Ek Ana Parast By Tania Tahir readelle50024 Episode 68
No Download Link
Rate this Novel
Episode 68
وہ گھر پہنچے تو وہاں انہیں کوئی نہ ملا غصے کی شدت کے باعث وہ اج کچھ بھی کر گزرنے کو تیار تھے انہیں یہ احساس نہیں تھا اور نہ ہی پرواہ تھی کہ ان کے بیٹے کے دل پہ کیا گزرتی ہے اسے کتنا غم ہوتا ہے ۔۔۔۔
وہ وہی کرنا چاہتے تھے جس سے عمر خیام کو شدید تکلیف ہو اور وہ وہی کر رہے تھے
چوکیدار نے انہیں اندر جانے نہیں دیا عمر نے سختی سے روکا ہوا تھا کہ اس گھر سے انے والے کسی بھی شخص کو اندر جانے نہ دیا جائے
خاص کر مردوں کو وہ وہیں سے شاہنواز کے گھر کی جانب مڑ گئے
ایک عجیب سا پاگل پن تھا جیسے ہر راز افشا کر دینا چاہتے ہوں شاہنواز کے گھر کے اگے رک کر انہوں نے ایک لمحے کے لیے مسکرا کر اس عمارت کو دیکھا کتنی شان سے کھڑی تھی یہ عمارت ۔۔۔ جسے وہ ابھی گیراہ کر ریزہ ریزہ کر دیتے ۔۔
انھوں نے اندر کا قدم رکھا چوکیدار نے ان سے سوال کیا جس پر انہوں نے کہا ایزہ سے جا کر کہو تمہارے والد آئیں ہیں
چوکیدار نے اس کی جانب حیرت سے دیکھا اور سر ہلا دیا وہ پلٹا اور اندر ایزہ کو بتانے چلا
جبکہ وہ اس شاندار عمارت کو دیکھ رہے تھے کہ اچانک ہی ان کے منہ پر کسی نے سختی سے ہاتھ رکھا اور انہیں پیچھے کی جانب کھینچ لیا جبکہ اندر چوکیدار ایزہ کو یہ بات بتا رہا تھا
بی بی باہر اپ کے والد ائے ہیں ایزہ کے ہاتھ سے کپ چھوٹ گیا ابھی چائے کا صیح طرح سے ایک سپ بھی نہیں لیا تھا
کہ وہ حیرانگی سے انکھیں پھیلائے دیکھنے لگے
ابو “وہ جیسے صدمے سے بولی اور پھر جیسے پہلے بار عمر خیام سامنے ایا تھا ویسے وہ باہر کی جانب دوڑی ابھی وہ باہر کی جانب دوڑتی ہی کہ پاؤں پھسلا اور دادی جان کی چیخ نکلی وہیں ایزہ کی چیخو نے سارے گھر کو جیسے سر پر اٹھا لیا تھا وہ پیٹ پکڑے زور زور سے چلانے لگے دادی جان ہائے ہائے کرتے اگے بڑھیں
عائشہ کو شاہنواز کب کا وہاں سے نکال چکا تھا عائشہ سے اسے پہلے بھی خطرہ محسوس ہو رہا تھا
اور محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کسی جلن اور حسد کے باعث ایزہ کو اس سے دور کر دے گی
وہ پہلے اس سے محبت نہیں کرتا تھا پھر اس سے ناز کے لیے محبت کرنے لگا اور اب جب وہ اس سے اس کے لیے محبت کرتا ہے تو کیا وہ کسی کو اپنے اور ایزہ کے درمیان انے دیتا کبھی نہیں اس نے عائشہ کو وہاں سے نکلوا دیا تھا حالانکہ دادی جان نے اختلاف کیا تھا وہ نہیں چاہتی تھی عائشہ ان کے پاس سے جائے لیکن پھر بھی شاہنواز کی ضد کے اگے ایک لفظ نہ بول سکیں اور اس طرح عائشہ کو شاہنواز نے اپنے گھر سے نکال دیا ایزہ کی حالت اور دادی جان اٹھی اور جلدی سے اس کا چہرہ پکڑ کر اس کا چہرہ تھپ تھپانے لگی تھیں جبکہ ایزہ کے منہ سے ابو ابو صرف اتنے الفاظ نکل رہے تھے دادی جان نے ملازمہ کو بلایا وہ خود پریشان ہو چکیں تھیں ان کے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے تھے شاہنواز کو بلاؤ ہائے میری بچی کچھ اور نہ ہو جائے میرے بچوں کو کچھ اور نہ ہو جائے میری بچی کو نظر لگ گئی وہ مسلسل بولے جا رہی تھی
ملازمہ نے اس کی حالت دیکھی تو باہر چوکیدار کو اواز لگائی چوکیدار بھی اندر اگیا اور اس کے ساتھ ہی شاہنواز کا پی اے بھی اندر ا گیا
اس نے ایزہ کو دیکھا شاہنواز کی طرف سے کبھی بھی ایزہ کو چھونے کی اجازت نہیں تھی
شاہنواز جو اشفاق کی گردن دبوچے کھڑا تھا وہیں اشفاق کو پھینک کر ہاتھ کے اشارے سے اس نے اپنے گارڈ کو اس کو وہاں سے لے جانے کے لیے کہا تھا
جب تک میں نہ کہوں اب یہ دنیا کی شکل نہ دیکھے” صرف اتنے الفاظ بولتا وہ اندر کی جانب بڑھا اور ایزہ کو زمین میں تل ملاتے دیکھ وہ اگے بڑھا اور اس نے کسی سائبان کی طرح اسے خود میں سمیٹ لیا
کیا ہوا ہے یہ” وہ چلایا تھا
کیسے گری ہے یہ ” اس نے سوال کیا دادی جان کے ہاتھ پاؤں خود پھول رہے تھے میرے بچے یہ وقت نہیں سوالوں کا ہسپتال لے کے جا میری بچی کو کہیں کچھ اور نہ ہو جائے وہ بولی اور شاہنواز نے اس کو اپنے بازوں میں سمیٹ لیا اج ایسا لگا جیسے زمین قدموں سے ہل گئی ہو اسے لے کر بھاگا تھا گاڑی خود ڈرائیو کرنے لگا جبکہ اس کے پی اے نے کہا کہ وہ کرے گا لیکن شاہنواز نے کسی کی نہ سنی ایزہ کے کراہتے وجود پر اس کی جب نگاہ جاتی وہ گاڑی کی سپیڈ کو اور مزید بڑھا لیتا انن فانن ہسپتال تک پہنچا اور ایزہ کو ایمرجنسی میں اندر لے جایا گیا کیا وہ ٹھیک ہے کیا اسے کچھ ہوا تو نہیں”
اس کے سوال پر ڈاکٹر نے نفی میں سر ہلایا
بلیڈنگ ہونے لگی ہے اپ اللہ سے دعا کریں”
وہ کہہ کر اندر کی جانب بڑھ گئے اور پھر ائی سی یو کے دروازے بند ہو گئے شاہنواز ائی سی یو کے دروازے کے باہر کھڑا تھا اس کا دل اج کانوں میں دھڑکتا ہوں محسوس ہو رہا تھا ایزہ کو کسی صورت کھونا نہیں چاہتا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ ایزہ کے باپ کے ٹکڑے کر کے وہ چیل کو کھلا دے اخر وہ ادمی چاہتا کیا تھا نہ وہ اپنی بیٹی کا تھا نہ وہ اپنے بیٹے کا تھا تو تھا کس کا وہ؟؟؟؟؟؟ جنون سے اٹھ رہے تھے شاہنواز میں سوچ سوچ کر پگل ہو رہا تھا کہ کہیں یہ وک ہچھ ہو نہ جاتا
نہ اس نے ناز کو خوش رکھا کسی کو خوشیاں نہیں دی سب کو تکلیفیں دی صرف اس کو صرف مرنے کا حق تھا اور شاہنواز کو علم تھا اشفاق کا قتل اس پر حلال ہے
وہ جنون کی سی کیفیت میں اگے بڑھا جبکہ اس کے پی ائے نے اسے روک دیا نہیں سر یہ غلط ہے یہ وقت نہیں ہے میڈم کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے”
ہٹ جاؤ میرے راستے سے اس کی ہمت کیسے ہوئی میرے گھر تک پہنچنے کی میں نے روکا تھا کہ میرے گھر تک نہ پہنچنا میں نے انہیں کہا تھا کہ یہ بات باہر نہ نکلے لیکن نہیں اب وہ خود بھگتے گا اس نے اپنے پی ائے کو دھکا دیا
لیکن اس کے پی ائے نے اسے پھر جکڑا
سر نہیں وہ بس اتنا ہی بولا شاہ نواز نے اس کی انکھوں میں دیکھا وہ جانتا تھا وہ اسے کیوں روک رہا ہے وہ مٹھیاں بھینچ کر پیچھے ہٹ گیا اج اگر ایزہ کو کچھ ہو جاتا تو وہ سارے شہر کو اگ لگا دیتا کیونکہ وہ اب اس کی محبت تھی جب محبت نہیں تھی اس نے تو تب بھی اس شخص کو نہیں چھوڑا تھا جس نے اس پر میلی نگاہ ڈالی تھی اب تو وہ اس کی محبت تھی بھلے سامنے اس کا باپ تھا وہ کسی کو زندہ نہیں چھوڑتا اگر ایزہ کسی نقصان کا شکار ہو جاتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تین گھنٹے جان لیوا انتظار کے بعد بلآخر ڈاکٹر نے اسے یہ خوشخبری دی کہ اس کی بیوی اور بچہ دونوں بالکل ٹھیک ہیں
اور اس کی ایزہ نے ایک خوبصورت سی بیٹی کو جنم دیا ہے
شاہنواز ڈاکٹر کی شکل حیرانگی سے دیکھنے لگا اس نے ناز کو وعدہ کرنے کے بعد اج تک کبھی یہ بات نہیں سوچی تھی کہ وہ باپ بنے گا وہ بھی ایک لڑکی کا ایک بیٹی کا اس کو دیکھنے کے لیے عجیب سی خوشی اپنے اندر محسوس کرنے لگا وہ فکر وہ پریشانی جو چند لمحے پہلے اس کے اندر تھی جس میں تین گھنٹے اس نے اپنے غارت کر دیے تھے اچانک اسے جیسے ساری پریشانیاں کندھوں سے اتر گئی
کیا میں اپنی بیٹی کو دیکھ سکتا ہوں اس نے ڈاکٹر سے ذرا حیرانگی سے پوچھا تو ڈاکٹر نے مسکراتے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا
جی بالکل اپ کی ہی بیٹی ہے اپ دیکھ سکتے ہیں بس تھوڑی سی دیر اور نرسری میں رہے گی اس کے بعد اپ تک پہنچا دی جائے گی”
ڈاکٹر نے کہا اور اس کے پہلو سے گزر گئے
کیا میں اپنی بیوی کو دیکھ سکتا ہوں اس نے موڑ کر ڈاکٹر کی جانب دیکھا ہاں لیکن وہ بھی کچھ دیر بعد جب انہیں روم میں شفٹ کر دیا جائے گا وہ حیرانگی سے بینچ پر بیٹھ گیا اس کا پی اے بھی سامنے ہی کھڑا تھا
یار موبائل دو عمر کو دینی ہے یہ خبر اس نے سب سے پہلے عمر کو بتانا چاہا تھا جی بالکل سر اس نے موبائل نکالا اور اس کے ہاتھ میں تھما دیا عمر کا نمبر ڈائل کرتے عجیب سی اس کے ہاتھوں میں شدت تھی جیسے موبائل اس کے ہاتھوں میں کانپ رہا ہو یا تو یہ خوشی کی تھی یا حیرانگی کی تھی اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ باپ بنے گا اور وہ بھی ایک لڑکی کا دوسری طرف سے کال اٹھاتے ہی
میں بہت مصروف ہوں میں اپ سے بعد میں بات کروں گا” عمر نے کہا وہ کال بند کرنے لگا
یار بات تو سنو “وہ بولا تو عمر کو اس کے لہجے میں عجیب سی بات محسوس ہوئی
جی حکم کریں اس نے کہا
میں باپ بن گیا
ہوں وہ بولا اور ہنسنے لگا عمر جیسے الفاظ کہو گیا اسے یقین نہیں ایا
میں نہیں مانتا وہ نروٹھے لہجے میں بولا شاہنواز کا قہقہہ بڑا بے ساختہ تھا ۔
آتا ہوں میں کہاں ہیں اپ ” وہ بولا تو اسنے اپنے پی ائے کو موبائل دیا جو عمر کو ہسپتال کا اڈریس سمجھا رہا تھا ۔
تھوڑی دیر بعد شاہنواز کے ہاتھ میں وہ پھول سی بچی اگئی
جسے دیکھ کر شاہنواز کی انکھوں میں عجیب سا تاثر ایا اور ہلکی ہلکی نمی پھیل گئی وہ پہلی بار شاید زندگی میں اس طرح دل برداشتہ ہوا تھا اس نے اس بچی کی پیشانی چومی اور مسکرا کر اس نے سر اٹھایا کافی خوشی محسوس ہو رہی تھی ایزہ کو اتنی دیر میں روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا وہ اس بچی سمیت روم میں ایا اور اس نے ایزہ کی جانب دیکھا جو بےہوش پڑی تھی اس کی پیشانی جھک کر چومتے اس نے اس بچی کو ایزہ کے ساتھ لیٹا دیا دونوں ہی بہت خوبصورت تھی شاہنواد نے ایک نظر شیشے میں خود کو دیکھا ہاں وہ بھی خوبصورت تھا چلو ایک سات سارا حسن مل گیا تھا خود ہی اپنی سوچ پر ہنستا وہ جیسے عمر کا انتظار کرنے لگا یار دادی جان کو تو بتاؤ اس خبر کو پھیلا دو میری بیٹی ہوئی ہے شاہنواز سکندر کی بیٹی ہوئی ہے اس خبر کو پورے شہر میں پھیلا دو”
اس نے اپنے پی ائے سے کہا اس کا پی اے سر ہلا کر باہر نکلا اور اتنی ہی دیر میں عمر خیام اندر اگیا شکایتی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے اس نے اس بچی کی جانب دیکھا اور پھر شاہنواز کو دیکھا وہ بار بار کبھی اس بچی کو تو کبھی شاہنواز کو دیکھتا
شاہنواز نے اس کے اگے اپنی بانہیں پھیلا دی
تمہاری جگہ یار کوئی نہیں لے گا تم کیوں ڈرتے ہو اس نے اس کو اگے بڑھ کر گلے سے لگا لیا عمر کو تسلی نہ ہوئی اس نے پھر اسے ترچھی نظروں سے دیکھا بلکہ شاہنواز ہنسنے لگا عمر اگے بڑھا اور اس بچی کو دیکھنے لگا
ہاں اچھی ہے لیکن عمر خیام سے زیادہ نہیں اور نہ ہی اہم “
بلکل بلکل تمہارے اگے تو کچھ نہیں ہے اس نے کہا تو عمر کو تھوڑی تسلی ہوئی اس نے جانے کی جانب دیکھا اور اس کا گال تھپتھپایا اس کو ہوش نہیں ایا ابھی وہ پوچھنے لگا اپ نے ساز کو بتایا
چلیں میں بتاتا ہوں مامی بن گئی ہے بیٹھے بٹھائے ” اسنے موبائل نکالا ۔
نہیں اس میں بھی بہت محنت لگتی ہے ” شاہنواز ہنسا تو وہ مزید بے شرمی سے بولا
خیر وہ محنت تو میں روز کرتا ہوں”
شرم کرو” وہ اسکے بال بگاڑ گیا
اپ سے کیا شرمانا” وہ سکون سے بولا شاہنواز کافی خوش ہوں عمر نے ساس کو بھی بلا لیا تھا اور یہ خبر جنگل میں اگ کی طرح پھیل لیتی ہیں یعنی سب کو پتہ چل گیا تھا کہ شاہنواز کے ہاں یہ خوبصورت سی بیٹی ہوئی ہے ساتھ اس بچے کو بہت ملی ہے اس کے نرم گالوں سے کھیلنے لگے اس کے گلابی گالوں کو کھینچتے ہوئے کافی خوشی محسوس کر رہی تھی عمر نے اسے توجہ سے دیکھا انکھوں میں دلکش سے جنبش تھی دوسری جگہ بچوں سے کہنا بند کرو اپنے بارے میں سوچو ساز نے چہرہ موڑ کر اس کی جانب دیکھا اور تقریبا گھوڑا لیکن ایسے ہم پر اثر ہوتا تو بات ہی نہ بن جاتی اواز ادھر کی طرف متوجہ تھا جبکہ دادی جان بھی پاس ہی بیٹھی تھی
ہاں ہاں ٹھیک کہہ رہا ہے دوسروں کے بچوں سے کھیلنے سے بہتر ہے بیٹی اپنے بچوں کے بارے میں سوچو اور جتنا جلدی ہو اس بارے میں سوچو اتنے دن گزر گئے اب تک تیرے پاؤں بھاری نہ ہوئے “
ان کی بات پر ساز کا چہرہ سرخ پڑ گیا اس کے گالوں سے جیسے لالی پھوٹنے لگی اس نے عمر کی جانب دیکھا اور چہرہ جھکا لیا اب اس بچے سے کھیلنے کی بھی ہمت نہیں رہی
ہر کوئی یہاں پر تو ہر بات سکون سے کر لیتا تھا حالانکہ شاہنواز بھی یہاں موجود تھا لیکن اس بات سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا جبکہ ساز بہت زیادہ شرمندگی محسوس کر رہی تھی عمر نے مسکرا کر اس کی جانب دیکھا
جی بالکل ایک ساتھ دو تین چار جتنے اپ کہیں اتنے دے سکتا یے عمر ۔۔۔ دادی جان ہنسنے لگی
پاگل ہو چکا ہے تو ایسے تو نہیں ہوتا “
دیکھیں کیسے لال ہو گئ یے” پیار سے ساز کو دیکھتے وہ بولا جبکہ دادی جان بھی مسکرا دی ۔۔ اور ساز چہرہ ہی چھپا گئ
ایزہ کو بھی ہوش ا گیا تھا
شاہنواز اس کی جانب جھکا اور اس کی انکھوں میں دیکھنے لگا ایزہ کے بھاری ہوتے پردے اٹھے اور اس کی سیدھی نگاہ شاہنواز سے جا ملی
وہ کافی فکر مندی سے اس کے اوپر جھکا ہوا تھا
کیا تم ٹھیک ہو اس نے سوال کیا
نہیں مجھے بہت درد ہو رہا ہے وہ بولی اور رونے لگی
ایک دم عمر بھی اٹھا اور ساز بھی اس کی جانب بڑھ گئی
ڈاکٹر کو بلاؤ اس نے عمر کی جانب دیکھ کر کہا
عمر خود باہر نکل گیا
ڈاکٹر کو بلانے چلا گیا جبکہ دادی جان نفی میں سرہلانے لگی
ارے تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ابھی ابھی اس کا اپریشن ہوا ہے یقینا کہیں نہ کہیں سے کچھ ہو گا ہی تم لوگ ارام سے اس کے پاس سے ہٹ جاؤ ڈاکٹر خود دیکھ لیں گے
وہ بولیں شاہنواز نے نفی کی
نہیں یہ غلط بات ہے اتنے بڑے ہاسپٹل میں آنے کا کیا مقصد ہے جب میری بیوی کو تکلیف ہو رہی ہے “وہ بولا اس کی اواز میں غصہ تھا عمر کے بلانے پر ڈاکٹر فورا ائے تھے کیونکہ وہ ایزہ شاہ تھی اسے اگنور نہیں کیا جا سکتا تھا ۔ اور ایزہ کا چیک اپ کیا اور شاہنواز کو تسلی دی کہ ابھی ابھی اس کا اپریشن ہوا ہے
اور اس کی عمر بھی چھوٹی ہے اسی وجہ سے وہ دلبرداشتہ ہو رہی ہے شاہنواز پھر بھی سمجھ نہیں سکا اور اس نے ڈاکٹر سے اسے پین کلر لگانے کے لیے کہا کائنڈلی سر اپ ہماری بات کو سمجھیں ابھی وہ ہوش میں ائی ہیں ابھی ہم انہیں پن کلر لگا کر دوبارہ بےہوشی میں نہیں لے کے جا سکتے وہ بولے اور شاہنواز کی جانب دیکھا تو شاہنواز ضبط سے مٹھیاں بیچ گیا اس نے سر ہلایا اور رخ موڑ لیا جبکہ عمر کی کیفیت کچھ ایسی ہی تھی ساز بھی پریشان سی تھی البتہ ایزہ کو دیکھ کر اسے تھوڑا سا خوف محسوس ہو رہا تھا کہ یہ وقت تو ہر عورت پہ اتا ہے اور ایزہ کی تو کتنی سی عمر ہے اور اس نے یہ سب کچھ کیسے برداشت کیا ہوگا وہ سہمی سہمی نظروں سے سب چیزیں دیکھ رہی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوہا نے یہ خبر سارے گھر کو بتا دی تھی
سبھی خاموش تھے کوئی کسی سے کوئی بات نہیں کر رہا تھا سوہا بار بار بدر کی جانب دیکھتی اور خاموش ہو جاتی ہے جبکہ بدر نے کوئی رسپانس نہیں دیا تھا
کیا ہمیں چلنا چاہیے سوہا کے سوال پر بدر نے اس کی جانب دیکھا اور شانے اچکا دیے
جیسے تمھیں مناسب لگے” جواب تو سہولت سے دیا تھا اسنے مگر سوہا کو ہضم نہیں ہوا ۔
کیا مجھے مناسب لگے کیا میری مرضی چلتی ہے کہیں”
بھئ تمھاری مرضی یے اس میں میرا کیا مسئلہ ہے ” وہ چائے کا کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر بولا
کیا تم جانا چاہتے ہو”
تم مجھ سے غلط الجھ رہی ہو “
نہیں مجھے لگ رہا ہے تم جانا چاہتے ہو” وہ منہ بنا کر بولی
سوہا یہ بات میں نے کب کہی کہ میں جانا چاہتا ہوں “
نہیں تم خاموش کس لیے ہو ؟؟😤
بھئی میری مرضی میں خاموش ہوں تمھیں کیا مسئلہ ہے اس بارے میں” 😒
نہیں تم اس بات کو سن کے خاموش ہو گئے تھے🤨
تم مجھ سے الجھ رہی ہو
میں تم سے نہیں الجھ رہی صرف میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ تم جانا چاہتے ہو یا نہیں جانا چاہتے” وہ اسکے سمنے کھڑی ہو گئ
میں نہیں جانا چاہتا “
لیکن کیوں نہیں جانا چاہتے تم “
سیریسلی پاگل ہو گئی ہو تم ” وہ چیڑا
میں پاگل نہیں ہوئ میں تم سے سوال کر رہی ہوں؟
جب میں کہہ رہا ہوں کہ میں نہیں جانا چاہتا تو پھر”
پھر ہمیں جانا چاہیے ” وہ سکون سے بولی اور وہ حیران ہوا اس بحث پر ۔۔۔
نہیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے محسن صاف انکار کر دیا نہیں ہم جائیں گے وہ بولی اور باہر نکل گئی سوہا وہ ان کرنے لگا نہیں میں چچی کو شکایت لگا دوں گی تمہاری وہ باہر نکل گئی بزر نے سب سے مٹھیاں بھینس لی جبکہ وہ باہر ائے اور اس نے نجموں کے ساری بات بتائی نوا نے بھابھی کی طرف دیکھا کچھ رنگ ہوتا ہمیں جانا چاہیے ہم کب تک ہی اختلافات کو کھڑا کر کے رکھیں گے جو شروع ہی ہماری طرف سے ہوں میں وہ بولی تو امی کچھ نہیں بولی تھی جبکہ سن وہ سب رہی تھی اور مجھ سے اپنے کام میں مگن تھی دونوں ہی سبزی بنا رہی تھیں وہ کچھ نہیں بولے تو سوق ہو اور تکلیف ملے ٹھیک ہے میں اور بدر جا رہے ہیں اپ لوگ پھر بعد میں چلے جائیے گا اس کے گھر چلے جائیے گا اور ویسے بھی عمر کی شادی میں بھی تو اس کے گھر گئے تھے نا سب میں اور بدر جا رہی ہوں بدر کو رہنے دو تائیجان بولے کیوں رہنے دو اس نے سوال کیا وہ ساتھ جائیں گے میرے وہ جلدی سے اندر ائی چلو چلتے ہیں جب میں کہہ رہا ہوں مجھے نہیں جانا تو تمہیں کیا تجھ چڑھ گئی ہے ایک تو جب سے میں نے تمہاری بات کو اہمیت دینا شروع کری نا تم میرے سر پہ سوار ہو کر ناچنے لگ گئی ہو میں نہیں ناچ کے دکھا رہی ہوں میں صرف اور صرف یہ بتا رہی ہوں کہ ہمیں جانا چاہیے اور میں تمہیں ایک بات سے روک رہا ہوں لیکن وہ بات تمہیں سمجھ نہیں ا رہی تم کیوں نہیں جانا چاہ رہے پہلے مجھے یہ بتاؤ ٹھیک ہے میں چل رہا ہوں وہ اٹھا تم اپنی مرضی سے جاؤ گے وہ معصوم نے انکھیں پٹ پٹا کر اسے دیکھنے لگی میں تمہاری سر میں کوئی چیز مار دوں گا یہاں سے چلی جاؤں تم بدن نے غصے سے کہا اچھا ٹھیک ہے اٹھ جاؤ میرے سر پہ نہیں احسان کر رہے تم اپنی بہن کے بہن کے گھر جا رہے ہو تم وہ میری بہن کا گھر نہیں ہے ٹھیک ہے تم اپنی بہن کے گھر جا رہے ہو عزت تمہاری بہن ہے اج سے بدر نہیں ادھر ادھر دیکھا اور کھڑا ہو گیا تم نے اس کو بہن نہیں کہا وہ پھر الجھنے لگے اچھا بھئ وہ میری بہن ہے اب بس راضی ہو تم
وہ مسکرا دی ٹھیک ہے اب چلتے ہیں وہ تیار ہوا جبکہ سوہا کو اس کے تیار ہونے پر بھی اختلاف تھا
تیار ہونے کے بعد دونوں نے ائینے میں ایک دوسرے کا عکس دیکھا بدر بالکل نارمل تھا جبکہ سوہا بہت زیادہ خود پر وزن محسوس کر رہی تھی وہ اس کے جتنی خوبصورت نہیں تھی وہ چاہ کر بھی وہ بہت کچھ کرنے کے باوجود بھی اس کے جتنی خوبصورت ہو نہیں سکتی تھی معلوم نہیں کیسے بدر کو اس چیز کا احساس ہوا اور اس نے سوہا کے شانے پر ہاتھ رکھا
چلیں ” اور بس اتنا ہی بولا تھا
کیا میں ٹھیک لگ رہی ہوں اس سوال پر جیسے اس کا دل تھم سے گیا
ہاں تم بہت اچھی لگ رہی ہو اس نے کہا
سوہا کی انکھیں حیرانگی سے پھیل گئی وہ ایسے دیکھ رہی تھی جیسے کہ کوئی معجزہ ہے اسے دیکھتی ہی رہی بدر نے ہلکے سے مسکرا کر اس کا گال تھپتھپایا اب چلتے ہیں وہ بولا اور وہ حیران حیران سی اس کے ساتھ چلنے لگی جب کہ وہ اس کا ہاتھ پکڑ چکا تھا
یہ سب کچھ کیا ہو رہا تھا یہ واقعی حقیقت تھی اس کے ساتھ باہر نکلتے وہ سوچ رہی تھی
وہ دونوں بائیک پر سوار ہوئے اور ساز نے جس ہاسپٹل کا انھیں بتایا تھا اس ہاسپٹل کی جانب وہ چل دیے جیسے ہی وہ دونوں ہاسپٹل پہنچے تو ہاسپٹل میں عجیب ہی شور و گل سا تھا چاروں طرف مٹھائیاں بانٹی جا رہی تھیں جب کہ وہ جس کمرے کے اگے پہنچے اس کمرے کے ارد گرد بھی پھول پھول بکھرے ہوئے تھے اور کمرے کے اندر بھی پھولوں سے ڈیکوریشن کی گئی تھی وہ کمرہ واقعی لگ رہا تھا ایزہ شاہ موجود ہیں یہاں اور اس کے پہلو میں لیٹی ہوئی بچی بھی بہت خوبصورت تھی سوہا اور بدر کی جانب دیکھ کر سب ایک لمحے کے لیے تھم گئے اسے دروازے میں کھڑا دیکھنے لگی الفاظ کوئی نہیں تھے نہ انکھوں میں شناخت تھی اس نے لمحے بھر میں اپنی انکھوں کا زاویہ بدلا اور شاہنواز کو دیکھنے لگی جو بدر کو دیکھ چکا تھا اس نے پھر ایزہ کی طرف دیکھا اور ہلکا سے مسکرایا اور دیوار سے ٹیک لگا لی سینے پر ہاتھ باندھے دیوار سے ٹیک لگائے اسی کی جانب دیکھ رہا تھا جبکہ اس نے اس کے چہرے سے لمحہ بھر کے لیے بھی انکھ نہیں ہلائی
کیسی ہو تم ” وہ اب بھی اسے دیکھ رہی تھی
سوہا نے سوال کیا تھا اس نے سوہا کی جانب دیکھا
میں ٹھیک ہوں وہ ہلکا سا مسکرائی تمہارے بچے بالکل تمہارے جیسے ہی ہیں اس نے جھک کر اس بچی کو پیار کیا بدر اب بھی خاموش کھڑا تھا اس نے مسکرا کر اس بچی کو جس کا ابھی نام نہیں رکھا تھا سوہا کے ہاتھ میں دے دیا بہت پیاری ہے بالکل تمہاری طرح
سوہا نے مسکرا کر کہا اور بدر کو اس بچی کو دکھایا بدر بھی ہلکا سا مسکرایا اور اس نے سب کے سامنے سوہا کے شانے پر ہاتھ رکھ کر اسے نزدیک کر لیا معلوم نہیں یہ کیا تھا سوہا حیرانگی سے اس کی صورت دیکھنے لگی
بدر مسکرایا بہت پیاری ہے مبارک ہو تمھیں میں وہ ایزہ سے بولا
ایزہ نے سر ہلایا اور پھر جھانک کر شاہنواز کو دیکھنے لگی عجیب سا منظر تھا عجیب سے حالات تھے دو لوگ جو ایک دوسرے کے ساتھ بندھے ہوئے تھے اب وہ الگ الگ لوگوں کے ہو گئے تھے اور وہ ان لوگوں سے محبت بھی کرنے لگے تھے اس کو اپنے دل میں بدر کے لیے کچھ محسوس نہیں ہو رہا اور اس سے وہ وقت کا ضیاع لگا جن لمہوں میں اس نے بدر کے لیے اپنے انسو بہائے تھے اسے بدر سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ایک شخص جو اس کے سامنے کھڑا تھا اس نے ہمیشہ اس کے اوپر اعتبار کیا تھا وہ وہ جیسا بھی تھا لیکن اعتبار کر کے دکھاتا تھا اس وقت میں بھی جب اس پہ دادی جان نے الزام لگائے تھے اس وقت میں بھی جب وہ سب چیز سچ بیان کی جا رہی تھی جو سب کچھ ایزہ نے کیا تھا تب بھی اس نے یہی کہا جب وہ انکھوں سے دیکھے گا اس وقت یقین کرے گا اور ایک یہ شخص تھا جو اج اپنی بیوی کے شانے پہ بڑے فخر سے ہاتھ رکھے کھڑا تھا وہ جانتا تھا ایزہ اس سے محبت کرتی تھی اور جب اس کے اوپر الزام لگایا اسی عورت نے جو اس کے ساتھ اس کے پہلو میں کھڑی تھی تو وہ یقین کر گیا وہ وہ مان گیا جو سب کچھ اس خط میں لکھا تھا اب اس بات کو کرنے کا اور اس بات کو دہرانے کا کوئی فائدہ نہیں تھا لیکن جیسے اسے ماضی کی چند یادیں یاد ائی تھی شاہنواز اج بھی دور کھڑا اسے دیکھ رہا تھا یعنی اعتبار اج بھی کرتا تھا اور بس یہی بات اس کو اس کا کر گئی تھی اور اج تو وہ بس اسکی تھی ۔۔۔
یہ رومانس کرنے کا موقع تم دونوں کو گھر پر نہیں ملتا “
تم اپنی سوچوں سب جنے اپنی محبت کے ثبوت دیکھا دیے ہیں تم کہاں مصروف ہو “
بدر نے جس انداز میں اسے طعنہ مارا تھا ۔۔ عمر کے تو سیدھا دماغ میں جا کر لگی
تم مجھے چیلینج نہ ہی کرو تو بہتر ہے”
چیلینج کی کیا بات یے تم دیکھ سکتے ہو سب اپنی انکھوں سے”
یہ تم اپنے بھائ کا منہ بند کراو گی یہ مار دوں اسکے سر میں کچھ”
وہ ساز سے بولا جو اپنے بھائ کی بات سن کر سمھجہ کر بری طرح شرمندہ تھی
وہ بدر کو دیکھنے لگی بدر بھی نفی سر ہلا کر ہنس دیا ۔
عمر انکھیں سکیڑ کر اسے دیکھنے لگا ۔
اب تو اسکے سر پر سوار ہو گئ تھی شاہنواز بھی اسکا چیڑنا دیکھ رہا
ایزہ نے اسکی جانب ہاتھ بڑھایا وہ اسکا ہاتھ جھک کر چومتا اسکے نزدیک ہو گیا ۔
سوہا اور بدر اب بھی اس بچی کی تعریف کر رہے تھے عمر خیام تو چیڑ گیا تھا جبکہ شاہنواز ۔۔۔ بھی مسکرا رہا تھا وقت سے انجان کے کتنی جلدی یہ مسکراہٹ اسکے ہونٹوں سے چھن جائے گی ۔” “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اشفاق صاحب کو اپنے ہی گھر کی بیسمنٹ میں وہ قید کر چکا تھا نہ یہ ادمی ہوتا اور نہ ہی کچھ اور ہوتا ۔
بدر اور سوہا بھی گھر لوٹ آئے مگر اشفاق صاحب نہیں آئے تھے ۔
تائ جان نے بدر کو پکارہ تو وہ مڑ کر انکی جانب دیکھنے لگا
تمھارے تایا گھر نہیں لوٹے پورا دن گزر گیا ہے” وہ متفکر تھیں ارہم زخمی حالت میں پڑا تھا بھلہ بدر کے علاوہ کوئ تھا ہی نہیں جس سے وہ یہ بات کہتی
ا جائیں گے یہیں کہیں ہوں گے ” وہ لاپرواہی سے بول گیا
نہیں وہ صبح سے گھر نہیں آئے “
آ جائیں گے “کہہ کر وہ اگے چلا گیا جبکہ وہ پریشان سی وہیں کھڑیں تھیں سوہا نے بدر کا رویہ دیکھ لیا تھا اسنے ماں کے شانے پر ہاتھ رکھا ۔
ا جائیں گے”
نہین مجھے کسی غلط حرکت کا احساس ہو رہا یے سوہا “
وہ ہریشان سی بولیں جبکہ ۔ سوہا کمرے میں گئ
بدر سونے کے لئے لیٹ گیا تھا وہ کیا کہتی کہہ امی سے ایسے بات کیوں کی امی نے کون سا اسکے ساتھ کبھی اچھے انداز میں بات کی تھی
وہ خاموش ہو گئ اور اگلا دن بھی نکل گیا ۔
اشفاق صاحب گھر نہ لوٹے تائ جان نے تو رونا شروع کر دیا بدر بھی کچھ پرہشان سا ہوا کہ وہ کہاں گئے اور ہر ممکنہ جگہ پر وہ ڈھونڈ چکے تھے لیکن بے سود اور تین دن گزر گئے اشفاق صاحب نہ ملے تو ۔ گھر میں ہنگامہ سا برپا ہو گیا تھا ۔۔
کہیں عمر نے تو نہیں”
نہیں عمر ایسا نہیں کر سکتا ” “بدر بولا اور اسنے نہیں عمر ایسا نہیں کبدر بولا اور اسنے نہیں عمر ایسا نہیں کر سکتا ” “بدر بولا اور اسنے پھر کسی کی بھی سنے بنا ہی عمر کو کال کی اور سے یہ ساری بات بتا دی ۔
دوسری طرف عمر جو چاہتا تھا کہ اسے اس بات سے کوئ فرق نہ پڑے ۔۔ اور اسنے یہ ہی ثابت کرنے کی خود کو باور کرانے کی بارہا کوشش بھی کی مگر بے سود فکر مند وہ بھی ہو گیا اسنے دو بار بدر سے پوچھا مگر اگلا مزید دن گزرنے کے بعد بھی ۔
اشفاق صاحب کے بارے میں کچھ پتہ نہ چلا تو ۔۔۔ عمر جیسے ہوش میں آگیا اور اسنے چارو پھیرا دیا تھا پولیس کو اور اس سب میں شاہنواز اسکا بھرپور ساتھ دے رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
اسکے باپ کو ڈھونڈنے میں ۔۔
کمال تھا یہ بھی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
