Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 37

یہ جو طوطے کی طرح زبان چلنے لگ گئ ہے نہ ایک بات اپنے دماغ سے نکال دو مجھے کوئی ڈر ور نہیں لگتا تمھارے بھائی سے ” وہ آنکھیں گھما کر بولا ۔
ایزہ نے اسکی جانب دیکھا
اچھا بس اب نہ نکالو آنکھیں تمھارے قابو میں آنے والا نہیں ہوں “
مجھے آپکو کرنا بھی نہیں ” صاف مکر گئ
کیوں” اسنے ٹیب ذرا غصے سے پٹخا
آپ میرے ٹائپ کے نہیں مجھے وہ دے دیں کیا ہے اپکو ” وہ ٹیب اٹھانے کی کوشش میں تھی جبکہ شاہنواز نے ٹیب کو سامنے زمین پر پھینک دیا
ایزہ کا منہ کھلا گیا لیکن اسنے طے کر لیا تھا وہ ان باتوں کی پرواہ نہیں کرے گی
ٹیب چکنا چور ہو گیا اور شاہنواز سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگا ایزہ اٹھی اور جلدی سے موبائل اچک کر صوفے کی جانب بھاگ گئ
آپ تو سب توڑ دیں پیسے کی تو قدر نہیں ہے ” وہ سر جھٹکنے لگی
کیا ٹائپ ہے تمھاری ” اسنے عجلت میں سوال کیا
ایزہ نے اسکی صورت دیکھی اتر سا گیا تھا چہرہ حیرانگی تھی شاہنواز سکندر اور اسکی باتوں کو اہمیت دے ۔
میری ٹائپ ” اچانک بدر کا چہرہ آنکھوں میں لہرایا کہ وہ فورا سنبھلی سر جھٹکا
ہاں تمھاری ٹائیپ کیا ہے ” وہ جیسے جلدی جاننا چاہتا تھا ۔
گڈ لینگویج ہینڈسم اینڈ میرے بھائی جیسا انسان ” جیسے اسے یاد ا گیا
شاہنواز نے گھیرہ سانس لیا ۔
ہاں چھچھورا ” وہ بیوی کے آگے عمر سے بھی چیڑ گیا
دیکھیں یہ کوئی مذاق نہیں ہے میرا بھائی دنیا کا سب سے خوبصورت مرد ہے اور یہ سچ ہے “
ہاں خوبصورت تو تم اور وہ ہو باقی سب کو تو ویسے ہی رف عمل کے لیے بھیج دیا
شاہنواز جہاں کھڑا ہو جائے نہ آگے کوئی ا نہیں سکتا اسکے ” وہ بے دھیانی میں اس سے لڑتا رہا تھا
ایزہ کو مزاہ آ رہا تھا
بس بس ایسا بھی کچھ نہیں ” اسنے بات ہوا میں اڑا دیں اور آہستگی سے کمرے سے نکل گئ
شاہنواز جو 35 سالہ مرد تھا ایک لمہے کے لیے شیشے میں مڑ کر خود کو دیکھا وہ واقعی ایک بھرپور وجاہت کا مالک تھا اور یہ سچ تھا جہاں وہ کھڑا ہو جاتا اسکے سامنے کوئی نہیں ٹک سکتا تھا
چھٹانک بھر کی لڑکی اسے کمپلیکس میں ڈال گی
وہ اپنی حرکت پر خود پر غصہ کرتا خود بھی نیچے ا گیا وہ دادی جان کے پاس بیٹھی تھی ۔
دادی جان آپ ایسے چپ نہ ہوئے نہ ” وہ بولی
بس زیادہ پٹ پٹ نہ کر تو نے ہی کہا اس سے وہ بولے میرے اگے “
سچی میں نے تو کچھ بھی نہیں کہا آپکے پوتے کی قسم ” وہ جلدی سے بولی
آئے ہائے خبردار جو آج کے بعد قسم کھائی اسطرح نہیں کوئی قسم ہوتی بلاوجہ یہ تو لڑکی سر پر سوار ہو گئ ” وہ منہ بنا کر بولی شاہنواز سامنے بیٹھا یہ سب خاموشی سے دیکھ رہا تھا ایزہ پہلے سے کافی مختلف لگ رہی تھی معلوم نہیں توجہ کا اثر تھا یہ کچھ اور مگر وہ کافی حد تک مختلف لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
اتنا بھی قیمتی نہیں ہے ” وہ منہ بنا کر بولی
شاہنواز نے ائ برو اچکا کر اسکی شکل دیکھی
آئے ہائے تو دیکھ رہا ہے کیسے کھینچی کیطرح چلتی ہے اسکی زبان ذرا جو یہ عمر کا بھی لحاظ رکھے ” وہ گھورتے ہوئے بولی
میرا مطلب ” وہ اٹک گئ
بس اپنے مطلب والے مجھے نہ سمجھا اور ایک بات بتا سارا سارا دن اس موئے درخت کے نیچے بیٹھی رہتی ہے سائے وائے چمٹے ہوتے ہیں درختوں کو دیکھ میرے پر پوتے یہ پوتی کو کچھ ہوا تیری ہڈیاں توڑ دوں گی ” وہ آنکھیں سکیڑ کر بولیں جبکہ ایزہ سر ہلا گئ
اسکا واقع دل نہیں لگ رہا تھا وہ کچھ نہیں بولتی تھیں
اور وہ تیرا بھائی ہے واقعی ” دادی جان کے سوال پر شاہنواز نے انکی جانب دیکھا ۔
جی وہ میرے بھائی ہیں ” وہ تو اترا ہی گئ تھی جب سے بھائی ا کر گیا تھا جیسے سب مل گیا ہو ۔
بہت ہی بگڑا ہوا ہے ” وہ جیسے اس دن کو یاد کرتے ہوئے بولیں ایزہ نے منہ بنا کر شاہنواز کو دیکھا وہ ان دونوں کی اس بیکار کانووکیشن کا حصہ بننا ہی نہیں چاہتا تھا ۔
دادی جان مہمان ا رہے ہیں کچھ تو آپ کو کوئی دقت تو نہیں یا پھر میں اپکو کچھ دیر کے لیے انکل کے ہاں چھوڑ آؤ “
دادی جان کی بہن کا گھر بھی اسلامہ اباد میں تھا
تو نظر لگوائے گا شاہ ” وہ ایزہ کو دیکھتی بولیں
نہیں لگتی نظر فکر نہ کریں میری نظریں پوری پوری ہیں آپکی بہو پر ” وہ اسے دیکھنے لگا جو چھوٹی سی پیشانی پر بل ڈال گئ ۔
شاہ نے نگاہ پھیری ۔
ہاں چھوڑ آ ” وہ بولیں
جبکہ ایزہ نے ان کی اٹھنے میں مدد کی تو شاہنواز نے انکا ہاتھ تھام لیا وہ دونوں باتیں کرتے ہوئے باہر کی جانب چل دیے
دادی جان اب بھی اسکی برائیوں میں لگیں تھیں
لیکن ایزہ کو برا نہیں لگ رہا تھا معلوم نہیں کیوں اسے ہنسی ا رپی تھی اب وہ آنے والی نسل کی لیے کونشیس تھیں یہ پھر یہ انکی عادت تھی شاہنواز بھی تو کچھ نہیں بول رہا تھا ۔
سارا دن کچھ نہیں کھاتی اس موئے درخت کی تو عاشق ہو گئ ہے لو بھلا پتہ ہے ماں بننے والی ہے تو کچھ تو خیال کرے
پتہ نہیں کہاں سے آج کل کی لڑکیوں کو اتنی ہوا لگ گئ اسے مسلسل آوازیں ا رہیں تھیں
ایزہ کو لگا وہ کھل کر سانس لے پا رہی ہے اسنے ایک گھیرہ سانس بھرا وہ مسکرا رہی تھی
کیوں بے ساختہ ہی مسکراہٹ نے لبوں کو کیوں چھوا
کیا شاہنواز کی توجہ سے ؟ اسے ہنسی آئی وہ مختلف چیزیں لایا تھا
اسے تو ساری چیزیں پسند تھی مگر اکڑ بھی دیکھانی تھی لیکن فلحال یہ سمجھ سے باہر تھا وہ بدل کیوں رہا تھا وہ باہر لون میں آ گئ
مالی پودوں کو پانی دینے میں مصروف تھا حالانکہ اتنی سردی تھی پھر بھی وہ پانی دے رہا تھا وہ کھڑی دیکھنے لگی اور دل کیا کہ وہ خود بھی پانی دے وہ آگے بڑھی اور مالی سے پانی کا پائیپ لے لیا ایزہ بی بی آپ گیلی ہو جائیں گی ” پانی اچھا خاصا گرمائش لیے ہوئے تھا تازہ پانی تھا اسے بہت اچھا لگا
یہ تو کافی گرم پانی ہے ” وہ خوشی سے بولی
جی بی بی تازہ پانی دیتے ہیں شاہنواز صاحب غصہ کر جاتے ہیں ورنہ” مالی بولا
وہ کیوں غصہ کرتے ہیں” وہ حیران ہوئی ۔
جی شاہنواز صاحب کو بہت پسند ہیں پھول پودے یہ باغ جی انھوں نے بڑی بی بی کے لیے لگوایا تھا کیونکہ انھیں بھی پھول بہت پسند ” اچانک مالی جیسے تھم گیا یہ وہ کیا بولے جا رہا تھا ایزہ کے سامنے خوف اسے چہرے پر پھیلا کیونکہ ایزہ اسکی بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی
کون بڑی بی بی ” اسنے بالآخر سوال کر ہی لیا
وہ جی بڑی بی بی ” وہ ایسے بولا جیسے کہہ رہا ہو دادی جان
او اچھا دادی جان کا کہہ رہے ہیں اچھا لیکن انھیں کبھی باہر آتے اور لون میں بیٹھتے نہیں دیکھا ” وہ بولی تو مالی خاموش ہو گیا
پودے تو مجھے بھی پسند ہے خاص کر وہ جگہ جہاں جھولے کے اردگرد کئ پھول ہیں
خیر آج میں پودوں کو پانی دوں گی آپ وہاں کھڑے ہو جائیں”
صاحب غصہ کریں گے ” وہ بے چارگی سے بولا
ایک کام کریں وہ آپ پر غصہ کریں گے نہ تو آپ یہاں سے چلے جائیں جتنا غصہ ہو گا مجھ پر کر لیں گے ” وہ آئیڈیا دیتی بولی
لیکن میں ایسا نہیں چاہو گا ” وہ بولی تو مالی نے نفی میں گردن ہلائی
نہیں آپ مجھے “
آپ جائیں وہ پاوں پٹخنے لگی ۔
اور بہت زیادہ ترد کے بعد مالی کی ہار ہوئی اور اسے وہاں سے جانا ہی پڑ ا۔۔۔۔۔
ایزہ نے پودوں کو پانی دینا شروع کیا اور پودوں کو کیا دیتی وہ تو سارا پانی خود پر گیرا چکی تھی اور پھر اسنے مالی کا سامان اٹھا کر اپنی مرضی سے چھاڑیاں کاٹنی شروع کر دی۔
یہاں تک کے وہ ایک پودے کے قریب آئ وہ مرجھا سا رہا تھا لیکن اسکو زبردستی بندھ کر کھڑا کیا ہوا تھا ایزہ نے اس پودے کی شاخ کاٹ کر پھینک دی
شاہنواز اپنے دوستوں سے بات کر رہا تھا آج اسکے گھر سب نے آنا تھا سیاست میں آئے روز کی پارٹیز کوئی اتنا بھی بڑی بات نہیں تھی وہ اندر ایا گاڑی پورچ میں پارک کر کے وہ جیسے ہی مڑا یوں لگا جان سی نکل گئ ہو ۔۔۔۔
موبائل پھینکتا وہ تقریبا دوڑا تھا
ایزہ ” اسے غصے سے چیختے اسنے پیچھے کھینچا اور معلوم نہیں کیسے اسکا ہاتھ اٹھا اور ایزہ کے نازک گال پر نشان چھوڑ گیا
کیا کر رہی ہو یہاں ہاں تمھیں کس نے حق دیا یہاں کسی چیز کو چھونے کا کس کی اجازت سے تم نے یہ شاخ کاٹی ہے تم نے یہ یہ کاٹ دی تم جانتی بھی ہو کتنی مشکلوں سے اس پودے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہا ہوں میں یو جسٹ آ بل شیٹ تم ایک بیوقوف احمق لڑکی ہو دل تو کر رہا ہے تمھارا بازو کاٹ دوں ” وہ دھاڑ رہا تھا ایزہ کی آنکھوں میں آنسوں سیلاب کیطرح پھیل گئے وہ شاہنواز کو تو کبھی اسکے خاص ملازم جو کہ زمیر تھا دور کھڑا تھا اسے دیکھتی سر جھکا گئ
بیوقوفی کی بھی حد ہوتی ہے مجھے سخت زہر کرتا ہے یہ بے تکہ بچپنا میچور بنو شادی شدہ ہو اور ماں بننے والی ہو آئندہ تمھیں لون میں دیکھا تو سریسلی ایزہ میں تمھارے ٹکڑے کر دوں گا ” وہ دھاڑا
دفع ہو جاؤ ” وہ بھڑکا اور ایزہ اندر بھاگ گئ
شاہنواز نے اس شاخ کو اٹھایا ایسا لگا اسکے دل کا کوئی ٹکڑا الگ ہو گیا ہو اسنے اس شاخ کو دیکھا اور ایک منظر آنکھوں میں لہرایا گیا
آپ میرے ساتھ گھر چلیں”
جی نہیں میرٹ پاس اپنا گھر ہے”
پلیز چلیں وہ گھر میں نے اپکے لیے خریدا ہے”
کیوں “
تاکہ جب اپکا شوہر اپکو باہر نکال دے تو آپکے پاس رہنے کی جگہ ہو کیونکہ آپ نے شادی تو مجھ سے کرنی نہیں ” وہ خفگی سے بولا
تم بلاوجہ خرچے کرتے مت پھیرو میرے پاس میرا گھر ہے ” وہ صاف مکر گئ اتنی ہی سنگ دل تھی
ایک بار بھی اپنے قدم نہیں رکھیں گی وہاں”
تم پاگل ہو گئے ہو ” وہ مسکرائی ۔
ہاں شاید ایک بار چل لیں دوبارہ کبھی ضد نہیں کروں گا ” وہ بولا تو ایک گھیرہ مگر حسین سانس کھینچ کر وہ سر ہلا گئ اور اسکے بعد وہ دو روز بعد خود آئ تھی
اور اسکے لیے یہ پودا لائی تھی اپنی جان سے زیادہ اسنے اس پودے کی حفاظت کی اور آج وہ اسکی شاخ کاٹ گی
کتنا مشکل تھا اسکے لیے اس شاخ کو دوبارہ جوڑنا لیکن اب یہ شاخ جڑ نہیں سکتی تھی
پودا تباہ ہو چکا تھا اسکی چہرہ سرخ ہو گیا بس نہیں چل رہا تھا کہ ایزہ کو ایک اور لگا دے اسنے وہ شاخ اٹھا لی اور اسے لیے اندر ا گیا جبکہ زمیر نے یہ سب کچھ دیکھا تھا اتنی سی بات پر اتنا شدید ری ایکشن کیوں تھا اسکا ۔۔۔
وہ سمجھا نہیں تھا خود بھی لیکن یہ اپڈیٹ عمر کو دینا ضروری تھا اسنے فون اٹھایا اور باہر نکل گیا ۔
شاہنواز کا دماغ اتنا خراب تھا کہ اگر وہ کمرے میں چلا جاتا تو یقینا کچھ غلط کر دیتا وہ لاونج میں ہی بیٹھ گیا سر تھام لیا ۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکا فون بجا تو کچھ دیر تک وہ حوش میں ایا تھا اسنے اپنا فون اٹھایا رمشہ کی کال تھی
کیا مسلہ ہے تمھیں کب سے فون کیے جا رہے ہیں”
ہمم ہاں بولو کیا کام ہے ” وہ اردگرد پھیلے اندھیرے کو دیکھنے لگا وہ سویا نہیں تھا لیکن اتنا کھو گیا تھا اپنے سوا کچھ اسے محسوس نہیں ہو سکا کہ اندھیرہ پھیل گیا ہے
ارے بھئی تم اپنے گھر کے دروازے کھولو گے تو ہم لوگ اندر آئیں گے”
اسنے کہا تو اسنے وقت دیکھا اور اٹھ کھڑا ہوا اسکا گھر اندھیرے میں ڈوب تھا
مر گئے تھے کیا ملازم “
اسنے فون بند کیا اور لون میں ا کر زمیر پر دھاڑ اٹھا جو کہ کانوں میں ائیر فونز لگائے سکون سے آدھا لیٹا ہوا تھا بینچ پر ۔۔۔۔۔
دروازہ کھولو ” برہمی سے کہہ کر وہ وہیں کھڑا رہا ۔
ضروری سی پارٹی تھی اور وہ ان سب سے یوں ہی ملا
رمشہ اسے غور سے دیکھنے لگی
سوری میں ذرا فریش ہو آتا ہوں ” وہ بولا اور رمشہ کو ان سب کو ڈیل کرنے کا بیٹھا کر وہ مڑا
تو ملازمہ بھی دوڑتی ہوئ اندر آئ شاہنواز تپ ہی گیا
صاحب جی وہ بیٹا سیڑھیوں سے گیر گیا تھا میرا ” وہ شرمندگی سے بولی تو شاہنواز بنا جواب دیے اندر چلا گیا ۔
وہ اوپر کمرے میں آیا
ایزہ بیڈ پر پوٹلی کیطرح سکڑی سمنٹی پڑی تھی اور سو رہی تھی
شاہنواز نے اسکی جانب دیکھا بہت رونے سے تکیہ بھی گیلا کر لیا تھا اسنے اسپر لحاف ڈالا دیا اور خود فریش ہو کر چینج کر کے نیچے ا گیا
ایزہ کہاں ہے ؟ رمشہ نے کھوجتی نگاہوں سے دیکھا
سو رہی ہے طبعیت نہیں ٹھیک اسکی “
وہ سکون سے بولا اور جیسے ایزہ کا موضوع کرنا نہیں چاہتا ہو وہ ادھر ادھر ہو گیا
اور اپنی پارٹی میں مصروف سا ہو گیا
اشتہا انگیز کھانوں کی خوشبو اور ہلکی پھلکی گفتگو پارٹی میں ایک کلاس سی تھی اور تبھی دروازہ کھلا
وہ ڈارک پلم ویلویٹ کی ساڑھی میں کمرے سے نکلی اور چلتی ہوئی جب وہ نیچے اتری تو گویا یوں لگا ستاروں میں چاند سا اتر رہا ہو ۔
ویلویٹ کی ساڑھی میں جڑے ستارے دور سے ہی آنکھوں کو خیر کر دیتے پھر اسکا نوخیز حسن کمال تھا وہ نیچے آئی شاہنواز لمہے بھر کے لیے بس اپنی جگہ ساکت رہ گیا
نیچے آتے ہی سب سے پہلے وہ رمشہ سے ملی
اسنے ہلکا پھلکا میکپ کر کے اپنے نشان چھپا لیے تھے شاہنواز کو ذرا غصہ بھی ایا
ہر مرد کیا عورت کی بھی نگاہ اسپر تھی
اور آفت تو تب ہوئی جب اسنے اپنے سارے بال ایک طرف کر کے اگے کر لیے اسکی ملائی سی رنگت اور کمر پر گھیرہ گلہ ۔۔۔ پھر تنگ بلاوز وہ خود اپنی جگہ برف کا ہو گیا تھا تو کسی اور کو کیا روکتا
لیکن جلد ہی حوش میں ا تے وہ ایزہ کی طرف بڑھا اور اسکی کمر میں بازو حائل کر لیا ۔۔۔
ایزہ نے اسکی جانب دیکھا وہ ہلکا سا مسکرایا اور اسکے بال پیچھے کر لیے ایزہ کسمسا کر اسکے پہلو سے نکلی اور بالوں کو دوبارہ ایکطرف کر کے وہ سب سے یوں ہی ملنے لگی
اسکے چمکتے پاوں پرپل کلر کی اونچی ہیل والے سینڈل میں قیمت لگ رہے تھے وہ سب سے بات کر رہی تھی پچھلے اتنے ماہ میں اتنی بار وہ ان سب لوگوں سے مل چکی تھی اب کوئی آپشن نہیں بنتا تھا وہ جھجھکے شاہنواز نے پھر سے اس کے بال نزدیک جاتے پیچھے کر دیے اور کمر پر گرفت سخت کر لی
شاہنواز تو لگتا ہے تم سے بہت پیار کرتا ہے ” ایک عورت بولی وہ شاہنواز کے دوست کی بیوی تھی ایزہ مسکرا دی
جی بلکل انکے پیار کرنے کے بھی الگ ہی طریقے ہیں ۔
کبھی عرش پر بیٹھانے کی کوشش کرتے کبھی فرش پر پھینک دیتے ہیں ۔۔۔۔ اب کیا بتاؤں میں اپکو
پارٹی شروع ہونے سے پہلے ہی تھپڑ کھایا ہے ” وہ بے ساختہ کھلکھلائی تو محفل جیسے تھم گئ
شاہنواز نے جھٹکے سے اسکی جانب دیکھا جبکہ وہاں قریب کھڑے چند لوگ حیرانگی سے شاہنواز کو دیکھنے لگے
نہیں نہیں ڈرانے والی کوئی بات نہیں ہے مجھے تو عادت ہے ۔۔۔ بلکل عادت ہے مجھے آپ ٹینشن نہ لیں ” وہ ہلکے پھلکے انداز میں بولی
اوکے میں ذرا ڈرنک لے آتی ہوں “
وہ کہہ کر وہاں سے ہٹ گئ جبکہ اسنے اپنے بال پھر آگے کر لیے تھے ۔
وہ لوگ شاہنواز سے سوال نہیں کر سکتے تھے ۔
شاہنواز نے نگاہ پھیر لی دانت پر دانٹ جما لیے
ایزہ لون میں جھولے پر بیٹھ گئ اور ہاتھ میں سوفٹ ڈرنک تھی
ہ۔۔۔ہائے” ایک 14 پندرہ سال کا بچہ اسکے سامنے کھڑا ہو گیا وہ اسکی جانب دیکھتی مسکرائی
ہیلو ” ایزہ نے اسکا ہاتھ تھام لیا وہ بچہ جیسے سانس بھر گیا اور ایزہ کھل کر ہنسی
کیوٹ ” اسنے اسکا گال کھینچ دیا
آپ بہت خوبصورت ہیں اپکو پتہ ہے جب آپ آئ تو سب جیسے دل تھام گئے “
اچھا ” وہ ہنس دی
لیکن شاہ انکل تو بہت بڑے ہیں آپ مجھے سے شادی کر لیں ” وہ منہ بنا گیا
ہا ہاہا ” وہ کھل کر ہنسی
تم مجھے پہلے نہیں ملے نہ ” وہ منہ بنا کر بولی
اف آپ بہت کیوٹ بھی ہیں کیا میں اپکا گال کھینچ سکتا ہوں”
ایزہ نے اپنا گال آگے کیا اور وہیں شاہنواز نے اس بچے کا ہاتھ جکڑ لیا اور اتنی شدت تھی اسکا ہاتھ پکڑے جیسے توڑ دے گا
شاہ ” ایزہ کا بس نہیں چلا شاہنواز کے تھپڑ مار دے اتنے ہی جنون تھے اس میں “
جاؤ اپنے گھر ” وہ سنبھل کر پھر بھی تحمل سے بولا ۔
رمشہ نے ایزہ کو دیکھا ایزہ نے کوئ ریسپونس نہیں دیا
اسے اس بچے کی آنکھوں میں آنسو بہت برے لگے تھے بچہ مڑ گیا اور ایزہ جلدی سے اسکے پاس سے بھاگ گئ ۔
شاہنواز کھڑا دیکھ رہا تھا
تم پریشان نہ ہو ہم دونوں ڈیٹ پر جائیں گے یہ میرا نمبر ہے ” وہ مسکرائی
سچ میں ” وہ بچہ خوش ہو گیا ایزہ بھی مسکرا دی
کسی کو خوشی تھما دینا اتنا بھی مشکل نہیں تھا اور وہ اسکی طرح تھی بھی نہیں کہ ہر انسان پر حکمرانی کرتی وہ صرف 13 سال کا بچہ تھا ۔۔۔
تقریبا سب مہمان شاہنواز کا موڈ دیکھ کر نکلتے چلے گئے آخر میں رمشہ ہی رہ گئ
تمھیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا
یہ امپورٹنٹ تھی پارٹی شاہ کے لیے “
اگر آپ انکو اور وہ اپکو اتنا انڈرسٹینڈ کرتے ہیں تو ایک دوسرے سے آپ دونوں ہی شادی کر لیتے میرے ساتھ اس تکلف کی ضرورت ہی کیا تھی
ایزہ ” وہ رمشہ حیران ہوئی
جی بلکل دور سے اس آدمی کی وجاہت پر کوئی بھی مر سکتا ہے لیکن قریب سے ان کی بدصورتی صرف میں نے دیکھی ہے اور میں کیوں نہ بتاو ۔۔ صرف ایک پودے کی ٹہنی ٹوٹنے پر میرے شوہر نے مجھے مارا ہے ۔
اپکو ہی مبارک ہو یہ اپکا شاہ نہ ہی مجھے ان میں دلچسپی ہے اور نہ ہی مجھے لینی ۔۔۔ تو کسی کا بھی ہوئے مجھے کوئی فائدہ نہیں “
وہ اچھی خاصی سنا کر وہاں سے سیدھی ہو گئ تھی اندر شاہنواز ایک لفظ نہیں بولا رمشہ حیران تھی اسکے نزدیک آئی
تمھیں شرم نہیں اتی ” رمشہ غصے سے بولی
وہ پودا ناز نے لگایا تھا “
وہ مر چکی ہے یار تم کیا حرکتیں کر رہے ہو “
ایزہ ناز کی بیٹی ہے اور عمر کی بہن ” وہ اہستگی سے بولا
رمشہ جیسے جھٹکا کھا گئ جیسے زبان پر مزید کچھ بھی بولنے قابل نہیں رہا ۔۔۔ وہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی
پھر تو تمھیں ڈوب کر مر جانا چاہیے شاہ اسپر ہاتھ اٹھاتے ” وہ غصے سے پھنکارتی وہاں سے چلی گئے ہاں ذہن میں کئی سوال تھے لیکن اس وقت پوچھنے نہیں چاہتی تھی
شاہنواز تنہا وہیں کھڑا رہ گیا ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔