Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 45

آنسو صاف کر کے وہ جائے نماز طے کر کے اٹھی اور بستر کی جانب دیکھا خالی تھی ۔
بچھڑنا کتنا تکلیف دہ ہے
اور پھر امید بھی نہ ہو کبھی دوبارہ ملن ہو گا بھی ۔۔۔۔
وہ محبت ہی نہیں کرتا تو وہ آگے کیا سوچتی ۔۔۔۔
پہلے کم ڈرپوک تھی اب تو ایسے مرجھا سی گئ تھی ۔
ارہم کا خوف دل میں بیٹھ گیا تھا اب تو کام کرنے کے لیے بھی باہر نہیں جاتی تھی تائی جان نے کوسنے دے دے کر چھلنی الگ کیا ہوا تھا چچی کی تمسخر ہنسی اسکی ماں کی بے بس نگاہیں اور بھائی کا بار بار اس کوشش میں لگے رہنا کہ وہ اس گھٹن سے بھرے ہوئے رشتے سے آزاد ہو جائے اگر اسکی دماغی اذیت کھول کر دیکھائی جاتی تو اس وقت عمر خیام سخت سے سخت سزا کا مستحق تھا
اسنے ایک معصوم کے دل کے ساتھ کھیلا اور پھر چھوڑ کر چلا گیا وہ کیا کرے ان پیسوں کا جو اسکے پہلو میں چھوڑ گیا تھا ۔
اسے ضرورت نہیں تھی کسی چیز کی ۔۔۔
محبت کی کمی تھی اپنائیت کی کمی تھی وہ دو چیزیں اسنے اسے بن مانگے دے دی اور پھر مکر ہی گیا کہ محبت کرنے کو کہا تو نہیں تھا ۔
اسنے گال صاف کیے ایسی ہی ہزار سوچیں اسکے ذہن پر دن رات گردش کرتی تھیں اسنے وقت دیکھا ۔
ارہم تایا جان اور بدر تینوں ہی دوکان پر جانے کے لئے نکل گئے ہوں گے وہ اٹھی ۔۔۔
امی نے ہی سارا ناشتہ بنایا تھا پہلے عمر اور اب بیٹی کا غم انھیں جلد تھکا دیتا تھا اسنے پاوں میں چپل اڑائے اور باہر نکلتی کہ دروازہ ایکدم کھلا ۔
ساز گھبرا کر پیچھے ہٹی تایا جان کا اسکے کمرے میں کیا کام تھا
عمر کیا دے کر گیا ہے تجھے”؟ انکے سوال پر اسکا دل دھڑک اٹھا ۔
ک۔۔۔کچھ نہیں” ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ تجھے کچھ دے کر نہ گیا ہو بتا تیرے پاس کیا ہے کوئی کارڈ کوئی اکاؤنٹ کیا دے کر گیا ہے وہ ” وہ دھاڑے اور اسکا بازو سختی سے جکڑ لیا ۔
وہ جیسے بے اسرا سی کھڑی تھی پیچھے ارہم بھی کھڑا تھا تائی جان بھی ا گئیں تھیں چچی چچا جان
میں کہتا ہوں بتا مجھے” اور کھینچ کر تھپڑ انھوں نے اسکے گال پر مارا وہ پیچھے جا گیری
تایا جان میں ۔۔ میرے پاس کچھ نہیں ہے میں سچ کہہ رہی ہوں اگر ہوتا تو میں اپکو دے دیتی ” وہ بولی آنسو گال پر بہنے لگے ۔
تو جھوٹ بول رہی ہے ” وہ ادھر ادھر دیکھنے لگے
ارہم اسکے کمرے کی تلاشی لے ” انھوں نے بیٹے کو حکم دیا
جی ابو وہ ترنت اندر ایا ساز سانس روکے اسے الماری میں سے اسکے کپڑے اور عمر کے چند کپڑے جو معلوم نہیں بے دھیانی میں م شاید وہ چھوڑ گیا تھا نکال نکال کر پھینکنا شرو ع کر دیے ۔
اور انپر اپنے جوتے رکھتا وہ ہر چیز کی تلاشی لے رہا تھا
ساز شرمندگی کی انتہا پر تھی کیونکہ یہ اسکی الماری تھی اور وہاں سب کچھ ہو سکتا تھا مگر کسی دوسرے پرواہ نہیں تھی ۔
بھائی صاحب بچی کے کمرے کی ایسے تلاشی مت لیں” اسکی ماں بولی جبکہ تایا جان نے خونخوار نگاہوں سے مڑ کر دیکھا
اپنا منہ بند رکھو ” وہ دھاڑے اور ارہم نے سارے دراز الٹ دیے ۔
اور ان درازوں میں سے اس الماری میں سے کہیں کچھ نہ ملا یہاں تک کہ وہ زمین پر پڑی تھی اور اسکا کمرہ ان سب نے تباہ کر دیا تھا ۔
ابو یہ کپڑے میں لو گا ” اسنے عمر کی جیکٹ اٹھا لی ساز کو لگا دل پاتال میں جا گیرہ ہو ۔
وہ ارہم کو دیکھنے لگی جو اپنی مرضی سے اسکے کپڑے اٹھا رہا تھا تایا جان سر تھام کر خود بھی تلاشی میں لگ گئے ۔
یہ ایل سی ڈی بھی اتروا لینی ہے میں نے بلکہ اسکو اس کمرے سے نکالو یہ کمرہ میں لوں گا ” ارہم سکون سے بولا ۔
تایا جان نے سر جھٹکا
تمھیں ان بے کار چیزوں کی پڑ گئ ہے ” وہ ذرا اسپر بھی غصہ کر گئے جسے فرق نہیں کوئی نہیں پڑا تھا ۔
یہ کیا ہو رہا ہے” اور اچانک پیچھے سے سوہا کمرے میں ا گئ معلوم نہیں اسکی انکھ دیر سے کیوں کھلی بدر تو تھا ہی نہیں اور باقی سب کہاں چلے گئے تھے
وہ اوپر آئی تو سب وہیں تھے اور کمرے کی حالت اور ساز کے چہرے پر تھپڑ کا نشان دیکھ کر وہ اندر ائ
یہ سب کیا ہو رہا ہے ؟ سوہا چلائی
نظر نہیں اتا تلاشی لے رہے ہیں” ارہم مزے سے بولا
تمھیں شرم آتی ہے ” وہ بھڑک اٹھی
لو اب یہ شرم دلوائے گی ہمیں “
بکواس بند کرو اپنی ” وہ دھاڑی
اور شاید ایسی جرت اسکے علاوہ کوئی دیکھا نہیں سکتا تھا جب سے اسنے اپنے باپ کا روپ ان آنکھوں سے دیکھا تھا جو تکلیف دے رہا تھا تب سے اسے کوئی خاص چیڑ ہو گئ تھی اپنے باپ بھائی سے
سوہا ” تایا جان کی آواز پر وہ بل کھا کر مڑی
ابو اپکو شرم آنی چاہیے یہ کیا حرکتیں ہے کسی کہ کمرے میں گھس کر اسکی چیزوں کی تلاشی لینے کا “
تجھ سے نہیں پوچھا
مجھ سے پوچھا ہے یہ نہیں پوچھا میرے سوال کا جواب دیں اور نہیں دے سکتے تو جائیں یہاں سے اس گھر کی ہر عورت آپکی غلام نہیں ہے تو سمجھنا بھی چھوڑ دیں” تایا جان اسے حیرانگی سے دیکھنے لگا
سوہا اس کمینی کے لیے تو باپ سے زبان درازی کر رہی ہے ” تائ جان بولی تو وہ سر تھام گئ ۔
معلوم نہیں کیوں اسکی آنکھیں کھل گئیں تھیں جو اسے وہ سب نظر ا رہا تھا جو نا جائز ہو رہا تھا خود پر بیٹھتا احساس ہوا تھا ۔
کمینے ہم سب ہیں امی اس گھر کی عورتیں صرف کمینی ہیں اپ میں یہ سب اور سب سے بڑا جرم تو یہ ہے ہمارا کہ ہم اپنی جیسی عورت کو ہی تکلیف دینا چاہتے ہیں ” وہ بولی جبکہ ارہم کی جانب دیکھا جو ساز کو گھور رہا تھا
تم یہاں سے دفع ہو جاو ورنہ خدا کی قسم ارہم میں نے بدر کو بتا دی تمھاری حرکات تو وہ تمھیں جان سے مار دے گا ” اسنے چلا کر کہا تو ارہم اسے غصے سے دیکھتا باہر نکل گیا
تایا جان کو کچھ نہیں ملا تھا تبھی وہ بھی نکل کر چلے گئے
باولی ہو گئ ہے” تائ نے کہا اور مڑ گئ جبکہ چچی بھی مڑ گئ اور نجما دروازے پر ہی کھڑی بیٹی کو بے بس سا بیٹھا دیکھ رہی تھی تم نہ ائندہ جو تمھارے کمرے میں آئے منہ نوچ لینا ۔
یہ کوئی طریقہ نہیں ہے تھپڑ کھا کر سکون سے بے بس ہو جاؤ ” وہ ساز پر بھی چلائی
اٹھو ” اسنے اٹھایا اور صوفیا صنم نے جلدی سے اسکا سامان دوبارہ اسی جگہ پر رکھنا شروع کیا ۔
ساز کے چہرے پر لگے نشان سوہا کو کیوں اتنی تکلیف دے رہے تھے وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی اسے اب اندازا ہوا تھا کہ کتنا ظلم ہوتا رہا ہے اس گھر میں اور وہ اس سب میں شامل تھی ۔
ساز اب بھی سر جھکائے بیٹھی تھی
سوہا بے ساختہ اسکے گلے لگ گئ
صوفیا صنم سمیت نجما بھی آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی اسنے ساز کے گال صاف کیے
میرا بس نہیں چل رہا میں ان مردوں کے بھی اسی طرح تھپڑ مارو جس طرح یہ عورتوں پر ہاتھ اٹھاتے ہیں انکے ہاتھ توڑ دوں یہ چلنے پھرنے قابل بھی نہ رہیں” وہ بولی جبکہ وہ تینوں بھی آگے ا گئیں ۔
ساز ہمیں معاف کر دو ” وہ دونوں بولیں جبکہ ساز اب بھی چپ چاپ بیٹھی تھی ۔
آنکھوں کے گرد گھیرے حلقے اور اداسی میں ڈھلا وہ وجود بلکل قابل رحم تھا اسنے جواب نہیں دیا تھا تبھی وہ دونوں چپ ہو گئیں وہ تو اسکی بہت اچھی دوستی تھیں پھر اسی کے ساتھ ایسا کیوں کیا وہ کیسے اتنی جلدی راضی کر سکتی تھی ان کو ۔۔۔۔۔
تبھی وہ دنوں چپ ہو گئیں اور نجما نے بیٹی کے گال پر ہاتھ رکھا اور اسکے انسو صاف کرے میں ناشتہ لاتی ہوں تم سب کے لیے ۔۔۔۔
نہیں آج میرے ہاتھ کا ناشتہ کھانا سب ” سوہا بولی
ہم نے نہیں کھاتے جلے ہوئے پراٹھے ” صوفیا صنم بروقت منہ بنا گئ
سوہا نے آنکھیں سکیڑ لی ۔
مجھے بہت اچھی کوکنگ آتی ہے سمجھ آئی بات اور اب تم سب دیکھنا میرا جادو ” وہ سب ایک دوسرے سے ہلکے پھلکے انداز میں بولے
بدر بھائی پر چلاو ہم پر نہیں” وہ بولی تو سوہا شانے اچکا گئ
چل ہی نہ جائے ” وہ باہر نکلی اور صوفیا صنم بھی نکل گئیں کہ وہ اسکی ہیلپ کر دیں گی جب اسنے کبھی کچھ کیا ہی نہیں تو اب کیسے ان سب کو ٹھیک ناشتہ کرا سکتی تھی ۔
نجما اور ساز رک گیے تھے پیچھے ۔
سوہا بدل رہی ہے ” نجما نے کہا ساز چپ چاپ بیٹھی تھی ۔
سب کچھ بدل جائے گا ساز بہت جلد بدل جائے گا”
عمر واپس ا جائیں گے” اسکے سوال پر نجما چپ ہو گئ
دو مہینے گزر گئے ہیں ایک بار بھی پلٹ کر نہیں پوچھا آپ بات کر رہی ہیں سب بدل جائے گا امی ہم ایسے کیوں ہیں ہم واقعی کمینی ہیں تائ جان بلکل ٹھیک کہتی ہے جو کمینے لوگ ہوتے ہیں انکی حیثیت کسی کی نظر میں نہیں ہوتی وہ کسی سے ٹوٹ کر محبت بھی کریں تب بھی انکی حیثیت کمینے ہی رہے گی اور انکی حیثیت کی بنا پر ان سے محبت اور نفرت کی جاتی ہیں انکی عزت لوٹ لی جائے کیونکہ وہ کمینی ہیں
کیوں ہوں میں کمینی ہوتی میں بھی کسی بڑے امیر باپ کی بیٹی ۔
تو کیا میں کمینی کہلاتی ۔
مجھے نہیں پتہ ارہم بھائی سے میرے عمر سے کپڑے واپس لے کر دیں” وہ بولتی بولتی ضد کرنے لگی ۔
وہ میں کیسے ” ساز رونے لگ گئ
ساز بچوں کیطرح ضدی نہ کرو تم کیا کرو گی انکا ۔۔
مجھے چاہیے وہ عمر کے کپڑے ہیں کسی کو نہیں دینے میں نے نہ میں یہ کمرہ دوں گی ” وہ ماں کی گود میں سر رکھے سسکتی رہ گئ جبکہ نجما کی آنکھیں بھر گئیں کاش عمر لوٹ آتا
وہ آس لگائے بیٹھی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت کی رفتار بڑھتی گئ اور ساز کو لگا بس اسی کے لیے سسک سسک کر وقت گزر رہا ہے اسنے ہر ممکن کوشش کی کہ وہ ارہم کو نہ دیکھے لیکن ارہم کی نیچ حرکات دن با دن بڑھتی چلی گئ
بدر کا دھیان گھر پر نہیں تھا وہ اپنے کام میں اس قدر مگن تھا کہ
کامیابی کی منزلوں کو طے کرتے اسے لگ رہا تھا قدم تھک نہیں رہے وجود میں کوئی تھکاوٹ نہیں
وہ جو چاہتا ہے ہاتھ بڑھا کر پا لے گا اور ایسا ہی ہو رہا تھا ۔
وہ زیادہ تر کراچی لاہور کے چکر لگانے لگا تھا مال کے لیے بڑی بڑی پارٹیز سے ڈیلنگ ہو رہی تھی اسکی دوکان دن دگنی رات چگنی ترقی کر رہی تھی ۔
اور یہ بات تایا جان کے سینے میں خنجر کی طرح کھب گئ تھی کہ لوگ اسپر ٹرسٹ کر رہے تھے تایا جان جو عرصے سے یہاں بیٹھے تھے انپر نہیں نہ انکی دوکان کی سیل اچھی جا رہی تھی اور نہ ہی کچھ اور ۔۔۔۔
ارہم بھی سارا سارا دن گھر میں پڑا رہتا بھلا اب وہ اکیلے کیسے سب سنبھالتے بھائی پر زلزلہ گراتے رہتے تھے ۔
ہر کوشش کے باوجود ساز کے کمرے سے وہ چیک نہیں ملا تھا جو واقعی عمر اسکے پاس چھوڑ کر گیا تھا
معلوم نہیں وہ کہاں چھپا چکی تھی کیونکہ اب اس کمرے پر اس کمرے کی ہر چیز پر ارہم قابض ہو گیا تھا
ساز کا کام ہر وقت رونا تھا یہاں تک کے رو رو کر اسکی نظر بھی خراب ہونے لگی تھی اور یہ بات صرف وہ جانتی تھی ۔
نہ اسنے کسی کو بتایا تھا اور نہ ہی وہ کسی کو بتانا چاہتی تھی اسنے اپنے لیے یہ تکلیف خود چنی تھی ۔
چار ماہ گزر گئے عمر کے آنے کی ہر امید دم توڑ گئ ۔۔۔
اب وہ کیوں آتا ۔۔۔ اسنے اپنے آنسو صاف کیے سوہا پیچھے ہی کھڑی تھی ان چار ماہ میں سوہا کے ساتھ کافی اچھی دوستی ہو گئ تھی کیونکہ وہ اسکا خیال رکھتی تھی ۔
تم رونا چھوڑ دو آگے بڑھو وہ نہیں آئے گا “
بہت ہی کمینا ہے” وہ بولی جبکہ ساز نے نفی میں سر ہلایا
اب نہیں رو گی ” وہ سر ہلا گئ
اوہ تھنک گاڈ ” وہ بولی جبکہ ساز ہلکا سا مسکرائی ۔
بدر بھائی نے کراچی سے کب آنا ہے “
مجھے کون سا بتا کر جاتا ہے تمھارا بھائی جو مجھے پتہ ہو گا ” وہ شانے اچکا گئ
اور ساز صوفیا اور صنم کے ساتھ اب نہیں رہنا چاہتی تھی تبھی اسنے سٹور کو ٹھیک کر لیا تھا
تمھیں بھی عمر نے کافی ضدی بنا دیا ہے
اچھا بھلا کمرہ چھوڑ کر یہاں ا گئ ہو”
میں ٹھیک ہوں یہاں” وہ بولی تو سوہا سر ہلا گئ ۔
چلو تم قرآن مجید پڑھو میں آتی ہوں” وہ کہہ کر باہر نکل گئ اور ساز نے قرآن مجید اٹھا لیا سوہا باہر ائ تو بدر اندر ا رہا تھا اسے لگا اسنے بھی عرصے بعد اسے دیکھا تھا سینے پر ہاتھ باندھ کر کھڑی ہو گی
اسلام علیکم ” وہ کافی خوش مزاجی سے بولا وہ حیران تو تھی لیکن خاموشی سے اسے دیکھنے لگی ۔
جواب بھی دے دیتے ہیں” خوش تھا تبھی اسکے ساتھ نارمل تھا ۔
جب کہیں جا رہے ہوتے ہیں تو بتا بھی جاتے ہیں ” اسنے طعنہ مارا
تمھیں بتانا ضروری بھی نہیں میرے لیے” بدر نے آنکھیں گھمائی
ہاں تمھاری ملازمہ ہوں نہ میں”
کچھ ایسا ہی سمجھ لو ” وہ شانے اچکا کر کہتا آگے بڑھا
تمھاری شکایت لگا دی نہ میں نے پھر پتہ چلے گا تمھیں”
اپنے باپ سے لگاو گی” بدر ہنس دیا
بدر” سوہا کو اچھا نہیں لگا اسکا یوں کہنا ۔
کیوں برا لگا ساری زندگی تم لوگوں سے نکالی کے تمغے کھائے تب تو تمھارے سینوں میں کوئ تکلیف نہ اٹھی اچانک اپنے باپ کے لیے سن کر تڑپ اٹھی ” وہ سر جھٹک کر نجما کے کمرے میں گھس گیا وہ پیچھے پیچھے ا گئ
چچی یہ مجھے طعنے دے رہا ہے” وہ بولی
ہیلو میری ماں کو بیچ میں نہ گھسیٹو ” وہ سختی سے بولا
کیوں بھئ میری بہو مجھے شکایت لگا رہی ہے میں تمھاری مار لگا دوں تمھاری تمیز سے رہا کرو ” نجما نے کہا بدر حیرانگی سے کھڑا ہو گیا
واہ یہ کب ہوا ” اسے یقین نہ آیا
بس ہو گیا تمھیں نظر نہیں اتا تم گھر آتے کب ہو مہینے سے زیادہ ہو گیا شکل بھی نہیں دیکھی”
تو میری شکل نہیں دیکھی تو اس دوغلی لڑکی سے اپ نے دوستی لگا لی ۔
واہ اپنے مطلب کے ساتھ چپکی ہو گی اسی باپ کی بیٹی ہے سانپ کیطرح ڈسے گی” کافی تلخ الفاظ تھے اسکے سوہا کا منہ اتر سا گیا ۔ اور نجما نے بدر کی جانب دیکھا
تم کیسے بدتمیزی کر سکتے ہو اتنی” وہ گھور کر بولی ۔
یہ اپکو بیوقوف بنا سکتی ہے مجھے نہیں ساز کہاں ہے ” وہ بولا
نجما کچھ کہتی کے سوہا نے چپ کرانے دیا ۔
اور خود اسکے پیچھے ائ
وہ سٹور میں ہے ” وہ اہستگی سے بولی
کیوں” وہ سختی سے پوچھنے لگا
وہ کمرہ ارہم نے لے لیا
تمھیں بتانا چاہتی تھی میں لیکن تم گھر نہیں آتے تھے زیادہ تر ” اسنے کہا بدر نے حیرانگی سے سوہا کو دیکھا ۔
اور فورا سٹور میں آیا وہ قرآن مجید پڑھا رہی تھی چھوٹے سے سٹور میں اسکا سامان رکھا تھا
بدر کو اپنی بے توجہ پر جی بھر کر غصہ آیا اور بھڑک کر اسنے سوہا کو دور کیا تھا ۔
تم لوگ نہایت نیچ ہو اور نیچ ہی رہو گے ۔ ۔۔
اٹھو ساز یہاں سے میرے کمرے میں چلو “
نہیں بھائی میں ٹھیک ہوں
ساز” بھائ پلیز ضد نہ کریں
ساز میرا دماغ خراب نہ کرو ” وہ بھڑک اٹھا اور زبردستی اسے اٹھایا ساز نے قرآن مجید واپس رکھا اور بدر اسے لیے اپنے کمرے میں آ گیا اور سوہا کا سامان اٹھا اٹھا کر باہر پھینک دیا
تم رہو جا کر سٹور میں تاکہ تمھارے باپ بھائ کو احساس ہو
بھائی یہ کیا کر رہے ہیں اپ سوہا کا اس سب میں کوئ قصور نہیں ہے”
قصور تمھارا بھی نہیں ہے پھر بھی سزا بھگت رہی ہو نہ اسکا بھی نہیں ہے مگر سزا بھگتے گی یہ بھی اپنا سامان اٹھاو اور دفع ہو جاؤ سٹور میں”
ان لوگوں کو احساس نہیں ہو گا ” بھیگی انکھوں سے اسنے بدر کی جانب دیکھا
ہو گا ہو گا جب کسی اپنے کو تکلیف ملتی ہے تو ہو گا دفع ہو جاو “
وہ بے حس بنتا کہہ گیا سوہا نے خاموشی سے اپنا سامان اٹھانا شروع کیا
بھائ یہ کیا حرکت ہے نہیں ایسا مت کریں سوہا آپی آپ اسی کمرے میں رہیں “
رہنے دو ساز کچھ نہیں ہوتا وہ ٹھیک کر رہا ہے جو بھی کر رہا ہے “
وہ بولی اور وہاں سے سامان اٹھا اٹھا کر رکھنے لگا
آپ سب ایک جیسے ہیں صرف عورت کو تکلیف دیتے ہیں”
چپ ہو جاو ساز تمھارے ساتھ ساتھ ان سب تکلیفوں کا حصہ دار میں بھی ہوں ” وہ سختی سے بولا اور دروازہ بند کر لیا ۔
سوہا نے خاموشی سے اپنا سامان اٹھانا شروع کر دیا
یہ کیا کر رہی ہو” تائی نے اسکا بازو پکڑا تو اسنے ماں کی جانب دیکھا
باپ بھائ کا بھگتان بھگت رہی ہوں” وہ بولی اور سٹور کی جانب بڑھ گئ
ارے او بدر تیرا بیڑا غرق ہو میری پھول سی بچی کا برا حال کر دیا اور منحوس ” امی سوہا نے اسے ٹوک دیا
وہ جائز ہے اسکی بہن میرے بھائ کی وجہ سے دربدر ہوئی ہے تو وہ مجھے کرے گا جب احساس نہیں ہوتا رشتوں میں تو باقی پیچھے صرف بدلہ بچ جاتا ہے “
اسنے کہا اور تائی اسکا چہرہ دیکھتی رہ گئ ۔۔۔
اسے کیا ہو گیا تھا یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے