Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 58

سیگریٹ منہ میں دبائے وہ پھیل کر صوفے پر بیٹھا تھا ساز کی کمر تختہ ہو گئ تھی یوں لگتا تھا یہ رات بہت لمبی ہو گئ ہے ۔۔۔۔
اور پھر کچھ دیر بعد سب جانے لگ گئے ۔۔
عمر ہم بھی چلیں “
کہاں حکم کرو ” وہ گھیرہ کش بھر کر اسکی جانب دیکھنے لگا ساز تھوڑا دور ہوئی امی سامنے بیٹھیں تھیں اور اس آدمی کا ڈرامہ ختم نہیں ہو رہا تھا
وہ ہنس دیا اسکی جھجھک پر ۔
آنٹی آپ بتائیں کیسا لگا اپکو فنکشن ” وہ نجما کو دیکھنے لگا انکی آنکھوں میں سرخی سی تھی ۔۔
رات گھیری ہوتی گئ تھی ۔۔۔ تقریبا صبح کے چار بجنے والے تھے وہ دونوں ماں بیٹیاں پہلی بار اتنی دیر تک جاگی تھیں تبھی آنکھوں میں نیند کے ڈورے تھے ایزہ کو ان سب چیزوں کو عادت ہو گئ تھی جبکہ دادی جان اندر جا چکی تھی شاہنواز شاید کسی گیسٹ سے بات چیت کر رہا تھا ایزہ ان کے پاس موجود نہیں تھی ۔۔۔
بہت اچھا تھا بیٹا ماشاءاللہ ” نجما بولی
تھینکیو تھینکیو ” وہ مسکرا دیا
آپ ایک کام کریں گھر جائیں آرام کریں ” اسنے ارد گرد دیکھا اسکا ڈرائیور اسے دیکھ گیا تھا
ہاتھ اوپر کر کے اسے اشارہ کر کے بلایا
آنٹی کو بحفاظت گھر پہنچا دو ” وہ بولا نجما نے ساز کی جانب دیکھا
کیا میں امی کے ساتھ نہیں جاوں گی ” وہ رونے والی ہوئی
اپکو میرے ساتھ نہیں رہنا ” کتنی چاہت سے بولا تھا نجما خود ہی شرمندہ ہوتی ذرا فاصلے پر ہو گئ ۔
نہیں ” وہ منہ پھلا گئ ۔۔ عمر مسکرا دیا ۔۔
چلو ایک رات اور سہی اسکے بعد دامن بچانے کی وجہ دیکھو گا کیا بناو گی ” وہ سکون سے بولا اور ساز کے کانوں سے کیا دھواں نکلتا اسکی ماں اپنے آپ شرمندہ ہو گئ تھی
گاڑی کی چابی دو ” اسنے ڈرائیور سے چابی لی
آپ چلیں بیٹھیں آتے ہیں ہم”
اسنے کہا تو نجما سر ہلا کر نکل گئ وہ ساز کا ہاتھ پکڑ کر شاہنواز کی جانب چلنے لگا جہاں ایزہ بھی کھڑی تھی ساز نے ایزہ کی جانب دیکھا اور سر جھکا گئ ۔
میں جا رہا ہوں ” وہ بولا ۔
اچھا رک جاتے تم دونوں تمھارا ہی گھر ہے جانے نہ جانے کی کیا بات ہے” شاہنواز بولا تو ایزہ نے مسکرا کر بھائی کو دیکھا وہ ہنس دیا
یہ محترمہ فلحال میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی خیر
چلتا ہوں ” وہ آگے بڑھا شاہنواز نے اسے سینے سے لگا لیا ۔۔ اور عمر نے بھی
کل کے لیے تمھیں کچھ پینے کو نہیں ملے گا ” وہ ذرا سختی سے بولا
وہ ہنس دیا
اوکے بوس ” وہ اسکی بات سے انکار بھی تو نہیں کرتا تھا
جانے تم گھر آؤ گی کل اوکے ” اسنے سے ہٹ کر وہ ایزہ سے ملا
لیکن میں کیا کروں گی ” وہ حیران ہوئی
وہ کوئی رسم نہیں ہوتی وہ بہن کچھ پہناتی ہے سر پر “
سہرا”
تو خالی سا دولہا بن جاؤ ” اسنے یاد دلایا تو ایزہ سر ہلا کر مسکرائی ۔۔۔
ساز اب بھی خاموش کھڑی تھی ۔
عمر نے اسکی کمر پر چٹکی کاٹ دی وہ ایکدم اچک کر اسے دیکھنے لگی
اٹیکیٹز نہیں ہیں تم میں ” وہ ناراضگی سے بولا
اللّٰہ حافظ اینڈ جزاک اللّٰہ آپ نے اتنا خرچہ کیا ۔۔۔۔” وہ بولی شاہنواز کی جانب دیکھ کر شاہنواز نے نفی میں سر رکھ ہلایا
یہ سب عمر نے خود کیا ہے ۔۔ اس میں میرا عمل دخل کوئی نہیں “
خیر اب تو مجھے پتہ چل گیا ہے ان کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آتا ہے ” وہ اہستگی سے بولی
عمر گھورنے لگا جبکہ ایزہ خاموشی کھڑی تھی
ساز نے ایزہ کی جانب دیکھا ایزہ مڑ گئ
عمر شاہنواز دونوں نے ہی یہ منظر دیکھا تھا
ساز کی آنکھیں بھیگ سی گئیں وہ دونوں بھی حیران کھڑے تھے جبکہ عمر نے ساز کا ہاتھ پکڑا اور وہاں سے نکل گیا ۔۔۔
شاہنواز کو فلحال کچھ سمجھ نہیں آئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح بڑی مصروفیت تھی گھر میں ایک چہل قدمی تھی عمر خیام کے اٹھنے کا انتظار تھا ۔
مٹھائیوں کے ٹوکرے سب کے کپڑے کیا کچھ نہیں آیا تھا گھر میں جو اسنے کرایا تھا
ساز البتہ چپ چپ تھی رات سے ہی ” نجما نے اسے پیار کیا
اللّٰہ تمھیں نظر بد سے بچائے ساز ۔۔ عمر بہت اچھا ہے بس کچھ عادتیں بری ہیں لیکن تم چاہو تو سب چیز چھڑوا سکتی ہو اس سے “
شراب نہیں چھوڑیں گے وہ ” وہ منہ بنا کر ماں سے بولی
تمھیں پتہ ہے وہ انسیکیور ہے اسے ڈر ہے جو لوگ اس سے محبت کر رہے ہیں کہیں اسکا دل نہ توڑ دیں اور دل ٹوٹنے کے بعد اسکے پاس واحد سہارا صرف شراب ہے کہ وہ پی کر مدہوش ہو جاتا ہے یہ عادت اسے ایک نشے کیطرح لگی ہوئی ہے ۔۔
اسکے اندر کا خوف تمھاری محبت اور وفا ختم کر دے گا پھر دیکھنا عمر خیام بھی تمھارے جیسا بن جائے گا
امی اپکو شاہنواز کچھ عجیب نہیں لگتے مطلب ایک انسان ایک اجنبی پر اتنا مہربان کیوں ہے اور پھر وہ ایزہ کے شوہر نکلے کیا شاہنواز ایزہ اور عمر ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے تھے یہ اگر نہیں تو عمر ۔۔ کے وہ کیا لگتے ہیں
وہ عمر پر اتنا مہربان کیوں مہربان ہیں کہ انھیں اپنی اولاد کیطرح ٹریٹ کرتے ہیں کیوں؟ اسکے دماغ میں رات سے یہ کھچڑی پک رہی تھی جبکہ نجما نے بھی سر ہلایا
یہ سوال ہر انسان کے منہ پر ہے ۔۔۔” وہ بولی اور گھیرہ سانس بھرا
عمر کی ماں بھی کوئی عام عورت نہیں تھی ساز بڑی جائیدادیں ہیں انکی جن پر تمھارے تایا اپنا حق سمجھتے ہیں” وہ بولیں
لیکن میں جانتی ہوں عمر کو وہ اپنی ماں کی کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگاتے وہ شاہنواز سر کے ہی پیسے پر عیاشی کر رہے ہیں اور ایک انسان انکے چونچلے اٹھا رہا ہے “
یہ سب میری سمجھ سے باہر ہے اور بھائی بھابھی تو کل تھے ہی نہیں” وہ اداسی سے بولی
وہ ایزہ کو دیکھ کر چلا گیا تھا ” نجما اہستگی سے بولی ۔۔
ساز خاموش ہو گئ ۔۔۔۔
تم زیادہ نہ سوچو ان باتوں کو سب ٹھیک ہو جائے گا “
نہیں مجھے ڈر ہے کچھ ہے جو غلط لگ رہا ہے کہیں چھپا ہوا ہے ایک انسان کسی انسان پر بلاوجہ اتنا مہربان نہیں ہو سکتا ” ساز کی بات پر نجما نے سر جھٹکا ۔
تم تو وقت کے ساتھ ساتھ بہت پاگل ہوتی جا رہی ہو ۔۔ اور یہ تمھارے اندر اتنی اکڑ پیدا کس نے دی ہے ہر بات پر اپنے شوہر کو الٹا جواب دیتی ہو بہت بگڑ گئ ہو تم ” نجما نے اسے گھورا
بگاڑا بھی آپکے داماد نے ہی ہے بھگتے بھی خود ہی” وہ بولی جبکہ بجما نے سر نفی میں ہلایا ۔۔
ساز اپنے جوڑے کو دیکھنے لگی
ویلویٹ کا سرخ کندھاری لہنگا جس پر گولڈن تار سے بھاری بھرکم کام تھا ۔۔۔
اور کرتی پر تو اسے بیٹھے بیٹھے تپ چڑھ رہی تھی یہ آدمی چاہتا کیا تھا اس سے ۔۔۔
اب بھلا یہ بلاؤز کوئی پہنے کی چیز ہے ۔۔ اوپر سے دو سو کلو کا دوپٹہ ۔۔ اور پھر ۔۔ پچاس لاکھ کا لہنگا تھا یہ جو وہ بس ایک گھنٹے پہنے والی تھی ۔۔
اتنے میں کتنے لوگوں کو بھلا ہو سکتا تھا مگر عمر خیام تھا سامنے
اسکے زیورات اسکی ایک ایک چیز تائی اور چچی تو دیکھتی رہ گئیں
ساز کا دل ڈوبتا تھا انکی نظروں سے انسان کو اتنا اصراف نہیں کرنا چاہیے کہ سب کی آنکھیں کھل جائیں ” وہ ڈرتی تھی سب کی نظروں سے اور ڈر کسی کو نہیں لگتا تھا تو وہ عمر تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ رات آیا تھا وہ جائے نماز پر بیٹھی تھی اسے آتے دیکھ اسنے آنسو صاف کیے اور اسکی جانب دیکھا وہ آیا اور سیدھا بستر پر لیٹ کر لحاف سر تک لے لیا
سوہا نے اٹھ کر ہیٹر کو تھوڑا تیز کر دیا
کیونکہ اب ہیٹر تو لگ گیا تھا تو وہ کمفرٹیبل ہو کر سو جاتا
لائیٹ بند کر دو اسنے بس اتنا ہی کہا تھا اور پھر اگلی صبح بھی وہ اٹھا نہیں وہ حیران ہوئی لحاف ہٹا کر چیک کیا اسے بخار تھا وہ پریشان سی ہو گئ
بدر تم ٹھیک ہو ” وہ بولی
ہاں ” اسنے اسکا ہاتھ ہٹایا اور اٹھنے لگا مگر بے سود بخار کی شدت زیادہ تھی اس وقت ۔۔
تم بیٹھ جاو پلیز ” وہ بولی جبکہ بدر گھیرے سانس بھرنے لگا اور اسکے ہاتھ پر جھٹک دیے
میرے کپڑے نکال دو ذرا
تمھاری طبعیت “
تمھارے ساتھ مسلہ کیا ہے” وہ دھاڑا ۔۔۔
سوہا ایکدم دور ہوئی
پاگل ہو تم تمھیں سمجھ نہیں آ رہی مجھے تم سے کوئی ہمدردی نہیں چاہیے یو جسٹ گیٹ لاسٹ ” سختی سے وہ بولا سوہا نے ایک سانس کھینچا
اچھا ٹھیک ہے ہمدردی نہیں کر رہی پھر بھی لیٹ جاو تمھاری جان میں ہمت ہو گی تبھی ٹھیک سے کاروبار کر سکو گے نہ ۔۔۔ پلیز لیٹ جاؤ ” وہ اسکی پیشانی پر ہاتھ رکھ گئ جبکہ بدر نے دانت پیس لیے
لیکن لیٹ گیا اور جیسے کسی سے ناراض ہو سر تک لحاف پھر لے لیا
وہ باہر آئی ارہم سے ڈاکٹر کو بلانے کا کہا
اچھا تو تمھارا نو دولتا شوہر بیمار ہو گیا
چلو اچھا ہے میں اسکی خدمات کے لیے موجود نہیں اپنا کام خود کرو ” وہ ٹکا سا جوب دے کر اٹھ گیا
ابو ” وہ باپ کو دیکھنے لگی
جو ارہم کو گاڑی نکالنے کا کہہ کر بنا اسکی بات پر توجہ دیے دونوں نکل گئے
تائی نے بیٹی کی جانب دیکھا جو ان دونوں کے رویے پر پریشان سی کھڑی تھی۔
وہ اٹھ کر بیٹی کے پاس آتی کہ اسنے خود ہی دوپٹہ اچھے سے لیا اور گھر سے نکل گئ
سوہا میں چلتی ہوں تیرے ساتھ ” لیکن وہ چلی گئ
کتنے بے بس آنسو نکل گئے تھے اسکی انکھ سے ۔
کہ اسکا باپ اور بھائی سامنے ہی جا رہے تھے وہ پیدل چل رہی تھی اور وہ قریب کے ہاسپٹل میں آئی اسکے پاس پیسے بھی نہیں تھے ڈاکٹر پر اکیلے پہلی بار آئی تھی اسنے کہا کہ وہ ساتھ چلے مگر وہ فیس مانگنے لگ گیا
سوہا کو تبھی دوبارہ گھر لوٹنا پڑا ۔
پاگل ہو گئ ہے تو بچے بھی ہیں تیری جان کے ساتھ جڑے تو رک میں ساتھ والے سے کہتی ہوں ” تائی کی جان نکل رہی تھی
جب ۔۔ اپنوں نے ساتھ نہیں دیا غیروں پر اعتبار نہیں مجھے
وہ امی سے پیسے مانگنے لگی
میرے ہاتھ میں تیرے باپ نے ایک روپیہ بھی دینا چھوڑ دیا ہے ۔
نجما بھی پریشانی سے کھڑی تھی اسکے پاس بھی کچھ نہیں تھا
ساز ابھی بدر کے پاس سے آئی تھی وہ بے ہوش ہو گیا تھا بخار کی شدت سے اور اسکے پیسے کہاں تھے سوہا کو ڈھونڈنے پر بھی نہ ملے
بھابھی آپ روکیں میں عمر کو اٹھاتی ہوں ” ساز اوپر بھاگی ۔
نہیں مجھے مل گئے یہ رہے پیسے ” وہ دو ہزار لے کر نکل گئ ۔۔
بھابھی “
نہیں ساز بدر بے ہوش ہو گئے ہیں” پاگل سی ہوتی وہ بھاگی تھی ۔
ساز عمر کے کمرے کا دروازہ بجاتی کہ وہ خود نکل آیا
ہائے مائے لو ” پیار سے بولا
عمر وہ ” کیا ہوا ” وہ اسکو روتا دیکھ بولا ۔
وہ بھائی بے ہوش ہو گئے ہیں بھابھی ڈاکٹر کو لینے گئ ہے “
ایک تو تمھارے بھائی میں بڑی عورتوں والی ادائیں ہیں بلاوجہ پریشان ہو رہی ہو
وہ اترا اور بدر کو دیکھنے کے بجائے وہ سوہا کے پیچھے نکل گیا ۔
اور تقریبا دور کر اس پاگل لڑکی کو پکڑا تھا جو بھاگ رہی تھی لیکن راستہ لمبا ہو گیا تھا
آنسو سے تر چہرہ بے بس نگاہیں عمر ایک نظر اسے دیکھتا رہ گیا
دو ہزار اسکی مٹھی میں بند تھے
گھر چلو ڈاکٹر ا جائے گا “
بدر کو بہت تیز بخار ہے ” وہ رو پڑی
اچھا ٹھیک ہے ہو جائے گا ٹھیک مرد ہے وہ بچہ نہیں ہے جو ایسے پریشان ہو رہی ہو چلو گھر “
اسنے فون گھمایا ایک کال کی اور ۔۔ ارجنٹ کہہ کر وہ سوہا کو گھر کی جانب چلنے کا کہنے لگا
وہ کتنی دیر میں آئے گا یہاں قریب ہے ڈاکٹر میں بلا لیتی ہوں اسکو ” وہ اچھا ڈاکٹر ہے ا جائے گا سوہا گھر چلو ” وہ اب کہ سختی سے بولا ۔
سوہا کو اسکے ساتھ واپسی کے قدم لینے پڑے وہ بقیہ راستہ بس روتی ہوئی گئ تھی
عمر لب دبائے گھر میں داخل ہوا فون پھر کیا اور ڈاکٹر دس منٹ کے اندر اندر گھر پر تھا
بدر کا چیک اپ کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکو میڈیسن دی اور اس بے چاری لڑکی کو کچھ تسلی دی تھی۔۔
جس کا چہرہ بتا رہا تھا دم نکل جائے گا بس ایک بخار سے ۔
عمر بھی سائیڈ کر کھڑا تھا
ابھی کچھ دیر میں ا جائے گا ہوش کچھ کھایا نہیں ہوا شاید اسی لیے بے ہوشی چڑھ گئ ہے
کہہ کر وہ عمر سے مل کر باہر نکل گیا عمر نے ڈرائیور سے میڈیسن منگا کر دیں اور خود دوبارہ باہر نکل گیا وہ سب خواتین تبصرہ نگار بنی کھڑی تھیں اور اسکا ان سب کے بیچ کوئی کام نہیں تھا ۔۔۔
وہ سکون سے کچن میں آیا ۔۔ اور چیزیں الٹ الٹ کر دیکھنےلگا کہ آیا کچھ کھانے کو مل جائے بھوک ہی شدید تھی ۔
اور جب کچھ نہیں ملا تو وہ خود بنانے کھڑا ہو گیا وہ ایسے کام کر کے ساز کو ہمیشہ شرمندہ کر دیتا تھا ۔۔۔
وہ باہر ائ اور اسے دیکھ کر کچن میں ا گئ اسے ذرا غصے سے دور کیا
عمر اسکے روز با روز بڑھتے نکھرے دیکھ سکتا تھا ۔
خود ہی پیچھے ہو گیا اور اسے دیکھنے لگا جو اسکے لیے انڈے بنا رپی تھی ۔۔۔
وہ غور سے اسے دیکھتا رہا یہاں تک کے ساز کے گال سرخ ہو گئے اور وہ جھپٹا کر اسکی آنکھوں پر پاتھ رکھ گئ ۔۔۔
عمر ہنس دیا ۔
بنتی کتنا ہو ایک میری آنکھوں کا بوجھ تو سہہ نہیں سکتی اچھا ویسے سچ سچ بتاؤ سامان ٹھیک لگا ہے تمھیں” وہ شیلف پر چڑھ کر بیٹھ گیا اور اسے سامنے کھڑا کر کے اسکے ہاتھ تھام لیے ۔۔
ساز نے سر ہلا دیا ۔
لیکن آپ بہت خرچہ کرتے ہیں جو چیز پانچ دس ہزار میں ا جائے گی وہ پچاس ہزار کی خریدتے ہیں۔” وہ بولی جبکہ عمر نے اسکے گال پر ہاتھ رکھا
تم مجھ سے محبت کرتی ہو نہ ؟
معلوم نہیں اسنے یہ سوال کیوں کیا تھا لیکن ساز کا دل ایکدم جیسے چلا اٹھا ہر صورت میں وہ اس سے محبت کرتی تھی اسکی تمام برائیوں کے ساتھ اسکے حساس دل سے ۔۔۔ جو شاید کسی لڑکی سے بھی زیادہ نازک تھا ۔
وہ ابھی کوئی جواب دیتی کہ وہ خود ہی سر ہلا گیا
کرتی ہو نہ محبت تو میں تمھارے قدموں میں دنیا کی ہر نعمت رکھ دوں گا ہاں اگر محبت نہ کرتی تو پھر کچھ اور سوچتا ” وہ آنکھ دبا گیا
ساز گھیرہ سانس بھر کر سر جھکا گئ
اسکا ناشتہ بن گیا تھا اسنے پلیٹ میں ڈالا اسکے ہاتھ میں دے دیا
اور یہ پورا کر لیجیے گا کبھی آدھا چھوڑ کر بھاگ جائیں”
وہ بولی تو وہ سر ہلا کر کھانے لگا اسے بھوک ہی بہت تھی کانٹے سے کھاتا وہ ساز کے لیے ہمیشہ الگ روپ ہی رکھتا تھا طبعیت میں تمیز نفاست تھی مزاج میں اتنا نکھریلہ پن تھا پھر کیوں شراب پیتا تھا اور شاہنواز سے پیسے لیتا تھا ۔
عمر ” اسنے پکارہ ۔۔ اسنے سر اٹھایا ۔
واقعی کچھ رازوں سے پردہ ہٹنا نہیں چاہیے لیکن یہاں کہانی کا روپ بدلنے لگا تھا ۔۔۔
آپ جانتے تھے شاہنواز سر کو پہلے سے ” اسکے سوال پر وہ سر ہلا گیا
ہاں کیوں ” یعنی ایزہ کے شوہر ہیں وہ یہ بھی” اسکے سوال پر اسنے نفی کی ۔۔۔
جس دن یہاں مہندی تھی اس دن پتہ چلا ۔۔ دل اداس ہو گیا کہ میرے علاوہ وہ کسی اور کے بھی ہیں وہ بھی میری ہی بہن کے احتجاج تبھی تو بلند کیا تھا ” وہ اپنی ہی بچکانہ حرکتوں پر ہنسا ۔
وہ کون ہیں؟؟
اسکے سوال پر عمر کا ہاتھ رکا اسکی جانب دیکھا
میرے لیے فرشتہ میرا بڑا بھائی میرا باپ ۔۔۔ یہ تم دنیا کا کوئی بھی خوبصورت رشتہ کہہ سکتی ہو ویسے تم کیوں سوچ رہی ہو اتنا اس بارے میں ” وہ بولا جبکہ ساز نے نفی میں سر ہلایا ۔
نہیں کوئی آپ سے اتنی محبت کرے وہ بھی بے وجہ کیا یہ عجیب نہیں ۔۔ اور پھر مجھے نہیں پسند کے آپ اپنی محنت سے نہیں انکے مال پر کھاتے ہیں “
ہیلو جھانسی کی رانی انکا جو بھی ہے میرا ہے عمر خیام کا ۔۔
مجھے کمانے کی کیوں ضرورت پڑ گئ “
وہ اسکی باتوں پر الجھا ضرور تھا لیکن جواب دے گیا
جب ان ہاتھوں کی محنت سے کھائیں گے تو عمر خیام کا کیا ہو گا ” وہ بول کر جانے لگی ۔
عمر نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا
کیا فرق پڑتا ہے میری جیب میں پیسہ ہے میں تمھیں بھوکا کبھی نہیں سلاو گا”
مجھے میرا اللّٰہ بھوکا کبھی نہیں سلائے گا ۔۔۔ اور نہ آج تک سلایا ۔۔ ٹھیک ہے امیر ہونے کا شوق سب کو ہوتا ہے ۔۔ آپ کے پاس بچپن سے سب تھا اپکو ان پیسوں کی قدر نہیں شاہنواز سر کا خود کا کمایا ہوا ہے سب وہ اڑائیں لٹائیں کچھ بھی کریں ۔۔۔ آپ کا کیا ہے ان سب میں کچھ نہیں آپ بچے تو نہیں ہیں کہ میری بات نہ سمجھیں ” اسکی جانب سنجیدگی سے دیکھتی اپنی بات مکمل کرتی وہ وہاں سے چلی گئ ۔۔۔۔۔
جبکہ عمر نے واقعی دو نوالے لیے تھے ۔۔
وہ اسکو جاتا ہوا دیکھتا رہا آج انکی بارات تھی اسنے ایک جھیل اور بڑی ساری بوٹ بک کی تھی اور وہ ساز کو لے کر وہیں جانا چاہتا تھا لیکن اس وقت اسکا دل بلکل خالی ہو گیا تھا اسکا موبائل فون بجنے لگا ۔۔۔
اسنے کال دیکھی شاہنواز کی تھی ۔۔
کال اٹھا لی ۔۔۔ جب موڈ بن جاتا تھا تو وہ ہی حل نکال کر دیتا تھا اسے ۔۔۔
کال اٹھاتے ساتھ ہی وہ اپنی ٹون میں بولا ۔
مجھے آپ سے بات نہیں کرنی ” کہہ کر فون بند کر گیا ۔۔۔۔
دوسری طرف ایزہ منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسنے لگی ۔۔۔
شاہنواز نے صبر سے اسے دوبارہ فون کیا
یہ چیٹنگ ہے آپ نے کہا تھا وہ آپکے ایک فون کا پر دیکھیے گا دوڑے چلے آئیں گے۔” وہ اچک کر اس سے موبائل لے گئ
کیا کر سکتا ہوں میں تم دونوں کا ” وہ شانے اچکا کر لیٹ گیا ۔
ایزہ کو اسپر پیار آیا ۔۔۔
وہ اسکا بھی بہت خیال رکھتا تھا اور عمر کا بھی وہ آگے ہوئی اور اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی
شاہ ” اسکی ناک پر انگلی پھیری وہ اسکے ہونٹوں تک لے آئی
شاہنواز نے اسکی جانب دیکھا ۔
آپ کو کسی بھی چیز سے ڈر نہیں لگتا نہ” وہ بولی جبکہ شاہنواز پہلے تو اسے دیکھتا رہا اور پھر اسکا نازک ہاتھ لبوں سے لگا گیا ۔
لگتا ہے “
واقعی ” وہ حیران ہوئی
ہاں نہ تمھیں کھونے سے اور زندگی کے تلخ ہو جانے سے “
ہممم آپ کوئی نہیں کرتے مجھ سے محبت “
وہ منہ پھلا کر دور ہوئی کچھ یاد ا گیا تھا وہ اٹھ گی
کیوں بھئ ” اسکی بیلی پر ہاتھ رکھ کر اسے نزدیک کرتا وہ اسکی گردن پر ہلکا ہلکا پیار کرنے لگا ۔
کیونکہ آپ تو ان خوبصورت سی آنٹی سے محبت کرتے ہیں پتہ ہے مجھے ” وہ بولی اور اسکی محبت بھری حسرتوں کو محسوس کرنے لگی تھی ۔
شاہنواز یکا یک تھم گیا ۔۔۔ ایزہ زبان دانتوں تلے دبا گئ
میں نے کچھ غلط کہا ہے ” وہ بولی ۔
شاہنواز پہلے تو اسے گھورتا رہا ۔۔۔۔۔
وہ پریشانی سے سر جھکا گئ اور پھر ۔۔ اسکی ٹھوڑی کے نیچے انگلی رکھ کر جھٹکے سے اسکا سر اوپر کیا ۔
اگر تم سے محبت نہ ہوتی تو تم کبھی میرے پہلو میں اتنی سکون سے نہ بیٹھی ہوتی میں جس سے محبت نہیں کرتا اسے مار دیتا ہوں اس بات کو اپنے دماغ میں بیٹھا کر رکھو ” کہہ کر وہ جانے لگا ۔
آپ کے موبائل میں انکی تصویر ہے ” وہ بیوی تھی اسکی بھلے پندرہ سال چھوٹی تھی بھلے وہ اسے بچوں کیطرح سینے سے لگا کر رکھتا تھا لیکن رشتہ تو بیوی کا ہی تھا اسنے تصویر کھولی دور سے اسے دیکھائی اور ڈیلیٹ کر دی ۔۔ معلوم نہیں آج کوئی احساس نہیں ہوا تھا ۔
ہیپی ” وہ بولا جبکہ وہ اچھل پڑی
بہت سارا ” بیڈ پر اچھلتے اسکے گلے کا ہار بنی
آپ بہت اچھے ہیں غصے والے بھی ہیں لیکن بہت اچھے ہیں ” وہ بولی
اور شاہنواز نے مسکرا کر اسکے گال چوم لیے
اب اچھلنا بند کرو ۔۔ مجھے تمھارے بھائی سے جاننا ہے اسے کس بات کے نکھرے “
اچانک دروازہ کھلا ۔۔ اسکی بات ابھی مکمل بھی نہیں ہوئی تھی ۔۔۔
وہ سب سے لڑ رہا تھا جلدی سے ایزہ دور ہوئی تھی
یہ تو شکر تھا اسکا چہرہ کسی اور جانب تھا تبھی وہ ان دونوں کو دیکھ نہیں سکا شاہنواز برداشت کر لیتا ایسے ہی کسی کا ا جانا منہ اٹھا کر وہ پریشانی سے بیڈ سے اتری
عمر مڑا
شاہنواز نے نہایت نرمی سے اسے دیکھا ایزہ کی آنکھیں کھل گئ
میرا شیر کیا ہوا آج تو خوشی کا دن ہے لڑ کیوں رہے ہو ” وہ دادی جان کو بول رہا تھا ۔۔۔
آپ کون ہیں ” اسکے سوال پر ۔۔۔ شاہنواز کے قدم زمین نے جکڑے لیے ایزہ خاموش کھڑی تھی ۔۔۔
اور مجھ پر اتنا خرچہ کیوں کر رہے ہیں ” اسکی اگلی بات ناراضگی سے بھرپور تھی شاہنواز کی سانس میں سانس آئی شاید کبھی سنجیدگی سے وہ یہ سوال کر جاتا تو وہ کیا جواب دیتا ۔
اب مجھے یہ بتاؤ کس نے ناراض کیا ہے ” وہ سکون سے اسکے شانے پر ہاتھ پھیلا گیا ۔
وہ ہے نہ ایک ساز پیچھے پڑ گئ ہے آپ بتائیں آپکا جو ہے میرا نہیں ہے کہتی ہے خود کماؤ اب میں کیا کماؤ بھلا ” وہ چیڑ کر بولا
ساز کے ذکر پر ایزہ خاموشی ہو گئ ۔
ہیں عمر خیام کو کسی چیز کی کمی ہے جو وہ محنت کرے گا ” شاہنواز بولا جبکہ عمر نے بھی سر ہلایا
ٹھیک کہہ رہی ہے ” ایزہ بولی تو دونوں نے گھور کر دیکھا ۔۔۔
یہاں سے جلتی ہیں اپکو کیا لگتا ہے۔”
بلکل جلتی ہی ۔۔ “
لو ہم کیوں جلیں گے ” ایزہ نے منہ بنایا
اب کیا ہے مجھے ٹینشن دے دی اسنے ” وہ بولا جبکہ شاہنواز نے نفی میں سر ہلایا
کچھ نہیں ہوتا یار بتا کیا کرنا ہے یوں ہی سب کھڑا ہو جائے گا تمھارا ہو گا تمھارے نام ہو گا بس ” وہ ایسے بولا جیسے ہر چیز اسکے لیے کھڑی کر دینے کی طاقت رکھتا ہو ۔
ہاں لیکن مجھے کچھ نہیں آتا ” وہ ذرا زیچ ہوا زندگی میں صرف دل دکھانے کے علاوہ کچھ نہ ہی سیکھا تھا اور نہ ہی کچھ ملا تھا ۔۔
وہ ہنس دیا اور اسکا گال تھپتھپایا
کیا تم سیاستدان بننا چاہو گے “
وہ کیسے ” وہ حیران رہ گیا
بس ایسے ” اسنے چٹکی بجائی
عمر حیرانگی سے کسی چھوٹے بچے کیطرح اسکے موبائل سے کان لگا گیا
وہ کیا کہہ رہا تھا ۔۔ وہ سب بنا ایزہ سر پکڑ کر کھڑی تھی ۔۔ کتنا زبردست طریقے تھا کسی کو کام سیکھانے کا ۔۔۔ وہ بات کرتا رہا
اور دوسری طرف اوکے اوکے سر ہوتا رہا ۔۔۔
سر صرف دو دن چاہیے “
نو پرابلم مجھے عمر خیام کی نام کی پلیٹ چاہیے ” وہ بولا تو اسنے سر ہلا دیا ۔۔۔
راضی ” اسکے سوال پر عمر اسکے سینے سے لگ گیا
میں نہیں جانتا آپ کون ہیں اور میں جاننا بھی نہیں چاہتا آپ میری روح کا حصہ ہیں باقی کوئی بھی چلا چلا کر کہے کہ شاہنواز کون ہے میرا جواب یہ ہی ہو گا میرا سب کچھ ” وہ بولا ۔۔۔ جبکہ شاہنواز نے اسے خود میں بھینچ لیا
اپنی بہن کو نہ بتانا لیکن میرے لیے بھی تم سب کچھ اور سب سے پہلے ہو یار بس اداس مت ہوا کرو ” وہ بولا
مجھے سب سنائی دے رہا ہے بائے دا وے کرپشن کرتے ہوئے تھوڑی سی تو شرم کرنی چاہیے آپ لوگوں کو “
شیٹ اپ یو جیلس پیپل ” عمر تو چڑھ ہی گیا
میں کیوں جلوں گی آپ سے بھلا کرپشن کی ہے آپ نے پتہ بھی لگ رہا ہے ” وہ سر جھٹک کر نیچے اتارنے لگی ۔۔
ایزہ دھیان سے اترو ” عمر کے کندھے پر مسکرا کر ہاتھ رکھتے وہ ایزہ کا بھی دھیان رکھتا بولا تھا
پہلے آپ ان سے محبت کر لیں “
جانے تم جل جل کر کالی ہو جاو گی “
آپ بھی ” وہ بھڑکی اور کچن میں چلی گئ عمر ہنس دیا شاہنواز نے اسکے بال بکھیر دیے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے