Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 38
No Download Link
Rate this Novel
Episode 38
وہ اندر داخل ہوا اور تو پورے گھر میں بس ملازم بکھری چیزیں اور سامان سمیٹتے دیکھائی دیے اسنے اوپر کی جانب چہرہ اٹھایا وہ کمرے میں تھی وہ سانس کھینچتا اوپر چلنے لگا اسے اسطرح سب کے سامنے نہیں کہنا چاہیے تھا
اور مرد بھی کیا سوچ رکھتا ہے غصے میں بیوی پر ہاتھ اٹھا لے تو اسکی عزت نہیں گھٹتی اگر وہ ہی حرکت بیوی سب کو بتا دے تو عزت گھٹ جاتی ہے وہ اوپر چلتا جا رہا تھا اسنے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا ایزہ ڈریسنگ میرر کے سامنے کھڑی اپنے گلے سے نکلیس نکال رہی تھی شاہ نواز اسکے نزدیک آیا اور اسکا بازو پکڑ کر رخ اپنی جانب موڑ لیا
یہ کیا تماشا تھا ” اسکے سوال پر ایزہ نے اس سے سب سے پہلے اپنا بازو چھروایا اور اسکی جانب دیکھنے لگی
آپ چاہتے کیا ہیں مجھ سے ” اسنے بھی الگ ہی سوال کیا
دیکھو جتنا تم سے پوچھا ہے اتنا جواب دو “
میرے پاس جواب نہیں ہے کیونکہ سارے جوابات سے آپ آگاہ ہیں ” وہ اسکے پاس سے ہٹنے کی کوشش کرنے لگی ۔
ایزہ جسٹ شیٹ آپ اتنی زبان درازی نہ کرو تو بہتر ہے کیونکہ تمھیں پتہ ہونا چاہیے تمھارے سامنے کوئی تیرہ سالہ بچہ نہیں شاہنواز سکندر کھڑا ہے تو سب سے پہلے اپنا لہجہ اور انداز درست کرو “
نہیں کروں گی ” ضدی تو وہ سب ہی تھے معلوم نہیں اتنے عرصے اسنے خاموشی سے کیسے کاٹے لیں ایک لفظ نہ اختلاف اٹھایا اب شاید اسکے ارد گرد ڈھارس تھی
ایک تو وہ اپنے بھائی سے ملنے کے بعد مکمل بدل چکی تھی دوسرا ماں بننے والی تھی پھر شاہنواز کا نرم رویہ بھی اس میں ہمت مجتمع کر چکا تھا
شاہنواز نے غصے سے اسکی جانب دیکھا
ڈونٹ ٹیسٹ می ” انگلی اٹھاتا وہ جیسے اپنے ضبط اور برداشت کی حدوں کو چھو رہا تھا
مجھے آپکی کسی بات سے فرق نہیں پڑتا میں تو دعا کر رہی ہو کاش کاش کہیں سے بھی عمر بھائی ا جائیں تو میں انکو اپکا اصل چہرہ دیکھاو اور یہاں سے چلی جاو “
اوقات میں رہو اپنی ” وہ دھاڑا
ڈرتا نہیں ہے شاہنواز کسی سے اور اگر کسی دن بھی جرت کی تم نے اس گھر سے قدم نکالنے کی تو طلاق بھی منہ پر مار سکتا ہوں
مجھے منظور ہے ” بھیگی پلکوں سے وہ جیسے ضد پر اڑی کھڑی تھی
شاہنواز کو امید نہیں تھی وہ یہ کہے گی اسے لگا تھا وہ ہمیشہ کیطرح ڈر جائے گی سہم جائے گی اسکی جانب دیکھے خود اسکی جانب بڑھے گی
ایزہ اسکے پاس سے ہٹ گئ اور ڈریسنگ روم میں چلی گئ شاہنواز اسی جگہ کو کھڑا گھورتا رہا جہاں وہ ابھی کچھ دیر پہلے موجود تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بدر کا کام چل رہا ہے ابو اور ہمارا نہیں آپ عمر کو واپس لے آئیں تاکہ اپنی دوکان میں نیا مال لائیں ” ناشتے کی ٹیبل پر ارہم نے باپ سے کہا جبکہ اشفاق صاحب کے چہرے پر سنجیدگی اور سختی بھری ہوئی تھی دانت پر دانٹ چڑھائے بیٹھے تھے ۔
بدر کچھ کرو میری بچی بھی وہاں ہے ” نجما کچن میں کھڑی رو رہی تھی بدر انکے پاس ایا تو وہ بے چینی سے بولیں
میں کچھ کر رہا ہوں لیکن بات نہیں بن رہی فلحال ہو جائے گا آپ پریشان نہ ہوں “
میں تمھارے تایا سے بات کرتی ہوں ہٹو ایسے کیسے وہ خاموش بیٹھ سکتے ہیں آج تیسرا دن ہے بچے کو قید ہوئے کچھ تو کریں” وہ بولیں بدر نے انھیں پکڑ لیا
اس آدمی کے منہ لگنے کی ضرورت نہیں اول تو عمر خود بہت بڑی چیز ہے جو جیل میں اپنی بیوی کو فون کال کر کے بلا سکتا ہے وہ یقینا اور بھی بہت کچھ کر سکتا ہے تو آپ انکی فکر نہ لیں باقی میں خود بھی دیکھتا ہوں ” وہ اسے سمجھانے لگا مگر ماں تھی دھڑکا سا لگا ہوا تھا دل کو ۔
بدر باہر ایا اور صوفے پر بیٹھ گیا
سوہا کی طبعیت ٹھیک نہیں تھی اب وہ بیمار کیوں ہوئی وہ نہیں جانتا تھا اسے کیا مسلہ ہے لیکن اسنے اٹھتے ساتھ اسے اٹھایا اور ناشتہ بنانے کا حکم دے دیا
اشفاق صاحب اور ارہم اسے ہی گھور رہے تھے وہ سمجھ سکتا تھا ان کی تکلیف بدر کی دوکان کارنر کی تھی جبکہ انکی اندر کیطرف تو گاہک کا پہلا رخ اسکی دوکان کی جانب ہوتا تھا اور وہ تو جیسے اپنی خوشیاں دبائے پھر رہا تھا اگر ایک جگہ اسکی ڈیلینگ ہو جاتی تو انشاءاللہ وہ ترقی کی پہلی منزل پر قدم رکھ لیتا وہ موبائل سکرول کر رہا تھا سوہا باہر نکلی اور اسکی جانب دیکھا
بدر میری طبعیت نہیں ٹھیک آج نجما آنٹی سے بنوا لو ” وہ بولی آہستگی سے بدر نے سر اٹھایا
جا کر ناشتہ بناؤ اور دوسری بات نہیں سنو گا میں ” سختی سے کہہ کر وہ پھر موبائل دیکھنے لگا
سوہا کی آنکھیں بھیگ گئیں وہ جیسے اسے توڑ کر رکھ دینا چاہتا تھا
ہاتھ کا بدلہ جسم کو تکلیف دیتا ہے جو دو چار دن میں ٹھیک ہو جاتی ہے لیکن زبان سے بدلہ ساری عمر بھی زخموں کو بھر نہیں سکتا
وہ اسکے لہجے اور لاپرواہی پر ایک گھونٹ حلق میں اتارتی کچن کی جانب بڑھ گئ
تائی جان بھی باہر دیکھائی نہیں دے رہیں تھیں ورنہ سب سے پہلے انکا بولنا تو فرض تھا
اور سوہا کے باپ اور بھائی کو بدر کی دوکان اور اسکے کاروبار سے غرض تھی بس ۔۔۔
سوہا کچن میں آئی اور کانپتے ہاتھوں سے بال سمیٹ کر اسنے پراٹھے کے لیے سامان تیار کرنا شروع کیا
اسکے واضح کانپتے ہاتھ اور سرخ چہرہ نجما دیکھ سکتی تھی
سوہا بیٹا کیا ہوا ہے طبعیت نہیں ٹھیک کیا ” نجما بولی تو سوہا نے جواب نہیں دیا نہ ہی وہ کسی کے منہ لگنا چاہتی تھی ۔
بیٹا طبعیت ٹھیک ہے “
مجھ سے بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے ” وہ دھاڑی بدر سمیت سب کو سنائی دیا تھا
اندھی ہیں آپ دیکھائی نہیں دیتا آپکے راجہ آندھر کے لیے پراٹھا بنا رہی ہوں میری طبعیت کا ٹھیک ہونا یہ نہ ہونا ضروری نہیں ہے اپنے کام سے کام رکھا کریں ” بہتی آنکھوں سے وہ انپر ٹوٹ پڑی نجما شرمندگی سے سر جھکا گئ جبکہ بدر نے دانت پیستے ہوئے یہ بکواس سنی تھی سوہا بدر کو دیکھ کر سٹپٹائی
وہ اسکے نزدیک آیا اور اسکے ہاتھ سے سامان کھینچ لیا
یہاں کھڑے ہو کر میری ماں نے بخار سے جلتے وجود سے تمھاری پسند کی چیزیں بنائی ہیں
میری ماں نے ان ہاتھوں سے تم لوگوں کی خدمت کی میری ماں کے جسم کے کسی بھی حصے میں درد ہوتا تھا وہ اس درد میں کھڑی وہ کر اس خاندان کی بھوک مٹانے کو بنا رہی ہوتی تھی چیزیں اور تم ایک رتی بھر بخار پر اترا رہی ہو ” وہ دھاڑا
اصل بے غیرتی تو باپ بھی کی تھی جو اٹھ کر نہ آئے سوال نہیں کیا
سوہا کے چہرے کے رنگ آڑے
معافی مانگو امی سے ابھی ” وہ اسکا رخ امی کی جانب کرتا بولا نجما پریشان سی ہوئی ۔
کیونکہ سوہا کی انکھ سے آنسو لڑی کی مانند بہہ رہے تھا
میں نے کہا معافی مانگو اور آئندہ تمھاری آواز میری ماں سے اوپر ہوئی تو زبان کٹ کر ڑ رکھ دوں گا اور میں یہی کروں گا ” اسنے نجما کی جانب اسے دھکیلا دیا ۔
نہیں بدر اسکی ضرورت نہیں اسکی طبعیت نہیں ٹھیک تم مجھے کہتے میں ناشتہ بنا دیتی “
امی بیوی یہ ہے میری اور اسکی ذمہداری ہے کہ یہ یہاں وہ سب کرے جو کہ آپ نے کیا ہے شوہر کے مر جانے کے باوجود بھی ۔۔۔ وہ بولا تو نجما سوہا کو دیکھنے لگی
میرا ہاتھ اٹھا تو تمھیں زیادہ بے عزت کرے گا سوری کرو “
سوری چچی ” وہ بولی اور بدر کو جیسے چین سا آیا ۔
بلا چوں چراں ناشتہ دے دو مجھے دیر ہو رہی ہے مجھے” بدر لاپرواہی سے کہہ کر باہر نکلا سوہا نے خاموشی سے ناشتہ بنایا اور اور بمشکل ہی بنا ہوا پراٹھا انڈہ لیے وہ باہر آ گئ
ایک بات تھی وہ جیسا بھی بنا لیتی وہ چپ چاپ کھا لیتا وہ خاموشی سے کھا رہا تھا
پراٹھا جلا ہوا بھی تھا لیکن وہ کھانے میں مصروف تھا کھا کر وہ باہر نکل گیا ۔
اور سوہا جلتی آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی ۔۔۔
نہ محبت نہ توجہ ۔۔۔ زبردستی کے بنائے گئے رشتے ایسے ہی ہوتے تھے شاید ۔۔۔۔ شدید غم کی سی کیفیت میں اسنے باپ کی اور بھائی کی جانب دیکھا جو ناشتہ کرنے میں مصروف تھے ٹوٹے ہوئے قدموں سے وہ کمرے میں آئی اور لیٹ گئ اور بے شمار رو دی
ان روائیوں کی عادی نہیں تھی وہ اسکے باپ نے تو اسکو بہت محبت دی بھائی نے دی ماں نے دی اب وہ بدر کی دوکان کی وجہ سے یہ سب کر رہے تھے اسے منہ کی مار دے دی تھی
وہ روتے روتے سو گئ تھی
معلوم نہیں شام کے کس پہر آنکھ کھلی صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا ایک تو بھوک پھر تیز بخار اسکا سر چکرا گیا ہاتھ کانپنے لگے تھے وہ اٹھنا چاہتی تھی لیکن ہمت نہیں تھی سردی کا بخار تھا اسکی جان لے رہا تھا
کوئی آیا ہی نہیں اسکے پاس اسے دیکھنے ۔۔۔
اسے لگا تھا اسکی ماں آئے گی سب سے پہلے مگر نہیں کوئی نہیں تھا وہ بستر پر ہی پڑ گئ ہمت تھی کہ ختم ہو رہی تھی
وہ وہیں لیٹی رہی اور کھڑی کے باہر رات کی چادر آسمان پر پھیلتی اسنے اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی ۔
اسنے آنکھیں بند کر لیں ۔
اور معلوم نہیں وہ پھر گھل میں چلی گئ تھی
اور پھر جیسے اسے احساس ہو اکہ اسکو کوئی ہلا رہا ہے اسنے آنکھیں کھولیں بدر تھا
اوپر ہو کر لیٹو ” اسنے حکم دیا
سوہا اسے دیکھتی رہی اسنے اسکا بخار چیک کیا وہ واقعی تپ رپی تھی وہ میڈیسن لایا تھا اسکے لیے ۔۔۔
اسنے سب سے پہلے کھانے کے شوپر کھولے اور خود ٹرے میں کھانا رکھ کر لے ایا
سوہا اسے دیکھ رہی تھیں وہ سنجیدگی سے یہ سب کر رہا تھا وہ اسکے نزدیک بیٹھا اور اسکے منہ کی جانب دو چار لقمے بڑھائے اور اسکے بعد اسکے ہاتھ میں دے دیا تھا بریڈ بوائل ایگ اور بازاری کھانے کے ساتھ ایک بیمار بندے کا بھی کھانا تھا وہ چپ چاپ اپنا کھانے لگا سوہا اسے دیکھنے لگی
یہ توجہ تھی یہ بھیک تھی
وہ برحال چھوٹے چھوٹے لقمے لینے لگی اور کچھ ڈھارس آئی تھی وجود میں جیسے راحت سی میسر ہوئی ہو کچھ سمجھ لگا ہو دماغ کو ۔۔
اس میں جتنی ہمت تھی اتنا کھا کر رکھ دیا
بدر نے فورس نہیں کیا پہلے اسنے مکمل کھانا کھایا اور پھر دوا نکال کر اسکی ہتھیلی پر رکھ کر اسے گلاس تھما دیا ۔
تم بیمار مت ہوا کرو پیسے نہیں ہیں میرے پاس اتنے کے کھانے کو بھی دوں اور یہ بے تکے چونچلے بھی اٹھاو ” سرد مہری سے کہہ کر وہ برتن اٹھا گیا
سوہا خوش ہو گی تھی کہ اسے اسکا احساس ہے لیلن وہ مجبوری میں کر رہا تھا اسنے داوئی لی اور پانی کا گلاس سائیڈ پر رکھ کر لیٹ گی اسے سخت سردی لگی تھی ۔
یہاں تک ہے وہ دو کمبل میں بھی کانپ رہی تھی ۔
بدر صوفے پر بیٹھے کسی سے بات کر رہا تھا کاغذ پنسل سے کچھ لکھ رہا تھا ۔
سوہا اسے دیکھتے دیکھتے سو گئ تھی پھر دوائی نے کچھ اثر کیا تو اسکا دماغ شعور میں تھا مگر آنکھیں بند کیے وہ سوتی جاگتی کیفیت میں تھی
معلوم نہیں کس وقت کام سے فارغ کو کر وہ اسکے نزدیک آیا
اور اسکے ساتھ لیٹ گیا سخت تھکاوٹ تھی اسنے کچھ دیر لیٹ کر چھت کو گھورا
کمبل گرم تھے لیکن وہ سکڑی ہوئی لیٹی ہوئی تھی بدر نے سر جھٹک کر اسکا گال تھپتھپا دیا
اٹھو ” وہ بولا سوہا نے آنکھیں کھولیں
لائیٹ بند کرو اور ” وہ رک گیا اپنی قمیض کا گریبان چاک کرتے اسنے اسکی صورت دیکھی سوہا کی آنکھیں حیرانگی سے پھیل گئ
اس میں اٹھنے کی ہمت نہیں تھی وہ خواہشمند کس بات کا تھا اس سے ۔۔۔۔۔
بدر”
سوہا مجھے بکواس نہیں سننی ” اسنے بس اتنا ہی کہا
لیکن میری طبعیت نہیں ٹھیک ” وہ جیسے منت کرنے لگی
یہ میرا مسلہ نہیں ہے کہ تم بیمار ہو اور ویسے بھی کھا ہی چکی ہو بحث کر کے میرا موڈ سپائل نہ کرنا ” اسنے کہا اور اسکی جانب دیکھا
تم بہت بڑے وحشی ہو ” وہ رو پڑی
اچھا دیر سے احساس ہوا تمھیں اس بات کا ” وہ اب بھی لاپرواہ تھا
میں تمھاری شکایت ابو کو لگا دوں گی” وہ بے بسی سے بولی
اچھا ٹھیک ہے جاؤ لگا دو میں بھی دیکھ لوں گا وہ باپ جو تمھیں منہ لگانا پسند نہ کرے وہ کیا کرے گا تمھارے لیے ” اسکی بات پر سوہا بے بسی سے اسے دیکھنے لگی
میرا ٹائم ویسٹ کر رہی ہو کیسی بیوی ہو تم سارا دن محنت کر کے آیا ہوں اور تم اپنی تکلیف اور طبعیت کے ڈھکوسلے لے کر بیٹھ گئ ہو “
وہ بولا سوہا نے گال صاف کیا کانپتے ہاتھوں سے لائیٹ بند کی کمرے میں اندھیرا چھا گیا لیکن چونکہ انکے کمرے میں ہیٹر نہیں تھا تبھی سردی کا احساس شدید تھا
لائیٹ بند ہوتے ہی سوہا اندھیرے میں اسکی پہچان کرنے لگی اور بدر اسے اپنی جانب کھینچ لیا وہ اسکے سینے پر گیری
تمھیں پتہ ہے میں تمھارے ساتھ ہوتے اس اندھیرے میں کیوں ڈوبنے کی خواہش رکھتا ہوں ” سختی سے اسکی کمر پر اپنی آہنی گرفت کرتا وہ بولا
تاکہ مجھے تمھاری شکل نہ دیکھنی پڑے تاکہ مجھے تمھاری شکل سے جتنی نفرت ہے اسکا اظہار میں روشنیوں میں کر کے واقعی ایک جانور نہ بن جاؤ ” وہ اسکے کان کی لو کو اہستگی سے اپنی انگلیوں کے بیچ زور سے دباتا بولا سوہا اسے دیکھتی رہ گئ
اتنی نفرت ” بے ساختگی میں آہ نکلی تھی منہ سے
اس سے بھی کہیں گناہ زیادہ
اسنے ایکدم سے بال مٹھی میں جکڑے اور اسکی گردن پر جھکا ۔ سوہا کو اپنی گردن پر اسکا لمس محسوس ہو رہا تھا اسنے سوہا کو کروٹ دے کر اپنے پہلو میں لیٹا لیا اور اسکے چہرے کو ہاتھوں میں جکڑے وہ اسکے خشک ہوتے ہونٹوں پر جھکا تھا
سوہا کو اسکی یہ قربت بھیک لگ رہی تھی جیسے اسکے جسم کو بس نوچا جا رہا ہے بنا احساس کے وہ اپنی تھکاوٹ ہی تو اتار رہا تھا اور وہ کر بھی رہا تھا
سوہا دم سادھے پڑی تھی بدر کا لمس چار سو تھا لیکن کوئی اچھا احساس کوئی گدگدی دینے والی بات کچھ نہیں تھا بس ایک خالی پن ایک کھوکھلا پن تھا جسے وہ سہہ رہی تھی ۔
اسکی آنکھیں بھی خشک تھیں اور بدر اپنی من مانی پر اترا ہوا تھا ۔
اور جب اسکا دل راضی ہو گیا تو وہ منہ سا بن گیا ۔
اتارو اس بخار کو کل مجھے تمھاری یہ حالت نہیں چاہیے” برہمی سے کہتے اسنے اپنے بٹن لگائے
اس پر اپنی تھکاوٹ اتار کر اپنی خواہش پوری کرکے وہ برا سا منہ بنا گیا تھا اسنے لیمپ اون کیا اور موبائل میں وقت دیکھتا کر وہ لیٹ گیا آنکھیں بند کر لیں
سوہا کی آنکھیں یوں ہی کھولی ہوئی تھیں اور وہ دیوار کو گھور رہی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہنواز ساری رات آنکھوں میں کاٹ چکا تھا سیگریٹ پیتے
اور اسے جیسے احساس ہو گیا کہ وہ عمر کی ہر غلطی کو ایسے اگنور کرتا تھا جیسے اسکی غلطی پانی پر لکھی جا رہی ہے اور جبکہ ایزہ کی غلطی گناہ بنا کر فورا سزا دے دیتا تھا
عادت پرانی تھی تبھی چھوٹ نہیں رہی تھی وہ جانتا تھا وہ بھی اس سے ناراض ہو جائے گی کہ وہ اسکی بیٹی کے ساتھ کیا کر رہا ہے جبکہ وہ اندر خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی
وہ اٹھا اور اسکے پاس آ کر اسکے چہرے پر سے کمبل ہٹایا تو حسین سا چہرہ ہلکا ہلکا گرمائش سے سرخ ہو گیا تھا
وہ آرام سے سو رہی تھی اسے بے سکون کر کے
شاہنواز اسکے نزدیک لیٹ گیا اور اسکے گال پر ہاتھ پھیرنے لگا نشان تھا لیکن ہلکا سا ۔۔۔
اسکے بال سنوارے اور گھیرہ سانس بھر کر اٹھ گیا
ضد تو ان سب میں شاہنواز سے بھی بڑھ کر تھی آخر کو جس کے بچے تھے اسکے اندر کم ضد تھی وہ اٹھ گیا ۔
دادی جان کو دو دن بعد لینے جانا تھا اسنے عمر کے پاس بھی جانا تھا کل اسکی بیل ہونی تھی
ویسے بھی آج سنڈے تھا اور اسنے شام میں ہی باہر نکلنا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کسمسا کر اٹھی اور ایکدم اسکا ہاتھ ایک نرم نرم چیز سے ٹکرایا کچھ ڈر کر آنکھیں کھولیں تو ایک بڑا سارا بھالو عین اسکے پہلو میں تھا اسنے جلدی سے وہ بھالو اٹھا لیا تو بیڈ پر اتنے سارے بھالو دیکھ کر وہ اچھل پڑی
اور پھر صوفے پر موجود چاکلیٹس دیکھ کر تو دوڑ کر چاکلیٹ کھانے پہنچ گئ تھی
اسنے ٹیبل پر دیکھا فلورز تھے اور انکے بیچ ایک کارڈ تھا اسنے وہ کارڈ اٹھا لیا اور چاکلیٹ کھول کر بڑی ساری بائیٹ لی
سوری آئندہ تم پر کبھی ہاتھ نہیں اٹھاؤ گا ائ پرومس” اسنے پڑھا اور ادھر ادھر دیکھنے لگی
منانے کا طریقہ تو اچھا تھا لیکن وہ کنفیوز سی ہو گئ
ہاں وہ کبھی کچھ تھا کبھی کچھ لیکن وہ ماننے والی نہیں تھی
مزے سے چار چاکلیٹس کے پیک کھا کر وہ فریش ہوئی اور اسکے بعد پھیلے بھالو اٹھا اٹھا کر دیکھتی خوش ہونے لگی مگر اسنے پھولوں کو نہیں چھوا تھا چاکلیٹس بھی ویسے ہی پڑی تھیں بس وہ انھیں دیکھ رہی تھی
شاہنواز نے ملازم کو بھیجا کہ وہ ناشتے کے لیے نیچے جائے”
نہیں کرنا ناشتہ ” وہ بولی اور سر جھٹک گئ
کچھ دیر بعد شاہنواز خود ا گیا
ناشتہ نہیں کرنا ” نرمی سے بولا
نہیں” وہ بس اتنا ہی بولی
تمھیں پھول اچھے نہیں لگے ” وہ گلابی پھولوں کو دیکھتے ہوئے بولا
مجھے ریڈ پھول پسند ہیں” وہ بولی شاہنواز اسکا نکھرے دیکھ رہا تھا اور بڑی بات تھی سہہ رہا تھا ۔
اوکے تم مجھے لسٹ بنا دو تمھیں کیا کیا پسند ہے”
اپکو کیوں بتاؤ “
کیونکہ میں تمھارا شوہر ہوں” وہ اسکے نزدیک آیا گیا
میں نہیں مانتی”
ہیں نکاح نامہ ہے میرے پاس تمھاری ماننے یہ نہ ماننے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ” وہ بولا
تو اپنے پاس رکھیں اسے آپ بڈھی روح ہیں ” وہ بولی اور اسکے پہلو سے ایک بھالو اٹھا کر نکل گئ
واٹ ” شاہنواز اسکی ان باتوں سے پریشان ہی ہو جاتا تھا آئینے میں خود کو دیکھ کر وہ اسکے پیچھے پیچھے گیا تھا وہ جو اپنے پیچھے لوگوں کو چلاتا تھا خود سے پیچھے گیا
تم نکھرہ دیکھانا بند کرو اب بس “
کس لیے ” میں سوری بولا تو ہوں”
وہ انا پرست شخص منہ سے معافی مانگتا ہی کیسے ۔
کیا بولا ہے ” وہ بھی زیچ کر رہی تھی
وہی ” وہ بس اتنا ہی بولا
منہ سے بولیں ” وہ بولی
زیادہ فری نہ ہو ” وہ انگلی ٹھا کر بولا
ایزہ صوفے پر بیٹھ کر اپنا موبائل دیکھنے لگی
بات کر رہا ہوں تم سے ” وہ موبائل چھین گیا
تھپڑ ہی ماریں گے اپ مار لیں ” وہ بھی غصے سے بولی
اچھا ٹھیک ہے
س۔۔۔سوری” وہ بولا ایزہ کو بے ساختہ ہنسی آئی ۔
میں نے معاف نہیں کیا ” وہ بولی اور باہر نکل گئ
ایزہ ” وہ غصے سے چیخا اور ایزہ لون میں آ گئ شاہنواز نے اسکا بازو پکڑ کر کھینچا ۔
میں اس پودے کو توڑو گی اسکے بعد معاف کرو گی”
اب تم میر ی برداشت آزما رہی ہو “
کیا ہے اس میں جو اتنا قیمتی ہے یہ “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
