Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

تایا جان اسے اپنے ارد گرد اسی طرح دیکھ کر مطمئین ہو گئے تھے کہ وہ نہیں جائے گا لیکن کچھ حیرانگی اس بات کی تھی کہ وہ ضرورت سے زیادہ خاموش تھا
خاموشی سے انکی ساری باتیں مان رہا تھا یہاں تک کے وہ دکان پر آیا تو انھوں نے جھڑکے دے کر نکال دیا تب بھی ایک لفظ نہیں بولا انکے سارے کام کیے جس طرح انھوں نے کہے
لیکن انکے اندر ایک آگ تھی اور وہ یہ تھی کہ ساز کو عمر لے گی اور وہ ساز انکے روکنے پر رکی نہیں اسکے ساتھ چلی گئ وہ اتنی عیاشی کرے انھیں کہاں برداشت ہونی تھی یہ بات ۔۔ دوسری طرف گھر میں الگ واویلا تھا
فلحال کر تو وہ کچھ سکتے نہیں تھے تبھی اپنی بیوی اور بیٹی کا دماغ ادھر ادھر کرنے کے لیے سوہا کی شادی کا شوشہ چھوڑ دیا
اور حیرت انگیز طور پر بدر نے چوں چراں نہیں کی
وہ مان گیا سیدھی طرح ۔۔ تایا جان کو حیران تو کر رہا تھا لیکن وہ ہمیشہ سے ایک خود غرض انسان تھے انھیں صرف اپنی غرض تھی ۔۔۔
گھر میں شادی کی تیاریاں ساز کے جانے کے اگلے روز ہی شروع ہو گئیں
اب کام ثروت اور اسکی بیٹیوں کو بھی کرنا پڑ رہا تھا کیونکہ ساز نہیں تھی اور نجما پر اس طرح کام بٹ گیا تھا
ہاں سنو صنم فارغ ادھر ادھر بھی تو پھر رہی ہو میرا ذرا مینی پیڈی کر دو میں نے ابھی خریدا ہے سارا سامان ۔۔۔
میں کیوں کروں تمھارے پاس اپنے ہاتھ نہیں” صنم نے سیدھا جواب دیا
سوہا نے اسکی جانب آنکھیں سکیڑ کر دیکھا
تم بات کس سے کر رہی ہو جانتی ہو ” وہ بھنائی
میں”
امی دیکھنا یہ کیا بول رہی ہے” تائی بھی ا گئیں اور صنم کے الفاظ وہیں رک گئے
کیا بول رہی ہے ” وہ گھور کر اسے دیکھنے لگی
میں نے بس اتنا ہی کہا کہ میرے پاوں پر مینی پیڈی کر دو کہتی ہے تمھارے اپنے ہاتھ نہیں نوکر ہیں تمھارے اور تمھاری ماں کے ۔۔۔ اپنی اوقات میں رہو تم سب ” سوہا نہ چار باتیں لگا دیں
نہیں تائی جان میں نے ایسا کچھ نہیں کہا
تو میری بیٹی جھوٹ بولے گی میں تم سب کی اوقات بتا دوں گی اپنی اپنی اوقات نہ ہی بھولو تو اچھا ہے جو کام کہہ رہی ہے سیدھی طرح کرو ورنہ تم لوگوں کا خرچہ پانی بند کروا دوں گی” وہ چلائیں صنم کے رنگ سے اڑ تھے
آنے دو اس ساز کو یہ منہ پر ہاتھ پھیر کر کہتی ہو تھپڑوں سے اسکو لہو لہان نہ کر دوں تو کہنا ” سب کے اندر ساز کے نام کی الگ ہی بحبیث تھی
صنم کو چار نچار بیٹھنا ہی پڑا اور سوہا مطمئین سی ہو کر اسکی گود میں پاؤں رکھ گئ
اور صنم سر جھکائے آنسو ضبط کیے اسکا کام کرنے لگی ۔
آج احساس ہوا تھا کہ ساز کیا محسوس کرتی ہو گئ انھوں نے ساز کے ساتھ بہت غلط کیا تھا
سوہا نے سر جھٹکا اسے انکار کرنے والا اسی طرح آنسو بھائے گا وہ ابھی نیل فائل کرتی کہ بدر کو آتے دیکھ اسکی آنکھیں چمکیں
وہ جلدی سے اٹھی
کیسے ہو ” اسکے سامنے ا گئ
صنم حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی
ٹھیک ” وہ مسکرایا
سوہا پھولے نہیں سمائی
تم کیسی ہو “
میں بھی ٹھیک ہوں بدر مجھے یقین نہیں ا رہا ہماری شادی ہو رہی ہے” وہ بے پناہ خوشی سے چہکی
بس اب کر لو نہ یقین آنے والی تو کوئی بھی بات نہیں ” بدر سکون سے بولا
ہاں یہ ہی بات ہے ” وہ مسکرائی
چلتا ہوں کام ہیں ” کہہ کر وہ چلا گیا
سوہا نے حیرانگی سے پھٹی ہوئ آنکھیں لیے بیٹھی صنم کو ذرا اترا کر دیکھا
بس دل ہار گیا مجھ پر ۔۔۔ اب میں خوبصورت ہی اتنی ہوں “
وہ اپنے بال جھٹک کر بولی اور دوبارہ اسکے سامنے بیٹھ گئ
تائی جان جو ساز کو اسکے شوہر کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کی اجازت نہ دیں انکی اپنی بیٹی منگیتر کے سامنے کیسے اٹھلا رہی تھی
وہ پھر سے سر جھکا گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں مجھے آئے ہوئے اتنے دن ہو گئے میں تجھے دیکھتی ہوں تو شاہنواز سے کٹی کٹی رہتی ہے اور میرا بچہ مجال ہے ایک لفظ بھی بولے تجھے یہاں ا کر تو بدل ہی گیا ہے ذرا جو تو اسکی آنکھ کی گھوڑی میں رہی ہو ” شاہنواز آج صبح ہی شام تک کے ٹور کے لیے نکلا تھا اسکا بزنس ٹور تھا اور دادی جان سمیت دادی جان کے سامنے اسے بھی بتایا وہ شاہنواز جو صرف حکم دیتا تھا اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے جان بوجھ کر دادی جان کے سامنے اسنے کہا تو ایزہ کچھ کہہ نہیں سکی اور تب سے دادی جان کا منہ بنا ہوا تھا ۔۔۔۔
وہ انکے لیے چائے کا کپ رکھ کر کچھ فاصلے پر بیٹھ گئ تو انھوں نے اسے ذرا گھور کر دیکھا ایزہ سر جھکائے بیٹھی رہی کیسے کہتی کہ جب سے اسنے فہیم کو مارا ہے تب سے وہ اس سے کس بری طرح سے بدظن ہے
اور خود کو قصور وار سمجھتی ہے
پوچھ رہی ہوں کچھ ” وہ ذرا غصے میں بولیں ایسی ہی تھیں لمہوں میں غصے سے بھر جاتی تھیں بلکل اپنے پوتے کیطرح ۔۔۔
ایسا نہیں ہے میں بس وہ شاہ نے گھر سے ملازم نکال دیے تو کام وغیرہ میں لگی ہوتی ہوں تو شاید اپکو لگا”
اسنے سہولت سے جواب دیا
اور یہ تو کمرے میں جاتی ہے تو کیا پٹ سے سو جاتی ہے میرے پوتا پوتی کیا میرے مرنے کے بعد دے گی” وہ بھڑکیں ایزہ سرخ سی ہو گئ ۔۔۔
جب انکا پوتا چاہتا ہی نہیں تھا وہ کر کیا سکتی تھی اس معاملے میں
مرد آوارہ ہوتے ہیں عورت کو اپنی گود کی فکر خود کرنی چاہیے ” وہ گویا سمجھا رہی تھیں اور وہ بیٹھے بیٹھے شرمندہ ہو رہی تھی
وہ چپ ہو گئیں ایزہ نے شکر ادا کیا
آج شاہ آئے تو اچھا سا تیار ہو کر اسکے سامنے چلی جانا
تاکہ ” وہ رکیں
دل کیا کہہ دے کہ نہیں اس سے آگے بھی آپ کی گائیڈ لائیں لے لیتی ہوں مگر منہ دبائے بیٹھی رہی
سمجھ میں ا رہی ہے یہ تربوز جیسا سر لیے بیٹھی ہے ” وہ بھڑک اٹھیں
دادی جان آج کل طبعیت ٹھیک نہیں” وہ جان بچانے کو بولی
مجھے غصہ نہ دلا ایزہ ” وہ آگ بگولہ ہو گئیں
ایزہ سے نگاہ بھی نہیں اٹھ رہی تھی
یعنی تو نے ایسے نہیں ماننا ۔۔۔ وہ گھیرہ سانس بھر گئیں
زمیر” انھوں نے آواز لگائی اور وہ جو شاہنواز کا نیا ملازم تھا اندر داخل ہوا
ایزہ نے اسکی جانب نہیں دیکھا تھا مگر وہ ایزہ کو دیکھ کر لمہوں میں سن ہو گیا
دادی جان کیا کر رہی ہیں ” ایزہ کے تو ہاتھ پاوں پھول گئے اب کیا نیا شوشہ چھوڑیں گی وہ ۔۔۔
ہاں وہ بچیاں وہ کون ہوتی ہے جو لیپسٹک پاؤڈر لگاتی ہیں ” زمیر نے انکی بات کو فورا پک کیا
بیوٹیشنز ” ایزہ سر جھکائے بیٹھی تھی
ہاں وہی تو ذرا انھیں تو لے ا یہ تو چاہتی ہے بوڑھی کھڑوس مڑ جائے پوتا پوتی نہ دیکھے ” وہ بھنائی ایزہ کو لگا وہ جتنا سر جھکا گئ ہے شاید اسکی گردن ٹوٹ جائے
جی” زمیر نے اتنا ہی کہا اور وہاں سے نکل گیا
یہ شاہنواز کی بیوی ہے ” جاتے جاتے اسکے لبوں سے بس اتنے ہی الفاظ نکلے تھے
دادی جان وہ غیر آدمی ہیں ایسی باتیں انکے سامنے ” چپ کر بہت زبان چلنے لگ گئ تیری کہہ کر بھیجا تھا تجھے خوشخبری سنا دیو
مگر تو میرے مرنے کے بعد بھی اپنی جگہ سے ہلے گئ نہیں ۔۔۔
وہ بھڑکیں ایزہ منہ بنا گئ ۔
دادی جان کو غصہ چڑھا اور کوئ چیز اسے مارنے کو ڈھونڈنے لگیں وہ جلدی سے بچ کر چھوٹے بچوں کیطرح بھاگ کھڑی ہوئیں
وہ اسکے بھاگنے پر ہنسی دبا گئیں پہلی بار اس کا یوں بولنا چلانا اچھا لگا تھا ۔
ورنہ انھیں لگتا تھا وہ اپنے عاشق کے غم میں غلطاں ہے اور انکے بیٹے کے حق پر ڈاکہ ڈالتی ہے جس کی بنا پر انکی سختی اسکے ساتھ بڑھتی ہی چلی جاتی تھی
مگر اب معملات میں خود بخود نرمی اتر رہی تھی۔۔۔۔
زمیر آدھے گھنٹے میں دادی کا حکم پورا کر چکا تھا
دادی نے ان دونوں کو دیکھا
میری بہو کو تیار کر دو ” وہ بولیں
کہاں ہے آپکی بہو ” زمیر کی بھی نگاہ نے لاشعوری طور پر تلاشہ تھا اسے جبکہ دادی جان نے مڑ کر کچن میں دیکھا
ایزہ اب تو باہر ا رہی ہے یہ میں اندر اور ” ضدی تو بہت ہی تھی
وہ بھڑک کر بولیں
مجال ہے وہ نکلی ہو
اچھا بھئ اب پیٹے گی یہ مجھ سے ” وہ تینوں اجنبی لوگوں حیرانگی سے یہ بہو اور ساس کا رشتہ دیکھ رہے تھے وہ فورا باہر ا گئ اور وہ دو لڑکیاں اس نازک سی گڑیا جیسی لڑکی کو دیکھ کر حیران رہ گئیں جو بے حد حسین تھی اور شاید رو رہی تھی کیونکہ آنکھیں سرخ تھیں
کتنی پیاری ہے یہ لڑکی ” ان میں سے ایک آگے بڑھی
ارے بس کوئی نہیں میرے شاہ کی ہے تم نے بس تیار کرنا ہے اسکو میرے شاہ کے لیے جاؤ اب اور یہ منع کرے نہ مجھے بتانا ” وہ بولیں
تو ایزہ نے چور نگاہوں سے اسے دیکھا
تھپڑ کھائے گی ایزہ ” وہ بھڑکیں
وہ پھر منہ بنا گئ ۔
لو جی پھول گیا منہ کیا خوش کرے گی یہ میرے بیٹے کو ” وہ بہت افسوس میں تھیں جبکہ ایزہ تو اندر چلی گئ وہ دونوں لڑکیاں بھی اسکے ساتھ ہنستی ہوئ چلی گئیں۔
جبکہ زمیر کی کھوئ کھوئ نگاہیں اب بھی اسی جگہ پر تھیں جہاں سے وہ گئ تھی
اے چھورے تو کیا ٹکر ٹکر دیکھ رہا جا باہر” انھوں نے اسے بھی جھاڑ دیا زمیر سر ہلا کر باہر چلا گیا
آپکی ساس تو بہت غصے والی ہیں” وہ اسکے گال کھینچتی بولی
ایزہ نے کوئ جواب نہیں دیا
جبکہ ان لڑکیوں نے اس سے بہت بات چیت کی یہاں تک کے اسکی وارڈروپ میں خود ہی گھس گئیں۔
جبکہ ان میں سے ایک کی نگاہ شاہنواز کی تصویر پر گئ ۔۔۔
جو کہ ریک میں لگی ہوئ تھی
یہ آپکے ہزبنڈ ہیں” وہ حیرانگی سے بولی
ایزہ جو اس میک اپ اور ان فضول کی حرکتوں سے اکتائی ہوئی تھی منہ بنا کر سر ہلا گئ
اف کتنے ہینڈسم ہے یار ” وہ لڑکی بولی ایزہ نے کوئ ری ایکشن نہیں دیا یہ بات وہ بھی بخوبی جانتی تھی کہ شاہنواز بہت ہینڈسم ہے اور اسے اسی بات کا دکھ تھا کہ قدرتی طور پر وجاہت کے ساتھ ساتھ بے شمار دولت نے اسکو آسمان پر بیٹھا رکھا تھا ۔
وہ دونوں لڑکیاں شاہنواز کی تعریفوں میں لگیں تھیں جبکہ ایزہ خاموشی سے بیٹھی تھی اسکے چہرے پر کچھ دیر تک ان لوگوں نے خوبصورت سا میک اپ کر دیا ۔
اور اسکے ڈریسز میں زیادہ تر ساڑھی ہی تھی تبھی انھوں نے کوئ ایک واہیات سی ساڑھی نکال لی جو شاید ہی اسنے کبھی چھوئی بھی تھی ۔۔۔
نہیں میں یہ نہیں پہنو گی” اسکا بلاوز ایک بو کی صورت تھا
جو کو کافی اکورڈ لگتا
ایزہ دامن بچا گئ اور خود سے ہی اس جانب بڑھی جہاں دیکھنے لائق تو لباس تھا
نہیں یہ بہت اچھا لگے گا ویسے بھی آپکی دادی جو چاہتی ہیں ” وہ دونوں ہنسنے لگیں
وہ بزرگ ہیں وہ کچھ بھی کہیں ضروری تو نہیں کہ مان لیا جائے” ایزہ سنجیدگی سے بولی
لیکن یہ بہت خوبصورت لگتی آپ کے ہزبنڈ لائے تھے” وہ اشتیاق سے پوچھنے لگی
ہمم شاید میں نے کبھی توجہ نہیں دی” وہ بولی اور ایک ساڑھی کھینچ لی
ان لوگوں نے وہ ایکطرف رکھ دی تب تک دادی جان بھی ا گئیں
ماشاءاللہ پہلے ہی پیاری ہے ” انھوں نے اسکے اوپر سے پیسے وارے
دادی جان ویسے جو ڈریس یہ ہے نہ یہ بہت اچھا لگے گا لیکن آپکی بہو تو ماننے کو تیار مہیں” جان بوجھ کر ان دونوں نے اسے شرمندہ کیا تھا
ایزہ نے اس ساڑھی کیطرف دیکھا ۔
ارے چھوڑیو یہ تو بس کپڑے ہے باندھنے والا ” وہ اسکا بلاوز ٹٹولتے ہوئے بولیں
دادی جان یہ دیکھیے میں یہ پہن لیتی ہوں ” ایزہ بری طرح سرخ پڑتی بولی
ہاں یہ ٹھیک ہے” وہ سر ہلا گئیں
دادی جان یہ اپکا پوتا ہی لایا ہے دیکھیے یہ ذرا انگریزوں کا لباس ہے اب شاہ سر لائے تو میم کے لیے ہی ہیں نہ تو “
پلیز میں یہ نہیں پہنو گی” ایزہ کو غصہ چڑھا
وہ کیسے فیس کرے گی کسی کو ۔۔۔
وہ دونوں چپ ہو گئیں کچھ دیر دادی جان اسے دیکھتی رہیں
میرے شاہ کی پسند ہی پہنے گی بس تو چل چھوڑ یہ سب وہی پہن” وہ بولیں اور ایزہ کا دم نکل گیا دل کیا شاہ کو ہی بہت ساری سنا دے لیکن اتنا اسکے سامنے بھی تو بولنے کی جرت نہیں تھی
زبردستی ان لوگوں نے اسے وہ پہنا دیا کہ ایزہ آنکھ تو کیا اٹھاتی بس خود کو چادر میں ڈھانپ گئ دادی جان کے سامنے چادر میں ہی آئی
وہ خود سٹپٹا اٹھیں
استغفراللہ ” کہہ کر باہر نکل گئیں جب کہ ان دونوں لڑکیوں کا ہنس ہنس کر برا حال تھا
تم واقعی بہت حسین لگ رہی ہو بس پہلی ساس دیکھی ہے جو اپنی بہو کو اس بات پر اکسا رہی ہے ” وہ ہنستی ہوئ بولیں ایزہ کو تو دونوں ہی بری لگیں تھیں
وہ اس سے مل کر چلی گئیں
اور ایزہ میں تنہائی بھی ہمت نہیں تھی وہ خود پر سے چادر اتارےاسنے وقت دیکھا رات کے دس بج چکے تھے
اسے بھوک لگی تھی دادی جان تو اسے دیکھ کر شرمندگی سے غائب ہو گئیں اور وہ کچن میں ا گئ
دوسری طرف زمیر ان لڑکیوں کو چھوڑنے کے بعد نہ چاہتے ہوئے بھی اسے دیکھنے کو ایک لمہے کے لیے مچل سا گیا
ایک تو حسن پھر بے شمار پھر اس پر تراش خراش ۔۔۔
اسکے لمبے بال لہراتے ہوئے دیکھ رہے تھے بڑی ساری چادر میں خود کو چھپائے وہ کچن میں کچھ کر رہی تھی
اچانک اسنے جان بوجھ کر کھانسی کی ۔۔۔
ایزہ جلدی سے مڑی اور زمیر تو دنگ ہی رہ گیا
اسکی جانب دیکھتا بت بن گیا
وہ کیا چیز تھی جادوئی آپسرا سی ۔۔
شاہنواز بلا کا حسین مرد تھا اسکے ساتھ ایسی حسین ترین لڑکی ہی جچتی لیکن دونوں کی عمروں میں واضح فرق تھا ایزہ بلکل موم کی گڑیا سی تھی اور وہ اس موم کی گڑیا کا مالک ۔۔۔۔
زمیر اسے دیکھتا رہ گیا ایزہ نے اپنا چہرہ موڑ لیا اور چادر کو اور بھی زور سے پکڑ لیا
زمیر نے اسکی یہ حرکت دیکھی اور خود ہی وہاں سے باہر نکل گیا
یہ غلط تھا کیونکہ وہ نوجوان تھا جو شاید اس سے دو تین سا ہی بڑا ہو گا 24 یا 25 سال کا تھا اچھا نہیں لگا وہ دوبارہ کمرے میں ا گئ
لیکن اچانک اسے خیال آیا شاہنواز اور اسکے مابین سرد جنگ ہے وہ خود کو یاد دلاتی دوسرے کمرے میں چلی گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ رات بارہ یہ ایک بجے کے قریب گھر میں آیا زمیر سے کچھ بات چیت کی ۔۔۔
اور اسے وہاں سے جانے کا کہا زمیر مڑ کر اسکو دیکھتا رہا
وہ کافی پر ثروت سی شخصیت رکھتا تھا کہ اسکے آگے وہ خود کو دبتا ہوا محسوس کرے
لیکن ایزہ کا حسن اور شاہنواز کا اندر جانا معلوم نہیں اسے کیوں جلا سا رہا تھا ۔۔۔۔
وہ اندر آیا اور دادی کے کمرے میں جھانکا وہ حیران کن طور پر جاگ رہیں تھیں
ارے ا گیا میرا بچہ” وہ اسکی بلائیں لیں لگی
خیریت اب تک جاگ رہی ہیں اپ” وہ بولا تو وہ سر ہلا گئیں اسپر دم کیا پھونکیں ماریں اور منہ بنا کر بولیں
یہ تیری بیوی بہت تنگ کرتی ہے مجھے اتنا زیادہ اس میں نکھرا ہے مجال ہے اسکا نکھرا ٹوٹے” وہ شکایتیں لگانے لگیں شاہنواز نے گھیرہ سانس بھرا
میں کرتا ہوں بات ” وہ اتنا ہی بولا
ارے تو کیوں بات کرے گا یہ لڑکی اتنی ٹیڑھی تھی تو نہیں اب تیار ہوئی تیرے لیے ہوئی ہے نہ نہیں جی شوہر سے نکھرے اٹھوانے ہوتے ہیں آج کل کے زمانے میں تو عورتوں نے مرد کو ملازم سمجھ لیا
گھس گی دوسرے کمرے میں ۔۔۔ میں تو کہتی ہو اسے دو تھپڑ لگا کر سیدھا کر دے ” وہ ناک منہ چڑھا رہی تھیں کیونکہ جب وہ شاہنواز کے کمرے میں گئیں تو وہاں نہیں تھی اور دوسرا کمرہ لک تھا وہ غصے سے شاہنواز کا ہی انتظار کرنے لگیں
یقینا یہ کام بھی آپ نے ہی کرایا ہو گا ” وہ اسکی تیاری پر بولا
ارے بیٹا میں تو یہ چاہتی ہوں کہ بچے ہو تیرے کیا چوپا بلی کا کھیل لگا کر بیٹھی ہے یہ لڑکی میں کہہ دیتی ہوں تیری دوسری شادی کرا دوں گی میں تب اسکے ہوش ٹھکانے آئیں گے ” وہ غصے سے بولیں شاہنواز نے انکا ہاتھ تھامے
آپ ٹینشن نہ لیں میں دیکھ لوں گا “
ہاں بس تم ہی دیکھو گے بیٹے یہ تجھے غصہ ہی دلاتی ہے ” وہ بولیں تو وہ اٹھ گیا
اور دادی جان نے دیکھا وہ بنا کچھ کہے کمرے میں چلا گیا تھا انھیں لگا ایزہ اسپر کوئی جادو کر چکی ہے جو شاہنواز ایسا ہو گیا ہے ڈھیلا ڈھیلا ورنہ ایک دبکا ہی کافی تھا اسکا تو اس چوئی کو ۔۔
وہ مزید کوئ قدم لیتی کہ ایزہ باہر خود ہی ا گئ اور دادی جان نے اسے وہیں جا لیا
گھورنے لگیں ایزہ نے بیچارگی سے دیکھا وہ اسے اندر جانے کا اشارہ کر رہی تھیں
ایزہ خود کو کوسنے لگی کہ وہ نکلی ہی کیوں وہ چھوٹے چھوٹے قدم لیتی اندر چلی ہی گئ اور دادی جان کو اب چین کی سانس ائی تھی
وہ اللّٰہ کا شکر دا کرتی کمرے میں چلی گئیں
ایزہ اندر آئی شاہنواز ڈریسنگ کے سامنے کھڑا تھا اسے دیکھا وہ تیار تھی چادر خود پر لپٹی ہوئی تھی
تو یہ تیاری کرائی ہے دادی جان نے تمھاری ” وہ اسے آئینے میں سے ہی دیکھ رہا تھا
کیا یہ اتنی خاص ہے کہ شاہنواز کو اپیل کرے” وہ طنزیہ مسکرایا
وہی شکل وہی سب کچھ اور دادی جان پوتے پوتیاں کے خواب دیکھ رہی ہیں” وہ طنزیہ ہنس رہا تھا ایزہ کو معلوم نہیں کیوں بہت برا لگا ویسے اسکے پیچھے پڑا رہتا تھا اور اب اسے باتیں سنا رہا تھا لیکن پھر بھی سر جھکائے کھڑی رہی
تم دادی جان کو تنگ کیوں کرتی ہو ” بلآخر وہ مدعے پر آیا انداز سنجیدہ تھا پہلے کی طرح مگر ایزہ کو ڈر نہیں لگ رہا تھا
میں انھیں تنگ نہیں کرتی وہ مجھے کرتی ہیں سارے دن پوچھتی ہیں کہ مجھے پوتا پوتی کب دو گی” وہ بولی
تو تم نے کیا بتایا ” وہ اسکے نزدیک آیا
کہ میں آپکو پسند نہیں ہوں” وہ کہہ کر اسکے قریب آنے پر کچھ گھبراتی مڑ گئ کہ شاہنواز نے اسکا شانا تھام لیا
ہاں یہ تو ٹھیک ہی کہا تم نے کہاں شاہنواز کہاں تم ” وہ طنزیہ مسکراہٹ لبوں کی تراش میں اچھالتا بولا
ایزہ نے اسکی جانب دیکھا
جی کہاں آپ قاتل اور کہاں میں” وہ بھڑک اٹھی
سوچ لو تمھارا بھی قتل کر سکتا ہوں” وہ سینے پر ہاتھ باندھ گیا
ایزہ نے حیرانگی سے اسے دیکھا
اگر آپ کی بات ہو گئ ہو تو میں چلی جاوں” وہ بولی
دادی جان کو تنگ مت کرنا آئندہ ان سے دوستی کرو نہ کہ انھیں بچوں کیطرح تنگ کرو ” وہ بولا
جاؤ فریش ہو کر لیٹ جاؤ میں تھکا ہوا ہوں” وہ کہہ کر ڈریسنگ میں چلا گیا
ایزہ نے حیرانگی سے اسے دیکھا اسکا لہجہ کچھ عجیب تھا گھمنڈ تو ویسا ہی تھا لیکن لہجہ عجیب تھا جیسے وہ اداس ہو ۔۔۔۔
وہ سر جھٹکتی واشروم کیطرف شکر ادا کرتی بڑھی اور ڈریسنگ پر اسکا موبائل دیکھ کر رک گئ ۔
ایک تصویر تھی وہ نہیں جانتی تھی کس کی ہے نہ ہی اسنے کبھی اسکے اس پاس اس عورت کو دیکھا لیکن وہ عورت نہایت حسین تھی وہ نہ سمجھی سے اس تصویر کو دیکھنے لگی
معلوم نہیں کیوں اسپر سے نگاہ ہی نہ ہٹ سکی ۔۔۔
اسکی خوبصورتی اتنی متاثر کن تھی کہ وہ جم گئ تھی اور مسلسل اس تصویر کو گھورے جا رہی تھی
یہاں تک کے شاہنواز چینج کر کے باہر نکل آیا اسنے ایزہ کو اور پھر اپنے موبائل کی جانب دیکھا آگے بڑھ کر موبائل اچک لیا ۔۔۔
یہ کون ہے؟
بے ساختہ ہی اسکے منہ سے نکلا اور شاہنواز کو دیکھنے لگی
کوئ نہیں رمشہ الٹی سیدھی حرکتیں کرتی رہتی ہے” سنجیدگی سے جواب دے کر وہ اسکے پاس سے ہٹنے لگا
آپ رمشہ کو اپنا موبائل بھی دیتے ہیں”اسکے اس سوال پر شاہنواز نے مڑ کی اسکی صورت دیکھی ۔
جبکہ وہ اسکی خاموشی پر مزید کچھ سوال کیے اندر جانے لگی
شاہنواز اسی کی جانب دیکھ رہا تھا
بات سنو “
جی” وہ مڑی
کیا پہنا ہوا ہے تم نے جو اتنی بڑی چادر لیے گھوم رہی ہو”
اسنے اب ذرا توجہ سے اسے دیکھا
ک۔۔۔کچھ بھی نہیں ” لہجہ اٹک گیا
شاہنواز نے آنکھیں سکیڑ کر اسکی صورت دیکھی اور سر جھٹک گیا
ایزہ نے شکر کا سانس بحال کیا اور واشروم میں بند ہو گئ
شاہنواز نے موبائل پر اس تصویر کی جانب دیکھا
بلاشبہ وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی بلکل پریوں کی طرح لیکن اسکے دل کی سلطنت کی حصہ دار نہیں بن سکتی تھی وہ چاہ کر بھی اسے بنا نہیں سکتا تھا تبھی اس کی تیاری اور دادی جان کو آج اگنور کر دیا تھا
وہ لیٹ گیا تادیر اس تصویر کو دیکھتا رہا اور پھر سینے پر موبائل رکھ کر اسنے اپنا بازو آنکھوں پر رکھ لیا ۔
ایزہ اسکے بعد فریش ہو کر نکلی حیرانگی تھی شاہنواز اسکی جانب بڑھا نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بدر اور سوہا کی شادی کی تیاری کے ساتھ ساتھ ساز کو گالیاں بھی باقاعدگی سے پڑ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
لیکن بدر اور نجما پر کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا اور اگر ہو بھی رہا تھا تو وہ واضح نہیں کر سکتے تھے خاص کر نجما ۔۔
ہاں بھئی کتنے فنکشنز کرنے ہیں ” تایا جان نے بیٹی سے پوچھا تو سب نے انھیں حیرانگی سے دیکھا وہ تو صرف نکاح وہ بھی دو کھجوروں میں کرنے والے انسان تھے اچانک فنکشنز کی کیا پڑ گئ تھی ۔۔۔۔
ابھی ساز نہیں ہے تایا جان تو فنکشنز اسکے آنے کے بعد کر لیں گے ” بدر بیچ میں بولا جبکہ سوہا نے منہ بنا لیا اور تایا جان نے اسے نخوت سے دیکھا
تیری بہن کے آنے سے تیری خالی جیب میں سکے پڑ جائیں گے جو یہ کہہ رہا ہے” وہ نہایت بدتمیزی سے بولے ارہم کی ہنسی چھوٹ گی
جبکہ بدر نے دونوں باپ بیٹوں کو دیکھا
ہاں بھئی عمر خیام ڈیبیٹ کارڈ سے کم تھوڑی ہے ” ارہم نے ٹوکا مارا
بدر کی پیشانی کی رگیں پھول گئیں لیکن نجما نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا ۔۔
بھائی صاحب بیٹی ہے اور بدر کی بہن ہے بچیوں کو اپنے بھائیوں کی شادی کے ارمان بہت ہوتے ہیں” وہ بولیں تو وہ ہاتھ جھٹک گئے
وہ ناپاک لڑکی جس گند سے گھوم کر آئے گی اسکے بعد اسکی آوارگی تو میں خود نکالو گا میری بیٹی جو چاہے گی ویسا ہو گا
ہاں سوہا بتاؤ شادی ہے فنکشنز کب شروع کرنے ہیں” وہ پوچھنے لگے
ابو بس کل سے ہی ” وہ شرما کر بولی
تو وہ جو ان باتوں کو بےحیائی سمجھتے تھے ہنسنے لگے
بس تو پھر کل کر لو مہندی جو بھی لڑکیاں کرتی ہے دوستوں کو بلا لینا رونق میلا لگے” وہ کہہ کر اٹھ گئے
بدر سرخ چہرے سے دوبارہ کھانے میں مصروف ہو گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے