Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

اسنے کہا تھا وہ آئے گا لیکن دو دن گزر گئے تھے وہ نہیں آیا تھا اور وہ تو کیا شاہنواز دو دن سے گھر نہیں آیا تھا اسے شاہنواز کی پرواہ تھی بھی نہیں جب سے بھائی کو دیکھا تھا بس دل نے دعا کی تھی کہ اسکی نظروں میں وہ سچی ثابت ہو جائے ۔
لیکن دادی جان نے اسکو سنا سنا کر جیسے مزید زخمی کر دیا تھا
حالانکہ اسنے بتایا تھا وہ اسکا اسکا بھائی ہے عمر خیام اسکا سگا بھائی لیکن وہ ماننے کو تیار نہیں تھی اور جب انھوں نے کہا
تیرے باپ نے بتایا تھا تو کتنی آوارہ ہے تجھے کیا لگتا ہے تیرے جھانسے میں آ جاؤ گی اس دن تیرا بھائی بھی وہیں تھا ارہم جس نے بتایا تھا کہ اگر وہ تجھے نہ روکتا تو کسی سے منہ کالا کروا لیتی اسکے دل میں انکے الفاظ چبھے تھے انھیں صرف شاہ کی اولاد کی پرواہ تھی اور وہ دھمکی دے چکیں تھیں کہ جس بھی دن وہ انکا خون انکے ہاتھ میں رکھ دے گی اسی دن وہ شاہنواز اور اسکی طلاق کروا لیں گی
اگر وہ سوچتی تو طلاق شاہنواز اسے دے بھی دے تو اسے کوئی فرق پڑتا تھا وہ اتنی سرد ہو رہی تھی کہ دل کسی چیز میں نہیں تھا محبت تو اسے تھی ہی نہیں شاہنواز سے تو وہ چھوڑ بھی دیتا تو کیا ہو جاتا جب اسکی محبت آگے بڑھ گئ تو اب اسے کسی کی ضرورت نہیں تھی دو دن جس طرح اسنے گزارے تھے یہ بات وہ ہی جانتی تھی م۔۔
دادی جان کا بس نہیں چل رہا تھا اسے مارنا شروع کر دیں ۔
ایزہ نے لاکھ انھیں یقین دلانا چاہا لیکن بے سود بات وہیں کی وہیں تھی وہ اسے بدکردار سمجھتی تھیں اور اسکے علاؤہ کچھ نہیں وہ اس سے حد سے زیادہ بدظن ہو چکی تھی ۔
کچھ دنوں میں جو انکے رویے میں تبدیلی آئی تھی اب وہ ویسی ہی ہو چکی تھی جیسے وہ اسے بیاہ کر لائیں تھیں ۔
وہ دادی جان کو چائے دینے لگی جبکہ انھوں نے اسے گھور کر دیکھا
دفع ہو جا میری نظروں کے سامنے سے شاہ کو آنے دے تیرے تو ٹکڑے کرواتی ہوں میں” وہ بھڑکیں جبکہ ایزہ ذرا سہم سی گئ
اس دن عمر کے سینے سے لگی شاہ نے بھی اسے دیکھا تھا اسنے کہا تھا وہ آنکھوں دیکھی بات پر صرف بھروسہ کرتا ہے اور جب اسکی جب عمر بڑھا تو وہ وہاں سے چلا گیا یقینا وہ غصہ ہو گا تبھی وہ دو دن سے گھر بھی نہیں آیا اب ایزہ چکرا سی گئ
اس بات کی نہیں کہ وہ اسے طلاق دے گا اس بات کی کہ وہ اسپر ہاتھ اٹھائے گا اسکی بات کا یقین نہیں کرے گا ویسے بھی اس نے کہا تھا وہ صرف اسے بیوی کے روپ میں چاہیے اور شوہر کے لیے بیوی صرف بیوی ہی ہوتی ہے
نہ ہی وہ اسکی محبوبہ تھی اور اگر اسکا بچہ اب تک اسکے پاس تھا تو وہ اسے بھی اپنی ضد کے اگے روند دیتا ۔۔۔
وہ پیچھے ہو گئیں دادی جان نے تسبیح پڑھنا شروع کر دی ۔
وہ سائیڈ پر بیٹھ گئ
آوارہ بدچلن غیر مردوں کے سینوں سے چپکتی ہے اے بے حیا یہ ہی خیال کر لیتی کہ میرے شاہ کی نشانی لیے بیٹھی ہے” وہ ہاتھ بلند کرتی پھر سے چیخیں
دادی جان وہ عمر بھائی ہیں میرے سگے بھائی ” اسنے یقین دلانا چاہا
اے بس کر آئ بڑی سگا بھائی تو جو وہ لوگ ہیں وہ کہاں سے ا گئے تیرا سگا بھائی ” وہ طنزیہ بولیں جبکہ ایزہ خاموشی ہو گئ
تیری تو چمڑی سرخ کراتی ہوں نہ ایسی منحوس ہے میرا بچہ دو دن سے گھر ہی نہیں آیا دفع ہو جا تو اپنی شکل لے کر دفع ہو جا “
وہ باضد ہوئیں تو وہ اٹھ کر کمرے میں آ گئ آنکھیں خشک تھیں اسنے اپنا عکس دیکھا آئینے میں سردی کے باعث اکثر وہ سرخ شال لپیٹے رکھتی تھی اور اس سرخ شال میں اسکا گلاب سا چہرہ نکھر جاتا وہ نگاہ پھیر گئ
بات تو حیرانگی کی تھی شاہنواز لاپرواہ نہیں تھا پھر ایسا کیا ہوا جو اسنے رابطہ نہیں کیا یقینا وہ خود میں بہت غصہ رکھ چکا ہے وہ نہ چاہتے ہوئے بھی سہم گئ تھی ۔
وہ انکے کمرے کے ساتھ بنی ٹیرس پر پڑے ٹھنڈے جھولے پر بیٹھ گئ اور ابھی سکون کا سانس بھی نہیں لے سکیں تھی کہ شاہنواز کی گاڑی اندر داخل ہوئی زمیر نے دروازہ کھولا ۔
جب عمر بھائی آئے تھے وہ اس دن کام پر نہیں ایا تھا اور نہ ہی اسے پتہ تھا کہ عمر یہاں آیا ہیں ورنہ جس طرح ایزہ کو سمجھ لگی تھی کہ وہ کتنا لالچی ہے وہ یقینا ایزہ سے بات کرتا ۔۔
وہ شاہنواز کو دیکھنے لگی
جس نے اپنا کوٹ کندھے پر ڈالا ہوا تھا اور دور سے ہی وہ بہت تھکا ہوا لگا اور وہ اندر چلا گیا وہ جلدی سے بھاگ کر کمرے کے دروازے کے پاس ائ اب دادی جان کیا کہیں گی آگے کیا ہو گا سب سوچ کر اسکا چھوٹا سا دل بہت پریشانی کا شکار تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہنواز اندر ایا تو وہ لاونج میں نہیں دیکھی اچھا ہی تھا معلوم نہیں کیوں اب ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اس سے پہلی بار مل رہا ہو اسکے اندر ایسے جذبات تھے جو اسکی اپنی سمجھ سے باہر تھے وہ بہت ٹینشن لے چلا تھا اور لے رہا تھا
وہ تھکے تھکے قدموں سے اندر آیا اور دادی جان کو سامنے دیکھ کر نہ چاہتے ہوئے بھی رک گیا
انھوں نے اسکے سلام کا جواب دیتے ہی تسبیح چھوڑی اور اسے الف سے یے تک کی ساری کہانی بتا دی الٹا چار باتیں مزید بھی لگا دیں کہ دادی جان نے اس دن شاہنواز کو نہیں دیکھا تھا کہ وہ بھی وہی موجود ہے ۔
شاہنواز خاموشی سے سنتا رہا
اور ایسی آوارہ بدذات ہے کہ یوں کہہ رہی ہے میرا بھائی ہے اب بھلا کہاں سے پیدا ہو گیا یہ بدتمیز اسکا بھائی ۔
ایسے ایسے مارنے کو چڑھا تھا مجھ پر کیا بتاو اب میں تجھے” دادی جان تو اب بھی سہمی ہوئی تھیں
شاہنواز نے بے بسی میں سر ہلایا عمر خیام سدھر نہیں سکتا تھا ۔
اب تو کیوں منہ میں گوند لے کر بیٹھ گیا ہے بولا اسے اور اسکے ایسے ایسے تھپڑ لگا آج کے بعد نا محرم کے سامنے بھی نہ پٹخے” وہ برسیں شاہنواز نے گھیرہ سانس لیا وہ کچھ بولتا کہ دادی جان کو غصہ چڑھا گیا
ہو کیا گیا ہے تجھے شاہ غیرت مر تو نہیں گئ تیری “
اے ایزہ ” وہ اسے بلانے لگی جس نے دروازے کی چوکھٹ پر اپنے سفید ہاتھ کی مٹھی بنا لی اور وہ سرخ ہوتی مٹھی کافی حسین لگ رہی تھی وہ ڈر گئ تھی
آئے ایزہ”
دادی نہ بلائیں” وہ بولا انھیں روکنا چاہتا تھا کہ سامنے کے لیے وہ بہت ہمت خود میں جکڑ کر لے لایا تھا لیکن اب لگ رہا تھا اس میں ہمت نہیں تو وہ سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا
اے مر گی کیا “
دادی جان میں دیکھ لوں گا آپ نہ بلائیں اسے ” وہ بات مکمل کرتا کہ ایزہ آ گئ ۔۔۔
جو کچھ وہ کمرے میں ا کر کرتا وہ یہاں دادی کے سامنے ہی کر لیتا تاکہ انھیں یقین ہو جاتا کہ انکا پوتا مرد ہی ہے اور اپنی مردانہ انا کو تسکین کیسے دیتا ہے وہ ۔۔۔
وہ ائ تو شاہنواز نے اسکی سمت دیکھا اسکا سر جھکا ہوا تھا
شاہنواز کے اندر عجیب احساسات تھے جیسے اسکے سامنے اسکی محبت ہو اور وہ کتنا لاپرواہ تھا وہ سر تھام گیا
یوں لگا دماغ پر ہتھوڑے برسا دیے ہوں کیسی نے ۔۔۔
ہائے شاہ شاہ میرے بچے تجھے کیا ہوا ہے ” وہ اٹھیں اس تک پہنچی شاہنواز اب بھی سر تھامے ہوئے تھا
شاہ تجھے کیا ہوا ہے” ایزہ بھی پیچھے پیچھے سے دیکھ رہی تھی
میں ارام کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔
کہہ کر وہ جھٹکے سے اٹھا اور دھڑ دھڑ سیڑھیاں چڑھا گیا
دادی جان سمت ایزہ بھی اسے سیکھتے رہ گئ جبکہ وہ نگاہ ملائے بنا جا چکا تھا
دادی جان کو تو رونا ہی آیا کہ وہ کیا سوچ کر بہو لائیں تھیں اور بہو کیسی نکلی وہ منہ پر دوپٹہ رکھے رونے لگیں اور ایزہ خاموشی سے کچن میں بڑھی
اری دفع ہو جا دیکھ اسے ضرورت ہو گی کسی چیز کی معلوم نہیں کیسی لڑکی ہے” وہ اسکا بازو سختی سے پکڑتی غصے سے جھٹکتی بولیں تو ایزی نہ چاہتے ہوئے بھی اسکے کمرے کی سمت چلی گی
دادی جان نیچے کھڑی ہی گھور رہی تھی وہ اندر جب تک نہیں گی تھی تب تک دادی جان نے اسے گھورا
وہ اندر آئی تو یہاں کا ماحول ہی بہت مختلف تھا ۔۔
ہلکا ہلکا گانا کمرے میں چل رہا تھا جبکہ شاور گرنے کی آواز سنائی دے رہی تھی جس سے مراد یہ ہی تھا وہ نہا رہا ہے ایزہ کا دل کیا بھاگ جائے وہ آنے والے وقت سے خوفزدہ ہو رہی تھی اور وہ باہر جیسے ہی نکلنے لگی دادی جان کو اب بھی لاونج میں ہی دیکھی وہ ملازمہ سے پاوں کی مساج کرا رہی تھیں وہ اندر ہی چلی گئ اور شاہنواز بھی شاور لے کر باہر نکل آیا ۔
اسنے ایزہ کی جانب دیکھا ۔۔۔۔۔
ایزہ نے بھی اسکی سمت دیکھا اور اسکی جانب بڑھی شاہنواز اسے اپنی سمت آتا دیکھتا رہا
ایزہ نے گھیرہ سانس بھرا شاہنواز نے سہولت سے اسکے سانسوں کا یہ اتار چڑھاؤ دیکھا تھا
وہ عمر بھائی ہیں میرے بھائی میرے سگے بھائی ہیں عمر خیام “
اسنے اسکے ہاتھ سے ٹاور لیتے ہوئے خود ہی بتا دیا کہ وہ ڈر ڈر کر مر ہی جاتی ۔
اچھا ٹھیک ہے ضروری ہے یہ بات مجھے بتانا ” شاہنواز نے ٹاول اس سے کھینچا اور ذرا جھنجھلا کر بولا ۔
ایزہ کو اسکے اس رویے کی عادت تھی تبھی برا نہیں منایا شاہنواز اسکے پاس سے ہٹ گیا اس لڑکی سے نگاہ کیوں نہیں ملا پا رہا تھا وہ ۔۔۔۔
وہ بہت اچھے ہیں اپ ان سے ملیں گے تو اپکو بھی اچھے لگیں گے “
وہ اپنے بھائی کا ذکر کرتی مسکرا دی
جانتا ہوں ” بے ساختہ اسکے منہ سے نکلا ایزہ نے چونک کر دیکھا ۔
آپ جانتے ہیں بھائی کو ” وہ سمجھی نہیں تھی
میرا مطلب ایسا ہو سکتا ہے وہ اچھا ہو ” وہ بات گھما گیا
دادی جان غلط سمجھ رہی ہیں” وہ شرمندگی سے بولی
شاہنواز نے برش ڈریسنگ پر رکھا اور زور سے آنکھیں بند کر لیں
تم باہر جاؤ ” وہ اہستگی سے بولا
دادی جان گھوریں گی پھر باتیں سنائیں گی اور خفا ہو گئ ” وہ بولی تو شاہنواز نے مڑ کر اسکی طرف دیکھا چند لمہے دیکھتا رہا جیسے دل نے کہا وہ اب بھی غلط ہے اسکے ساتھ ۔
اسکو اسکے اس رویے کی کتنی عادت ہو گئ وہ کتنا بھی روڈ ہو جائے وہ برا نہیں مناتی ۔۔۔
شاہ اپکو میرا یقین ہے نہ”
وہ اہستگی سے نہ معلوم کس دھیان میں بولی کہ شاہنواز کے اندر تک جیسے سب جھنجھوڑ گئ
اسک بھیگا لہجہ شاہنواز ایکدم اسکی سمت بڑھا تھا وہ جو خول اپنے اردگرد بنا رہا تھا کہ وہ اسے مزید تکلیف نہیں دے گا اس سے دور رہے گا ۔۔۔
کیسے وہ اس سے آنکھ ملائے گا ایکدم اسکی سمت بڑھا اسکا چہرہ تھام لیا
تمھیں کسی اعتبار کی ضرورت نہیں ہے تم پر مجھے انکھ بند کر کے بھی یقین ہے یہ تم نے سوال کیا ہی کیوں مجھ سے ” وہ اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں تھامے پوچھ رہا تھا ایزہ نے آنکھوں کو حیرانگی سے اسپر ٹکا دیا شاہنواز نے بھی اسکی آنکھوں کی حیرانگی بھانپ کی ۔
اپنی بے اختیاری پر ذرا سٹپٹا سا گیا دور ہوا اور اسکا راستہ چھوڑ دیا ۔۔۔۔
میں سونا چاہتا ہوں تھوڑی دیر مجھے اکیلا چھوڑ دو ” وہ بار بار اسے ایک ہی بات کہہ رہا تھا
میں بھی سونا چاہتی ہوں ” وہ بولی
اور بیڈ پر لیٹ گئ جبکہ رات کا کھانا وہ کھا چکی تھی بس دادی جان کو چائے ہی دی تھی اور انکی باتیں برداشت کرنے لگی ۔
شاہنواز نے اسے اپنے بستر پر دیکھا
یہ کیسا متحان تھا وہ سر تھام گیا اور باہر ٹیرس پر ا گیا
آسمان کو دیکھتا وہ کچھ کرنے اور نہ کرنے کے درمیان پھنس گیا تھا
ایک طرف عمر خیام جس سے اسکی محبت والہانہ تھی ایک طرف ایزہ جو دو دن سے اسکے دل کو جیسے گرفت میں لیے کھڑی تھی
عجیب و غریب رویہ تھا اسکا کیا کرے کیا نہ کرے ۔
وہ پہلے جان نہیں سکا اگر وہ جان جاتا وہ کبھی شادی نہ کرتا جب عمر کو اولاد کیطرح سمجھا تھا تو ایزہ جو عمر سے بھی بہت چھوٹی تھی مگر اسکی بیوی تھی
وہ ٹیرس میں رکھی چئیرز پر بیٹھ گیا ۔
اور معلوم نہیں ان سوچوں نے کب اسے نیند کی گہرائیوں میں اتارا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہنواز ” ایک حسین آواز جسے ہر پل سننے کا خواہش مند تھا وہ۔ ۔ وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا
آنکھوں میں حیرانگی لیے انھیں دیکھنے لگا ۔
تم پریشان ہو ” وہ مسکرا رہیں تھیں
آپ یہاں ” وہ کافی حیران تھا ابھی تو یہاں ایزہ تھی وہ سوئی تھی اسکے سامنے پھر ۔۔۔۔۔
ہاں میں ۔۔۔ تم میری بیٹی سے کیوں خفا ہو اب ” وہ دروازے میں کھڑی اپنی شخصیت کا اثر آج بھی اسپر یوں ہی چھوڑتی بولیں
خفا نہیں ہوں” وہ مڑ گیا
پھر “
خفا تو آپ سے ہوں ” اسنے اہستگی سے کہا
مجھ سے خفا تم ہو ہی نہیں سکتے ” وہ ہنس دیں
شاہنواز نے جلتی ہوئی آنکھوں سے انکی طرف دیکھا
کوئی اس طرح بھی اپنی محبت سے فائدہ نہیں اٹھاتا”وہ خفگی سے بولا
تمھیں کتنی بار سمجھانی پڑے گی یہ بات تمھیں مجھ سے محبت نہیں ہے “
جھوٹ آپ جھوٹ بول رہی ہیں بیس سالہ لڑکے کو تو آپ بیوقوف بنا سکتی ہیں پینتیس سالہ شاہنواز کو نہیں تو پلیز یہ کہنا چھوڑ دیں”
لو بھلا تم بھی حد کرتے ہو ” وہ ہنس دیں
بتاؤ ذرا تم نے میرے لیے کس کس مرد کو مرنے کے لیے چھوڑا ” وہ سینے پر ہاتھ باندھے اسے دیکھنے لگیں
کیا مطلب ” وہ سمجھا نہیں
بھئ مجھے بتاو کتنے فہیم ایسے تھے جن کو تم نے میرے لیے مار دیا “
میں کمزور تھا تب “
نہیں تم کمزور نہیں تھے ۔۔
محبت کوئی مجبوری نہیں تمھیں مجھ سے محبت نہیں ہے ہاں تم میری عزت کرتے ہو اور اگر تمھیں مجھ سے محبت ہے تو چلو مانگ رہی ہوں میں وہ محبت تم سے ” انھوں نے ہاتھ آگے بڑھا دیا
شاہنواز جانتا تھا وہ انھیں چھوئے گا تو وہ غائب ہو جائیں گی ہاتھ نہیں تھاما ۔۔۔۔ وہ مسکرانے لگیں
کیا چاہیے “
ایزہ سے عشق ۔۔۔ عشق کی حدوں کو پار کرتا جنون ایسا عشق جو دنیا کی تاریخ میں نہ ہو “
میں اپکے بیٹے سے کر تو رہا ہوں” وہ ڈوبی ڈوبی آواز میں بولا ۔
ہاں تو میرے بیٹے کو کبھی بھولنا بھی مت لیکن اب تمھیں میری بیٹی سے بھی محبت کرنی ہے لیکن اسکے لیے تو محبت تمھارے اندر موجود ہے بس تم مانتے نہیں ” وہ ایزہ کیطرح منہ بنانے لگیں شاہنواز خاموش کھڑا رہا
تم نے مجھے کبھی مایوس نہیں کیا”
اور آپ نے کبھی مجھے خوش نہیں کیا
میں نے تمھیں اپنی قیمتی چیزیں دیں ہیں
لیکن مجھے آپ چاہیے تھی ” وہ ہنس دیں
میرا وجود تمھارے پاس ہے مجھے اس طرح اپنی نظروں اور رویے کی مار نہ مارو ” مدھم ہوتی آواز دور ہوتی چلی گئ شاہنواز اسکے پیچھے چلنے لگا
آپ مت جائیں ” وہ بے چینی سے بولا
میں تمھارے پاس ہی ہوں”
وہ پھر سے مسکرا دیں اور ایکدم اسکی انکھ کھل گئ ۔
یا اللّٰہ ” ایزہ محترمہ جھک کر اسکو دیکھ رہی تھی وہ ڈر کر پیچھے ہٹتا اور ایکدم کرسی سے گیر گیا
غیر ارادی طور پر وہ ہنستی چلی گئ ۔
شاہنواز نے ذرا غصے سے دیکھا ۔
بہت ہنسی ا رہی ہے تمھیں وہ اسی لہجے میں کھڑا ہوتا ہوا بولا ایزہ کی مسکراہٹ سمٹ گئ
سوری وہ میں دیکھ رہی تھی آپ یہیں سو گئے اور پھر کچھ بول رہے تھے
کیا بول رہا تھا ” وہ گھورتے ہوئے پوچھنے لگا
ایزہ سر جھکا گئ
آپ مت جائیں ” وہ بولی جبکہ شاہنواز نے گھیرہ سانس بھرا جیسے خواب یاد ا گیا
اچھا ” اسنے کہا ایزہ سر ہلا کر اسکے پاس سے گزر گئ جبکہ شاہنواز خاموشی سے اسے جاتے ہوئے دیکھنے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تیار ہو کر نیچے آیا تو کافی فریش تھا یہ ہونے کی کوشش کر رہا تھا اسنے نظر گھمائی ایزہ دیکھائی نہیں دی یقینا کچن میں تھی ۔۔ وہ دادی جان کے سامنے بیٹھ گیا انھوں نے تسبیح روکی اور جھک کر پوچھا
تو نے اسکا دماغ درست کیا ” انکے سوال کو رات بھی شاہنواز اگنور کر گیا تھا
دادی جان جو آپ سمجھ رہی ہیں ویسا کچھ نہیں ہے ” اسنے سہولت سے بات سمجھانی چاہی
لو بھلا ویسا کچھ نہیں ہے کا کیا مطلب ہوتا ہے ارے اسکے باپ اور بھائی نے اسکی بدکرداری کے قصے مجھے خود سنائے تھے وہ کیا نام تھا اس لڑکے کا جس کے ساتھ معشوقی کرتی ہوئی پکڑی گئ تھی یہ منحوس ۔۔۔
وہ ” کچھ توقف لے کر سوچنے لگیں
ایزہ کے ہاتھوں ناشتے کی ٹرے کانپ اٹھی شاہنواز نے سرخ چہرے سے دادی جان کی جانب دیکھا
بدر”
ہاں اسکے چاچا کا بیٹا ہے اسکے ساتھ پکڑی گئی تھی تو مان نہ مان شاہ یہ بدکردار ہی ہے اور میں نے تیرا بچہ ہونے کے بعد طلاق دلوا کر اسے اس گھر سے نکالنا ہے اور ۔۔۔
بس ” وہ چلا اٹھا ایزہ کے ہاتھ سے ٹرے چھوٹ گئ چھناکے کی آواز چارو سمت پھیل گئ ۔
اسے یوں لگا ابھی شاہنواز اسکے ٹکڑے کر دے گا بدر اسکی زندگی کا وہ نام تھا جس کا نام لیتے ہوئے بھی اسے خوف محسوس ہوتا تھا اور دادی جان کو اسکے اپنے باپ نے یہ سب بتایا تھا ۔
اسکا بس نہیں چلا کہ زمین کھلے اور وہ اس میں سما جائے وہ خوفزدہ نظروں سے شاہنواز کو دیکھنے لگی
بس کریں اپ ۔۔ دنیا میں کوئی بھی منہ اٹھا کر ا جائے گا اور ایزہ کے کردار کی گواہی دے گا تو تب بھی مجھے اسکے کردار کی گواہی کی ضرورت نہیں ہے اگر اسکے پاس کردار نہیں ہے تو دنیا کی کسی عورت کے پاس کردار نہیں ہے اور میں مزید اس موضوع پر بحث نہیں سنوں گا اور آئندہ یہ بات گھر میں نہیں ہو گی کوئی نام ایزہ شاہ کے ساتھ نہیں جوڑا جائے گا کیونکہ اسکے ساتھ جس کا نام جڑا ہے اسکے بعد کسی کی جرت نہیں ایزہ کے ساتھ اپنا نام جوڑے آپ طلاق کی بات کر رہی ہیں دادی جان مجھے اس گھر میں اب اس قسم کی بدمزگی نہیں چاہیے ۔۔۔۔۔۔ یہ جہاں جانا چاہتی ہے جائے میری طرف سے اجازت ہے یہ جس سے ملے جس کے ساتھ بھی ہنسے بولے پڑھنا چاہتی ہے تو پڑھے گھر سے باہر جائے دوستوں میں جائے یہ اپنے گھر یہ کہیں بھی اس سے جواب طلبی تو میں نہیں کر سکتا پھر آپ کیوں کر رہی ہیں “
باولا ہو گیا ہے ” دادی جان منہ پر ہاتھ رکھ گئیں کہ کس قسم کی اجازتیں دے رہا تھا وہ اسے ۔۔۔۔۔
ہاں کچھ ایسا ہی سمجھ لیں ائندہ اسکے کردار کو برا مت کہیے گا اور نہ ہی ایزہ کے ساتھ برا رویہ رکھیے گا اور یہ بات میں آخری بار کہہ رہا ہوں ” اسکی آنکھوں میں گھوری تھی آج تک ایسا رویہ یا پھر اونچی آواز سے اسنے انکے سامنے بات نہیں کی تھی اور آج وہ انھیں اس چھٹانک بھر کی لڑکی کی وجہ سے سنا رہا تھا ۔
دادی جان کو تو یقین ہو گیا تھا ایزہ نے کوئی جادو تعویذ اسے گھول کر پلایا دیا ہے
شاہنواز نے ایزہ کی صورت دیکھی دنگ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی
وہ ٹوٹے ہوئے برتن دیکھ کر اور اردگرد پھیلی چائے دیکھ کر سر جھٹکتا وہاں سے چلا گیا ۔۔۔
جبکہ ایزہ بھی مڑ گئ اسکے پیچھے دادی جان کچھ نہیں بولیں تھیں پوتے نے آج سنا جو دی تھی جو حقیقت تھی وہ ماننے کو تیار ہی نہیں تھا
شاہنواز کمرے میں ا گیا جبکہ ایزہ دوڑ کر اسکے پیچھے آئی تھی اسنے مڑ کر دیکھا
کیا ؟ سوالیہ نظروں سے پوچھا ۔
اپکو کیا ہوا ہے” وہ بس اتنا ہی پوچھ سکی
تمھیں کیا لگتا ہے کیا ہوا ہے ” اسنے ایزہ کا ہاتھ تھام لیا ایزہ نے سر اٹھا کر اسکے چہرے کی طرف دیکھا جہاں ایزہ کے لیے نرمی تھی ۔
ایزہ ہاتھ کھینچ گئ
اپکو بخار ہو گیا ہے ” وہ منہ بنا کر بولی
نہیں میں ٹھیک ہوں اور ٹھیک ہونے کی کوشش کر رہا ہوں کیوں تمھیں اچھا نہیں لگ رہا “
اس میں اچھا کیا ہے اپ نے دادی جان کو سنا دیا یہ تو اچھی بات نہ ہوئی “
تو وہ تمھارے کردار کے بارے میں جو کچھ بول رہی تھیں وہ سنتا رہتا ۔۔۔
پہلے بھی بولتی تھیں تب تو کچھ نہیں ہوتا تھا ” ایزہ جتنی حیران تھی اتنی ہی تیزی سے جواب دے رہی تھی
پہلے اور اب میں فرق ہے پہلے تم بس ایزہ تھی اب مجھے کسی نے کہا ہے تم میری ہو بس “
وہ نگاہ چرا گیا ایزہ تو چکرا کر گیر جاتی یہ سب ہو کیا رہا تھا ۔۔۔
وہ اسے کھڑی گھورتی رہی یہ بات تو خود بھی نہیں جانتی تھی کہ اسے گھور رہی ہے جبکہ شاہنواز نے اسکے پاوں دیکھے جوتا پہن لو تمھیں چوٹ لگ سکتی ہے ” وہ اسکا گال تھپتھپا کر وہاں سے نکلنے لگا
آپ اپنا بچہ مارنا چاہتے تھے اپ بھول گئے ہیں ” ایزہ نے اسے یاد دلایا اور شاہنواز میں جیسے شاہنواز ہی لوٹ آیا
شدید غصے سے مڑ کر اسکی صورت دیکھی
ہاں بس یہ ہی شاہنواز کی عادت تھی اسے وہ اچھا بننے کی کوشش کیوں کر رہا تھا جب وہ کہہ چکا تھا ایزہ صرف اسے بیوی کے روپ میں چاہیے
” یہ ہمارا بچہ ہے اور ایسا کچھ نہیں ہو رہا “
شاہنواز ” وہ پیچھے سے بولی مگر وہ سنے بنا باہر نکل گیا ۔
وہ مار دیتا یہ جاننے کے بعد کہ وہ بچہ جس عورت کے وجود کے وجود سے ہے
کبھی نہیں ۔۔۔۔۔ کبھی بھی نہیں
ہاں اگر یہاں کوئی اور عورت ہوتی تو شاید وہ اس بچے کو کبھی نہ رکھتا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے