Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

میں ایسا ہی کروں گا مجھے کوئ نہیں روک سکتا ” وہ بھڑکا اور اسکے ہونٹوں کی نرمی کو ہی کاٹ کھایا جیسے اپنی فطرت سے وہ ہٹ نہیں سکتا تھا ایزہ اسکی جانب دیکھنے لگی
آپ آپ کو گناہ ملے گا ۔۔۔
پہلی بار بات چیت ہوئی بھی تو کن لمحات میں جب وہ اسپر برس رہا تھا پورے زورو شور سے ۔
اور ایزہ اپنے ہونٹوں کو دانتوں میں دبائے اسکا ہر وار سہتی ساتھ اسے روک بھی رہی تھی شاہنواز سکون سے اسکے چہرے کے اتار چڑھاؤ کو دیکھنے لگا
گناہ ۔۔۔ گناہ کیا ہوتا ہے دنیا میں سب عام ہے” وہ بولا اور ایزہ نے جھٹکے سے آنکھیں کھولیں نڈھال سا وجود اسکے چوڑے شانے پر وہ سر رکھ گئ
اللّٰہ تو ہے نہ”
ہممم لیکن قسمت کچھ نہیں ہے”
کسی موم کی گڑیا کی طرح اسنے اسے شانے پر ڈالا اور کمرے میں لے آیا
ایزہ گھیرے گھیرے سانس بھر رہی تھی اسنے اسکو باتھ گاؤن پہنایا اور بستر پر لیٹا دیا
ایزہ آنکھیں بند کر گئ
ہممم انسان کی قسمت میں بس محبت نہیں ہے” ایک غم کی سی کیفیت میں کہتے وہ آنکھیں بند کر گئ
وہ خود بھی باتھ گاؤن پہنے اسکی بات پر غور کرتا اسکے پہلو میں لیٹ گیا اس سے فاصلے پر اسکا چہرہ کرتا وہ اسکی بات کو سمجھنا چاہتا تھا
ایزہ نے ہلکی سی آنکھیں کھول لیں
شاہ” اسنے پکارہ
شاہنواز اسکی جانب متوجہ تھا
ک۔۔۔۔کیا کیا میں اپکے سینے پر سر سر رکھ لوں” وہ بھاری ہوتے سر اور نیند میں ڈوبتے وجود کے ساتھ بولی
تمھیں ان چیزوں کے لیے اجازت کی ضرورت نہیں” اسنے اپنا بازو پھیلایا اور اسے اپنی سمت کھینچا لیا ایزہ اسکے چوڑے سینے پر سر رکھ گئ
شاہنواز اسکے الجھے ہوئے بالوں کو بے دھیانی میں سلجھا گیا
مجھے کس چیز میں اجازت کی ضرورت ہے” وہ نیند میں ڈوبتے ڈوبتے آخری سوال کر گئ
صرف محبت کرنے میں” وہ جانتا تھا وہ سو گئ وہ بولا اور اسکا چہرہ دیکھا نیند میں ڈوبی سانسیں لیتی وہ سو گئ تھی جبکہ
شاہنواز اسکی صورت دیکھنے لگا اگر وہ دنیا میں سب سے حسین تھی تو اس بات میں کوئ گنجائش نہیں تھی
آج تک بس وہ اسے ایک بیوقوف چھوٹی عمر کی لڑکی کیطرح ٹریٹ کرتا رہا تھا جس سے شاہنواز کے مینٹیلٹی کا مقابلہ نہیں تھا اور نہ ہی وہ اسے اتنی اہمیت دینا چاہتا تھا
وہ اس لیول کی لڑکی نہیں تھی جو سینے میں وہ جذبات رکھتی جو شاہنواز کے تھے لیکن آج اسکے چند الفاظ شاہنواز کو چونکا گئے تھے کہ وہ پہلی بار آج خود سو گئ اور شاہنواز جاگتا رہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ پکڑوں آمنہ کہ بڑی بیٹی کی شادی ہے اب بہن تو میری ہے مگر بلا تمھیں بھی رہی ہے چلنا ہے تو چل لینا ” تائی جان نے نجما کے ہاتھ میں کارڈ تھماتے ہوئے کہا جبکہ ساز نے کچن میں جب یہ بات سنی تو جلدی سے چہرہ صاف کرتی باہر ائ
صدف آپی کی شادی ہے” وہ جیسے بہت ایکسائٹیڈ تھی ۔
آمنہ آنٹی تو تائ جان سے بلکل ہی مختلف تھی وہ بہت نرم اور پیار کرنے والی خاتون تھیں اور صدف آپی اور مشال آپی دونوں ہی اسکو بہت پیار کرتی تھیں وہ بہت خوش ہو گی تھی وہ لوگ کراچی میں رہتے تھے ۔
تائ جان نے اسکی خوشی دیکھی اور ساز نے ماں کی جانب
اب تم اتنے خوش کس لیے وہ رہی ہو تم تو جاو گی ہی نہیں ” سوہا نے کہا تو ساز نے اسکی جانب دیکھا
مجھے صدف سے ملنا ہے مجھے جانا ہے” وہ اہستگی سے بولی
آ ہاں س۔۔سب ہی چلیں گے” نجما بھی بولی تو تائ نے سر اٹھایا
یہ کیوں جائے گی سر پر شوہر جن عورتوں کے لگ جائے وہ یہ چونچلے نہیں کرتی سیدھی طرح اپنے گھر کو سنبھالے اور ویسے بھی اسکا شوہر ہوش میں کب ہوتا ہے رات بھی ارہم کی بائیک پھینک دی اس پاگل نے ۔۔۔ وہ ذرا غصے سے بولیں
ساز جیسے مجرم نہ ہو کر بھی مجرم بنی ہوئ تھی
مجھے جانا ہے امی” وہ بچوں کیطرح رونے والی ہو گئ
ہاں چل لینا ساز روتے نہیں ” وہ اٹھ کر بیٹی کو چپ کروانے لگی
وہ ایف اے کی سٹوڈنٹ تھی شادی اور ذمہ داریاں اگر بڑوں والی ا بھی گئ تھیں تو جزبات تو ویسے ہی تھے
اور ویسے بھی وہ شادیوں میں جانے کی بہت شوقین تھی
بس ڈرامے کرا لو کوئ نہیں جاؤ گی تم دیکھتی ہوں میں بھی کیسے جاتی ہو ” سوہا نیل فائیل کرتے ہوئے بولی اور انھی باتوں میں ثروت صنم اور صوفیا مزے لے رہیں تھیں بدر اندر داخل ہوا
ساز بچے مجھے پانی دینا ” وہ سٹور کی جانب بڑھتے ہوئے بولا ۔
سوہا سیدھی ہو گئ جیسے جاننا چاہتی ہو وہ کیا کر رہا ہے ۔ ۔
جبکہ وہ سٹور میں چلا گیا اور ساز اسکے لیے پانی لے کر سٹور میں ہی ا گئ
بھائ آپ کو کیا چاہیے مجھے بتا دیں” وہ پوچھنے لگی
یار میرے ڈاکومنٹس کہاں ہیں” وہ عاجز سا چلایا
امی” اسنے پکارہ تو نجما جو سوہا کے کپڑوں میں ٹانکے بھر رہی تھی جو اسنے شادی میں پہننے تھے اٹھی اور اسکے پاس آ گئ
میرے ڈاکومنٹس یہیں تھے کہاں گئے” اسنے سوال کیا
ہاں یہیں ہو گے بدر بیٹا چلاتے نہیں ہیں” انھوں نے کہا اور بدر پانی پینے لگا
نجما نے اسے نکال کر دیے
تھنک گارڈ ورنہ مجھے ان گھر والوں سے اچھے کی امید نہیں ہے” وہ بول
اچھا چپ وہ جاؤ سن لیا نہ بھابھی نے بولیں گی”
آپ خود بھی ڈرتی ہیں اور ہمیں بھی ڈرا کر رکھتی ہیں” وہ غصے سے بولا
چلا جاؤں گا میں یہاں سے دیکھنا اپ”
بدر” نجما نے پکڑا وہ باہر نکل گیا
اب معلوم نہیں کیا کرنے جا رہا ہے یہ” نجما کا دل پریشان ہو گیا
امی پلیز اب بھائ کو کچھ بھی کرنے سے مت روکنے گا پلیز” ساز بولی تو نجما نے نفی میں سر ہلایا
سب ٹھیک سے چل رہا ہوتا ہے اور دونوں بہن بھائی کچھ الٹا کر دیتے ہو “
حد ہی ہو گئ اپکو سب ٹھیک لگتا ہے ” وہ بولی اور دونوں باہر نکل گئ
ہاں جی اب کون سے کارنامے سر انجام دینے ہیں تمھارے بیٹے نے” تائی نے اسے گھورا
معلوم نہیں کچھ بتایا نہیں
پتہ تو بھابھی جی انکو سب ہوتا ہے بس میسنی بنی رہتی ہیں” ثروت چچی بولی تو تائی نے سر ہلایا
اچھا یہ میرے اس جوڑے کو بھی کھول دے” وہ کپڑوں کا ڈھیر لگا چکیں تھیں جو نجما نے ٹھیک کرنے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں میں کیا پہنو گی میرے پاس تو کوئ سوٹ بھی نہیں” ساز نے ہونٹ نکال کر ماں کو دیکھا
ساز میرا بچہ کچھ بھی پہن لو اتنے سارے تو ہیں”
امی آپ آپ ان کو اتنے سارے کہتی ہیں اتنے رنگ خراب ہو گئے ہیں انکے اور یہ تو پھٹ بھی گیا ہے سوہا نے اتنی بار پہنا پھر مجھے دیا میں نے پہنا اب بھی میں یہ ہی پہنو ” اسکی آنکھیں بھیگ گئیں
کیا ہو رہا ہے ” بدر کافی خوش تھا لبوں پر مسکان لیے اندر ایا
بھائ میرے پاس کپڑے نہیں ہے اپکو پتہ صدف آپی کی شادی ہو رہی ہے ” وہ خوشی سے بتانے لگی
اچھا صدف نے بھی برباد ہونے کا سوچ لیا ” وہ اسکے گال کھینچتا امی کے پاس چارپائی پر بیٹھ گیا تائی جان اور ثروت چچی صنم صوفیا اور سوہا کو لے کر بازار گئی تھیں تبھی وہ لوگ سکون سے بیٹھے تھے ورنہ ایسے دن کم و بیش ہی آتے تھے
ایسے تو نہ کہیں مجھے نیا جوڑا دلائیں” وہ ضد کرنے لگی
بدر نے گھیرہ سانس کھینچا
تم جاؤ ہی نہ کیا فضولیات میں پڑ گئ ہو ” وہ بات ٹالتا بولا
آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں مجھے جانا ہے”
ہاں اسکا تو شادیوں میں دل ہی بہت لگتا ہے” کیونکہ وہاں مزےدار کھانے ہوتے ہیں اور تائی جان مصروف ہوتی ہیں” وہ بچوں کیطرح خوش ہوتی بولی ۔
دیکھو اسے شادی ہو گئ حرکات بچوں جیسے ہی ہیں”
نجما تائی جان کی قمیض ادھیڑ رہی تھی
اسکو شادی کہتے ہیں ایک نشئ کے ساتھ شادی بھی کوئ شادی ہے” وہ منہ بن کر بولی
ساز” بدر نے ٹوکا
دیکھو اور سر پر چڑھاؤ کیسے منہ پھاڑ کر شوہر کو بولی ہے” نجما نے غصے سے دیکھا ۔
انکی وجہ سے تائی جان مجھے مارتی ہیں” وہ پاوں پٹخ گئ
کیا انھوں نے تمھیں مارا ہے” بدر حیرانگی سے سیدھا ہوا
جی اور اب تک وہ یہ ہی کر رہی ہیں وہ کچھ بھی کہتے ہیں اسکا بدلا مجھ سے لیتی ہیں
تم نے عمر کو بتائ یہ بات ” بدر نے پوچھا
میں ان سے بات نہیں کرتی” وہ شانے اچکا گئ
یہ اللّٰہ کیا کروں میں اس لڑکی کا منہ اٹھا کر سب بتا رہی ہے بھائ ہے وہ تیرا کوئ لحاظ نہیں” نجما نے پاس پڑی کشن اسے ماری
ساز منہ بنا گئ
بدر نے کچھ پریشانی سے اسکی جانب دیکھا ۔
تم اسے ساری بات بتایا کرو
کیا فائدہ نشے میں رہتے ہیں وہ”
ساز بری بات ہے یہ ” بدر نے پھر ٹوکا
بھائی یہ برائ انکے اندر ہے تو بری بات بھی انھی کے لیے ہونی چاہیے تائی جان بھی تو انھیں نشئ کہتی ہے اور سوہا بھی “
وہ بدتمیز ہیں دونوں” بدر نے کہا
اور تم بدتمیز نہیں ہو اور اسکی بیوی ہو “
مجھے نہیں بننا انکی بیوی” وہ جھنجھلا گئ ساز اب مجھ سے تھپڑ ہی کھائے گی” نجما غصے سے بولی
بس سب مجھ پر غصہ کرتے ہیں” وہ منہ بنا کر باہر نکلی کہ جیسے جان ہی نکل گئ وہ دیوار سے ٹیک لگائے سب سن رہا تھا
اور اسکی گوہر فشانی ساری سن چکا تھا
ساز کی پیشانی پر پسینہ ہی پھوٹ پڑا
کچھ دیر عمر اسے دیکھتا رہا
نجما اور بدر بھی شرمندہ ہو گئے اور اسکے بعد وہ وہاں سے چلا گیا
ساز نے شرمندگی سے مڑ کر دیکھا
وہ دونوں اسے گھور رہے تھے
وہ سر جھکا کر بھاری بھاری دل سے باہر آ گئ وہ کسی کا دل نہیں دکھانا چاہتی تھی بھلے وہ عمر خیام ہی ہو
وہ کافی زیادہ شرمندہ تھی ۔
اب نہ جا کر اس سے معافی مانگ لو ” نجما اسکے قریب ائ
میں میں کیوں مانگو سچ ہی تو ہے سب “
اچھا ساز اب میں نے تھپڑ لگانا ہے تمھیں کب سے اتنی بدتمیز ہو گئ ہو تم” نجما کو غصہ چڑھا جبکہ بدر بھی نفی میں سر ہلا رہا تھا
مجھے ڈر لگ رہا ہے” وہ بیچارگی سے بولی
تو اتنا بولنے کو کس نے کہا تھا ” بدر مسکرایا
امی بھائ ہنس رہے ہیں” ساز اسکی شکایت لگاتی گئ
ہاں تو ہنسے گا ہی تم نے جو حرکت کی ہے کیا سوچے گا ہمارے بارے میں “
وہ سوچتے نہیں ہیں
کیونکہ وہ نشئ ہے” دونوں بہن بھائی ایک ساتھ بولے اور دونوں ہی ہنس دیے نجما توبہ توبہ کرنے لگی
کہ اچانک سب کے جاتے ہی انکی زبانیں کھلیں کیسے تھیں دونوں کے اسنے دو دو تھپڑ لگائے تھے
زبان کو لگام ہی نہیں ہے ” وہ بولی
ساز نے کچھ کہنا چاہا
اچھا بس چپ” وہ گھور کر بولیں تو دونوں چپ ہو گئے تائی جان اور باقی سب بھی آ گئے تو وہ لوگ چپ ہو گئے اور اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے ۔
جبکہ وہ لوگ بہت ساری شاپنگ کر کے آئے تھے ساز انکی چیزیں حسرت سے دیکھنے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے کھانے پر تایا نے سب کو پیسے دیے تھے اور کچھ نوٹ نجما کے ہاتھ پر بھی رکھ دیے جو تائ نے لے لیں۔۔۔
اسے کیا ضرورت ہے ہمارے ساتھ جائے گی یہ دیکھ لوں گی” وہ بولیں نجما چپ ہو گئ
بدر تم ان سب کے ساتھ جانا “
میرا ایک ضروری کام ہے میں نہیں جا سکتا ” بدر بولا
ضروری کام” ارہم ہنس دیا
ابو میں جاوں گا “
اسنے کہا بدر فلحال کو بدمزگی نہیں چاہتا تھا اچھا تھا اسکی جام چھٹ گئ تھی تبھی وہ چپ ہو گیا ارہم کو تایا جان نے پانچ پانچ ہزار کے کئ نوٹ دیے وہ مسکرا دیا
جا میرا بیٹا جو دل کرے وہ خریدنا کھانا اور ماں بہنوں کا خیال رکھنا ” وہ کہہ گئے جبکہ ارہم نے سر ہلایا اور سب کھانے میں لگ گئے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن سب کراچی جانے کے لیے نکل رہے تھے اور ساز مسلسل رو رہی تھی
کیونکہ سوہا نے جو کہا وہ پورا کر رہی تھی
ساز کے علاوہ سب جا رہی تھے اور بدر تو تھا ہی نہیں گھر جبکہ تایا جان اور چچا جان کام کے سلسلے میں لاہور جا رہے تھے اور
گھر میں صرف ساز تھی
جس نے رو رو کر آنکھیں سوجھا لیں تھی صنم صوفیا اور سوہا باہر گاڑی میں بیٹھ گئیں
ابو کیا عمر کی گاڑی مل سکتی ہے” ارہم نے باپ سے فرمائش کی
اسکی شاندار گاڑی گیراج میں پوری بھی مشکل سے ہی ہوتی تھی
ارے بیٹا رہنے دو ” وہ بولے تو ارہم منہ بنا گیا اور باہر نکل گیا جبکہ اشفاق صاحب کو بہت برا لگا تھا اسکو یوں خالی ہاتھ لوٹانا وہ سب گاڑیوں میں نکل گئے جبکہ ساز پیچھے تنہا رہ گئ
اسکی آنکھوں میں کئ آنسو تھے وہ کل سے اپنے جوڑوں کو ٹانکے لگا رہی تھی تاکہ وہ پہن سکے اور اسے کوئ نہیں لے کر گیا تھا
نجما نے اسے بہت پیار کیا تھا بہت سمجھایا تھا لیکن وہ پھر بھی رو رہی تھی اور سب چلے گئے تو وہ خالی گھر میں صوفے پر بیٹھ گئ اسنے اپنے پاوں سمیٹے اور چہرہ گٹھنوں پر رکھ لیا اور بہت سارا رو دی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی کے رونے کی آواز پر اسکی آنکھ کھلی صوفے کی جانب دیکھا لیکن کوئ نہیں تھا پھر بھی رونے کی آواز اسکے کانوں میں کیوں
پڑ رہی تھی
وہ اٹھا اور کمرے سے باہر نکل آیا شرٹ لیس تھا اور جو پوٹلی اسے اپنے کمرے میں نہ دیکھی وہ لاونج میں مل گئ اسنے اردگرد دیکھا کوئ بھی نہیں تھا
مجھے لگتا ہے تم رونے میں چیمپیئن ہو ” وہ سکون سے پلر سے ٹیک لگا گیا لیکن ساز نے سر نہیں اٹھایا
کیا ہوا ہے اب کیا سیلاب لانا ہے” وہ اسکے سامنے بیٹھ گیا
ہاں بھئ ہم نشئ لوگ ہیں ہم سے بات تو نہیں کرنا چاہو گی اپ لیکن پھر بھی چاہو تو بتا دو “
آپ کیا کریں گے” وہ سر اٹھا کر غصے سے بولی
تمھارا مسلہ حل” وہ شانے اچکا گیا
ساز نے اسکی جانب دیکھا وہ شرٹ لیس تھا وہ نگاہ جھکا گئ
میرا مسلہ کوئ حل نہیں کر سکتا ” وہ آنسو صاف کرنے لگی جبکہ عمر نے ٹیبل پر سے ڈرائے فروٹ اٹھا کر کھانے شروع کر دیے
کسی سے محبت کرتی ہو” وہ اپنی مرضی کے تجزیے نکالنے میں تو ماہر تھا
ک۔۔۔کیا” ساز دل پر ہاتھ رکھ گئ
اکثر لڑکیوں کے یہ ہی مسلے ہوتے ہیں نہ جو حل نہیں ہو سکتے” وہ مزے سے بادام کھا رہا تھا
استغفراللہ آپ ” وہ شاکڈ تھی وہ اپنی ہی بیوی سے یہ کیسے سوال کر رہا تھا
جبکہ اسکی بڑی بڑی آنکھوں کا یوں جھپکنا عمر توجہ سے دیکھنے لگا پھر مسکرا دیا
اچھا تو تم اس ٹائپ کی لڑکی نہیں ہو ” سمجھ گیا زیادہ شاکڈ نہ ہو ” اسنے کہا اسکا ہاتھ کھینچ کر دور کیا
پھر کیا مسلہ ہے”
میں اپکو کیوں بتاؤ ” اسنے گال صاف کیے اور اٹھ گئ
وہ گھیرہ سانس بھر گیا
اس گھر کی چڑیلیں کہاں پر ہیں”
اسنے اسکے اٹھنے کے بعد پاوں پھیلا لیے اور اس سے سوال کیا ساز نے مڑ کر دیکھا اور شدید دکھ تو اسے اس بات کا ہی تھا کہ وہ لوگ اسے لے کر نہیں گئے تھے اسنے ایک سسکی لی
عمر نے اسکی جانب دیکھا
وہ سب چلے گئے مجھے لے کر نہیں گئے ۔۔۔
میرے پاس اچھے کپڑے بھی نہیں تھے سوہا نے میرا مذاق بنایا اور جان بوجھ کر مجھے چھوڑ کر چلے گئے مجھے بھی شادی میں جانا تھا صدف آپی بہت اچھی ہیں وہ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں میں جانا چاہتی تھی انھوں نے مجھے بلایا تھا مگر مجھے سب جان بوجھ کر چھوڑ گئے آپکی وجہ سے” وہ روتے روتے آنسو صاف کرتی اب غصےسے بولی
میری وجہ سے”؟ عمر نے سوالیہ نگاہ اٹھائ
جی”
کیوں؟
کیونکہ آپ میرے شوہر ہیں اور شادی ہو جانے کے بعد میں قید ہو گئ ہوں اس سے اچھا تو پہلے ہی تھی” وہ سب سنا کر سر جھکا گئ اپنے دوپٹے کو موڑنے لگی
اوہ” وہ سر ہلانے لگا
تو تمھارا مسلہ میں ہوں شادی ہے یہ کپڑے “
وہ جیسے سمجھنا چاہتا تھا
سب” وہ منہ بسور کر بولی
اور ان مسلوں کو کوئ حل نہیں کر سکتا ساری زندگی مجھے سسک کر گزارنی ہو گی” وہ سرد آہ بھر کر مڑ گئ
رکو ” اسکی بات پر وہ ذرا تلخی سے بولا
سسکنا اسے نہیں کہتے جو وجوہات تم نے بتائ ہیں اگر سسکنے کا مطلب جانا چاہو تو کبھی فرصت میں بیٹھنا خیر یہ کوئ بڑا مسلہ نہیں ہے
او میں تمھیں کپڑے دلا دیتا ہوں اور شادی میں لے جاتا ہوں لیکن تمھیں اسکے بدلے میرے دو کام کرنے ہوں گے پہلے۔۔۔
یہ رونا دھونا چھوڑو بہت بری لگتی ہیں لڑکیاں مجھے روتی ہوئ
اور دوسرا مجھے ناشتہ بنا کر دو گی وہ بھی روز ” اگر منظور ہو تو بتا دینا میں جا رہا ہوں اوپر” سکون سے کہہ کر وہ اوپر ا گیا جبکہ ساز اسکی پشت دیکھنے لگی ۔
مجھے منظور ہے” وہ جلدی سے بولی
عمر مڑا اور مسکرا دیا
ٹھیک ہے ریڈی ہو کر آتا ہوں ناشتہ بنا لو ” کہہ کر وہ سیڑھیاں چڑھا گیا جبکہ ساز کے ہاتھ پاوں پھول گئے ۔۔۔ وہ ۔۔ وہ عمر سے کیسے بات کر گئ اور اسکی بات مان گئ ۔
اب کیا ہو گا تائی نے اسے شادی میں دیکھ لیا تو لیکن چھوٹے سے دماغ میں خیالات کی بھنڈار یہ بھی تو تھی وہ باہر جائے گی کپڑے خریدے گی
پاس والی دوکان سے ہی خرید لے گی
لیکن اگر کسی نے اسے عمر کے ساتھ دیکھ لیا تو مگر عمر تو اب اسکا شوہر ہے مگر پھر بھی عمر تو شرابی ہے
اور اسنے کہا اسے لڑکیوں کا رونا نہیں پسند یعنی وہ ہزاروں لڑکیوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے
ہائے اللّٰہ ساز یہ کیا کر دیا ” وہ سر تھام گئ
اب کیا انکار کر دو” وہ ناخن چبانے لگی
لیکن اگر ایک بار کپڑے خرید لوں تو کچھ ہو گا تو نہیں لیکن ۔۔۔ لیکن لیکن اتنے تھے اسکے پاس تھے کہ عمر خیام تیار ہو کر نیچے بھی گیا اسے خبر اسکے کلون کی خوشبو سے ہوئی جو بڑی تیزی سے اسکی ناک سے ٹکرئی تھی اسنے نگاہ اٹھائ گاگلز لگائے بلیک ٹی شرٹ جو اسکے مسلم پر پھنسے ہوئ تھی اور بلیک ہی پینٹ پہنے گیلے بال سٹائل سے بنائے وہ شہزادوں سی آن بان رکھتا تھا وہ نیچے اترا ساز ہونٹ کاٹنے لگی
چلیں” وہ مصروف سا بولا
ساز کو لگا وہ اسکی کام کرنے والی ضرور لگ رہی ہے لیکن وہ ایسا کیوں کر رہا ہے “
یہ سوال اسکے دماغ میں کندہ ۔۔ اسنے سر ہلایا
ایسے جاؤ گی” عمر نے سے اوپر سے نیچے تک دیکھا
اوہ میں چادر لے کر آئی” وہ پیچھے بھاگی عمر اسے کھڑا دیکھتا رہا وہ چادر لے گئ اور اسکے پاس آ گئ جیسی نگاہوں سے وہ اسے دیکھ رہا تھا اسے شرمندگی ہوئ کچھ نہیں بولا باہر آ گیا
اور جب اسنے گاڑی نکالی تو ساز کا تو وجود ہی کانپ اٹھا کیا وہ اس گاڑی میں بیٹھے گی
بہت بڑی اور مہنگی گاڑی تھی صبح ارہم بھی اس گاڑی کو ساتھ لے جانے کی ضد کر رہا تھا اور تایا جان جو سب کو اپنا ملازم سمجھتے تھے ان میں عمر سے یہ گاڑی مانگنے کی ہمت نہیں تھی
عمر نے گاڑی باہر نکالی
اور خود گاڑی سے اتر کر حونک کھڑی ساز کے نزدیک آیا
بیٹھو” اسنے دروازہ کھولا ایک بات تو طے تھی اسکی طبعیت میں بہت اٹیکیٹس تھے جبکہ وہ تو شرابی تھا اور وہ لوگ بلکل ایسے نہیں تھے جیسا عمر تھا
پ۔۔۔پاس ہی تو جانا ہے ا۔۔تنی بڑی گاڑی کی کیا ضرورت ہے ” وہ اندر بیٹھنے کی ہمت خود میں نہیں پاتی تھی پہلے کبھی کسی نے اتنی عزت جو نہیں دی تھی وہ جھجھک گئ
کیا مطلب پاس کہاں” وہ آنکھوں پر سے گاگلز اتار کر اسے غور سے دیکھنے لگا
یہ یہ صدر بازار یہاں سے سستے جوڑے مل جاتے ہیں ” اسنے بتایا عمر کی پیشانی پر کئ بل پڑے
تم میرے ساتھ جا رہی ہو تو اپنا منہ بند رکھو ” سنجیدگی سے کہہ کر اسنے اسے اندر بیٹھنے کا اشارہ کیا
ل۔۔۔لیکن” وہ واضح کانپ رہی تھی
عمر اسے آئی برو اچکائے دیکھتا رہا
اور ساز کو چار نچار گاڑی میں بیٹھنا پڑا اتنی بڑی گاڑی تھی اسے لگا جیسے وہ کسی اور دنیا میں ا گئ ہو
گاڑی میں اسکے کلون کی خوشبو اور سیگریٹ کی ملی جلی خوشبو تھی
ساز اسکے ساتھ گاڑی میں پہلی بار بیٹھی تھی اتنی بڑی شیٹ تھی اسکے ساتھ صنم صوفیا بھی بیٹھ جاتی جبکہ وہ دروازے سے لگ گئ
دروازہ بند کرو “
اسنے کہا اور گاڑی سٹارٹ کی
ج۔۔جی”
ساز کو اپنا آپ بیوقوف لگ رہا تھا دل اتنا دھڑک رہا تھا ہاتھ کانپنے رہے تھے اسے لگا وہ ان سب چیزوں کو افورڈ نہیں کر سکتی ایک پرانی سی بوسیدہ بائیک یہ رکشوں پر بھی کبھی کبھی سفر کرنے والے جب
BMW
میں بیٹھتے تو شاید انکی حالت یہی ہی ہوتی
ساز دروازہ لاک کرو اور سیٹ بیلٹ پہنو ” وہ بولا
ساز کو لگا ابھی وہ رو پڑے گی دروازہ تو بند تھا
پھر کیوں کہہ رہا تھا دروازہ بند کرو اور سیٹ بیلٹ” اسنے بڑی بڑی آنکھوں کو جھپکنا شروع کر دیا جبکہ عمر کو اسکا یہ انداز عجیب ہی طرح اپنی جانب متوجہ کرتا تھا وہ گھیرہ سانس بھرتا آگے ہوا جھٹکا دے کر دروازہ کھینچا تو لاک کی آواز ائ ساز سیٹ پر بلکل چپک ہی گئ ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے