Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 76
No Download Link
Rate this Novel
Episode 76
وہ ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی بے چینی اسکے انگ انگ سے واضح تھی جبکہ منہ پھولا ہوا تھا اور کیارا کو شاہنواز گود میں لیے بیٹھا تھا ذرا جو ماں کے پاس جانے کی وہ کوشش بھی کرتی ہو سکون سے باپ کے پاس بیٹھی رہتی تھی نہ تنگ کرتی تھی نہ کچھ اور ماں کے پاس جانے کی تو خواہش بھی نہیں تھی اسے ۔۔۔ ایزہ سکون سے ناشتہ کر رہی تھی دادی جان بر بار دونوں کو دیکھ رہی تھی شاہنواز کا اسکی جانب بار بار نگاہ اٹھانا اور پھر گھیرہ سانس بھرنا گواہ تھا کہ وہ تو اکڑ کر بیٹھ گئ ہے اب انکا بیٹا اسکی خدمتیں کرے جبکہ ایزہ کے اندر تو جیسے سب ٹوٹ چکا تھا ۔
اے ایزہ منہ سیدھا کر اپنا اور یہ کیارا کو لے کر بیٹھ تاکہ شاہ ٹھیک سے ناشتہ کرے ” دادی جان کی بات پر ایزہ نے کھا جانے والی نگاہوں سے اسے دیکھا
چار مہینے سے بھی تو یوں ہی سنبھال رہے تھے اور میری ضرورت نہیں ہے ان دنوں کو اور میں کیوں منہ سیدھا کروں ایسا ہی ہے میرا منہ ” وہ مچل کر بولی تھی جبکہ شاہنواز نے دادی جان کو ہاتھ کے اشارے سے روکا ۔۔۔
اور اہستگی سے بولا کہ آپ نہ بولیں ایزہ کھانے کی پلیٹ پر جھک گئ
کیسے کھینچی کیطرح تھا تڑا تڑ چلتی ہے اس کی زبان”
ہاں کاٹ کر پھینک دیتی ہوں وہ مجھے پتہ لگتا ہے اپ تینوں ہی خوشی سے رہتے تھے اچانک عذاب دوبارہ گھر ا گیا ۔
چل شکر مانا تو سہی تو نے اپنے منہ سے “
دادی جان نے سر جھٹک کر کہا شاہنواز سر پکڑے بیٹھا تھا
ہاں میں ہی تو مصیبت ہوں یہاں اور یہ اپکا نواب زادہ عظیم و شان پوتا تو کچھ بھی نہیں ہے ٹھیک ہے آپ ہی کھا لیں “
پلیٹ دور کرتی وہ اٹھ گئ جبکہ شاہنواز نے دادی جان کیطرف دیکھا جبکہ وہ محسوس کر گیا تھا دادی جان کی بیٹری بھی ایزہ کے اتے ہی چارج ہو گئ تھی ورنہ مرجھائی مرجھائی رہتی تھیں ۔
کیا فائدہ ملا لڑ کر ” اسکے نہ تیور ٹھیک نہیں ہے شاہ بہت یہ بدتمیز ہے” دادی جان کیارا کو بازو میں اٹھا کر چلی گئ جبکہ شاہنواز نے ٹشو سے ہاتھ صاف کیے اور اٹھ کر کمرے میں ایا تو وہ کمرے میں موجود نہیں تھی اور پھر وہ کھانے کی پلیٹ لیے ٹیرس میں اگیا ۔
وہ ٹیرس میں رکھے جھولے پر بیٹھی بڑبڑا رہی تھی جبکہ غصہ شدید تھا اسکے اندر ۔۔شاہنواز اسکے پہلو میں بیٹھ گیا اور شاہ کے بیٹھتے ہی جھولے نے حرکت کرنا بند کر دی ۔
ایزہ نے اسکی جانب دیکھا
ناشتہ کر لو ” وہ بولا مگر ایزہ اٹھ گئ
نہیں کرنا مجھے دادی جان کو کرائیں میری تو زبان ہی کھینچی ہے”
وہ سر جھٹک کر بولی
اتنا غصہ وہ بھی چھوٹی سی ناک پر اتنا جچتا نہیں ” شاہنواز نے پیچھے سے اسے اپنے گھیرے میں لینا چاہا کہ ایزہ نے تلملا کر زور سے کہونی اسکے پیٹ پر ماری اور ۔۔ شاہنواز کرتا ۔۔ اس سے دور ہوا
ایزہ دھیان سے ” ٹیرس پر کوئی گرل نہیں تھی شاہنواز ایکدم گھبرایا کہیں اسکا پاوں سلپ نہ ہو جائے ۔
ایزہ سنبھل گئ ۔
آپ مجھ سے پیار نہیں کرتے آپ سب سے پیار کرتے ہیں اپکو میرا خیال نہیں تھا میں نے چار ماہ کیسے گزارے ہیں میں کچھ نہیں جانتی تھی لیکن اب سب جان گئ ہوں اپ دھوکے باز ہیں آپ بہت بڑے دھوکے باز ہیں اپ نے میرے ساتھ دھوکا کیا آپ میری مما کو پسند کرتے تھے اپ اپ نے مجھے استعمال کیا اور میں بیوقوفوں کیطرح آپکی محبت میں پاگل ہوتی رہی ۔
آپ اچھے انسان نہیں ہیں اپکو یہ لگتا ہے آپ دنیا میں ہر چیز ٹھیک کر دیں گے اپ سب نے مجھ سے یہ بات چھپائی آپ لوگ بہت برے ہیں” وہ بچوں کیطرح روتی پیچھے قدم لینے لگی ۔
ایزہ ” شاہنواز کا دل پھٹ نہ جاتا کس نے بتا دیا تھا اسے وہ تو مطمئین تھا کہ وہ ایزہ کو منا لے گا لیکن وہ یہ سب کیسے جان گئ تھی ۔
شاہنواز کے چہرے کے دنگ سے اڑ گئے تھے ۔
وہ عورت میری ماں تھی نہ آپ اس سے دن رات محبت کرتے تھے یا کتنی عجیب بات کہ اپنی ہی ماں کے عاشق ساتھ میں نے شادی کر لی ” وہ بری طرح ڈس ہارٹ تھی ہچکیاں بھر رہی تھی ۔
ایزہ ایسا کچھ نہیں ہے ناز تمھاری ماں نہیں ہے “
ایزہ نے چونک کر اسکی جانب دیکھا وہ بلکل کنارے پر کھڑی تھی شاہنواز کا دم خشک ہو رہا تھا وہ لمحہ بھر کے لیے بھی پیچھے ہوتی تو نیچے لون میں جا کر پڑتی وہ اگے بڑھا
آپ میرے پاس مت آئیے گا میں اپکے ہاتھوں مزید بیوقوف نہیں بنو گی بھائی کو یہ بات پتہ چل گئی تھی تبھی انھوں نے مجھے اپ سے دور کر دیا
جب دل چاہا کسی کی زندگی سے آپ لوگ کھیل گئے اور اس شخص کو خبر تک نہ ہوئی اور جب دل چاہا یہاں لا کر بیٹھا دیا اور میں پاگل ہوتی رہی یہ سوچ سوچ کر کہ شاہنواز کیسے سکون سے چار ماہ گزار گئے میں کیا تھی اپ تو میری ماں کے سہارے زندگی گزار لیتے وہ ۔۔۔ وہ پودا بھی انھیں کا لگایا ہوا تھا نہ جس کی وجہ سے آپ نے مجھے مارا تھا ۔۔۔۔
وہ رو رہی تھی شاہنواز اگے بڑھا
ایزہ خدا کی قسم مجھے تمھارے علاؤہ کسی سے محبت نہیں ہے کسی عورت سے محبت نہیں ہے ٹرسٹ می “
جھوٹ سر سر جھوٹ آپ ناز سے محبت کرتے ہیں اور ناز کی خاطر ایزہ سے “
نہیں تم اسکی بیٹی نہیں ہو تم ناز کی بیٹی نہیں ہو ٹرسٹ می”
نہیں آپ سب نے بہت غلط کیا میرے ساتھ میرے جذبات کے ساتھ کھیلے ہو اپ لوگ ۔۔ آپ اپ “
ایزہ وہ چلایا ۔۔ ایزہ سنبھلنا چاہتی تھی اسنے شاہنواز کیطرف ہاتھ بڑھایا لیکن شاہنواز قدرے فاصلے پر تھا اور ہاتھوں میں سے ہاتھ نکل گئے ۔۔ جبکہ ایزہ پیچھے جا گیری
سیدھا لون میں شاہنواز کے چھکے چھوٹ گئے اور یوں لگا قدموں میں جان ہی نہ بچی ہو
نیچے سے دادی جان کی چیخے سنائی دے رہی تھی ایزہ ہلکا ہلکا جھٹکا لیتی جیسے بمشکل سانس لے رہی تھی اسکے سر سے بہتا خون لون میں پھیل گیا شاہنواز کوئی چھ بار سیڑھیوں پر گیرا اور پھر دوڑا پھر گیرا
وہ باہر آیا ایزہ کو بمشکل کچھ دیر بعد سانس لیتی انسو اسکی انکھ سے بہہ رہے تھے جبکہ اسکے وجود پر لگنے والے جھٹکے شاہنواز اسے بانہوں میں سمیٹ گیا
گاڑی نکالو ” وہ دھاڑا اور اسکے پی ائے نے لمہوں میں گاڑی نکالی تھی دادی جان پیچھے رہ رہی تھی کیارا بھی رو رہی تھی جبکہ وہ بھاگا تھا اسے لے جو بلکل مدہوش ہو گئ تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف ارہم نے یہ سارا منظر دیکھا تھا چھپ کر وہ عمر کے خلاف جتنا بھی لڑ لیتا لیکن اس سے بہتر بدلہ نہیں لے سکتا تھا
عمر نے اسکے باپ کو مارا اور اس شاہنواز نے مروایا “
اب اپنوں کا دکھ سہو ۔۔۔۔ اسنے ہی ایزہ کو یہ سارا سچ بتایا تھا کہ یہ لوگ اسے بیوقوف بنا رہے ہیں اور شاہنواز کی خاموشی اس بات پر مہر لگا گئ اور ایزہ کا پاوں پھسل گیا
اسکے چہرے کا خوف بتا رہا تھا وہ مرنا تو نہیں چاہتی تھی وہ غمزدہ تھی لیکن اسنے شاہنواز کی جانب ہاتھ اسی لیے بڑھایا تھا کہ اسے یقین تھا وہ اسے بچا لے گا لیکن ہاتھوں سے ہاتھ چھوٹ گئے اور وہ سیدھا دو فلور سے نیچے جا کر پڑی تھی ۔۔
ارہم سکون سے گھر لوٹا تو سب ناشتے میں مصروف تھے وہ ماں کے پاس ایا اور آرام سے بیٹھ گیا یہ سوچ رہا ہو اب میں بھی شادی کر لوں اب کوئی ایسا بڑا کام میری زندگی میں نہیں ہے “
ارہم نے کہا تو تائی جان حیران ہوئیں اور خوش بھی سب ہی خوشی ہوئے تھے ۔۔
عمر کمرے سے نکلا اسنے دیکھا ساز کہیں نہیں ہے ساز کمرے سے نکلتی ہی نہیں تھی وہ غصے سے مٹھیاں بھینچ گیا
بس اتنا ہی ٹیمپل تھا اسکے پاس ۔۔۔
اووو عمر خیام صاحب تو آپ ا گئے خوش آمدید” ارہم کی مسکراہٹ پر بدر نے سر اٹھا کر اسکی جانب دیکھا ۔
جبکہ عمر خاموشی سے اسے دیکھ کر نگاہ پھیر کر جانے لگا
وہ تمھاری جو بہن ہے نہ ایزہ بے چاری سارا سچ جان کر دو فلورز سے غیر گئ
اسکے چہرے کا خوف بتا رہا تھا مرنا نہیں چاہتی لیکن بے چاری کے پاوں پھسل گئے پورے دو فلورز سے سیدھا نیچے ا کر پڑی ہے سر پھٹ گیا مجھے تو لگتا ہاتھ پاؤں بھی ٹوٹ گئے اور وجود تو ایسے ساکت تھا جیسے سیدھا ” اسکے الفاظ تھے کہ ہر دوسرا شخص چئیر چھوڑ کر جھٹکے سے اٹھا عمر جبکہ دوڑ کر اترا تھا اسنے موبائل نکالا شاہنواز سے جاننے کے لیے ۔۔
Tit for tat
تم نے میرے باپ کو مارا میں نے تمھارے بہن کو حساب برابر “
ارہم نے اسکے فق لٹے چہرے کو ہنس کر دیکھا تھا شاہنواز فون نہیں اٹھا رہا تھا اور عمر نے ایکدم اسکی گردن جکڑی لی
عمر ” بدر نے اسے دور کرنا چاہا ۔
خدا کی قسم اگر یہ سچ ہوا تو تیرا جنازہ دوسرا ہو گا جو اس گھر سے نکلے گا ” وہ غرایا اور سب کو دور جھٹکے وہ وہاں سے بھاگا تھا
مسلسل شاہنواز کو کال کر رہا تھا ۔۔
بدر بھی اسکے پیچھے نکلا جبکہ سب نے ارہم کو دیکھا جو سر جھٹک کر کمرے میں بند ہو گیا تھا
دوسری طرف ڈاکٹر اسے ائ سی یوں لے گئے تھے شاہنواز نے گال پر ہاتھ رکھ گیا وہ رو رہا تھا ۔۔۔
شاہنواز نے انکھیں صاف کئ لمہے کے لیے بھی بیٹھ نہیں سکا تھا ۔۔
وہ ۔۔ وہ ادھر سے ادھر منڈلا رہا تھا اور جیسے ہی عمر کو اندر دوڑ کر آتے دیکھا وہ جیسے ہارا ہارا اسکی جانب مڑا اور عمر نے اسے پہلی بار سینے سے لگایا تھا ورنہ وہ خود شاہنواز میں چھپنے کی کوشش کرتا تھا بدر بھی ا گیا لیکن دونوں نے بدر کی جانب نہیں دیکھا ۔ ۔
شاہنواز اسطرح تھا جیسے بڑی خطرناک چوٹ لگنے پر اچھا اچھا بھی تڑپ جائے بلکل ویسے ہی وہ تڑپ اٹھا تھا
بہت بری طرح گیری ہے وہ دو منزلوں سے گیری ہے ۔
ڈاکٹر نے بچنے کے چانسز کم بتائیں ہیں” وہ سر تھام کر بیٹھ گیا ۔۔
عمر حق و دق تھا ۔۔ شاہنواز اس سے دور ہوا بے چینی سے وہ ائ سی یو کو دیکھنے لگا اور جب اس سے مزید برداشت نہ ہوا تو اسنے ائ سی یو کا دروازہ کھول دیا اور اندر گھس گیا ۔
اور ایکدم ڈاکٹرز نے انھیں روکا لیکن بے سود شاہنواز نہ ٹلا اور ایزہ کے پاس آ گیا ۔۔ اسنے مٹھیاں بھینچ لیں کسی اپنے کو سامنے اسطرح دیکھنا کسی اذیت سے کم نہیں تھا وہ سرخ انکھوں سے ایزہ کے بے جان وجود کو دیکھنے لگا جبکہ اسکی آنکھوں سے پانی گیر رہا تھا اس سے مزید برداشت نہ ہوا تو وہ باہر خود ہی نکل گیا ۔
عمر اسکی حالت دیکھ رہا تھا
وہ ٹھیک ہو جائے گی”
ہاں اسے ٹھیک ہونا پڑے گا ” وہ بولا اور اذیت ناک انتظار کے بعد ڈاکٹرز نے خون کی بوتلوں کے لیے شاہنواز کو پھیرا دیا تھا جبکہ بدر کا بھی او نیگیٹو تھا جو کہ اسنے پیش کیا کہ وہ دے دے گا ۔ہسپتال میں خون نہ ملا تو وہ بلڈ بینک پہنچ گیا اور او نیگیٹو کی بے شمار بوتلیں اسنے رکھ دی تھی ۔۔ جبکہ بدر وہاں سے نکل آیا
اور صبح سے شام اور رات ڈھلنے لگی تھی ۔۔۔
کہ کسی نے اسے نہیں کہا تھا وہ ٹھیک ہے پورا دن گزر گیا تھا وہ ایک لمہے کے لیے نہیں بیٹھا تھا
شاید محبت اسے کہتے ہیں ۔۔۔ عمر غور سے اسے دیکھ رہا تھا
شاہنواز جس سے محبت کرنے لگ جاتا اس سے ہر حد پار کر دیتا اور وہ ایسی محبت کرتا تھا جس میں وہ واپسی کا طلب گار نہیں ہوتا تھا ۔
اسے اپنے محبوب سے کچھ چاہیے ہی نہیں ہوتا تھا وہ غلط ہوتا یہ درست ہوتا ۔۔۔۔ شاہنواز اسے سینے سے لگا کر رکھتا تھا ۔۔۔
وہ بے لوث محبت کرنا جانتا تھا جبکہ اگر وہ خود پر ایک نگاہ ڈالتا تو اسنے ساز سے بے لوث محبت نہیں کی اسنے ساز پر ہمیشہ زور زبردستی والی محبت کی کبھی اسے سنبھال کر نہیں رکھا قیمتی نہیں سمجھا جب کیا دل چھوڑ کر چلا جاتا اور اب بھی اسے لگتا تھا ساز اگر اسے تنہائی میں کہیں مل جاتی تو وہ یقینا اسے منا لیتا زور زبردستی کرتا اور وہ معصوم مان جاتی لیکن اج شاہنواز کا یہ روپ دیکھ کر وہ شرمندگی کا شکار ہو گیا تھا چار ماہ اسے بھلائے رکھا کیوں کیا وجہ تھی بس یہ کہ اسنے اسکی خاطر اس بات کو چھپا لیا وہ سر تھام گیا ہاں جب ضمیر کی آواز بولنا شروع کرے تو انسان کٹھگڑے میں کھڑا ہو جاتا ہے ۔
بیٹھ جائیں اپ” وہ بولا جبکہ شاہنواز نے نفی کی ۔۔۔۔
وہ بہت چھوٹی ہے اسکی آنکھوں کا خوف یار میری آنکھوں سے نہیں جا رہا ” وہ جیسے ملال سے مٹھیاں ہتھیلی پر مار گیا اور تبھی ڈاکٹر باہر نکلے اور شاہنواز کی جانب دیکھا
شاہنواز اور عمر دم سادھے ڈاکٹر کی شکل دیکھ رہے تھے ایزہ پچھلے 24 گھنٹے سے زندگی موت سے لڑ رہی تھی
شی از آوٹ آف ڈینجر” ڈاکٹر نے کہا تو جیسے زندگی کا پروانہ ہاتھ لگ گیا ۔
دونوں نے ایسے سانس بحال کیا جیسے اب سانس لینے میں کوئی دقت نہیں بٹ مجھے اپ سے کچھ ڈسکشنز کرنی ہیں وہ کہہ کر شاہنواز کو اپنے روم میں آنے کا کہہ کر آگے چلا گیا وہ دونوں ہی انکے کمرے تک پہنچے اور اسکی جانب دیکھا
دیکھیں مسٹر شاہنواز آپکی بیوی بہت اونچائ سے گیری ہے ۔۔۔ اللّٰہ نے انکی زندگی لکھی تھی تبھی وہ اج ہمارے بیچ سانس لے رہی ہیں ۔۔ لیکن انکے دونوں پاوں کی ہڈیاں ٹوٹ چکی ہیں” وہ بولے شاہنواز نے مٹھیاں بھینچ کر ضبط کیا تھا ۔
وہ ٹھیک ہو سکتی ہے”
ہم ہو سکتی ہے کچھ وقت لگے گا پروبلم یہ نہیں ہے
اسکا نیچے والا حصہ ڈیمیج ہو گیا ہے جس کے باعث مجھے شک ہے کہ وہ اب دوبارہ کبھی ماں نہیں بن سکیں گی لیکن یہ فلحال میرا شک ہے سویلینگ اترے گی تو زیادہ بہتر پتہ چلے گا لیکن امید جہاں تک ہے وہ میں نے اپ کو بتا دیا ہے
شی از ویری ینگ انھیں بہت توجہ کی ضرورت ہے ۔۔
بیلڈینگ ہونے کے باعث ذہن پر اثر نہیں پڑا مگر اندرونی چوٹیں بہت ہیں ” وہ کچھ لکھ رہا تھا
شی نیڈز ایکسٹرا کئیر ” وہ خاموش ہو گیا عمر نے شاہنوز کے شانے پر ہاتھ رکھا وہ ڈاکٹر سے پرچہ لے کر اٹھ گیا
اچانک اسکے کانوں میں اپنے ہی الفاظ گونج گئے
میں کبھی باپ نہیں بننا چاہتا مجھے اولاد کی ضرورت نہیں “
اسکی پیشانی کی رگیں پھولنے گئیں تھیں اسنے لمبے لمبے سانس کھینچا اور جیسے اپنے سمندر جیسے سینے میں یہ بات اتار دی تھی ۔
کسی کو یہ بات مت بتانا ” عمر کی جانب دیکھ کر وہ اہستگی سے بولا
ہمم” عمر نے ہنکارہ بھرا اتنے عرصے سے وہ ساتھ تھے عمر نے کبھی کچھ نہیں سیکھا تھا اس سے جو اج چوبیس گھنٹوں میں اسے دیکھ کر سیکھ رہا تھا ۔
اتنا ٹہراو تھا اس میں اور اتنا ہی طوفان تھا
یہ تو شک ہے یار مجھے یقین ہے ایسا کچھ نہیں ہو گا “
ہاں ایسا ہی ہے” شاہنوز نے اہستگی سے کہا اور پھر ایزہ کے پاس بیٹھ گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمیں بھی ایزہ کے پاس جانا چاہیے
اب وہ ٹھیک ہے بدر نے کہا تو باقی سب نے سکھ کا سانس لیا اور ارہم نے سر جھٹکا کافی ڈھیٹ ہڈی تھی مری نہیں “
ارہم تائی جان کا ہاتھ اٹھا اسکے گال پر لگا اگر تیرے باپ نے تجھے اس وقت ٹوکا ہوتا تو آج تو درد کو درد سمجھتا “
تائی جان غصے سے بول رہیں تھیں سب کے سامنے اپنے لگنے والے تھپڑ پر وہ ساکت رہ گیا ۔
جبکہ تائی جان رونے لگ گئیں تیرا باپ میرے خواب میں ایا تھا بہت رو رہا تھا ۔۔
میں کیا کروں۔اپنے بھائی سے کہہ دے اسے معاف کر دے “
تائی جان چلا اٹھیں تھیں
اسنے قتل کیا اسکا حساب کتاب کوئی نہیں لے گا اس سے ” ارہم جیسے بھپر اٹھا ۔
تائی جان خاموش ہو گئیں ۔۔
یہ میرا مسلہ ہے تمھارا نہیں اگر اس قتل کا انجام میں بھگتو گا تو یہ میرا مسلہ ہے تمھارا نہیں ” عمر کی تلخ آواز پر وہ سب مڑ کر اسے دیکھنے لگے ۔۔
پھر می دعا کرتا ہوں تمھارا بیٹا تمھیں یوں ہی جان سے مر دے”
ہاں مار دے سالے کمینے کی اولاد
۔۔۔ مار دے مجھے لیکن اپنی بیوی کو پیسے کی خاطر کسی کے بستر پر نہیں سلاتا میں ہاں وہ مجھے مارے اگر اسکی ماں کو غیر مردوں کی بانہوں میں دیکھ کر یہ سوچوں کہ پیشہ تو ا رہا ہے اور پھر مولانا بن جاوں مسجد کا امام بن جاوں تب وہ مجھے مار دے ۔۔ مجھے پرواہ نہیں “
وہ اسے دھکیل گیا جبکہ اسنے ایک نگاہ سب پر ڈالی ساز بھی کھڑی تھی
ع۔۔عمر ” نجما نے کچھ جھجھکتے ہوئے پکارہ
جی” وہ تمیز سے پلٹا سب حیران رہ گئے
وہ بچے ایزہ ٹھیک ہے ایزہ کی خیریت دریافت کرنا تھی”
جی ابھی تو ائ سی یو میں ہے انشاءاللہ جلد ٹھیک ہو جائے گی
وہ میں یہ کہہ رہا تھا کہ اگر آپکو برا نہ لگے تو کچھ بنا دیں گی شاہ نے 24 گھنٹے سے کچھ نہیں کھایا “
کس لیے میری ماں فالتو نہیں ہے کسی اور سے بنوا لو اور بازار ہزار پڑے ہیں ” بدر نے تلخی سے کہا
بدر ” سوہا حیران ہوئی تھی وہ ایسے کیوں بول رہا ہے
چپ رہو “
تم چپ رہو”۔وہ بھڑکی
میں بنا دوں گی ” وہ عمر سے بولی عمر نے ایک نگاہ ساز پر ڈالی شاید دل میں امید تھی کہ وہ بولے گی لیکن وہ کچھ نہیں بولی تھی عمر سر ہلا کر اوپر چلا گیا اور سوہا بدر کو گھورنے لگی
میری بات کاٹنا تم پر فرض ہے نہ “
ہاں زیادہ ہیرو نہ بنو تم کٹو اب راستے سے ” وہ اسے جھاڑتے کچن میں چلی گئ ساز بھی دبے پاؤں اسکی مدد کو کچن میں ا گئ
پاگل ہو چلیں ہیں دونوں”
تم بڑے عقل مند ہو” نجما نے بھی گھور کر کہا تو بدر نفی میں سر ہلا گیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایزہ کو روم میں شفٹ کر دیا تھا وہ ہوش میں آ گئ تھی لیکن کنڈیشن بہت خطرناک تھی
سٹچز پین لیس ہوتے ہیں”
سر ہم میڈیم کو بے ہوشی کا ٹیکا کیسے لگائیں وہ ہوش میں بمشکل آئے ہیں
اسے درد ہو گا بیوقوف انسان تمھارے ٹیکے لگا دوں جو اتنا بول رہے ہو ” شاہنواز تو بھڑکا عمر پیچھے سے کھی کھی کرنے لگا جبکہ ایزہ نے انکھیں کھولیں
سر میں کیا کر سکتا ہوں
تو تم لوگوں کو پہلے نہیں پتہ تھا ” وہ بھڑکا ۔ ۔
سر یہ سٹیجز کھل گئے ہیں لگے ہوئے تھے”
یار تم لگا دو ۔۔ آپ پیچھے بیٹھیں ” عمر نے کہا جبکہ شاہنواز بے چینی سے منہ پھیر گیا
ایزہ کو عمر نے آنکھ ماری مگر ایزہ اب بھی غصہ تھی اسے سب یاد تھا
چل یار معاف کر دے ایک ایک سے معافیاں مانگ رہا ہوں “
اور شاہ جو بھی بول رہے ہیں سچ بول رہے ہیں “
وہ بولا اور اسے باتوں میں ایسا الجھا گیا کہ وہ بس ہلکا سا تڑپی اور پھر ایک ہی سٹیج تھا جس پر اتنی دیر سے ہنگامہ تھا وہ لگا کر وہ ہٹ بھی گیا
جبکہ ایزہ نے منہ پھیر لیا
بھئ آپکی دولہن کا ایٹیٹیوڈ آسمان کو چھو رہا ہے ” وہ پھر کھانے پر شروع ہو گیا
وہ جانتا تھا یہ کھانا ساز ہی بھیجتی مگر مجال ہے اسے دیکھتی بھی ہو ۔
ابھی شاہنواز کچھ کہتا کہ اچانک کمرے میں نجما سوہا اور ساز داخل ہوئیں
وہ آئے ہمارے گھروں خدا کی قدرت۔”
منہ بند کرو اپنا ” شاہنواز جھاڑ گیا
میری ولیو ڈاؤن ہوتی جا رہی ہے مجھے ہو گیا ہے محسوس ” عمر منہ بنا گیا شاہنواز نے رتی بھی اہمیت نہ دی عمر نے ساز کو جھانک کر دیکھا کیسے اس سے نگاہ بچائے کھڑی تھی ۔
موٹا ہو گیا ہے کوئی ” وہ پھر سے بولا جبکہ ساز کا چہرہ سرخ ہو رہا تھ اپنے اپ مگر اسنے نگاہ نہ اٹھائی ۔
عمر اٹھا سوہا کے شانے پر ہاتھ رکھ لیا
کوئی لائیں ہی کرا دو اور اپنے شوہر کو قابو میں نہیں رکھتی تم”
وہ بولا
ہاں تمھارے قابو کا ہوتا تو ٹوئینز نہ ہوتے ” وہ بلا جھجھک بک بک پر لگ تھا اور شاہنواز کا تھپڑ اسے لگا تو وہ سیدھا ہو گیا ۔
سب نے ایزہ کی طبعیت پوچھی ۔۔
اور جیسے ہی ساز نے شاہنواز کو دیکھا عمر عین شاہنواز کے منہ کے سامنے کھڑا ہو گیا کہ ساز کی نگاہ اسپر بھی اٹھ گئ
جی آپکی نند بلکل ٹھیک ہے ” اسنے مسکرا کر کہا جبکہ ایزہ کے بازو پر تھپڑ الگ رکھ دیا
ایزہ چلائی جبکہ شاہنواز نے اسے گردن سے پکڑ کر باہر دھکا دے دیا
دیکھ لوں گئیں اپکو ” وہ منہ بنا گیا جبکہ شاہنواز نے ایزہ کا بازو دیکھا ۔۔
وہ ٹھیک تھی سوہا مسکرا دی لیکن ساز پر رتی کچھ بھی اثر انداز نہیں ہو رہا تھا ۔
کچھ دیر بیٹھ کر وہ سب اٹھ گئے تھے عمر اب باہر تھا ساز نے شاہنواز کو دیکھا ۔
سنیں “
جی “
وہ آپ پلیز انکو روک دیں وہ مجھے تنگ کریں گے” وہ آہستگی سے بولی تو شاہنواز نے سر ہلایا
اور انکے ساتھ ہی باہر نکلا عمر کو گھورا عمر تن کر کھڑا ہو گیا
تھپڑ کھاؤ گے عمر “
یار دو لمہے تو بات کرنے دو “
فلحال اسنے مجھ سے ہیلپ مانگی ہے”
سہی ساری دنیا بن جائے اب اسکی ماں باپ دیکھانا میرے چنگل میں پھنس گئ تو میں کیا حشر کرتا ہوں سن لو مسز عمر خیام چیلینج ہے یہ میرا ” وہ پیچھے سے ہی بولا جبکہ وہ وہاں سے نکل گئ
عمر غصے سے سیٹ پر بیٹھ گیا واپسی پر شاہنواز کو گھورا
محبت کرنے کا ڈھنگ ہے نہیں اور چلا ہے محبت کرنے”
وہ نفی میں سر ہلاتے اندر چلا گئی جبکہ عمر غصے سے پاوں جھلانے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
