Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 63
No Download Link
Rate this Novel
Episode 63
ٹھا” ۔۔ وہ منہ سے آواز نکال گیا
کیا ہوا زندہ ہو ” مسکرانے کی باری اب شاہنواز کی تھی ۔۔۔
اسنے ریوالور ٹیبل پر رکھا اور اشفاق صاحب کے نزدیک آیا
اچانک ہی جیسے انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا کہ یہ کیا کر دیا وہ اتنے پاور فل آدمی کے پاس تنہا ہی کیسے ا گیا ارہم کو تو کم از کم ساتھ لاتے وہ پیچھے ہونے لگے
میں ۔۔۔ میں عمر کو سب سچ بتا دوں گا ” انکا لہجہ لڑکھڑایا
ہاں اگر زندہ بچ جاتے ہو تو بتا دینا اب تمھیں لگتا ہے میں تمھیں یہاں سے جانے دوں گا” سکون سے کہتے اسنے اشفاق صاحب کی گردن جکڑی
اور زندگی میں بس ایک ہی قتل حلال کیا تھا اسنے خود پر اور وہ اس آدمی کا تھا ۔
اسنے پوری طاقت سے اسکی گردن دبا دی
اشفاق صاحب کی سانسیں رکیں اور انھوں نے اسے دور کرنا چاہا مگر وہ شاہنواز سکندر تھا جو اپنے کنٹرول میں ہر چیز بآسانی کر نے کی پوری صلاحیت رکھتا تھا اسنے انکی گردن کو دبایا اور پھر سوچا نہیں کہ وہ مر گیا تو قاتل بن جائے گا وہ ۔۔۔ اسکی آنکھوں میں خون تھا
عمر کو بتاو گے “
بتاو کیا بتاو گے ۔۔۔ جلدی بتاؤ ۔۔ اچھا تھا دھوکے میں اور بھول میں رہتے تم نے پردے خود اٹھا کر اپنے لیے زندگی تنگ خود بنا دی ۔۔
اگر کبھی بھی یہ بات عمر تک پہنچی خدا کی قسم یہ گردن توڑ دوں گا “اسے پیچھے دھکیلتے حقارت سے کہتا وہ ایک قدم دور ہوا اشفاق صاحب کھانسنے لگے اور شاہنواز نے وہ تصویر اٹھا لی ۔۔۔
اشفاق صاحب کو کیا وہ بیوقوف آدمی سمجھتا تھا چھتیس تصاویر انھوں نے نکلوا کر رکھ لیں تھیں بلکل اسی وجہ سے کہ انکے پاس سے ایک کھو جاتی تو دوسری موجود ہوتی ۔۔ شاہنواز نے اس تصویر کے ٹکڑے کر دیے
کیا تھا اس طوائف میں ایسا جو آج تک اس سے عشق نبھا رہے ہو گندی ذلیل عورت تمھیں بھی خوار کر کے گئ ہے اور مجھے ۔۔۔ مجھے بھی”
اشفاق صاحب کو دال گلتی دیکھائی نہ دی تو پینترا بدلہ تھا ۔۔
شاہنواز نے انکی جانب دیکھا ۔۔۔ اور پیچھے کی جانب دھکیل دیا
زندگی چاہتے ہو تو نکل جاؤ “
اشفاق صاحب کوئی بات کہتے ہی کہ دروازہ کھولا اور سکون سے پی آئے کے روکنے پر چیڑا ہوا عمر کمرے میں ایا تو شاہنواز کو پوری شان سے اور اپنے پی باپ کو زمین پر بیٹھا دیکھ لمہے کے لیے رک گیا ۔
اور شاہنواز نے وہ تصویر والا ہاتھ اپنی جیب میں ڈال لیا ۔
عمر سنجیدگی سے دونوں کو دیکھنے لگا
او شہزادوں تمھیں ہی کال کر رہا تھا یار بڑے سست ہو گئے ہو شادی کر کے ” وہ پوری طرح بانہیں پھیلا کر اس سے ملا تھا افکورس عمر کے پاس سوال تھا کہ اسکا باپ یہاں کیا کر رہا ہے جس کا جواب وہ دونوں مرد ہی دے سکتے تھے ۔
ڈیڈ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ” وہ پوچھنے لگا تھا اشفاق صاحب سے جو چوڑے ہو کر کھڑے ہو گئے جیسے شاہنواز کی اب پھنس گئ ہو
ہاں وہ میں ۔۔۔ “
یہ کہہ رہے تھے ایزہ سے ملنا چاہتے ہیں میں نے کہا ٹھیک ہے اپکی بیٹی ہے اس کے لیے اپکو میرے پاس آنے کی ضرورت نہیں آپ گھر جائیں اپنی بیٹی سے ملیں شاہنواز نرمی سے بولا اور دامن بچا گیا ۔
کس لیے ملنا ہے ایزہ سے آپ نے کیا کام پڑ گیا پیسے لینے ہیں اس سے یہ لیں ” عمر نے جیب میں سے ہزار ہزار کے کئ نوٹ نکل کر انکی ہتھیلی پر سجا دیے ۔
چلیں جائیں اب یہاں سے اور میری بہن کے ارد گرد بھی کسی بھی مقصد کے تحت مت جائیے گا میں اپکو وارن کر رہا ہوں جائیں اب”
وہ بھڑکا اشفاق صاحب کا چہرہ پہلی بار بے عزتی کے احساس سے سرخ ہوا تھا شاہنواز نے بات سنبھال لی تھی مگر یہ فکر اسکے سر پر بیٹھ ضرور گئ تھی وہ خاموشی سے وہاں سے نکل گئے ۔۔ عمر پلٹا شاہنواز کو دیکھا ۔
کیا ہوا کیوں غصہ ہو بھئی ” وہ پیار سے بولا
انکو دیکھ کر غصہ نہ آئے تو اور کیا ہو ۔۔۔ اینی ویز جانے کے پاس مت جانے دیجیے گا انھیں یہ دوسروں کو تکلیف دے کر خوش رہتے ہیں “
جانتا ہوں میں” وہ بے دھیانی میں بولا عمر نے اسکی جانب دیکھا میرا مطلب ۔۔۔ مجھے علم ہے تمھاری وجہ سے اچھا خیر چھوڑو فضولیات کو
او ادھر دیکھو ” اسنے اسکو روم دیکھایا ۔
افکورس عمر کو علم تھا وہ سیاسی آدمی ہے اور یہ کمرہ بھی ویسا ہی لگ رہا تھا
میں کیا دیکھو اس کمرے میں ” وہ اسکی ٹیبل پر سے ڈرائے فروٹ اٹھا کر کھانے لگا ۔
ارے یار نام تو چیک کرو یہ جگہ کس کی ہے “
اسنے نیم پلیٹ چیک کی جس پر بڑا خوبصورت سا درج تھا ” عمر خیام ” اسنے حیرانگی سے دیکھا
یہ جگہ تو آپکی ہے “
میں نے اپنی کرسی تمھیں دے دی ہے میرے پاس بہت بڑا بزنس ہے سنبھالنے کے لیے تم یہ جگہ سنبھالو میں وہ سنبھالو گا اوکے اور وہ جو جناب کی ساز ہیں انکا شکوہ بھی ختم ہو جائے گا کہ میرا شہزادہ کچھ بھی نہیں کرتا تو جا کر بتا دینا
ڈی سی ہوں شہر کا ” شانے پر ہاتھ رکھتا مدھم مدھم وہ اسے سمجھا رہا تھا عمر کو بے ساختہ ہنسی ا گئ
واہ یہ آپ نے خوب سوچی سارے شہر کو شراب پلا کر سلا دوں گا “
وہ ہنسا شاہنواز نے نفی میں سر ہلایا
نہیں میں یہ جگہ نہیں لوں گا یہ آپکی جگہ ہے اپ نے کتنی محنتوں سے حاصل کی میں بلاوجہ ہی بیٹھ جاؤ “
ابے یار ” شاہنواز چئیر کھینچ کر بیٹھا وہ ہاتھ اب تک بھی نہیں نکلا تھا جیب سے ۔۔۔
باپ کی کرسی بیٹے کے پاس ہی اتی ہے ۔۔۔”
ساونڈ گڈ بٹ سٹرینج ” وہ کنفیوز سا لگا تھا ۔
شاہنواز مسکرا دیا
جو تمھارے سکلز ہیں اب مججھے دیکھنے کو ملیں گے “
بلکل بلکل یر رات کا مجرا اور ہر شام حسین شہر والے کافی خوش رہیں گے مجھ سے “
عقل کو ہاتھ لگاؤ لڑکے ” شاہنواز نے گھورا تو وہ قہقہہ لگا گیا
اپ دیکھ لیجیے گا چین نہیں ائے گا میڈیم کو جینا حرام کر دے گی کہ اپ نے کیوں لی شاہ سر سے اپنی محنت سے کریں بلا بلا بڑی تیز چیز ہے”
وہ ادھر ادھر درازوں میں گھستا چیزیں دیکھتا بولا شاہنواز مسکراتا رہا
خوش ہو ” اسکے سوال پر عمر نے جوش سے سر ہلایا
ہاں خوش رہنے لگا ہوں اب تو پینے کا بھی دل نہیں کرتا “
ارے واہ ” وہ اٹھا اور عمر بھی ہنستے ہوئے اسکے سینے سے لگ گیا ۔
تمھاری راہ میں کوئ غم نہ ائے ” وہ اسکی کمر تھپتھپاتا بولا ۔
تھینکیو ۔۔۔۔ تھینکیو فور ایوری تھنگ ۔۔۔ ” وہ پہلی بار شکریہ ادا کر رہا تھا
ارے ” وہ ائ برو اچکا گیا
حق سے لیا کرو مجھ سے ہر چیز ۔۔۔ ضد سے یہ شکریہ وکریہ اجنبیوں میں ہوتا ہے” اسنے کہا تو عمر سر ہلا گیا ۔
اب کچھ رولز ہیں اور پہلا یہ ہی ہے کہ شرافت سے روز صبح تم یہاں ہو گے “
اپ ساتھ ہوں گے تو جاؤ گا ” وہ پشتے اٹھا اٹھا کر کھا رہا تھا ۔
عمر “
میں سچ کہہ رہا ہوں ۔۔ مل کر بگاڑ دیتے ہیں شہر ” وہ انکھ دبا گیا جبکہ شاہنواز ہنس دیا
یہ جو تم نے کریمنل ریکارڈ بنوایا ہوا تھا نہ یہ تمھاری انھیں حرکتوں کی وجہ سے مجھے اتنی بڑی رقم کی رشوت لگانی پڑی ہے “
اوہ اچھا ” وہ بولا ۔۔ جبکہ لاپروہی تو کمال کی تھی
اچھا اب میں جا رہا ہوں کام کل سے شروع کریں گے ” اسنے سنجیدھی سے دیکھا
پلیز ” عمر منہ بنا گیا شاہنواز اب بھی آنکھیں سکیڑ کر دیکھتا رکا
مجھے میری ساز کی یاد ائے گی اتنی دیر میں دور رہو اس سے” وہ الجھا پاؤں پٹخے شاہنواز نے صرف انگلی کے اشارے سے اسے جگہ پر بیٹھنے کے لیے کہا تھا
انسان کا پتر بن ” وہ بولا اور عمر کے پاس اسکی بات ماننے کے علاوہ کوئی جواز نہیں تھا فلحال منہ بسور کر بیٹھ گیا
اسفند” شاہنواز نے پی ائے کو بلایا اور کچھ فائلز منگوائیں اور اسے کام سمجھانے لگا
ابھی کچھ دیر میں میں لوگوں سے تمھارا انٹروڈکشن کراتا ہوں میں ” وہ بولا اور باہر نکلا اور عمر نے ساز کو کال ملا لی ۔
ہائے ہنی کیسی ہو “
عمر اپ کہاں ہیں میں کب سے کالز کر رہی تھی ” وہ پریشانی سے بولی
کام کرنے لگ گیا ہے اب تمھارا شوہر تم ہو کہ اپنے پلو سے الجھائے الجھائے رکھنا چاہتی ہو ۔۔۔۔ سیدھا سیدھا کہو یاد ا رہی ہے میری” وہ چئیر پر جھولتا مسکرا رہا تھا اور انکھوں میں اسکا روٹھا روٹھا چہرہ ایا دوسری طرف وہ خاموشی سے بلکل ویسے ہی چہرہ بنا رہی تھی جیسے وہ سوچ رہا تھا
یاد ا رہی ہے نہ میری ” وہ پھر سے بولا
ایسے نہ کہیں اور ائے گی پھر ” وہ منہ بسور کر بولی اور عمر خیام پھر ٹکتا ایکدم جمپ لگا کر اسنے ٹیبل کے دوسری طرف کھڑے ہو کر دروازہ کھول کر ہلکا سا چیک کیا شاہنواز تو نہیں تھا وہ باہر نکلا کہ ٹکرا گیا ۔
شاہنواز آنکھیں سکیڑ کر اسے واٹس جانے کے لیے بولنے لگا عمر نے احتجاجی نظروں سے دیکھا مگر شاہنواز نے ترس نہ کھایا اور ۔۔ عمر کو اندر جانا پڑا تھا ۔۔۔ کیونکہ اسکے ساتھ کوئی اور بھی تھا
اسنے بہت کچھ بہت جلدی انڈرسٹینڈ کر لیا تھا اور ۔۔ اسکا کام مین دل ہی لگ گیا تھا پھر شام سات بجے تک وہ اپنی مرضی سے وہاں جو بھی کام تھا کرتا رہا تھا ۔
شاہنواز ہر کچھ دیر بعد اسے ا کر دیکھتا جیسے اک ماں بچے کو دیکھتی ہے کہ اسے کسی چیز کی ضرورت تو نہیں جبکہ وہ مشغول سا ہو گیا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف سارا دن کٹ گیا انتظار میں انکھیں لگائے لگائے
ٹھیک ہے کام پر جانا چاہیے مگر مگر اسطرح تو نہیں سارا دن ہی گھر سے غائب رہیں وہ بڑابڑاتی ہوئی اب صوفے پر بیٹھ گئ تھی ۔
اور اچانک کسی نے اسکی انکھوں پر ہاتھ رکھا اسنے جلدی سے اسکے ہاتھ تھام لیے
عمر اپ بہت برے ہیں ” وہ جلدی سے بولی
سارا دن ہو گیا اپ آئے بھی نہیں ایسے کوئی ۔۔ وہ رک گی ۔۔۔ کیونکہ وہ اسکی گردن پر جھکا تھا لیکن یہ خوشبو وہ لاکھوں میں بھی اسکی خوشبو پہچان جاتی یہ خوشبو اسکی نہیں تھی ۔
ایک جھٹکے سے وہ ان ہونٹوں کے اپنی گردن پر چھونے سے پہلے پہلے ہی دور ہوئی اور سامنے ارہم کو دیکھ کر چھکے چھوٹ گئے آنکھیں حیرانگی سے کبھی دروازے کی سمت دیکھتی تو کبھی ارہم کو
کیا ہوا وہ تمھارا عاشق گھر پر نہیں ہے کیا اس وقت چلو اچھا ہوا کہ نکلا وہ بھی ۔۔” وہ ہنسا اور صوفے پر ٹانگیں پھیلا کر جس انداز میں وہ بیٹھا تھا ساز کھڑے کھڑے کانپ گئ اور دور ہونے لگی
اپ اپ کیوں ائے ہیں یہاں ” وہ بولی
لو ابھی تمھیں پتہ ہی نہیں تمھارے بدن کی جو خوشبو ہے وہ مجھے کھینچ رہی ہے ساز چلو ایک کام کرتے ہیں تھوڑی سی دیر مجھے دے دو عمر کو کہاں پتہ چلنا ہے “
اپ ۔۔۔ اپ کا دماغ خراب ہے ” وہ حیرانگی سے بولی
تو اسکے لیے نئی بات نہیں ہے اسکی تو ماں بھی دوسرے مردوں کے ساتھ سوتی تھی اگر بیوی بھی سو جائے گی تو کیا ہو جائے گا ” وہ کھل کر ہنسا ۔۔
جائیں یہاں سے اپ بہت گھ ۔۔۔گھٹیا ہیں” وہ رو پڑی اسکا وجود کانپ رہا تھا اسے سمجھ نہیں آئی تھی کہ ارہم اندر کیسے ایا ۔
سو تو میں ہوں اور ابھی تو میں اپنے مقصد تک پہنچو گا ” اچانک گاڑی کے ہارن کی آواز سن کر دونوں پریشان ہوئے ۔۔ اور ارہم چھپ گیا تھا فورا ۔۔۔۔
ساز دیوار سے چپکی بیٹھی تھی
عمر گھر میں ایا تو آج ایک ذمہدار شہری والی وائبز ا رہی تھی اسے خود میں سے ہنستے ہوئے وہ اندر ایا ساز جلدی سے کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔
ڈبڈبائ ہوئ آنکھوں سے اسے دیکھا
ہائے میرا بچہ چھوٹا سا سارا دن اکیلا رہا “
اسکا بس چلتا وہ اسے خود میں سمو لیتا اور اسے سینے سے لگاتے اسے کتنا بے شمار پیار کر دیا تھا اسے جبکہ ۔۔ ساز ابھی بھی کانپ رہی تھی کیونکہ ایک غیر مرد بھی گھر میں تھا
وہ بتانا چاہتی تھی سے کہ ارہم بھائی یہاں ہیں اسے تنگ کر رہے ہیں وہ چھپانا نہیں چاہتی تھی اور وہ ایسا کر بھی دیتی کہ ارہم پیچھے سے نکل گیا
عمر اپنی مستی میں مگن تھا احساس نہ ہو سکا تھا اسے ساز اسکے سینے سے چپک کر رو پڑی
اب تم ایسے رو گی تو میں کہیں بھی نہیں جاؤ گا “
وہ اسکے لیے بہت سارے پھول لایا تھا جبکہ ساز اپنا خوف دور کرنا چاہتی تھی وہ اسے یوں ہی سینے سے لگائے کھڑا رہا
اور پھر ساز نے اپنے آنسو صاف کیے اسکی جانب دیکھا اور دونوں ہنس پڑے ۔
شرم ا رہی ہے مجھے ایسے نہ دیکھو ” وہ دور ہوا جبکہ ساز مزید ہنس دی ۔
آپ تو بہت ذمے دار ہو گئے ہیں ” بھیگی بھیگی پلکوں سے مسکراتی وہ بہت حسین لگ رہی تھی اسنے خود کو بحال کرنے کی کوشش کی تھی
ایسا ہی ہے ایسی وائز آ رہی ہیں جیسے میں بڑا ہو گیا ہوں ایک تو یہ شاہ بھی نہ ۔۔ کیا سے کیا کر دیا ” وہ نفی میں سر ہلاتے پھول اٹھا گیا ۔
میری جان میری زندگی کے گلاب میرے حسین لمہے ۔۔ میری خوابوں کی تعبیر ۔۔ میری مدہوشی میرے جنوں آپ کی خدمت میں یہ چھوٹا سا تحفہ ” وہ ایک پاوں پر بیٹھتا پیش کرنے لگا جبکہ ساز کھلکھلا دی اور اسنے وہ پھول پکڑ لیے
مگر میں نے غصے میں اپکے لیے کچھ نہیں بنایا وہ افسوس سے بولی
کچھ نہیں ہوتا ہم باہر کھا لیں گے”
نہیں ” وہ بولی
موٹی ہو گئ ہو تم ” وہ بولا اور کمر سے ذرا نیچے تھپڑ مارا تھا
ساز جلدی سے اسے گھور گئ ۔۔۔
جبکہ ان پھولوں کی مہک کو خود میں ا تارتی اسکے لیے پر سکون ہونے لگی تھی آج تو اسے اسپر پیار ا رہا تھا وہ محنت کر کے آیا تھا
چلتے ہیں نہ پلیز ” وہ بولا اور سیب اٹھا کر بائیٹ لی ۔
اچھا لیکن میں بنا لیتی ہوں کھانا ابھی کچھ دیر میں “
نو یہ ہاتھ کام کے لیے نہیں ہیں اوکے ” اسنے اسکی ہاتھوں پر پیار کیا اور جلدی سے اٹھ گیا چلو چلتے ہیں
فریش تو ہو جائیں ذرا عمر خیام لگیں یہ ذمہ دار شہری کیوں بنے ہوئے ہیں ” وہ بولی تو عمر نے سر ہلایا ۔
اور سیب اسکے ہاتھ میں تھما کر وہاں سے فرار ہو گیا
ساز کی مسکراہٹ سمٹ گئ
وہ کتنا خوش ہے اور وہ اسے یہ سب بتا کر پریشان کر دے وہ پریشانی سے گھر کے دروازے دیکھنے لگی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غیر متوقع طور پر وہ گھر پر جلدی ا گیا ۔
کچھ کھانے کے لیے ہے ” وہ کچن میں آیا سوہا چائے بنا رہی تھی
نہیں ” وہ بس اتنا ہی بولی
کیوں ” اسکے سوال پر اسنے شانے اچکا دیے
ابو نے پیسے نہیں دیے نہ کچھ بھی سامان لا کر دیا صبح سے سب یوں ہی منتظر ہیں کہ گھر کا کوئی مرد ا جائے تو کچھ بن جائے ۔
یہاں تک کے آٹا بھی ختم ہو گیا ہے ” وہ بولی تو بدر ایکدم خاموش ہو گیا اور پھر وہ وہاں سے چلا گیا
سوہا جانتی تھی وہ اب لے آئے گا وہ کچن میں ہی کھڑی اسکا انتظار کرنے لگی سب نے چائے ہی پی تھی اور ایک کپ اسکا ہی رکھا تھا جو اسنے بدر کے لیے چھوڑ دیا ۔
وہ تقریبا گھنٹے بعد واپس آیا تو بہت کچھ تھا اسکے پاس ۔۔ بہت سارا سامان اور سامان میں کچھ اور چیزیں بھی تھیں اسنے ضرورت کا سامان کچن میں رکھا اور دوسرے کچھ فروٹس ڈرائے فروٹ اور چاکلیٹس وہ کمرے میں لے گیا
سوہا خوش فہم بلکل نہیں تھی تبھی اس سامان پر توجہ دیے بنا اسنے گوشت بنایا ۔۔۔
اور روٹیاں ڈالنے لگی تو صوفیا اور صنم بھی ا گئیں تھیں کچن میں اب سب نے مل کر کھانا بنایا اور سب ہی کھانا کھانے بیٹھ گئے
کون لایا ہے یہ سب ” تائی کے سوال پر سوہا نے بدر کی جانب اشارہ کر دیا
تائی جان خاموش ہو گئیں جبکہ نجما کافی خوش ہوئی تھی کہ آج اسکا بیٹا بھی اس قابل ہو گیا کہ وہ اس گھر کے لیے یہاں کے لوگوں کے لیے کچھ کر سکے
وہ مسکرا دی تھی سب کھانا کھانے لگے تھے سوہا نے ابھی لقمہ ہی توڑا تھا کہ وامیٹس سی آنے لگیں اور وہ اٹھ کر واشروم میں چلی گئ
ہائے میری بچی کی جان کو آ گئے یہ بچے تو ” تائی جان اٹھنے لگی کہ بدر نے روکا اسے برا تو بہت لگا کہ اسکے بچوں پر وہ کیسے بولیں تھیں وہ اٹھ کر کمرے میں ایا وہ ہلکان ہو رہی تھی اور بدر اندر داخل ہوتا کہ وہ خود ہی باہر ا گئ اسنے منہ صاف کیا اور اسکی جانب دیکھا۔
ک ۔۔۔ کیا ہوا ” بدر اسے غور سے دیکھنے لگا
وہ خود سے اتنی لاپرواہ تھی اور صرف محبت کر رہی تھی بھلے پھر کچھ بھی ہو جاتا ۔۔
تم کھانا کھا لو بھوک لگی ہے نہ ” وہ اہستگی سے بولی اور بیڈ کی جانب بڑھ گئ ۔
بدر نے اسے راستے میں ہی پکڑ لیا اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں بھر لیا یہ سب غیر ارادی تھا ۔
تم ڈاکٹر کے پاس نہیں گئ ” وہ پوچھنے لگا
ہاں جانا تھا بھول گئ پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے ۔۔۔” وہ پیشانی پر ہاتھ رکھتی بولی ۔ ۔
میں چلی “
اچھا چپ ۔۔ ہو جاو ۔۔۔ کیا کھاو گی ” سوہا نے ذرا حیرانگی سے اسے دیکھا
بھوک تمھیں لگی ہے “
میں تو کھا لوں گی ۔۔۔کچھ بھی ” وہ بولی اسکے انداز کی لاپرواہی بدر کو چبھ رہی تھی
یہ تو یہ وہ سوہا تھی جو ہر چیز پر اختلاف قور احتجاج اپنا فرض سمجھتی تھی اور اب اسے پرواہ نہیں تھی اب اسکی کوئی پسند نہیں تھی بدر اٹھ گیا
یہ کچھ چیزیں لایا ہوں میں تمھارے لیے “
اچھا نا پسندیدہ لوگوں پر بھی خرچ کیا جاتا ہے” وہ ہلکا سا مسکرائی بدر کو سیدھا سیدھا طنز ہی لگا تھا خاموش ہو گیا ۔ ۔
تم کھانا کھا لو ” وہ کچھ توقف سے بولی جبکہ وہ باہر نہیں گیا
فلحال موڈ نہیں ہے ” بس اتنا کہہ کر وہ بجنے والے فون کو سننے لگا جبکہ سوہا اسے دیکھتی رہی
کتنا بھرپور شاندار تھا ہر طرح سے پرفیکٹ سنجیدہ ذرا اکڑوں سا ذرا انا پرست ۔۔۔۔ اور اپنی انا کو برقرار رکھتے آج اس نے اپنا آپ منوا لیا تھا ہاں یہ پیسہ اسکے لیے قیمتی تھا اسنے بہت محنت سے کمایا تھا اسی لیے اسے ان پیسوں کی بہت قدر تھی ۔۔۔۔
وہ اسے دیکھتی رہی جب تک وہ فون پر بات کرتا رہا اور پھر تھک سی گئ جیسے اس شخص کو پانے کے لیے ہر حد پار لی تھی اور بس ایک اسی شخص کو پا نہ سکی ” وہ سر جھکا گئ ۔۔۔۔
اور لیٹ گئ ۔ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
