Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
ارہم کی واپسی ایسے ہوئ جیسے وہ حج یہ عمرہ کر کے آیا ہو تائ نے گھر میں اسکی پسند کے کھانے بنوائے ساز کا ہاتھ دو بار جلا تھا لیکن پروہ کیے بنا وہ انکے حکم پر پلاو کڑاہی کھیر مچھلی
چپلی کباب نگٹس اور بھی بہت کچھ بناتی چلی گئی اور اسے تنگ کرنے کے لیے انھوں نے کچن سے سب کو نکال باہر کیا تھا
کل وہ عمر سے پہلی بار ملی تھی اور مل کر بس یہ احساس ہو جیسے وہ آدھا پاگل ہو جو اپنی ہی بیوی سے اسکا نام پوچھ رہا تھا
کیا نکاح نامے پر سائین کرے وقت ہوش میں نہیں تھا پھر جیسے خود ہی یاد ا گیا کہ وہ حوش میں ہوتا کب تھا
وہ رات بہت ڈرتے ہوئے کمرے میں گئ مگر وہ تھا ہی نہیں اسنے شکر ادا کیا اور ساری رات اسی خوف میں گزار دی کہیں وہ ا نہ جائے۔
اور اس خوف سے سو بھی نہیں پائ زمین پر ہی لیٹی رہی اپنی قسمت پر چار آنسو بھائے اور دوبارہ پھر سے کام میں جت گئ
تایا جان چاچو تائ چچی اور اسکی ماں جو بے چینی سے بار بار کچن میں آتی
ساز دیکھاؤ یہ میں تل دوں” وہ نگٹس لیتی بولیں
بس ہو گیا ہے امی آپ جائیں باہر آرام سے بیٹھیں ” اسنے مصروف سے انداز میں کہا
نجما کا دل سا بھر گیا ۔
کاش عمر اچھا ہوتا تو آج اپنی بیوی کے لیے کچھ تو بولتا وہ بس سوچ کر رہ گئیں ۔
صوفیا تیار ہو رہی تھی جبکہ صنم بھی سر پر دوپٹہ جمائے باہر ا گئ تھی لیکن وہ دونوں ہی کچن میں نہیں آئیں اسے م ان دونوں کی مدد درکار بھی نہیں تھی
ساز” بدر کی اچانک آواز پر وہ چونک کر پلٹی نومبر کی خوبصورت سرد ہوا کی شام میں بھی اس کی پیشانی پسینے سے شرابور تھی
بھائ” وہ مسکرا کر پلٹی
کہاں تھے آپ کتنے دن ہو گئے میں نے آپکو دیکھا ہی نہیں” وہ بولی اور اسکے سینے سے لگ گئ ۔
تم کچن میں ۔۔۔ یہ سب تم نے بنایا ہے” وہ اسکو پیار کرتا بولا
جی آپ چلیں باہر میں کھانا لگاتی ہوں” وہ ہلکا سا مسکرائ
باقی کسی نے مدد نہیں کی” اسکے سوال پر وہ ہنس دی
مجھے ضرورت ہی نہیں تھی سب کچھ بنانا آتا ہے آپکی بہن کو “
وہ اچھے انداز میں بولی کہ بدر کسی سے بات نہیں کرے گھر میں بدمزگی ہوتی اور وہ کھانا چھوڑ دیتا ۔
اسکے ساتھ جو ہونا تھا وہ ہو چکا تھا کب تک وہ اس لکیر کو پیٹتی جہاں سے اسے کوئ فائدہ حاصل نہیں تھا ۔
بدر کے تیور بدل چکے تھے وہ باہر ا گیا
اوہ ہاں بدر میں تمھارا ہی انتظار کر رہا تھا
یار جاؤ ذرا آئس کریم لے آؤ ارہم کا موڈ ہو رہا ہے” تایا جان نے پیسے نکال کر اسے دیے
آپکے بیٹے کا موڈ ہے میرا نہیں میں تھکا ہوا ہوں ” کہہ کر وہ صوفے پر بیٹھ گیا
تایا جان نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا وہ کچھ بولتے کہ ساز جلدی سے باہر ا گئ
ک۔۔کھانا بن گیا ہے لگا دوں” وہ جان بوجھ کر ائ تھی کہ بدر کو کوئ بات سننے کو نہ ملے
ہاں ہاں لگاو ” تائ جان بولیں تو بات رفع دفع ہو گئ
دوسری طرف ساز نے کھانا لگایا شروع کیا کوئ ایک فرد بھی اسکی مدد کو نہ آیا اور چار نثار نجما کو خود اٹھ کر اسکی مدد کرنی پڑی
کسی کو کوئی فرق نہیں ہوا تھا بدر کی آنا ٹوٹتی تھی تو شاید تایا اور اسکے بیٹے کو سکون ملتا تھا
وہ کھانا لگا کر اپنا کھانا لیے صوفے پر بیٹھ گیا نجما بھی بیٹھ گئ
ساز ذرا تازہ پھلکے ڈال دو ” تائ جان بولیں
وہ ابھی بیٹھنے ہی لگی تھی اسکی آنکھیں بھر گئیں وہ تھک گئ تھی ہاتھوں میں جلن الگ لگی تھی اسنے ماں کی جانب دیکھا اور بچوں کیطرح رونے والا منہ بنا لیا
میں بناتی ہوں تم بیٹھ جاو ” نجما نے کہا ساز سر ہلا کر پھر بیٹھتی کہ تائ جان بول اٹھیں
نجما گھر کی بہو ہے وہ کام کاج کی عادت نہیں آئے گی تو کیا ہو گا آگے جا کر بیٹھی رہو جاؤ ساز بنا کر لاو ” تائی نے کہا تو ساز کو اٹھنا پڑا
بدر کو لگا جیسے اسکا کھانا حرام ہو چکا ہو
آپکی بیٹی بھی موجود ہے اسکے ہاتھوں کو بھی آگے جا کر کاموں کی ضرورت ہے ” وہ چیڑ کر طنزیہ بولا
تائ ابھی جواب دیتی کہ تایا جان نے روک دیا
بدر کھانا رکھا ہے تو خاموشی سے کھاو ورنہ دفع ہو جاؤ ” انکی کڑک آواز پر وہ تلملا اٹھا ابھی کچھ بولتا کہ نجما نے آنکھوں سے ہی منت کی کہ نہ بولے اور اسے اپنا غصہ قابو کرنا پڑا
وہ روتے ہوئے پھلکے اتار رہی تھی
کہ اچانک کھٹ پٹ ہوئ اور کچن کی کھڑکی سے عمر خیام صاحب اندر کوس گئے
ساز دل پر ہاتھ رکھے ایک قدم دور ہوئ
اوہ ہائے بیوی” وہ اسکو ہائے کرنے لگا
جیسے کچھ تلاش کر رہا تھا ساز نے آنسو صاف کیے اور باہر روٹی دے کر آئ اب وہ دوسری بنا رہی تھی مگر عمر کچھ ڈھونڈنے کے چکر میں بلکل ہی کچن تباہ کر رہا تھا یہ سب ٹھیک اسے ہی کرنا پڑتا
آپ کو کچھ چاہیے” وہ بیچ میں ہی بولی
ہاں سرکہ” وہ بولا
جبکہ فریج میں گھس گیا
ساز نے اسے سرکہ دے دیا
تھینکس” سکون سے بولا اور پانی کا گلاس اٹھا کر اسنے سرکہ پانی میں ملایا اور پی گیا
کچھ دیر چئیر پر آنکھیں بند کیے بیٹھا رہا ساز کو جیسے ابکائ ائ یہ کیا طریقہ تھا کون سرکہ پیتا تھا اب اسے کون بتاتا کہ وہ حوش میں آنے کے لیے پی رہا تھا
آج سعود نے کچھ زیادہ ہی پلا دی اب زیادہ یہ کم کا سوال نہیں تھا
وہ زیادہ پیتا یہ کم فلحال اسے حوش میں رہنا تھا تو اسنے نشہ کی شدت کو کم کرنے کے لیے پی لیا تھا
اسنے آنکھیں کھولیں ساز اسے ہی دیکھ رہی تھی
وہ اٹھ گیا وہ سٹپٹا کر نگاہ جھکا گئ
سو ۔۔۔ دوسری بار تمھیں دیکھا روتے ہوئے ہی پایا تمھیں شوق ہے رونے کا ” وہ شیلف پر ہاتھ رکھے سکون سے پوچھنے لگا
ساز نے جواب نہیں دیا
میرا مطلب سب کے اپنے شوق ہوتے ہیں مجھے پینے پلانے کا ہے تمھیں آنسو بہانے کا ہے “
وہ کھیر کے ڈونگے میں انگلی مارتا بولا
آپ نے خراب کر دیا” ساز تڑپ اٹھی
اوہ میرے کھانے سے خراب ہو گیا” وہ طنزیہ مسکرا دیا
ایسا کچھ نہیں ہے انسانوں کیطرح بھی کھایا جا سکتا ہے اسنے پیالی لی اور اسے کھیر نکال کر دی
نہیں کھانی” وہ مکر گیا
اور اس وقت ساز کو لگا دنیا میں ہر شخص اسے زیچ کر رہا ہے
اسے پھر سے رونا آیا اور اسنے پیالی وہیں رکھ دی
اچھا کھا لیتا ہوں اس میں رونے والی کیا بات ہے” وہ پیالی اٹھا گیا اور چمچ بھری
یہ تم نے بنائ ہے” وہ بلاوجہ بہت ہی بولتا تھا اور اس سے تو ایسے بات کر رہا تھا جیسے بہت دوستانہ ہو
جی” وہ بس اتنا ہی بولی
اور روٹی اتار لی
واو بہت اچھی بنی ہے ” دو چمچوں میں ہی ساری ختم کر کے اسنے کٹوری اسکی سمت بڑھا دی
اور؟ ” وہ بولا تو ساز نے دوبارہ سے نکال کر دے دی
زبردست تم کمال ہو ” وہ تعریفیں کرتا شیلف پر چڑھ گیا ساز کے لیے یہ سب بے معنی تھا وہ باہر روٹی دینے چلی گئ اور عمر اندر شیلف پر بیٹھا کھانے لگا
اتنی سستی ہے تیرے کام میں جا سالن گرم کر ” وہ ذرا بھڑکیں ساز کو لگا اسے خود کو بے حس کر لینا چاہیے
وہ اندر ا گئ سالن گرم کرنے لگی
عمر اسی کی جانب دیکھ رہا تھا
اسکے گال پر بار بار آنسو آتے جنھیں وہ بار بار صاف کرتی
تمھیں بھوک لگی ہے” اسکے سوال پر ساز نے اسکی سمت سرخ نظروں سے دیکھا عمر کا چمچ منہ میں ہی رہ گیا
نہیں میں انسان نہیں ہوں روبوٹ ہوں آپکی امی مجھے روبوٹ سمجھتی ہیں” حالانکہ ان دونوں کے بیچ یہ دوسری ملاقات تھی مگر وہ اسپر غصہ اتار گئ تھی
وہ مسکرا دا
اول یہ میری ماں نہیں ہے تمھاری تائ ہے اینی ویزہ اتنی سی بات پر رو رہی ہو ” وہ سر جھٹک کر ایکدم اسکا ہاتھ تھام گیا
ساز دنگ رہ گئ اسنے ساز کا ہاتھ پکڑا اور اسے لیے باہر ا گیا
سب نے ان دونوں کو دیکھا تو کھانا کھانا بھول گئے کسی کو علم نہیں تھا اندر عمر بھی ہے
عمر سکون سے صوفے پر بیٹھا اور ٹانگ پر ٹانگ چڑھا لی
پاوں جھلانے لگا سب کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑے ساز کو اپنے پہلو میں بیٹھا لیا تھا
سب حیرانگی سے انھیں دیکھ رہے تھے ساز بار بار اٹھ جاتی کہ انکے گھر کا ماحول کب ایسا تھا
مجھے کھانا دیں” وہ بولا
تمھاری بیوی تمھارے ساتھ بیٹھی ہے اس سے مانگو” تایا جان ناگواری سے بولے
تو آپکی بیوی آپکے ساتھ کیوں بیٹھی ہے اس سے کہیں مجھے کھانا دے
میری بیوی نے بھی تو آپکی بیوی کے ہوتے ہوئے آپ لوگوں کو کھانا دیا ہے ۔۔۔
اسکی بات پر سب نے اسکی سمت دیکھا بدر اور نجما سمیت ساز بھی حیران بلکہ شاکڈ تھی
اچھا جلدی کریں بعد میں گھور لینا مجھے جانا بھی ہے” وہ بولا
جبکہ اسے مسکراتے ہوئے بدر کی پرواہ نہیں تھی نجما کی بھیگی آنکھوں کی بھی نہیں تھی نہ ہی اپنے باپ کی کھاتی ہوئ نظروں کی ۔۔
انھوں نے تائ کو اشارہ کیا جو اپنے شوہر کو گھورنے لگیں
اٹھ جاؤ ” وہ مدھم آواز میں بولے
میں میں دے دیتی ہوں” ساز پریشان سی ہوتی اٹھی
عمر نے اسکی سمت دیکھا
ٹھیک ہے سارا کھانا دوبارہ بناؤ جاؤ ” وہ ٹھیڑا تھا
اس بات کی گواہ اس وقت اسکی آنکھیں بتا رہیں تھیں جس میں سنجیدگی تھی
اور میرے لیے چائنیز بنانا ” اسنے پاوں جھلاتے ہوئے کہا
بدر کی مسکراہٹ سمٹ گئ نجما پریشان سی ہو گئ
شوق ہے نہ تو پورا کرو ” وہ سکون سے بول رہا تھا
ساز کنفیوز انگلیاں چٹخا رہی تھی اسنے ہاتھ بڑھا کر پھر اسے اپنے پہلو میں کھینچ لیا
اب بیچ میں مت بولنا ” اسنے ہلکی آواز میں کہا ساز سے نگاہ بھی نہیں اٹھ رہی تھی
تائ نے ان دونوں کو کھانا سرو کیا
عمر اب بھی پاوں جھلا رہا تھا
بیٹا ہے میرا کھانا میں ہی دوں گی نہ” تائ کھجالت مٹانے کو بولیں
عمر کے لبوں کی طنزیہ مسکان واضح تھی ۔
کھاؤ ” خود اسنے کھانے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا اس سے بولا
سب خاموشی سے کھا رہے تھے
ساز کو بھی کھانے کی جانب ہاتھ بڑھانا پڑا کہ اسے بھوک بہت تھی
عمر نے موبائل نکال لیا اور کسی کو مسیج ٹائپ کرنے لگا
ساز کھانا کھا رہی تھی بدر نے اسے مسکرا کر دیکھا اسکا دھیان کھانے پر تھا تائ کی غصیلی نظریں ثروت چچی اور سوہا کی بھی گواہ تھیں کہ وہ بعد میں اسے چھوڑنے والی نہیں
ارہم جبکہ دنگ تھا یہ ہوا کیا یے
یہ ساز عمر کے ساتھ بیٹھی ہے اور عمر اسے اپنی بیوی کہہ رہا ہے کیا چکر ہے یہ ” بلاخر وہ تلملا کر بولا
شادی ہو گئ ہے دونوں کی” تائ نے نفرت سے کھانا ہی چھوڑ دیا
کیا” ارہم کا بھی ہاتھ رک گیا ۔
سامنے ساز کو دیکھا
حور تھی وہ عام لباس میں بھی ایسی لگتی کہ کسی کا بھی دل ٹھہر جائے
اور عمر خیام وہ کسی سلطنت کا راجا لگتا تھا وہ دونوں بلاشبہ ایک دوسرے کے ساتھ پرفیکٹ تھے لیکن یہ کیوں ہوا تھا ارہم فکرمند ہو گیا تھا
اسے صوفیا پسند نہیں تھی اسے ساز میں دلچسپی تھی اسنے کھانا چھوڑا اور اٹھ گیا
دوسری طرف عمر بھی کھڑا ہو گیا
ہاں سعود ٹھیک ہے تم پہنچو میں آتا ہوں ” اسنے کہا
نہیں یار پیسوں کا کیا مسلہ ہے” وہ بولتا ہوا باہر نکل گیا
اسکی گاڑی کی آواز اس محلے کے چار گھروں کو بھی دور دور تک سنائی دیتی تھی
گاڑی باہر نکلی ارہم تو پہلے ہی جا چکا تھا بدر بھی اٹھ گیا اور چاچو بھی تایا جان بھی دانت صاف کرتے کمرے میں چلے گئے تو تائ جان اٹھیں اور ساز کا ہاتھ جکڑ لیا
زیادہ اچھلنے کی ضرورت نہیں ہے اس شرابی کی حمایت پر مجھ سے کھانا سرو کرایا تو نے اسے سنبھال کر رکھ ورنہ تیرے ٹکڑے کر دوں گی تجھے کیا لگتا ہے یہ مجھ سے تیری خدمات کرائے گا ہاں” تای جان نے کھینچ کھینچ کر تھپڑ لگا دیے تھے اسے
بھابھی” نجما تیزی سے اسکے پاس ائیں
ن۔۔نہیں تائ ۔۔تائ جان۔۔میں میں نے کچھ نہیں کہا تھا میں”
بہت یارانہ ہو گیا تیرا اس سے مجھے پتہ تھا آوارہ بدچلن ہے تو مردوں کو پھنسانا تو عام بات ہے آئندہ اگر اسنے مجھے کچھ کہا تو تیرا حشر بگاڑ دوں گی بدذات” وہ اسے صوفے پر دھکیل گئیں جبکہ ساز کو اندازا ہو گیا تھا اسکی اوقات اتنی ہی ہے
وہ صوفے پر ہی پڑی رونے لگی اور بہت زیادہ رو دی نجما اسے سنبھال رہی تھی وہ اٹھی اور اوپر بھاگ جاتی کہ پکڑی گئ
یہ تیرا باپ اٹھائے گا سب اٹھا اور برتن رات میں ہی دھولیں گے” وہ غرائیں تو ساز کو خود کو بے حس سمجھنا پڑا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
