Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 04

اچانک اسپر سے کمبل کھینچا تو وہ ہڑبڑا کر اٹھی اور دادی جان کو اپنے سامنے کھڑا دیکھ اسکے اوسان خطا ہو گئے وہ خود کو چھپاتی اپنے لباس کو دیکھتی اپنے دوپٹے کو ڈھونڈتی یہ انکی آنکھوں سے بچتی جو کہ غصے سے بھری کھڑی تھیں
انھوں نے کمبل ایزہ کے منہ پر مارا ایزہ نے جلدی سے خود کو چھپایا اور سر جھکا گئ
اگر تمھارے کرتوت میں شاہ نواز کو بتا دوں تو شاہنواز تمھارے نام کا کتا بھی اپنے محل کے باہر نہ باندھے کجا کہ اس ماہ رانی کے لیے ڈاکٹر ا رہے ہیں اسکی بے ہوشی کا علاج کرنے ” وہ بھڑکیں
ایزہ کا دماغ اس وقت اتنا اڑا ہوا تھا کہ دماغ میں کچھ سجھائی نہیں دیا
اٹھ کر دس منٹ میں نیچے پہنچ جاو مہمان ا رہے ہیں کچھ تم سے ملیں گے اور اب مجھے اس گھر میں تمھارے کسی بھی ڈرامے کے لیے کوئ ڈاکٹر آتا نہ دیکھے چھ ماہ گزر گئے گود تو ہری ہوئ نہیں چونچلے اٹھوا رہی ہے میرے پوتے سے” بول کر وہ باہر نکل گئیں اور ایزہ نے جلدی سے بھاگ کر دروازہ لاک کر لیا اور پھر دروازہ پکڑ کر وہ دل پر ہاتھ رکھتی وہیں بیٹھ گئ ۔
کچھ گھنٹوں پہلے کا منظر آنکھوں میں ا گیا کہ اسے ہوش بازو میں کسی چبھنے والی چیز کے احساس سے آیا تھا ہلکی ہلکی آنکھیں کھولیں تو شاہنواز کھڑا کچھ بول رہا تھا اسے آواز نہیں آ رہی تھی
ڈاکٹر بھی کچھ بول رہا تھا اور پھر وہ اسکے نزدیک آیا ڈاکٹر جا چکے تھے
اسکو کچھ لمہے جھک کر دیکھتا رہا اور پھر وہ باہر نکل گیا اسکے بعد وہ سو گئ تھی اسکی ڈراپ کب کس نے اتاری اسے علم نہیں تھا وہ تو دادی جان کے آنے پر جاگی تھی
دل کی دھڑکنیں اب بھی بہت تیزی سے چل رہیں تھیں
دادی جان نے دس منٹ کا وقت دیا تھا وہ اٹھی اور واشروم میں جانے لگی کہ دیوار غیر آئینے میں اپنا عکس دیکھا
شاہ کی قربت کا احساس جگہ جگہ پر تھا
وہ خود پر سے نگاہ ہٹا کر خاموشی لبوں پر سجائے وہاں سے واشروم میں گئ
بھوک بھی لگی تھی عین دس منٹ بعد وہ اپنا ہر نشان فاونڈیشن کے نیچے چھپا کر دادی جان کے پاس ا گئ ۔
زیورات پہناؤ اسکو ” دادی جان نے ملازمہ نے اسے کہا وہ اسے زیورات تب ہی دیتی تھی جب اسے ضرورت ہوتی اسے خود بھی دلچسپی نہیں تھی ان چیزوں میں ملازمہ نے ایک ہیرے کا نیکلس اسکی گردن میں پہ آیا تو اسکی چبھن اسکے زخموں پر جلن لگا گئ
وہ ذرا الجھ کر اس نیکلس کو دور کرنے لگی کہ دادی جان پر نگاہ گئ اور ہاتھ پیچھے کھینچ لیا وہ اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ جو رہیں تھیں
ملازمہ نے اسے کانٹے پہنائے اور اسکے ہاتھوں میں چوڑیاں ڈالیں اور اسے اصل شاہنواز کی دولہن بنا دیا
ان زیورات کا بوجھ کتنا تھا یہ بات تو وہ ہی جانتی تھی
ہمم ” وہ مطمئین ہو کر پان کھانے لگیں
ایزہ اٹھ گئ اور کچن کی سمت چلنے لگی
ناشتے میں کچھ ہے ” اسنے سوال کیا
ج۔۔جی نہیں ناشتہ نہیں ہے آپ کہیں تو بہو میں ابھی بنا دیتی ہوں” ملازمہ بولی تو اسنے تشکر بھری نگاہ اٹھائ
پلیز مجھے پراٹھا اور انڈا بنا دیں” اسنے کہا
ملازمہ مسکرائ
میں بس پانچ منٹ میں لاتی ہوں” اسنے کہا اور ایزہ باہر ا گئ
دادی جان شکر تھا کچھ نہیں بولی ایزہ خاموشی سے انکے پاس بیٹھ گئ
سارا سارا دن ساری ساری رات وہ بلکل چپ رہ کر گزار دیتی تھی
نہ اس سے کوئ بولتا تھا نہ ہی اسے کسی سے بولنے کی اجازت تھی ۔
وہ خاموشی سے بیٹھی تھی کہ ملازمہ ٹھیک دس منٹ بعد ناشتہ لے آئ اسنے اللّٰہ کا شکر ادا کیا کہ اتنے بڑے محل میں اسے بلاخر کچھ کھانے کو مل گیا تھا
وہ کھانے لگی جبکہ دادی جان نے ذرا منہ بنا لیا ۔
وہ خاموشی سے ناشتہ کر رہی تھی کہ ابھی کچھ لقمے ہی اندر اترے تھے کہ دادی جان کے مہمان ا گئے اور وہ جلدی سے سیدھی ہوئیں
رقیہ” وہ ایکدم چلائیں ایزہ نے سامنے دیکھا وہ لوگ اندر ہی آ رہے تھے رقیہ دوڑ کر ائ
اٹھا اس ناشتے کو اور لے جا یہاں سے” وہ بولیں
ایزہ انکا منہ دیکھتی رہ گئ اور دادی جان ان مہمانوں کی جانب متوجہ ہو گئیں
وہ ایک ادھیڑ عمر عورت تھیں اور انکے ساتھ ایک خوبرو نوجوان تھا وہ دونوں دادی سے ملیں اور ایزہ بھی کھڑی ہو گئ
یہ میری بہو ہے ایزہ شاہ میرے شاہ کی بیوی” وہ بڑے فخر سے بتا رہیں تھیں ایزہ ہلکا سا مسکرائ اور اس عورت نے ایزہ کو سینے سے لگا لیا
ہائے چچی اتنی چھوٹی عمر کی لڑکی بس آپ نے بھی شاہنواز کے لیے ہیرے کو چنا ہے” وہ ہنسی جبکہ دادی جان کے چہرے پر فخر ہی الگ تھا
یہ میرا بیٹا ہے روہان “
انھوں نے ایزہ کا تعارف کرایا ایزہ نے سلام کیا
روہان اسے حیرانگی سے دیکھ رہا تھا وہ لڑکی بہت چھوٹی تھی اور نازک اور بے حد حسین
روہان نے سر ہلا کر اسکے سلام کا جواب دیا اور پھر ایزہ بیٹھ گئ
اسے بھوک نے بے چین کیا ہوا تھا لیکن وہ دادی جان کے پاس بیٹھی انکے کسی جاننے والے کی باتیں سن رہی تھیں
دادی جان میں کچھ کھانے کا اہتمام کرتی ہوں” ایزہ کسی خیال کے تحت اٹھی
ہاں ہاں کھانا بنواو ” دادی جان بولی تو ایزہ نے سکھ کا سانس لیا اور کچن میں ا گئ
کچن میں ہی بیٹھ کر اسنے اپنا ناشتہ پورا کیا اور اب دل و دماغ میں کچھ سکون تھا کہ خوارک اسنے اچھی لے لی تھی
وہ کھانا بنتا ہوا دیکھتی رہی کوئ ملازم اس سے نہیں بولا تھا
اور پھر وہ باہر ائ تو سامنے روہان ہی کسی کو تلاشتہ ہوا اسی طرف ا رہا تھا
اوہ آپ مل گئیں مجھے ایکچلی شاہنواز بھائی کا نمبر چاہیے
دادی جان کہہ رہی ہیں کہ انھیں کال کر کے بتاو “وہ بولا ایزہ شاہنواز کے نمبر تو کیا اسکے کام کے بارے میں بھی نہیں جانتی تھی
لیکن نمبر مجھے نہیں معلوم” وہ بولی
روہان نے مزید حیرانگی سے دیکھا ۔ ۔
ٹیک ایٹ ایزی پریشان مت ہوئیں میں کسی ملازم سے پوچھ لوں گا ” وہ کہہ کر مسکرایا اور آگے بڑھ گیا
روہان کے جاتے ہی ایزہ دوبارہ دادی جان کے پاس آ گئ
اور پھر وہ خاموشی سے بیٹھی ان سب کی باتیں سننے لگی روہان بھی اسکے سامنے بیٹھ گیا تھا وہ مسلسل اسے دیکھ رہا تھا جبکہ ایزہ نے آنکھ بھی نہیں اٹھائ تھی
کچھ دیر بعد شاہنواز گھر میں داخل ہوا تو اسکے پیچھے دو ملازم چلتے ہوئے آئے اور روہان اسے دیکھ کر کھڑا ہو گیا
کیسے ہو ” وہ ہلکا سا مسکرایا جیسے بس تکلف ہی کیا ہوا
اسنے ایزہ کو دیکھا وہ موم کی گڑیا سی لڑکی بہت پیاری لگ رہی تھی
بیٹھو شاہ” دادی جان بولیں
میں فریش ہو کر آتا ہوں آپ لوگ بیٹھیں” اسنے کہا اور ایزہ کا ہاتھ پکڑ کر ان کے درمیان سے اٹھایا اور اسے لیے اندر آ گیا
ایزہ اسکے ہاتھ کی سختی اپنے بازو پر محسوس کر کے ذرا پریشان سی ہوتی اسکے ساتھ گھیسٹتی جا رہی تھی
اسنے اسے کمرے کے وسط میں چھوڑا
باہر کیوں بیٹھی تھی تم” سختی سے پوچھا
دا۔۔۔دادی جان نے کہا تھا میں خود سے نہیں بیٹھیں تھیں
آئندہ اسکے سامنے نظر مت انا کہیں دیکھائ بھی دے تو منہ اٹھا کر دیکھنا بھی مت” وہ انگلی اٹھا کر وارن کر گیا
جی” وہ سر ہلا گئ
شاہنواز نے اسکا بازو جھٹک کر چھوڑا اور واشروم میں چلا گیا وہ پہلے دن سے ہی اسکے ساتھ بے حد سخت تھا
ایزہ وہیں کھڑی رہی یہاں تک کے وہ باہر نکلا اور سیاہ شلوار سوٹ میں وہ کمرے سے باہر نکل گیا ۔
ایزہ جبکہ کمرے میں ہی بیٹھ گئ کمرے کی تمام لائٹس بھجا کر اسنے کھڑکی کے باہر جھانکا تو ادھورا چاند بلکل اسکی طرح اداسی سے اسی کو دیکھ رہا تھا
کہنے کو یہ کتنا بڑا محل تھا اور اس محل میں اس کے پاس کہنے کے لیے جی ہاں اور معافی چاہتی ہوں اسکے علاوہ کوئ لفظ نہیں تھا پچھلے چھ ماہ سے وہ اپنی سانسوں کو بھی محسوس نہیں کر پا رہی تھی
اور اچانک آنکھوں میں ایک چہرہ سا جھلملا اٹھا
وہ بے تحاشہ خوفزدہ ہو گئ
چھ ماہ میں یہ پہلا خیال تھا جو اسے آیا تھا اور اسکا دل اس قدر ڈوبا کہ اسکے خیال کو ہی سوچ کر وہ تیسری بار آج پھوٹ پھوٹ کر رو دی
محبت کیسا جرم ہے کیسا ؟
یہ بیان نہیں ہو سکتا یہ محسوس نہیں ہوتا یہ صرف سینے میں چبھن بن کر رہ جاتا ہے کتنی چھوٹی سی عمر میں محبت کا روگ سینے میں لیے وہ اپنی عمر سے 15 سال بڑے مرد کی خدمت کے لیے روز اپنے آپ کو تازہ دم کرتی اور روز وہ بلکل ایسے مر جاتی جیسے وجود میں جان نہ ہو ۔۔۔
سانس گھٹتی تھی اسکی شاہنواز کی بانہوں میں اور کیوں نہ گھٹتی وہ مرد تھا میچیور جو عورت کو صرف اپنی ضرورت کے لیے استعمال کرتا ہے باقی کوئ بات وہ اس سے کرنا پسند نہیں کرتا تھا حکم دینا اسکے خون میں تھا جبکہ کبھی اسکی اہمیت کسی کی نظروں میں ایسی تھی کہ وہ پھولے نہیں سماتی تھی اسکی شرارت سے بھرپور چہکاریں اسکے گھر میں گونجتی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بدر کھانا لے کر بائیک سٹارٹ کر کے جانے لگا تھا نجما نے اپنے آنسو صاف کیے وہ دونوں بہن بھائی اپنی ماں سے خفا ہو گئے تھے وہ اس سے بات ہی نہیں کر رہے تھے
نجما اندر ا گئ جبکہ دوسری طرف سوہا جو چھوٹے سے لون میں بیٹھی چائے پینے کے ساتھ رسالہ پڑھ رہی تھی بدر کو بائیک سٹارٹ کرتے دیکھ اٹھی اور جلدی سے اسکی بائیک کے آگے آ گئ
بینک کی نوکری چھپ کر کر لو میں دیتی ہوں اجازت تمھیں”
وہ جلدی سے بولی بدر نے اسکی جانب دیکھا اور پھر نخوت سے اسکے بازو جھٹک دیے
سامنے سے ہٹو ” وہ صبر سے بولا
کہا تو ہے دے تو دی اجازت کر لو نوکری اب کیوں نکھرے دیکھا رہے ہو “
تم سے اجازت لے کر کروں گا کچھ اب میں”وہ بگڑ کر بولا تو وہ ہنسنے لگی
ایک میرے ابو کے روکنے پر تو رک گئے انکی بیٹی کے حکم دینے پر کر لو نوکری لیکن وعدہ کرو تم مجھے نہ روز باہر سے کھانا لا کر دو گے کیونکہ مجھے تمھاری اماں کے ہاتھ کا کھانا آج کل پسند نہیں ا رہا ” وہ بولی جبکہ بدر نے مٹھیاں بھینچ لی
تم یہاں سے چلی جاو بہتر ہو گا ” وہ بولا
ورنہ” وہ جیسے چیلینجینگ نظروں سے اسے دیکھنے لگی
بدر نے بائیک سٹارٹ کی اور اسکے پاوں پر سے گزار کر وہاں سے باہر نکل گیا
اہ اہ میرا پاوں توڑ دیا بدتمیز جاہل مرد میری ہڈی توڑ دی”
وہ چلانے لگی تائ جان اسکی اواز پر باہر لپکی
کیا ہوا” وہ اسکے پاس ائیں
امی بدر میرے پاوں پر سے بائیک چڑھا کر لے گیا میرا پاوں توڑ دیا” وہ چلانے لگی
منہ بند کر لو سوہا اپنا یوں منہ پھاڑ پھاڑ کر نام لو گی تو تمھارا باپ میرا خون پی جائے گا “
کیا مصیبت ہے سب کو ” وہ غصے سے بولی
اچھا بس اٹھو ہزار بار منع کیا ہے وہ تمھارا منگیتر ہے کم بکواس کیا کرو اس سے ” وہ غصے سے بولی جبکہ سوہا ماں کے سہارے پر اٹھتی اندر ا گئ
اندر ثروت اور نجما بھی کچن سے اسے دیکھنے کو باہر ا گئیں
سوہا درد سے اہ اہ کر رہی تھی
ارے مر جانیوں اتر جاؤ نیچے ا جاؤ میری بچی کا پاوں توڑ گیا تمھارا بیٹا تائ غصے سے نجما کو دیکھنے لگی اور ساتھ کے ساتھ ان تینوں کو بھی آواز لگائ وہ تینوں نیچے آئیں تو صنم اور صوفیا کو ثروت نے کچن میں بھیج دیا اور پیچھے ساز رہ گئ جسے سوہا کے پاوں پر گرم تیل سے مالش کرنے کے لیے بیٹھا دیا
ساز کے لیے اب یہ بات کچھ بھی اہمیت نہیں رکھتی تھی یہ بہت عام تھا اب اسکے نزدیک اسکے ہاتھ تھک بھی جاتے تب بھی اسے کرتے رہنا تھا جب تک سوہا کا من راضی نہ ہو جاتا
تمھارے ہاتھوں میں جان نہیں ہے کیا” سوہا نے اسے ٹھونگا مارا اور صوفیا اور صنم ماں کو دیکھنے لگی
سلاد بناو تم” یہ ناانصافی ہے امی”
جب نجما بھابھی کو نہیں دیکھتا تو ہم کیا کر سکتے ہیں ہماری ولیو بھی اتنی ہی ہے یہاں” وہ بولیں
مگر ساز کی عزت نفس کو ہمیشہ مجروح کیا جاتا ہے” صنم دکھے دل سے بولی
زیادہ ہمدردی ہو رہی ہے تو جاو کرو اسکی خدمت”
میں کیوں کروں ” وہ ایکدم سر جھٹک گئ
تو پھر یہ کرو ” ماں نے اسے سلاد بنانے کے لئے سامان دیا اور نجما یہ سب سن رہی تھی وہ گھیرہ سانس بھر کر ہانڈی بھوننے میں لگ گئ وہ اپنے بچوں کے لیے کچھ نہیں کر سکتی تھی
ساز کے ہاتھ تھک گئے تھے گھنٹے سے اوپر ہو گیا تھا جبکہ سوہا موبائل فون یوز کیے جا رہی تھی
یہاں تک کے اب اسے رونا انے لگا
سوہا میں تھک گئ ہوں کیا تمھارا درد ٹھیک نہیں ہوا” وہ بلاخر بولی سوہا نے اسے دیکھا تو ناک کے نتھے غصے سے پھول گئے
سارا دن پین پکڑ کر چلتے ہیں یہ ہاتھ تب تو نہیں تھکتے”
امی دیکھنا یہ کہہ رہی ہے تھک گئ ہے” وہ ماں سے بولی
نہیں تو ایسا کرتی کیا ہے” وہ بگڑ کر بولیں
تائ جان میں ” چپ چاپ اسکے پاوں کا مساج کر”
بھابھی ساز نے پیپر کی تیاری کرنی ہے” نجما کچھ ہمت کرتی بولی
تو ایسا کریں نجما چچی آپ کر دیں ” سوہا مسکرائ جبکہ ساز ایکدم سیدھی ہوئی
نہیں میں ٹھیک ہوں” وہ آنسوؤں کو حلق سے نیچے اتارتے ہوئے دوبارہ سے اسکے مساج میں لگ گئ اور سوہا مسکرا دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ فریش ہو کر اپنے کمرے سے نکلا تو کافی خوبصورت لگ رہا تھا بڑی بڑی آنکھیں اور ان آنکھوں میں سرخی جو نشے کی زیادتی کی وجہ سے اکثر رہتی تھی
اور اسپر رنگت ایسی کہ چاند کو بھی مات دے دے
وہ خوابوں میں بسنے والا شہزادہ سا لگتا تھا جو خوشبو میں لپٹا نکلا اور گاڑی کی چابی گھمائ وہ سوار ہوتا اپنی منزل کو چل دیا سڑکیں ناپتے اسے کئ گھنٹے گزر گئے تھے اسکا سیل فون بجا اور اسنے ڈیش بورڈ پر سے لاپرواہی سے سیل فون پر آنے والی کال اٹینڈ کی
عمر خیام سپیکینگ “
تمھارا باپ بات کر رہا ہوں” دوسری طرف سے ابھرنے والی آواز پر اسنے سیل فون کان سے ہٹایا
اپکو میرا نمبر کس نے دیا ” بے رخی سے وہ بولا
بھولا مت کرو عمر باپ ہوں تمھارا تم سے ملنا ہے گھر ا سکتے ہو ” وہ سنجیدگی سے بولے
جہاں سے دھکے دے کر نکال دیا تھا آپ نے” اسنے گاڑی کو ایک نائیٹ کلب کے سامنے روکا
عمر جو کچھ بھی ہوا اسکے بارے میں بیٹھ کر بھی بات ہو سکتی ہے میں تمھارا انتظار کر رہا ہوں”
انتظار بے کار جائے گا ” کہہ کر کال کاٹ کر کے وہ اندر داخل ہوا اور اپنی دنیا میں پھر سے کھو گیا
جبکہ دوسری طرف اشفاق صاحب نے فون بستر پر پھینکا
کیا کہہ رہا ہے عمر” تائ جان بولیں
نہیں” وہ ذرا ناگواری سے بولے
بہت ضدی ہے یہ لڑا بلکل اپنی ماں کی طرح” تائ جان نے منہ بنایا تو اشفاق صاحب نے اسے ترچھی نگاہ سے دیکھا
آپکے قابو میں آنے کا نہیں ہے یہ لڑکا یہ تو میرا بیٹا ہے اور اسکی شرافت ہے جو آپکے بازو سے بازو لا کر کھڑا ہے اور آپکے اس ڈوبے ہوئے کاروبار کو سہارا دینے کے لیے دن رات ایک کر رہا ہے” انھیں طعنے دینے کا موقع گیا تھا اشفاق صاحب نے ہاتھ اٹھا کر انھیں ٹوک دیا
اب مزید بکواس اپنے منہ سے مت اگلنا” وہ نفرت سے بولے اور لیٹ گئے
ویسے ایک بات کرنی تھی مجھے آپ سے” وہ کچھ آہستگی سے بولیں انھوں نے اسکی سمت دیکھا
اچھا تھا بدر کوئ نوکری کر لیتا بیٹی کا مستقبل سنور جاتا ” وہ بولیں تو تایا جان نے نہایت کڑوی نگاہ اٹھائ
سر پر نچواوں اب جنے جنے کو میں اپنے ” وہ برہمی سے بولے
میرا یہ مطلب تو نہیں ہے بس “
اچھا بس چپ ہو جاؤ سوچنے دو کچھ مجھے ” وہ آنکھیں بند کر گئے جبکہ تائ جان بھی چپ ہو گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے