Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 69

وہ قدرے سکون سے تھا جیسے اسے ان معاملات سے کوئی فرق نہ پڑ رہا ہو کہ اشفاق کو غائب ہوئے ایک ہفتہ گزر گیا پولیس سمیت ہر شخص اسے پاگلوں کیطرح ڈھونڈ رہا تھا اور خاص طور پر عمر خیام بھی ۔۔۔۔
ہاں اسے اچھا تو نہیں لگ رہا تھا ۔۔ کہ عمر اسکے لیے فکرمند کیوں ہوا لیکن اسکا باپ تھا ۔۔ یہ سوچ کر وہ چپ ہو جاتا ۔۔ عمر کو فکرمند بھی نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن اشفاق کو چھوڑ کر وہ عمر خیام کو مزید درد نہیں دینا چاہتا تھا ۔۔ کیونکہ اشفاق عمر تک ساری حقیقت پہنچا دیتا تبھی وہ سکون سے بیٹھا تھا اشفاق صاحب اسکی بیسمنٹ میں سڑ کر مر بھی جاتے وہ اسے باہر نہ نکالتا ۔۔۔
سکون سے چائے کے سیپ لیتا اسکے ذہن میں کئ سوچوں کے ساتھ یہ بھی سوچ چل رہی تھی کہ اچانک اسے اپنی ہی بیٹی کے رونے کی آواز ائی اسکی ماں تو گھوڑے گدھے بیچ کر اس سے لڑ جھگڑ کر سونے میں مگن تھی اسنے ایک نظر ایزہ کو دیکھا اور گھیرہ سانس بھر کر اسنے اپنی بیٹی کیارا کی جانب قدم اٹھائے اور اسے بازوں میں اٹھا لیا ۔
اوہ میرے بیٹے کو تو بھوک لگ رہی ہے ۔۔۔ رونا نہیں ابھی کچھ کرتے ہیں “
اسنے اپنی بچی کو سینے سے لگایا گول مٹول سی کیارا میں تو اسکی ہر لمہہ گزرتے جان بسنے لگ گئ تھی ۔
ہاں ہو بہو ویسی ہی دیوانگی بن رہی تھی جو عمر خیام کے لیے تھی ۔
وہ اسے بھلاتے ہوئے ایزہ کے پاس لے ایا
ایزہ ” اسنے اسکو پکارہ
ایزہ نے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں “
پلیز شاہ اسکی آواز تو بند کرائیں” وہ منہ بسور کر کروٹ لے گئ تھی ۔
تمھاری نہ بند کر دوں کھڑی ہو جاو جلدی اسے بھوک لگی ہے “
تو میں کیا کرو پلیز آپ خود دے دیں اسکو کچھ “
سری لیک کھلا دیں ” وہ نیند میں بلکل غلطاں تھی بولی جبکہ شاہنواز نے اسے کھینچ کر کھڑا کیا
وہ چند دنوں کی بچی ہے سری لیک دے دوں ذرا جو عقل ہو تمھارے اس چھوٹے سے دماغ میں “
آپ بہت برے ہیں شاہنواز بہت برے جب سے آپ کی یہ بیٹی ہوئی ہے کیارا پیارا ۔۔ تب سے مجھ سے تو بلکل ہی بیگانے ہو گئے ہیں ۔۔۔”
وہ باقائدہ رونے لگ گئ ۔۔۔۔ شاہنواز اسے دیکھتا یہ روتی ہوئ اپنی بیٹی کو تو اسنے اپنی بیٹی کو اہمیت دی تھی
میں نے بہت مشکلوں سے یہ نام رکھا ہے اسکا تم بگاڑنا بند کر دو “
بے کار نام ہے ” وہ سیدھی ہو کر بولی
اچھا اسے فیڈ کراو میرا دل گھٹتا ہے یہ روتی ہے تو اور تم جان بوجھ کر اسے رلاتی ہو ۔۔ ” وہ فکرمندی سے بولا اور جب ایزہ نے اب بھی کوئی باز پرس نہ کی تو شاہنواز نے خود ہی آگے بڑھ کر اسکی گود میں کیارا کو دیا اور سب کچھ کر کے ایزہ کو بری طرح شرمندہ کر دیا وہ نگاہ بچانے لگی ۔۔۔
شاہنواز نے اپنی مسکراہٹ ضبط کی اور آگے بڑھ کر اسکی پیشانی چوم لی ۔۔
اب بتاو کیا شکایتیں پال لیں ہیں تم نے مجھ سے ” اسکی بیٹی کا رونا بند ہو گیا تھا تبھی تو وہ نارمل ہو گیا تھا اسے بازو میں سمیٹ لیا جبکہ ایزہ شرمندہ سی ہو رہی تھی ۔۔۔
نہیں کوئی نہیں ہے ” وہ نگاہ جھکائے ہوئے بولی شاہنواز کی انگلیاں اسکے کان کے پیچھے اور گردن پر حرکت کر رہی تھی وہ اسے مزید خود سے لگا گیا ۔۔
آئندہ میری بیٹی کو نام نہ بگاڑنا ورنہ تمھیں یہاں کھڑکی سے باہر پھینک دوں گا ” بہت پیار سے اسنے اسے سمجھایا تھا ایزہ جو شرما رہی تھی گھبرا رہی تھی آنکھیں سکڑے کر اسے دیکھا اور غصے سے اگ بگولہ ہی ہو گئ
ہاں ٹھیک ہے پھینکیں مجھے اس کیڑا پیارا سیارا کے لیے میں بری لگ رہی لگ۔۔۔ شاہ ۔۔
ششش چپ ۔۔۔ میری بیٹی ڈسٹرب ہو گی تم سے تو یہاں سے محبت کرتا ہوں نہ” غصے سے بھرتے اسکے وجود کو اسنے پکڑ لیا کیونکہ دو لمہوں میں وہ کیارہ کو اپنی گود سے نکال کر پھینک دیتی ۔۔ تبھی شاہنواز نے اپنے ہونٹوں کا بلکل درست وقت میں استعمال کیا کہ وہ کسی جھاگ کیطرح بیٹھ گئ ۔
اور شاہنواز تقریبا دس منٹ تک اسے اپنی محبت کا ثبوت دیتا رہا تھا جبکہ کیارا سکون سے اپنی بھوک مٹا کر اپنے باپ کی طرح نخریلی سی دور ہوئی اور چہرہ موڑ لیا ۔
تھینکیو ہنی آپ نے ہمارا پیٹ بھر دیا ” جیسے ہی اسکی بیٹی دور ہوئی ویسے ہی شاہنواز بھی جلدی سے بیٹی کو اٹھا کر کھڑا ہو گیا اور اسے شانے سے لگا کر ہضم کرانے لگا ۔
خود غرض مطلبی دونوں کے دونوں باپ بھی بیٹی بھی”
وہ اپنی شرٹ درست کرتی غصے سے بولی اور تکیہ دے کر مارا تھا شاہنواز کو ۔۔۔
شش سو رہی ہے اب وہ “
شاہ ” وہ دھاڑا
ایزہ تم پیٹو گی مجھ سے” وہ گھور کر بولا ۔
وہ رونے والا منہ بنا کر بیڈ سے اٹھ گئ
میں چلی ہی جاتی ہوں کمرے سے ” اسنے غصے میں کہا کہ آگے سے وہ اسے یقینا روکے گا اور اسے کہے گا کہ وہ سو جائے وہ خود دیکھ لے گا کیارا کو لیکن نہیں اسنے اپنی بیٹی کو سینے سے لگایا ادھر ادھر چل رہا تھا اور سکون سے آہستہ آہستہ جھولتا وہ اسے ہاتھ کے اشارے سے باہر جانے کا کہہ کر آنکھیں بند کر گیا جیسے اسے سارا چین مل گیا ہو اسکی آنکھیں بند تھیں اور کیارا بھی مجال ہے ذرا بھر کو روئ ہو
ایزہ کا غصے سے برا حال تھا اور کھینچ کر دروازہ مار کر وہ چلی گئ ۔
شاہنواز نے آنکھیں سکیڑ کر دروازے کی سمت دیکھا اور نہ میں سر ہلاتے اسنے بیٹی کو تھپکا اور جیسے تسلی دی کہ اسکی ماں پاگل ہے کیارا بلکل گھیری نیند میں چلی گئ اسکا دل تو نہیں تھا وہ اسے چھوڑ کر جائے ۔
مائے بے بی بابا ڈونٹ وانٹس ٹو لیو یو بٹ یور مما از آ لیٹل مونسٹر اینڈ شی اٹس می ایف آئی ڈونٹ گیو ہر اٹنشن سو پلیز گیو سم ٹائم مائے پرسیز “
وہ اسکے گالوں کو چھو کر وہاں سے گھیرہ سانس بھرتا چلا گیا جبکہ وہ باہر آیا تو وہ لاونج میں بیٹھی چپس چاکلیٹس جوس اور معلوم نہیں کیا کیا رکھ کر رونے میں مصروف تھی اور سامنے ایل سی ڈی میں وہ بیس اکیس سالہ لڑکی ڈوری مون دیکھ رہی تھی وہ نفی میں سر ہلایا اس تک پہنچا اور دھپ سے اسکے پہلو میں بیٹھ گیا ۔
جائیں یہاں سے مجھے منانے کی کوشش بھی مت کیجیے گا “
میں منانے نہیں آیا تمھیں اٹھانے آیا ہوں “
وہ اسے ایکدم اٹھا کر وہاں سے چلتا ہوا دوسرے کمرے میں آگیا ۔
کیا ہے آپ کو آپ اپ ۔۔۔ مجھے اس سیارا کی وجہ سے روم میں نہیں لے کر گئے نہ “
میری بیٹی ہے وہ شاہنواز سکندر کی بیہیو یور سیلف یو لیٹل برٹ “
وہ منہ بنا کر اسکا غصہ کرنا دیکھنے لگا اور چہرہ پھیر گئ جبکہ وہ اسے کمرے میں لے ایا اور ۔۔ اسے احتیاط سے بیڈ پر لیٹا دیا جبکہ وہ منہ بنا کر کھڑی ہو گئ ۔
تم بہت ضدی ہو گئ ہو ” اسنے اسے بانہوں میں بھرا
اچھا چلو غصہ نہ کرو دیکھو نہ وہ کتنی پیاری سی چھوٹی سی ہے بتا ذرا اسکا اور تمھارا مقابلہ ہے بھلا “
میرا مقابلہ نہ عمر بھائی سے ہے اور نہ ہی آپکی اس کیارا سے مجھے تو کوڑے پر سے اٹھا کر لائے تھے ” وہ باقائدہ رونے لگی جبکہ شاہنواز دل کھول کر ہنسا اور اسے بانہوں میں بھر لیا
تم سے تو محبت ہے اور تمھارے وجود کی وجہ سے کیارا سے ہے اور تمھارے ہی بھائ سے ہے یعنی اصل مرکز تم ہو صرف تم ” اسنے اسے سینے سے لگایا اور اسکے بالوں لی مہک اندر تک اتار کر وہ ہلکا ہلکا موو کرنے لگا ایزہ نے بھی اپنے ہاتھ اسکے گرد باندھ لیے اور اسکی خوشبو خود میں اتارنے لگی ۔
آپ سچ کہہ رہے ہیں نہ”
مجھ پر شک کی ضرورت نہیں ہے تمھیں میں جو ہوں سو ہوں” وہ اسکے چہرے کے نیچے انگلی رکھ کر اسکا چہرہ اونچا کر گیا ۔۔
ائ مس دیز وائلڈ ڈیز ون یور وائس میک می مور وائلڈ “
اسکے کان میں کہتا وہ ایزہ کو زور سے مٹھیاں بھیجنے پر مجبور کر گیا تھا جبکہ ایزہ سانس اوپر کا اوپر ہی چھوڑ گئ کیونکہ بس ایک ہی جھٹکے سے وہ اسے اٹھا کر اپنی گود میں لیٹا اسکے ہونٹوں پر جھکتا اپنی سانسوں کو اسکی سانسوں میں بھرتا وہ رات کی گھیری چاندنی میں اسے اپنی محبت کا بہت خطرناک سا ثبوت دے رہا تھا جبکہ ایزہ اسکے اس خطرناک رویے کی بڑی پرانی سی عادی تھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کس کا خط ہے ” بدر نے سوہا کو گھور کر دیکھا جو گھبرائی ہوئی سی لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
اور ابھی وہ بات بناتی ۔۔ کہ اسکے ہاتھ سے خط کھینچ لیا اور خط کو پڑھا اس میں دو تین باتیں تھیں ۔۔
مجھے لگتا ہے میرے پاس زیادہ سانسیں نہیں ۔۔ اگر ناز اور شاہنواز کے بارے میں کچھ جاننا ہے تو مجھ سے رابطہ کرو ” گلشن بائ
نیچے نام درج تھا بدر سوہا کی صورت دیکھنے رہا تھا آنکھوں میں ہزاروں سوال تھے اور سوہا آہستگی سے اسے شاہنواز ناز عمر اور ایزہ کے بارے مین بتا گئ جبکہ بدر سر تھام گیا خط ہاتھ سے چھوٹ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔