Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 50

غصہ تو بہت آیا تھا لیکن فلحال اسنے کچھ نہیں کہا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا وہ ان لڑکیوں کیطرح نہیں ہے وہ اس سے صرف چار ماہ کا بدلہ لے رہی ہے ایک یہ بات سوچ کر اور اپنا نیا کمرہ دیکھ کر دل راضی ہو گیا وہ سکون کی نیند لے کر اٹھا تھا بھوک کے احساس نے اسے جلدی جگا دیا کل رات بھی سیب ہی کھایا تھا بس ۔۔۔۔
اسی وجہ سے وہ اٹھا بالوں میں ہاتھ پھیرا فریش ہوا اور باہر نکل آیا اور ابھی کوئی اٹھا نہیں تھا
اتنی جلدی اٹھ گیا یار ۔۔ بیوی بھی پتہ نہیں کس کمرے میں ہے یہ لڑکی poison slowکراتی ہے مجھ سے۔۔۔۔
وہ ڈھونڈنے کو سیدھا اسی کمرے میں آ گیا مگر وہاں ساز نہیں تھی دو اور وجود ضرور تھے وہ فورا باہر نکل گیا اور پھر ساز کو تلاشہ مگر وہ اسے کہیں نہ دیکھی یہاں تک کے پوری بد اخلاقی کو نبھاتا وہ سب کے کمروں میں جھانک چکا تھا اور پھر وہ سٹور روم کے سامنے ا گیا ۔۔۔
اسے علم نہیں تھا یہ سٹور روم ہے ۔۔۔ اسنے دروازہ کھولا اور سامنے سوہا کو میٹرس پر دیکھ ایکدم چونکا تھا ۔
حیرانگی سے ماتھے پر تیوری سی بنی ۔
آج تک اسے اس گھر کے کسی فرد سے کوئی غرض نہیں تھی نہ ہمدردی تھی نہ ہی اسنے کسی کو بھی اپنا مانا تھا تو ہمدردی کیسی
مگر کل رات بھی جس سوہا سے ملا تھا وہ بہت مختلف تھی اور آج اسے سکڑا سمٹا لیٹا دیکھ وہ وہیں کھڑا رہ گیا ۔
یہ بدر زیادہ اوقات سے باہر ہو چکا تھا بس اسکے دماغ میں اتنی بات ائ تھی اور شدید غصہ بھی چڑھا کیا اس کا باپ یہ بھائی نہیں جانتے تھے ۔
شاید نہ جانتے ہوں کیونکہ ذلیل صرف اسکے باپ نے اسے کیا تھا باقی اپنی ساری اولاد کو کلیجے سے لگا کر رکھا تھا
سوہا کہاں سو پا رپی تھی دو تین راتوں سے ۔۔ کھٹ پٹ کے احساس سے ۔
وہ اٹھ گئ مڑ کر دیکھا عمر کھڑا تھا وہ جلدی سے اٹھ گئ۔۔۔۔اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگی جہاں سنجیدگی تھی
وہ شرمندہ ہوئی کھڑی ہو گئ
اسنے اپنے اپکو چھپا لیا پتہ نہیں اپنا چہرہ دیکھاتے ہوئے اب دل دھک سے رہ جاتا تھا اور بار بار دل میں خیال آتا تھا کہ کوئی اسکے چہرے کو دیکھ کر کیا سوچ رہا ہو گا ۔
وہ سر جھکا گئ اور عمر وہاں سے ہٹ گیا ۔
سوہا نے جلدی سے دروازہ بند کر دیا جبکہ عمر نے مڑ کر دیکھا اور پھر وہ کچن میں ا گیا
ہمیشہ اپنے لیے سب خود ہی کیا تھا ۔۔۔
تو اسے یہ بات انوکھی نہیں لگی وہ کچن میں چیزوں کے ساتھ مکمل چھیڑ کھانی میں مصروف تھا کہ ساز جو دوسرے صحن میں بیٹھی تھی کچن کا دروازہ کھول کر اندر آئی تو اسے دیکھ کر چند لمہے کے لیے تھم گئ ۔
عمر نے بھی مڑ کر دیکھا
اوہ تھینک یار تم دیکھ گی ۔۔ مجھے ناشتہ بنا دو ” وہ گھیرہ سانس بھرتا بولا اور سائیڈ پر ہو گیا
میں کیوں بنا کر دوں میں آپکی کچھ نہیں لگتی اور یہ آپ اپنا موبائل لیں اور یہ اپکا اے ٹی ایم کارڈ نہ ہی مجھے آپکے پیسوں کی ضرورت ہے نہ ہی آپکی کسی بھی چیز کی تو مجھ سے دور رہیں اور اگر مزید آپ کچھ بولے تو اچھا نہیں ہو گا ” وہ کچھ بولنے ہی لگا تھا کہ وہ غصے سے بھڑکی ۔
وہ ۔۔۔ ” میں نے کچھ نہیں سننا” عمر کے ہاتھ میں پکڑا کر وہ باہر جانے لگی ۔
نہیں میں یہ کہہ رہا تھا ” وہ غصے سے مڑی عمر نے فورا لبوں میں لب دبا لیے وہ پوری ڈرنے کی ایکٹنگ کر رہا تھا اسکے ساتھ ۔
یار وہ میں تو بس اتنا کہہ رہا تھا کہ یہ کپڑے بھی تو میں نے دلائے ہیں اتار کر دے جاؤ ایسا کرو منہ پر مارو ” وہ پورے دانت دیکھاتا بولا ساز کے چہرے پر ایکدم لہو رنگ چھا گیا ۔
اسے لگا تھا وہ غصہ ہو جائے گا اسنے بات ہی ایسی کی تھی لیکن نہیں اسنے الٹی بات ہی کرنی تھی ساز اسے دیکھ بھی نہ سکی
اچھا نہ سوری ایک منٹ رکو نہ ” وہ شیلف پر سے جمپ لگا کر دوسری طرف گیا اور جلدی سے بھاگ کر اگے ا گیا ۔
سوری یار آئندہ تمھیں چھوڑ کر کہیں نہیں جاوں گا ۔ ۔ پکا ” وہ بولا جبکہ ساز نے سر جھٹکا اور اسکے پہلو سے نکلنے لگی
ویسے بہت مغرور ہو گئ ہو ” عمر نے منہ بنایا
مجھے آپ سے بات ہی نہیں کرنی آپ نے سب چیزوں کو مذاق سمجھ لیا ہے ہر بات مذاق ہے۔۔۔ نہیں ۔۔۔ میرے نزدیک نہیں ہے چار ماہ ایک پل چین کی نیند نہیں لی آپ میرے ایک آنسو کا بدلہ نہیں دے سکتے اور مجھ سے دور رہیں پلیز ” وہ کہہ کر پہلو سے نکلنے لگی
اچھا تم چاہتی ہو میں سیریس ہو جاؤ ” اسنے سوال کیا
جی پلیز ہو جائیں تاکہ آپ کو محسوس ہو تکلیف کیا ہوتی ہے ” وہ بولی جبکہ عمر نے ہلکا سا مسکرا کر دیکھا ۔
اور اسکا چہرہ پکڑ کر اسکے دونوں گالوں کو چٹا چٹ چوم لیا ساز تو جیسے چکرا ہی گئ دل دھک دھک ہو گیا وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
میرا دل نہیں ہے اج کل سریس ہونے کا ۔۔ اف تم کتنی ذائقے دار ہو بس اب ناشتہ ہو گیا پیٹ بھر گیا بہت شکریہ ” وہ جھک کر دل پر ہاتھ رکھ گیا
ساز نے گھبرا کر ادھر ادھر دیکھا ۔
اور اسے رونا آنے لگا وہ انسان اتنا ضدی کیوں تھا اتنا ڈھیٹ اسکی بے رخی سخت لفاظ تھپڑ کوئ چیز اثر نہیں کر رہی تھی اسپر
ہے ہے رونا نہیں ۔۔۔ رونا نہیں ” اسنے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام لیا ۔
عمر یہاں سب ہوتے ہیں یہ اپکا گھر نہیں ہے کہ آپ کچن میں شروع ہو جائیں” اسنے اسکے ہاتھ جھٹکے اچھا تمھیں یاد ہے ” وہ مزے سے انکھ دبا گیا
ساز کو لگا اسکی ہمت جواب دے گی ہے اسنے ذرا غصے سے اسے دیکھا اور دانت پیستی اسکے پہلو سے نکل گئ ۔
تیری عاشقی میں ۔۔۔ یہ کیسا نشہ ہے ۔
تو جانا ہے میری تو میری دل ربا ہے ۔
وہ گنگنایا اور سیدھا تو چلنا آتا ہی نہیں تھا صوفے پر سے جمپ لگا کر دوسری طرف چلا گیا اور اوپر کمرے میں چلا گیا اسنے ناشتہ نہیں کیا جبکہ ساز نے چپکے سے مڑ کر دیکھا فکر بھی ہوئی تھی ناشتہ جو نہیں کیا تھا اسنے ۔۔۔
لیکن وہ زبردستی خود کو دوسری طرف لے گئ ۔۔
امی کے کمرے میں ا گئ وہاں بدر بھی موجود تھا ۔۔۔
تم کہاں تھی میں تمھارے پاس ہی آیا تھا ” بدر نے سوال کیا ساز خاموشی سے بیٹھ گئ ۔
جی بھائی ” وہ بولی جبکہ بدر نے سر ہلایا
امی کو سمجھاؤ یہ آدمی قابل بھروسہ نہیں ہے سبحان بہت اچھا لڑکا ہے “
تم اسے کہو کہ تمہیں ڈائیورس دے تاکہ سبحان سے تمھاری شادی ہو ” وہ بولا جبکہ دوسری طرف نجما نے کانوں کو ہاتھ لگایا
کیسے بدبخت بھائی ہو تم بدر اپنی بہن کو طلاق کا کہہ رہے ہو کہ وہ اپنے شوہر سے طلاق لے ۔۔۔
وہ شوہر شوہر کہلانے قابل نہیں ہے “
شوہر کہلانے قابل تم کب ہو دن رات تمھیں بھابھی کوسنا دیتی ہیں انکے کوسنے سمیٹ کر تم دوکان پر کون سا کاروبار کر لو گے”
بس امی بہت ہو چکی ہیں یہ باتیں مجھے علم ہے کہ میری زندگی کیسی ہے مگر میں ساز کی زندگی تباہ ہونے نہیں دوں گا عمر اس قابل ہوتا تو اس سے طلاق کا نہ کہتا
تم اس سے بات کرو تاکہ معملات آگے بڑھیں ” اسنے کہا اور کھڑا ہو گیا
بھائی سوہا بھابھی سٹور میں کیوں ہیں ” ساز کیطرف سے یہ پہلا سوال تھا
بچے یہ آپکا مسلہ نہیں ہے آپ اپنے مسلے پر دھیان دو “
بھائی اگر عمر نے بھی میرے ساتھ وہ ہی سلوک کیا جو آپ بھابھی کے ساتھ کر رہے ہیں تو ” وہ بولی جبکہ بدر خاموش ہو گیا
نہیں کرے گا وہ تمھارے ساتھ ایسا اسکے ہاتھ پاوں توڑ دوں گا ” وہ بولا اور ان سب کے سوالات سے بچنے کے لیے وہ وہاں سے باہر نکل گیا آج موسم کچھ خراب سا تھا ۔
یوں لگتا کہ کسی بھی وقت آسمان برس اٹھے گا ۔
ساز خاموش ہو گئ بدر باہر نکلا اور گھر سے ہی نکلنے لگا کہ سٹور پر نگاہ گئ وہ اس رات کے بعد اسے دیکھی ہی نہیں تھی وہ گھر سے چلا گیا جبکہ نجما نے ساز کو دیکھ تم اسے صاف انکار کرو کہ تم ایسا کچھ نہیں کرو گی”
لیکن بھائی “
بس چپ ساز “
میں بھائی کے خلاف نہیں جاو گی امی ” وہ سر جھکا گئ
تم دونوں بہن بھائی پاگل ہو چکے ہو ” وہ غصے سے کچن میں چلی گئیں جبکہ ساز انگلیاں موڑنے لگی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دیر سے اٹھا تھا برش کر رہا تھا ۔
اسنے اٹھتے ساتھ ہی کھڑکی کیطرف دیکھا چند لمہے برش کو گھورتا رہا اور پھر اٹھ کر جلدی سے کھڑکی بند کر دی
وہ جب سے یہاں ایا تھا تب سے شراب کو ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا نشے میں چلا جاتا تو کون ساز اسے یاد ہی نہ رہتا
شراب کی بوتل کو گھورتے کافی دیر ہو گئ تھی اسے بارش کا شور کانوں میں شور کر رہا تھا
نہیں پینا چاہتا تھا وہ اسنے اپنی ساز کو منانا تھا لیکن شراب کی بوتل اسے اپنی جانب ایسے کھینچ رہی تھی جیسے وہ مقناطیس ہو
اور کافی دیر اگنور کرنے کے بعد تھک کر اسنے بوتل اٹھا کر منہ سے لگا لی ۔
یہ بارش ۔۔۔ یہ بارش کیوں ہوئی تھی اسے سخت نفرت تھی بارش سے ۔
کیوں ہو گئ تھی بارش جب بھی بارش ہوتی وہ کمرے میں ایسے بند ہو جاتا جیسے اب کبھی نہ نکلنا ہو ۔
اسنے پردے اگے کر کے کمرے میں تیز آواز میں گانے لگا دیے پورے کمرے میں گانوں کا شور تھا اور پورا گھر دھڑدھڑا اٹھا
تائی جان مغرب کی نماز کے بعد فارغ ہو کر تسبیحات کر رہیں تھی اور یہ شور سن کر انھوں نے ساز کو گالیاں نکالنا شروع کر دیں
اے منحوس اس آوارہ کو جا کر کہہ نماز قرآن بھی کر لیا کرے مولوی اشفاق کا بیٹا اور کیسا نکلا ہے
جا اسے کہہ بند کر یہ سب ” وہ بولیں جبکہ ساز نے نہیں جانا تھا
وہ جیسے بہری بن کر کچن میں کھڑی کام کرنے لگی اشفاق صاحب بھی گھر ا گئے تھے
ارہم اور آج تو قسمت سے بدر بھی گھر ا گیا اور سب ہی گھر میں یہ شور سن رہے تھے ۔
اب جا کر کہو گی اسے کہ یہ بند کرے تماشہ ” اشفاق صاحب دھاڑے ۔
کہ اچانک گانے خود ہی بند ہو گئے وہ پوری بوتل اتار چکا تھا اب قدرے بہتر تھی کیفیت اب بارش کا شور ہوتا یہ دنیا شور مچا دیتی اسکی بلا سے ۔۔۔
وہ سکون سے بیڈ یر غیر گیا جبکہ اشفاق صاحب نے گھور کر اوپر دیکھا اور سر جھٹکا کافی دیر وہ کمرے میں لیٹا رہا
اور پھر اٹھ کر نیچے آ گیا
کھانے کی خوشبو کافی مزے دار تھی مگر اسے کچھ نہیں کھانا تھا
وہ جیسے بچوں کیطرح اسکے پاس کچن میں ا گیا
وہ جانتا تھا وہ وہیں ہو گی
بارش کب بند ہو گئ ” سرخ نظروں سے اسنے سوال کیا تھا ساز کو اسکے کلون میں شراب کی بو بھی محسوس ہو رہی تھی اسنے اسکی جانب دیکھا اور رخ موڑ لیا
پلیز کچھ کرو بارش بند ہو جائے۔”
کیوں بارش میں اب اپکو کیا مسلہ ہو جاتا ہے ” وہ تنگ کر بولی
اچھی نہیں لگتی ” وہ بس اتنا ہی بولا ۔
ساز نے جان بوجھ کر کچن کا دروازہ کھولا اور صحن میں بڑی تیزی سے بارش برس رہی تھی ۔
عمر کی یاداشت میں ایک منظر گھوم سا گیا
وہ باہر صحن میں نکل گئ حالانکہ ٹھنڈ کی بارش تھی پھر بھی اسے چھڑانے کے لیے بارش میں نکل گئ لیکن اسے بارش پسند بھی تھی
عمر صحن کی جانب دیکھنے لگا
اشفاق بچہ ہے وہ ان چیزوں کی خواہش تو کر ہی سکتا ہے کہ اسکے ماں باپ اکٹھے رہے “
اشفاق نہ کریں اسطرح چھوڑیں
عمر ” کئ آوازیں اسکے کانوں میں گونجی
عمر ۔۔ عمر میرے بچے کچھ نہیں ہوتا مت باہر جائیں گیا آپ اکیلے نہیں ہو پلیز اشفاق دروازہ کھولو ۔۔۔۔ وہ بچہ ہے اسکے ساتھ اسطرح مت کریں
ٹھیک ہے جو آپ کہیں گے میں ویسا ہی کروں گی
اسکی ماں شیشے کی دیواریں بجا بجا کر چلا رہی تھی جبکہ اسکے باپ نے اسے رات کی اسی سردی کی بارش میں باہر دھکیل دیا ۔
کہو تمھارے خواب صرف خواب ہیں ۔۔
کہو تم آج کے بعد اپنے ماں باپ کو اکٹھا دیکھنے کا خواب کبھی نہیں دیکھو گے کہو ” کھینچ کھینچ کر تھپڑ مارے تھے انھوں نے اسکے اور اسے اس برف کیطرح پڑتی بارش میں تنہا چھوڑ دیا ۔
تمھاری ماں طوائف ہے کہو ” وہ دھاڑے
My dreams are just dream …
دوبارہ کہو ” وہ پھر دھاڑے
میرے خواب صرف خواب ہیں میری ماں طوائف ہے ” اسکی چیخوں نے اندر اسکی ماں کو تڑپا دیا
اور ایک سانس ایک گھنٹے اس برستی بارش میں ان الفاظوں کو چیختا رہا چیختا رہا جبکہ اسکا باپ مسکرانے لگا تھا
وہ چیختا رہا ۔۔ اور جتنا چیخ سکتا تھا وہ چیخا اور پھر بے ہوش ہو گیا ایکدم جیسے وہ ہوش میں ایا ۔
پاس پڑا سارا سامان اٹھا کر پھینک دیا ۔
عمر ” وہ جلدی سے اندر ا گئ ۔
اسکی سرخ آنکھیں انگارہ ہو رہیں تھیں جیسے ابھی چھلک اٹھیں گے آنسو ۔
ساز بے ساختہ اسکا بازو تھام گئ ۔
عمر نے اپنے ہاتھ جھٹک کر چھڑوائے تھے اس سے اور وہ کچن سے باہر نکل گیا
عمر ” وہ بے دھیانی میں اسے پکار گی
عمر نے اپنی انکھ سے نکلتا پانی اپنی ہتھیلی سے رگڑا اور اوپر جاتا کہ اشفاق صاحب کی نگاہ سے نگاہ جا ملی
یہ بارش عمر کی حالت انھیں بھی اسی لمہے میں گھسیٹ گئ وہ طنزیہ مسکرائے اور عمر نے واس اٹھا کر دے کر مارا
مجھ پر ہنسنے کی ضرورت نہیں ہے ” وہ دھاڑا ۔
مجھ پر مت ہسنا ۔۔ مجھ پر مت ہسنا ” وہ چلا اٹھا
عمر ” ساز آگے بڑھی بدر نے اسکی جانب دیکھا اور ساز کے قدم رکے ۔
میں نے کہا مجھ پر مت ہنسنا ” وہ دھاڑا انکا گریبان جکڑ گیا
مجھے خوشی ہوئی تمھیں اب تک وہ رات یاد ہے “
کتنے نیچ انسان ہیں اپ ” جیسے وہ دونوں اردگرد سے بھگانے ہو گئے تھے ۔۔۔۔
عمر کی آنکھوں میں ایک زلزلہ تھا
نیچ میں ۔۔۔ میں نیچ تمھیں اپنے عزت کے نام میں رکھا ہے طوائف کے بیٹے ہو تم ورنہ ۔
شکر بناؤ “
بس کریں ” وہ جیسے تڑپ اٹھا اسکی انکھ سے پانی گیر رہتا تھا نظریں سرخ تھیں اشفاق صاحب کرسی پر بیٹھے تھے جبکہ وہ جھکا انکا گریبان مٹھیاں میں جکڑے تکلیف سے دھرا تھا
میں بس کروں تم یہ تماشہ بند کرو تمھاری ماں نے تمھیں بدنام کیا ہے ۔
وہ غیر مردوں کے ساتھ سوتی رہی ہے اور تمھیں کیا لگتا ہے اسے کینسر ہوا ہی کیوں کسی مرد کی گندگی “
ڈیڈ ” حلق کے بل چیختا وہ جیسے کچھ کر دیتا
میری ماں ایسی آپکی وجہ سے بنی تھی اپ نے اسے مجبور کیا تھا دوسرے کے بستر پر اپ نے سلایا تھا اسے ۔۔۔ اپ ایک گھٹیا ذلیل ادمی ہیں اپ ۔۔ لالچی مطلب پرست ” وہ چیخا اسنے ٹیبل پر لات ماری
کھانے کی ٹیبل الٹ گئ
ساز سے مزید برداشت نہیں ہوئی کیوں تایا جان اسے تکلیف دے رہے تھے وہ دوڑ کر اس تک گئ تھی اور معلوم نہیں کیسے اسنے عمر کو اپنے دونوں ناتواں بازوں میں بھر لیا
ایکدم سب حیران رہ گئے جبکہ وہ جو شعلہ بنا ہوا تھا اسکے بازوں میں کیوں چھپ گیا اسے خود علم نہیں تھا ۔۔۔۔۔۔۔
ساز نے اسے چھپا لیا سب سے ۔۔۔ جیسے کسی بچے کو چھپایا ہو ۔۔۔
وہ کچھ دیر سر جھکائے واقعی اسکے بازوں میں بیٹھا رہا ۔
بکواس بھر رکھی ہے تمھاری ماں نے تمھارے دماغ میں گندی وہ اپنی مرضی سے بنی تھی ۔
اسکے اندر گندا خون تھا اور تو ۔۔ تو بھی اسی کا گندا خون ہے تو کچھ بھی کر لے عمر خیام طوائف کا بیٹا ہی رہے گا اور طوائف بھی وہ جس نے ساری زندگی دوسرے مردوں کو سکون دیا ہے ” وہ جھٹکے سے اٹھا اور مڑ کر اندر چلا گیا ۔
ساز اسکے پیچھے لپکی وہ کتنے گندے تھے تایا جان کتنے برے تھے
ایک انسان تکلیف میں ہے اسے مزید تکلیف دے رہے تھے ۔۔۔
اور وہ سب کے سامنے اسکے ساتھ اس کے ہی کمرے میں چلی گئ اور یہ سب پر ثابت کر گئ کہ ساز صرف عمر کی ہے اور ہمیشہ عمر کی رہے گی جبکہ بدر نے سنجیدگی سے یہ منظر دیکھا تھا ۔
نجما نے اسکا ہاتھ تھاما وہ ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں انھیں الگ نہ کرو ” وہ بولیں
میں اسکی خوشی چاہتا ہوں”
وہ خوش ہے اسکےساتھ ۔ ۔ ” وہ بولیں بدر خاموش ہو گیا تھا جبکہ نجما مسکرائی وہ بہت خوش تھی کہ ساز کو خود ہی عقل ا گئ ورنہ عمر نے اسے ایسا کوئی قدم اٹھانے بھی نہیں دینا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دور کھڑی تھی جبکہ وہ بیڈ کی شیٹ مٹھیوں میں بھینچے بیٹھا اپنے پاؤں کو گھور رہا تھا ۔
ع۔۔۔عمر ” وہ اسکی تکلیف پر بے ساختہ رو پڑی تھی جبکہ عمر نے اسکی جانب دیکھا ۔
انھیں سچ میں انھوں نے مجبور کیا تھا وہ ایسی ” وہ رک گیا
وہ واقعی ایسی نہیں تھیں ” وہ بولی
نہیں مجھے انکے نام کی ہمدردی نہیں چاہیے تم ” اسنے اسکے دونوں ہاتھ تھام کر اپنے دل سے لگا لیے
تم مجھ سے وعدہ کرو تم ایسی عورت کبھی نہیں بنو گی تم میرے ہوتے ہوئے کسی کیطرف نہیں دیکھو گی تم صرف میرے لیے اتنی وفا رکھو گی تم وعدہ کرو ساز تم کسی کی نہیں ہو “
میں وعدہ کرتی ہوں میں صرف عمر خیام کی ہوں اور ساری عمر اسی کی رہو گئ ” وہ بولی جبکہ عمر نے اسکے ہاتھوں کو لبوں سے لگا لیا ۔ ۔
لیکن میں ناراض ہو مجھ سے فری نہ ہوں آپ ” وہ اپنے ہاتھ چھڑا کر اسکے پاس سے اٹھی عمر نے گھیرہ سانس بھرا اور پیچھے غیر گیا
دل میں ا گئ ہو کمرے میں ا گئ ہو یہاں بھی ا جاو گی ” وہ اپنی بھیگی پلکوں سے ونک کر گیا جبکہ ساز نے مڑ کر دیکھا
یہ خواب ہیں اپکے “
وہ ذرا دھڑکتے دل بے قابو دھڑکنوں سے کہہ گئ جبکہ عمر نے سر اٹھا کر اسکی جانب دیکھا
ہائے میرے خواب ” وہ جیسے اس فیس سے نکلا نہیں تھا ساز اسے دور سے دیکھنے لگی
اسنے کہا تھا اسے تکلیف ہو تو اسے پتہ چلے اس وقت اپنی بات پر ہی غصہ آیا
جو تکلیف عمر خیام خود میں لیے ہوئے ہے ۔۔۔۔ وہ تکلیف اسے چھو کر بھی نہیں گزری اسنے دروازہ کھولا عمر نے فورا سر اٹھایا ۔
کہاں “
ساز اپکی ہے لیکن ناراض ہے شادی کرنی ہے تو منا لیں ” وہ آہستگی سے کہہ کر جانے لگی
سوچ لو ” اس میں مڑ کر دیکھنے کی ہمت نہیں تھی جلدی سے باہر نکل گئ ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے