Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 48
No Download Link
Rate this Novel
Episode 48
کیا ہوا آپ ا نہیں سکتے کیا ” وہ ترنت بولا ۔
آ ہاں شاید دیکھتا ہوں” اسکے جواب پر وہ خاموش ہو گیا اور فون بند کر دیا شاہنواز نے ایک نظر خالی خالی سکرین پر ڈالی ایسے پہلی بار انکار کیا تھا کسی چیز کا اسکو ۔
اور وہ خاموش ہو گیا تھا شاہنواز کو اچھا نہیں لگا وہ کیسے جا سکتا تھا وہاں ؟
ہاں اسے کسی نے نہیں دیکھا تھا یہاں تک کے اشفاق صاحب خود نہیں جانتے تھے کہ شاہنواز کون ہے لیکن وہ اس آدمی کے اگے کھڑا نہیں ہو سکتا تھا وہ اسکا خون کر دیتا شاید خود کو سنبھال نہ پاتا ۔۔۔۔
موبائل سے نگاہ ہٹا کر اسنے سامنے دیکھا وہ بھاگ کر کمرے میں آئ تھی اور جلدی سے اسکے پاس بیٹھ گئ سانسیں پھول رہیں تھیں
دادی جان مجھے مارنے ا رہی ہیں وہ پھولی سانسوں میں اسکے بازو کے نیچے چھپ گئ ۔
اور تبھی دروازہ کھلا اور دادی جان ہانپتی ہوئ لاٹھی اٹھا کر اسکے پیچھے پیچھے تھی ۔
شاہنواز جلدی سے کھڑا ہو گیا وہ کیا سوچتی بھلا اسکے بارے میں پہلے ہی وہ بہت شرمندہ تھا اچھا بھلا انسان اس لڑکی کی وجہ سے اپنی عزت سے جاتا رہا تھا
دادی جان اسے کیا سمجھتی ہوں گی اور وہ کیا کر رہا تھا ۔
ہٹ جا شاہ اب نہ روکیو مجھے ۔اس لڑکی نے میرا جینا حرام کر دیا ہے ہٹ جا بس ” وہ لاٹھی اٹھاتی اگے بڑھیں تھیں
کیا ہو گیا دادی جان ” شاہنواز نے انکی لاٹھی پکڑ لی ۔
اس میسنی گھنی کے پر کاٹتی ہوں میں “
ہوا کیا ہے شاہنواز نے مڑ کر گھور کر ایزہ کو دیکھا
میرے ساتھ لوڈو کھیل رہیں تھیں اور میری گوٹیاں مار رہی تھیں
میں نے انکی لوڈو پھاڑ دی “
وہ تیرے دادا کے ہاتھ کی تھی تو چھوڑ دے مجھے یہ پیٹے گی مجھ سے ” دادی جان کے جذبات جتنے جڑے تھے داداجان کی چیزوں سے یہ وہ خوب جانتا تھا ۔ ۔
شاہ نواز نے کھا جانے والی نظروں سے ایزہ کو دیکھا
لوڈو ہی تو ہے مارنے پڑ گئیں ہیں “
ائے ہائے کیسی بدبخت ہے دل تو کر رہا ہے اس چیونٹی کو مار مار کر سیدھا کرو ۔۔۔” وہ بھڑکیں ۔
ہاں تو اپکو خیال رکھنا چاہیے بار بار میری ہی گوٹی کے پیچھے پڑ گئیں تھیں سکینہ انٹی کی گوٹی مار لیتی “
آئے ہائے اسکا منہ بند کرا دے شاہ میں جان لے لوں گی اسکی “
اچھا اپ میرے ساتھ ائیں
نہیں “
دادی جان نشانی بندہ کوئ اچھی رکھ لیتا ہے اب لوڈو کا کیا سین ہے ” اب وہ مزے لینے لگی تھی کیونکہ اتنا تو یقین تھا شاہنواز اسے کسی صورت کچھ بھی نہیں کہے گا ۔ ۔۔
بہت زبان دراز ہے یہ بہت زیادہ ” وہ شدید اداس ہو گئیں تھیں ۔
شاہنواز نے دروازہ بند کیا اور دادی جان کو لیے نیچے ا گیا معلوم نہیں کیسے سیڑھیاں چڑھیں ہو گئیں
یہ ہلکان کر دیتی ہے شاہ مجھے تیری بیوی ۔۔۔
میں سمجھاؤ گا ” اسنے اس خستہ حال لوڈو کے ٹکڑے دیکھے آج تک اس لوڈو کو سنبھال کر رکھنے کا مقصد اسکی سمجھ سے بھی باہر تھا لیکن اسکے اور دادی جان کے بیچ لحاظ کا ایک بھرپور رشتہ تھا تبھی اسنے کسی بات پر نا ہی انکا مذاق بنایا اسکی بھانڈ بیوی کی طرح اور نہ ہی اختلاف کیا یہاں تک کے کچھ چھیڑا بھی نہیں تھا ۔۔۔
اسنے ملازم سے ٹیپ منگائی اور اس لوڈو کو جوڑ کر انکو دیا تو وہ ذرا مطمئین ہوئیں
اور لوڈو چھپا لی جبکہ ایزہ لاونج کے دروازے سے ہی دیکھ رہی تھی چھپ چھپ کر دادی جان نے اپنی چیز چھپا لی ۔۔۔
دادی جان اپکے خزانے میں اور کیا کیا یے ” ایزہ کو انکی معصومیت پر پیار آ گیا
تو پٹ جاے گی دور ہو ” وہ انکے گلے میں بازو ڈال گئ
اور چٹا چٹ انکے گال زبردستی چوم لیے
سوری میں آئندہ آپکی کوئ چیز نہیں پھاڑو گی لیکن آپ بھی وعدہ کریں آئندہ میری گوٹی نہیں ماریں گی
مجھے تیرے ساتھ کھیلنا ہی نہیں ” دادی جان نے منہ بنا کر کہا
شاہنواز مسکراتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔
کیوں میں اپکو پوری دو لا کر دوں گی ” “
کوئ بچی ہوں میں ” وہ چیڑیں
ٹھیک ہے پھر جائیں ” وہ بھی منہ بنا گئ
میں لا دوں گا ” وہ بیچ میں بولا
“وہ میری ہو گی دادای جان کی نہیں ” ایزہ جلدی سے بولی
ہاں تو دفع ہو پرے مر ۔۔۔۔ جا لے اپنے خسم سے “
اپ تو اپنے خسم کی لڈو سے کھیلیں گی” وہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہی تھی دادی جان شرمندہ سی ہو گئیں ۔
ایزہ” شاہنواز نے سنجیدگی سے پکارہ ایزہ کی ہنسی کو بریک لگی ۔
ذرا میری شرٹ نکلوا کر پریس کروا دو مجھے جانا ہے” اسنے منظر پر سے اسے ہٹایا دادی جان توبہ توبہ کرنے لگیں وہ انھیں دیکھنے لگا
اب تو ہنسنے کی کوشش مت کر ” وہ گھور کر بولیں
نہیں میں نہیں کر رہا آپ چائے پیئیں میں نے ایک دوست سے ملنے جانا ہے ” وہ بولا تو دادی جان سر ہلا گئیں
تجھے کہا تھا عائشہ کو لے ا ” وہ بولیں
میں آج ہی لے آتا ہوں آپ فکر نہ کریں” وہ بولا تو وہ اسے دعائیں دینے لگیں تھیں ۔
وہ سر ہلا کر اوپر آیا تو وہ الماری میں گھسی ہوئ تھی اسکے کپڑے دیکھ رہی تھی شاہنواز نے اسکی کمر میں بازو ڈالا اور اسے اٹھا لیا ۔
ایزہ ایکدم ڈر گئ ۔
وہ اسے ایک اونچی ٹیبل پر بیٹھا گیا ہلکی پھلکی گڑیا کیطرح سی تھی وہ اسے گھورنے لگا جبکہ ایزہ سر جھکا گئ ۔
میرا تو ۔۔۔۔
چپ” وہ اسے ٹوک گیا ۔
لیکن وہ”
بلکل چپ ” وہ جھکا اور اسکے ہونٹوں پر اپنی انگلی سے دباو دے گیا ۔
ایزہ کا دل زور سے دھڑکا کون سا مزاہ آتا ہے یہ سب کر کے ” وہ اپنی قربت میں اسکی آنکھوں کا جھکاو دیکھتا دلچسپی سے بولا ۔
نہیں میں تو ویسے ہی دادی جان “
ویسے ویسے میں کبھی پٹ جاو گی”
آپ بچا لیں گے” وہ جلدی سے بولی
مجھ پر اتنا بھروسہ ہے ” اسنے سوال کیا ایزہ ایکدم رک گئ
ش۔۔۔شاید آپ بچا لیں” جیسے اسے ماضی کی بھی یاد ا گئ تھی شاہنواز نے اسے ایکدم سینے میں بھینچ لیا ۔
شاید نہیں تم یہ بات یقین سے کہہ سکتی ہو شاہنواز تمھارے خلاف کبھی نہیں جائے گا ” وہ مدھم سرگوشیاں اسکے کان میں کر رہا تھا جبکہ اسکے ہونٹوں اسکے کان کو چھو رہے تھے وہ اس لمس میں بہک بہک سی گئ
ایزہ کو شرم سی ائ اور شاہنواز نے اپنے عنابی لب اسکے شفاف گال پر رکھے ایزہ کا دل کسی ننھے بچے کیطرح دھڑکنے لگا شاید وہ مزید اسکو اپنے ہونے کا احساس دلاتا کہ اچانک ہی کال آنے پر اسنے مڑ کر دیکھا اور اسے دور ہونا پڑا ۔
اسنے موبائل دیکھا زمیر کا میسج تھا ضروری کال تھی تبھی اسےجانا پڑا
ایزہ شاہ دادی جان کو تنگ مت کرنا ہو سکتا ہے میں لیٹ او اور ساتھ عائشہ کو بھی لے او اوکے” اسنے ہتھیلی سے اسکا گال سہلایا
کون عائشہ “
آئے گی تو دیکھ لینا اب جلدی سے اٹھو اور تھوڑی دیر ریسٹ کرو بہت کھیل کود ہو گئ ” اسنے کہا تو وہ اسکی بات مانتی اٹھ گئ اور بستر میں بیٹھ گئ
لیکن شاہ نواز کو دیکھتی رہی
کبھی وہ اسے اس قابل بھی نہیں چھوڑتا تھا وہ اپنے قدموں پر چل بھی لے اور اب ؟؟؟؟
کیا محبت کرنے لگا تھا شاید اسکے دل میں بھی تو ننھا سا پودا جنم لے رہا تھا وہ اسے تیار ہوتا دیکھتی رہی تب تک جب تک وہ چلا نہیں گیا اور جانے سے پہلے اسکے ہونٹوں کو تر کر کے جانا اپنا فرض سمجھتا تھا تاکہ وہ اسکے احساس میں گیری رہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہنواز کی بھیجی گئ لیبر نے سارے کمرے سے سامان نکال کر باہر کر دیا تھا اور نیا پینٹ ہوا تھا اسکے روم میں نیند اڑ گئ تھی سب چیز نئ رکھنے کے شوق میں
وہ کھڑے کھڑے چیزیں خرید رہا تھا ۔
یہ فرنیچر یہ سامان کچھ جم کا سامان اسنے آرڈر کیا اور خود سکون سے بیٹھ گیا سارا گھر یہ سب دیکھ رہا تھا عمر کے لیے کوئ چیز مشکل تھی ہی نہیں سوائے اسکے کہ سامنے ہی ساز کمرے سے نکلی اور سر پر دوپٹہ جما کر باہر جانے لگی
کہاں جا رہی ہو میں ڈراپ کر دیتا ہوں ” جمپ لگا کر اسکے سامنے کھڑا ہو گیا ۔
ساز نے پیچھے دیکھا سبحان بھی کھڑا تھا عمر نے بھی مڑ کر دیکھا
تو تم آ گئے” سبحان پوکٹس میں ہاتھ ڈالے اسکی صورت دیکھنے لگا ۔
وہ دروازہ ہے یہ تو باہر دفع ہو جاو ورنہ یہیں تمھاری قبر کھود دوں گا ” سنجیدگی کی انتہا تھی مسکراہٹ سمٹ گئ تھی ۔
اچھا یہ ٹیکا جا کر کسی اور پر دیکھانا جانتے بھی ہو کس سے بات کر رہے ہو ۔
انسپکٹر سبحان ہتھکڑیاں ڈال کر تھانے میں بیٹھا دوں گا نشئ سالہ چلو ساز ” وہ بولا ساز کو ایکدم عمر کے تیوروں سے خوف سا آیا تھا ۔
اسنے ایکدم ساز کا ہاتھ پکڑ تھا اور عمر کے وجود پر چونٹیاں سی رینگ گئیں اسنے سبحان کا ہاتھ جکڑا اور کھینچ کھینچ کر اسکے منہ پر ایک دو نہیں پانچ چھ تھپڑ مار دیے
عمر خیام جا کر اپنے کسی بھی باپ کو میرا نام بتا دے اور ہاں دوبارہ اسکے ارد گرد نہ دیکھنا “
عمر” ساز اسکے ہاتھ پکڑ گئ ۔
آپ اپ پاگل ہیں”
چپ” وہ جھڑک گیا
مجھ سے لڑنا ہے نہ لڑو جھگڑوں مارو پیٹو لیکن میرے ساتھ یہ کھیل مت کھیلنا جھ میں سٹمنا نہیں ہے ” وہ بتا گیا ۔
سبحان آپ پلیز جائیں” وہ آگے ا گئ
ایسے کیسے اسنے مجھے مارا ہے میں اسکو چھڑوا گا نہیں “
اوو چل دھکا دے کر اسے باہر نکالا اور سبحان نے باہر کھڑا ہو کر فون گھمایا
وہ پولیس والے ہیں اپکو آرٹسٹ کر لیں گے”
وہ پولیس والا ہے اپکو آرٹسٹ کر لے گا
ڈونٹ ویری ہنی ” وہ مسکرایا ۔
عمر آپ ہماری زندگی میں دخل نہ دیں “
اس پھٹیچر کا مقابلہ مجھ سے نہ کرو ذرا انا پرست ہوں چبھتی ہے کوئی لے کر او عمر خیام کی ٹکر کا “
آوارہ نہیں ہوں جو لے کر او “
یہ ہی بات تو دل کو چھوتی ہے مجھے آپ سے بات نہیں کرنی
کب تک رہو گے یوں دور دور ہم سے ملنا پڑے گا ایک دن ضرور ہم سے ۔۔۔ وہ اسے مڑ کر جاتا دیکھ بولا
اچھا سنو بھاگ کہاں رہی ہو ” وہ لاونج میں آگے ا کر کھڑا ہو گیا ساز نے ادھر ادھر دیکھا وہ تو بے شرم تھا اب وہ تو بے شرم نہیں تھی ۔
بالفرض پولیس مجھے لے جائے ۔
اچھا ہو جائے گا “
دیکھ لو ” وہ بولا
میں کیا کروں جہاں مرضی جائیں “
تو میں تمھیں ا پنے پاس بلا لوں گا نکھرا دیکھائے بنا انا
کیوں آپکے ابو کا ہے تھانہ “
بڑی زبان لگ گئ ہے بھی” وہ ونک دیتا بولا ۔
ساز کو بھی شرمندگی ہوئ ۔
میرے باپ کا تو اپنا باتھروم نہیں ہے تھانا تو دور کی بات ہے ایسی باتیں کر کے موڈ نہ خراب کرو
ایک جیل میں رہے کریں گے مزاہ آئے گا “
عمر آپ کیا ہیں” ساز تنگ سی ائ ۔
دیکھو دل لگانے کی سزا عمر خیام ہی ہے” اسنے مزے سے کہا
میرا اپ سے کوئ دل نہیں لگا ” وہ بے رخی سے بولی
ٹھیک ہے میرا تو لگ گیا نہ اور میں نہ ذرا چیکو قسم کا آدمی ہوں جس سے چپک گیا اسکو ایسے چپک ساز کی کمر میں اپنا بھاری ہاتھ ڈالتے اسنے اسکی نازک کمر کو اپنی فولادی گرفت میں جکڑ کر خود میں دبا لیا
ایک عجیب شعلہ سا عمر خیام کے وجود میں کندہ تھا ساز کی حیرانگی سے پھیلی آنکھیں پر لطف تھی اس کے وجود سے اٹھتی مہک حسین تھی پھر اسکے چہرے پر تو کئ رنگ بھر سکتا تھا وہ
اسکی نکلوں کے بار بار جھپکنے پر تو دل سب سے پہلے آیا تھا
پھر اسکے گڑھے جو گالوں کی گہرائ میں دل کو لے جاتے تھے ۔
تفصیلی نگاہوں سے وہ اسے دیکھ رہا تھا
ساز ایکدم جھٹکا کر دور ہوئ کوئی دیکھ لیتا کتنی شرمندگی ہوتی تائ تو جان سے مار دیتی بے حی بے حیا کہہ کہہ کر اسے
میرا اپکا کوئ تعلق نہیں “
آویں “
آپ اپنی منوا نہیں سکتے”
منوا کر رہو گا “
ساز دانت پیستی کمرے میں جانے لگی کہ عمر بھی پیچھے ہو لیا
کیوں تنگ کر رہے ہیں اپ مجھے”
تم مان جاو سیدھی بات”
پہلے آپ جیل جائیں ” اسنے پیچھے اشارہ کیا ۔
سبحان دروازہ پیٹ رہا تھا اسکی ماں کی”
عمر” وہ غصے سے بولی گالیاں دے رہا تھا کتنی آرام سے ۔
مولانا صاحب معذرت چاہتے ہیں” وہ جھکا کر دل پر ہاتھ رکھتا معافی مانگ گیا اور باہر چل دیا
ساز پریشان سی ہو گئ معلوم نہیں کیا ہو گا پولیس لے جائے گی کیا
دل پریشانی سے دھڑکنے لگا ۔
ہاں بھئی اللّٰہ بھلا کرے” وہ دروازے میں اڑ گیا
اریسٹ کرو اسے ” سبحان بولا عمر نے موبائل نکالا اور شاہنواز کو کال ملا لی ۔
میں نے کہا آرٹسٹ ہم” وہ چلایا اور شاہنواز نے کال اٹھا لی
سبحان نے اس سے موبائل کھینچا اور اسے گاڑی میں ڈال کر لے گئے
ساز کی آنکھوں میں بڑے بڑے آنسو تھے وہ خود سے ہی تنگ تھا ویسے تو ۔۔۔۔
اشارے سے اسے رونے سے روکا اور شام چھ بجے گھر آنے کا پروسیس کر لیا ۔
ساز نے آنسو صاف کیے اور پریشانی سے اندر بھاگی امی کو بتایا نجما بھی پریشانی سے تھی اور بدر کر کال کرنے لگی تھی سوہا بھی وہیں ا گئ تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہنواز کا پڑا ہائی ہو چلا تھا اسکے اندر جیسے زلزلہ سا بھر گیا
وہ اٹھا اور کال گھمائی اور خود گاڑی میں سوار ہوا جبکہ وہ ایک اہم کام سے جا رہا تھا
زمیر نے نوٹ کیا وہ کہاں جا رہا ہے
سر میں چلتا ہوں “
نہیں تم یہیں رہو میں اکیلا جاو گا ” کہہ کر وہ باہر نکل گیا اور زمیر وہیں رہ گیا
شاہنواز کے پیچھے وکیل اور اسکا پی آئے بھی تھا زمیر کی ایک حرکت کی وجہ سے وہ اسے اپنے ساتھ نہیں رکھتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایف آئی آر کاٹ کر اسپر لاٹھی چارج سبحان نے لگا دیا تھا جبکہ عمر کی آنکھوں میں وہ آنکھیں گھوم گئ
اسکا دل کیا خود کو دو چار لگا دے نمبر بنانے چلا تھا جیل پہنچ گیا سبحان ڈنڈا لے کر اندر ایا عمر نے اسکی جانب دیکھا
اور شاہنواز اپنی بھرپور چال چلتا اندر داخل ہوا اور سامنے کا منظر دیکھ کر اسنے ٹیبل پر ایک لات ماری تھی ۔
انسپکٹر سبحان سسپینڈ ہونا چاہتے ہو تو اسکو ہاتھ لگانا ” عمر سکون سے مسکرا کرا سے دیکھنے لگا
سبحان شاہنواز کو جانتا تھا بلکہ کون نہیں جانتا تھا وہ شاید کافی مشہور تھا پھر یہ بات تو کافی مشہور تھی
سبحان باہر نکلا اپنی ٹیبل دیکھی جو الٹ گئ اور شاہنواز بھرے ہوئے شیر کیطرح اسپر جھپٹ کر اسکا گریبان جکڑ گیا
عمر خود ہی باہر آیا اور ٹیبل پر چڑھ کر بیٹھ گیا ۔
یہ میری بیوی سے شادی کرنا چاہتا ہے بائے ڈا وے” وہ سکون سے بتانے لگا
سر ۔۔۔۔۔۔۔ وہ میری منگیتر ہے” وہ کانپتے ہوئے بولا
اچھا واقعی اب تیری منگنی کی مٹھائی کھلاتا ہوں تجھے وہ اٹھا اور اسے مارنے کہ شاہنواز نے اسے پیچھے کر دیا ۔
دور رہو ساز سے” بس اتنا کے الفاظ کافی تھے ۔
چلو عمر ” شاہنواز کو اس ایف آئی آر کی پرواہ نہیں تھی سبحان سنجیدگی سے ان دونوں کو دیکھنے لگا
وہ دونوں باہر نکلے اور عمر کا تو خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہا شاہنواز کو اس وقت وہ اسکی بہن جیسا لگا تھا ۔
یار آپ مجھے شیر کہتے ہو خود کیسے لائین کینگ کیطرح اینٹری ماری ” وہ بولا جبکہ شاہنواز نفی میں سر ہلانے لگا
تم آئندہ کوئ حرکت ایسی نہیں کرو گے کہ تمھیں یہاں آنا پڑے” وہ وارن کرتا اسے گاڑی میں بیٹھنے کا کہنے لگا
عمر نے اسکی گاڑی دیکھی
میں ڈرائیو کروں گا ” شاہنواز کے ہاتھ سے چابی لے کر وہ گاگلز لگاتا جمپ لگا کر گاڑی میں سوار ہوا اور شاہنواز گھیرہ سانس بھر گیا وہ بھی بیٹھ گیا ۔
پہلے لڑکے ہو جو تھانے سے ایسے نکلے ہو ” وہ بولا جبکہ عمر بڑی تیز ڈرائیو کر رہا تھا ۔
ہاں میں بہت سارے کام پہلی بار ہی کرتا ہوں خیر میری شادی میں ا رہے ہیں یاد ہے اپکو “
شاہنواز نے خاموشی سے اسکی جانب دیکھا اور عمر نے غصے سے گاڑی روک دی
آپکے علاوہ کون ہے میرا جسے میں اپنی خوشیوں میں شامل کروں گا ” وہ زرا سی بھڑک کر بولا ۔
جبکہ شاہنواز کا سینہ فخر سے چوڑا ہو گیا وہ مسکرایا پھر ہنس دیا اور پھر عمر کے چہرے پر ہاتھ رکھا
بس تم دولہا بنو تمھاری گھوڑی کے اگے میں ہی ہوں گا ” وہ مسکرایا
جبکہ عمر بھی مسکرایا سر ہلایا اور پھر گاڑی کو سٹارٹ کیا
زبردست گاڑی ہے آپکی تو “
ہاں تم سے سستی رکھی ہے زیادہ مہنگی نہیں ہے” وہ ہنسا جبکہ عمر نے بھی قہقہہ لگایااور سپیڈ بڑھا لی
عمر” وہ بھڑکا ۔
اب ذرا عمر خیام کی قربت کا مزاہ لیں”
یہ مزے ساز کو دینا ” شاہنواز بولا جبکہ عمر قہقہہ لگا اٹھا ۔
ابھی تو ہاتھ نہیں لگ رہی مزے کی بات ہی نہیں ” اسنے گھمائی
اگر تم نے کوئ سگنل توڑا تو تھپڑ پڑے گا ” شاہنواز نے گھورا تو اسنے اچھے بچوں کی طرح بات مانی اور گاڑی کی سپیڈ سلو کر لی ۔۔۔
اور پھر ہر سگنل پر وہ روکتا رہا تھا ۔
گھر نہیں جانا ” شاہنواز نے پوچھا
اپکو ایک بات بتاو ” وہ ذرا خوشی سے بولا اور گاڑی روک لی
شاہنواز نے مسکرا کر اسے دیکھا
میں اپکے ساتھ اور ساز کے ساتھ اتنا خوش کیوں رہتا ہوں ۔
مجھے لگتا ہے مجھ پر کوئی وزن نہیں نہ ہی کسی بھیانک ماضی کی یاد آتی کیوں آج تک میں نے اپکے بارے میں جاننے کی کوشش نہیں کی پھر بھی اپکے ساتھ خوش رہتا ہوں ایسا کیوں ہے “
وہ بولا شاہنواز نے اسکی جانب دیکھا اور اسکا ہاتھ پکڑا ۔
یار ایک وعدہ کرو ” وہ بولا تو عمر نے حیرانگی سے اسے دیکھا
وہ اس سے کوئ وعدہ کیوں لے رہا تھا
میرے بارے میں جاننے کی کوشش مت کرنا بس ایسے ہی انجان رہو جیسے ہو ” وہ بولا تو عمر خاموش ہو گیا اسکی پیشانی پر جیسے سوال تھے
چلو گھر چلتے ہیں
نہیں کھانا کھائیں گے” اسنے کہا شاہنواز مسکرایا اور عمر نے گاڑی آگے بڑھا دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
