Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 36
No Download Link
Rate this Novel
Episode 36
ابھی کچھ دیر پہلے اسنے کھانا گرم کرایا تھا عمر نے دروازے میں لات ماری اور غصے سے دوبارہ اندر ا گیا
وہ اب بھی وہیں بیٹھی تھی
سردی لگ جائے گی اٹھو وہاں سے اسنے ساز کا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا اور اٹھتے ساتھ ہی ساز نے اسکی گردن میں اپنے دونوں بازو حائل کئے اور اسکے سینے سے لگ گئ
عمر ایک لمہے کے لیے ٹہر گیا جبکہ ساز کی انگلیوں کی گردش جو کہ وہ بخوبی جانتا تھا نشے کی وجہ سے ہو رہا ہے کیونکہ اگر وہ نشے میں نہ ہوتی تو عمر کے اتنے قریب تو وہ اتنے عرصے میں پٹخی بھی نہیں تھی آنکھوں میں محبت کا جو طوفان تھا عمر دیکھ سکتا تھا اور اس طوفان کی آمد کو وہ خاموشی سے کھڑا دیکھ رہا تھا
اس طوفان کو لانے والا بھی وہ خود تھا
آپ ۔۔۔ آپ اچھے ہیں ” وہ اسکی انکھوں سے نشے میں بھی آنکھیں چرا گئ عمر دانت پر دانٹ چڑھا گیا
اسنے آنکھوں پر ہاتھ رکھا اور اسکی جانب پھر سے دیکھا جس نے اسکے شانے پر سر رکھ لیا تھا
عم۔۔عمر “
آپ بہت اچھے ہیں آپ ۔۔۔۔ اپ اچھے لگتے ہیں مجھے ۔۔۔ آپ مجھے پہلے اچھے نہیں لگتے تھے پھر آپ مجھے تھوڑے تھوڑے اچھے لگے اور اب پورے اچھے لگ گئے ہیں” وہ منہ بنا کر بولی
عمر سنجیدگی سے سنتا رہا اسنے ارد گرد دیکھا
یہ اسکا قصور نہیں تھا ایسا الجھایا تھا اسے اپنی باتوں میں کہ وہ پھنس گئ تھی اور ریزلٹ یہ ہی ہونا تھا پھر سے کیوں سمجھ نہیں ا رہی تھی کہ نتیجہ اچھا نہیں
عمر” وہ اسے جھنجھوڑ گئ
کیاعمر عمر ۔۔۔۔۔ ہٹو یہاں سے بیوقوف لڑکی ہو تم تمھیں شراب اور پانی کا فرق نہیں پتہ” وہ غصے سے بولا ۔
آپ ڈانٹ رہے ہیں” وہ آنکھیں جھپکنے لگی
یہ یہ جو تم اداکاری کر رہی ہو اور ۔۔۔ اور یہ تم نے دوپٹہ کیوں اتارا ہے ساز ایک جھانپڑ کھاؤ گی مجھ سے ” وہ بھڑک کر اسپر دوپٹہ اوڑھ گیا
مجھے نہیں لینا دوپٹہ مجھے گرمی لگ رہی ہے اتنی تیز دھوپ میں دوپٹہ کون لیتا ہے اپ اپ لڑکے دنیا میں مزے کرتے ہیں ہم لڑکیوں تو گھٹ گھٹ کر مرنے آئی ہیں پانچ گز کا سوٹ پہنو اور دو گز کا دوپٹہ آپ چاہتے کیا ہیں مر جاؤ ” وہ بھنائی
عمر کو بے ساختہ اسکے چھیڑنے پر ہنسی ا گئ جبکہ وہ اس موڈ میں نہیں تھا فکرمند ہو گیا تھا
ہنس لیں ڈانٹتے ہیں ہنستے ہیں باہر جانا ہے مجھے” وہ ضدی لہجے میں بولی
باہر سردی ہے” وہ مسکراہٹ روک گیا
آپ اندھے ہیں “
ہاں میں اندھا ہوں اور نشے میں بھی میں ہوں” اسنے کہا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر واشروم میں پھر سے لے جانے لگا
مجھے نہیں اتارنا نشہ” وہ اپنا ہاتھ چھڑا کر بولی
دیکھ لو ” وہ وارن کرنے لگا
دیکھ لیا ” وہ خوش ہو گئ
ٹھیک ہے پھر مجھے مت کہنا کہ میں نے کیا ہے یہ صبح تیزاب سے غرارے بھی خود ہی کرو گی ” وہ شانے اچکا گیا اور صوفے پر بیٹھ گیا ساز اسکے سامنے کھڑی تھی ۔
ساز نے اپنے ریشمی بالوں کی چوٹیاں کھولنی شروع کی
ساز ” عمر حیرانگی سے آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے گا
یہ کیا کر رہی ہو “
مجھے نہ اپنے بال کھولنے کا بہت شوق ہے لیکن کوئی گھر میں کھولنے ہی نہیں دیتا میں کھول رہی ہوں تائی جان چڑیل ہیں نہ ” وہ مصروف سی بولی عمر نے نگاہ پھیر لی
اسکے لمبے بال آبشار کی طرح پھیل گئے
ریشم سے بھی زیادہ نرم و ملائم لگ رہے تھے عمر نے مٹھیاں بھینچ لیں
اچھے لگ رہے ہیں نہ ” وہ گھوم گھوم کر اسے دیکھانے لگی
عمر کو لگا ہیٹر تیز ہو گیا ہے اسنے ریموٹ تلاشنا چاہا
آپ مجھے نہیں دیکھ رہے ” وہ منہ بنا کرا سکا چہرہ اپنی طرف موڑتی بولی
دیکھ رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ تم صبح یہ سب یاد کر کے یقینا دو سالوں کے قیدیوں کے پانی کا انتظام کر کے جاؤ گی ” وہ بولا اور اچانک ساز اسکی گود میں بیٹھ گئ
عمر ایکدم چونکا وہی ریشمی بالوں جن کو چھونے کی خواہش میں اسنے خود کو روکا وہ اب اسکے ہاتھوں میں خود با خود تھی
یہ کیسی خوشبو تھی جو اسکے اردگرد سے اٹھ رہی تھی یہ بس عمر کو محسوس ہو رہی تھی
وہ اسکی گود میں بیٹھی تھی جیسے صوفے پر بیٹھی ہو ٹانگیں چڑھا کر اسکی گردن میں بازو ڈالے ۔۔۔
وہ سکون سے بیٹھ گئ
اب آپ نے صرف مجھے دیکھنا ہے ” وہ اسکے چہرے کو غور سے دیکھنے لگی
مجھے اکسانا بند کروں پشتاؤ گی پھر تم ” وہ بھڑک کر اسے دور کرنے لگا
اپکو کیا ہے ” ساز نے اسکے گال پر ہلکا سا تھپڑ مار دیا
اپکو چاہیے آپ مجھ سے پیار سے پیش آئیں
وہ نہ ایک دن میں نے نہ کچھ دیکھا تھا ” وہ شرمائی شرمائی سی بولی
کیا ” عمر حیران ہوا وہ باتیں اگل رہی تھی تبھی وہ متوجہ ہوا اور اسکی کمر میں ہاتھ بھی ڈال کر اسے مزید قریب کر لیا ۔
کیا دیکھا تھا “
وہ ارہم بھائی لون میں نہ ایک مووی دیکھ رہے تھے تو وہ ” اسکے گال سرخ ہوئے
کیا وہ ” عمر نے تیوری چڑھائی
تو اسنے میں ۔۔۔ میں نے دیکھ لیا تھا کہ ہیرو ہیروئین سے بہت سارا پیار کیسے کرتا ہے ” وہ جلدی سے دونوں ہاتھ منہ پر رکھ گئ
معلوم نہیں کیوں عمر کو شدت سے غصہ آیا دل کیا ارہم کے تو کھینچ کھینچ کر دو چار اور لگا دے
گھر میں ایسی چیزیں دیکھنے کا مقصد اب کسی کا معصوم ذہن وہ خراب کر چکا تھا
ہاں عمر خیام ابو بن جاؤ اب تم خود بڑے اچھے ہو ” اسکے دل نے ایکدم کہا جبکہ وہ اپنے دل کو بھی گھور گیا کہ وہ اتنے غصے میں تھا ساز تو بہت معصوم سی تھی اسے ان چیزوں کی کیا خبر
بہت اچھی بات ہے شرم نہیں آتی ” وہ بولا
آتی ہے ” وہ شرمندہ ہو گئ پلکیں جھکا گئیں اتنی بڑی بڑی پلکیں اور اسکا نرمائ کا احساس لیے چہرہ اسکے بے حد نزدیک تھا ۔
ہاں تو نہیں دیکھنا آئندہ ایسا کچھ “
لیکن اس دن آپ بھی دیکھ رہے تھے ” اسنے وہ دن یاد دلایا
بڑا تیز دماغ ہے میں دیکھ سکتا ہوں تم نہیں دیکھو گی مجھ سے ایک تھپڑ کھاؤ گی آئندہ فضول بولی ” وہ گھور گیا اسکا ضمیر اسے طعنے مار رہا تھا جنھیں وہ اگنور کر گیا
ٹھیک ہی مگر امی نے بتایا تھا کہ پیار تو ہوتا ہے “
کون ہے تمھاری امی پوچھتا ہوں آج جا کر ان سے ” وہ چیڑ گیا
آپ غصہ کر لیں ” وہ بھی غصے سے اٹھ گئ
اور عمر کو جو ابھی کچھ دیر پہلے اپنائیت کا احساس تھا وہ جاتا رہا ایسا لگا اسے نہیں جانا چاہیے اسکی قربت میں سے “
اسنے دوبارہ کھینچ کر اسے وہیں بیٹھا لیا اسے طریقے سے ۔
غصہ نہیں کر رہا روک رہا ہوں خود کو تم بیوقوف ہو اور میں نہیں چاہتا تم صبح پشتاؤ ” اسکے چہرے کی نرمی کو اپنی انگلیوں کے پور سے چھوتے وہ کہہ گیا
اتنے نرم تھے اسکے گال کہ عمر کا دل کیا بار بار چھوئے ساز کی بہکی بہکی نگاہیں اور بکھرے ہوئے بال
تمھیں مجھ سے محبت نہیں کرنی چاہیے تھی ان ساری باتوں میں بس یہ بات بڑی ہے ساز میں تمھیں محبت نہیں دے سکتا نہ ہی تم سے کر سکتا ہوں ” اسکے چہرے پر اپنی انگلی سے سطر بناتے وہ اسکی انکھوں کو مزید بہکا رہا تھا جبکہ اسکی آنکھوں کے خمار کو دیکھ کر نشہ سا دماغ میں اترتا محسوس کرنے لگا
ساز پیچھے کو لیتی چلی گئ اور عمر اسپر ا گیا وہ بار بار خود کو روک رہا تھا بار بار اسنے خود کو تنبیہ کی
بہت معصوم ہو تم میں نہیں چاہتا میرے ہاتھوں مسلی جاؤ میں اس وقت تک صرف رحم دل ہوں جب تک تمھیں مجھ سے محبت نہ ہو اسکے بعد میری رحمدل ختم ہو جاتی ہے ” وہ جھکا اسکے چہرے کے نیچے شفاف گردن پر اپنے ہونٹ رکھ دیے
ساز کا ایک سانس سا پھولا اور عمر نے اپنا چہرہ ہٹا لیا
تم میری سختی میری بے رخی سہہ نہیں سکتی میں محبت کا عادی نہیں ہوں ” وہ اسکے بالوں کو سنوارتا ان میں انگلیاں چلانے لگا
ساز نے بھی اسکی گردن میں بازو ڈالے لیے
مگر ۔۔۔ مگر میں بری نہیں ہوں ” وہ سچ بولی تھی
عمر اس سچ پر انکھ بند کر کے یقین رکھتا تھا
جانتا ہوں ” اسکے ہونٹوں کو انگوٹھے سے رگڑتا وہ بولا
مگر میں بہت برا ہوں کیونکہ مجھے امید نہیں تھی تم ایک شرابی سے محبت کرنے لگ جاؤ گی ہمارا تو کوئی جوڑ ہی نہیں شرابی نشئ جواری اور اب چور ۔۔
اور تم نازک سی نرم سی معصوم سی مولانی جو پانچ وقت کی نمازیں ہے جس کے چہرے پر نمازوں کا نور چمکتا ہے جس کی آنکھوں میں نور ہے جس کے وجود میں بہکی بہکی سی خوشبو ہے جو قابل محبت ہے لیکن غلط انسان سے سر پھوڑ رہی ہے “
وہ اہستگی سے بولتا بولتا اسکے ہونٹوں کے قریب آیا اسکے ہونٹوں کو اسی طرح دیکھنے لگا جس طرح وہ بہکی بہکی نظروں سے اپنی شراب کی بوتل کو دیکھتا تھا
ساز نے اپنے ہونٹوں کو پاؤٹ بنایا لیکن عمر ہلکا سا دور ہو گیا
یہ آگ ہے اس میں جلنا کیوں چاہتی ہو “
وہ اسکے منہ بنانے پر پھر منہ کھولتا اسکے قریب ہوا اور بنا چھوئے ہی دور ہوا اور اسی طرح وہ جیسے انوکھے سے طریقے سے اسے بن چھوئے اپنا احساس دینے لگا ساز بے چین سی ہوئی اسکی گردن میں بازو ڈالے لے مگر بے سود وہ عمر خیام تھا بے چینی کی مار مار کر لطف لے رہا تھا
عمر ” وہ جیسے بے چارگی سے اسے دیکھنے لگی
یہ محبت کی سزا ہے تمھیں اجازت نہیں دی تھی کہ مجھ سے محبت کرنے لگ جاؤ ” وہ بولا اور پیچھے ہٹ گیا ساز چہرے پر ہاتھ رکھ
گئ
اچھا بس بس کنٹرول کرو خود کو میں نہیں تمہیں اپنا عادی بنانا چاہتا اٹھو بستر میں لیٹ اور یہ چونچ بند ہو جانی چاہیے اب “
وہ بولا
نہیں اٹھو گی ” وہ صاف مکر گئ
عمر نے طویل سانس کھینچا اور اسے بازو کی گرفت میں بھر لیا
عمر کے سینے میں چہرہ چھپائے چوری چوری مسکراتی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی وہ ۔۔۔
عمر نے اسے لٹایا اور خود دوبارہ صوفے پر جاتا کہ ساز نے اسکا بازو پکڑ لیا ۔۔۔
نہ کرو وہ جو برداشت نہ کر سکو ” وہ فورا اسکے چہرے پر جھکتا بولا وہ جذبات سے لبریز نظروں سے اسے دیکھنے لگی مگر بہکی بہکی نگاہیں تھیں
وہ ان نگاہوں کے اگے ہارنے لگا ایک بٹن پر ہاتھ مارا چارواطراف اندھیرہ چھا گیا اور اپنی شادی کے اتنے عرصے بعد وہ دونوں پہلی بار ایک ساتھ تھے
عمر نے لحاف ڈالا وہ اسکے سینے میں سمٹ گئ ۔
عمر کے دل پر جیسے اسکا چہرہ تھا
اسکے دل کی سخت دیواروں میں دھاڑ ڈال رہی تھی لیکن ایسے بھی وہ ڈالنے نہیں دیتا اسنے آنکھیں بند کر لیں جبکہ لبوں پر ایک ہی بات تھی
” عمر آپ بہت اچھے ہیں ” یہ لفظ جیسے چبھتا تھا اسے ۔۔۔
کوئی اسے کیسے اچھا سمجھ سکتا ہے وہ قطعی اچھا نہیں ہے
آنے والا وقت ممکن تھا اسکے لیے مختلف ہوتا عمر نے جیسے آخری بار ہر بند توڑ کر اسے اپنے بانہوں میں بھینچ لیا
ساز اسکے بازو میں تھی عمر خود میں بھینچے اسے دیوار کے دوسری طرف دیکھ رہا تھا ۔ ۔ جبکہ وہ سو چکی تھی
وقت ہاتھ سے گزرنے لگا
وہ اسے خود میں بھینچے ہوئے تھا جیسے ایک لمہہ بھی نہیں چھوڑے گا جیسے وہ ہر لمہے اسکو اپنا کر لے گا
آج تک کئ لوگوں نے اس سے محبت کے دعوے کیے لیکن انکا پیسوں کا مطالبہ عمر کو بدظن کرتا چلا گیا
لیکن اسنے دیکھا تھا وہ قیمتی چیک آج بھی اس دراز میں رکھا تھا اور جب جب وہ یہ چیک دیکھتا اسکا سینہ جیسے فخر سے چوڑا ہو جاتا ہاں وہ چیک اسنے اسے دے دیا تھا وہ اسے استعمال کر سکتی تھی ممکن تھا اپنے بھائی کو دے دیتی لیکن وہ چیک محفوظ سائیڈ ٹیبل پر رکھا تھا گواہ تھا اسکی ساز بہت معصوم ہے اسے پیسوں کی حرص نہیں تو اب عمر اسکے لیے کیا کر سکتا تھا سوائے محبت کہ
وہ نہ محبت کر سکتا تھا اور نہ ہی اسے بیوقوف بنانا چاہتا تھا
رات جیسے آنکھوں میں کٹ گئ
لمہہ بھر خو بھی اسنے اسے خود سے الگ نہ کیا کہ دن نکل آیا
اسنے کمرے میں پھیلتی روشنی کو توجہ دی ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔
وقت گزرتا جا رہا تھا وہ چاہتا تھا وہ اسکے بازو میں ہی سو کر اٹھے اگر اس کمرے سے نکلنے پر وہ اسکے لیے مختلف ہوتا تو وہ اس کمرے میں اسکو اپنائیت کا وہ ہی احساس دینا چاہتا تھا وہ چاہتا تھا وہ اسکے بازو میں ہی اٹھے وقت گزرتا جا رہا تھا وہ تھکا نہیں اسے نیند نہیں آئی اسے بےزاری نہیں ہوئی اور ساز کسمسائی
عمر کے لبوں کی تراش میں سرائیت سے مسکراہٹ دوڑ گئ
وہ ہوش میں آنے لگی اسے نیند میں ہی دور کرنے لگی
عمر نے اسے چھوڑ دیا
بند آنکھوں سے دوسری طرف کروٹ لے کر اسنے جیسے لحاف کو خود پر لپیٹنا چاہا کہ عمر نے اسکی گردن کی پشت پر اپنے ہونٹ رکھے اور دور کر لیے
گڈ مارنیگ ہنی ” جان بوجھ کر وہ اسے رلانے کا پورا اہتمام کر رہا تھا مسکراہٹ روکے اسکی صورت دیکھنے لگا جس نے جھٹکے سے پٹ کر آنکھیں کھولیں تھیں
آآآ ” اچھل کر لمہوں میں دور کھڑی ہو گئ
عمر ” وہ چلا اٹھی
ریلکس ساز کیا ہو گیا ہے تھکا ہی دیا یار تم نے تو ” وہ گردن موڑتا جیسے تھکاوٹ اتارنے لگا اور ساز کو لگا ابھی زمین کھلے گئ آدھی تو وہ اس میں سما جائے گی بھلا کیا کر رہی تھی وہ اس سے چپکی
وہ منہ کھولے بستر میں پڑی شکنیں کو دیکھنے لگی
منہ بند کرو بلکل وہی ہوا ہے جو تم نے ارہم کے موبائل پر دیکھا تھا “
وہ بولا اور واشروم کی سمت بڑھ گیا
ساز کی آنکھیں مزید کھل گئ عمر نے مڑ کر آنکھ دبائی اور مزے سے ہنسی روکتا واشروم میں گھس گیا
میں عمر ۔۔۔ ارہم بھائی میں نے ” اسکی یادداشت میں گویا سب واپس آنے لگا
اسنے شراب پی تھی اسنے حرام پی لیا پھر عمر کے ساتھ اور ارہم بھائی والی بات وہ کیا کیا بولی اسنے کیا حرکتیں کیں
یہ اللّٰہ ” وہ منہ پر ہاتھ رکھتی اپنی ہچکی روک گئ جبکہ عمر فریش فریش سا باہر نکلا اور گیلے بالوں میں ٹاول پھیر کر اسنے ساز کی جانب اچھال دیا
جاؤ تم بھی لے لو ویسے مزاہ کافی آیا ” وہ پھر انکھ دباتا اسکا جیسے چہرہ لٹھے کی مانند سفید کر گیا
میں نے کیا کیا ۔۔۔۔ آپ نے میں مجھے شراب پلائی ہے اپ نے “
وہ منہ پر ہاتھ رکھے اپنے آنسو بھاتی اسے حیرانگی سے دیکھنے لگی
مجھے یقین تھا یہ الزام میرے سر ہی آئے گا بلکل میں ہی تو فارغ ہو جو تمھیں شراب پلاؤ گا میرے پاس اپنا منہ تو ہے نہیں اور پتہ بھی ہے کتنی مہنگی ہے جاپان سے منگوائی تھی ” وہ بولتا چلا گیا جبکہ ساز اپنے کھلے بال محسوس کر گئ خود پر دوپٹہ ۔۔۔۔
اسنے سرخ نگاہوں کو گھمایا اور دوپٹے پر عمر خیام ہی کھڑا تھا
ساز نے اسے دھکیلا اور بس نہیں چلا کہ مکے برسا دے وہ باقائدہ بچوں کیطرح روتی چلی گئ
دوپٹہ سر پر رکھے بالوں کو سمیٹنا بھی چاہتی تھی
عمر کو پہلی بار اسکے رونے پر ہنسی آئی وہ بچوں کیطرح رو رہی تھی
لڑکیوں کے پاس کیا پہلا آخری حل بس رونا ہے رونا دھونا بند کرو پیزا کھاتے ہیں ویسے بھی محنت کے بعد خوراک اچھی ملنی چاہیے ‘”
چپ ہو جائیں عمر ” وہ بھڑکی
لو میں کیوں چپ ہوں میں تو تمھیں بتانے والا ہوں کہ کیا کیا ہوا دیکھو میں یہاں انسانوں کیطرح بیٹھا تھا خدا قسم “
عمر عمر مجھے نہیں سننا مجھے جانا ظے یہاں سے ” وہ کشن مارنے لگی تھی اسے ۔۔۔
عمر خیام کے قہقہے بلند ہوئے ساز بھاگ کر واشروم میں بند ہو گئ
جبکہ عمر ہنستا ہوا سر نفی میں ہلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھولوں کا بکے اپنے سامنے دیکھ کر اسنے سائیڈ پر رکھ دیا شاہنواز نے اسکی صورت دیکھی
کیا تمھیں پسند نہیں آیا “
مجھے پھول نہیں پسند ” وہ ناک چڑھا کر بولی
بلکل اپنے باپ پر گئی ہو ” وہ بھی گھورتے گھورتے جیسے نارمل ہوا
اوکے سنیکس ” اسکے پاس اتنے آپشنز تھے کہ کہیں تو وہ پھنستی
میں بچی ہوں ” ایزہ نے پھر منہ بنایا
اہ ” شاہنواز نے اسکے سامنے موبائل اور ٹیب بڑھایا
اسکا بھائی تو ہر نئی چیز کا خواہش مند تھا وہ کیا پسند کرتی تھی جس سے وہ خوش ہو جائے فلاپ تھے فلحال سارے پلین اسکے ۔۔۔۔
میں نے کبھی استعمال نہیں کیا اور نہ ہی عادت” وہ سر جھٹکتے بولی
اب ایک آخری چیز تھی شاہنواز نے اسکے آگے ٹیڈی بئیر کیا اور اسنے اچھل کر اچک لیا چھین ہی لیا گویا اسکے ہاتھوں سے ۔۔۔۔
شاہنواز کو لگا وہ امتحان میں پاس ہو گیا ہو ۔۔۔۔۔ وہ سکون کا سانس لے گیا
میری طبعیت خراب ہے تبھی آپ دادی جان کے خلاف جا کر مجھ پر توجہ دینا چاہتے ہیں ” وہ سنیکس بھی کھانے لگی تھی
دادی جان سے بدتمیزی نہیں کرنی بڑی ہیں ہماری ” وہ بچوں کیطرح اسے سمجھانے لگا
خود کو سمجھائیں آپ آپ کرتے ہیں بدتمیزی ” اسنے جواب دیا
یہ جب سے تمھارا بھائی آیا ہے تمھاری اتراوٹ عروج پر ہے
ہاں تو آپ بھی تو سیدھے ہو گئے ڈر گئے نہ میرے بھائی سے ” وہ فخر سے اسکی صورت دیکھتی آنکھیں گھماتی بولی جبکہ شاہنواز نے اسکی جانب دیکھتے سر جھٹکا
ایزہ نے وہ ٹیب اور موبائل بھی کھینچ لیا ۔
شاہنواز آئینے کے سامنے کھڑا بالوں میں برش کر رہا تھا اور پیچھے اسے بھی دیکھ رہا تھا اپنے آپ مسکرا دیا اور پھر مسکراہٹ سمٹ گئ
تم ڈاکٹر کے پاس جاو گی زمیر آئے گا وہ لے جائے گا “
شاہنواز نے واچ پہنتے کہا ایزہ کی اس کی طرف توجہ نہیں تھی
شاہنواز سکندر جب بولے اور کسی کی توجہ نہ ہو اور وہ سہن کر لے ایسا ممکن بھی نہیں تھا
رات مہمان آئیں گے تیار ہو جانا اور بدتمیزی سے گریز ” اچانک وہ رک گیا
اسکے چہرے کی خوشی کسی میں جا ملی تھی
شاہنواز چند لمہے کھڑا دیکھتا رہا اور پھر جیسے ہوش میں آیا دو انسان ایک نہیں ہو سکتے
اور کسی کے لیے کسی سے محبت کرنا کتنا مشکل تھا وہ یہ جان گیا تھا
ایزہ ” وہ غصہ ضبط کرتا اسکے قریب کھڑا ہو گیا
مجھے یہ سیکھنا ہے شاہ اپ سکھائیں نہ ” وہ اسے کھینچ گئ
بچی ہو ” اسنے اسی کی بات لٹا دی
ہاں” وہ سکون سے بولی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
