Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 42

گھر چلنا ہے ؟ ۔۔۔
یہ چوتھی بار اسنے بس چھوٹے سے راستے میں پوچھ لیا تھا
جی عمر اور کہاں جائیں گے ” پہلے وہ سبحان کو دیکھ کر حیران تھی پھر اس بات پر اور حیران ہو گئ کہ وہ اس سے بات کرنے پہنچ گیا پھر عمر کو شرابی کہہ کر کے کتنا برا سا منہ بنا گیا تھا وہ دل ہی دل میں پریشان سی تھی
ہو سکتا ہے یہ اتفاقا ہو ۔۔۔۔
ہو سکتا دوبارہ کبھی سامنا نہ ہو اسنے بلاخر اپنے سر سے اتار کر اسکے سوال کا جواب دیا ۔
اچھا اگر بالفرض ہم گھر نہ جائیں تو ” وہ روڈ کی جانب دیکھتا پھر اسکی طرف دیکھتا بولا ۔
تو اور کہاں جائیں گے سڑکوں پر گھومنا ہے کیا ؟
اسکی آنکھوں میں نرمی اور محبت اتر آئی معلوم نہیں کیوں وہ ایسا تھا کہ دل کرتا تھا اس سے کھل کر محبت کی جائے اسے دیکھتے رہنا بھی ایک عجیب ہی محبت اور دیوانگی کا ثبوت تھا ۔
بس میرا دل نہیں کر رہا تمھارے تایا کے گھر جانے کا میرے گھر چلتے ہیں ” وہ بولا
عمر نہیں امی کو سب نے پریشان کر رکھا ہو گا وہ لوگ خود سے کام نہیں کرتے امی پھر سارے کام اکیلے کریں گی وہ بیمار ہو جائیں گی پہلے ہی میں شرمندہ ہوں میں بلاوجہ ادھر ادھر گھوم پھر رہی ہوں امی کا احساس ہی نہیں کر رہی ” وہ منہ بنا گئ
تم ذرا اپنی امی سے ملوانا مجھے میں بھی دیکھو کون ہیں وہ جن کا خیال مجھ سے زیادہ کیا جا رہا ہے میرے لیے تو کبھی ایسے جان نہ نکلی ۔۔۔ تمھاری بدتمیز ہو یار تم بہت ” وہ سر جھٹک گیا
اپکو کیا پتہ جب پولیس اپکو لے کر گئ تو واقعی جان نکل گئ کہ اس منظر کو نہ سہتے ہوئے بے ہوش ہو گئ تھی ” وہ سر جھکائے اہستگی سے بولی عمر نے اسکی جانب دیکھا ۔
ہلکا سا مسکرایا ۔۔۔۔۔۔۔
لیکن تمھیں سنبھالنا چاہیے خود کو ایسے بچوں والی حرکتیں وہ بھی میرے ساتھ رہتے ہوئے مجھے پریشان کرتی ہیں تم اگر بیوی ہو میری تو تمھارے اندر دس مردوں کی طاقت ہونی چاہیے ” وہ اسے مسکرا کر دیکھانے لگا
ساز کو بے ساختہ ہنسی ا گئ اور دونوں ایک دوسرے کو دیکھ ہنسنے لگے تھے
بہت برا جوک تھا ” ساز نے چہرہ موڑا
عمر بھی سر نفی میں ہلانے لگا ۔۔
چند لمہے دونوں کے مابین خاموشی سی پھیلی
عمر جیسے کسی گھیری سوچ میں تھا اور ساز کے قدم زمین کو ٹک نہیں رہے تھے اسنے کھڑکی کھولی اور تیز ٹھنڈی ہوا گاڑی کے اندر آنے لگی جس میں وہ ہاتھ باہر نکالے ہوا سے لطف لے رپی تھی
یہ کیا فضول حرکت ہے کوئی ہاتھ اتار کر لے گیا نہ ایک ہاتھ سے کرنا پھرا پنی ماں کی مدد ” اسنے اسے اندر کھینچا اور شیشہ بند کر دیا ۔
ساز نے منہ بنایا ۔
یہ تم نہ اوور ایکٹنگ کم کیا کرو۔۔۔۔
تمھیں پیسے نہیں ملتے اوور ایکٹنگ کے ایسے منہ بنائے گی بندے کا دل حلق میں آ جائے ” وہ بڑبڑایا
میں بور ہو رہی ہوں” وہ بتا گئ
عمر نے اسے موبائل نکال کر دیا
میں پکچرز کھینچتی ہوں” وہ ایکدم خوش ہو گئ اور ساز نے عمر کی تصویریں لینا شروع کر دیں وہ مسکراہٹ روکے اسکی آوٹ پٹانگ حرکتیں دیکھ رہا تھا ۔
آپ کتنے خوبصورت لگتے ہیں تصویروں میں ” وہ اداسی سے بولی
اب اس میں اداس ہونے والی کیا بات ہے “
میری تصویر اچھی نہیں اتی آپکی آتی ہے ” اسنے موبائل بند کر دیا
یا اللّٰہ ” عمر نے گھیرہ سانس بھرا اور گاڑی کو آٹومیٹک موڈ پر ڈال کر موبائل اس سے کھینچ کر کیمرہ اوپر کیا اور دونوں کے چہرے موبائل میں دکھ رہے تھے ۔
جیسے وہ ایک دوسرے کے لیے بنے ہوں ۔
عمر نے کلک لیا تھا ایک یاد محفوظ کر لی تھی ۔
اتنی تو اچھی ا رہی ہے “
جی نہیں سوہا نے کہا تھا شکل دیکھو اپنی سفید اٹا لگ رہا ہے اور براؤن لوگوں کی پکس اچھی آتی ہیں” وہ بولی
جبکہ عمر نے گھیرہ سانس لیا
یہ تو رائلٹی ہے کہ سکن ٹون جن کی لائیٹ ہوتی ہے انکی پکس زیادہ اچھی آتی ہے لیکن آپکی تو وائیٹ ہے ” وہ جواب پر جواب دیتی الجھتی جا رہی تھی
عمر کھل کر ہنسا
تم بہت خوبصورت ہو اور یہ بات ہر آنکھ مانتی ہے کیمرے کی آنکھ بھی ۔
ہمممم چلو ٹھیک ہو کر بیٹھو میں لیتا ہوں”
نہیں نہیں مجھے شرم آئے گی ۔
عمر یہ سب ویڈیو میں ریکارڈ کر رہا تھا
ہائے ساز ” عمر نے کیمرہ اسکے چہرے کی جانب کیا اور ساز کا چہرہ لال سرخ ہونے لگا وہ ہنستا ہی چلا گیا
یہ اسکی زندگی کا بہترین سفر تھا جسے وہ کبھی ختم نہیں کرنا چاہتا تھا اسنے سیو کی اور موبائل رکھ دیا ۔
ساز اب بھی چہرہ چھپائے ہوئے تھی اور اچانک ہی عمر نے جھٹکے سے گاڑی روک لی
گھیرہ سانس بھرا تھا ۔
شاید یہ ہنسی مسکراہٹ یہ دل کا زندہ ہونا یہیں تک تھا وہ یہیں تک محسوس کر سکتا تھا ۔
اسکے بعد کا سفر وہ کہانی میں سے اپنا کردار نکال کر تلخ کر دیتا لیکن یہ حقیقت تھی اور کچھ نہیں ۔
اوئے گھر ا گیا ” ساز خوش ہو گئ عمر اسکی خوشی خاموشی سے دیکھنے لگا وہ گاڑی سے اتری
رکو ” اسنے مڑ کر دیکھا ۔
عمر نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا
ساز کا ہاتھ اسکے ہاتھ میں ذرا کانپا جس پر اسنے قابو پایا
عمر نے اسے اپنی سمت کھینچا
عمر”
شش۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
اگر صرف لمہے اتنے ہی ہیں تو ایک بار میں تمھیں پوری شدت سے چھونا چاہتا ہوں ” اور کہتے ہی اسنے اپنے ہاتھوں کے پیالے میں اسکا چہرہ بھرا اور اسکے ہونٹوں کو خود میں پیوست کرتا وہ اسکی سانسوں کو اپنا غلام بنا چکا تھا
ساز کی آنکھیں خود با خود بند ہوتی چلی گئیں اور عمر نے جیسے ساری شدت ایک ساتھ ہی لٹا دی
ساز اسکی اس عجیب شدت پر پریشان سی ہو گئ
اسکی سانسیں الجھنے لگی تھی جبکہ عمر خود میں بھینچے اسے کسی پیاسے کو ملنے والا عرصے بعد پانی کیطرح خود میں اتار رہا تھا
ایم سوری ” اور اپنی مرضی سے اسکے ہونٹوں کے کنارے سے نکلتے خون کو اسنے صاف کیا اور دونوں کی سانسیں پھول گئیں
بھول جانا سب کچھ ہر چیز جو کچھ ہمارے بیچ ہوا
ک۔۔کیوں۔”
کیونکہ یہ ہی ہونا تھا “
اہستگی سے کہہ کر اسکا گال تھپتھپا کر وہ خود پہلے نکل گیا
ساز نے سامنے پڑا ٹشو پیپر اٹھا کر لبوں کے کنارے صاف کیے اور خود بھی اسکے پیچھے پیچھے ا گئ
رات گھیری تھی وہ سیدھا اوپر چل گیا
باقی سب بھی سونے میں مصروف تھے
وہ امی کو ایک نظر دیکھ کر خود بھی اسکے پیچھے ا گئ وہ اپنی بوٹلز اٹھا رہا تھا
ساز کا دل کی اسے روک دے وہ مان لے گا شاید
نہ پیئیں” وہ جھجھکتی ہوئی اس سے بولی ۔
وہ مسکرایا
تمھیں پتہ ہے ساز شرابی بدلتا نہیں ہے میری بس اتنی بات یاد رکھنا
تم کہہ سکتی ہو میں سانپ ہوں یہ جو مرضی ۔
میں نہ ہی بدلو گا اور نہ ہی کسی کو خود کو بدلنے دوں گا ۔
میرے کندھوں پر رویوں کا اتنا بوجھ ہے کہ میں خوش بھی ہوتا ہوں تب بھی میرے اندر سے ایک آواز اٹھتی ہے کہ تم خوش کیوں ہو تم میرے لیے اپنے آپ کو ہلکان نہ کرو سو جاؤ اور بار بار نہیں کہوں گا ” سنجیدگی سے کہہ کر وہ صوفے پر بیٹھ گیا
تم بیڈ پر سو سکتی ہو اگر سونے کا اردہ نہیں ” وہ کہہ کر گلاس میں انڈیلتا اور ایک باری میں ادھا گلاس چڑھا گیا اور اسے لگا کہ شراب نے اسے حقیقت میں لاپٹخا
ساز کے سر پر سے یہ گفتگو گزر رہی تھی وہ کیا کہہ رہا تھا کیا تھا سمجھ نہیں ائی
اسنے وضو کیا اور جائے نماز بچھا کر اسکے لیے دعا کرنے لگی
عمر سر جھٹک کر بالکنی میں چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح وہ ساز سے پہلے اٹھ گیا تھا اسنے ایک لمہے کے لیے انکھ بند نہیں کی تھی تبھی اس پر نشہ ابھی سوار ہی تھا ۔
جبکہ اسنے شاور بھی لیا تھا اور اپنے کپڑے بیگ میں ٹھونسنے لگا اور اچانک اسکا پاوں ٹیبل سے ٹکرایا تو گرتے گرتے بچا اور تبھی ساز بھی جاگ گئ ۔
اسنے سنبھل کر اپنا بیگ بند کیا
نیچے سب جاگ گئے تھے وہ گھر میں پھیلی ہل چل سے گھبرا کر اٹھی ۔۔ اور سامنے عمر کو بیگ باندھتے دیکھ اسنے ذرا حیرانگی سے اسکی سمت دیکھا
آپ کہیں جا رہے ہیں ” وہ بولی
ہاں ” ایک لفظی جواب
کہاں۔” وہ ذرا تیزی سے اٹھی
انہونی دل میں کھٹکنے لگی
جہاں سے آیا تھا وہاں یہ پھر تائی لینڈ یہ پھر ملیشیا امریکہ جہاں دنیا میں میرے لیے جگہ ہو گی ” وہ بولا اور بیگ اٹھا لیا
کیا مطلب عمر میرا دل بیٹھ رہا ہے “
اپنے دل کو ۔۔۔ میرے دل سے لگانے کی ضرورت ہی کیا تھی جو اب بیٹھ گیا ہے ” وہ لاہروہی سے بولا ۔
آپ کیا کہہ رہے ہیں” اسکی آنکھیں بھیگ گئ اور آگے بڑھ کر اسنے عمر کے بازو تھام لیے
عمر کیا ہو گیا ہے ” وہ پیار سے بولی تھی عمر نے اسکے ہاتھ جھٹکے ۔
میں جا رہا ہوں میں نے یہاں ہمیشہ نہیں رہنا تھا
اپنا خیال رکھنا اس دراز میں کارڈ ہے جب جہاں جیسے تمھیں جس چیز کی ضرورت ہو تم وہاں سے پیسے خرچ کر لینا ۔
بہت جلد تمھیں آزاد کر دوں گا ” وہ بولا ساز کی آنکھوں میں ڈھیروں پانی بھر گیا ۔۔ وہ شاکڈ تھی اتنی حیران کہ ایسا لگا جیسے دل کی دھڑکنیں بس ابھی بند ہو جائیں گی
وہ شاکڈ کھڑی رہ گئ اور وہ پہلو سے گزر گیا ۔
بے ساختہ وہ بیڈ پر دھپ سے گیری ۔
کچھ سمجھ نہیں آیا ہو کیا رہا تھا اسکے اردگرد ۔
وہ اٹھی اور اس سے پہلے وہ دروازے سے نکلتا وہ اسکے سامنے آ گئ
اپکو مجھ سے محبت نہیں ہے ” بہت ہمت اور حوصلے سے یہ سوال کیا تھا اسنے جیسے اپنے جسم کی تمام طاقت اس ایک سوال پر سرو کر دی ہو جس کا جواب سننا بھی نہ چاہتی ہو لیکن سوال پھر بھی کر دیا تھا ۔
بتائیں عمر ” وہ جھنجھلا اٹھی اسکے انسو تیزی سے بہنے لگے تھے
نہیں مجھے تم سے محبت نہیں ہے اور میں نے تمھیں نہیں کہا تھا مجھ سے محبت کرو ” وہ سفاکی سے بولا
تو تو وہ سب ” وہ جیسے انکے درمیان کچھ اچھے لمہوں کو یاد کرنے لگی عمر نے ایک نظر دیکھا
کہا تھا نہ بھول جاؤ ” وہ سختی سے بولا
میں کھلونا نہیں ہوں” وہ چیخنا چاہتی تھی ۔
شکر مناؤ کھلونا سمجھا بھی نہیں تمھیں اپنے آپ کو مجھ پر تھکاو مت ساز ۔۔” وہ اسے پیچھے کرتا باہر نکلا ساز اسے حیرانگی سے دیکھنے لگی خوشیاں ٹھیک سے اسکے دروازے پر آئیں ہیں کب تھیں جو جا رہی تھیں
وہ سامان لیے نیچے اتر گیا
دل کیا بھاگ کر روک لے اسکے پاوں میں پڑ جائے وہ نہیں کرتا تھا محبت لیکن وہ تو کرتی تھی نہ پھر وہ ایسے سفاک کیوں ہو رہا ہے وہ تو سب جانتا ہے ایسا کیا ہو ہے جو وہ ایسا کر رہا ہے
وہ دروازے سے نکلتا کہ اشفاق صاحب کی آواز پر قدم رک گئے
کہاں جا رہے ہو ” وہ آج اسی کی بیل کے لیے جا رہے تھے لیکن اسے گھر سے جاتے دیکھ کچھ حیرانگی سے پوچھنے لگے
جہاں سے آیا تھا کیونکہ مجھے علم ہے جو مجھے چاہیے وہ آپکے پاس نہیں آپکے پاس وہ ڈائری نہیں ہے مجھے پتہ ہے اور میرا یہاں کام نہیں ہے ” ترچھی نگاہوں سے دیکھتا وہ آگے بڑھنے لگا
کیا بکواس ہے بیوی ہے یہاں تمھاری ایسے کیسے منہ اٹھا کر اپنے نام پر بیٹھا کر نکل سکتے ہو تم ” انھیں ساز کی ایک پرسنٹ بھی پرواہ نہیں تھی انھیں پرواہ اپنے جاتے ہوئے ان بلینک چیکوں ان پیسوں کی تھی جو وہ اس سے نکلوانے رہے تھے لیکن نشانہ ساز کو بنایا تھا
طلاق دے دوں” اسکے الفاظ ساز پر جیسے تیزاب کی طرح گیرے تھے آنکھوں میں شناسائی سی جاتی رہی ۔
بتائیں دے دوں کیا سمجھا ہے آپ نے مجھے ۔۔۔ جب چاہا کسی سے بھی اٹھوا کر شادی کروا دی اور سمجھ لیا عمر بندھ گیا
کیا ہیں اپ مجھے سمھجہ کیوں نہیں آتا لیکن مزے داری والی بات تو یہ ہے ” وہ آنکھ آنکھوں میں آنکھیں ڈالے مسکرا رہا تھا
اپکو بھی سمجھ نہیں ارہا میں کیا ہوں سب تو ٹھیک ہی تھا پھر اب کیا ہو گیا تو مائے ڈیٹ ڈیڈ سب آپکی نظر میں ٹھیک تھا ۔
میری نہیں ” وہ طنزیہ مسکرایا ۔
تم یہ صرف مجھے تکلیف دینے کے لیے کر رہے ہو ” اشفاق صاحب سمجھ رہے تھے وہ چین سے کبھی بیٹھے گا نہیں ۔۔
ہاہا وہ طنزیہ ہنسا دیا ۔
میرے جانے یہ نہ جانے سے تکلیف کا آپ سے کوئی تعلق نہیں تو ایسا کچھ نہیں ہے خوش فہمیاں نہ پالیں”
وہ انکا کاندھا تھپتھپا کر وہاں سے جانے لگا ان لوگوں کے اردگرد رفتہ رفتہ سب ہی جما ہونے لگے تھے بدر حونک تھا جبکہ نجما فورا ساز کے پاس گئ تھی سوہا بھی حیران تھی ہاں ٹھیک ہے اسے ساز پسند نہیں تھی مگر عمر سے اس حرکت کی امید بھی نہیں تھی ۔
سوائے تائی جان اور ثروت چچی اور ارہم کے کسی کو کوئی خوشی نہیں تھی سب حیران تھے
ایزہ گھر سے بھاگی تھی ؟
بس اتنا ہی سوال کیا تھا اسنے اور باپ کی آنکھوں میں دیکھا وہ فورا نگاہ چرا گئے
ہاں اس بد بخت کا نام میرے سامنے مت لینا ” وہ بھڑک اٹھے
ہممممم بد بخت بے غیرت ” وہ سر جھٹک کر باہر نکلنے لگا
تم پاگل ہو گئے ہو گھر میں جو تمھارے نام سے پڑی ہے اسے کہاں لے کر جاو گا میں “
میں آزاد کر دوں گا “
عمر۔” بدر نے جھٹکے سے اسکا گریبان جکڑ لیا
عمر نے ناگواری سے اسے دیکھا
میری بہن ہے وہ تم ایسا کیسے کر سکتے ہو ” وہ چلا اٹھا
عمر نے اسے جواب نہیں دیا اور اسکے ہاتھ جھٹک دیے اور وہاں سے نکل گیا
عمر عمر” وہ دھاڑا مگر اسنے جواب نہیں دیا اور شاید زندگی بھر میں اسے اپنے کسی فیصلے کا کبھی افسوس نہیں ہوا تھا جتنا اس فیصلے کا تھا اسنے ایک نظر گاڑی کی جانب دیکھی اور گاڑی میں سوار ہونے لگا اور اسکا دل جیسے کئ ٹکڑوں میں بٹ گیا اس معصوم لڑکی کے ساتھ اسنے زیادتی کی تھی وہ بھاگ کر باہر ہی ا رہی تھی اسنے گاڑی کو ٹرن لیا
ایک لالچی باپ اور کئ جھوٹے اور سوتیلے رشتے وہاں کھڑے ہونے لگے تھے لیکن ان میں سے وہ کسی ایک کا دل توڑ کر جا رہا تھا اسکی گاڑی زن سے آگے بڑھ گئ اور وہاں سب دیکھتے رہ گئے بدر فورا بہن کی جانب بڑھا
ساز ” اسنے اسے جھنجھوڑا جو پتھر کی بنی کھڑی تھی
بھائی یہ سب ” وہ جیسے اب تک کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی
ہونا ہی تھا جب تک ہواؤں میں اڑنا تھا تم نے آخر کو زمین پر پٹخا ہی جانا تھا چلو خیر صبح کا بھولا گھر لوٹ آئے تو اسے بھولا تھوڑی کہتے ہاہا ” ثروت چچی نے باقائدہ نفرت کا اظہار کیا اور اندر چلی گئیں اور دوسری طرف تائی منہ پر ہاتھ رکھے ہنسنے لگی ۔
نہ سہاگن بنی نہ کنواری رہی ” انکے الفاظ کافی تلخ تھے وہ لوگ اندر چلے گئے
نہ بدر کچھ بولا نہ ہی ساز اس میں ہمتیں ختم تھیں
امی پلیز یار ” سوہا ذرا جھنجھلاتی ہوئی ماں کو ٹوک گئ
ہیں تو اب اس کی حمایت لے گی” تائی جان نے ائ برو اچکا کر دیکھا
میں کسی کی حمایت نہیں لے رہی میں اس نیچ حرکت پر حیران ہوں جو اسنے کی ہے “
اچھا ہی کیا ہے عمر خیام تھا دوگلی عورت کا بیٹا ۔
ان کے دلوں میں وفا ہوتی تو کیا ہی بات تھی ” وہ سر جھٹک گئیں
اصل تو اسپر حیرانگی ہے شرابی سے محبت کے پینگے بڑھا رہی تھی”
وہ کھل کر ہنسی تھی ۔
امی ” سوہا نے ماں کی جانب دیکھا
تو بن جا ان کی حمایتی “
وہ چیڑ کر بولیں بدر ساز اور نجما بدر کے کمرے میں چلے گئے تھے
معلوم نہیں کیوں سوہا کو اچھا نہیں لگ رہا تھا بلکل ایسا نہیں تھا اسے ساز سے ہمدردی ہو رہی تھی لیکن پھر بھی اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا لمہہ بھر کے لیے جب اسے یہ محسوس ہو کہ بدر کسی اور کا ہے تو اسکے جذبات کیا تھے
آج بس ایک لڑکی کے جذبات کی حیثیت سے وہ ساز کے ساتھ ہوئی اس حرکت پر افسوس کر رہی تھی اور وہ ہی کیا ۔۔۔
صنم اور صوفیا بھی تو کھڑی تھیں وہیں ۔
ارہم تو مسکرا کر کب کا جا چکا تھا
اشفاق صاحب لاونج میں سر تھامے بیٹھے تھے پیسہ نہیں ڈلے گا دوکان کیسے چلے گی جبکہ بدر کا تو یوں تھا کہ آہستہ آہستہ وہ اوپر چڑھنے لگا ہوا ایک ایک قدم پھونک پھونک کر رکھتا وہ اپنا کام بنا رہا تھا ۔
اشفاق صاحب کو لگا دماغ کی رگیں پھٹ جائیں گی وہ اٹھ کر کمرے میں چلے گئے
سوہا بار بار اپنے کمرے کے دروازے کی جانب دیکھتی اور پھر پانی کا گلاس لے کر وہ اندر چلی گئ
ساز کے رونے کی آواز باہر تک ا رہی تھی صوفیا اور صنم بھی ا گئیں تھیں یہ ویسا افسوس تھا جیسا اس دن ہوا تھا کہ ساز کی شادی ایک شرابی سے ہو گئ ہے بس اسی طرح کا افسوس تھا لیکن اب اس افسوس میں سوہا بھی شامل ہو گئ تھی ۔
وہ تینوں پہلی بار کھڑی ہوئی تھی اندر داخل ہوئیں ۔
تو وہ جیسے بن پانی ہی مچھلی کیطرح تڑپ رہی تھی
بھائی میں کیا کروں گی اب ” وہ بدر کا چہرہ پکڑے سوال کر رہی تھی
اسپر تو طعنوں کی بوچھار ابھی سے شروع ہو گئ تھی
بدر اسے تھامے بیٹھا تھا نجما ایک طرف بیٹھی رو رہی تھی سوہا نے ساز کے اگے پانی کا گلاس بڑھایا ۔
پی لو وہ واپس ا جائے گا انشاءاللہ ” وہ آہستگی سے بولی
غلام نہیں ہے میری بہن اسکی جب چاہے ا جائے جب چاہے چلا جائے خلع اب میں خود لوں گا ” وہ سختی سے بولا ساز نے سر اٹھا کر بھائی کی جانب دیکھا
ہاں ایسا ہی ہو گا “
نخوت سے بولتا وہ بہن کو سینے میں بھینچ گیا جبکہ وہ بری طرح رو دی پھوٹ پھوٹ کر بہت کہ سب کی آنکھیں بھیگ گئیں تھیں اسکا قصور کیا تھا وہ اتنا بتا کر چلا جاتا ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی روک کر وہ باہر نکلا اور چوکیدار کو تو اس سے چیڑ ہو گئ تھی عین دروازے کے بیچ میں گاڑی روکتا تھا ۔
وہ جمپ لگا کر نکلا اور سیدھا اندر بڑھا
صاحب گاڑی کی چابی دے دیں یا گاڑی سائیڈ پر لگا دوں ” بلاخر وہ بول ہی اٹھا
کیوں” اسنے سیدھا سوال کیا
میری گاڑی میں جہاں مرضی پارک کروں “
بڑے صاحب غصہ کریں گے تمھارے بڑے صاحب کے دانت توڑ کر ہتھیلی پر سجا دوں گا ” گھور کر کہتا وہ اندر بڑھا ۔
اور لون میں ہی رک گیا
ایزہ اکیلے تھی لون میں ہی تھی ایکدم نگاہ اسپر گئ تو دوڑ کر اسکے پاس آئی اور اسکے سینے سے لگ گئ
کسی ایک جان کا دل دکھا کر آیا تھا اور دوسری کو تکلیف دینا نہیں چاہ رہا تھا
کیسے ہیں اپ بھائی ” وہ مسکرا کر سوال کر رہی تھی
تمھارا شوہر کہاں ہے ” وہ غور سے اسے دیکھتا پوچھنے لگا
شاہ ” وہ پر سوچ ہوئی
پتہ نہیں کچھ صبح گئے تھے” وہ لاعلم تھی
اپنے شوہر کو کال ملاو پرائمنیسٹر ہے میں جب آتا ہوں گھر پر نہیں ہوتا “
جب سے زمیر نے بتایا تھا کہ شاہ نے ایزہ کو بڑی طرح مارا ہے تب سے اسکی کیفیت بدل گئ تھی لاپرواہی کی جگہ جیسے اس تکلیف نے لے لی جو اسنے اپنا سارا بچپن دیکھ کر گزار دی
اگر اسے کسی بات سے خوف آتا تھا تو وہ یہ ہی تھا کہ اسکے رشتوں کو یہ پھر دنیا کی سب سے معصوم مخلوق کو مارا پیٹا نہ جائے
بحال ایک لڑکی یہ عورت اتنی طاقت رکھتی ہے کہ مرد کہ وحشی پن سے جان بچا لے ۔
اسکے ہاتھ کو پکڑ کر وہیں سے توڑ دے ۔
نہیں شاید کبھی نہیں رکھتی
بھائی وہ ” ایزہ حیران ہوئی
تم نمبر ملا رہی ہو یہ پھر میں اس تک پہنچو “
نہیں نہیں آپ کہیں مت جائیے گا “
وہ دونوں بازو پکڑ گئ تھی اسکے شاہ کا نمبر ڈائل کیا ۔
ہممممم “
مصروف ہوں تم نے سہی بچوں کیطرح تنگ کیا ہوا ہے مجھے ” اسکی طبعیت پہلے ہی خراب تھی
اور ایزہ بار بار فون کر رہی تھی آواز بھاری ہونے کی وجہ سے عمر پہچان نہ سکا
گلے کی خرابی شاہنواز کو بچا گئ تھی
اوووو مصروف بات سن میری ” شاہنواز ایکدم تھم گیا
اسنے عجلت میں فون نمبر چیک کیا ۔
کہیں وہ پہچان تو نہیں گیا
فکر اسکے چہرے سے عیاں تھی ۔
بہن ہے میری اور میں قسم کھا کر کہتا ہوں دوبارہ تم نے ایزہ پر ہاتھ اٹھایا خدا کی قسم وہ ہی ہاتھ جڑ سے نکال دوں گا لاوارث نہیں ہے یہ ” شاہنواز کی ہمت تھی وہ آگے کچھ بولتا ۔
بھائی ” ایزہ کو فکر ستا رہی تھی بھلا شاہنواز اتنی کسی کی برداشت کر لیتا وہ کسی کو بھی آسانی سے ختم کرا سکتا تھا
دوسری طرف سے جواب نہیں ملا تو عمر نے خود ہی فون بند کر دیا
میرے ساتھ چلو تم دونوں چلتے ہیں یہاں سے دور “
وہ جانتی تھی وہ نہیں لے جائے گا لیکن اسکے یہ لفظ جیسے اسے کسی نعمت کیطرح لگے وہ مسکرا اٹھی اور اسکے سینے سے لگ گئ ۔
آپ مجھے بس چند گھڑیاں دے دیں میرے لیے وہ ہی سب کچھ ہے” وہ بولی
عمر نے گھیرہ سانس بھرا اسکے چہرے میں بار بار ساز دکھ رہی تھی
وہ جھولے میں بیٹھ گیا وہ بھی اسکا ہاتھ پکڑ کر بیٹھ گئ
جا رہا ہوں میں یہاں سے “
کہاں ” ایزہ حیرانگی سے اسکی جانب دیکھنے لگی
جہاں دنیا میں جگہ ملے گی ” وہ شانے اچکا گیا
اچھا ” وہ اداسی ہو گئ
تم اداس کیوں ہوئی ” اسے لگتا تھا صرف ساز اسکے لیے اداس ہوتی ہے پھر ایزہ کیوں ہوئی ۔
کیونکہ مجھے برسوں بعد کوئ اپنا ملا تھا ” وہ ہلکا سا مسکرائی
ایک ٹوٹے پھوٹے شرابی کا سہارا مت لینا ایزہ
آج میں تمھارے لیے بول رہا ہوں کل کچھ نہ بولوں ” وہ شانے اچکا گیا
اپکو یقین ا گیا کیا کہ میں غلط نہیں تھی” اس نے اس سے سوال کیا تھا
معلوم نہیں بس جانے سے پہلے تم سے ملنا چاہتا تھا ” اسنے کہا
میں سچ میں نہیں بھاگی تھی
مجھے جاننا نہیں “
پلیز جاننے کی کوشش تو کریں”
جھوٹ ہی ہے سب باپ جھوٹ بول کر اپنے گھر لے گیا معلوم نہیں تم جھوٹی ہو یا نہیں میرے ارد گرد ایزہ اتنا جھوٹ ہے کہ شاید جو سچا ہے میں اسے بھی نہیں پہچان پاتا خیر “
وہ کھڑا ہو گیا
خیال رکھنا اپنا ” بس اتنا کہا اور سیدھا چل دیا
بھائی ” اسکی پکار پر رکا مڑ کر دیکھا
آنکھوں میں کسی بات کا دکھ ہے اپکی “
ہاں کسی معصوم کا دل دکھا دیا ” اسنے کہا ایزہ خاموشی ہو گئ اور وہ باہر نکل گیا ۔
گاڑی میں سوار ہوا اور ائیر پورٹ کی جانب بڑھ گیا
کیوں لوٹنا مشکل لگ رہا تھا اسے اس وقت یہ سب کرنا
اسنے ائیر پورٹ کے باہر گاڑی روکی اور نکلتا کہ شاہنواز کا فون دیکھ کر اسنے کال پک کی
کیسے ہو یار کہاں ہو ” فریش کرنے کی پوری کوشش تھی ۔۔ اسنے آواز کو سنبھالا تھا عمر اگر اپنی ذہنی الجھن میں نہ ہوتا تو اسکی اس چوک کو پکڑ چکا ہوتا ۔
پاکستان سے باہر جا رہا ہوں اور ٹھیک نہیں ہوں” معلوم نہیں کیوں اسکے سامنے بچہ سا بن جاتا تھا وہ منہ بنائے ہوئے بولا
کیا ہوا ہے عمر ” وہ تو جگہ سے کھڑا ہو گیا ۔
بس مجھے خود بھی نہیں پتہ بس سب سے دور جانا ہے مجھے”
ساز سے جھگڑا ہوا ہے۔”
وہ جھگڑتی نہیں ” وہ ہلکا سا مسکرایا
پھر “
پھ کچھ نہیں بائے
فون بند کیا اور کانوں میں ائیر پورٹس لگا لیے تاکہ اسے کسی کی آواز نہ آئے اتنا ہنگامہ اتنا شور ہو جائے اور وہ دوبئی کہ لیے فلائے کر گیا وہاں سے سیدھا تھائی لینڈ کے لیے فلائے کرنا تھا اسنے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے