Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 78

عینہ نے رو رو کر برا حال کیا ہوا تھا جبکہ مینہ نجما کے پاس تھی اور سوہا نے ہر طریقے سے اسے چپ کرانے کی کوشش کر لی تھی مگر معلوم نہیں اسے کیا ہو رہا تھا اور اب تو وہ اتنا تھک چکی تھی کہ اسکے ساتھ ساتھ خود بھی رونے لگ گئ بدر کی آنکھ کھلی تھی ۔۔ سوہا غصے سے اسے صوفے پر لیٹئے ہوئے تھی اور کھینچ کر کوشن مارا تھا بدر پر تبھی اسکی انکھ کھلی
سوتے رہو یہ مصیبتیں مجھ پر ڈال کر چین کی نیند سو” وہ بھڑک اٹھی ۔
کیا ہو گیا ہے یار ایک تو میرے بچے نہیں سنبھلتے تم سے”
دو منٹ تم بھی پکڑ سکتے ہو انھیں باپ ہو تم انکے “
ہاں مجھے بھی پتہ ہے چیخنے کی ضرورت نہیں ہے آوے میرا بچہ کیا ہوا ہے پیٹ میں درد ہے ہمممم بابا باہر لے جائیں گے ۔۔ ہم فریش ائیر لیں گے ۔۔ ” اسنے عینہ کو اٹھایا اور اسے کھڑکی کے پاس لے ایا ۔ عینہ کچھ ہی دیر میں خاموش ہو گئ جبکہ سوہا نے انسو صاف کیے شکر تھا پی پی جو اتنی دیر سے اسکے سر پر بج رہی تھی کچھ تو رکی وہ آرام سے بدر کے بستر میں لیٹ گئ اسکی خوشبو آ رہی تھی بدر نے مینہ کے منہ میں اپنی انگلی دے دی
بدر تمھاری وجہ سے اسکے گلے خراب رہتے ہیں تبھی وہ اتنا چیختی ہے تمھیں کس نے کہا ہے اسکے منہ میں اپنی انگلی دو “
تمھیں ریسٹ کرنے کا ٹائم مل گیا ہے نہ تو تم چپ رہو ” وہ بولا عینہ نے اسکے شانے پر سر رکھ لیا
سوہا کمبل منہ تک لے کر گھیرہ سانس بھر گئ پھر ذرا غصے سے اسے دیکھا ۔
اکڑو ” وہ بس اتنا ہی بول سکی تھی اسے ۔۔ جیسے ایک خواب سا ہو ۔۔ اسکے جود سے ہوئی اولاد پر وہ کس قدر فدا تھا ۔۔ ہاں وہ اسکی اولاد تھی لیکن سوہا شاید یہ سب ڈیزرو نہیں کرتی تھی کتنا کچھ سہنے کے بعد بھی اج بھی وہ ایزہ کے سامنے شرمندہ تھی کہ اسنے اسکے ساتھ کیا کیا ۔۔
اور پھر اپنی ہر تکلیف اسے بے مقصد لگتی تھی ایزہ کے اگے وہ ہر لمہے اپنے رب سے توبہ کرنا چاہتی تھی اور کرتی بھی تھی ایزہ نے اسے معاف کر دیا تھا لیکن اسکا ضمیر بار بار اس بات کا حساس دلاتا تھا اسکا رب اسپر کتنا مہربان تھا بدر اسکا تھا اس سے محبت کا اظہار تو نہیں کیا تھا کبھی لیکن عینہ اور مینہ کے ہونے کے بعد وہ بہت بدل گیا تھا اسکو اہمیت دیتا تھا اسکی عزت کرتا تھا اسکی فکر کرتا تھا کوشش کرتا تھا وہ خوش رہے ۔۔۔
محبت ۔۔۔۔ احساس فکر کا دوسرا نام ہی ہے شاید ۔۔۔
اسنے ایک سرد سانس کھینچ کر بدر کی جانب سے کروٹ موڑ لی
لیکن محبت کا اظہار کتنا قیمتی بنا دیتا ہے ۔۔۔ اکثر ساز اسے خوش قسمت لگتی تھی ۔۔ عمر اس سے بہت پیار کرتا تھا ہاں جذباتی تھی ۔۔ شاید اتنا بڑا ہو کر بھی بچپنا دیکھا دیتا تھا لیکن اس میں قصور اسکے ساتھ ہوئے واقعات کا تھا اسکے دل کا نہیں وہ ساز کو منانے کی ہر ممکن کوشش میں تھا اور پھر اپنے محبوب کے پورے پورے بکھرے بھی اٹھا رہا تھا ۔۔۔۔
وہ سو بھی گئ ہے پیار محبت سے ڈیلینگ تو آتی ہی نہیں بس ہر وقت ۔۔ کا رونا دھونا ڈال رکھا ہے دیکھو کان کھو کر سن لو میرے بچوں کے سامنے منحوس کم پھیلایا کرو “
میں ہی منحوس ہوں اس بات کو بتانے کا بہت شکریہ “
سوہا نے پلٹ کر کہا بدر اسکے چیڑنے پر ہلکا سا مسکرایا عینہ کو دھیان سے کوٹ میں لیٹایا اور اسے ہلکا سا جھولا دے کر کھڑکی بھی بند کر دی ۔۔۔
اسکی جانب دیکھا جو کہ کروٹ لیے لیٹی ہوئی تھی ۔۔۔ اسکے بستر میں بدر دوسری طرف لیٹ گیا اور اسکے بے حد نزدیک ہو گیا ۔
اب میں نے تمھاری ہیلپ کی تمھارے بچے کے سونے میں اب تم میری ہیلپ کرو میرے سونے میں ” اسکی گردن پر پیار کرتا وہ اسکے شانے پر ہاتھ رکھتا جھک کر اسے دیکھتا بولا ۔۔۔
امممم نہیں میں بہت تھک گئ ہوں” سوہا واقعی ہی تھک چکی تھی اور اب اسکا فرمائشی پروگرام شروع ہو گیا تھا ۔
یہ جب سے میں نے تم سے محبت کرنا شروع کی تمھارے تو مزاج ہی نہیں ملتے” اسنے اسکا رخ اپنی جانب کیا ۔ ۔ سوہا نے پٹ سے انکھیں کھول دیں تم مجھ سے محبت کرتے ہو ” آنکھوں میں حیرانگی سموئے وہ سوال کر گئ
تو اور کیا ٹوئنز بچے کر کے بھی جھک مار رہا ہوں ہاوس سٹوپیڈ یو آر” ایکسکیوز می بدر زمان میرے بچوں سے محبت صرف مجھے تھی اپکو نہیں ” اسنے اسکے چہرے پر اپنی انگلی چلائی بدر اسکی انگلی کی حرکت پر ہی بڑھنے لگا تھا سوہا جیسے اسکے ضبط کا امتحان لے رہی تھی ۔۔۔
لبوں میں مسکراہٹ دبائے اسکے چہرے پر اپنی انگلیاں سے ٹریسنگ کرتی وہ اسکی گردن اور پھر گردن سے نیچے کھلے گریبان اور چوڑے سینے پر اپنی انگلیاں سے حرکت کر رہی تھی ۔۔۔
تم مجھے اکسا رہی ہو ۔۔ ” مدھم گھمبیر آواز میں اسکے کان کے قریب جھک کر کہتا وہ ۔۔ جیسے بے خودی میں بلکل ہی بہک اٹھا تھا ۔
آہ ۔۔ ن۔۔نہیں میں میں بس تنگ کر رہی تھی میرا مو۔موڈ نہیں ہے ” سوہا ایکدم اسکے ہاتھوں کی حرکت پر بھکلا سی گئ ۔
بدر مسکرایا لیکن میں تو تنگ ہو گیا ہوں” اسنے کہا اور اسکے گال پر جھک کر وہ اسکے گال پر ہی زبردست خوبصورت سا نشان بنا گیا ۔
سوہا حونک سی ہو گئ میں صبح کسی کو منہ نہ دیکھاو آپ یہ ہی چاہتے ہیں”
کہہ تو رہا ہوں ہنی مون پر چلتے ہیں “
ہنی مون پر لو برڈز جاتے ہیں ہم دونوں نہیں” اسکی بات پر بدر ایک دم سیدھا ہو گیا ۔۔
اسکی آنکھوں میں خمار کے سرخ ڈورے تھے جبکہ گریبان چاک تھا بال بکھرے سے تھے وہ بے حد حسین تھا کسی خواب کیطرح اسنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر بال سنوارے ۔
کیا چاہتی ہو تم بار بار یہ کرنے کا کیا مقصد ہے تمھیں لگتا ہے مجھے بس تم سے جسمانی اٹریکشن ہے یہ میں تمھیں اس لیے اہمیت دے رہا ہوں کہ اب تم میرے بچوں کی ماں ہو ” وہ بگڑا ہاں سوہا کو ایسا ہی لگتا تھا اسکی خاموشی بدر کا سارا موڈ سپلائی کر گئ
تمھاری محبت کی خوبصورتی سمجھتے محبت ہوئی تھی اور ہوئی ہے ورنہ بدر زمان نے اپنی زندگی ہمیشہ اپنی مرضی سے گزاری ہے اگر اپنی مرضی نہ کرتا تو اج کامیاب بھی نہ ہوتا ۔۔۔۔ اور مجھے اگر تم میں جسمانی اٹریکشن ہوتی تو تمھاری ساتھ ساتھ ستر اور بھی رکھ لیتا
نہایت احمق اور بیوقوف لڑکی ہو تمھاری محبت محبت ہے اور میری محبت حوس ہاوس سمارٹ”
آپ خفا ہو رہے ہیں” سوہا ایکدم سنبھلی کیونکہ وہ غصہ کر گیا تھا
شیٹ اپ۔” وہ انگلی اٹھا کر اسکا ہاتھ جھٹکا بیڈ سے اترا ۔۔۔
بدر میں ۔۔ شاید انسکیور ہو رہی تھی ایم سوری ” وہ معصومیت سے بولتی اسکے پیچھے لپکی ۔
سوہا مجھے تم سے محبت یحے کیونکہ تمھیں مجھ سے محبت ہے ۔۔ مجھے اس دیوانگی سے محبت ہے جو تم نے مجھ پر ثابت کی تم ماننا چاہو تو مان لو نہیں ماننا چاہو تو نہ مانو ۔۔” وہ کہہ کر باہر جانے لگا
اچھا میں مانتی ہوں پلیز ایم سوری کہاں جا رہے ہیں “
اب میرا دماغ گھوم گیا ہے دور رہو مجھے سے ” بھڑک کر کہتا باہر نکل گیا سوہا اپنی غلطی پر زبان دانتوں تلے دبا گئ ۔
جبکہ وہ ڈرائنگ روم میں چلا گیا ہو گا وہ منہ بسور کر بیٹھ گئ صبح کے چار بج رہے تھے ۔۔ اور وہ لمہہ بھر کے لیے بھی نہیں سوئی تھی وہ لیٹ گئ خوشی اور مسکراہٹ لبوں میں ہی سجائے وہ جلد ہی سو بھی گئ تھکی ہوئی تھی اور اگر وہ ناراض ہو گیا تھا یعنی اسے سونے کا وقت مل گیا تھا ۔۔۔
ورنہ سوہا اپنے ٹوٹے ہوئے وجود کو صبح دونوں بچوں کے ساتھ گھسیٹ رہی ہوتی وہ اپنی ہی سوچ پر ہنستی ہنستی سو گئ تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح وہ کمرے میں ایا عینہ بھی سکون سے سو رہی تھی اور عینہ کی ماں بھی مدہوش تھی ایسی تیز تپ چڑھی بدر کو اسے لگ رہا تھا وہ منانے آئے گی اس سے بات کرے گی ۔۔۔ مگر سکون سے نواب زادی سو رہی تھی ۔۔۔ تھی ہی اپنے باپ جیسی ڈھیٹ ۔
وہ سر جھٹک کر واشروم میں چلا گیا اور فریش ہونے لگا
کچھ دیر بعد باہر آیا تب بھی وہ سو رہی تھی بدر کا غصہ آسمان کو چھونے لگ گیا تھا ۔۔
اسنے تیار ہو کر عینہ کو جھک کر پیار کیا اور سوہا کو دیکھا باہر نکل گیا ۔۔۔
دروازہ ایسے زور سے مارا کہ عینہ بھی چلا کر اٹھی ساتھ اسکی ماں بھی
اف سوہا جان سے مارنا ہے ” وہ اپنے لمبے بالوں کو سمیٹ کر اٹھ کر بھاگتی ہی کہ اپنا چہرہ دیکھ کر حیا سے گویا شرمندہ ہی رہ گئ عین گال پر نیلا نشان بنا ہوا تھا ۔۔
وہ فریش ہوئی اور تھوڑا سا میک اپ بھی کر لیا بار بار ہنسی آ رہی تھی اب بدر جل بھن کر بھسم ہو جائے گا مزید کہ اسے فرق ہی نہیں پڑ رہا تھا وہ باہر آئی عینہ گود میں ہی تھی ۔۔۔
بدر ناشتہ کر رہا تھا
اسنے سلام کیا نجما اور ساز بھی موجود تھیں وہیں ۔
میں بنا دیتی ناشتہ ” وہ نجما سے بولی
کچھ نہیں ہوتا بیٹا ” ابھی اسکی بات ادھوری ہی تھی کہ بدر نے سر اٹھایا
نیندیں پوری کریں پہلے اپنی “
تب ہی تو گھر کے کام ہوں گے تھکاوٹ ہی نہیں جاتی یہاں ” وہ طنزیہ بولا سوہا شرمندہ ہو گئ
بدر ” نجما نے گھورا مگر وہ کچھ نہیں بولا
ساز نے آنکھوں میں پوچھا کہ وہ کیوں اتنا غصہ ہے اور سوہا بے چارگی سے سر جھکا گئ ۔۔۔ ساز ہلکا سا مسکرا دی
اور عینہ کو گود میں لے لیا ۔۔ اسکی کمر میں بہت درد رہتا تھا ۔۔۔
وہ اب بھی بمشکل ہی بیٹھی تھی عینہ کو پیار کر رہی تھی کہ معلوم نہیں کب عمر پیچھے آ گیا ۔۔ اور عینہ کو ساز کے ہاتھوں سے اچک کر گھر والوں سے اپنا اور ساز کا چہرہ چھپا لیا عینہ کے ذریعے اور جھک کر ساز کے گال کو چوما
گڈ مارننگ موٹی ” وہ بولا جبکہ ساز کا تو بی پی لو ہو گیا ۔۔ اسکا بھائی سامنے بیٹھا تھا ماں تھی بھابھی تھی اور یہ شخص وہ سٹپٹا گئ جبکہ عمر عینہ کو لیے اسکے گال پر زور سے پیار کر گیا ۔
ہائے گائیز “
دفع ہو جاؤ تم بد لحاظ ۔۔۔۔ کہیں سے نہیں لگتے تم مولوی کے بیٹے ہو ” عمر نے سکون سے بدر کے اگے سے کافی کا مگ اٹھا لیا بدر اسکی سابقہ حرکت پر بولا تھا ۔
تمھارے بچے خوبصورت نہ ہوتے تو منہ بھی نہ لگاتا میں تمھیں اور تم کون سا مولوی صاحب کے بھتیجے لگتے ہو ” وہ سکون سے گھونٹ بھرتا بولا ۔
شیٹ اپ اپنا کپ لو “
میں لے آتی ہو ” سوہا جلدی سے اٹھی جبکہ ساز سے تو اٹھا بھی نہیں جا رہا تھا کہ عمر بلکل پہلو میں بیٹھ گیا تھا اور وہ اتنی موٹی واقعی ہو گئ تھی کہ اسے چلنے پھیرنے میں بھی مشکل تھی ۔۔۔
وہ نگاہ ہی نہ اٹھا پا رہی تھی ۔
تھینکیو سوہا ” ساز کے اگے اپنا جھوٹا رکھ کر وہ عینہ سے کھیلنے لگ گیا ۔۔۔۔ جبکہ ساز اٹھ گئ اور کمرے میں جانے لگی ۔۔۔
ساز ادھر بیٹھ جاؤ “
مجھے نہیں بیٹھنا بھرائے ہوئے لہجے میں وہ بولی تھی جبکہ عمر لب دبا گیا ۔۔۔
بدر کو اب کہ ہنسی آنے لگی ۔
تو ہنسنا بند کر ” عمر غصے سے اسپر کوشن مار گیا
دس از دا پاور برو ” بس ایک بار مان جائے پھر اپنی پاور دیکھاؤ گا “
ہاں ہاں بعد کی بات ہے “
یہ سب تمھاری وجہ سے ہوا ہے “
اپنا الزام دوسروں پر ڈالنا چھوڑ دو “
تم ” اور کتنی دیر لڑنا ہے اپ دونوں نے ۔۔۔
چپ ہو جاؤ بدر ” نجما بیچ میں ٹوک گئ
بدر چپ ہو گیا ۔۔ اور عمر عینہ کو دیکھنے لگا ۔۔
اچانک عمر نے اسے بدر کے شانے پر بیٹھا دیا اور عینہ نے سکون سے پی شی کر دی یہاں تک کے بدر اچھل کر دور ہوا اور اسکی کافی کے ٹیسٹ میں اضافہ ہو گیا
عمر کا قہقہہ ابھرا بدر کا بس نہیں چلا عمر کے کھینچ کر کوئی شے مار دے ۔۔
ویل ڈن بیٹے ” عینہ کو پیار کرتا وہ یوں ہی خود سے دور کرتا سوہا کو دے گیا ۔۔ اور باہر نکل گیا جبکہ بدر سوہا پر دھاڑا
تم پیمپر نہیں لگا سکتی تھی “
میں کرا کر آئ تھی” وہ منہ بنا گئ ۔
جاہل کے جاہل بھر گئے اس گھر میں ” وہ چیخا اور کمرے میں چلا گیا جبکہ نجما اپنی ہنسی روک رپی تھی ۔۔ عمر میں کافی زیادہ شرارت تھی اور اب بدر سے تو کافی پنگے لینے لگ گیا تھا ۔۔۔۔
اور بدر بھی برداشت کر لیتا تھا شاید وہ اسے سمجھنے لگ گیا تھا کہ اکثر انسان پر گزرے واقعات اسے اندرونی خوفزدہ کر دیتے ہیں ۔۔۔
آپ جائیں بھائی غصہ کر رہے ہیں “
تم مینہ کو بھی فیڈر دے دو پلیز “
عینہ کو پکڑاتی وہ ساز سے بولی ساز سر ہلا گئ سوہا نے عینہ کو ۔۔ اپنی ماں کے ہاتھ میں دیا جو ابھی کمرے سے آئیں تھیں ۔
اور کمرے میں آئی بدر شاور لے کر نکلا تھا ماتھے پر بل تھے ۔
اچھا کیا ہو گیا ہے غصہ نہ کریں ” سوہا نے اسکے گیلے بالوں میں ہاتھ پھیرا ۔۔
ہاں لو گی تم تو اس بدتمیز جاہل اور بد تہذیب انسان کی حمایت “
وہ بھڑکا اور سوہا اسکے مزید نزدیک آ گئ
سور۔۔سوری آئندہ آئندہ دونوں کو پیمپر لگاو گی تو وہ ایسی شرارت نہیں کرے گا پلیز غصہ نہ ہو ” وہ اسکے سینے پر انگلی سے کچھ لکھ رہی تھی
مجھے نہ تم پر زیادہ غصہ ہے سمجھی ” اسنے اسکی انگلی پکڑی اور زور سے کاٹ لیا
اہ” سوہا نے ہاتھ پیچھے کھینچ لیا جبکہ بدر سر جھٹک گیا اب اسے دوبارہ تیار ہونا پڑ رہا تھا
ویسے ایک بات پوچھوں بدر ” وہ بولی جبکہ آئینے میں اپنا اور اسکا عکس بھی دیکھ رہی تھی ۔۔
ہممم” وہ خفا خفا سا بولا۔۔۔
تم عمر سے ناراض نہیں ہو نہ “
اسکے سوال پر بدر نے سنجیدگی سے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔ اور بالوں میں جو برش وہ پھیر رپا تھا اسے ایک طرف رکھا ۔
مجھے بعض اوقات اسپر ترس آتا ہے اسکی سچویشن سمجھ کر اور بعض اوقات شدید غصہ کے اتنے حالات فیس کر کے بھی وہ میچور نہیں ہے تکلیف کے وقت چھپ جانے کا اور اس تکلیف اور اذیت سے بھاگ جانا کوئی عقلمندی نہیں ہے اور میں بس ساز کی خوشی چاہتا ہوں ساز خوش رہے گئ تو میں بھی خوش رہو گا اور میری بہن کی خوشی اس کم عقل انسان کے ساتھ ہی ہے یہ بات سمجھ گیا ہوں میں ” اسکے تفصیلی جواب پر سوہا نے سر ہلایا ۔۔۔
مجھے لگتا ہے سب ٹھیک ہو جائے گا بہت جلد ” وہ خوشی سے بولی
ہاں ٹھیک ہو جائے گا لیکن تمھارا دماغ کبھی ٹھیک نہیں ہو گا اور یہ جو تم اپنی محبت پر حد سے زیادہ گھمنڈ کرتی ہو نہ دیکھ لوں گا تمھیں میں اچھے سے ” دانت پیس کر کہتا وہ اٹھ گیا
جبکہ سوہا نے منہ بنا لیا ۔۔۔
آپ “
بس چپ ” وہ گھور کر بولا سوہا چپ ہو گئ اور وہ جانے لگا وہ خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
دروازے تک ایا اور پھر پلٹا وہ مسکرا دی ہلکا ہلکا وہ اسی کے پاس ا رہا تھا اسے اٹھایا اور سینے سے لگا لیا ۔
ٹرسٹ می میں سچ کہہ رہا ہوں ” اہستگی سے اسکے کان کی لو کو چھوتے وہ بولا تو سوہا کو اسکی بات پر دل سے یقین آ گیا اسکی آنکھیں نم سی ہو گئیں
بس زیادہ ایموشنل نہ ہو یہ آنسو رات کے لیے اٹھا کر رکھو “
وہ ذو معنی لہجے میں بولا جبکہ سوہا نے اسکے بازو پر تھپڑ مارا
بہت ہی برے ہو تم ” جبکہ ہنستے ہوئے بدر نے اسکی پیشانی پر پیار کیا اور باہر نکل ایا وہ عینہ اور مینہ کی بھی روز پیشانی چومتا تھا اور پھر وہ وہاں سے چلا گیا
سوہا کو مسکراتا دیکھ تائی جان بھی مسکرائی اور نجما اور ثروت کی ولیو تو خود با خود ہی بدل گئ تھی سارے گھر کا خرچہ بلا چوں چراں بدر چچا جان کے ساتھ مل کر اٹھا رہا تھا ارہم فلحال کسی کے ساتھ بھی گھل مل نہیں رہا تھا اور بدر ایک ذمہ دار بیٹے کیطرح ہر چیز سنبھال رہا تھا عمر البتہ لگا ہوا تھا بس ایک ہی کام پر ل ۔۔ اور سب جانتے تھے وہ اور کسی چیز پر توجہ دے گا بھی نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساز سو کر اٹھی اسے چھٹا مہینہ تھا اور ڈاکٹر نے اسے بتایا تھا بچہ ہیلدی ہے تبھی وہ اتنا ڈسٹرب ہے صرف ویٹ کی وجہ سے وہ اٹھی باہر آئی تو سارا گھر خالی تھی حیرانگی سے اسنے سوہا کو آوازیں دیں مگر بے سود کو بھی نہیں تھا ۔
اور اچانک اسکا پاوں پھسلا ابھی وہ گیرتی کے پیچھے سے اسے عمر نے اپنے بازوں میں پکڑا وہ بھی اچانک ہی ایا تھا گھر اور اتے ساتھ ہی ساز کو دیکھ کر صوفے پر سے جمپ لگاتا اس تک پہنچا تھا ۔
ساز سیدھی ہوئی ۔
تھینکیو دل میں کہنے کے بجائے منہ سے کہہ دو “
اف بہت بھاری ہو گئ ہو ” وہ اپنا ہاتھ سیدھا کرتا بولا ساز اس سے فاصلے پر ہو گئ لمہہ بھر کے لیے ڈر گئ تھی ۔۔ اسنے اپنے بچے کو محسوس کیا تھا وہ ٹھیک تھا ۔
وہ نڈھال سی اسکے پاس سے گزرنے لگی
باقی سب کہاں ہیں ” وہ پوچھنے لگا مگر ساز اس سے بولتی ہی کہاں تھی
عمر خود بھی نہیں جانتا تھا سب کہاں گئے ہیں جبکہ تائی جان نے آج ایزہ کے پاس جانے کا خود سے کہا تھا اور وہ سب مل کر وہیں گئے تھے ۔
ساز کو اسکا یہ ڈرامہ ہی لگا سب اسکے ساتھ گئے تھے اسکا ساتھ دے رہے تھے وہ ادھر ادھر دیکھ رہا تھا ساز نے سنجیدگی سے اسکی جانب دیکھا
اگر آپ کا یہ ڈرامہ ختم ہو گیا ہو تو راستے سے ہٹیں مجھے کمرے میں جانا ہے ” وہ بولی لہجہ تلخ تھا جبکہ عمر تو اسکی آواز سن کر اسکی نظر اتار گیا
مجھے لگا تھا تم گونگی ہو گئ ہو لیکن تم تو بول بھی سکتی ہو ” وہ مسکرایا جبکہ ساز نے سر جھٹکا ۔
اگے بڑھنے لگی کہ عمر نے اسکے دونوں بازو پکڑ کر روکا
پلیز میری بات سنو قسمت سے یہ موقع مل ہی گیا ہے تو مجھے بھی سن لو اور ابھی اسکی بات کمل بھی نہ ہوئ تھی کہ ساز کا ہاتھ اسکے گال پر اٹھا تھپڑ زور دار بلکل نہیں تھا لیکن تھپڑ ضرور تھا
اپکو میں تماشہ اور مذاق لگتی ہوں اگر ایسا ہے تو بلکل ٹھیک ہے آپ بلکل ٹھیک سمجھتے ہیں عمر جب چاہا استعمال کیا جب چاہا چھوڑ دیا واقعی دنیا میں آپ سے زیادہ امیر کوئی نہیں ہے یہ شاید کسی کے پاس اتنا مزاج نہیں ہے ۔۔ بیوی کی حیثیت ہی دے دیتے مجھے ایک جاہل انسان کو بھی یہ پتہ ہوتا ہے کہ اسکی بیوی کو کس وقت میں اسکی ضرورت ہے میں آپ سے کیا توقع کروں صرف یہ قصور تھا میرا کہ آپکے لیے اپکو تکلیف نہ ملے میں نے راز چھپا لیے ۔ کیونکہ اپکو تکلیف میں نہیں دیکھنا چاہتی تھی اور یہ اتنا بڑا قصور تھا کہ چار ماہ آپ مجھے اکیلا چھوڑ کر چلے جاتے ۔۔ عمر خیام ۔۔ بیوی صرف استعمال کرنے کے لیے نہیں ہوتی ۔۔ بیوی کی عزت اہمیت اور قدر بھی کوئی چیز ہوتی ہے لیکن اپکو کیا پتہ آپکی نہ ماں کو بیوی کا رتبہ ملا اور نہ ہی آپ اپنی بیوی کو دینا جانتے ” وہ بولی اسکی ہر بات جائز تھی عمر نے خاموشی سے سنی تھی تھپڑ سہا تھا لیکن یہ آخری بات ایکدم۔جیسے اسے بھڑکا گئ
شیٹ یور ماوتھ ” وہ انگلی اٹھا کر اسکی جانب بڑھا کہ وہ دو قدم ڈر کر دور ہوئی ۔
جسٹس شیٹ اپ ۔۔ میری ماںکو بیچ میں لانے کی ضرورت نہیں ہے تمھیں تمھارا مجرم میں ہوں صرف مجھ تک اپنی جنگ رکھو میرے سامنے زیادہ زبان چلانے کی ضرورت نہیں ہے ” وہ اگ بگولہ ہوا
آپ اپ مجھے ڈرا نہیں سکتے ” وہ ذرا روہانسی لہجے میں بولی
مجھے کوئی شوق بھی نہیں ہے ” وہ بگڑا ساز چپ ہو گئ جبکہ عمر نے گھیرہ سانس بھرا
میری بات ” وہ ابھی بات کو دوبارہ شروع کرنا کہ ساز اسے دھکیل کر روتی ہوئی کمرے میں بند ہو گئ
ساز ” عمر غصے سے چیخا
تم اب مجھے غصہ دلا رہی ہو دروازہ کھولو یار میری بات تو سن لو ہو گئ غلطی مجھ سے پلیز مجھے معاف کر دو کس طرح یقین دلاو میں تمھیں “
کود جائیں چھت سے مجھے آپکی بات ک یقین نہیں ” وہ رو دی تھی بری طرح ۔۔۔
ہاں پاگل ہوں نہ میں کود جائیں چھت سے آئی بڑی مہرانی ” وہ غصے سے صوفے پر ڈھیر ہو گیا ۔
کلائی کاٹ لوں گا میں “
وہ اونچی اواز سے اسے دھمکی دینے لگا مگر اسکا جواب نہ آیا
کوئی اثر نہیں ہو رہا الٹا تھپڑ ہی مار دیا ” وہ سر جھٹک کر سوچنے لگا جبکہ اسکا ڈیل فون بجا شاہنواز کی کال تھی ۔
یار آپ تو اب مجھے تنگ نہ کریں ” وہ چیڑ گیا ۔
بہت بد لحاظ ہو گئے ہو ” وہ ڈپٹ کر بولا
سوری کا بورڈ میرے ہاتھ میں ناظرین جو چاہے آج سوری لے لے ” کلس کر بولا تھا
تم کام پر کیوں نہیں جاتے “
میرا دل نہیں لگتا ” لڑکی اور پیشہ دونوں ایک ساتھ ملنا چاہیے یہ خالی لڑکی رکھ کر کچھ نہیں ملے گا “
آپ ہیں نہ بھیج دیں “
اب نہیں اب خود محنت کرو ” اسنے کہا جبکہ وہ غصے سے فون بند کر گیا ۔
ابھی وہ اٹھتا ہی ارہم اندر ا رہا تھا ۔۔ شکستہ حال سا وہ اندر ایا اور عمر وہاں سے جانے لگا کہ اسکی پکار پر رک گیا ۔
تم سے نفرت میں اخری سانس تک کروں گا کیونکہ تم میرے باپ کے قاتل ہو اور رہو گے لیکن یہاں صرف یہ کہنا چاہوں گا میں نے ان چار مہینوں میں ساز کو بہت تنگ کیا ہے
شروع سے خواہش تھی وہ میری بیوی بنے لیکن تمھاری بیوی بن گئ بس پھر غصے اور جلن میں میں نے اسے خوب تنگ کیا ہے تبھی وہ تمھارے ساتھ اتنی بدظن ہو گئ ہے
یو ” عمر غصے سے اسکی جانب بڑھا اور ارہم نے سے روکا
قصور تمھارا ہے اپنی بیوی کو دنیا میں تم نے پھینکا تھا ” سنجیدگی سے وہ بولا عمر مٹھیاں بھینچ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے