Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 53
No Download Link
Rate this Novel
Episode 53
اسنے دروازہ کھولا تو اسکا باپ دروازے پر کھڑا تھا
جی ابو” وہ بولی جبکہ وہ اسے دھکیل کر سیدھا اندر گھس گئے بدر نے ناگواری سے منظر دیکھا ۔۔ سوہا سنبھلی ورنہ وہ گیر جاتی
کہاں ہیں دوکان کے کاغذات تیری اتنی جرت کہ جن سے میرا کام ہے انھیں اپنی طرف کر لے گا تو ان سے کام کرے گا ” وہ اگ بگولہ سے ہو گئے تھے ۔۔ انھوں نے چیزیں اٹھا اٹھا کر پھینکنا شروع کر دیں بدر اپنی جگہ سے اٹھا خاموشی سے انھیں دیکھنے لگا ۔۔
ابو ” بدر کچھ نہیں بولا ہلکی پھلکی مسکراہٹ سے انھیں دیکھ رہا تھا
ابو آپ “
اے چپ” وہ دھاڑے یہ تیری وجہ سے میرے سر پر ناچ رہا ہے بلکل غلط بلکل ہی غلط شادیاں ہوئیں ہیں اس منحوس ساز کی بھی اور تیری بھی تو مجھے دوکان کے کاغذات دے گا واپس ” وہ اسکی آنکھوں میں سکون دیکھ کر بولے
میں اپنی چیز اپکو کیوں دوں گا ۔۔۔۔ ” وہ بولا جبکہ اشفاق صاحب نے غصے سے اسکا اگریبان جکڑا بدر کافی تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کر رہا تھا جبکہ اشفاق صاحب اتنی ہی تیزی سے ۔۔ زمین بوس ہوتے جا رہے تھے ۔۔۔۔
بدر نے انکے دونوں ہاتھ پکڑے اور جھٹکا دے کر اپنا گریبان چھڑایا
میں آپکی بلکل عزت نہیں کرتا نہ ہی اسطرح کہ آپ میری بیوی کے باپ ہیں اور نہ اسطرح کے میرے تایا
ایک نیچ گندی نظر رکھنے والا لالچی آدمی۔۔ جو موقع ملنے پر اپنی اولاد کو بھی نوچ کر کھا جائے گا ۔۔۔ تو یہ جو آگ اپنے اندر لگا رکھی ہے نہ اسے اپنے تک محدود رکھو ” اس نے دور دھکیلا وہ سنبھل نہ سکے اور پیچھے سوہا نا تھامتی تو گیر جاتے ۔۔
تائی منہ کھولے کھڑی تھی ۔۔۔۔ جبکہ انکا شور سن کر سب باہر اکٹھے ہو گئے تھے نجما نے بیٹے کی جانب دیکھا ۔
میرے کمرے سے ابھی کے ابھی نکل جائیں ورنہ ۔ ۔ میں نکالو گا تو شاید آپکی زیادہ بے عزتی ہو جائے گی ” وہ سنجیدگی سے بولا
بدر ” نجما نے اسکا ہاتھ پکڑا کہ وہ کیا کر رہا تھا اپنے تایا کے ساتھ ۔۔۔ لیکن بدر نے فلحال کسی پر توجہ نہیں دی اسکی آنکھوں میں دیکھتا رہا
تجھے میں مروا نہ دوں تو میرا نام بدل دیو” کہہ کر وہ خود ہی باہر نکل گئے سوہا دل تھام گئ
نجما ساز کا بھی یہ ہی حال تھا جبکہ باقی سب یہ روز کا تماشہ دیکھ کر جا چکے تھے اور تائی نے غصے سے سوہا کو دیکھا
کہا تھا تیرا باپ پاگل آدمی ہے وہ جو کہہ گیا ہے کر بھی گزرے گا نہیں دیکھے گا یہ تیرا شوہر ہے اسکی بیٹی کا سہاگ ہے ۔۔۔ وہ وہ ہی کرے گا جو چاہتا ہے تو دے دے اسکو کاغذات ” معلوم نہیں وہ فکر میں بول رہیں تھیں یہ کیا بات تھی البتہ بدر نے تو اس بات کو اہمیت بھی نہ دی ۔
تائی وہاں سے چلی گئ اور ۔۔ نجما نے بیٹے کی جانب دیکھا
کیا مل رہا ہے تمھیں بدر یہ سب کر کے تمھارے علاوہ کون ہے میرا “
ہم جلد یہ گھر چھوڑ دیں گے فکر نہ کریں آپ بلکہ میں کل ہی کوئ گھر رینٹ پر دیکھتا ہوں اور یہ مجھے کیا ماریں گے کسی دن میرے ہاتھوں ہی نہ مر جائیں ” اسنے سوہا کا فق ہوتا چہرہ دیکھا تھا ۔۔۔۔
جس طرح وہ بلکل بے جان سی لگ رہی تھی
بھائی پلیز یہ کیسی بات کر رہے ہیں ہم کہاں جائیں گے ” ساز بھی بولی
تمھارے بھائی کے ہاتھوں میں پوری طاقت ہے اب ۔۔
کل ہی ہم یہاں سے جا رہے ہیں ” اسنے کہا اور وہاں سے واشروم کی طرف چلا گیا نجما نے سوہا کی جانب دیکھا
بیٹا تم ہی سمجھا سکتی ہو یہ تو پاگل ہو گیا ہے ” نجما نے آنسو صاف کیے سوہا نے سر ہلا دیا وہ دونوں بھی چلی گئیں
سوہا نے ایک نظر چاروں طرف دیکھا
کیا تھا اسکا باپ کیسا انسان بیٹی کے کمرے میں گھس کر چیزیں توڑ کر اسکے شوہر کو مار دینے کی دھمکی دے گیا تھا ۔
وہ چئیر پر بیٹھ گئ تبھی بدر بھی ا گیا اور اسنے اسکی جانب دیکھا جو چپ چاپ بیٹھی تھی ۔۔ سر جھٹکا تھا اسنے
کچھ نہیں ہو رہا مجھے اس وہم میں جانے کی ضرورت نہیں ہے سو جاو تمھارے باپ کو ڈرامے کرنے کی عادت ہے “
دوکان کے کاغذات کہاں ہیں ” وہ سنجیدگی سے بولی ۔۔
یہ تم میں سے کسی کا مسلہ نہیں ہے نہ ہی کوئی یہ سوال کرنے کا حق رکھتا ہے مجھ سے” وہ زیچ ہوتا دھاڑا تھا ۔
تم کیوں نہیں سمجھتے ہو تم بہت اہم ہو میرے لیے وہ واقعی تمھیں مار دیں گے میں پاگل ہو جاو گی بدر یہ سب بند کر دو ” وہ چلا اٹھای اور رونے لگی ۔۔۔
انھیں کاغذات دے دو پھر ہم یہاں سے چلے جائیں گے ” وہ اٹھی اسکے بازو تھام لیے
تصور بھی نہ کرنا ایسا ” اسنے غصے سے کہا اور بیڈ پر لیٹ گی سوہا کھڑی اسے دیکھتی رہی
کچھ نہیں ہو گا تم اپنی مرضی سے فکر لے رہی ہو ” سوہا نے چہرہ موڑ لیا اور خود بھی واشروم میں چلی گئ
نہ اسنے ماننا تھا اور نہ ہی مان رہا تھا وہ گھیرے گھیرے سانس لیتی رہی پھر بھی بری طرح رو دی کہ اسکے رونے کی آواز باہر تک سنائی دے رہی تھی
کتنا روح کھینچ لینے والا خیال تھا کہ بدر اسکا نہیں رہے گا بدر جبکہ سر پکڑے بیٹھا تھا
اعتبار تو تھا اسکی دیوانگی پر ۔۔۔ لیکن وہ ماضی کو چھوڑنے پر امادہ نہیں تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تایا جان کے ان الفاظوں نے رات کی نیند ہی چھین لی اللّٰہ اللّٰہ کر کے رات کٹی اور صبح ہوتے ہی وہ عمر کے کمرے میں آگئی وہ سکون سے سو رہا تھا جبکہ ۔۔ کروٹ لیتے ہی آنکھ کھول دی ساز ایکدم ڈر گئ وہ مسکرا دیا
شادی سے پہلے یوں انا جانا مناسب نہیں کیونکہ بندہ ناچیز نہایت بے ہودہ موقعے کا فائدہ اٹھانے والا اور ۔۔ آوارہ ہے” اسنے آگے بڑھ کر اسکو کھیچنا چاہا لیکن ساز بروقت پیچھے ہٹی
عمر نے سنجیدگی سے اسے دیکھا
وہ خوش ہو گئ تھی کہ بچ گئ
چلو ۔۔۔ جب ۔۔ وقت آئے گا پھر دیکھو گا “
آپ بات کو کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں مجھے ضروری بات کرنی تھی” وہ بولی اور متفکر سی اسے دیکھنے لگی
مجھ سے ضروری بات کیوں کرنی ہے کیا کرنی ہے”
اب آپ خاموشی سے سنیے گا نہ آپ بہت بولتے ہیں عمر” وہ منہ بنا گئ
اوکے پھر ایک کس بس اسکے بعد تم بولنا میں سنوں گا ” وہ آگے بڑھا
ن۔۔۔نہیں ” وہ بھکلائی اور عمر کو غصہ چڑھا ۔
وہ اپنی جگہ سے اٹھا ساز کا دل دھک دھک کرنے لگا وہ کیوں ائ اس سے مدد لینے ۔۔ وہ پچھتانے لگی جبکہ وہ لحاف ہٹا کر اٹھا وہ پیچھے ہوتی گئ اور جلدی سے بھاگ کر صوفے کے پیچھے ہو گئ ۔دیکھو اب وقت تم ضائع کر رہی ہو ” وہ ناراضگی سے بولا
تو ۔۔ تو آپ ایسے کام کیوں “
تو بیوی ہو تم میری ” وہ ہلکا ہلکا اسکی جانب بڑھا اور ایکدم اسے اچک کر بیڈ پر پھینکا ساز کے اوسان خطا ہو گئے ۔
Will you be my food tonight 😋 “
وہ لبوں پر زبان پھیرتا ۔۔۔ اسے آنکھ مارتا مکمل ڈرا چکا تھا
ساز نے اپنا دوپٹہ ٹھیک کیا اور عمر کا قہقہہ بلند ہوا وہ ساتھ بیٹھ گیا ۔۔۔
واہ واہ عمر خیام تمھاری اپنی ہی بیوی تمھاری حرکتوں پر اپنا دوپٹہ سیٹ کر رہی ہے “
اچھا بولو بچہ بولو اب مزید تنگ نہیں کرنا تمھیں ۔۔ ” وہ اسکے گال کھینچتا بولا جبکہ ساز کی بس ہو گئ تھی
وہ ۔۔۔۔ میں جا رہی ہوں” وہ اٹھنے لگی عمر نے اسے دوبارہ بیٹھا لیا
بات کرو میں واقعی اب تنگ نہیں کروں گا ” وہ سنجیدہ تھا ساز کو بھی لگا اب سنجیدہ ہے ” وہ مڑی اسکے جانب دیکھا ۔۔۔
ع۔۔۔عمر “
یس پرینسیز ” وہ اسکا روشن چہرہ دیکھ رہا تھا ساز کو اسکی نظروں سے ہی پریشانی ہوئی
وہ ۔”۔ اسنے نگاہ جھکا لی تاکہ بات مکمل کرے
وہ تایا جان ۔۔۔۔ ” ایکدم وہ بلکل سنجیدہ ہو گیا
کچھ کہا ہے تمھیں انھوں نے”
ن۔۔نہیں مجھے نہیں وہ ۔۔۔ وہ بھائی کو مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں وہ۔۔۔ وہ چاہتے ہیں بھائی اپنی دوکان کے کاغذات واپس انھیں کر دیں تاکہ بھائی انکے ماتحت ہو جائیں اور پھر ویسی ہی زندگی گزاریں مگر بھائی نہیں دے رہے اور انھوں نے بھائی کو دھمکی دیں ہیں عمر مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔ “
اس فلوپ فلم میں میرا کردار ہیرو کا ہے یہ ویلن کا ” وہ بولا جبکہ ساز منہ بنا گئ
آپ سیریس نہیں ہوتے ” وہ وہاں سے اٹھی
اچھا سوری یار اویں ناراض ہو جاتی ہو ۔۔
اچھا تو تم کیا چاہتی ہو اس کہانی ایک شریف ہیرو کیطرح تمھارے بھائی کی جان بچاو اچھا ہے مر جاے جان بچے سب کی” وہ سر جھٹک کر بولا
عمر” وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی جیسے اسکے لفظوں دل دکھا گئے تھے آنکھوں میں پانی بکھر گیا اور پھر ٹپ ٹپ آنسو بہنے لگا
اچھا سوری سوری پلیز مت رو ۔۔ اچھا نہ ۔۔ یار ۔ ” وہ جلدی سے اسکے انسو صاف کرنے لگا ۔
آپ ۔۔۔ اپ کیسی باتیں ” وہ سسکی
اچھا اب نہیں کروں گا ۔۔۔ لیکن میں کیا کروں تمھارا بھائی سمجھدار ہے وہ دیکھ لے گا ” ایسے الفاظ بولتے ہوئے خود ہی منہ کڑوا ہو گیا تھا
نہیں وہ نہیں مان رہے میں کہہ رہی تھی کہ ۔۔آپ اپ ۔۔” وہ کچھ جھجھک سی گئ
ہاں میں تمھارے بھائی کی حفاظت کروں باڈی گارڈ سمجھا ہے کیا “
وہ بگڑا
سوری ” ساز نے جیسے دیکھا تھا وہ پھر چپ ہو گیا
حکم فرمائیں” وہ بولا تو ساز کنفیوز بھی تھی
آپ ۔۔ اپ پیسے دے دیں “
تمہیں ؟ نہیں
تمھارے بھائی کو ” وہ سوال پر سوال کر رہا تھا
تایا جان کو “
اس سے کیا ہو گا ” وہ سمجھا نہیں
وہ پھر بدر بھائی کا پیچھا نہیں لیں گے
واہ کیا سکیم ہے میری بیوی کے پاس ۔۔ شوہر کنگلہ ہو جائے “
آپ ” وہ کچھ بھی بولنے نہیں دے رہا تھا ۔
آپ کے پاس تو بہت سارے ہیں نہ ” وہ اسکے ہاتھ تھام گئ جبکہ عمر نے اسکی جانب دیکھا
پلیز عمر “
پلیز ” وہ ہنس دیا اور بڑی نرمی سے اسے بانہوں کے گھیرے میں لیا
ائندہ پلیز مت کہنا جو میرے پاس ہے وہ ۔۔ سب تمھارا ہے تم کسی کتے کو دو یہ بلی کو میں کسی دن سوال نہیں کروں گا ” وہ بولا جبکہ ساز کو اسکے دل کی دھڑکن سنائی دے رہی تھی
کتنا خوبصورت لگا تھا وہ دل جو اسے چاہ رہا تھا وہ شرما سی گئ
ایک منٹ ” وہ بیچ میں ہی ٹوک گیا کہ ابھی راضی نہیں تھا وہ ۔
تمھارے تایا کو پیسے دوں میں اور مجھے بدلے میں ۔۔ شنی “
آپ ۔۔۔ اپ بہت بدتمیز ہیں”
ہیلو ہیلو چیک تبھی کٹے گا جب ایک کس ملے گی ۔۔
وہ بھی تم خود دو گی سمجھی اب سوچ لو “
وہ سکون سے بول کر لیٹ گیا ساز کی تو ٹانگوں میں جان ہی نہ رہی ۔۔ وہ مڑ کر اسے دیکھنے لگی وہ چالاک تھا بہت شاید اسے تنگ کر رہا تھا ۔
سوچنا بھی نہ مفت میں کچھ دوں گا تمھیں ۔۔۔ اور ہاں وہ اٹھ کر اسکے سامنے آیا
میرے ساتھ شادی کی شاپینگ کرو گی ناراض بلکل نہیں ہو گی جہاں میرا دل کرے گا میں کس کروں گا ۔۔ پیار کرو گا جب دل کرے گا تمھیں کمرے میں بلا لوں گا جب دل کرے گا تمھارے کمرے میں گھس جاو گا اور ہاں بھوک لگ رہی ہے ناشتہ بنا دیا کرو میرا ۔۔۔ کام چور ” وہ لسٹ اسے سناتا جھک کر اسکے گال چومتا وہاں سے فریش ہونے چلا گیا جبکہ ساز ۔۔ بے چارگی سے واشروم کا دروازہ دیکھنے لگی جہاں وہ چلا گیا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناشتے کی ٹیبل پر سب تھے اور تبھی سبحان اور اسکی والدہ بھی ا گئیں بدر سے ملے نجما سے ملے جبکہ تایا جان مسکرا کر دیکھنے لگے اب کیا کرتا وہ۔۔۔۔
ساز فورا ہی کچن میں چلی گئ تھی
ارے ساز کہاں جا رہی ہو ادھر ا کر بیٹھو میرے ساتھ ۔۔۔۔
زبردستی اسے اپنے پاس بیٹھا لیا دوسری طرف سبحان بیٹھا مسکرا رہا تھا
آنٹی وہ میں کچن میں”
ارے بیٹا جانے بھی دو اب ان کاموں کو ” وہ بولیں جبکہ ۔۔ ساز کو عمر کی فکر تھی اور چچی حسرت سے اس لڑکے کو دیکھ رہی تھی وہ انکی بیٹی کے لیے بھی تو ا سکتا تھا انھیں اسی بات کی وجہ سے ساز سے چیڑ اور نفرت ہو گئ تھی
ہاں جی بدر بیٹا آپ نے کہا تھا ڈائیورس ہو جائے گی تو ۔۔۔
آگے معملات بڑھائیں گے ” وہ بولیں
جی لیکن ” ابھی وہ جواب دیتا عمر سیڑھیوں سے اتر کر وہیں آ رہا تھا سارا گھر اب یہ تماشہ کافی شوق سے دیکھنے والا تھا
تم پھر ا گئے ” وہ ساز کو اس بیچ سے کھینچ کر اپنے بازو کے ہلکے میں لے کر کھڑا ہو گیا ۔
ساز کا دم خشک ہو گیا سارا گھر اور چند اجنبی لوگ ۔۔۔ سب اسکی بے ہودگی دیکھ رہے تھے کتنی باتیں بناتے وہ اسکے بازو کے ہلکے سے نکلنا چاہتی تھی لیکن عمر خیام نے نکلنے نہ دیا
سبحان کی والدہ کو یہ خبر نہیں تھی کہ عمر واپس ا گیا تھا ۔
سبحان نے گھور کر اسے دیکھا ۔
یہ کیا ہے بدر “
عمر خیام نظر نہیں آتا ۔۔۔ یہ دیکھو عمر اور یہ ساز “عمر کی ساز”
اور سنو آنٹی جی ۔۔ یہ میری ہے اپنے اس پھٹے ہوئے بیٹے کو سمجھا دو کہ جو عمر کا ہے ۔۔ وہ اسے کسی کو نہیں دے گا کسی صورت نہیں اور یہ آخری بار منہ سے سمجھا رہا ہوں اگلی بار تمھارے ماتھے میں گولی ماروں گا ” وہ سکون سے انکے گال کھینچ کر مسکرایا ۔
ایسے کیسے ۔۔۔ تمھاری ہے ہم نے رشتہ ڈالا تھا
اچھا “
عمر مڑا ساز کی جانب دیکھا اسکا چہرہ پکڑا اور پورے گھر کے سامنے اسکے چہرے پر جھکتا کہ ساز نے چہرہ چھپا لیا وہ ہنس دیا ۔
کیا خیال ہے ثابت یہیں کر دوں یہ میری ہے اینڈ ہم شاپینگ پر جا رہے ہیں بائے ” وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر باہر نکل گیا جبکہ سب دنگ نظروں سے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے اور وہ لے کر بھی اڑ گیا
بابو سب کے بیچ میں نہیں بیٹھ جاتے ۔۔ ” گاڑی سٹارٹ کرتے وہ بولا لہجے میں جتنی محبت تھی ساز نے مسکراہٹ روک کر دیکھا اسکی گاڑی کی آواز ہی دل کی دھڑکنیں بڑھا دیتی تھی ساز کو لگا سانسیں اب بھی اوپر نیچے ہو رہیں تھیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سبحان کی والدہ تو اکھڑ ہی گئیں اور بدر نے بڑی مشکل سے ان سے بات چیت کی لیکن وہ کیس کروانے کی دھمکی دے چکیں تھیں ۔
نہیں نہیں آپ کوشش کریں انشاءاللہ شادی ہو گی میری اور ساز کی سبحان اب بھی باضد تھا “
ایسا نہیں ہونے دوں گی اسکا شوہر دیکھتا نہیں تمھیں” وہ بھڑکیں
سبحان نے بدر کو دیکھا
میں معافی چاہتا ہو سبحان ” وہ بولا تو سبحان نے دانت پیس کر اسے دیکھا لیکن مجھے تمھیں معاف نہیں کرنا میں تمھیں اچھے سے بتاو گا اور اس عمر خیام کو بھی اور ساز سے شادی میں ہی کروں گا “
خیر پھر تمھیں عمر اچھے سے بتا دے گا ” بدر بھی زیچ ہوتا بولا
اچھا اسے تم لوگوں نے غنڈہ بنا رکھا ہے ” سبحان غصے سے اگ بگولہ ہو گیا ۔
نہیں ساز کے معاملے میں وہ ایسا ہی ہے تم اچھے سے جان گئے ہو اسے تو پنگے نہ لو جا سکتے ہو تم اب “
بدر نے جان چھڑایا اندر ا گیا آج اسنے گھر دیکھنا تھا تاکہ اپنی ماں کو یہاں سے لے جائے وہ ناشتہ کر رہا تھا سوہا بھی اب اس کے ساتھ الگ ہی کرتی تھی ۔
سامان پیک کر لینا ” سوہا نے اسکی صورت دیکھی ۔۔۔ دیکھی تو سب نے ہی تھی ۔
بدر میں کہیں نہیں جاوں گی یہاں سے ۔۔۔ تمھارے باپ کی نشانی ہے یہ گھر ان سے جدا ہو گئیں ہوں اسطرح نہ کرو ” وہ مدھم آواز میں بولیں
بدر نے ماں کو گھیرہ سانس بھر کر دیکھا
سب ٹھیک ہو جائے گا ” وہ انکو تسلی دے کر اٹھ گیا ۔
تایا جان نے اسے غصے سے دیکھا تھا وہ نظر ہی نہ آئے تو ہی اچھا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شادی کی شاپینگ کروائی تھی اسنے ساز کو اور وہ اتنا خوش تھا کہ اسنے سب کو شاپینگ کے لیے پیسے دیے تھے ۔۔
اور کسی نے بھی انکار نہیں کیا اور وہ پانی کیطرح پیسہ اڑانے لگ گیا لیکن اسنے اب تک اشفاق صاحب کو نہیں دیے تھے اپنی شادی کی خوشی میں وہ بری طرح مگن تھا جبکہ بدر گھر ڈھونڈ چکا تھا نجما یہاں سے جانے پر راضی نہیں تھی وہ کیسے ان کو چھوڑ کر نکل سکتا تھا تبھی بلاخر وہ بھی یہیں تھا ۔۔۔ اور سوہا نے محسوس کیا تھا وہ ایک بار پھر اسکو اگنور کر چکا تھا ۔
اور دوسری طرف ۔۔۔ عمر کی شادی
دل دکھ رہا تھا اسکا کہ وہ محبت کیوں نہیں کر سکتا اس سے ۔۔
لیکن اب تک کوئی جواب نہیں ملا تھا اسے اس بات کا وہ اسی طرح اجنبی ہو گیا اسے لگتا تھا وہ پاگل ہے جو چند لمہوں کی اسکی توجہ پر ہر تلخ بات کو بھلا دیتی ہے اس امید سے کہ شاید اب کچھ بہتر ہو جائے شاید وہ ۔۔ وہ اسکو محبت کی نگاہ سے دیکھے اپنے سینے پر اسکا ہر وار سہنے کے باوجود بھی اسے کچھ حاصل نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔
وہ گھر کے چھوٹے سے لون میں بیٹھی تھی ۔۔۔۔ بہت کچھ تھا جو دماغ میں چل رہا تھا ۔۔۔
عمر نے وہ گاڑی یوز کرنا چھوڑ دی تھی معلوم نہیں وہ کیسے آتا جاتا تھا وہ گھر میں داخل ہوا تو کسی سے فون پر بات کر رہا تھا سوہا نے اسکی جانب دیکھا اور ایزہ کی ریکوسٹ یاد ا گئ ۔
کیا وہ اب بھی خود غرض ہو جائے کہ عمر اپنی ہی بہن کو اپنی خوشی میں شامل نہ کرے کیسے کیسے ممکن تھا یہ اسنے سر اٹھایا وہ اسکے سر پر ہی کھڑا تھا
وہ گھیرہ سانس بھر گئ
تم بڑی بے مروت ہو ۔۔ مجال ہے کسی چیز میں ہیلپ بھی کرو ” وہ موبائل پاکٹ میں ڈال کر بولا ۔
سوہا نے اسکی جانب دیکھا اسکا دل اسکے کانوں میں دھڑکنے لگا تھا کیا وہ بتا دے اسے ۔۔۔۔
کیا وہ سچ بتا دے ۔۔۔۔ اسکے بعد ۔۔۔۔ اسکے بعد اسکی شکل بھی نہیں دیکھے گا ۔۔۔ وہ کیا کرے “
کیا ہوا بھئ ” وہ اسکے آگے چٹکی بجائے اسنے جبکہ سوہا ہوش میں آئی ۔
وہ میں ۔۔۔ وہ تمھیں بہت اہم بات بتانا چاہتی ہوں “
کیا ” اسکے بھکلانے پر وہ کچھ تیوری چڑھا کر بولا
وہ ۔۔م ” ابھی کچھ بولتا کہ اسکا فون بجنے لگا ۔
ہاں یار ڈیکوریشن میں کوئی کمی نہیں ہونی چاہیے
نہیں یہیں کروں گا ہاں ٹھیک ہے ٹھیک ہے ” اسنے کال بند کی
ہاں بولو “
عمر ” سعود کی پکار پر وہ مڑا
عمر ” سوہا میں بعد میں سنو گا تمھاری بات وہ وہاں سے چلا گیا جبکہ سوہا کہ حلق میں سب پھنس گیا وہ یہ بوجھ خود پر سے اتارنا چاہتی تھی ” اسے علم نہیں تھا بدر کب گھر میں ایا کب وہ کمرے میں گیا وہ اپنے خیالات میں اسطرح مگن تھی کہ اندازا نہ ہوا وہ اندر کمرے میں آئی وہ کھڑکی کے پاس کھڑا تھا ۔
سوہا کو حیرانگی ہوئی مگر سوال کوئی نہیں کیا ۔
کیا بتانا چاہتی تھی تم اسے ” اسکے سوال پر سوہا نے مڑ کر دیکھا
سب سچ ” وہ بس اتنا ہی بولی
پاگل ہو گئ ہو تم ” وہ غصے سے بولا ۔
اس میں پاگل پن والی کیا بات ہے ایزہ کا کوئ قصور نہیں وہ کیوں دور رہے یہ اپنے بھائی کی خوشیاں شامل نہ ہو “
تم زیادہ مہان بننے کی کوشش نہ کرو وہ جان سے مار دے گا تمھیں “
ٹھیک ہے ” وہ جیسے تھک گئ ہو بدر حیرانگی سے دیکھنے لگا اسکا بازو چھوڑ دیا ۔
جان بوجھ کر مجھے ایمپریس کرنے کے لیے یہ سب کر رہی ہو ” وہ ہلکا سا مسکرائ ۔۔
نہیں تم صرف مجھے تھکا رہی ہو اور میں میں واقعی تھک گئ ہوں مجھے تم سے کچھ نہیں چاہیے بدر ہماری زندگی ایسی ہی ہے ایک دوسرے سے الگ ۔۔۔ ” وہ کہہ کر باہر نکل گئ بدر نے ٹیبل پر لات ماری اسکا رویہ سخت زہر لگ رہا تھا یہ ٹھیک ہے لڑتی بھڑتی تاکہ وہ جیسا بھی رویہ رکھتا جائز کرتا یہ کیا جھکتی ہی جا رہی تھی ۔۔ اور وہ اپنے اندر اندر۔ناجائز سمجھنے لگ گیا تھا اسکے ساتھ جو بھی کر رہا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسنے ایک خط لکھا اور وہ خط ۔۔۔۔ عمر کے کمرے میں دینے ا گئ ۔۔
اسنے دروازہ بجایا وہ لیپ ٹاپ کھولے بیٹھا تھا
اوہ ۔۔ ہائے فرینڈ ادھر او تمھیں ایک چیز دیکھاو میری تو بیوی نواب زادی ہو گئ ہے” وہ بولا ۔۔اور اسکی سمت لیپٹاپ کر دیا
دیکھو کل کے لیے یہ سیٹنگ کروا رہا ہوں کیسی ہے “
بہت اچھی ہے ” وہ مسکرائی اور پیپر اسکی ٹیبل پر رکھ دیا کچھ نہیں بولی تھی وہ ۔
اچھا یہ بتاو تمھاری شاپینگ ہو گئ ” وہ بولا ۔۔ اور پیچرز چینج کرتا دیکھنے لگا تھا ۔
ام ۔۔ ہاں جو ہے پہن لوں گی ” وہ بولی اور مسکرا کر اٹھنے لگی
یعنی وہ تھارے نو دولتی شوہر نے تمھیں کچھ نہیں دلایا ابھی تک ” وہ اسکی شکل دیکھنے لگا
وہ مجھے اس قابل سمجھتا ہی نہیں پھر میں نے بھی خود کو سمجھنا چھوڑ دیا میرے پاس ہیں تم ٹینشن نہ لو ” عمر نے لیپ ٹاپ بند کیا گھیرہ سانس بھرا ۔
او ان دونوں بہن بھائیوں کو جلاتے ہیں “
عمر نہیں “
چپ کرو تم “
وہ غصہ کرے گا “
کرتا رہے ” وہ پکڑ کر اسے باہر لے ایا اور سکون سے باہر لے جانے لگا
ساز نے حیرانگی سے دیکھا تھا جبکہ بدر نے بھی
وہ آگے بڑھ کر روکتا کہ وہ جا چکے تھے
غصے سے خون کھول گیا منع بھی کیا تھا پھر بھی چلی گئ تھی وہ ۔۔۔
وہ اداس تھی ۔۔ خود پر شرمندہ تھی اپنے ماضی پر شرمندہ تھی اتنا سب ہونے کے باوجود وہ اسکے ساتھ واقعی دوستانہ رویہ رکھتا تھا کبھی سوہا نے اس سے بات تک نہیں کی تھی اور اب وہ سوچتی رہی عمر بولتا رہا ۔۔
اور وہ پیپر وہیں رہ گیا
لیکن اسنے سوہا کو بہت کچھ دلوایا تھا بہت مہنگا بہت ہائی کلاس پانچ پانچ ہزار کا سوٹ پہن کر خود کو بہت ماہر سمجھنے والی لڑکی کو آج اندازا ہوا کہ چالیس ہزار کا بھی کوئی ڈریس ہوتا ہے جو خرچ کرتے ہوئے ایک لمحہ بھی نہیں لگا رہا تھا ۔
اور ایک بدر تھا اب تک کمرے میں ہیٹر نہ لگا سکا اسکے ساتھ رہتے موڈ واقعی فریش ہو گیا
ان دونوں نے اتنی سردی میں ائسکریم کھائ اور کچھ پکس بھی لیں
سٹیٹس پر لگا کر شوہر کو جلنا ” وہ ہنسا ۔
خوش ہو ” وہ بولی
بہت یوں لگتا ہے زندگی میں پہلی کوئی خوشی ملنے جا رہی ہے ۔۔”
وہ مسکرایا تو سوہا بھی مسکرا دی
سوری عمر میں نے اگر کبھی تمھارا دل دکھایا ہو ” وہ شرمندگی سے بولی
اوہ تم میری دوست ہو یہ سوتیلی بہن والا رشتہ مجھے بنانا ہی نہیں سو چل کرو ” وہ مزے سے بولا ۔
وہ سر ہلا گئ عمر اسے پارلر لے گیا
یہاں کیوں لائے ہو “
او تو سہی “
تم بھی جاو گے ” وہ ہنستا ہوا اسے اندر لے گیا اور اسکے بعد اسنے سوہا کے فیس ٹریٹمنٹ سٹارٹ کرا دیے تھے دنیا میں پیسہ سب کچھ ہے پیسہ آپکے پاس ہو تو آپ دنیا کے سب سے حسین انسان ہو اور یہ بات واضح تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
