Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 65
No Download Link
Rate this Novel
Episode 65
وہ جلدی جلدی اسکے لیے ناشتہ بنانے لگی اور مسکراتی نگاہیں منتظر تھیں کہ وہ ابھی ا جائے گا اور روز کیطرح اسکو پیچھے سے پکڑ کر اسکے گالوں پر پیار کرے گا وہ ناشتہ بنانے میں مصروف تھی کہ اچانک ہی باہر سے چوکیدار آیا اسنے چوکیدار کو خود ہی منع کیا تھا کہ آئندہ کوئی بھی آئے وہ اس سے پوچھے بنا کسی کو اندر نہیں آنے دے اور اسکے بعد وہ تسلی میں آ گئ تھی چوکیدار نے اسے وہ پیکٹ دیا ۔
یہ کیا ہے اسنے پیکٹ کو الٹ پلٹ کر دیکھا
یہ کوئی دے کر گیا ہے بولا ہے عمر صاحب کو دے دیں” چوکیدار نے کہا تو ساز نے سر ہلایا اور وہ چلا گیا
ساز نے وہ لفافہ سائیڈ پر رکھ دیا لیکن تجسس سا ہونے لگ کہ اس میں کیا ہو گا
اسنے عمر کو نیچے نہ دیکھ کر وہ لفافہ کھول لیا اس میں تصویر تھی اسنے اس تصویر کو نا سمجھی سے دیکھا اور یوں لگا اسکے سر پر آسمان ٹوٹ پڑا ہو۔۔۔ ۔
اس تصویر کے پیچھے ایک تحریر درج تھی جس پر لکھا تھا
ناز کا سابقہ عاشق یہ ہے شاہنواز جو تمھاری بہن ایزہ کا شوہر ہے اور ۔۔۔ اور ناز نے اسکی وجہ سے اشفاق صاحب کے ساتھ بے وفائی کی تھی وہ ایک گندی عورت تھی اور یہ آدمی بھی گندہ ہے ۔
وہ ناز کی اور شاہنواز کی تصویر دیکھنے لگی فروری میں بھی حالانکہ کا موسم زبردست تھا لیکن اسکی پیشانی سینے سے بھر گئ تھی اسکے ہاتھ پھول گئے ۔۔۔۔
ہیلو میڈیم ” عمر کی آواز پر ایکدم اسنے تصویر چھپا لی وہ اوپر کھڑا تھا
جی ” وہ بھکلائی بھکلائ سی بولی
وہ میری شرٹ کا بٹن ٹوٹ گیا کوئی اور شرٹ دے دو ” وہ اسپر توجہ دیے بنا بولا
آ۔ ج۔۔جی میں دیتی ہوں” وہ کہہ اندر چلا گیا اور ساز کانپ رہی تھی باقائدہ اسکے وجود میں لرزش تھی اسنے سانس اندر اتارا وہ اسے پکار رہا تھا ۔
بہت ضدی تھا اتنا تو اندازا تھا اسے اسے سمجھ نہیں ائ کہاں چھپائے یہ وہ بھاگ کر ناز کے کمرے میں ا گئ کیونکہ عمر ایک بس اس کمرے میں نہیں جاتا تھا وہ جلدی سے چھپا کر بھاگ کر اوپر ائ اور کمرے میں جیسے ہی آئ وہ چیڑا کھڑا تھا
اسے دیکھ کر تھوڑا سا حیران ہوا
کیا ہوا ایسے پریشان کیوں ہو رہی ہو “
آپ اپ نے پریشان کیا ہوا ہے ہر وقت ساز چاہیے اپکو ” وہ بولی اور اسکے نزدیک آئی
تو ہر وقت ساز چاہیے دیکھو ساز کئ علاوہ کسی کو مانگا ہے بھلا جو ساز ایسے چیڑ رہی ہے ” وہ اسکے گرد بازو باندھ گیا
چیڑ تو نہیں رہی ” وہ بولی جبکہ عمر نے جھک کر اسے پیار کرنا شروع کر دیا
اف اف عمر” وہ منہ پر ہاتھ رکھ گئ ۔
عمر ہنس دیا اور اسے اپنی شرٹ کا بٹن دیکھانے لگا
کیا کروں اب اس کا “
کب سے دیکھ رہا ہوں کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا سوچ رہا ہوں شاپنگ کر لوں ” وہ پر سوچ ہوا
عمر جب کچھ ٹوٹ جاتا ہے تو اسے جوڑا جاتا ہے جیسے میں ا بھی اس بٹن کو جوڑ دوں گی” وہ سر پر ہاتھ مارتی بٹن کو لگانے کے لیے سوئی ڈھونڈنے لگی تھی
نہیں ہر ٹوٹ جانے والی چیز جوڑتی نہیں اور یہ بھی نہیں جوڑے گا کیونکہ اس گھر میں سوئی نہیں ہے ” اسنے کہا اور شرٹ اتار کر اسکے ہاتھ میں تھما دیا اور دوسری شرٹ کھیچنے لگا ساز چپ ہو گئ اور عمر نے نئی شرٹ نکال لی
آج شوپنگ کرنی پڑے گی وہ بڑبڑایا اور ساز تو جیسے اسی تصویر میں اٹکی ہوئ تھی ۔
خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی جبکہ وہ بول رہا تھا وہ شرٹ پہن کر بال سنوار کر گھیرہ سانس بھر گیا
کب تک یوں ہی دیکھتی رہو گی پہلے ہی کاٹھ کا الو بنا دیا ہے تم نے مجھے” وہ ہنسا جبکہ ساز ہلکا سا مسکرا دی
اپنا خیال رکھیے گا اور ہاں وہ میں نے اپکے لیے لنچ بنایا ہے ” وہ پیار سے اسے آنکھیں پٹپٹا کر دیکھنے لگی
و۔۔۔ووواٹ ۔۔ لنچ بنایا ہے اسکے اندر ہی جیسے بات آر گئ
ہاں نہ آپ اب آفس جاتے ہیں ٹفن لے کر جائیے گا
یہ اللّٰہ ” وہ اسے دور کر گیا
انسان بن جاو ساز تم ” وہ گھور کر بولا
میں نے بہت محنت کی ہے ” وہ منہ بنا کر اسکے نزدیک ہوئی اور اسکی شرٹ کے بٹن سے کھیلنے لگی
میں کبھی سکول نہیں لے کر گیا تم مجھے اس عمر میں ٹفن دینا چاہتی ہوں یار ساز میرا کوئ سٹینڈرڈ ہے لوگ جانتے ہیں مجھے”
آپ ٹفن لے کر جائیں گے ورنہ میں نہیں جانے دوں گی” وہ منہ بسور گئ ۔
عمر اسے آنکھیں نکال کر دیکھنے لگا
میں نہ تمھیں بتا بھی دوں گا پھر ” وہ اسکا چہرہ پکڑ کر ایکدم اسکے لبوں پر پیار کرتا نیچے اتر گیا
عمر ۔۔ عمر رکیں نہ میں بے اتنے پیار سے بنایا ہے پلیز لے جائیں سینڈوچ ہیں ” وہ جلدی جلدی بولنے لگی
کبھی نہیں ” وہ بولا اور لاونج سے نکلنے لگا
ساز پیچھے منہ بنا کر کھڑی ہو گئ
یار میرا کوئ سٹینڈرڈ ہے ” وہ پاوں پٹخ کر بولا
تو آپکے سٹینڈرڈ میں نے دیکھنے ہیں ساری دنیا نے نہیں ” وہ آگے بڑھی اور اسکے ہاتھ میں لنچ پکڑا دیا
میں کتنا عجیب لگو گا سب ہنسے گے مجھ پر” وہ بولا
کچھ نہیں ہوتا اب جلدی سے ناشتہ کر لیں ” وہ اسکے بال خراب کر گئ
یار تم ” عمر چیخا ساز منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسنے لگی ۔
جبکہ عمر نے اسے کھینچا اور ساز ایکدم اسکی گود میں بیٹھ گئ
میں نہ تمھارا جینا حرام کر دوں گا انسان بن جاو “
کر دیں میں انسان نہیں بنو گی” وہ اسکی ناک کھینچ گئ جبکہ عمر ہنس دیا
بہت تم تیز ہو گئ ہو چلو ناشتہ کرو اور ہاں میرا انتظار کرو گی نہ”
اسے بہت فکر رہتی تھی ساز اسکا انتظار کرے
ہاں جی بہت سارا کروں گی اور اداس اداس رہو گی”
ارے نہیں اداس نہیں رہنا بلکہ ایک کام کرتے ہیں تم میرے ساتھ چل لو ” وہ بولا جبکہ ساز نے نفی میں سر ہلایا اور عمر نے اسکے بالوں کی خوشبو اندر اتاری اور اسکے گال پر پیار کرنے لگا اور کرتا ہی چلا گیا جبکہ وہ دور ہوئی اور اسکے ہاتھ میں کافی کا مگ دیا ۔
جلدی سے پیئیں خیام صاحب آپکے ابو جی کا نہیں ہے آفس “
آہ اتنا اچھا باپ نہیں ہے میرا ۔۔” وہ کافی کے سیپ لیتا ٹائم دیکھنے لگا
گھنٹا اوپر چڑھ گیا تھا جبکہ شاہنواز نے کل بھی اسے کہا تھا کہ وہ وقت پر آئے
وہ سکون سے کافی پینے لگا اور ساز کو دیکھنا تو اسکا پسندیدہ مشغلہ تھا وہ شرمائ شرمائ سی بیٹھی تھی اور وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا
عمر ” وہ کچھ توقف کے بعد سر اٹھا کر بولی
حکم” اسنے کہا ۔
وہ امی کی یاد ا رہی ہے میں چلی جاوں”
اس میں پوچھنے والی کیا بات ہے چلی جاو بلکہ ا جاو تمھیں وہاں چھوڑ دیتا ہوں “
اسنے کپ سائیڈ پر رکھا اور اٹھ گیاجبکہ ساز کو اس تصویر کی فکر تھی
ا میں کچھ دیر میں چلی جاو گی “
کس کے ساتھ ” وہ پوچھنے لگا
وہ ۔۔ وہ بدر بھائی “
نہیں ضرورت نہیں ہے ا جاو ” وہ بولا اور چابی اٹھا کر پاکٹس میں ہاتھ ڈالتا باہر نکل گیا ساز نے ایک نظر مڑ کر ناز کے کمرے کی جانب دیکھا اور پھر اسکے پیچھے نکل گئ ۔
وہ دونوں گاڑی میں سوار ہوئے اور عمر نے گاڑی میں گانا چلا لیا ۔
اور یہ وہی گانا تھا جو وہ اسکے ساتھ پہلی بار بیٹھی تھی تو اسنے چلایا تھا وہ ساز کو دیکھ کر خود بھی گانے لگا تھا ۔
پی لوں ” وہ اسکو آنکھ دبا کر دیکھنے لگا ۔
ساز نے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں اپکو شرم بھی نہیں اتی عمر یہ اتنے گندے گانے کون سنتا ہے” وہ بولی اور بند کر دیا جبکہ عمر نے اسے گھور کر دیکھا ۔۔۔۔
اب کیا شرمانا اچھا سنو رات کھانا باہر کھائیں گے میں جلدی او گا “
ٹھیک سے کام نہیں کرنے لگے اپ اور اپکو گھنٹے پھرنے کی ہوتی ہے ” وہ اسکی جانب چہرہ کیے بیٹھی تھی ۔
جبکہ عمر نے جھک کر اسکے گال پر کاٹنے کی بھرپور کوشش کی تھی لیکن افسوس کہ وہ فورا دور ہوتی اپنے چہرے پر ہاتھ رکھ گئ
کہاں چھپاو میں خود کو آپ سے “
ضرورت ہی نہیں تمھارے پلو سے بندھ گیا ہے عمر اب کہیں نہ جائے گا نہ جانے دے گا ” وہ اسکا ہاتھ تھام گیا جبکہ ساز مسکرا دی اور گھر بھی ا گیا
مت جاو نہ بھاگ چلتے ہیں” وہ بولا اسکا ہاتھ تھاما اور چاہت سے اسکی جانب دیکھنے لگا تو ساز نے نفی میں سر ہلایا ۔
چلو چلتے ہیں پہاڑوں پر گھر بنائیں گے اور ہمارے بہت سارے بچے ہوں گے اور میں درخت کاٹ کر لاو گا تم لکڑیوں پر کھانا بنانا”
وہ بولا تو ساز ہنس دی جبکہ عمر اسکے کھلکھلانے پر اسے نظر بھر کر دیکھنے لگا
بس جائیں خوابوں سے باہر نکل ائیں ” وہ اسکے بال بکھیر گئ
ایک تو تم جب میرے بالوں کو کھینچتی ہو بہت چیڑ ہوتی ہے مجھے”
وہ شیشے میں دیکھ کر بال ٹھیک کرنے لگا ساز مسکرا کر اسے دیکھتی رہی کتنا مطمئین اور خوش تھا وہ ایسے تو پہلے کبھی نہیں لگا تھا اور کیا کچھ تھا جو اسکے پیچھے تھا ساز کا اپنا دل اس حملے پر سنبھل نہیں پا رہا تھا پھر کیسے آخر کیسے عمر یہ سب برداشت کرتا ۔۔۔ وہ اس سوچ کو بھی سوچنا نہیں چاہتی تھی وہ اسکی جانب دیکھتی رہی
اور دل کیا اسے دل میں ہی رکھ لے اسے کاش کچھ بھی پتہ نہ چلے ساز کی آنکھیں سرخ سی ہو کر بھیگنے لگی فکر بڑھنے لگی تھی ۔
چھوٹا سا دل تھا اسکے عمر کا جو ڈرا ہوا تھا اور یہ سچ جان کر وہ بہت بکھر جائے گا وہ باہر نکل گئ ۔
اوکے مائے لیڈی مائے لو چلتا ہوں “
آپ شام میں آئیں گے آپکے لیے کھانا بناو ” وہ پوچھنے لگی
نہیں ہم باہر کھائیں گے جو کہہ دیا سو کہہ دیا ۔
وہ بولا اسے ویو کیا اور فلائنگ کس کی جس پر وہ شرما سی گئ اور عمر گاڑی آگے بھگا گیا ساز بجھے بجھے دل سے اندر آئی حالانکہ کتنے دنوں بعد امی سے مل رہی تھی لیکن پھر بھی بہت دکھی تھی ۔
نجما تو بیٹی کو دیکھ کر خوش ہو گئ سوہا تائی جان ثروت چچی صوفیا صنم سب ملے اور بہت اچھے سے ملے تھے وہ مسکرا دی سب کا اتنا پیار دیکھ کر اور تائی پر حیران ہوئ جو اسپر کوئ طنز نہیں مار رہی تھی الٹا اسے پیار دیا تو وہ ماں کو دیکھنے لگی اب دل میں تسلی ہو گئ تھی کہ اسکی ماں اب ٹھیک ہے یہاں ۔
وہ ان سب کے ساتھ کچھ دیر باتیں کرتی رہی تھی اور اسکے بعد جب سب ادھر ادھر ہو گئے وہ موقع دیکھ کر سٹور میں آ گئ
اسنے ایک بار یہاں ایک البم دیکھا تھا جو کھولنے کی ہمت ہی نہ ہوئی تھی کیونکہ تایا جان کی پرانی چیزوں کو بھی کوئ چھو نہیں سکتا تھا وہ اسی البم کو نہیں چھو پاتی تھی اسنے وہ البم کھولی اور اس میں دیکھا ناز آنٹی کی گرد میں چھپی کئ تصویریں تھیں ان کے ساتھ اشفاق صاحب کی تھی ان کے ساتھ ایک چھوٹے سے بچے کی تھیں جو عمر تھا اتنی قیمتی تصویریں کیسے کاٹ کباڑ میں پڑی تھیں اسنے عمر اور ناز آنٹی کی نکال لیں ۔
ساز یہ کیا کر رہی ہو ” سوہا کی پکار پر ایکدم ڈر کر پلٹی وہ ایسی لڑکی نہیں تھی جو خوف سے سب کچھ کر لیتی ۔۔ اسنے سوہا کو دیکھا ۔۔۔۔ اسکا ڈرا ڈرا چہرہ سوہا کو پریشان کر گیا
تم ٹھیک ہو ” سوہا نے اسکا چہرہ پکڑا بلکل پھیکا رنگ تھا یہاں تک کے چہرے پر پسینہ بھی تھا ساز تمھیں کیا ہوا ہے ؟؟؟
ساز سے برداشت نہیں ہوا اور وہ سوہا کو صبح تصویر والی بات بتا گئ
سوہا کی آنکھیں پھیلیں گئیں
واٹ” اسکی حیران آنکھیں کھلتی جا رہی تھی ایزہ کے شوہر شاہنواز ناز آنٹی کے پرانے عاشق وہ عمر ایزہ شاہنواز
معلوم نہیں مجھے یہ کیا ہے صبح سے وہ تصویر دیکھ کر میرا دل بند ہو رہا ہے عمر شاہنواز سے بہت قریب ہیں وہ یہ سب برداشت نہیں کر پائیں گے اور ایزہ ۔۔
ایزہ یہ جان گئ تو ” ساز باقائدہ رونے لگی تھی شاکڈ سی وہ وہیں بیٹھ گئ
اسکا منہ کھل گیا تھا وہ لبوں پر ہاتھ رکھا گیا
یہ کیا چکر ہے ” مجھے خود سمجھ نہیں ا رہی یہ سب کیا ہے یہ سب تو شاہنواز سر ہی بتا سکتے ہیں لیکن لیکن وہ ہمیں کیسے بتائیں گے”
تمھیں کوئی غلط فہمی تو نہیں “
نہیں بھابھی صبح میرے پاس تصویر ائ ہے “
یعنی وہ ابو نے بھیجی ہے کیونکہ ابو کے پاس ہی ہے وہ تصویر ۔۔۔۔۔”
سوہا بڑبڑائی ۔
یعنی یہ ہی وہ سچ ہے جو وہ عمر تک پہچانا چاہ رہے ہیں ” سوہا بات کی طے تک پہنچی تھی وہ دونوں ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگی
میرے پاس ایک آئیڈیا ہے یہ معمہ کیا ہے اسے سلجھانا چاہیے تبھی شاید ہم عمر کے لیے کچھ کر سکیں ورنہ ورنہ ” سوہا خود خاموش ہو گئ
کیسا پلین ” ساز نے سوال کیا تو سوہا نے اسے کچھ کہا
نہیں عمر میری جان لے لیں گے میں اس جگہ پر کبھی نہیں جاو گی” ساز مکر گئ
ساز یہ معمہ یوں ہی کھلے گا ہمیں جاننی ہو گی ناز آنٹی نے کیا کیا کیوں کیا کیسے سب ہوا عمر کو کیا پتہ ہے شاہنواز کون ہے یہ سب یہ سب ایسے ہی حل نہیں ہو گا ” اسکی بات پر ساز نفی کرنے لگی ۔
میں کوٹھے پر نہیں جاو گی” وہ کہہ کر باہر نکل گئ جبکہ سوہا اسکے پیچھے پیچھے آئی اور باہر سب تھے تبھی بات ختم ہو گئ اور وہ سب کھانا کھانے لگے
کھانا کھا کر سوہا کی طبعیت بری سی ہونے لگی اور اسے وامٹس ا گئیں تبھی وہ اندر چلی گئ اور ساز باہر لون میں ا گئ ۔
وہ ٹھنڈی مدھم مدھم ہوا کو محسوس کر رہی تھی جبکہ عمر کی فکر نے اسکو سوچوں میں غلطاں کر رکھا تھا کہ کب ارہم اسکے پاس آگیا اور ارہم نے اسکے شانے پر ہاتھ پھیرا ساز ایکدم بھکلا کر اٹھی ۔
ارے تم تو ڈر گئ جب اسکے ساتھ مزے کرتی ہو تب تمھیں ڈر نہیں لگتا میرے سامنے ڈرامے لگا رہی ہو ” وہ اسکے قریب جانے لگا
ارہم بھائ آپ پاگل ہو گئے ہیں عمر کو شکایت لگا دوں گی میں آپکی
ہاں اس شرابی کو جو آج تمھارا ہے کل کسی اور کا ارے بھائی تمھارا آج بھی ہوں کل بھی تمھیں مجھ سے شادی کرنی چاہیے تھی
خیر وقت کا کیا ہے شادی اس سے کر لو مزے مجھ سے لے لو ” وہ ساز کا بازو زبردستی پکڑ کر اسے لونڈری کی جانب لے گیا
ارہم بھائ کیا کر رہے ہیں اپ ” وہ خود کو چھڑانے کے لیے اسکے ہاتھ پر مکے برسانے لگی ۔
چھوڑیں میرا ہاتھ آپ یہ کیا کر رہے ہیں عمر اپکو جان سے مار دیں گے
وہ شرابی یہاں ہو گا تو مارے گا نہ ” وہ ہنستا ہوا اسے دوسری طرف گھسیٹ کر لے گیا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج اسے احساس ہوا تھا کہ اسنے ساز کو اب تک کوئی فون نہیں لے کر دیا کتنا بے کار شوہر واقع ہوا تھا جبکہ وہ اسکی جان تھی وہ گاڑی سے اترا اور نہ چاہتے ہوئے بھی اندر آ گیا اور اسنے دیکھا باہر ہی سوہا کھڑی تھی اسے اگنور کر کے وہ اندرا گیا نجما کو دیکھا تائی جان کو دیکھا اور وہاں سب تھے سوائے اسکے جس کی تلاش میں آنکھیں گھوم رہیں تھیں
کیسے ہو بیٹا ” نجما نے سوال کیا
ٹھیک ساز کہاں ہے” وہ دو ٹوک بولا جبکہ ثروت نے سوہا کی جانب دیکھا جو شرمندہ سی ایک طرف ہو گئ تھی
وہ یہیں تھی ابھی میں بھی دیکھ رہی تھی لون میں نہیں ہے کہاں چلی گئ شاید اوپر کمرے میں گئ ہو ” وہ بولی عمر مزید کسی سے بات کیے بنا اوپر ا گیا اور لیکن کمرہ تو خالی تھا وہ منہ بنا کر باہر نکلتا کہ اسے سامنے اپنا کارڑ دیکھا اور وہ اسے لینے کے لیے آگے بڑھا اور کارڈ اٹھانے کے لیے جھکا تو اسکی نگاہ کھڑکی پر گئ تھی ۔
سامنے ارہم کو ساز کے آگے دیکھ کر اسے لگا وہ جھلس گیا اسکے بدن پر تیزاب سا گیر گیا ہو
وہ بنا دوپٹے کے خوف سے کانپتی اسکے سامنے تھی پیچھے ہٹ رہی تھی اسکے آگے ہاتھ جوڑ رہی تھی یہ منظر آج سے پہلے بھی اسنے دیکھا تھا اور تب وہ صرف آٹھ سال کا ایک بے بس بچہ تھا اور آج وہ تیس سالہ عمر خیام تھا اور اسکے بعد عمر کو کیا ہوا اسے خود پتہ نہیں چلا وہ آندھی طوفان کیطرح پلٹا تھا اور تقریبا جس طرح دوڑ کر وہ گھر سے نکلا تھا سب پریشان ہو گئے تھے اور سب ہی اسکے پیچھے لپکے
عمر کیا ہوا ہے” سوہا ہی بولی وہ صحن کی جانب ا گیا اور اسنے ارہم کی شرٹ پیچھے سے جکڑ کر اسے پیچھے کھینچا اور بنا کچھ سوچے سمجھے پاس پڑا گملا اٹھا کر اسکے سر پر دے مارا وہ دیوانہ سا لگ رہا تھا
ارہم چلایا تائی جان اس سے زیادہ چلا اٹھی اور عمر کو کوسنے دینے لگی تھیں
عمر خیام کی بیوی ہے یہ تیرے ہاتھ پاوں کیا تیرے جسم کے ٹکڑے کر دے گا عمر ہاتھ تو کیا گندی نظر بھی اٹھائی تو ” اسکی چھوٹ پر لات ماری تھی
عمر ۔۔۔ عمر رکیں جو ” وہ سب چلائے مگر عمر نے اسکی گردن پر اپنا جوتا رکھ کر دبایا یہاں تک کہ اسکے منہ سے ایک لفظ نہ نکلا اور عمر پاگل سا لگ رہا تھا ساز ایکطرف کھڑی خود کو سمیٹے رو رہی تھی
تبھی اشفاق صاحب بدر بھی ا گئے اور عمر ور ارہم کو گتھم گتھا دیکھ کر اشفاق صاحب نے عمر کو دھکیلا تھا اور کھینچ کر تھپڑ دے مارا اور عمر نے ارہم کے دے مارا الٹا تین تھپڑ مارے تھے
ماریں مجھے ماریں ماریں نہ ہاتھ کیوں رک گیا
دنیا کے سب سے نیچ انسان ہیں اپ” وہ باپ کا گریبان جکڑ گیا
اشفاق صاحب نے اسکو نفرت سے دیکھا تھا ۔
کوٹھے والی کے بیٹے تیری ماں کے عاشق کا پتہ چل گیا ہے مجھے جس سے تو یہ یہ ۔۔۔۔
عم۔۔۔ عمر چلیں یہاں سے” ساز جلدی سے بیچ میں ا گئ اور سوہا بھی
ابو ارہم کیا کر رہا تھا آپ نے کچھ سنا نہیں پوچھا نہیں اور عمر کو مرنے لگے “
چپ رہو تم کیا ہے اسکی اس بیوی میں ایسا جو کوئی اس سے بات نہیں کرتا اور بھلا پھسلا کر یہ مجھے یہاں لائی تھی مولوی اشفاق کا بیٹا ہوں عورتوں سے حدود جانتا ہوں اور صوفیا میری منگیتر موجود ہے اگر کچھ کرنا ہوتا تو اسکے ساتھ کرتا ۔۔۔۔ یہ ہی ملی تھی کیا مجھے اس شرابی کی بیوی آوارہ اپنی ماں کیطرح کوٹھے پر بیٹھا لے کیونکہ تو اسکے اندر کوٹھے والیوں جیسی حرکتیں ڈال چکا ہے “
تایا جان اور ارہم دونوں بولے جبکہ عمر نے ارہم کا جبڑا جکڑ لیا اور جھٹکے سے چھوڑا کر وہ باہر نکلا اور گاڑی میں سے ریوالور اٹھا لایا اور بنا دیکھے اسنے ارہم پر گن تان لی تھی
اور ساز دوڑ کر بیچ میں ائ تھی پتے کیطرح کانپنے لگی بیچ میں خواتین ا گئیں
عمر ۔۔ عمر گھر چلتے ہیں ” ساز نے اسکے آگے ہاتھ جوڑ لیے
جبکہ عمر نے پھولتی سانسوں سے ارہم کو دیکھا تھا اسکے نزدیک گیا اسکا باپ اسکے آگے جم کر کھڑا تھا عمر نے اسکی جانب انگلی اٹھائی
میں ۔۔ تمھیں زندہ نہیں چھوڑو گا ارہم اشفاق تم صرف میری بیوی کو میلی نگاہ سے دیکھنے کا انجام بھگتو گے” کہہ کر وارن کرتا وہ وہاں سے نکلا اور ساز اسکے پیچھے پیچھے نکلی تھی اسنے بڑی بے ترتیب سی گاڑی چلائی تھی اور جب وہ گھر پہنچے تو عمر گاڑی سی پہلے ہی اتر گیا ساز جلدی جلدی اسکے پیچھے اندر آئی اسنے حسب عادت لاونج کی چیزیں توڑنا شروع کر دی تھیں
عمر عمر کیا ہو گیا ہے ” وہ اسکے سامنے ائ عمر سر پکڑ گیا
آپ اپ چھوڑ دیں اس بات کو پلیز “
شیٹ اپ یو جسٹ شیٹ یور ماوتھ تمھارے پاس ہاتھ نہیں ہیں تم اسے کھینچ کر تھپڑ نہیں مار سختی تھی میری سمجھ سے باہر ہے تم عورتوں کے ساتھ مسلہ کیا ہے مردوں کے سامنے اتنی بے بسی کا ” وہ دھاڑا
ساز کیا بتاتی وہ اسکے گھر بھی آیا تھا
عمر ” وہ رونے لگی تھی
میرے سامنے رونے کی ضرورت نہیں ہے ساز ورنہ مجھ سے برا کوئ نہیں ہو گا ” اسنے انگلی اٹھائی بس بس ہی نہیں چل رہا تھا اسکا اسنے موبائل نکالا ساز کے پاس سے اٹھ گیا اسکی آنکھوں میں ایسا منظر پہلے بھی تھا ۔
پہلے وہ کیا کر پایا تھا نہیں کچھ بھی نہیں اسنے شاہنواز کو کال لی ۔
مجھے ابھی اور اسی وقت ارہم سلاخوں کے پیچھے چاہیے بس ابھی” اسکی دھار پر شاہنواز جو سکون سے سٹڈی میں بیٹھا تھا کھڑا ہو گیا
عمر “
میں نے کہا ہے مجھے بھی یہ شخص سلاخوں کے پیچھے چاہیے بس “
اچھا ٹھیک ہے
عمر نہ کریں ایسا پلیز میں ۔۔ میں اب کبھی نہیں جاؤں گی آپ نہ الجھیں ان چیزوں میں”
عمر نے اسے بے دھیانی میں دھکا دے دیا ساز پیچھے جا گیری وہ مڑا تھا ساز فرش پر پڑی رونے لگی
وہ موبائل چھوڑ اسکی جانب بڑھا اور اسکو سینے میں بھینچ لیا ۔
ساز بری طرح کانپتی رو دی
تم کیوں رو رہی ہو تم نہ رو پلیز مجھے تمھارے رونے سے کچھ ہوتا ہے میں تم میرے سامنے مت آیا کرو جب مجھے غصہ آئے تم اچھا چپ ہو جاو ہے ہنی ایسے تو مت رو مجھ سے غلطی ہو گئ یار میں بے دھیانی میں دھکا دے گیا ” وہ فورا اس دھکے پر معذرت کر رہا تھا
پلیز عمر ارہم بھائی کو چھوڑ دیں پلیز ” وہ اسکا چہرہ پکڑ گئ ۔
نہیں اسکا نام نہیں لو میں نے کہا تھا نہ وہاں نہیں جانا تم بچوں کیطرح ضد کرتی ہو اسکا نام نہیں لینا آج کے بعد تم نے تم میرا نام لو سو بار لو کسی اور کا نام نہیں لینا ۔۔ تم نے ۔۔۔ تم ۔۔ تمھارے لیے میری محبت کافی ہے نہ “
عمر ” ساز ڈر گئ تھی اسکے اتنے جذباتی رویے پر ۔۔۔ سہمی ہوئی نظروں سے اسے دیکھنے لگی
تمھیں کسی کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے کوئی تمھیں نہیں دیکھے گا تم صرف عمر خیام کی ہو اور جو تمھیں دیکھے گا میں اسکی جان لے لوں گا اور ارہم کی جان لے کر ثابت کر کے دیکھاو گا یہ میں” وہ بولا اور ساز دم سادے گئ ۔۔۔ خاموش ہو گئ
اسے لگ رہا تھا سانس بھی لے رہی ہے تب بھی اسے رونا ارہا ہے
تم نہ رو اچھا میں غصہ نہیں کروں گا ہے ساز ” وہ پیار سے اسے دیکھنے لگا وہ ہلکا سا مسکرا دی عمر نے اسکی پیشانی چوم لی ۔۔۔
جبکہ ساز کا دل ڈوب رہا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
