میں معاملات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتا تھا اسنے اسکے رونے کو سنا تھا ۔
وہ کس بات پر رو رہی تھی یہ رونا اس بات کے لیے نہیں تھا کہ وہ اپنے بچے کو ختم نہیں کرانا چاہتی یہ تو کچھ اور ہی تھا وہ خاموش ہو گیا ۔
ایزہ کے ارد گرد بازو باندھ لیے
کیا ہوا ہے تمھیں ” وہ سنجیدگی سے پوچھنے لگا اور ایزہ اسکے سینے میں چہرہ چھپائے بس روتی چلی گئ
ایزہ” وہ جیسے اب تنگ سا آ گیا ۔
وہ اس سے دور ہوئی
پھولی پھولی آنکھیں سرخ چہرہ وہ بلا کی حسین تھی بلکل ایک ایسے انسان کیطرح جو شاہنواز کی زندگی کا قیمتی ترین اثاثہ تھا وہ اکثر اسکو دیکھ کر چونکا تھا لیکن اس وقت اسکا سارا دھیان اسکے اندر موجود اپنی ہی اولاد پر تھا وہ ایک لمہہ بھی نہیں چاہتا تھا وہ بچہ رہے
تم ماں بننے والی ہو ” شاہنواز نے اسے اطلاع دی
ایزہ نے اسکی جانب دیکھا اسے سب یاد تھا شاہنواز اس بچے کو چاہتا ہی نہیں تھا
اور آپ یہ بچہ ختم کرانا چاہتے ہیں” وہ اپنے آنسو صاف کر کے اسکی صورت تکنے لگی
ہاں اور میں کسی ایڈوانس ڈرامے میں نہیں پھنسو گا سیدھی طرح تم ابھی اسی وقت ڈاکٹر کے پاس جاو گی میں رمشہ کو کال کرتا ہوں اور دادی جان کو کہہ دوں گا میں جو مجھے کہنا ہے ” وہ اسکے بال سنوارنا اسے سمجھانے لگا
تکلیف پر تکلیف دی جا رہی تھی اور اسکو اپنا دل پتھر کا لگ رہا تھا جس میں اس وقت کوئی احساس نہیں تھا شاہنواز اسے چھت سے کودنے کا کہتا وہ کود جاتی
جی ٹھیک ہے ” اسنے بس اتنا ہی کہا وہ پیشانی پر تیور ڈال گیا ۔
وہ کچھ عرصے سے ایسے بٹ کیطرح رویہ نہیں دے رہی تھی اور آج وہی بات اسکی سن کر وہ چونک گیا
شاہنواز نے سر ہلایا اور اسکا گال تھپتھپا کر جانے لگا
بات سنیں” وہ پکار گئ
وہ مڑا
میں دوبارہ کبھی ماں نہ بن سکی تو “
وہ کسی خدشے کے تحت بولی ۔۔۔
میں یہ چاہو گا تم ساری زندگی میری بیوی بن کر رہو نہ میرے بچوں کی ماں اور نہ ہی میری محبوبہ صرف بیوی اس سے زیادہ مجھے تم سے کچھ نہیں چاہیے” تلخی سے کہتا وہ جانے لگا
ایزہ نے سر ہلا دیا
بات سنیں ” وہ پھر رکا اب کہ چہرے پر غصہ ہی الگ تھا
کیا ایک صرف بیوی کی حیثیت سے آپ سے کچھ وقت مانگ سکتی ہوں “
سر جھکائے وہ جیسے کانپتے لہجے میں بولتی خود سے بہت بڑی بات کر رہی تھی شاہنواز اسے آنکھیں چھوٹی کر کے دیکھنے لگا
ایزہ نے سانس حلق میں اتارا
گرم گرم آنسو ایک بار پھر اسکی انکھ سے بہہ نکلے ۔
جبکہ شاہنواز جس دروازے میں باہر جانے کے لیے کھڑا تھا اسنے دروازے پر دباؤ ڈال کر زور سے دروازہ بند کیا کمرے کی لائٹس پر ہاتھ مارا اور اسکی جانب قدم اٹھائے اسکے بھاری قدم ایزہ کے نزدیک ا رہے تھے وہ سر جھکائے کھڑی تھی
بدر کی شادی اسکے اندر ایک طوفان برپا کر رہی تھی شاہنواز سے آج اسنے جس قدم کی فرمائش کی تھی وہ شاید خود کو یہ احساس دلانے کے لیے کی تھی کہ وہ شادی شدہ ہے
شاہنواز نے ایک جھٹکے سے اسے اپنے نزدیک کھینچا
کمرے میں وہ سائیڈ لیمپ اوں کر چکا تھا اسے محسوس نہیں ہوا
وہ خالی خالی نظروں سے اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگی
شاہنواز اسے توجہ سے دیکھ رہا تھا
تم وقت ضائع کر رہی ہو ” وہ سنجیدگی سے بولا
بس تھوڑی دیر” وہ بہت مدھم لہجے میں بولی تھی اسکی انکھ سے بہتا انسو شاہنواز نے اپنے ہاتھ سے صاف کیا
اور اسکے ہونٹوں پر جھکا
ایزہ نے کانپتا ہاتھ اسکے سینے پر رکھا اور اسکی شدت نے ایک لمہے کے لیے تو سب بھلا دیا
شاہنواز کی بڑھتی شدت اور اسکا لمس اپنے چہرے پر جا بجا محسوس کر کے وہ آنکھیں بند کیے ان لمہوں میں بدر کو واقعی بھول گئ ۔
شاہنواز نے اسکی گردن کو اپنے بھاری ہاتھ کی سخت گرفت میں لیا اور ایزہ نے ایک دم اسکی جانب دیکھا ۔
اسکی آنکھوں میں جو غصہ ناگواری اس بچے کو لے کر کچھ دیر پہلے تھی اب وہاں ایک خمار تھا عجیب نشہ سا تھا ایزہ کے وجود میں اسکی انکھیوں کی اس خماری سے ہی چونٹیاں سی رینگ گئ
مجھے پہلے تم اس بچے سے آزاد چاہیے ہو اسکے بعد یقینا میں تمھاری یہ خواہش پوری کرو گا ” اسنے اسکا گال تھپتھپایا اور اسے دور دھکیل دیا
جبکہ ایزہ نے اپنی بڑھتی سانسوں کو سنبھالنا چاہا شاہنواز نے طنزیہ نظروں سے اسکی صورت دیکھی ۔
برداشت کر نہیں سکتی اور خواہشیں اتنی بڑی بڑی ہیں” نفی میں سر ہلاتا وہ باہر نکل گیا ایزہ اسکی پشت کمرے میں اسکی خوشبو اور اسکی قربت سے دل و دماغ سے نکل جانے والا بدر کا خیال وہ حیران سی رہ گئ
آنکھیں پٹپٹاتی خود کے جذبات سے بے بس وہ معصوم سی لڑکی بڑی بڑی ذمہداریوں میں گھیری گئ تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
