Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 55
No Download Link
Rate this Novel
Episode 55
” عمر یہ خط شاید وہ خط ہے جو میں تمھیں کبھی دینا نہیں چاہتی “
لیکن میری مجبوری ہے کہ میں اس بوجھ تلے اب مزید جی نہیں پاوں گی مجھے معلوم نہیں ہے کہ اسکو پڑھ کر تم مجھ سے شاید زندگی میں کبھی بات کرو لیکن ہم نے جتنا وقت گزارا اچھا ساتھ گزارا
اس وقت اگر میں خود غرضی دیکھا گئ تو ایک مظلوم کا دل پھر بجھ جائے گا میں چاہتی ہوں میرا دل ختم ہو جائے لیکن اب کسی کا دل میری وجہ سے نہ دکھے تبھی میں نے یہ خط تمھیں دیا ہے ۔۔
اور تمھیں پتہ ہے ان کچھ دنوں میں میں واقعی تمھیں اپنا ماننے لگی ہوں
کوشش کی تھی تمھیں اپنے منہ سے بتاو تاکہ تم جب میرے منہ پر تھپڑ مارو تو مجھے احساس ہو کہ میں نے خودغرض کی کن حدود کو پار کیا ہے ۔
کسی مظلوم کی آہ لے کر میں کیسے بدر کی محبت پا سکتی ہوں ۔۔۔۔
نہیں کبھی نہیں جس محبت کے لیے ہر حد پار کی اس محبت نے مجھے ذلیل و خوار کرنے کی ٹھان لی اور بس سوہا ذلیل اب اپنی چاہت سے ہو رہی ہے شاید شاید اس طرح میرے اعمال اچھے ہو جائیں ۔۔۔۔
عمر میں آج سے بس سال پہلے کی ہی بات ہے ۔۔
مجھے ہمیشہ جلن سی رہی ہے ساز سے اور ایزہ سے کیونکہ میرا دل یہ حساس دلاتا تھا کہ بدر میری طرف اس لیے نہیں دیکھتا کہ میں خوبصورت نہیں ہوں میں نے ہر ممکن کوشش کی خود کو سنوارنے کی لیکن پھر بھی اگر ابو کے اس جیل سے قید خانے میں کبھی ہم لوگوں سے اسکا سامنا ہو جاتا تو وہ صرف ایک نگاہ ایزہ پر ہی ڈالتا تھا ۔۔
مجھے بہت نفرت ہو گئ تھی اسی وجہ سے ایزہ سے لیکن پہلے بھی کوئی انسیت کسی سے میری ماں میرے باپ نے رکھنے نہیں دی آنکھوں پر ایسا چشمہ لگایا تھا کہ وہ نوچ کر بدر سے شادی کے بعد ہٹایا تو دنیا دیکھای دی اور وہ ہی دیکھتا تھا جو ابو اور امی سمجھاتے تھے کہ ناز آنٹی اچھی عورت نہیں تھیں اور انکے وجود سے ہوئی ایزہ بھلے کتنی خوبصورت کیوں نہ ہو میرا مقابلہ کر ہی نہیں سکتی
وقت گزارنے کے ساتھ پختہ ہو گئ تھی یہ بات مجھ میں اور میں نے باپ کے زور کے ڈنڈے سے سب کو ہانکنا شروع کر دیا ۔
سب ایک ہی لیول پر لگتے تھے یہاں تک کے نجما چچی اور ثروت چچی بھی ۔
یوں ہی کچھ وقت گزرتا رہا ۔۔۔ ساز کو پڑھنے کا شوق تھا بہت اور صنم صوفیا کو بلکل نہیں تھا لیکن اسکے پھرے کے لیے دونوں ساتھ جاتی تھی ابو نے کبھی ایزہ کو کہیں جانے کی اجازت نہیں دی بس اتنا ہی کہا کہ اگر یہ باہر نکلی تو بھاگ جائے گی ۔۔
اسنے کبھی ضد بھی نہیں کی ۔
پھر ساز کو بدر پڑھاتا تھا کیونکہ ہمارے گھر میں سب سے زیادہ پڑھا لکھا بدر ہی تھا اور ایک دن ایزہ ان دونوں کے پاس جا کر بیٹھ گئ عمر میں تو وہ سب سے چھوٹی تھی ساز سے بھی ۔
بدر نے اسے بچوں کیطرح ٹریٹ کیا لیکن اسکا دل کچھ اور سوچنے لگ گیا وہ بدر سے شرمانے پھیرنے لگی تھی مگر ساز کو بھی علم ہو گیا کیونکہ ان دونوں کی آپس میں اچھی گھیری دوستی تھی تو اسے علم ہو گیا کہ ایزہ بدر کو پسند کرنے لگی ہے لیکن ساز ایزہ سے زیادہ ڈرپوک تھی وہ اس بات پر کانپ اٹھی ۔۔
ایزہ بھی شرمندہ ہو گئ اور اپنے جذبات چھپا لیے ۔
اسکے جذبات کی اہمیت ہو سکتی تھی میرے ہوتے ہوئے اگر مجھے کوئی دیوانہ کہے گا تو میں نے بدر سے دیوانگی کی حد تک محبت کی ہے میری دیوانگی ایزہ کی لمہوں کی محبت کے اگے سر ٹکائے کھڑی تھی لیکن اس بیوقوف کو دیکھائی ہی نہیں دیا ۔
ایزہ ساز اور بدر تینوں لون میں بیٹھ کر پڑھنے لگ گئے ابو نے ایک دن دیکھا لیکن معلوم نہیں آج تک اس بات پر حیرانگی ہے کہ ابو جیسا انسان بس نے ایزہ کو سات پردوں میں چھپا رکھا تھا وہ ایک لفظ نہیں بولے اسے ان دونوں کے ساتھ دیکھ کر اور پھر گھر والوں کو بھی عادت ہو گئ میں یہ نہیں کہہ رہی اختلافات نہیں ہوئے لیکن ۔۔۔ ابو کے کچھ نہ بولنے سے ایزہ کی بات بن گئ
اور وہ ساتھ پڑھتے مجھے جلن ہونے لگی پھر میں نے بھی پڑھنے کی ٹھان لی اور باضد وہیں بیٹھ جاتی
ایزہ بہت معصوم سی لگتی تھی بدر کو بھی ۔۔۔ ساز اپنے کام میں مگن رہتی تھی جبکہ مجھے تو کبھی منہ لگانے کی زحمت ہی نہیں کی اسنے کبھی سوچا ہی نہیں کہ دل بھی تو دیکھ سکتے ہیں ضروری تو نہیں شکل و صورتوں سے ہی محبت ہو گی ۔۔
وہ ایزہ کو بہت پیار سے بلاتا تھا بہت پیار سے سمجھاتا تھا مجھے شک ہونے لگا ۔۔۔۔ کہ بدر ایزہ میں انولو ہو رہا ہے ۔۔۔
ایزہ بھی مسکرائی مسکرائی پھرتی تھی ۔۔۔
پھر ایک دن ساز اپنے پیپرز دینے گئ تھی اور گھر والے بھی سب بائے چانس کہیں نہ کہیں گئے ہوئے تھے اس دن ایزہ اور میں ہی تھے میں اپنے موبائل میں لگی ہوئی تھی اور ایزہ وہی کتابوں میں گھسی ہوئی تھی
بدر آیا اور ساز کو پکارنے لگا وہ اس حد تک شرماتی تھی اس سے کہ ۔۔۔ ایک لفظ بولنے کی ہمت نہیں پاتی تھی ۔۔۔ یہ نے ہی کہا پیپر دینے گئ ہے ۔
تو بدر نے مجھ پر سے نگاہ ہٹا لی
ایزہ پلیز کھانا دے دو مجھے” وہ بولا ہلکی سی مسکراہٹ تھی ایزہ جلدی سے اٹھیں اور اسے کھانا دینے پہنچ گئ
خدا کی قسم میری محبت تکلیف نہیں کھاتی تھی جل کر بھسم ہو جاتی تھی
وہ پڑھ رہی تھی مجھے کہہ دیتے” میں نے کہا تو ہمیشہ کیطرح مجھے اگنور کر کے وہ کچن میں جا کر ایزہ کے پاس کھڑا ہو گیا میرا دل منہ کو آنے لگا ۔۔
پتہ نہیں میری محبت ایسی ہی ہے کچھ پاگلوں جیسی
وہ لمہے بڑی مشکل سے گزرے وہ کھانا لے کر کمرے میں چلا گیا ایزہ پھر ا کر بیٹھ گئ اور ۔۔ میں وہیں کی وہیں بیٹھی رہی ۔۔۔
پھر بہت سے دن گزرے ایزہ کے انگ انگ سے محبت کی آمد محسوس ہوتی وہ ایزہ جو چہرے سے دوپٹہ نہ اتارے وہ ایزہ ۔۔۔ بدر کو دیکھتی تو ایک ہی نگاہ میں بدر اسکے حسن کے قصیدے پڑھ ڈالتا اور میں ۔۔۔ میں تو مر گئ نہ کریمیں لگا کر بلیچ کرا کرا کر ۔۔۔
میں بری طرح جل چکی تھی تب احساس غم کم ہوتا تھا ۔۔۔ دل دکھتا کم تھا جلتا زیادہ تھا ۔۔اب تو ہر بات دل کے گلے لگ جاتی ہے ۔۔۔
خیر وہ دن ا گیا جس پر میرے اندر ہی حیوانیت ابھری جلن نے وہ روپ لیا کہ میں نے اس مظلوم کو کڑی سزا دینے کی ٹھان لی ۔
اسنے بدر کے نام ایک خط لکھا ۔
میں ۔۔ میں جانتی ہوں عمر وہ خط وہ بدر کو دینا نہیں چاہتی تھی اور شاید کبھی بھی نہ دیتی تمھاری بہن کا دامن اتنا پاک ہے کہ محبت کر کے بھی وہ خط کسی کو دینے کی جرت نہیں تھی اسکی لیکن وہ خط میرے ہاتھ لگ گیا ۔
اس خط میں بس اتنا ہی تو لکھا تھا مجھے بدر اچھے لگنے لگے ہیں”
لیکن میرے اندر یہ پڑھ کر جو آگ سے اٹھ گئ
بدر میرا تھا میں اسے کسی اور کا ہونے دے دوں یہ سوچنے کی حرکت کی تو کیسے کی ایزہ نے پسند بھی کیوں ۔۔۔۔۔
میں نے اس خط کو اپنی مرضی سے واہیات بنا دیا ۔
مجھے معاف کرنا میں ۔۔ میں تمھیں کیسے بتاو کیا لکھا میں نے جلن اور حسد میں ہر حد پار کر کر کے وہ خط ۔۔۔۔ ابو کو تھما دیا ۔
وہ خط کھانے کی ٹیبل پر ابو نے پڑھا آواز اونچی تھی اس پر متعدد بار درج تھا بدر میں تمھارے ساتھ گزارنا چاہتی ہیں ایک رات ادھار دے دو ۔۔۔۔
اور کافی ہے نہ ۔۔ کافی تھا یہ ابو کے لیے بلکہ ہمارے گھر کے ماحول کو دیکھ کر تو بہت کچھ تھا ۔۔
ایزہ کہتی رہ گئ تھی کہ یہ اسنے نہیں لکھا لیکن ابو نے اسے سب کے سامنے مارا اسکے بال نوچ ڈالے اسکے کپڑے پھاڑ دے اسے اسکی ماں کے طعنے دیتے اس سے دوپٹہ کھینچ کر اسے گھر سے نکال دیا
ایسی مار جس پر دل دھل جائیں کانپ اٹھیں بدر نے بھی تو دیکھا یہ تماشہ مگر مجال ہے ایک لفظ بھی بولا ہو الٹا اسکی آنکھوں میں کراہیت اتر گئ
مجھے تحسین ملی اور اپنے بروقت فیصلے پر میں مطمئین ہو گئ لیکن ظلم تو ہو گیا تھا نہ ۔۔۔ اور ہو چکا تھا
ابو نے اسے گھر سے نکال دیا کوئی کچھ نہ بولا تماشہ دیکھتے رہے اور گھر سے باہر نکل دیا ایک تنہا لڑکی کو
وہ بھاگی گو نہیں تھی بلکل نہیں بھاگی تھی تمھاری بہن کے پاک دامن کی گواہی میں خود دوں گی جہاں تم کہو گے ۔۔
وہ پاک تھی پاک ہے عزت دار ہے
وہ تنہا لڑکی تھی بس بیس سال کی اسکو گھر دے نکال کر ایک باپ چین کی نیند نہیں سو سکتا لیکن باپ میرے باپ جیسا ہو گا تو چین و آرام کی نیند سوئے گا ۔
وہ پوری رات بنا دوپٹے پھٹے لباس سے گلی میں روتی رہی روتی رہی ۔۔۔۔ اگلی صبح اسے بالوں سے کھینچ کر اندر لے آئے
اور کہا کہ ابھی گھنٹے بعد ایزہ کی شادی اس سے تقریبا پندرہ سال بڑے مرد سے طے کر دی ہے انھوں نے ۔
پندرہ سال بڑا ایزہ نے ہاتھ پاوں جوڑ جوڑ کر یقین دلانا چاہا لیکن بے سود ان کے اندر محبت نہیں ہے تو وہ کیوں اسکی سنتے ۔۔۔
اور پھر عین ایک گھنٹے بعد شادی ہو گئ نکاح میں بس ایک بوڑھی دادی جو بے حد سختی سے ایزہ کو دیکھ رہی تھی کیونکہ ابو نے تو اسکی آگے کی زندگی بھی برباد کر دی تھی اس عورت کو سب بتا کر کہ کتنی آوارہ تھی انکی بیٹی۔۔۔
اس عورت کا رویہ سخت تھا وہ ایزہ کو گھسیٹ کر لے گئ نکاح موبائل پر ہو گیا تھا ۔
ایزہ گھر سے نکلی میں نے ہاتھ جھاڑ کر سکون لیا اور تبھی ابو نے بدر اور میرے رشتے کا کہہ کر ہمیں ایک کر دیا
جی کیا ابو کا منہ چوم لوں”
میں خوشی سے پھولے نہ سمائہ ۔۔
اور سنا تھا ایزہ کا شوہر بہت ظالم ہے اسے بہت مارتا ہے شہر کا مشہور آدمی ہے ۔۔۔
ابو نے دوبارہ گھر میں ایزہ کا نام لینے نہیں دیا کسی کو آج اس واقعے کو گزرے سال ہو گیا عمر یہاں کے لوگوں کو خبر تک نہیں لیکن مجھ سے مزید اس بات کا بوجھ نہیں سہا جا رہا تھا
تم کبھی ناز آنٹی کے پاس تو کبھی یہاں رہتے تھے جب تم یہاں آئے تو تمھیں ساری جھوٹی خبریں م دی گئیں ۔۔
اور تم نے بھی ان خبروں پر یقین کر لیا اور ایزہ دوبارہ لوٹ کر نہیں ائی دوسری بار بھی خط پڑھا تو خط ویسا ہی تھا اس میں کوئ ردعمل نہیں تھا
عمر خیام کے دماغ کو گھیرہ جھٹکا لگ چکا تھا شاہنواز کو ایزہ کے شوہر کے روپ میں دیکھ کر اگر وہ ظالم تھا تو اسکی بہن اتنا خوش کیوں تھی اور عمر پر کیوں مہربان تھا وہ ۔۔۔۔
کاش کاش وہ کبھی نہ دیکھتا تاکہ کبھی نہ سوچتا وہ سر تھام گیا ۔ ۔
آج مہندی کا فنکشن تھا اور مہمان اکٹھے گھر میں ہو چکے تھے دولہا اب تک کمرہ بند کیے بیٹھا تھا اداس تھا پریشان تھا
یہ ایسا جھٹکا تھا جسے سہنے کی کوشش بھی کر رہا تھا اور سہہ بھی نہیں پا رہا تھا ۔۔
یہ بائے چانس تھا یہ کچھ اور ۔۔ بچہ نہیں تھا پورا ذہن رکھتا تھا ہزار سوال تھے اسکے دل میں ۔۔
عمر ” باہر سے کئ بار آوازیں پڑ چکیں تھیں لیکن کمرے کو تالہ ڈالے وہ پڑا تھا ۔ ۔
دل ہی نہیں کیا کچھ کرے شاہنواز وہ واحد خوشی تھی اسکے لیے جسے وہ فرشتہ ہی سمجھنا چاہتا تھا وہ نہیں سمجھنا چاہتا تھا وہ حقیقت بھی ہے لیکن کیوں اسکا دل پریشان تھا ۔۔۔
کیوں آخر ۔۔ وہ سمجھ نہیں بپا رہا تھا کچھ یقین نہیں کر پا رہا تھا وہ مسلسل بوتل پر بوتل چڑھا رہا تھا آنکھیں سرخ ہو گئیں تھیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فنکشن تھا ایسا کہ انکے خاندان میں بھی ایسا کبھی نہیں ہوا تھا ۔
اسکے دوست بیٹھے تھے سعود بار بار دروازے پر اسے پکار رہا تھا ۔۔۔
اور پھر ایک لمبی گاڑی ۔۔ میں شاہنواز سکندر پہنچا تو آگے پیچھے گارڈز پھیل گئے اس چھوٹے سے محلے کے لوگوں کے لیے تو کوئی بادشاہ اپنے تخت سے اٹھ کر اپنے روٹھے ہوئے بیٹے کو منانے پہنچ گیا تھا ۔
ہاں زمیر کا کیا حال کیا تھا وہ تو ہسپتال والے بتا سکتے تھے کہ اسکے جسم کی ہڈیاں چوڑا کر دیں تھیں اسنے اور ایزہ کا سامنا کیا ہی نہیں تھا ۔۔۔
وہ آیا پہلی بار صبح سے ایک ہی لباس تھا ورنہ ایک دن میں تین سے چار بدل لیتا تھا وہ اندر ایا تو ایک ایک شخص اسے دیکھتا رہ گیا ۔
یہ کون ہے” ثروت چچی بولیں تائی نے بھی منہ چھپا لیا عورتوں بڑبڑا رہی تھیں اشفاق صاحب نے شاہنواز کو کبھی نہیں دیکھا تھا اپنی ہی بیٹی کے شوہر کے روپ میں بھی نہیں بس سنا تھا اور باقی زحمت ہی نہیں کی
عمر خیام؟ اسنے سوال کیا بس اتنا ہی اشفاق صاحب سے نہیں سائیڈ پر کھڑے بدر سے ۔۔۔
بدر نے کچھ مودب ہو کر اسے بتا دیا اسکا روعب ہی ایسا تھا چاروں طرف پھیل گیا لوگ جھانک جھانک کر اسے دیکھ رہا تھے
اسکا روم کون سا ہے ” اسنے بس اتنا ہی پوچھا اور گارڈز کو وہیں چھوڑ کر خود اندر چلا گیا ۔۔۔۔
وہ اندر ایا اور عمر کے کمرے کی جانب بڑھتا کہ تیار شیار ایک لڑکی پر نگاہ گئ ۔۔
پورے وقت میں پہلی بار آنکھوں میں نمی آئی تھی وہ جان گیا تھا وہ ساز ہے وہ فورا چہرہ چھپا گئ ۔۔
ضدی کتنا تھا اپنی ہی محبت کو بھی لٹکائے بیٹھا تھا ۔
وہ اوپر گیا اور دروازے کی چابی لے لی ۔۔
دروازہ کھولا ۔۔ تو سانس ائی پورے صابن دانی جیسے گھر میں اسی کے شیر کا کمرہ قابل تعریف تھا وہ ۔۔ اندر ایا دروازہ لاک کر لیا ۔
عمر نے بوتل منہ سے ہٹا اور اسکی جانب دیکھا
کیا ہے مجھے بات نہیں کرنی آپ سے جائیں”
ناراض ہو “
پتہ نہیں “
شاہنواز نے بوتل لے کر سائیڈ پر رکھ دی ۔
چلو یار اب یہ اتنی بھی ناراضگی والی بات نہیں ہے کہ اتنی خوبصورت سی لڑکی کو تم نے انتظار میں لٹکایا ہوا ہے ” وہ اٹھ کر بیٹھ گیا ۔
میرا دل نہیں لگ رہا “
کیوں پریشان ہو گئے ہو
میں اپکو اپنی بہن سے بھی شئیر نہیں کرنا چاہتا تھا “
عمر کے بچوں جیسے انداز پر شاہنواز کا قہقہہ ابھرا اور زور سے اسے خود میں بھینچ لیا ۔۔
اوو یار میرے شیر میرے دل جو تیری جگہ ہے نہ یہاں خدا کی قسم اس دنیا میں کسی کی بھی نہیں ہے ” اسنے اسے سمجھایا ۔
نہیں “
اچھا اب کیا چاہتے ہو بتاؤ مجھے ” وہ بولا ۔۔۔
کچھ نہیں” وہ اب بھی اداس تھا ۔
عمر”
جائیں اپ”
اچھا بات سنو ۔۔۔ ابھی تمھارا موڈ اچھا کرتے ہیں ۔۔
آج تمھارے ساتھ میں بھی پیوں گا ” اسنے بوتل پکڑی عمر نے پیچھے کھینچ لی ۔
میں اپنی شراب بھی کسی سے شئیر نہیں کرتا
بڑے ہی بے مروت ہو یار تم تو ” شاہنواز نے اردگرد دیکھا تھا سب چیز وہاں قیمتی تھی ۔۔
آپ ایک کام کر دیں”
ہممم حکم کرو ” وہ بولا یہ فنکشن ختم کرا دیں میرا دل کسی چیز میں نہیں لگ رہا ” وہ بچوں کیطرح منہ پھلا کر لیٹ گیا ۔
باہر ساز تیار ہے “
مجھے اس سے بھی بات نہیں کرنی”
یار تو تو شیر ہے نہ شیر اب اسطرح تو ہار نہیں مانتے”
میں نے ایسے نہیں سوچا تھا آپ مجھے ایسے سرپرائز دیں گے ” وہ بولا اور پھر لیٹ گیا
اوکے آئندہ کبھی تمھیں کوئ سرپرائز نہیں دوں گا “
آئندہ کی کیا بات ہے بات تو کھل گئ نہ “
چھپا کر رکھتے ” وہ بولا جبکہ شاہنواز اسکو چند لمہے دیکھتا رہا
چلو اٹھو شاباش بری بات ہے وہ تمھارا انتظار کر رہی ہے “
اسے میرے پاس بھیج دیں شاید دل لگ جائے “
کیوں اداس ہو گئے ہو بھئ دیکھو مجھے فکر ہوتی ہے تم اداس ہوتے ہو تو ” وہ اسے اٹھا کر بیٹھاتا دوبارہ بوتل لے کر ٹیبل پر رکھ گیا
کچھ اور تو نہیں ایسا جو آئندہ مجھے پتہ چلے ” اسکی بات پر شاہنواز لمہہ بھر کے لیے سانس نہ لے سکا
یار میں میں نہیں چاہتا آپ بھی ان لوگوں جیسے نکلیں آپ اپ کو پتہ ہے میں نے اپکا نام کس سے سیو کیا ہوا ہے” اسنے کھول کر دیکھایا شاہنواز فادر لکھا دیکھ کر ۔۔۔ اسکے چہرے پر ہاتھ رکھ گیا ۔
جب دنیا میں کمر پر کوڑے برسا رہی تھی تب مجھے ایک نرم اسرا اپکا ملا ہے مجھے نہیں نئے رشتے بنانے آپکے ساتھ ” وہ پھر منہ پھلائے گیا
شاہنواز خوش بھی بہت تھا مگر پریشان بھی ۔۔۔۔
باقی کچھ نہیں ہے ایسا میں سچ کہہ رہا ہوں ” وہ جھوٹ بول رہا تھا لیکن اسے یقین دلا رہا تھا
وہ سر ہلا گیا شاہنواز بس دیکھتا رہ گیا
وہ اتنا حساس تھا بہت زیادہ وہ جانتا تھا وہ ہے حساس لیکن اس حد تک فلحال اندازا نہیں تھا مگر اب ہو گیا تھا ۔
اب کیا معافی منگواو گے باپ سے ” عمر ہنسا
نہیں ” اور خود اسکے سینے سے لگ گیا
اپکو پتہ ہے تھوڑا تھوڑا ساز سے زیادہ آپ سے محبت ہے مجھے لیکن بس تھوڑی سی ” وہ بولا اسکے سامنے تو ایک معصوم بلکل چھوٹا سا بچہ لگتا تھا ۔
مجھے بھی تھوڑی تھوڑی “
جی نہیں زیادہ کریں اسکو ” وہ گھور کر بولا
میری زندگی ساری تمھاری ہے میری محبت کیا بات کرتے ہو “
ہاں ایزہ سے محبت مجھ سے پوچھ کر کر لیجیے گا پوچھ لیں پہلے”
وہ بوتل سائیڈ پر رکھ گیا
جناب عمر خیام کیا میں اپنی بیوی سے محبت کر سکتا ہوں “
عمر ہنس دیا نفی میں سر رکھ ہلانے لگا
ہاں مجھ سے بس تھوڑی سی کم آپ اسپر ہاتھ اٹھاتے تھے “
اچانک وہ بھائی بن کر سے گھورنے لگا
وہ ایکچلی ” عمر نے سنجیدگی سے دیکھا
میں اب ایسا کچھ نہیں کرتا ۔
بات سنیں میری ۔۔۔ ہماری محبت اپنی جگہ بہن ہے وہ میری اسکی تکلیف پر اپک گھر سر پر اٹھا لوں گا یاد رکھیے گا “
یس مائے لاڈ”
اوکے اب میرا ارادہ نہیں ہے باہر جانے کا آپ ساز کو بھیج دیں “
میں کیسے بھیجوں گا “
وہ میری بات نہیں مانے گی پلیززززززز” وہ بولا تو شاہنواز سر تھام گیا ۔
تم کیا ہو عمر میری سمجھ سے باہر ہو ” وہ ہنسا
عمر سمجھ ا جائے تو بات نہ بن جائے”
وہ آنکھ دبا گیا جبکہ شاہنواز کھڑا ہوا اور ۔۔۔ اسکا گال تھپتھپا دیا
اب کل تم میرے گھر ا رہے ہو اور وہاں مہندی کر لینا یہ جگہ چھوٹی ہے”
ڈن ” وہ فورا بولا ۔
ڈیٹا لائیک مائے بوائے کوئ چیز چاہیے”
برونڈی بے شمار “
کچھ تو شرم کرو یار ” شاہنواز نے ٹوکا وہ منہ بنا گیا
اچھا ٹھیک ہے بلاوجہ تم لوگوں کے منہ مجھے کیش کرتے ہیں” وہ ہنسا
اور شاہنواز باہر نکل گیا دل کا بوجھ خود با خود کم ہو گیا تھا عمر خود ہی باہر نکل آیا کہ ساز قابو میں انی ہی نہیں تھی لیکن اسکی شکل پر لکھا تھا نشے میں ہے ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
