Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 64

وہ اٹھی سر گھوم رہا تھا اسنے ادھر ادھر دیکھا بدر آئینے کے سامنے کھڑا تھا
میں لاہور جا رہا ہوں ” وہ بولا سوہا نے حیرانگی سے اسکی جانب دیکھا کہ وہ آج اسے بتا رہا ہے وہ تو ضروری بھی نہیں سمجھتا تھا کہ اسے کچھ بتائے
وہ اٹھی اور واشروم میں چلی گئ
اسکے جواب نہ دینے پر وہ اسکو دیکھنے لگا جبکہ وہ واشروم میں چلی گئ ۔۔۔وہ گھیرہ سانس بھر گیا اور بال بنا کر باہر نکل گیا
باہر نجما بیٹھی تھی اسنے نجما کو بھی بتایا اور وہ گھر سے نکل گیا
سوہا نے آج ڈاکٹر کے پاس ہر حال میں جانا تھا اگر وہ نہ جاتی تو وہ شاید الٹیاں کر کرکے تھک جاتی ۔۔۔
وہ باہر آئی اور اسنے نجما سے کہا کہ وہ ڈاکٹر کے پاس جانا چاہ رہی ہے ۔
رک تو میں ارہم کو کہتی ہوں وہ جائے گا تیرے ساتھ” تائی جان بولیں تو سوہا نے نفی کی
مجھے نہیں جانا اسکے ساتھ ” وہ سر جھٹک کر بولا
بھائی ہے سوہا وہ تیرا ” تائی جان ذرا ناراضگی سے بولیں
وہ اس قابل نہیں ہے کہ بھائی کہلایا جائے ” وہ بیٹھ گئ
چچی کے ساتھ چلی جاو گی میں” وہ خود سے بولی جبکہ تائی جان کو سانپ سونگھ گیا اور نجما مسکرا کر سر ہلا گئ وہ تسبیح کر رہی تھی اسپر پھونک مار کر وہ ناشتہ بنانے کے لیے اٹھی
نہیں چچی میں کچھ بھی نہیں کھاو گی پلیز ” وہ بچوں کیطرح ضد کر کے بولی جبکہ نجما نے پھر بھی نفی کی
میں لا رہی ہوں کھاؤ تم کیسے سوکھ گئ ہو “
جی نہیں لوگ کہہ رہے ہیں موٹی ہو گئ ہوں ” وہ بولی تو نجما مسکرا دیں
ہاں تو ماں بننے کا روپ چڑھ رہا ہے ماشاءاللہ اللّٰہ نظر بد سے بچائے ۔
وہ پیار سے بولی تائی جان نے بھی سر ہلایا تھا
سوہا کے دل میں ایک خیال سا آیا تبھی اسنے ماں کو دیکھا جبکہ نجما کچن میں چلی گئ
امی صوفیا اور ارہم کی شادی کا کیا سوچا ہے “
لو بھلا تیرے باپ پر کھانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں وہ ارہم کی شادی کا سوچے گا بھی نہیں” تائی جان ہاتھ نچا کر بولیں
کچھ نہیں ہوتا سادگی میں کر لیں چچی بہت چپ چپ رہنے لگیں ہیں مجھے اچھا نہیں لگتا “
پتہ نہیں سوہا تجھے ہو کیا گیا ہے سب کا درد رکھ لے سینے میں تیرا کوئی نہیں رکھے گا ” وہ بھڑکیں
نہ رکھے بلکل نہ رکھے میں چاہتی ہوں میرے لیے سب بے حس ہو جائیں اپ ۔۔ اپ سوچ بھی نہیں سکتیں میرا دل کانپ اٹھتا ہے ایزہ پر لگے الزام کا سوچ کر میرا دل کرتا اس وقت میں لوٹ کر کاش سب ٹھیک کر دوں ” ہاں اپنے بدر کی شادی اس سے کرا دے تیرا بس چلے گا تو یہ بھی کر دے گی اب ” وہ بھڑکیں اگ بگولہ سی ہو گئیں جبکہ سوہا کا دل بیٹھ ہی گیا
یہ احساس ہی سوہان روح تھا یہ خیال ہی اچھا نہیں تھا کہ وہ کسی اور کو دے دے اسے اتنی آرام سے کسی اور کو دے دے اسنے بس اسے چاہا تھا چاہنے میں کسی کی زندگی کو برباد کر گئ تو آباد تو وہ اپنی بھی نہیں کی تھی اسکے پاس دن رات اسکے ساتھ اٹھ بیٹھ کر بھی اس شخص کو نہ پا سکی
وہ سوچوں میں کھو گی اور چچی نے اسکے سامنے کھانا رکھ دیا
بات سنو میری تم یہ کھانا کھاو پھر چلیں گے”
چچی مجھے بہت متلی ہو رہی ہے ” وہ بولی جبکہ انھوں نے اسے پیار سے کھلا ہی دیا
وہ دونوں کچھ دیر میں اٹھ گئیں اور راستے میں بھی نجما نے سوہا سے وہ ہی بات کی جو کہ سوہا ماں سے کر کے آئی تھی
وہ دونوں باتیں کرتے ہوئے ہسپتال تک پہنچی تھیں
اور ڈاکٹر سے چیک اپ کرایا چیک اپ کرا کر وہ لوگ دوائیاں لکھوا کر باہر نکلے
اتنی زیادہ دوائیاں لکھ دیں ہیں ڈاکٹر نے بدر کو اچھا نہیں لگے گا “
وہ فکر مند سی بولی تھی
اولاد ہے اسکی اور اولاد پر ہی لگ رہا ہے ۔۔۔ اسکی تم یہ باتیں کیوں سوچ رہی ہو ” وہ بولیں تو سوہا چپ ہو گئ
وہ کون سا اپنی اولاد کو پسند کرتے ہیں ” اسنے کہا جبکہ نجما نے حیرانگی سے اسکی شکل دیکھی اور نجما ایک لمہے کے لیے تھمی ہی تھی کہ گاڑی والے سے زبردست ٹکر ہوئی تھی اور نجما روڈ پر غیر گئ اگر فورا بریک نہ لگتی تو اسکا بہت برا ایکسیڈنٹ ہو جاتا
چچی ” سوہا چلائی اور اسکی جانب بھاگی ۔
نجم کے گھٹنوں اور ہاتھوں پر گیرنے کی وجہ سے چوٹیں آئیں تھیں لیکن شکر تھا کہ زیادہ نقصان نہیں ہوا تھا ۔
لیکن پھر بھی عمر رسیدہ تھیں وہ اور اسی وجہ سے وہ تکلیف سے کراہنے لگیں تھیں
آپ اندھے ہیں اپکو دیکھائی نہیں دیتا
ایم سوری میم یہ میں بائے مسٹیک ہو گیا ” حالانکہ غلطی انکی تھی لیکن سامنے والا معذرت کرنے لگا تھا ۔
آپکی سوری سے کچھ نہیں ہو گا ” وہ بھڑکی جبکہ وہ بے چارہ خود ہی نجما کی پٹیاں کرا کر ان دونوں کو گھر ڈراپ کرنے کی آفر کرنے لگا
جی نہیں ضرورت نہیں ہے ہم رکشہ کرا لیں گے ” وہ غصے سے بولی
میں معافی چاہتا ہوں مجھے فوٹ پاتھ پر گاڑی چلانی چاہیے تھی آئندہ احتیاط رکھو گا میم پلیز انکی طبعیت نہیں ٹھیک میں اپ لگوں کو ڈراپ کر دیتا ہوں ” وہ بولا سوہا نے کھا جانے والی نگاہوں سے اسے دیکھا جبکہ وہ ہنسی دبا گیا اور پھر وہ احسان کرنے والے انداز میں اسکی گاڑی میں بیٹھ گئ
وہ لوگ گھر پہنچے اور سوہا نے سے باہر سے ہی ٹرخا دیا ۔
جبکہ نجما اسے اندر بلا رہی تھی
کیوں کس لیے بھئی ایک تو غلطی کی پھر باتیں بنا رہا ہے “
بیٹا غلطی میری تھی میں رکی تھی وہ بچہ تو خود جا رہا تھا “
وہ بولی جبکہ تائی جان ثروت چچی اور صوفیا صنم ایکدم متوجہ وہیں
یہ کیا کیا ہے نجما کیا ہوا ہے اللّٰہ خیر کرے کیسی بڑی چوٹیں لگ گئیں ” تائی جان بولیں تو شاید ہی کسی کو یقین آتا کہ وہ اتنا احساس اور خیال کر رہیں تھیں اسکا ۔
چچی آپ سیدھی ہو جائیں “
بچوں میں ٹھیک ہوں ” وہ بولی جبکہ کسی نے اسکی بات نہ مانی اور نجما کو آج ان سب کی محبتیں انکا خیال انکا احساس اپنے صبر کا پھل لگا تھا آج اسے اسکے صبر کا پھل لگ رہی تھی یہ محبت ۔۔۔۔
جا صوفیہ ہلدی دودھ لے کر آ اب بھلا جان ہے ان ہڈیوں میں کہ یہ سب سہیں ” تائی نے کہا تو وہ جلدی سے چلی گئ اور ہلدی دودھ لے کر ائی ۔۔۔
سوہا نے اسکے پاوں سیدھے کیے ۔
اب بدر مجھ پر غصہ ہوں گے “
وہ جیسے بہت ڈر گئ تھی بدر سے ۔۔۔ اداسی سے بولی
تم پریشان نہ ہو اس میں تمھارا کوئی قصور نہیں ہے ” لیکن نجما کے کہنے پر بھی تسلی نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
پورا دن ان سب نے نجما کا خیال اور احساس کرتے گزار دیا تو رات میں وہ کمرے میں ا گئ
میں ٹھیک ہوں بلکل تم ایسے ہی پریشان ہو رہی ہو نجما کو بہت اچھی لگ رہا تھا سوہا کا یہ رویہ ” وہ مسکرا کر بولی
پریشانی والی ہی بات ہے آپ کو پتہ نہیں ہے کہ آپ کو چوٹیں لگی ہیں ” وہ بولی تو نجما مسکرا دی اور پھر سوہا باہر نکل گئ
کچھ دیر بعد وہ ائی تو گرم پانی ایک ٹپ میں اور کچھ سامان ہاتھ میں تھا
لائیں پاؤں دیں اپنے میں اپکے پاوں صاف کر دیتی ہوں ” وہ اسکے پاوں کے نزدیک بیٹھ گئ
سوہا ” نجما دنگ نگاہوں سے دیکھنے لگی سوہا کی آنکھیں بھیگ سی گئیں
تو کیا ہوا میں اپکی بیٹی ہوں بیٹیوں پر ہی جچتے ہیں یہ کام اور میں بڑی نادانیاں کر دیں اسکا پشتاوا سینے سے نہیں جاتا شاید اسطرح کچھ دل کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا پلیز ” وہ برائے ہوئے لہجے سے بالوں کو کانوں کے پیچھے کرتی بولی جبکہ نجما نے اسکی پیشانی چوم لی
بہت اچھی ہو تم تمھیں یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں ہے تم بیٹا نازک حالت میں ہو ایسے نہ بیٹھو
مجھے کچھ نہیں ہوتا میں ۔۔ میں خوش ہو جاؤ گی” وہ مسکرائی تو نجما نے اسکی بات مان لی اور سوہا انکے پاوں دھونے لگی
نجما کی آنکھوں میں کئ مناظر گھوم گئے اور وقت کی تبدیلی پر وہ خود آبدیدہ نگاہوں سے اسے دیکھتی رہ گئ تھی ۔
سوہا بھی رغبت سے اسکے پاوں دھو رہی تھی جبکہ گرم پانی سے اسکی چوٹیں خراشوں کو بھی دھویا تھا اور ٹاول سے صاف کرتی وہ اسکی خدمت میں مصروف تھی کہ اچانک ہی عجلت میں بدر کمرے میں آیا اور سامنے کا منظر دیکھ کر اسکے قدم وہیں جم گئے ۔
وہ دونوں باتوں میں مصروف تھیں اتنی کہ وہ اسے محسوس نہیں کر سکی تھی ۔
ساز کی بس یاد ا رہی تھی مجھے ” امی نے کہا
عمر کے ساتھ بہت خوش ہے وہ آپ پریشان نہ ہوں اپنا خیال رکھیں
اسنے تولیا سے انکے پاوں صاف کیے اور انکے پاوں اوپر رکھے اور باتیں کرتی جا رہی تھی وہ جیسے شاکد ہی کھڑا رہ گیا تھا اور شاکڈ ہی اندر ایا ۔
ام۔۔امی آپ ٹھیک ہیں ” وہ سوہا کو ایک نگاہ دیکھ کر امی کے نزدیک آیا
ہاں نہ میری بیٹی جب میرے پاس ہے تو میں نے ٹھیک ہی ہونا ہے تم تو لاہور گئے ہوئے تھے ” نجما بولی جبکہ اسنے ایک نگاہ سوہا کو دیکھا جو شرمندہ سی کھڑی تھی ۔
سوری میں امی کا خیال نہیں رکھ سکی ” اسنے کہا اور نجما سمیت اب کہ بدر نے بھی دیکھا ۔
میں پانی لاتی ہوں ” کہہ کر باہر نکل گئ
نجما مسکرا دی ۔
بہت اچھی بچی ہے بہت اچھی اتنا خیال رکھ رہی ہے “
اپکو ڈرامہ نہیں لگ رہا ” بدر نے سوال کیا
کوئی کسی کے قدموں میں ڈرامے کے لیے بھی نہیں بیٹھتا اسکے جذبات تمھارے لیے بڑے سچے جس نے اسے سر سے پاوں تک بدلتا دیا ہے ۔۔ دیر ہونے سے پہلے اسے تھام لو وہ تم سے بہت ڈری ڈری ہوئی ہے پتہ ہے یہ ایکسیڈنٹ کیوں ہوا ۔۔ کہتی ہے چچی خرچا زیادہ ہو گیا ہے بدر غصہ کریں گے “
بدر نے ماں کیطرف دیکھا ۔
تم اتنا ظلم نہ کرو اسپر دیوانی ہے بیٹا تیری جو آپ سے محبت کریں انھیں دھتکارتے نہیں بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جنھیں چاہنے والے مل جائیں ” نجما نے کہا جبکہ بدر خاموش رہ گیا
یہ تبدیلی وہ عرصے سے دیکھ رہا تھا لیکن اسے صرف اسکا ڈرامہ سمجھ رہا تھا
لیکن آج سوہا کو اپنی ماں کے قدموں میں دیکھ کر وہ تھم گیا تھا
بدر یہ بچے تمھارے ہیں تم ان سے نفرت نہیں کر سکتے “
ایسا نہیں ہے ” وہ کافی دیر بعد بولا
تو وہ کیوں ایسے کہہ رہی تھی بتاو تم نے کچھ نہ کچھ کہا ہو گا تبھی وہ ایسے بولی ” نجما غصے سے بولیں
اچھا چھوڑیں آپ اسے “
کیوں چھوڑو ” وہ گھورنے لگیں اب تمھارا کوئی بھی برا رویہ سوہا کے ساتھ پھر تم دیکھنا میں نے تمھاری شکل بھی نہیں دیکھنی”
اسکے لیے اپنے بیٹا کو ایسے کہہ رہی ہیں”
ہاں وہ قیمتی ہے میرے لیے کیونکہ تو تو پاگل ہو ہی گیا ہے” وہ غصے سے بولیں ۔۔۔
اچھا آپ دوائیاں “
تو جا اب میری بہو کافی یے”
واہ بھئ ” بدر نے سر پکڑا اور سوہا نے اسکے آگے پانی کیا
جاو تم دونوں میں تھک گئیں ہوں ” وہ بولیں جبکہ سوہا سر ہلا کر باہر نکل گئ جبکہ بدر بھی اسکے ساتھ ہی نکلا اور پانی کا گھونٹ بھرا
کافی گھیرہ جادو کر رہی ہو تم میری ماں پر” وہ بولا جبکہ اسکی جانب دیکھا
مجھے نہیں ہے ضرورت اگر جادو ہی کرنا ہوتا تو آپ پر کر کے اپکو اپنا کر لیتی”
تو اور کس کا ہوں میں” وہ دروازے پر ہی رک گیا ۔
سوہا پلٹی ہلکا سا مسکرائی
میرے علاوہ کسی کے بھی ہو سکتے ہیں اپ”
ایزہ کا ” وہ بے ساختہ بولا تھا شاید اسکے اندر سے زلزلے نکالنے کے لیے جبکہ وہ تو اسکی بات پر جیسے ٹوٹ ہی گئ
جبکہ بدر نے بس معلوم نہیں کیوں اسے چھیڑنے کے لیے یہ بات کی تھی جبکہ وہ اسے اداسی بلکل آنکھوں سے دیکھتی رہی بدر کے دل کو کچھ ہوا
مطلب “
ہاں شاید تم ٹھیک ہو “
لیکن وہ خوش ہے اپنی زندگی میں ” وہ اندر چلی گئ تھی بدر بالوں میں ہاتھ پھیر گیا جبکہ سوہا وضو کرنے چلی گئ
بات سنو “
نہیں سننی” وہ ایکدم جیسے جھپٹی تھی
وہ مسکراہٹ ضبط کر گیا جنون تو اس میں اب بھی تھے
میرا مطلب وہ نہیں تھا میں بس یہ کہہ رہا تھا کہ تمھارے علاوہ کس کا ہونا چاہیے بس یہ سوچ رہا تھا “
ہمم اور تمھیں پہلا نام ایزہ کا ہی ملا شرم کرو وہ شادی شدہ ہے”
استغفراللہ میں نے کہا نہ میرا وہ مطلب نہیں تھا وہ اسکے پیچھے بیڈ تک آیا
ہاں تمھارے مطلب ہوتے ہی کیا ہیں تم تم جاو یہاں سے ” وہ غصے سے اگ بگولہ وہ رہی تھی
اچھا سنو “
کیوں سنو میں تمھاری بات “
کھانے کو کیوں آ رہی ہو بس یہ ہی ہے تمھاری اصلیت اوی میسنی بنی گھومتی یوو ” وہ بیڈ پر لیٹ کر موبائل کھول گیا ۔
ہاں ٹھیک ہے تمھاری بھی اصلیت یہ ہی ہے کہ دوسروں کی بیویوں کو سوچتے ہو”
شرم کرو میں نے ایسا کب کہا ہے “
وہ حیران ہی رہ گیا
اسکا شوہر اتنا امیر آدمی ہے تمھیں اتنا پیٹے گا کہ یاد رکھو گے” اسکی تو برداشت سے باہر ہی ہو جاتی تھی
ہیلو ایکسپوز می میں نے جب کچھ کہا ہی نہیں ایسا ویسا ۔۔۔
چپ ہو جاؤ بدر چپ ہو جاؤ تم تم مجھے بہت برے لگتے ہو “
یار تم بات سن ہی نہیں رہی ہو
دور رہو مجھ سے ” وہ پھاڑ کھانے کو دوڑ رہی تھی
سوہا ” وہ پکار گیا لیکن سوہا سے برداشت نہ ہوتا اور وہ اٹھ کر نجما کے کمرے میں ا گئ
نجما جو ابھی سونے کو لیٹی تھی اسے سامنے دیکھ کر اٹھ بیٹھی کیا ہوا ہے”
اپ اپنے بیٹے کو سمجھا لیں یہ یہ مجھے “
بدر ” اسکی بات بھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ نجما نے اسے گھور کر دیکھا اور معلوم نہیں کیسے اتنے غصے سے چپل اٹھا کر کھینچ کر ماری جو اسکے بازو پر لگی تھی
اہ” وہ کراہ اٹھا
امی فضول بول رہی ہے میں نے سچ میں کچھ بھی نہیں کہا ” وہ صفائیاں دینے لگا
دوسری لڑکیوں کے نام لیتے ہیں میرے سامنے ” سوہا بولی جبکہ نجما نے پھر اسکی جانب دیکھا
یا اللّٰہ “
بدر اتنے گندے ہو گئے ہو تم” نجما نے کانوں کو ہاتھ لگایا
میں ” بدر کو لگا پہلی بار پھنس گیا ہو
چلے جاو اب یہاں سے صفائیاں دینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ میں نے سننی ہی نہیں کوئ صفائی
آئے بڑے “
یار امی میں “
تم جاتے ہو یہ بتاو تمھیں پھر ” وہ بھڑکیں بدر خاموش ہو گیا
سوہا کو گھورا جو اسی کی ماں کے سینے سے لگی روئے جا رہی تھی امی اسے چپ کرا رہی تھی نہ میرا بچہ نہیں نہیں رو یہ تو ہے ہی بدتمیز “
یہ سہی ملن ہوا ہے” وہ پاوں پٹخ کر نکل گیا جبکہ نجما نے غصے سے اسکی پشت دیکھی تھی وہ باہر نکل گیا
تقریبا دو گھنٹے انتظار کیا تھا مگر وہ کمرے میں نہ ائ معلوم نہیں کیوں اسے نیند ہی نہیں ا رہی تھی ۔۔
اچھا بھلا سونے کا عادی تھا وہ ۔۔۔ پھر بار بار اسکا خیال آنے کا کیا مقصد تھا ۔
یہ فضول عادتیں ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے بدر زمان” وہ خود کو ہی جھڑک گیا مگر ذرا بھی فرق نہیں آیا تھا کیفیت میں وہ اٹھا اور کمرے سے نکل کر امی کے کمرے میں آیا
وہاں سوہا سکون سے سو رہی تھی اسنے ائ برو اچکا کر دیکھا اور آگے بڑھا امی کو دیکھا کہیں جاگ تو نہیں رہیں کبھی آج کے اج دوسری جوتی بھی کھانے کو مل جائے وہ گھیری نیند میں تھی اور بدر نے سوہا کی جانب دیکھا اسکے چہرے پر چاند کا عکس پڑ رہا تھا معلوم نہیں کیوں کھڑکی کھول رکھی تھی جبکہ سردی ابھی تھی رضائے میں وہ دونوں لپٹی ہوئی تھی اور آج چاندنی میں اسکے چہرے سے نگاہ ہل کیوں نہیں رہی تھی ۔
وہ محسوس کر رہا تھا جب سے وہ ماں بننے والی تھی اسکا نکھار بدلتا جا رہا تھا معلوم نہیں قدرتی تھا شاید ۔۔
اسکا چہرہ دلکشی لے رہا تھا اسکی آنکھیں قابل توجہ لگتی تھی جن میں ہر وقت ایک اداسی کی سی لکیر رہتی اسکی رنگت سنھری ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔
وہ چند لمہے اسے دیکھتا رہا
کیا یہ اسکا وہم یے یہ وہ واقعی قابل توجہ ہوتی جا رہی تھی
اسپر چیڑ جاتی تھی ایزہ کے نام سے تو جیسے بیر تھا وہ مسکرا دیا
اے ” اہستگی سے وہ اسکے گال پر انگلی پھیرتا بولا تھا وہ کسمسا کر کروٹ بدلتی کہ بدر نے اسے کروٹ بدلنے نہ دی ۔
اٹھو اب کیا میری ماں سے چپکی ہوئی ہو “
تم ” وہ مندی مندی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی
تو اور کس نے آنا تھا یہاں اٹھو کمرے میں چلو سونا ہے مجھے”
ہاں تو سو جاو ” وہ اسکے بازو دور کرنے لگی
تم کچھ زیادہ نہیں ترا رہی” اسنے گھورا
تم جاو یہاں سے میں امی کو اٹھا دوں گی”
آہ امی کی پیاری بیٹی پہلے امی کے بیٹے کی سونے میں مدد کرو “
وہ اسے بازوں میں اٹھا گیا
آ آ شور کرو گی تو خود پچھتاو گی”
تم تم اتارو مجھے یہ کیا حرکت ہے کوئی دیکھ لے گا بدر”
دیکھ لے میری پروپرٹی ہے جو مرضی کرو ” وہ شانے اچکا گیا
کیا مسلہ ہے تمھارے ساتھ جب میں پسند نہیں ہوں تو کیوں ایکٹینگ کر رہے ہو “
ہاں یہ تو ہے تم مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتی ” سوہا نے اسکی جانب دیکھا
کاش میں کچھ کر پاتی”
جیسا کہ ” وہ ترچھی نگاہوں سے اسے دیکھ کر بولا
جیسا کہ کاش میں ایزہ ہوتی “
تو تمھاری شادی مجھ سے کیسے ہوتی ” وہ بات مذاق میں لے گیا ہلکا پھلکا سا محسوس کر رہا تھا خود کو تبھی تلخی نہیں چاہتا تھا ۔
نہیں اسکے جیسی ہوتی خوبصورت ” وہ بولی بدر نے سنجیدگی سے دیکھا وہ اپنی سٹیٹمنٹ بدل نہیں سکتا تھا کیونکہ یہ چیز بھی اسکے اندر ڈالنے والا وہ ہی تھا
لیکن پہلے تو دکھ نہیں ہوا تھا اج ہو رہا تھا وہ نہ کہتی ایسے اب وہ اسے کیا کہتا اچھی لگنے لگی ہو ۔۔۔
کیا کہتا کہ ہاں دل مان رہا ہے کہ تم بدل گئ ہو
یہ پھر یہ کہتا کہ دل تمھارے حق میں بول رہا تھا آہستہ آہستہ جب کہ وہ چپ کرانے کی کوشش کر رہا ہے ۔
لیکن وہ خاموش ہی رہا
تمھیں بھوک لگی ہے ” اسنے چاکلیٹ کھولی
نہیں ” وہ اہستگی سے بولی
مجھے نیند ا رہی ہے ” اور لیٹ گئ
ہممم مجھے بھی آ رہی ہے ” وہ بولا سوہا نے اسکی جانب دیکھا اور کروٹ موڑ لی ۔
بدر اسکے پہلو میں لیٹا ابھی وہ اسکے گرد بازو باندھتا کہ سوہا نے کروٹ اسکی سمت کی وہ سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگا ۔
سوہا چند لمہے اسے دیکھتی رہی بدل کی آنکھوں میں بھی سوال تھا ۔
تم کروٹ لے لو ۔۔۔ “
لیکن میں کمفرٹیبل نہیں رہو گا “
پلیز ” وہ بولی تو بدر نہ چاہتے ہوئے بھی کروٹ موڑ گیا اسکی جانب سے اور سوہا نے اسکے گرد بازو باندھ لیے
تمھیں پتہ ہے میں تم سے دنیا میں سب سے زیادہ محبت کرتی ہوں اتنی محبت کہ تم کسی کا نام لیتے ہو میرے اندر اگ لگتی ہے ۔۔
میں جل جاتی ہوں تم میرے ساتھ کچھ بھی کرو لیکن ۔۔۔ میرے علاوہ کسی کے بارے میں نہ سوچو نہ پلیز ۔۔
میں پاگل ہو جاوں گی بدر ” وہ رونے لگ گئ
تم مان لو نہ میں تم سے محبت کرتی ہوں میں کیا کرو اپنی شکل کا میں نہیں بدل سکتی ” اسکی ہچکیاں بدر کے دل پر پڑنے لگی وہ کروٹ موڑنا چاہتا تھا مگر اسنے خود ایسا نہیں کرنے دیا
تمھیں پتہ ہے میں روز دعا کرتی ہوں کہ کاش میرے بچے تمھارے اوپر ہوں بلکل گورے گورے خوبصورت حسین انھیں زندگی میں نہ میرے جیسا کردار ملے نہ ہی میرے جیسی شکل و صورتوں وہ اپنے باپ پر جانے چاہیے “
اور ایک بات بتاو بدر ” وہ اسکی کمر پر اپنے ہونٹ رکھ گئ ۔
میں بہت خوش ہوں ” اہستگی سے بولی
اسے اس بات کا مطلب سمجھ نہیں آیا
پتہ ہے کیوں ؟؟؟؟؟؟؟؟
کیونکہ میں تمھارے بچوں کی ماں ہوں “
تم کبھی تو میری محبت کو قبول کرو گے ہو سکتا جب ہم بوڑھے ہو جائیں
جب حسن نہ رہے بیچ میں ۔۔ جب مال و دولت نہ رہیں
جب تمھارے اندر یہ انا یہ نکھرا نہ رہے جب میرے اندر سے تمھارا خوف ختم ہو جائے تم اس دن میری محبت میرے دل کو سنو گے ۔۔
میرے لیے وہ لمہے بہت قیمتی ہوں گے میں انتظار کرو گی ساری زندگی تمھارا انتظار ۔۔۔ تمھاری تلخ باتیں تمھارا رویہ مجھے پریشان کرتا ہے لیکن تسلی ہے نہ ۔۔
تم میرے ہو تم کسی اور کے نہ ہونا ۔۔ ہم دونوں الگ الگ ہی سہی لیکن ایک ہیں” وہ اسکی کمر پر پیار کر کے آنکھیں بند کر گئ
بدر سن سا رہ گیا تھا
اتنی دیوانگی اتنی عاشقی وہ آج محسوس کر رہا تھا
اسکے اندر کی دیوانگی کی یہ خوشبو بدر نے کروٹ موڑی وہ آنکھیں بند کیے ہوئے تھی اسنے کچھ نہیں کہا تھا نہ اسے دیکھا
اسنے سوہا کا چہرہ اوپر کیا بھیگی پلکیں ہلکی سرخ ناک اور سنھری رنگت وہ بے ساختہ اسکی پیشانی چوم گیا اسکو اپنے سینے سے لگا لیا تھا ورنہ ہمیشہ وہ دونوں کروٹ میں سوتے تھے وہ ایک دوسرے کے سنگ سونے لگے تھے ۔
محبت کی کلی پہلی بار ایک سخت جان سخت دل میں جنم لے گئ تھی
بولنے اور کہنے کے لیے الفاظ نہیں تھے لیکن محسوس کرنے کے لیے وہ سانسیں بھی تھیں ۔
جو وہ اسکی سانسوں میں بھرنے لگا تھا ۔۔ آنکھیں بند تھیں بس لمس کا حساس تھا جو وہ اسے دے رہا تھا اور وہ دم سادھے اسکی ہو چکی تھی
تن سے من سے وہ اسکے رنگ میں ڈھلی ہوئی سوہا وہ اسکی تراش خراش کی ہوئی سی لگ رہی تھی ۔
بدر کا یہ پہلا لمس تھا جو اسکے ہونٹوں سے ہوتے گالوں اور گالوں سے ہوتے گردن اور شانوں پر مستعدی سے پھیلنے لگا جو وہ زبردستی کے بنا اسے بخش رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے