Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 33
No Download Link
Rate this Novel
Episode 33
ناشتے پر سب تھے سوائے سوہا اور بدر کے تائی جان کی بے چینی اتنی تھی کہ انھیں بیٹھنے ہی نہیں دے رہی تھی وہ کبھی ادھر پہلو بدلتی تو کبھی ادھر تایا جان یہ سب محسوس کر رہے تھے لیکن انھوں نے کبھی کسی کے جذبات کو اہمیت نہیں دی تھی ۔
آج ناشتہ ثروت اور نجمہ نے بنایا تھا ساز بھی اہستگی سے نکل کر ا گئ ماں کے احساس میں کہ اگر وہ نہ ائی تو یہ لوگ اسکی ماں کو کاموں پر لگا دیں گے لیکن تائی جان اسے دیکھتی ہی اکھڑ گئیں
کیا آئی ہے تو مہارانی جب تیرے شوہر نے حکم دے دیا کہ تو کام نہیں کرے گی تو اپنے قدموں کو میرے کچن سے دور رکھ اور بلا لے وہ کک کو ۔۔ آیا بڑا ” وہ بھڑکیں ساز شرمندہ ہوئی ۔
میں کر دیتی ہوں تائی جان ایسی کوئ بات نہیں ” وہ بولی جبکہ انھوں نے ہاتھ پکڑ کر اسے باہر کر دیا اور ساز ابھی کچھ بولتی ہی کہ وہ کچھ سننے کے موڈ میں نہیں تھیں دوبارہ کرسی پر بیٹھ گئیں
میری بچی کو الگ کر دیا اس غریب کے حوالے کر دیا ۔
مر جاتی وہ منحوس ہی اسکے ساتھ تو بہتر تھا میری بچی کا قصور ہی کیا ہے ” وہ بولنے لگیں تایا جان ارہم سے کاروبار کی باتیں کرنے لگے یعنی انکی بات کو ذرا بھی اہمیت نہیں دی اور ابھی سب اپنی اپنی جگہ پر مصروف تھے کہ پولیس اہلکار اندر داخل ہوئے
پولیس کی وردی میں موجود وہ ایس ایچ او نوجوان نے ایک نظر چاروں سمت دوڑائی اور ساز کے فق چہرے کو بھی دیکھا جو زندگی میں پہلی بار اپنے گھر پر پولیس کو دیکھ رہی تھی
عمر خیام کے والد کون ہیں؟ سب سے پہلا سوال آگے بڑھ کر ایک سپاہی نے یہ ہی کیا
جبکہ وہ ایس ایچ او گھر کا جائزہ لے رہا تھا اشفاق صاحب حیرانگی سے اٹھے انکا کبھی اپنی زندگی میں پولیس سے آمنا سامنا نہیں ہوا تھا اشفاق صاحب کو اٹھتا اور پھیکا بے رنگ چہرہ دیکھ وہ ایس ایچ او آگے بڑھا ۔۔۔
تمھارا حلیہ تو بتا رہا ہے کہ محلے کے معزز میں شامل ہو اور بیٹا تمھارا چوریاں کرتا پھر رہا ہے ” وہ گھور کر بولا
وہاں سب دنگ رہ گئے اشفاق صاحب نے ارہم کی طرف دیکھا
میں نے کچھ نہیں کیا ” وہ ایکدم بولا
اور سب کو پتہ تھا عمر خیام کا نام لیا ہے انھوں نے ساز منہ پر ہاتھ رکھ گئ
بلاو اسے ” وہ بھڑکا
جبکہ اشفاق صاحب کا چہرہ بلکل پھیکا ہو گیا باہر سے محلے والوں کی چیماگویاں بڑھتی ہوئی سنائی دے رہی تھی
مولوی صاحب کے گھر پولیس ائ ہے مولوی صاحب کے بیٹے نے چوری کی ہے یہ مولوی صاحب کا بیٹا چور نکلا شرابی نکلا
کیسی تربیت ہے انکی ۔۔۔۔۔
مولوی صاحب نے تو سب پر ہاتھ پھر دیا باہر سے مذاق ہنسی افسوس حیرانگی ہر قسم کے تاثر کی آواز انکے کان میں پڑ رہی تھی جس پر انکا چہرہ سرخ ہو گیا
کہاں ہے عمر خیام ” وہ پولیس والا بولا
میرا بیٹا ایسا نہیں کر سکتا اسکے پاس بہت کچھ ہے اسے چوری کی ضرورت نہیں ” اشفاق صاحب نے حمایت لی
مولانا صاحب زیادہ زبان چلائی تو تھانے کے اندر کی سیر کرا دوں گا چوری کی ہے اسنے وہ بھی بینک میں تو زیادہ میرا میڑ خراب نہ کرو اسے بلاو ورنہ اس گھر کی ایک ایک چیز ٹوٹے گی اگر تلاشی لی ہم نے تو ” وہ بھڑک کر بولا
اے منحوس کھڑی کیوں ہے بلا کر لا اپنے اس شرابی چور کو دفع ہو منہ لے کر انکھیں پھاڑے کھڑی ہے پردے کا تو احساس نہیں ” تائی جان ساز پر چیخیں جس کا وجود برف کا ہو گیا تھا
عمر نے چوری یہ بات کتنی عجیب ہے وہ شخص جس کے اکاؤنٹس بھرے رہیں وہ چوری کرے گا “
بی بی ہمارے پاس وقت نہیں ہے ” ایک کانسٹیبل چیخیں تھیں اسپر اور اسکے قدموں میں ایکدم پھرتی بھر گئ وہ تیزی سے اوپر بھاگی اور عمر جو سکون سے سو رہا تھا خواب خرگوش کے مزے لے رہا تھا ساز کے کانپتے ہاتھوں نے اسے جھنجھوڑ دیا
عم۔۔۔عمر ” اسکا لہجہ کانپ گیا آنکھیں بھرا گئیں
عمر پو۔۔۔ولیس آئی ہے ” عمر خیام نے جھٹکے سے سر اٹھایا ۔
لبوں کی تراش میں مسکراہٹ تھی
ہاں تو رونے کی کیا بات ہے ” وہ جلدی سے بلکل لاپرواہی سے اٹھا جیسے اسے اس بے عزتی سے فرق نہیں پڑتا ہو الٹا سکون سا بھرا ہوا وہ واشروم میں گیا فریش ہوا اپنے کپڑے چینج کیے اور بن ٹھن کر وہ نیچے چلا گیا ساز اسکے قابل دید سکون کو بس دیکھ رہی تھی وہ شاکڈ کر دینے میں کسی کو بھی مہر تھا جیسے اس وقت گھر کا ہر دوسرا فرد شاکڈ تھا ۔
وہ نیچے آیا تو اسکے ٹھاٹ باٹ سب نے دیکھے تھے ۔
اسنے باپ کی جانب دیکھا جس کا پھیکا چہرہ گواہ تھا کہ بے عزتی کے احساس نے اس خود غرض لالچی شخص کی بنیادیں ہلا دیں ہوں محلے میں انکی عزت کی دھجیاں اڑا دیں ہوں اسنے مڑ کر دیکھا بدر بھی اسے عجیب نگاہوں سے دیکھ رہا تھا جیسے بات سمجھ سے باہر ہو ۔۔۔۔۔
ہاں بھی شہزادے چوری کر کے بھی شہزادوں کیطرح آیا ہے تھانے چل تیری ساری ہیرو گیری نکالتا ہوں ” ایس ایچ او اسے دیکھ کر اگے بڑھا اور اسکا گریبان جکڑا
اب تک جو اسکے چہرے پر مسکان تھی لمہوں میں غائب ہوئی اور اسنے ائس ایچ او کے ہاتھ سے کھینچ کر اپنا گریبان چھڑایا ۔
ساتھ چل رہا ہوں اتنا کافی ہے ورنہ عمر خیام اپنی مرضی کا مالک ہے چاہے تو یہیں کھڑے کھڑے تمھیں ایکسپل کرا سکتا ہے تو ایس ایچ او صاحب وردی میں رہو ہاتھوں کو قابو میں رکھو ” مسکرا کر اسکی بے عزتی کرتا وہ آگے بڑھا
اسکے حلیے شکل و صورت سے وہ پہلے ہی متاثر ہو چکا تھا رکا کچھ لمہے اپنا کانفیڈنس بحال کیا اور پھر چلایا
لے کر چلو اسے اسکی چمڑی سرخ کرتا ہوں ” وہ بولا جبکہ عمر بنا کسی تردید کے گاگلز لگائے گھر کی دہلیز پار کر گیا
لیکن جاتے جاتے اسنے مڑ کر دیکھا تھا ۔
وہ عین اسکے پیچھے کھڑی تھی اور آنکھوں سے آنسو بشار کی مانند بہہ رہے تھے عمر نے جیسے ہی دہلیز پار کی وہ کسی کچی ڈال کیطرح زمین بوس ہو گئ
وہ جو سکون اطمینان اسکے چہرے پر تھا وہ جو لاپرواہی تھی وہ جو بے نیازی تھی باپ کو بے عزتی کر کے جو سکون ملا تھا لمہوں میں ہوا ہوا اور عمر خیام کی بے چینی عروج پر پہنچ گئ
وہ مڑا پیچھے جانا چاہتا تھا وہ بیچم بیچ پڑی تھی اسے کسی نے نہیں اٹھایا تھا وہ ان پولیس اہلکاروں کو ہٹانا چاہتا تھا لیکن وہاں بہت لوگ تھے محلے والے ۔۔۔۔
پولیس اہلکار نے اسے گاڑی میں ڈالا اور لے گئے جب تک عمر نے اسے دیکھا ساز کو کسی بے نہیں چھوا تھا
جبکہ معلوم نہیں بدر کو یہ اسکی ماں کو دیکھائی کیوں نہیں دیا تھا اور اسے پولیس ڈالے میں لے گئے تو اسکی پر سکون روح کی بے چینی دیکھنے لائق تھی وہ پولیس اہلکار بھی حیران ہو گئے اب کس چیز نے اس کو بے چینی دی جبکہ نکلا تو ایسا تھا جیسے سب جان بوجھ کر کیا ہو ۔۔۔
لیکن عمر خیام نے یہ نہیں سوچا ایک معصوم سا وجود اسکے ساتھ بندھا ہوا ہے اور اس بات کا احساس شدت سے اٹھا تھا اس کے اندر جبکہ دوسری طرف تائی کا واویلا دیکھنے لائق تھا ارہم نے لوگوں کو گھر سے نکالا ۔۔۔
مولوی صاحب کچھ تو تربیت کی ہوتی محلے کے نوجوان بچے نئی نسل کیا سیکھے گی
انھیں مولانہ کی گدی سے ہتا دیا جائے بہتر یہ ہی ہو گا
دیکھو ذرا منہ مومنہ کرتوت کافرانہ والا حال ہو گیا انکا تو ۔۔۔۔
اولاد کی تربیت تو کر نہ سکے مسجد میں بیٹھ کر درس دیتے ہیں لمبے چوڑے ” اتنی چیماگویاں تھی جنھوں نے انکا زلزلہ مزید بڑھا دیا
اٹھاؤں اسے اور نکالو اس کی بیوی کو گھر سے ” وہ دھاڑے
ساز ” بدر پلٹا اور بہن کو بے ہوش دیکھ کر تڑپ کر اس تک پہنچا
امی “نجما بھی جو کچن کے دروازے میں پتھر کی بنی کھڑی تھی حوش میں ائ اور بیٹی کی سمت بھاگی
پانی ڈالا مگر وہ ہوش میں نہیں آئی
میں کال کرتا ہوں ڈاکٹر کو ” بدر نے فون گھمایا
بت کیطرح کیوں کھڑی ہو جاؤ دیکھو میری بہن کو ” سوہا کو لگے ہاتھ جھاڑ دیا ۔
یہاں مقصد اسے جھاڑنا نہیں تھا صرف تایا کو جتانا تھا کہ اگر اسکی بہن کا شوہر بے غیرت ہے تو بھائی ابھی زندہ ہے کوئی اسے اس گھر سے نکال نہیں سکتا اور یہ ساری چین بنانے والے اور اس ہی چین میں خود پھسنے والے تایا جان خود ہی تھے
سب اچانک ہی رک گئے سوہا اکڑ کر کھڑی رہی وہ ساز سے اتنی نفرت کرتی تھی جتنا اس سے ہو سکتا تھا بدر نے ڈاکٹر کو کال کی اور دوبارہ بہن کی جانب بڑھا
یہ سب کیا ہو رہا ہے بدر ” نجما رو دی
جی یہ ہی سوال ہے یہ سب کیا ہو رہا ہے داماد ہے تو تمھارے ہی اٹھا شرابی الگ جواری الگ کسی روز زنا کر کے پہنچ جائے گا تم دیکھ لینا “
تائی جان کے طعنوں نے انھیں جینے نہیں دینا تھا
یہ آپ لوگوں کی زیادتی ہے جو ایسے شخص سے میری بہن کو بیاہ دیا بدر دھاڑا تو ایکدم سناٹا چھا گیا
تایا جان غصے سے پھنکارتے ہوئے اندر چلے گئے
جب عیاشیاں کرے اسکے مال پر تب دونوں ماں بیٹے کی ہنسی دیکھنے لائق ہوتی ہے شرابی تو تھا ہی اچھا ہوا تمھارے بیٹی کے ساتھ “
چپ کراو اپنی ماں کو ” بدر سوہا کی جانب دیکھتا انگلی اٹھا کر بولا جیسے کہہ رہا ہو آخری بار کہہ رہا ہوں پھر اچھا نہیں ہو گا
سوہا نے ماں کو پکڑا اور دوسرے کمرے میں لے گئیں
ساز کا چیک اپ کر کے ڈاکٹر نے اسے میڈیسن دی
کسی چیز کا صدمہ اچانک ملنے پر ایسا ہو جاتا ہے
تو آپ لوگ انھیں ریسٹ کرنے دیں اور پریشانی سے دور رکھیں ” ڈاکٹر کہہ کر دوائیں دے کر چلا گیا اور نجما بیٹی کو سینے میں بھینچے روتی رہی گئ
بدر بھی مٹھیاں بھینچے کھڑا تھا اسکا بس نہیں چلا کہ عمر کا جا کر سر پھاڑ دے اتنی بے عزتی اتنی ذلت اپنے گلے میں ڈال کر اسے کیا ملا ۔
باپ کو نیچا دیکھانے کے لیے خود کو گرانے کی ضرورت کیا تھا بدر سمجھ گیا تھا سارا معاملہ لیکن یہ طریقہ اسے بے حد فضول لگا تھا الٹا بے عزتی کا انبار منہ پر پڑا تھا
امی آپ میرے کمرے میں جائیں ساز کو کچھ کھلائیں یہ کچھ دیر تک ہوش میں ا جائے گی میں ذرا دیکھتا ہوں آگے کی کاروائی” وہ کہہ رکھ باہر نکل گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حالانکہ یہ اتنی بڑی خبر نہیں تھی کیونکہ عمر خیام کوئی سلیبرٹی نہیں تھا لیکن پھر بھی جب بندہ ہی اپنی خبر بنوانے نکل پڑے تو آگ کیطرح دنیا میں پھیل سکتی تھی
آج صبح ہی گرفتاری ہوئی تھی اسکی اور اج صبح کے ہی اخبار میں بڑا بڑا اسکا نام اور تصویر درج تھیں
” نوجوان نسل کس راہ پر چل پڑی ” عنوان کے ساتھ اسکی مسکراتی تصویر اور لوگوں کا ہجوم واقعی سے بہت بڑا کوئ سٹار بنا گئے تھے
یہ خبر سب کے لئے اہم نہیں ہو سکتی تھی تب تک جب تک وہ اخبار پر ایک پریشان حال مرد عورت بچہ یہ نوجوان کو دیکھ کر یہ سوچتے کہ آج کے حاکم میں بے روزگاری نے ہماری نسل کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ۔۔۔۔
افسوس کرنے کے بجائے دنیا حیران ضرور تھی پہلا چور تھا جس کے مسکراتے چہرے نے سب کو متوجہ کر لیا اور اسکی شخصیت اس بات کی گواہ خود بخود بن گئ کہ کسی غلط الزام میں پھنس گیا
یہ پھر کسی بڑی پارٹی کی اولاد لگ رہی ہے جس نے جان بوجھ کر یہ سب کیا وہ خود با خود ہی کلئیر ہوتا چلا گیا لیکن اخبار اسکے ہاتھ میں ساکت رہ گیا
جب اسنے عمر کی تصویر دیکھی اور سر تھام گیا ایکدم وہ اٹھا اور موبائل نکالا ۔
اسکو کال کی لیکن بیل جا رہی تھی کوئ اٹھا نہیں رہا تھا اسنے اپنے پی آئے کو فورا اس تھانے تک پہنچنے کا حکم دیا تھا ۔
یہ کیا بچپنا ہے عمر ” شاہنواز کے ماتھے پر بل سے پڑے اور بار بار اخبار کو دیکھتا وہ سر نفی میں ہلانے لگا
میں نے کہا ہے فورا پہنچو ایک لمحہ بھی وہاں نہ رہے وہ”
جی سر بس ابھی ” اسکے پی اے نے کہا اور شاہنواز نے اسے آرڈرز دیے کہ وہاں پہنچتے ہی عمر کی اس سے بات کرائ جائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
او ہیلو مجھے کھانے کو دو مجھے بھوک گی ہے ” سلاخوں کے پیچھے سے اسکی یہ کوئ تیسری فرمائش تھی
تم پرائمنیسٹر کے بیٹے ہو جو پولیس کو اپنا سسرال سمجھ لیا ہے”
کانسٹیبل چلایا
اب تو کچھ کھانے کو دو گے نہ ” پانچ ہزار کا نوٹ کھڑاک سے اسکی ہتھیلی پر سجا دیا وہ ادھر ادھر دیکھنے لگا
آئس ایچ او صاحب ا گئے تو
لو ا گئے اسنے پیسے جیب میں رکھ لیا مگر کام نہیں بن سکا عمر نے یس ایچ او کو دیکھا
مجھے بھوک لگی ہے کچھ کھانے کے لیے دو اسکے علاوہ مجھے میرا موبائل دو مجھے ضروری کام کرنی ہے” وہ جانتا تھا بدر نے اسے دیکھ لیا ہو گا لیکن اسکے دل میں فکر تھی تبھی وہ با ضد تھا ۔
نہیں مہیں نواب زادہ کے لیے لڑکیوں کا بھی انتظام کر دو ” طنزیہ نظروں سے ایس ایچ او نے اسے دیکھا
نہیں فلحال نہیں رات میں یہ انجوائمنٹ کر چکا ہوں” وہ آنکھ دبا گیا جبکہ ایس ایچ او نے گھورا
بلاوجہ محنت لگا رہے ہو مجھے گھورنے میں وقت ضائع اس سے بہتر ہے کوئ اچھی سے چیز آملیٹ اور کافی بنوا دو ” وہ سکون سے بولا
اسکی ” ایس ایچ او اسکے حرکتوں سے عاجز آتا غصے سے اسکی سمت بڑھا کہ کانسٹیبل نے روک لیا
سر جی کوئی پہنچی ہوئی شے ہے یہ” وہ اہستگی سے اسکے کان میں بولا اسنے بھی سر ہلایا
اتنا اترانا کسی عام انسان میں نہیں ہو سکتا
ہو سکتا تھا اسکی بیل لمہوں میں ہو جاتی لیکن ایس ایچ او مسکرا دیا ۔۔۔۔
آج ہفتہ تھا اور سرکاری کاروائی سوموار کو ہوتی تو کم از کم وہ دو راتیں اسکے پاس مہمان تھا اسکی ایسی درگت لگاتا کہ یاد رکھتا
ابھی وہ مڑا ہی تھا کہ ایک جانا مانا وکیل اور اسکے ساتھ ایک لڑکا تھانے میں داخل ہوئے اسنے کاغذات پھینکے
بیل تو ہو ہی نہیں سکتی وکیل صاحب ” وہ ایس ایچ او مسکرایا
معلوم ہے لیکن پھر بھی بیل چاہیے ایل لیگل ہی سہی “
نا ممکن یہ تو ہو نہیں سکتا ہے ہمیں بھی جواب دینا ہے”
تو تمھیں آگے سے فون ” پے آئے کے پاس آنے والی کال نے وکیل کی بات دھوری چھوڑ دی اور وہ پی آئے عمر کی جانب بڑھ گیا
اسے ایس ایچ او کے سامنے موبائل تھما دیا وہ مسکرا اور فون کان سے لگا لیا
وہ لوگ آپس میں گفتگو کرنے لگے عمر سکون سے دیوار سے ٹیک لگا گیا دوسری طرف خاموشی تھی آج سوال نہیں تھا
کیسے ہو شہزادے ایسے بات کریں یار “
تم نے مجھے disappoint کیا ہے عمر خیام نے یہ حرکت کیوں کی”
دوسری طرف سے سنجیدہ آواز ابھری
انھیں لگتا تھا میں انکا اچھا بیٹا بن سکتا ہوں انھوں نے میرے منہ پر تھپڑ مارا میں نے بس جواب دیا ہے اور کچھ نہیں” وہ سکون سے بولا
تم پاگل ہو گئے ہو یار تم ٹھیک ہے بدلہ کسی اور طرح بھی لیا جا سکتا تھا “
اچھا سچ بتائیں اپکو کیسے پتہ چلا ” وہ واقعی اسکے سامنے بچہ تھا
تمھیں مزاہ ا رہا ہے” شاہنواز نے سر نفی میں ہلایا
ایسا ویسا ” وہ ہنس
کوئ حال نہیں ہے بیل مل جائے گی تم اپنے گھر جاؤ آرام کرو “
نہیں ملے گی جناب ہفتہ ہے اج ” ہنستے ہوئے وہ بولا
عمر ” شاہنواز نے دانت پیس لیے
پہلی بار مجھ پر غصہ کر رہے ہیں اپ” وہ جانتا تھا اپنی ماں اور بہن کیطرح منہ بنا چکا ہو گا وہ بھی ۔۔۔۔
ہاں کیونکہ تم نے حرکت ایسی کی ہے “
اتنی بھی بڑی نہیں چوری ہی تو کی ہے ” وہ شانے اچکا گیا
اور وہ چوری کا پیسہ کہاں ہے” شاہنواز کے سوال پر وہ ہنسا
وہ تو میں نے بانٹ دیا سوچا کچھ ثواب کما لوں “
بہت اچھے طریقے سے ثواب کمایا ہے تم نے “
تھینکس “
اب کیا چاہیے تمھیں ” شاہنواز کا تو فرض تھا جیسے یہ سوال کرنا
ایک ریکوسٹ تھی “
حکم کرو یار ریکوسٹ تم تھوڑی کرو گے ریکوسٹ تو میں کروں گا آئندہ ایسا مت کرنا عمر “
وہ ہنس دیا ٹھیک ہے ماں لی اپکی ریکوسٹ اب میرا حکم سنیں”
وہ بولا
ہاں بولو ” شاہنواز بولا ۔۔۔
آپ ا سکتے ہیں” اسنے کبھی دیکھا نہیں تھا اسے
شاہنواز چند لمہے ٹہر گیا
ضروری ہے”
اپنے کہا حکم کرو “
شاہنواز نے گھیرہ سانس بھر کر فون بند کر دیا جواب نہیں دیا لیکن عمر کی ایکسائیٹمنٹ عروج پر تھی آج وہ اس شخص سے ملتا جو اسکی زندگی میں کیسے آیا اسے خود خبر نہیں تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہنواز تھانے میں داخل ہوا تو بیچ میں صرف پندرہ منٹ کا دورانیہ تھا
عمر پیٹھ مڑے کھڑا تھا اسنے اسے اندر آتے ہوئے نہیں دیکھا ۔
جبکہ اسکا پہ آئے وکیل یہاں تک کے ایس ایچ او بھی کھڑا ہو گیا
سر آپ کیوں ا گئے ہم کر لیتے ڈیل” وہ لوگ بولے
جبکہ شاہنواز نے سر نفی میں ہلایا
مجھے بیل چاہیے” اس آواز پر عمر جھٹکے سے مڑا
اور اسے آنکھوں کے سامنے دیکھ کر اسکے چہرے پر بچوں جیسی خوشی تھی ۔
سر بیل ہی بیل ہے لیکن کچھ قانونی کروائی ہے”
ہم عمر سر کو شفٹ کرا دیں گئے بہترین جگہ ہو گی انھیں بلکل محسوس نہیں ہو گا کہ تھانے میں ہے ہر سہولت ہو گی” یہاں یس ایچ او بولا
ابھی تو تم ناشتہ دینے کو تیار نہیں تھے” عمر کے پنگے بھی ضروری تھے
سر جی وہ تو بس منگا لیا فکر کیسی” وہ ایس ایچ او مسکرایا
شاہنواز نے گھیرہ سانس بھرا
مجھے ڈیٹیلز دو “
وہ سیاست کی دنیا میں ایسا جھنڈا گاڑھ رہا تھا کہ اسے پاکستان کا ہر شخص سہولت سے جانتا تھا وہ اسکی جانب بڑھا شاہنواز اسکے پاس جا کھڑا ہوا ۔
دروازہ کھولو” اسنے کانسٹیبل کو حکم دیا
نہیں ایسے ہی ” عمر نے کہا
پہلی بار ملو گے ایسے ملو گے”
جب آزاد ہو جاو گا پھر ملو گا “
تم آزاد ہو شہزادے “
معلوم ہے ” وہ مسکرا دیا
ایسے کیوں خوش ہو رہے ہو ” شاہنواز ہنس دیا
ہاں یہاں اسکی بہن دیکھ لیتی تو حیران رہ جاتی وہ شخص ہنستا بھی ہے شاہنواز کو محسوس ہوا اسکی بہن کو ڈیل کرنا عمر کو ڈیل کرنے سے زیادہ مشکل تھا
بس یوں سمجھیں کافی بڑی دنیا میں پہلی بار کسی اپنے کو دیکھا ہے ” وہ بولا شاہنواز کا دل باغ باغ ہو گیا مسکرا دیا
لیکن یہ حرکت اچھی نہیں کی تم نے ” وہ سنجیدہ ہوا
وہ شانے اچکا گیا لاپرواہی سے
مجھے علم تھا میں زیادہ دیر یہاں نہیں رہو گا مگر دن غلط چوز کیا غلطی سے” وہ ہنسا جبکہ شاہنواز بھی مسکرا دیا
خیر تم فکر مت کرنا صرف یہاں رہنا ایک فارمیلیٹی ہے تمہیں تمام سہولتیں مل جائیں گی”
آہ “
میں کیا کروں گا ” وہ منہ بنا گیا
شاہنواز ہنس دیا کھل کر ۔۔
کیا ہوا “
کچھ نہیں “
تو پھر بتاو کیا چاہتے ہو “
ام ہاں وہ ایک تو میں سیل میں نہیں رہو گا کوئ روم ہو “
ٹھیک ہو گیا “
اور دوسرا ساز کو میرے پاس پہنچا دیں”
کون ساز ” وہ چونکا
بیوی بھئی میری” وہ سکون سے بولا
ابھی تم نے کہا دنیا میں تمھارا میں ہوں” وہ ویسے ہی اسے چھیڑنے کو بولا
ہاں تو اسکا میں ہوں “
اوہ” شاہنواز سر ہلا گیا
تو محبت بھی کرتے ہو کسی سے “
آ محبت نہیں نہیں یوں سمجھیں دوست ہے میری بس نازک مزاج ہے میری حرکتوں پر رونے لگ جاتی ہے ” وہ مجبوری بتا گیا
شاہنواز کی مسکراہٹ مدھم پڑ گئ
بہت ظالم لوگ ہو تم سب محبت کسی سے نہیں کرتے اپنے پیچھے لگا کر رکھتے ہو “
بلکل اپنی ماں کیطرح ” اگلے الفاظ وہ دل میں ہی بول گیا ۔
عمر نے اسکی جانب دیکھا
محبت دنیا کی سب سے بے کار شے ہے اور مجھے کسی سے نہیں ہے”
وہ سر جھٹک کر بولا ۔
ٹھیک ہے تمھارے پاس سب پہنچ جائے گا اور وہ کیا نام بتایا “
ساز یار آپ کیسے بھول سکتے ہیں ” اسے برا لگا
اچھا بھئی نہیں بھولتا اب “
اوکے ہو جائے گا تم ٹینشن نہیں لو “
ناشتہ ” وہ فرمائشوں کا انبار لیے کھڑا تھا
اسنے کانسٹیبل ناشتہ لانے کو کہا
میرا موبائل” وہ پھر بولا
شاہنواز نے خود موبائل نکال کر دیا
عمر سکون سے موبائل استعمال کرنے لگا
مجھے دس منٹ کے اندر اندر یہ ساری پوزیشن چینج چاہیے” اسنے حکم دیا
یس سر ابھی ہو جائے گی ” اسنے اپنے پی آئے کو باہر بلایا
ساز نامی کوئ لڑکی ہے اشفاق احمد کے گھر میں عمر خیام کی بیوی
اسے عمر تک پہنچا دینا “
اوکے سر ” وہ سر ہلا کر باہر نکل گیا
آج کافی خوشی محسوس ہوئی تھی پھر دل میں ایک خیال سا آیا
اور اسنے کال گھمائی۔
۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایزہ جھولے پر بیٹھی آسمان کی جانب دیکھ رہی تھی آسمان شفاف تھا لیکن اسلام آباد کی ٹھنڈ اور پھر دھند کافی حسین تھی اسکا دل کرتا تھا وہ ان راستوں پر جائے جہاں سے آسمان بہت قریب ہوں بادلوں کو وہ چھو سکے لیکن ہر شخص کی قسمت اچھی نہیں ہوتی اور وہ انھیں بدقسمتی میں سے تھی
دادی جان بلکل چپ ہو گئیں تھیں اسے بہت برا لگتا تھا ہاں وہ تلخ کلامی کرتی تھی اسکا دل بھی دکھتا تھا لیکن اسنے کبھی یہ نہیں چاہا تھا وہ چپ ہو جائیں ۔
وہ ان سے بولی بھی تھی لیکن انھوں نے جواب نہ دیا تو وہ خاموشی سے باہر ا گئ
یہ سب شاہنواز کی وجہ سے ہوا تھا بھلا کیا ضرورت تھی اس سے اتنا اچھا بننے کی ۔۔۔
اچانک ہی ملازمہ اندر سے ائ اور اسنے بتایا کہ شاہنواز کا فون ہے اسکے لیے ۔۔۔
شاہنواز تو ان مردوں میں سے تھا جو بیوی کو ایسی سہولیات دینے پر مانتے ہی نہیں پھر اسکے لیے باقائدہ فون کا آنا انوکھا ہی تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
