Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 26
No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
اشفاق صاحب یہ جو آپکی اولاد نے تماشہ لگایا ہے نہ آج میں بھولوں گی نہیں” تائی گھر میں داخل ہوتے ہی دھاڑیں
تایا جان نے انھیں گھور کر دیکھا بس اب گھورنا بند کریں بہت میں نے آپکی گھوری میں چپ رہ رہ کر زندگی گزار دی
اسنے ہمیں نیچا دیکھایا ہے جان بوجھ کر کر رہا ہے وہ یہ سب ” وہ بھڑکیں جبکہ سوہا نے بھی اپنا سامان پھینکا
شادی میری تھی ابو اور میں اس چھوٹی سی مہران میں گھر آئی ہوں اور وہ ساز ٹیکسلا میں پھر رہی ہے یہ سب کیا ہے لوگوں کے منہ پر میرے نام کے بجائے صرف ساز اور عمر کا ذکر تھا وہ جان بوجھ کر آیا تھا شادی میں ” سوہا رونے بیٹھ گئ
بدر نے ایک نظر ان سب کو دیکھا یہ سب تو ہونا ہی تھا اور نجما کو لے کر وہ کمرے میں ا گیا اپنی ماں کے جبکہ چچی اور چچا وہیں کھڑے تھے صنم اور صوفیا کے تو دل میں سکون اترا سوہا خود کو بہت کچھ سمجھتی تھی جبکہ وہ تھی کچھ نہیں ۔۔۔
اب یہ ڈرامہ بند کرو اور جاؤ سب اپنے کمروں میں “
ابو آپ کچھ نہیں بولتے اسے ایک بات سے منع نہیں کرتے ” ارہم بھی بیچ میں کودا پہلے ہی اسکے گال پر پڑنے والا تھپر اب تک اسکے اندر حسد کا وہ لاوا جلا رہا تھا جو نہ ختم ہونے والا تھا
اگر وہ پیسے نہ دیتا تو یہ جو عیاشی تم کر کے آئے ہو نہ سب یہ جو ٹھونس ٹھونس کر تمھاری بیٹی کی شادی میں لوگوں نے کھانا کھایا یہ سب نہ ہوتا کچھ عرصے کے لیے اپنے منہ کو بند کر لو بس کوئی فرق نہیں پڑتا ” وہ بولے جبکہ وہ سب غصے سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے
پھر میری شادی بھی کسی امیر سے کر دیتے اس کنگلے سے نہیں” سوہا غصے سے چلائی بدر نے اسکی جانب دیکھا اور کمرے میں چلا گیا
ایک لفظ نہیں بولا تھا
سوہا ۔۔۔۔
ابو کے گھورنے پر وہ تن فن کرتی ماں کو دیکھنے لگی
میں ۔۔ میری بیٹی ہی اس گھر کا عذاب جھیلیں باقی سب عیاشی کرتے رہیں باقی سب من مرضیاں کریں بس ہمارے اوپر ہی ظلم و ستم ہوتے ہیں اس گھر میں ۔۔۔۔
” تائی جھوٹے آنسو بنانے لگی جبکہ تایا سر تھام کر بیٹھ گئے اور ارہم بھی باپ کو گھور کر چلا گیا اور تائی نے سوہا کے شانے پر ہاتھ رکھا
چلو تم اپنے کمرے میں جاؤ “
کیا کروں جا کر میں۔” وہ بھڑک اٹھی
سوہا ” ابو کی برداشت سے باہر پو چکی تھی شاید تبھی وہ دھاڑے اور سوہا بھی انکی ہی بیٹی تھی نکھرے سے سر جھٹکتی اٹھی اور بدر کے کمرے میں خود ہی چلی گئ
چچی اور چچا نے ذرا حیرانگی سے بھائی بھابھی کو دیکھا
اب تمھاری بیٹیاں تو جل بھن کر کمرے میں بند ہو گئیں ہیں تو اسنے خود ہی جانا تھا ” تائی نے آنکھیں گھما کر کہا تو چچی کی کیا مجال تھی وہ آگے بولتیں ۔۔۔۔
وہ لوگ بھی کمرے میں چلے گئے جبکہ تایا جان بھی
سب ہی اپنے اپنے کمروں میں جا چکے تھے دوسری طرف بدر اپنے کمرے میں تھا جب سوہا کمرے میں ائی تو سادہ سے کمرے کو دیکھ کر اسکا خون کھولنے لگا
یہ کمرہ سجایا ہے تم نے میرے لیے یہ ہوتی ہے دولہن کی اہمیت تمھاری بہن وہ منحوس خود کو سمجھتی کیا ہے ہماری بھیک پر خوش ہو رہی ہے اور سنو بدر زمان میری بات سنو ایک بات تو طے ہے عمر ابو کو نیچا دیکھانے کے لیے تمھاری بہن کا استعمال کر رہا ہے ورنہ ساز جیسی لڑکی میں گلی کا کتا بھی دلچسپی نہ لے اف خدایا یہ کہاں پھنس گئ میں “
بدر اسکی ساری گوہر فشانیاں سن رہا تھا اسنے غور سے اسے دیکھا جبکہ دوسری طرف سوہا بیڈ پر بیٹھ گئ نہ دولہن کے لیے پھول لگائے میں کہتی ہوں غربت تو تم پر ا کر ختم ہو جاتی ہے نہ بدر ” وہ تپ اٹھی بدر اب بھی اسے سنجیدگی سے دیکھتا رہا
اب گھور کیا رہے ہو ہٹو یہاں سے مجھے بیٹھنا ہے ” وہ بھڑکی
بدر اٹھ گیا اسکے لیے جگہ چھوڑ دی سوہا کے چہرے پر فخریہ سی مسکراہٹ ابھری کہ اسکے باپ نے اسے غلام تو خرید ہی دیا تھا یہ الگ بات تھی کہ غلام کے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں تھی سوہا سکون سے بیٹھ گئ ادھر ادھر دیکھنے لگی
ابو سے پیسے لوں گی کل صبح ہی اس کمرے میں سے اپنی غربت ختم کرو ” وہ حکم دینے لگی بدر اسکے سامنے بیٹھ گیا
غصہ کیوں کر رہی ہو ” اسکے الفاظوں پر سوہا نے اسکی جانب دیکھا
عجیب ہی نشہ سا سر چڑھ کر بولا تھا اسکے سر پر ۔۔۔۔۔۔
بدر نے اسکا ہاتھ تھام لیا
دولہن کو تو خاموشی سے دولہا کی تعریف کا انتظار کرنا چاہیے” وہ اسکے ہاتھ کی پشت پر اپنا انگوٹھا مسلتا بولا
جبکہ سوہا کا دل بے ساختہ دھڑکا اسنے سانس اندر اتارا
دولہن کا استقبال اسطرح تو نہیں کیا جاتا تمھیں پھول شول تو لگانے چاہیے تھے”
میں تمھارے ارد گرد پھول بچھا دوں گا فکر کس بات کی ہے” وہ نرمی سے بولا
سوہا مسکرا دی کنگلے تو تم ہو کیسے بچھاؤ گے پھول خیر چھوڑو ” اسنے ہنستے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا
بدر بھی مسکرایا دیا
خیر بتاؤ کیسی لگ رہی ہوں کرو تعریف ۔۔۔ اسنے اپنی نتھ ٹھیک کرتے ہوئے بولی
بدر مسکرایا جیسے وہ اسکے اسی سوال کا منتظر ہو
اوپر کرو چہرہ ذرا کھل کر تعریف کرنا چاہتا ہوں میں تمھاری ” اسنے سوہا کا چہرہ ٹھوڑی کے نیچے اپنی انگلی رکھ کر اونچا کیا اور سوہا کا میکپ سے سجا چہرہ اسکے سامنے تھا اسکے لبوں کی تراش میں مسکراہٹ تھی اسکا تن من سجا ہوا تھا
بدر مسکرایا اور اسکے بعد کمرے کی خاموشی میں چٹاخ چٹاخ کی آواز کمرے میں گونجی سوہا کا سر سائیڈ ٹیبل پر لگا ۔
اور بدر سکون سے اسکے سامنے سر کے نیچے کہونی فولڈ کر کے ہاتھ پر اپنا سر رکھتا لیٹ گیا
سوہا کی آنکھیں پھیل گئیں گال سمیت کان بھی سرخ پڑ گئے جبکہ نتھ کھل کر اسکے ہونٹوں کے نزدیک لٹک گئ
وہ حیران ششدر سیدھی ہوئی بدر مسکرا دیا
کیسی لگی تمھیں اپنی تعریف دیکھو زمین آسمان گھوم گیا نہ
یہ سمجھو کہ آج میں نے تمھاری تعریف میں زمین آسمان گھما دیے”
وہ مسکرایا ۔
ت۔۔۔تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا ” سوہا کو یقین ہی نہیں ایا
ہاں میں نے تم پر ہاتھ اٹھایا ” وہ اسکی جانب دیکھتا بولا
تم ۔۔۔ تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا ” وہ حیرانگی سے باہر ہی نکل نہیں رہی تھی
ارے ہاں سوہا میں نے تمھیں ابھی ابھی کھینچ کھینچ کر دو تھپڑ ماریں ہیں میرے اس بوسیدہ کمرے میں حسن کی پری کو لگنے ولے دو تھپڑوں کی آوازیں گونج رہیں ہیں دیکھو تمھیں سنائی نہیں دے رہی کیا ” وہ اٹھتے ہوئے بولا جبکہ سوہا کی انکھ سے آنسو گیرہ
تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا تمھاری اتنی جرت ” سوہا اٹھی بدر مسکرا دیا
خیر جرت تو ہے شوہر ہوں تمھارا ہاتھ اٹھانا تو چھوٹی بات ہے تمھارے ہاتھ توڑ بھی سکتا ہوں یو نو عام بات ہے یہ تو ” وہ مزے سے بولا
میں میں تمھیں چھوڑو گی نہیں ” وہ ہچکی بھرتی بولی جبکہ
بدر قہقہہ لگا اٹھا اور کھڑے ہو کر اسے باہر جانے سے روکا
کیا ہو گیا سوہا ابھی تو پارٹی کی شروعات ہے ابھی سے بھاگ رہی ہو نہ نہ ابھی باہر نہیں جانا کچھ دیر تک بھیجو گا ” اسنے پکڑ کر اسے دور دھکیلا
سوہا گرتے گرتے بچی
بدر” وہ چلائی اور بدر نے اسکے منہ پر ایک اور تھپڑ پوری شدت سے برسا دیا
شوہر کا نام لو گی زبان گدی سے کھینچ دوں گا تمھاری” وہ معصومیت سے بولا
سوہا کی آنکھیں کھل گئیں وہ نہ سمجھی سے اسے دیکھنے لگی
ارے تم رونے لگی ” وہ اسکے بہنے والے آنسو کو دیکھتا مذاق بنانے لگا ۔۔۔۔
پاگل لڑکی سمجھی ہی نہیں ابھی تک ۔۔۔
تم سے شادی کرنے کی وجہ یہ ہے سوہا اشفاق میرا انتقام تم میرے انتقام کی بھینٹ چڑھو گئ میں نے نہ سچ بات بتاؤ تمھیں کوئی اوقات کبھی دینا نہیں چاہی تمھیں ایک پاگل لڑکی سمجھ کر اگنور کرتا رہا ۔۔۔
لیکن پھر مجھے جلد سمجھ آ گیا کہ پاگل تو میں خود ہوں تم تو اس لائق ہی نہیں کہ تمھیں اگنور کیا جائے
اور تمھارا باپ “وہ مولوی۔۔۔ گھر کی عورتوں پر بری نگاہ رکھنے والا مولوی” بدر نے تھوک دیا
اسکی بھی زیادہ وقت ہو گئ جتنی تمھارے باپ کی ہے بس پھر میں نے واقعی تم سے دل سے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا
اور دیکھو شروعات انتقام ہو گیا ” وہ آنکھ دبا گیا
تم ایسا نہیں کر سکتے محبت کرتی ہوں میں تم سے ” سوہا ایکدم آگے بڑھی ۔
اور بدر ہنسنے لگا ہنستے ہنستے وہ بیڈ پر بیٹھ گیا
شکل دیکھو اپنی ہمارا تو رنگ بھی نہیں ملتا اور تم بات کر رہی وہ محبت کی ۔۔۔۔
ارے بندہ شکل دیکھ کر بات کر لے ” وہ ہنستا ہی چلا گیا
میں بدر زمان مجھے دیکھو کہاں سے کوئی کمی ہے مجھ میں جو تم جیسی سیاہ رنگ و شکل کی لڑکی سے شوقیہ شادی کرنے چلا ” وہ سکون سے بولا جبکہ سوہا کے اندر تک جیسے اگ لگ گئ
بدر ” وہ چیخی اور بدر کے اندر جنون سے اٹھ گئے اسنے پھر یہ نہیں دیکھا کہ وہ ایک لڑکی ہے اسکے منہ پر کھینچ کر تھپڑ مارتے اسنے اسکے بالوں کو جھنجھوڑنے دیا ۔
آواز میری آواز سے اوپر نہ ہو میری جان ابھی وقت نہیں بلکل نیچے” وہ دھاڑا
آواز اتنی نیچے ہونی چاہیے کہ تمھاری آواز کسی کو سنائی نہ دے نیچے “
وہ اسکے دیکھنے پر اسے نیچے دیکھنے کا کہنے لگا اسکے بال جھٹکے سے چھوڑے ۔۔۔
اب سکون سے میری بات سنو
جاؤ باہر اور شروعات اس بات سے ہو گی کہ بدر زمان کو اسکے باپ کا پورا حصہ آج ابھی اور اسی وقت دیا جائے اسکے بعد میں اپنے تایا کی بیٹی کے شادی کی رات والے سارے ارمان پورے کرو گا خواہش ہے نہ تمھارے دل میں بڑی میری تو۔۔۔ شاباش اب اسی مناسبت سے اپنے باپ کے پاس جاؤ اور اج رات ہی سارے پیپرز میرے ہاتھ میں ہوں ورنہ پتہ ہے کیا ہو گا ۔ ۔
میں تمھیں ساری رات مارو گا اور سارہ رات کا مطلب خدا کی قسم ساری رات ہے مجھ سے امید کی توقع مت رکھنا جاؤ شاباش ” وہ اسکے ہچکیاں بھرتے وجود کو دروازہ کھول کر باہر دھکیل گیا
اب۔۔۔ابو ” سوہا باپ کے کمرے کی جانب بھاگی بدر نے دروازے سے ٹیک لگا کر اسے بھاگتے ہوئے دیکھا
ابو ابو ” اسنے ماں باپ کے کمرے کا دروازہ پیٹ دیا
ابو ” وہ دھاڑیں مارنے لگی کہ سب اسکی وحشت زدہ آواز سن کر کمرے سے باہر ا گئے
اور سوہا کا حال دیکھ کر دل تھام گے بدر نے مجھے مارا ہے بدر نے مجھے بہت مارا ہے ابو ” وہ چیخیں مار مار کر رونے لگی
جبکہ بدر کھڑا مسکرا کر یہ منظر دیکھنے لگا نجما نے اسے حیرانگی سے دیکھا جبکہ بدر نے ماں کی جانب نہیں دیکھا تایا کی آنکھوں میں انکھیں ڈالے کھڑا تھا اور تایا جان کو اپنی دوسری سنگین غلطی کا اس وقت شدت سے احساس ہوا ایک ساز اور عمر کی شادی انھیں اپنا جذباتی پن لگا اور اب یہ شادی ۔۔۔
ابو یہ اپنا جائیداد میں حصہ مانگ رہا ہے بو اسنے مجھے بہت مارا ” وہ باپ کے سینے سے لگ گئ چیخیں مار مار کر رونے لگی جبکہ بدر کا سکون قابل دید تھا
بدر” نجما نے اسکا بازو جکڑا
تیری اتنی جرت ” اشفاق صاحب اگے بڑھے اور اس سے پہلے وہ کچھ کرتے کہ ارہم نے بدر کا گریبان جکڑ لیا اور بدر کے سر پر خون سوار تھا وہ انھی لمہوں کا انتظار کر رہا تھا جیسے ساری زندگی کی قصر نکال لینا چاہتا تھا اسنے ارہم کو اندھا دھند پیٹ ڈالا
بدر ” تایا تائی ایکدم آگے بڑھے وہ لات مار کر ارہم کو گرا گیا
بس ” اسکی دھاڑ پر ایکدم سب تھم گئے
تجھے اس لیے بھیجا تھا کہ تو ڈرامے کرے ” ہو بہو وہ تایا جان کیطرح بول رہا تھا
بتا تجھے اس لیے بھیجا تھا ” اسنے سوہا کے بال جکڑے
ابو ” اشفاق صاحب ارہم کو دیکھتے یہ سوہا کو وہ جیسے حق و دق تھے
مانگ اپنے باپ سے جس کے لیے بھیجا ہے تجھے باہر ” اسنے سوہا کو دھکیلا
ابو ” سوہا روتی ہی چلی گئ
تائی نے اٹھ کر سوہا کو تھاما اور بدر کو بے شمار گالیاں دے ڈالی بھلا ان گالیوں کا اسپر کوئی اثر ہونا تھا وہ بنا کچھ بولے کھڑا رہا
اے زیادہ ڈرامے نہیں چلیں گے جتنا کہا ہے اتنا کرو ورنہ” اسنے ہاتھ اٹھایا
بدر” اشفاق صاحب چلائے
بس ” وہ ان سے زیادہ چلا اٹھا
آپکی بیٹی کا شوہر ہوں اپنی بیٹی کو سکون سے رات سلوانا چاہتے ہیں تو فورا جو میں نے کہا ہے وہ کریں ” وہ بولا
اب۔۔ابو ابو ۔۔بدر کو ۔۔کو دے دیں جو یہ مانگ مانگ رہا ہے”
نام لیتی ہے شوہر کا کیسی نیچ تربیت ہے اس عورت کی چہ چہ چہ” وہ بڑا سا منہ بنا کر بولا جبکہ سوہا کے پاوں پر اپنا جوتا رکھ دیا
سوہا کی چیخوں پر ایکدم گھر ادھر ہو گیا
چھوڑ میری بیٹی کو جانور تجھ سے طلاق دلاؤں گا دے طلاق میری بیٹی کو ابھی دے ” اشفاق صاحب اسکا گریبان جکڑے بولے
جبکہ بدر ہنسنے لگا اور ہنستا ہی چلا گیا
اشفاق صاحب اسکے رنگ ڈھنگ دیکھ رہے تھے
بدر نے انھیں دھکیلا اور سوہا کے نزدیک گیا ابو ابو پلیز دے دیں جو جو اسکا ہے اسکو دے دیں” وہ مزید پیٹنا نہیں چاہتی تھی جلدی سے باپ کے اگے ہاتھ جوڑتی بولی بدر مسکرانے لگا
اشفاق صاحب نے بیٹی کی حالت اور بیٹے کی چوٹوں اور بیوی کی جانب دیکھا ۔
ٹھیک ہے دوکان پر ا جانا کل سے “
نہیں آنا مجھے میرا حصہ چاہیے “
کوئی حصہ نہیں تیرا ۔۔۔
پتہ ہے مجھے کیا ہے میرا میرے باپ کی دوکان مجھے دو ” وہ بھڑکا جبکہ تایا جان کہاں کچھ دینے پر تیار تھے
ہم آرام سے بات کریں گے “
بلکل کیوں نہیں ساری رات اپنی بیٹی کی چیخیں سن”
وہ جیسے جنگلی ہو گیا تھا اپنی بات منوا کر چھوڑنی تھی اسنے سوہا کا بازو جکڑا اور اسے گھسیٹا
ابو ” وہ چلائی
ارے بیٹی کو مار دے گا آپکی وہ دے دیں اس منحوس کو جو اسکا ہے” تائی اس دھوکے پر روتی ہوئ سر پیٹتی بولیں
اور چار نچار تایا جان کو وہ کاغذات لانے پڑے بدر نے دیکھا اور
تایا کے ہاتھ سے وہ کاغذات چھین لیے
وہ دوکان آج بھی اسکے باپ کے نام تھی بدر نے دانت پیس کر تایا جان کی جانب دیکھا
ابھی کے لیے اتنا بہت تھا اسنے سوہا کا بازو جکڑا اور دوکان کے کاغذات سمیت سوہا کو بھی گھسیٹ کر وہاں سے لے گیا
سوہا چلاتی رہی وہ اسکے ساتھ جانا نہیں چاہتی تھی جبکہ بدر نے دروازہ کھینچ کر بند کیا اور اسکا منہ جکڑ لیا
چپ ۔۔بلکل چپ”
نہیں رہنا میں نے تمھارے ساتھ” وہ روتے ہوئے بولی
تو تمھارے جیسی بدصورت لڑکی کے ساتھ رہنے کا خواہشمند بھی کوئ نہیں یے فلحال تم میرے مقصد کا مہرہ ہو اس سے زیادہ کچھ نہیں میں خود کو مار کر تمھاری طرف بڑھ رہا ہوں کیونکہ تم اس کتے کی بیٹی ہو جو سیدھے ہاتھوں قابو میں نہیں آئے گا ” اسنے سوہا کو زبردستی اٹھا کر بیڈ پر پٹخا
نہیں ۔۔ نہیں بدر میں تمھیں یہ سب نہیں کرنے دوں گی میں کسی انتقام کی بھینٹ نہیں چڑھو گی” وہ بیڈ پر سے اترنے لگی بدر نے اسکا پاوں پکڑ کر اپنی طرف کھینچا
تمھاری تو شکل دیکھنے کا دل نہیں کرتا ” وہ اسکی شکل دیکھتا برا سا منہ بنا گیا
احساس ذلت اور بے عزتی سے وہ جیسے مرنے کو ہو گئ
وہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی بدر نے اسکا منہ پکڑ کر طنزیہ ہنس کر اسکو دیکھا وہ اسکو جکڑے ہوئے تھا اور ایکدم وہ جھکا
بدر” سوہا کو اسکے دانت اپنی گردن میں چبھتے ہوئے محسوس ہوئے وہ مچھلی کی طرح تڑپی ۔۔۔
بدر نے اس رات کچھ نہیں دیکھا اس لڑکی کو بڑی طرح مسل کر رکھ دیا جیسے بچپن سے لے کر جوانی تک کا سارا غبار وہ اسکے اوپر نکالتا چلا گیا
سوہا کی مزاحمت دم توڑ گی اور وہ بے دم سی اسکی مرہونِ منت رہ گئ اور بدر نے بھی اسکو ایسے سلوک پر رکھا جیسے وہ واقعی ایک ایسی عورت کو جس کو بس اسی کام کے لیے بھیجا گیا ہو ۔۔۔۔
اسنے اس لڑکی کی سسکیوں پر توجہ ہی نہ دی اور اپنے انتقام کی نظر کر دیا
وہ دور ہوا اور اپنی جیب سے کئی نوٹ نکال کر اسکے منہ پر مارے
کنگلے شوہر کیطرف سے کچھ انعام وصول کرو “
مسکرا کر وہ بولا اور اسکے بے ربط حلیے کو دیکھ کر وہ مسکرایا اور سائیڈ پر لیٹ گیا
یہ رونا دھونا ذرا وہاں بیٹھ کر کرو دفع ہو جاؤ یہاں سے میں اس بدصورت شکل کو مزید نہیں دیکھنا چاہتا ” اسنے اسے دور دھکیلا سوہا اپنی ہچکیوں کو منہ پر ہاتھ رکھتی روک گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح سب کی نگاہ بدر اور سوہا کے کمرے کی جانب تھی تائی تو اس کمرے کے بایر ہی کھڑی دروازے پیٹ رہی تھی
ساز کو نجما سب بتا چکی تھی ساز آنکھیں پھیلائے ماں کو دیکھنے لگی جبکہ تائی جان کچن میں ا گئیں اور ساز کو جکڑ لیا
تیرے بھائی نے میری بیٹی کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے میں جان سے مار دوں گی تجھے ۔۔۔ تجھے مار دوں گی” وہ اسے مارنے پیٹنے لگی
تائی جان تائی ” وہ خود کو بچانے لگی کہ اچانک ہی انکے ہاتھ بدر نے جکڑ لیے
سپاٹ تیوروں میں انھیں دیکھا
آپکی بیٹی کی نند اور میری بہن ہے عزت میں کمی نہ آنے پائے تائی جان کبھی آپکی بیٹی مزید ذلیل ہو جائیں ذرا دیکھیں اسے کیسی لڑکی ہے رات بھر ایک شوہر کو سہہ نہیں سکی
جا کر اسکو سمیٹیں پہلے ہی اسکی بدصورت شکل نے مجھے بہت بے زار کیا ہے” وہ بولا جبکہ ساز نے بھائ کو دیکھا
یہ بدر تو نہیں تھا یہ تو کوئی اور ہی شخص لگ رہا تھا
بھائی” اسنے حیرانگی سے بھائی کو دیکھا
ریلکس باہر آؤ”
وہ ماں اور بہن کو لے کر باہر ا گیا صوفے پر بیٹھ گیا
سوہا” اسنے آواز لگائی
بہت ہی بری تربیت ہے تائی جان کی تو ” وہ نفی میں سر کو ہلانے لگا
یہ کیا کر رہے ہیں آپ بھائی”
وہی جو بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا ۔
بس اب وقت آزمائش کسی اور پر ہے اور خدا کی قسم ساز یہ جلدی ختم ہونے نہیں دوں گا
بھائی یہ ظلم ہے “
مجھ پر کم نہیں ہوئے” وہ کہہ کر اٹھ کر چلا گیا
وہ حیران سی رہ گئ
تائی کے کوسنے اور گالیاں بڑھتی جا رہیں تھیں بڑھتی جا رہی تھیں ساز اپنے کمرے میں ا گئ وہ پریشان تھی کچھ سمجھ نہیں ا رہی تھی یہ اچانک ایکدم ہوا کیا تھا ۔
جبکہ کمرے میں تو صبح ہی نہیں ہوئی تھی وہ عمر کو بے ساختہ جھنجھوڑ گئ
اور پھر اپنی حرکت پر اور اسکے اٹھنے پر شرمندگی سے نگاہ جھکا گئ
کیا ہوا ہے” وہ مندی مندی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا
ا۔۔اتنی ۔۔اتنی لڑائی ہو جاتی ہے آپکی نیند نہیں ٹوٹی” وہ منہ بنا کر بولی
تمھارے اس بھکارن خاندان سے میری کوئی دلچسپی نہیں ہے اب مجھے جگایا تو کوئ چیز مار دوں گا ” وہ پھر سے سو گیا جبکہ ساز منہ بسور کر صوفے پر بیٹھ گئ
عمر نے منہ موڑ کر دیکھا
یار کیا ہے تمھیں” وہ اٹھ بیٹھا
وہ چپ رہی اور عمر کو اٹھنا پڑا
وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا اٹھا
ناراض ہو گئ ہو”
آپ ۔۔ آپ سے مطلب” عمر اسکے منہ بنا کر بولنے پر مسکراہٹ دیا جبکہ اسکی آنکھیں سرخ ہو رہیں تھیں
میری بات دل پر لے لی”
نہیں” فورا بولی
آہ ۔۔۔ ہر بات دل پر لگا لیتی ہو اتنا نازک دل اچھا نہیں اور ایک بات بتاو اتنے نکھرے مجھ سے اٹھوا رہی ہو تمھارے ایک کہنے پر شادی میں ا جاتا ہوں نیند سے جاگ جاتا ہوں کہیں جادو تو نہیں کر رہی مجھ پر ” وہ اٹھتے ہوئے بولا
جبکہ ساز نے آنکھیں جھپکانا شروع کر دی عمر اسے دیکھتا رہا
“جب میں تمھیں چھوڑو گا تو تم مجھے یاد آؤ گی” وہ اسکا گال کھینچ گیا یہ پہلی بار تھا خود سے چھوا تھا اسنے دوسری طرف ساز اسکے لفظوں پر حیرانگی سے اسکا چہرہ دیکھنے لگی جو واشروم کی جانب بڑھ گیا تھا پہلے لمس پر حیران ہوتی یہ پھر اسکے لفظوں پر۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
