Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

اسکے چہرے پر تھپڑ کا نشان سا پڑ گیا تھا جس میں درد بھی کافی ہو رہا تھا نہ چاہتے ہوئے بھی وہ عمر خیام کے کمرے میں تھی تھک کر سونے کی خواہش تھی لیکن یہ کمرہ ایسا لگتا تھا ہر طرف شراب کی بو ہے یہاں وہ چہرے پر ہاتھ رکھتی بری طرح رو دی ہچکیاں کمرے میں گونجنے لگیں
اسکی زندگی اس سے زیادہ مشکل نہیں ہو سکتی تھی
اس سے کہیں گناہ سکون سے وہ پہلے رہتی تھی اسنے دھندلائ آنکھوں سے سارا کمرہ صاف کیا
یہاں تک کے فجر کی اذانیں ہونے لگیں یہ دوسرا دن تھا وہ سو ہی نہیں سکی تھی وہ صوفے پر بیٹھ گئ اور تھکاوٹ کے باعث اسے گھیری نیند نے جا لیا ۔۔۔۔
سعود کے ساتھ ایک پارٹی سے واپسی ہوئ تو رات گزر گئ خبر ہی نہ ہو سکی اور راتیں تو یوں ہی بے خبری میں نکل جاتی تھیں وہ نشے میں بری طرح دھت تھا اور گھر میں داخل ہوا تو دروازہ بند تھا وہ دروازہ بری طرح پیٹ گیا لیکن نشے میں بھی اتنا اسے اندازا تھا کہ اسکا باپ جان بوجھ کر دروازہ کھولے گا ہی نہیں تبھی اسنے گھر کا دروازہ پھلانگا اور راستے میں ارہم کی ہیوی بائیک کھڑی تھی اسے لات مار کر وہ اندر ا گیا
اور جو جو چیز اسے دیکھ رہی تھی اسے گیرا کر توڑتا وہ اپنے کمرے میں آیا اور اندر آتے ساتھ ہی بستر پر گیر گیا
لمبے لمبے دو سانس کھینچ کر اسنے چہرہ موڑا تو سامنے صوفے پر وہ اسے بیٹھی ہوئ دیکھائ دی
اسے یاد تھا یہ اسکی بیوی ہے خود کو دوپٹے میں چھپائے وہ بلکل محسوس نہیں ہو رہی تھی کہ انسان ہے بس ایک پوٹلی سی لگ رہی تھی اسنے چہرہ موڑ لیا آنکھیں بند کر لیں اور خود بھی گھیری نیند میں اتر گیا
اور جب وہ سوتا تو مردوں کو بھی مات دے دے حیران کن طور پر ساز بھی سوئ تو کچھ زیادہ ہی سو گئ کہ سب کو ناشتہ پانی دینا تھا اسے خیال ہی نہیں رہا
اور کمرے کا دروازہ سوہا چچی یہاں تک کے ثروت بھی چار بار بجا کر جا چکی تھی لیکن ایسا لگ رہا تھا جیسے عمر کے ساتھ ساتھ ساز بھی آج نشہ کر چکی ہے ۔
دیکھ رہی ہو ثروت اسکی بیٹی کی بے حیائی ارے دن چڑھے کو ا گیا شوہر کی بغل میں پڑی ہے توبہ توبہ ایسی بے حیا بے غیرت لڑکی” تائ کو نجما کو سنانے کا موقع مل گیا تھا نجما نے ہی سب کو ناشتہ بنا کر دیا تھا
اور تائی کو پہلی بار نجما کو کام دینے کا دل نہیں تھا وہ چاہتی تھی اب بس کام ساز ہی کرے اور نجما کو یہ تسلی ہوئ تھی کہ کچھ دیر چلو وہ آرام ہی کر لیتی
ثروت چچی نے بھی سر ہلایا وہ بھی وقت کے ساتھ ساتھ تائی کا روپ دھار رہیں تھیں نجما کچھ نہیں بولی تائی جان کا غصہ سوا نیزے پر تھا
اے جا ذرا صنم دروازہ پیٹھ اس کلموہی کو نکال باہر گھر کا گھر پڑا ہے کون صاف کرے گا ” وہ چلائیں جبکہ صنم نے سر ہلایا اور انکا حکم مانتے ہوئے اوپر ا گئ اور دروازہ بجایا تو ساز کے بجائے عمر کی انکھ کھلی تھی اسنے ناگواری سے دروازے کو دیکھا
ایسے بجائے گی تو منحوس اٹھے گی کیسے تائ بھی اوپر ا گئ اور اس قدر شدت سے دروازہ پیتا کہ آس پڑوس کے لوگ بھی اٹھ جاتے وہ تو پھر اس کمرے میں رہتے تھے دونوں ۔۔۔۔
کیا مصیبت ہے” وہ دھاڑا ساز ایکدم سیدھی ہوئ اور اجنبی نظروں سے کبھی دروازے کو تو کبھی عمر خیام کو دیکھنے لگی جو کھڑا ہو گیا تھا ۔
جیسے کچھ دیر پہلے ہی سویا ہو کیونکہ اسکے پاوں میں جوتا تھا اور اسکی شرٹ کے تقریبا بٹن کھلے ہوئے تھے وہ اٹھ کر دروازے کے نزدیک آیا اور دروازہ کھول دیا
تائی سمیت صنم بھی جھجھک گئ اور ایک قدم دور ہوئ اسنے دروازہ پکڑ کر صنم کو اوپر سے نیچے تک دیکھا صنم کا چہرہ سرخ پڑ گیا
پہلی بار آمنا سامنا جو ہوا تھا پھر تائی کو دیکھا جو ذرا سٹپٹائی تھیں عمر کو دیکھ کر ۔۔۔
ساز کو بھیج دو بیٹا ” تائی ہلکا سا مسکرائ
ساز اپنے نام کی پکار پر اٹھی اور جلدی سے اگے بڑھتی کہ وہ دروازے میں چٹان کیطرح کھڑا تھا
ساز آگے نکلنا چاہتی تھی لیکن عمر خیام ایسے کھڑا تھا کہ وہ نکل کیسے پاتی ۔۔۔۔
اور اسے چھونا ناممکن وہ اسے چھونا تو کبھی نہیں چاہتی تھی
دروازہ کیوں بجایا ” سرد سپاٹ لہجے میں اسنے تائ کی جانب دیکھا
بیٹا دن نکل آیا ہے ساز کو اٹھایا ہے میری جان تم تو سو جاؤ ” وہ پیار سے پکارنے لگیں
دروازہ کیوں بجایا ” اسکی نیند خراب ہوئ تھی تیور اچھے خاصے خراب تھے اب تائی جان اس پاگل کو کیسے سمجھتی کہ تیسری بار اسے بتا رہیں تھیں کہ ساز کو جگانا تھا مگر اسکا سوال وہیں تھا
عم۔۔عمر بھائی ساز کو بھیج دیں “
عمر نے بنا جواب دیے اپنی پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا موبائل نکالا اور اشفاق صاحب کو کال گھما دی
نیچے سوہا ثروت اور نجما سب ہی اوپر کا نظارہ دیکھ رہے تھے اور صوفیا بھی سیڑھیوں میں کھڑی تھی اندر ساز ادھر سے ادھر ہو رہی تھی تائی جان اسکی جان نکال دیں گی وہ جانتی تھی
یہ آپکی بیوی کے پاس تمیز ہے یہ مجھے سیکھانا پڑے گی” وہ دو ٹوک بولا تائی نے جلدی سے سٹپٹا کر سب کی جانب دیکھا بے عزتی سے چہرہ سرخ پڑ گیا
میرے کمرے کا دروازہ کیوں پیٹا ہے انھوں نے” وہ چلا اٹھا ساز دل پر ہاتھ رکھ گئ جبکہ تائی کا فق چہرہ سب ہی دیکھ رہے تھے
ہے ہے لیسن ڈیڈ مجھے بکواس نہیں پسند اپنی بیوی سے کہو آئندہ میرے دروازہ پر نہ دیکھے ورنہ پھر اپنے طریقے سے جواب دوں گا میں اور مجھے جس نے نیند سے اٹھایا ائ سوئیر اسکی نیندیں حرام کر دوں گا ” کہہ کر اسنے کال ڈسکنیکٹ کی اور تائی کو گھور کر دیکھا تائی جیسے شرمندہ سی ہو گئ اور عمر نے دروازہ دوبارہ انکے منہ پر دے مارا
صنم صوفیا ثروت خاموشی سے تائی جان کو دیکھ رہی تھیں جبکہ سوہا تلملا گئ
یہ کیا بات ہوئ کتنا بدتمیز ہے یہ آدمی میں ابو سے خود بات کروں گی اتنی بدتمیزی کی ہے یقینا ساز نے بھڑکایا ہو گا ” سوہا غصے سے بولی جبکہ نجما اندر کچن میں تھی اسکے اب لبوں پر مسکان ٹھہر گئ تھی ۔۔۔
وہ عمر خیام تھا کہیں نہ کہیں انجانے میں ہی سہی وہ اسکی بیٹی کی حفاظت کر جاتا اسکا دل مشکور سا تھا
جبکہ باہر سب ساز کو برا بھلا کہہ رہے تھے کیونکہ تائی جان رونے لگ گئ تھیں
دوسری طرف وہ ساز کو اور اسکی پتلی ہوتی حالت کو ایک نظر دیکھ کر دوبارہ بیڈ پر گیرہ اور تکیوں کو بانہوں میں بھینچ کر وہ سونے کے لیے آنکھیں بند کر گیا
اور ساز کو لگا اگر وہ نیچے گئ تو تائ جان بم کیطرح اسپر پھٹ پڑیں گی اور کوئ بعید نہیں وہ آج اسے ڈنڈوں سے مارے ۔
وہ عمر کو کیا دیکھتی دروازے کیطرف بھاگی کہ نیچے جا سکے کہ وہ ایکدم جھنجھلا کر اٹھ کر بیٹھ گیا
بلڈی بل شیٹ وومن” وہ سر تھام گیا کہ ایک بار جاگ جاتا تو سر درد سے پھٹنے لگتا تھا
ساز نے مڑ کر دیکھا
عمر نے بھی نگاہ اٹھائ
ساز نے نگاہ جلدی سے پھیر لی اور پھر سے باہر نکلنے لگی ۔۔ عمر اسے جاتے ہوئے دیکھنے لگا
اسے لگ رہا تھا جتنی پی تھی رات سب اگل دے گا اور ہوا بھی ایسا ہی اسے الٹی سی آئی اور واشروم میں چلا گیا جبکہ ساز گھبرائی گھبرائی سی نیچے ائ تو نیچے تائی جان بہت اونچا اونچا رو رہیں تھیں سب نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اور سوہا اسکے پاس آ گئ
دل تو کر رہا ہے ٹکڑے کر دوں تمھارے کیا کیا بکواس کی ہے تم نے اس عمر نشئی سے ” سوہا نے ایکدم اسکے بال جکڑے جبکہ ساز نے حیرانگی سے اسے دیکھا اور اپنے بال چھٹوانے کی کوشش کرنے لگی
میں ۔۔ میں نے کچھ بھی نہیں کہا اور اور وہ تو شاید نشے میں ہیں” بڑی شرمندگی سے اسنے یہ بات کہی تھی جیسے عمر کا شراب پینا اسکا جرم تھا اور ہر چیز کی مجرم وہ تھی
سوہا نے اسکے بال جھنجھوڑ کر چھوڑے
اے اس بدبخت کی شکل گم کرو میری نظروں کے سامنے سے ” تائ جان نے چپل اٹھا لی
دو چار چپل کھائے گی بھابھی یہ پھر ٹھیک ہو گی اسے نہیں تمیز کہ بچیوں والا گھر ہے شوہر کی بغل میں پڑی رہتی ہے ” اسے لگا جیسے اسکے کپڑے اتر رہے ہوں وہ ثروت چچی کو حیرانگی سے دیکھنے لگی اسنے صنم اور صوفیا کو دیکھا جن کے چہروں پر بھی ناگواری تھی
وہ حیران ہوتی تھی وہ تینوں تو دوستوں تھیں جب سے اس رشتے کا ذکر ہوا وہ دونوں ہی بدل گئیں تھیں وہ مرے مرے قدموں سے کچن میں ا گئ نجما نے اسکو گلے لگا لیا
تم پریشان نہ ہو آرام کرتی کیوں ائ ہو نیچے” وہ اسکا چہرہ تھام کر بولی
امی میرے ساتھ یہ سب کیوں ہو رہا ہے” وہ ماں کے سینے سے لگی سسکیاں بھرنے لگی
اچھا بس بہت ہو گیا ڈرامہ چائے بناؤ دوپہر کا کھانا بھی بنانا ہے” ثروت چچی نے نجما سے اسے دور کیا جبکہ وہ دونوں ہی حیران تھیں
ثروت تم بھی”
بس کریں بھابھی ایک تو غلطی اوپر سے آپ میسنی بن جاتی ہیں” وہ بھڑک کر بولی
جبکہ ساز نے آنکھیں صاف کی مزید بات بڑھا کر وہ خود کو کتنا ذلیل کراتی اسنے ماں کے ہاتھ سے سامان لیا اور وہیں کھڑی ہو گئ
بس ڈرامے کرا لو ” ثروت چچی نے کہا اور باہر نکلیں کہ جھنجھلائے ہوئے سخت تیوروں سے دیکھتے عمر سے سامنا ہو گیا
وہ فلحال کچھ نہیں بولا تھا لیکن اس کے آتے ہی سب کے منہ بند ہو چکے تھے سب ادھر ادھر ہو گئے تھے
عمر اندر ایا تو ساز مڑ گئ ۔۔۔۔
پتہ نہیں اسے عمر کا سامنا نہیں کرنا تھا نجما بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
آہستگی سے کچن سے نکل گئ وہ اندر آیا
اور چئیر کھینچ کر بیٹھ گیا
بھوک لگ رہی ہے مجھے” سنجیدگی سے بولا
ساز جھنجھلائ ہوئ تھی اس سے اسکی وجہ سے تھپڑ پڑے تھے وہ رخ موڑ کر کھڑی رہی
ہیلو بیوی ” وہ اسے متوجہ کرنے لگا
میرا نام ساز ہے” وہ ذرا غصے سے بولی
اوکے ساز مجھے بھوک لگی ہے”
تو ” وہ نہ جانے کیوں اسپر اپنا غصہ اتار رہی تھی
رائیٹ تو تم کیا کرو گی بھوک مجھے لگی ہے تمھارا کیا اب بیچ میں مت انا ” اسنے ایک بازو پکڑ کر اسے دور کیا
اور ساز تو جیسے ہلکی پھلکی سی تھی ایک ہی جھٹکے میں دور ہو گئ اور عمر نے پین چولہے پر رکھا اور اپنی مرضی سے کچھ نہ کچھ کرنے لگا
ساز دور سے اسے دیکھ رہی تھی بے ساختہ اسے شرمندگی ہوئ
کیا چلا جاتا وہ اسے کچھ بنا کر دے دیتی
حیرت انگیز طور پر وہ ناشتہ بنا چکا تھا اور ناشتہ بنا کر اسنے انڈے کو کانٹے میں بھرا اور کیبن پر چڑھ گیا
بنا لو اب جو بنانا ہے ویسے ہر وقت کچن میں کیوں رہتی ہو” وہ ناشتہ کرتے ہوئے سکون سے اس سے سوال کر رہا تھا
ساز کنفیوز سی کھڑی تھی
تم منہ نہیں دھوتی” وہ دوبارہ اسکی جانب دیکھنے لگا جبکہ انڈہ سکون سے کھا رہا تھا وہ شرمندگی کی انتہا پر چلی گئ
جاو منہ دھو ” اسنے کہا ساز کا چہرہ سرخ سا تھا واقعی وہ اٹھتے ساتھ ہی نیچے ا گئ تھی وہ چہرے پر ہاتھ رکھ کر بری بڑی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی جبکہ وہ سر جھکائے کانٹے میں انڈا لگا کر کھانے لگا
ساز شرمندگی سے پلٹی اور سینک پر ہی چہرے پر پانی کے چھینٹے مار کر اسنے کلی کی اور اپنے دوپٹے سے چہرہ صاف کرنے لگی کہ وہ بے زاریت سے اسے دیکھنے لگا
ویٹ” اسنے اسے ٹوک دیا
یہ لو ” لاپرواہی سے اسنے اسکی جانب رومال پھینکا ساز کے لیے یہ حیرانگی کا جھٹکا تھا ایک شرابی اتنی نفیس طبعیت کا کیسے ہو سکتا ہے
ساز نے اسکے رومال کو کچھ کہے بنا سائیڈ پر رکھ کر اپنے دوپٹے سے ہی چہرہ صاف کیا اور دوبارہ ہنڈیاں میں چمچ چلانے لگی جبکہ عمر نے مسکرا کر اسکے رومال کو دیکھا اور سر جھٹکا
تم بہت اکورڈ ہو اور تمھارا بھائ مجھے ا کر کہتا ہے کہ تم بہت معصوم ہو اور بلا بلا ” وہ جیسے اسکی حرکت پر چیڑ سا گیا
آپ مجھ سے کیوں بات کر رہے ہیں” وہ بلاخر بولی
کیونکہ تم میری بیوی ہو ” وہ سکون سے بولا
بیوی کا مطلب بھی جانتے ہیں بیوی بیوی” وہ پٹاخ سے جواب دے گئ جبکہ عمر ایک ائ برو اچکا کر اسکی شکل دیکھنے لگا ۔
مجھے تو بیوی کا مطلب پتہ ہے ” وہ بولا اور پلیٹ پیچھے رکھی اور جمپ لگا کر کھڑا ہو گیا
تمھارا کیا ہو گا اگر میں نے تمھیں واقعی بیوی سمجھ لیا تمھارے بھائ کے بقول معصوم کچھ زیادہ ہو تم اور عمر خیام ۔۔۔
وہ بولتا ہوا باہر نکلا گیا جبکہ ساز نے سانس حلق میں اتارا
نشئی شرابی ٹھرکی” وہ ہلکا سا مسکرا کر الٹے قدم بھرتا ایک آنکھ دبا کر باہر نکل گیا جبکہ ساز کو لگا وہ بے حوش ہو جائے گی
وہ پریشانی سے آنکھیں پٹپٹانے لگی تھی جبکہ عمر کو اسکی آنکھوں کا یہ معصومیت سے جھپکنا اور کچھ نہ سمجھنا کافی اچھا لگا وہ اسے ہی پلٹ کر دیکھتا سر نفی میں ہلاتا اپنے کمرے میں چلا گیا جبکہ اسکے جاتے ہی تائی جان سمیت ثروت چچی نے بھی اسے طعنے دینا شروع کر دیے تھے کہ وہ بے حیائی گھر میں پھیلا رہی تھی اور وہ کچھ نہ کر کے بھی مجرم بن گئ تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اٹھو اٹھو جلدی مہمان آئیں گے اچھا سا تیار ہو جانا اور کھانے میں بھی کچھ اچھا بنوا لینا
بلکہ ایک کام کرو تم بس اچھا سا تیار ہو باقی میں آرڈر کر دوں گا ” شاہنواز نے عجلت میں اسکا گال تھپتھپایا اور خود آئینے کے سامنے کھڑا ہو گیا
ایزہ نے بمشکل تمام آنکھیں کھولیں تھیں وہ بھول جاتا تھا تو دو دو تین تین دن اسے چھوتا نہیں تھا اور جب اسے اس کی ضرورت پڑ جاتی تب ایزہ میں نہ اٹھنے کی ہمت رہتی اور نہ کچھ کرنے کی وہ آنسو سے نم آنکھوں کو کھول کر اس شخص کو دیکھنے لگی جو کافی فریش تھا
اسنے ایک سانس کھینچا اور ہونٹوں کو دانتوں تلے دبا کر وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگی کہ یہ اسکا حکم تھا
بلینکیٹ کو خود پر لیے وہ خود کو چھپاتی اپنے بالوں کو پیچھے کرتی اپنے آنسو کو دیکھنے لگی جو کہ لحاف پر گیرا تھا
شاہ ” اسے متلی سی ہونے لگی تھی اسنے اسے پکارہ شاہنواز پلٹا
م۔۔۔میری طبعیت ٹھیک نہیں ہے ک۔۔۔کیا مہمان ک۔۔کل ا سکتے ہیں” وہ ڈرتے ڈرتے بولی
شاہنواز نے ایک نگاہ میں ہی اسکا جائزہ لیا اسکے شانے اسکی گردن شاہنواز کے دیے گئے نشانوں سے سجی تھی جبکہ اسکی آنکھوں میں کئ آنسو تھے
وہ ڈریسنگ پر برش رکھتا اسکی جانب آیا
ایزہ نے ایک سانس اندر اتارا وہ اسکے نشانوں کو انگوٹھے سے ٹریس کرنے لگا
ایزہ نے سانس کھینچا لیا
ائ ڈونٹ وائٹ اینی چائلڈ ۔۔۔ ایزہ شاہ
مجھے بچہ نہیں چاہیے جب جس وقت ضرورت ہو گی بچہ تب ہو گا فلحال اس کھپ میں پڑنے کی ضرورت نہیں” وہ سنجیدگی سے اسکے ہر نشان پر اپنی بھاری انگلی سے دباو ڈال رہا تھا
جو نیلاہٹ پر ہوتے جا رہے تھے
ایزہ نے حیرانگی سے اسکی جانب دیکھا اندر سانس اتارا اسکے دبانے سے ل درد سی اٹھ رہی تھی لیکن وہ اختلاف کیسے کر سکتی تھی
ا۔۔اور د۔۔۔دادی جان ” وہ بے ساختہ بولی کہ واقعی وہ نہیں جانتی تھی کہ اسکی طبعیت کس لیے خراب ہے اب تک اسکے جنوں کی اسکے وجود کو عادت کیوں نہیں ہوئ تھی لیکن دادی جان تو چاہتی تھیں پوتا یہ پوتی
یہ تمھارا مسلہ ہے کہ تم انھیں کیسے سمجھاؤ گی لیکن بات صاف ہے ” وہ اسکی ٹھوڑی کے نیچے انگلی رکھے اسکے چہرے کو اونچا کرتا اپنی گھیری نظروں سے ہی اسے جھلسانے کا ارادہ رکھتا تھا ۔
انڈرسٹینڈ دیٹ” اسنے اسکی آنکھوں میں دیکھا
ج۔۔۔جی” وہ بس اتنا ہی بولی
I just love your obedient “
وہ اسکا گال تھپتھپا گیا
ایزہ بلینکیٹ خود پر سے ہٹا کر اٹھی شاہنواز اسکو نظر بھر کر دیکھنے لگا
اسکے وجود پر گہری نگاہیں ایزہ کانپتے وجود کے ساتھ واشروم کی جانب بڑھ گئ شاہنواز نے گھیرہ سانس بھرا اور آئینے کے سامنے پھر سے ا گیا ۔
اگر وہ بلا کا حسین تھا تو اسکی بیوی بھی اسکے ٹکر کی تھی اور یہ ہی تو تھا جو شاہنواز اس سے شادی کر گیا تھا ورنہ شادی ؟
ایک لمہے کے لیے اسکے ہاتھ رکے اور وہ اس سوچ سے بھی دور بھاگتا تھا وہ وہاں سے باہر چلا گیا
گرم پانی کے نیچے کھڑی وہ خاموشی سے دیوار کو دیکھ رہی تھی
اچانک ایک عکس اسکی آنکھوں میں اتر آیا تو مسکراہٹ لبوں کو چھو گئ
بدر بھائ کیا آپ مجھے بھی پڑھائیں گے ” اسکی معصوم آواز پر اسکا پلٹ کر دیکھنا
ایزہ کا دل بری طرح دھڑکا گیا
پھر اسکا طنز کرنا بھی تو برا نہیں لگتا تھا
تمھارے ابو تمھاری جان نکال دیں گے “
جان تو میری نکلے گی آپ کو فکر ہو گی” وہ اسے دیکھنے لگی بدر نے اسے دیکھا اسکا دیکھنا ہی اتنا قیمتی سا تھا
اور وہ خاموش ہو گیا
اگر اسکو زندگی میں کچھ واپس ملنا ہوتا تو وہ وہ لمہے مانگ لیتی جن میں اسنے اسکی طرف دیکھا تھا
یہ کم عمری کی محبتیں دل میں کیل کی طرح چبھتی ہیں سانس کے ساتھ درد کا احساس دلاتی ہیں ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے